مندرجات کا رخ کریں

"فروع دین" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
«'''فروعِ دین'''، سے مراد شریعت کے عملی احکام ہیں۔ اسلام کے فروع بہت زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے بعض کو خاص طور پر فروعِ دین کے نام سے مشہور کیا گیا ہے، جن میں نماز، روزہ، خمس، زکوٰۃ، حج، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:فروع دین.jpg|تصغیر|بائیں|]]
'''فروعِ دین'''،  سے مراد شریعت کے عملی احکام ہیں۔ [[اسلام]] کے فروع بہت زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے بعض کو خاص طور پر فروعِ دین کے نام سے مشہور کیا گیا ہے، جن میں [[نماز]]، [[روزہ]]، خمس، زکوٰۃ، [[حج]]، [[جہاد]]، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی  شامل ہیں۔
'''فروعِ دین'''،  سے مراد شریعت کے عملی احکام ہیں۔ [[اسلام]] کے فروع بہت زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے بعض کو خاص طور پر فروعِ دین کے نام سے مشہور کیا گیا ہے، جن میں [[نماز]]، [[روزہ]]، خمس، زکوٰۃ، [[حج]]، [[جہاد]]، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی  شامل ہیں۔
دیگر احکام و ہدایات، جیسے خرید و فروخت، نکاح، قصاص، دیت، قضاوت وغیرہ بھی فروعِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔
دیگر احکام و ہدایات، جیسے خرید و فروخت، نکاح، قصاص، دیت، قضاوت وغیرہ بھی فروعِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔
سطر 59: سطر 60:


بعض مواقع پر ہر وہ چیز جو اصولِ دین کے مقابلے میں ہو اور عملی احکام میں شامل ہو، اسے  فروعِ دین  شمار کیا جاتا ہے <ref>معارف و معاریف، ج۴، ص۱۷۱۵</ref> <ref>شرح المواقف، ج۱، ص۳۸</ref>۔
بعض مواقع پر ہر وہ چیز جو اصولِ دین کے مقابلے میں ہو اور عملی احکام میں شامل ہو، اسے  فروعِ دین  شمار کیا جاتا ہے <ref>معارف و معاریف، ج۴، ص۱۷۱۵</ref> <ref>شرح المواقف، ج۱، ص۳۸</ref>۔
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[نماز]]
* [[روزہ]]
* [[جہاد]]
* [[حج]]
== حوالہ جات ==
{{حوالہ جات}}
[[fa: فروع دین]]
{{اسلامی اصطلاحات}}
[[زمرہ: اسلامی اصطلاحات ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 11:23، 28 اگست 2026ء

فروعِ دین، سے مراد شریعت کے عملی احکام ہیں۔ اسلام کے فروع بہت زیادہ ہیں، لیکن ان میں سے بعض کو خاص طور پر فروعِ دین کے نام سے مشہور کیا گیا ہے، جن میں نماز، روزہ، خمس، زکوٰۃ، حج، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی شامل ہیں۔ دیگر احکام و ہدایات، جیسے خرید و فروخت، نکاح، قصاص، دیت، قضاوت وغیرہ بھی فروعِ دین میں شمار ہوتے ہیں۔

اقسامِ تعلیماتِ دین

دینِ اسلام کی تعلیمات دو حصوں پر مشتمل ہیں: اعتقادی اور عملی ۔ اعتقادی حصہ اصولِ دین اور اصولِ مذہب سے بحث کرتا ہے، جبکہ عملی حصہ فروعِ دین سے متعلق ہے [1]۔

دوسرے حصے کو اس لیے "فروع" کہا جاتا ہے کہ یہ "اصول" کے مقابلے میں واقع ہے، نہ کہ اس وجہ سے کہ اس کی اہمیت کم ہے۔ لہٰذا جس طرح اصولِ دین کی پابندی ضروری ہے، اسی طرح فروعِ دین کی پابندی بھی واجب ہے۔

فروعِ دین کی حقیقت

فروعِ دین عملی فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مجموعہ ہے، جنہیں رسولِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انسانوں کی دنیاوی اور اخروی سعادت کے لیے وحیِ الٰہی سے حاصل کرکے لوگوں تک پہنچایا۔

فروعِ دین میں سے بعض انسان اور خدا کے درمیان تعلق کو قوانین اور احکام کی صورت میں بیان کرتے ہیں اور انسان کے لیے کچھ ذمہ داریاں مقرر کرتے ہیں، جیسے نماز، روزہ اور حج۔

جبکہ بعض دیگر احکام ان ذمہ داریوں سے متعلق ہیں جو انسان ایک دوسرے کے مقابلے میں رکھتے ہیں اور انسانی روابط و معاشرت کو منظم کرتے ہیں، جیسے جہاد، خمس اور خرید و فروخت [2]۔

فروعِ دین کے احکام کے استنباط کا طریقہ

علمِ فقہ اور علمِ اصول اسلامی علوم میں شمار ہوتے ہیں، جو فروعِ دین کے دائرے میں انسانوں کے سوالات کا جواب دیتے اور ان کے عملی فرائض کو مشخص کرتے ہیں [3][4]۔

شیعہ فقہا انہی علوم کی مدد سے دینی متون سے فروعِ دین کے احکام کو استخراج اور استنباط کرتے ہیں اور شریعت کے عملی احکام بیان کرتے ہیں۔

احکام کے استنباط کے مصادر

وہ بنیادی مصادر جن سے فقہا احکامِ شرعی کو اخذ کرتے ہیں، درج ذیل ہیں:

  1. کتاب یعنی قرآنِ مجید
  2. سنت یعنی حدیث
  3. اجماع
  4. عقل [5]۔

اصولِ دین اور فروعِ دین میں فرق

اصولِ دین اور فروعِ دین کے درمیان کئی فرق پائے جاتے ہیں:

الف۔ اعتقاد اور عمل کا فرق

اصولِ دین کا تعلق عقائد اور ایمان سے ہے، جبکہ فروعِ دین کا تعلق انسان کے عملی کردار اور اعمال سے ہے [6]۔

ب۔ تقلید کے اعتبار سے فرق

اصولِ دین میں یقین اور اعتقاد ضروری ہے، اس لیے ان میں تقلید کافی نہیں اور ہر شخص کو اپنے عقائد کو دلیل اور یقین کی بنیاد پر قبول کرنا چاہیے۔

لیکن فروعِ دین عملی احکام سے متعلق ہیں، اور ان میں تفصیلی شرعی دلائل تک رسائی نہ رکھنے والا شخص کسی جامع الشرائط مجتہد کی تقلید کرسکتا ہے [7]۔

ج۔ خبری اور انشائی ہونے کا فرق

اصولِ دین کا تعلق حقیقتوں کی خبر دینے اور ان کی توصیف سے ہے، جبکہ فروعِ دین انشائی اور دستوری نوعیت رکھتے ہیں اور ان میں احکام، اوامر اور نواہی شامل ہوتے ہیں [8] [9]۔

د۔ اختلاف کے اعتبار سے فرق

اصولِ دین میں بنیادی طور پر اختلاف کی گنجائش نہیں ہوتی، جبکہ بعض اوقات فروعِ دین میں فقہی اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ اصولِ دین میں ظن اور گمان کی بنیاد پر اعتقاد کرنا جائز نہیں، جبکہ فروعِ دین میں بعض معتبر شرعی ظنون عملی حکم کی بنیاد بن سکتے ہیں۔

ہ۔ نسخ کے اعتبار سے فرق

نسخ فروعِ دین اور عملی احکام میں واقع ہوسکتا ہے، لیکن اصولِ دین میں کسی صورت نسخ نہیں ہوتا [10]۔

و۔ تعداد کے اعتبار سے فرق

شیعہ علماء نے اصولِ دین کو پانچ اصول قرار دیا ہے، جبکہ فروعِ دین کو بعض نے آٹھ اور بعض نے دس شمار کیا ہے [11]۔

بعض مواقع پر ہر وہ چیز جو اصولِ دین کے مقابلے میں ہو اور عملی احکام میں شامل ہو، اسے فروعِ دین شمار کیا جاتا ہے [12] [13]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. فرهنگ معارف اسلامی، ج۳، ص۴۴۲
  2. دائرة المعارف تشیّع، ج۲، ص152
  3. آشنایی با علوم اسلامی، ص۱۳-۱۵
  4. مناهج الاصول الی علم الاصول، ج۱، ص۴۵-۵۴
  5. اصل الشّیعة و اصولها، ص۱۱۴-۱۱۵
  6. آموزش دین، ص۱۸- ۱۰
  7. المیزان ج۱۳، ص۵۸-۵۹
  8. کفایة الاصول، ص۴۱- ۳۴
  9. شریعت در آینه معرفت، ص۱۶۲- ۱۵۸
  10. کشّاف اصطلاحات الفنون، ج۱، ص۷۶۰
  11. مجموعه آثار، ج۱۷، ص۲۲۰
  12. معارف و معاریف، ج۴، ص۱۷۱۵
  13. شرح المواقف، ج۱، ص۳۸