"ایمن الظواهری" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «{{Infobox person | title = ایمن الظواہری | image = ایمن الظواهری.jpg | name = ایمن محمد ربیع الظواهری | other names = | brith year = 1951 ء | brith date = 19 جون | birth place = قاهره، مصر | death year = | death dat اکتوبر | death place = | teachers = | students = | religion = اسلام | faith = سنی | works = | known for = اسامہ بن لا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ایمن الظواهری کو ایمن الظواهری کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 8 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 16: | سطر 16: | ||
| works = | | works = | ||
| known for = اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ }} | | known for = اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ }} | ||
'''ایمن الظواہری'''، اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ، مصر کے سلفی جہادیوں کے دل سے ابھرنے والے انتہا پسند جہادی افکار کا مجسمہ تھا۔ اس نے اپنی ترجیح اسلامی دنیا کے اندر اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف لڑائی کو قرار دیا اور مغرب کے خلاف جنگ کے بہانے سلفی اور مسلح شاخیں قائم کرکے اسلامی دنیا میں بدامنی، قتل و غارت اور تباہی کی لہر پیدا کی۔ ظواہری خود کو طالبان تحریک کا تابع سمجھتا تھا اور اسی تحریک کی چھتری تلے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً آڈیو یا ویڈیو فائلیں جاری کرکے عالمی پیش رفت پر اپنے موقف کا اظہار کرتا اور مسلح سلفیوں کو جہاد کی راہ پر اتحاد اور استقامت کی دعوت دیتا۔ یہ مصری سرجن، جو قاہرہ، مصر کے ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا، ایک ایسی تنظیم کا سربراہ بنا جس کی شاخوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی فعالیت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس جنگجو اور تکفیری شخصیت کی زندگی اور افکار انتہا پسند اور مسلح سلفی تحریکوں کی ماہیت کا نچوڑ ہیں، جن کا مطالعہ کرنے سے اس ماہیت کے متعدد پہلو سامنے آئیں گے۔ | '''ایمن الظواہری'''، اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ، [[مصر]] کے سلفی جہادیوں کے دل سے ابھرنے والے انتہا پسند جہادی افکار کا مجسمہ تھا۔ اس نے اپنی ترجیح اسلامی دنیا کے اندر اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف لڑائی کو قرار دیا اور مغرب کے خلاف جنگ کے بہانے سلفی اور مسلح شاخیں قائم کرکے اسلامی دنیا میں بدامنی، قتل و غارت اور تباہی کی لہر پیدا کی۔ ظواہری خود کو طالبان تحریک کا تابع سمجھتا تھا اور اسی تحریک کی چھتری تلے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً آڈیو یا ویڈیو فائلیں جاری کرکے عالمی پیش رفت پر اپنے موقف کا اظہار کرتا اور مسلح سلفیوں کو جہاد کی راہ پر اتحاد اور استقامت کی دعوت دیتا۔ یہ مصری سرجن، جو قاہرہ، [[مصر]] کے ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا، ایک ایسی تنظیم کا سربراہ بنا جس کی شاخوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی فعالیت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس جنگجو اور تکفیری شخصیت کی زندگی اور افکار انتہا پسند اور مسلح سلفی تحریکوں کی ماہیت کا نچوڑ ہیں، جن کا مطالعہ کرنے سے اس ماہیت کے متعدد پہلو سامنے آئیں گے۔ | ||
== پیدائش اور تعلیم == | == پیدائش اور تعلیم == | ||
ایمن الظواہری 19 جون | ایمن الظواہری 19 جون 1951ء کو [[مصر]] کے دارالحکومت قاہرہ میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان مصر میں نمایاں علمی اور سماجی پس منظر رکھتا تھا۔ اس کے دادا، شیخ ربیع الظواہری، [[الازہر یونیورسٹی|الازہر]] کے شیوخ میں سے تھے، اور اس کے والد، محمد ربیع الظواہری، مصر کی عین شمس یونیورسٹی میں فیکلٹی آف میڈیسن میں پروفیسر اور اس خطے کے مشہور ڈاکٹروں میں سے ایک تھے۔ اس کے اجداد میں سے ایک صوفی شیخ تھے جنہیں بعض ممالک میں مصر کا سفیر مقرر کیا گیا تھا اور انہیں 'سفیر متصوف' کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ <ref>[منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 39-40؛ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3، ص 14]</ref> | ||
اس کی والدہ، امیمہ عزام، مشہور عزام خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جس کی سب سے نمایاں شخصیت عبدالرحمن پاشا عزام تھے، جو ایمن الظواہری کے دادا کے بھائی اور عرب لیگ کے پہلے سیکرٹری جنرل تھے۔ ایمن الظواہری کی والدہ، الازہر یونیورسٹی میں مشرقی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب عزام کی بیٹی تھیں، جنہوں نے شاہنامہ کا عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ <ref>[منبع: عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3]</ref> | اس کی والدہ، امیمہ عزام، مشہور عزام خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جس کی سب سے نمایاں شخصیت عبدالرحمن پاشا عزام تھے، جو ایمن الظواہری کے دادا کے بھائی اور عرب لیگ کے پہلے سیکرٹری جنرل تھے۔ ایمن الظواہری کی والدہ، [[الازہر یونیورسٹی]] میں مشرقی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب عزام کی بیٹی تھیں، جنہوں نے شاہنامہ کا عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ <ref>[منبع: عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3]</ref> | ||
ایمن نے قاہرہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے بعد | ایمن نے قاہرہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے بعد 1974ء میں وہاں سے نمایاں نمبروں کے ساتھ گریجویشن کی اور پھر 1978ء میں سرجری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے [[پاکستان]] کی یونیورسٹیوں میں تعلیم جاری رکھی اور سرجری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ <ref>[منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 40]</ref> | ||
== سیاسی و مذہبی سرگرمیاں == | == سیاسی و مذہبی سرگرمیاں == | ||
ایمن الظواہری کی جوانی کا دور مصر میں جہادی اور اسلام پسند احتجاجی تحریکوں کی سرگرمیوں کے عروج کے دوران گزرا۔ سلفی-جہادی افکار نے مصر کی اسلامی فضا میں پھلنے پھولنے کے ساتھ ساتھ ایمن الظواہری کی روح اور فکر کو بھی متاثر کیا۔ | ایمن الظواہری کی جوانی کا دور [[مصر]] میں جہادی اور [[اسلام]] پسند احتجاجی تحریکوں کی سرگرمیوں کے عروج کے دوران گزرا۔ [[سلفیہ|سلفی]]-جہادی افکار نے مصر کی اسلامی فضا میں پھلنے پھولنے کے ساتھ ساتھ ایمن الظواہری کی روح اور فکر کو بھی متاثر کیا۔ | ||
اس نے | اس نے 1966ء میں ایک ایسی دینی تحریک میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت اسماعیل طنطاوی کر رہے تھے۔ لیکن 1975ء میں طنطاوی کے جرمنی کے سفر نے اس تحریک کو منتشر کر دیا۔ اس کے بعد ظواہری نے خود ایک اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی اور 1981ء میں طارق الزمر اور عبود الزمر سے ملاقات کی اور 'تنظیم جہاد' میں شامل ہو گیا، جو انجینئر عبدالسلام فرج کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔ <ref>[منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 109]</ref> | ||
سلفی رادیکال اور جنگجو نظریات پر مبنی یہ تنظیم مصر کی فعال ترین جہادی تحریکوں میں سے ایک سمجھی جاتی تھی، جس نے اپنے منشور 'میثاق العمل الاسلامی' میں درج کیا: | سلفی رادیکال اور جنگجو نظریات پر مبنی یہ تنظیم [[مصر]] کی فعال ترین جہادی تحریکوں میں سے ایک سمجھی جاتی تھی، جس نے اپنے منشور 'میثاق العمل الاسلامی' میں درج کیا: | ||
ہمارا نصب العین: اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کا حصول، اس کے لیے اخلاص اور اس کے رسول کی پیروی کو عملی جامہ پہنانا۔ | ہمارا نصب العین: اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کا حصول، اس کے لیے اخلاص اور اس کے [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول]] کی پیروی کو عملی جامہ پہنانا۔ | ||
ہمارا عقیدہ: سلف صالحین کا عقیدہ اجمالی اور تفصیلی طور پر۔ | ہمارا عقیدہ: سلف صالحین کا عقیدہ اجمالی اور تفصیلی طور پر۔ | ||
| سطر 46: | سطر 46: | ||
ہماری دشمنی: ظالموں کے ساتھ۔ | ہماری دشمنی: ظالموں کے ساتھ۔ | ||
ہمارا اجتماع: ایک ہی نصب العین اور ایک ہی عقیدے کے تحت ایک فکری پرچم تلے۔ <ref> | ہمارا اجتماع: ایک ہی نصب العین اور ایک ہی عقیدے کے تحت ایک فکری پرچم تلے۔ <ref>منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 138-139</ref> | ||
ایمن الظواہری نے مصر میں اپنی سیاسی اور مزاحمتی سرگرمیاں جاری رکھیں، یہاں تک کہ | ایمن الظواہری نے مصر میں اپنی سیاسی اور مزاحمتی سرگرمیاں جاری رکھیں، یہاں تک کہ 1980ء میں [[افغانستان|افغان]] مجاہدین کی مدد اور علاج کے لیے، وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ جو میڈیسن، اینستھیزیا اور پلاسٹک سرجری کے ماہر تھے، پشاور، [[پاکستان]] کا سفر کیا۔ لیکن مصر میں مجاہدین کے حالات بگڑنے کے بعد، کچھ ماہ بعد وہ مصر واپس آیا تو اسے حکومت مصر نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ <ref>[منبع: عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 29]</ref> | ||
ایمن الظواہری نے انور سادات کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مصر کی جیلوں میں تین سال گزارے۔ مصر کی جیلوں کے حالات اور اس دور میں اسلام پسند قیدیوں کے درمیان ہونے والی فکری بحثوں کے پیش نظر، یہ فطری تھا کہ ایمن الظواہری کے افکار شدت کے ساتھ انتہا پسندی اور تکفیر کی طرف مائل ہو جائیں۔ | ایمن الظواہری نے انور سادات کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مصر کی جیلوں میں تین سال گزارے۔ مصر کی جیلوں کے حالات اور اس دور میں [[اسلام]] پسند قیدیوں کے درمیان ہونے والی فکری بحثوں کے پیش نظر، یہ فطری تھا کہ ایمن الظواہری کے افکار شدت کے ساتھ انتہا پسندی اور تکفیر کی طرف مائل ہو جائیں۔ | ||
== افغانستان میں جنگ == | == افغانستان میں جنگ == | ||
جیل سے رہائی کے بعد، یعنی | جیل سے رہائی کے بعد، یعنی 1985ء میں، ظواہری اپنے رویے، افکار اور کاموں میں واضح تبدیلی کے ساتھ [[افغانستان]] کے میدانِ جنگ میں داخل ہوا۔<ref>پیٹر ایل برگن: اسامہ بن لادن، ص 119؛ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3، ص 39</ref> | ||
لیکن اس نے، جو اس میدان کو مسلح سلفیوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے مناسب سمجھتا تھا، اس جگہ کو انتہا پسند اور جنگجو سلفی فکر کی ترویج کے لیے سازگار پایا اور جہادی سلفیوں کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے عرب-افغان جنگجوؤں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ | لیکن اس نے، جو اس میدان کو مسلح سلفیوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے مناسب سمجھتا تھا، اس جگہ کو انتہا پسند اور جنگجو سلفی فکر کی ترویج کے لیے سازگار پایا اور جہادی سلفیوں کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے عرب-افغان جنگجوؤں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ | ||
عرب جنگجو مختلف وجوہات اور محرکات کی بنا پر افغانستان کا رخ کرتے تھے، جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں: | عرب جنگجو مختلف وجوہات اور محرکات کی بنا پر [[افغانستان]] کا رخ کرتے تھے، جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں: | ||
* سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑنا اور فریضہ جہاد کی ادائیگی۔ | * سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑنا اور فریضہ [[جہاد]] کی ادائیگی۔ | ||
* افغانستان کے اندر اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔ | * [[افغانستان]] کے اندر اور [[پاکستان]] میں افغان مہاجرین کے علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔ | ||
* | * 1992ء کے بعد افغانستان میں عسکری تربیت کے لیے عرب فوجی کیمپوں میں شامل ہونا۔ | ||
* اپنے ممالک سے فرار ہو کر افغانستان میں رہائش اختیار کرنا، یا تو جیل جانے کے خوف سے یا اس لیے کہ مختلف الزامات کے تحت وہ قانونی طور پر مطلوب تھے۔ | * اپنے ممالک سے فرار ہو کر [[افغانستان]] میں رہائش اختیار کرنا، یا تو جیل جانے کے خوف سے یا اس لیے کہ مختلف الزامات کے تحت وہ قانونی طور پر مطلوب تھے۔ | ||
اس دوران ایمن الظواہری، جو پہلے ہی مصر میں تنظیمی سرگرمیوں سے واقف تھا، | اس دوران ایمن الظواہری، جو پہلے ہی مصر میں تنظیمی سرگرمیوں سے واقف تھا، 1987ء میں بن لادن کی مدد اور دیگر مالی تعاون سے، جو اسے عرب ممالک سے ملتا تھا، اپنی فکری اور میدانی سرگرمیوں کو وسیع کیا۔ اس نے پشاور میں 'دفترِ جہاد' قائم کیا اور افغان مجاہدین کے امین کی حیثیت سے، کچھ عرب ممالک اور فلاحی اداروں سے مالی امداد لے کر افغانستان میں جہاد پر خرچ کی۔ اس نے 'الفتح' کے نام سے ایک جریدہ بھی شائع کیا۔<ref>عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 31</ref> | ||
== القاعدہ کی میدانی کمان == | == القاعدہ کی میدانی کمان == | ||
اس نے اپنے جریدے کے نام کی مناسبت سے عرب-افغان جنگجوؤں کو 'طلائع الفتح' کا لقب دیا اور بن لادن کے ساتھ مل کر ان قوتوں کو منظم اور ان کا انتظام سنبھالا۔ یہاں تک کہ | اس نے اپنے جریدے کے نام کی مناسبت سے عرب-افغان جنگجوؤں کو 'طلائع الفتح' کا لقب دیا اور بن لادن کے ساتھ مل کر ان قوتوں کو منظم اور ان کا انتظام سنبھالا۔ یہاں تک کہ 1987ء میں [[افغانستان]] سے سوویت فوجوں کے انخلا کے ساتھ ہی اس نے [[القاعده|القاعدہ]] کے مبارز جنگجوؤں کو اسلامی دنیا کے دیگر تنازعات کے مراکز میں منتقل کرنا شروع کر دیا، اور کچھ کو یمنی قوتوں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد یمن بھیج دیا۔ | ||
اس نے یمن میں موجود افغان جہاد کے شریک یمنی جنگجوؤں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے محمد مکاوی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ یمنی جنگجوؤں نے بن لادن کی خدمات کے اعتراف میں، یمنی قبائل 'حاشد' کی حمایت سے قائم اپنے عسکری تربیتی کیمپوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربیت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ چنانچہ مختلف شہریت رکھنے والے القاعدہ کے کچھ جنگجو یمن گئے تاکہ جبل المراقشہ کے علاقے میں، جو حاشد قبائل کے کنٹرول میں تھا، عسکری تربیت حاصل کریں اور وہاں امریکی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صومالیہ روانہ ہونے کی تیاری کریں۔<ref>عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 35</ref> | اس نے [[یمن]] میں موجود افغان جہاد کے شریک یمنی جنگجوؤں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے محمد مکاوی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ یمنی جنگجوؤں نے بن لادن کی خدمات کے اعتراف میں، یمنی قبائل 'حاشد' کی حمایت سے قائم اپنے عسکری تربیتی کیمپوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربیت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ چنانچہ مختلف شہریت رکھنے والے القاعدہ کے کچھ جنگجو یمن گئے تاکہ جبل المراقشہ کے علاقے میں، جو حاشد قبائل کے کنٹرول میں تھا، عسکری تربیت حاصل کریں اور وہاں امریکی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صومالیہ روانہ ہونے کی تیاری کریں۔<ref>عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 35</ref> | ||
ایمن الظواہری کو | ایمن الظواہری کو 1993ء کے اوائل میں سوڈان میں منعقدہ [[القاعده|القاعدہ]] کے سربراہوں کے اجلاس میں تنظیم کا میدانی کمانڈر منتخب کیا گیا اور عملی طور پر اس نے تنظیم کے اہم میدانی آپریشنز کی کمان سنبھال لی۔ اس نے فوراً مشرقی افریقہ میں تنظیم کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کینیا کے خفیہ دورے کیے اور اسے مشرقی افریقہ میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے ملاقات اور ہم آہنگی کا مرکز بنا دیا۔<ref>عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 36-37</ref> | ||
اس نے اپنی سرگرمیوں کو صرف جنگجوؤں کے انتظام تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مختلف ممالک کے متعدد دوروں کے دوران، القاعدہ کے لیے مالی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ، دنیا کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے لیے افرادی قوت کو جذب کرنے اور ان کے انتظام کی کوشش کی۔ | اس نے اپنی سرگرمیوں کو صرف جنگجوؤں کے انتظام تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مختلف ممالک کے متعدد دوروں کے دوران، القاعدہ کے لیے مالی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ، دنیا کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے لیے افرادی قوت کو جذب کرنے اور ان کے انتظام کی کوشش کی۔ | ||
خالد ابوالذہب نے | خالد ابوالذہب نے 1999ء میں قاہرہ میں اسلام پسندوں کے مقدمے کے دوران بیان دیا کہ ایمن الظواہری نے 1995ء میں 'ڈاکٹر عبدالمعز' کے فرضی نام سے [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کا سفر کیا اور افغانستان میں جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے رقم جمع کی۔ اس نے پھر اس رقم کا ایک حصہ 1995ء میں اسلام آباد، [[پاکستان]] میں مصری سفارت خانے پر دہشت گردانہ دھماکے کے لیے استعمال کیا۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 149-150</ref> | ||
ایمن الظواہری ان بنیادی شخصیات میں سے ایک تھا جن کی وجہ سے وہ اعلامیہ تشکیل پایا جس میں انتہا پسند سلفیوں کی جانب سے عیسائیوں، یہودیوں اور امریکیوں کے تمام جنگجوؤں، شہریوں اور مفادات کو براہ راست اور واضح خطرہ قرار دیا گیا۔ | ایمن الظواہری ان بنیادی شخصیات میں سے ایک تھا جن کی وجہ سے وہ اعلامیہ تشکیل پایا جس میں انتہا پسند سلفیوں کی جانب سے عیسائیوں، یہودیوں اور امریکیوں کے تمام جنگجوؤں، شہریوں اور مفادات کو براہ راست اور واضح خطرہ قرار دیا گیا۔ | ||
فروری | فروری 1998ء میں مسلح سلفی گروپوں کے چھ رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کر کے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور ایک وسیع جنگ کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس اعلامیے پر بن لادن، ایمن الظواہری، رفاعی طہ (مصری جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن)، منیر حمزہ (پاکستان کی جمعیت علمائے پاکستان کا نمائندہ) اور فضل الرحمان (بنگلہ دیش میں جہاد تحریک کا سربراہ) نے دستخط کیے۔ اس اعلامیے پر دستخط کرنے والوں نے 'یہود و نصاریٰ کے خلاف عالمی جنگی محاذ' کے قیام کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکیوں اور ان کے مغربی اتحادیوں (چاہے وہ عسکری ہوں یا غیر عسکری) کو قتل کرنا ہر اس مسلمان پر واجبِ عینی ہے جو ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہو، تاکہ مسجد الاقصی اور مسجد الحرام ان کے چنگل سے آزاد ہو سکیں اور ان کی فوجیں اسلامی سرزمین سے ذلت کے ساتھ نکل جائیں۔<ref>عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 46</ref> | ||
سوڈان چھوڑ کر افغانستان میں داخل ہونے کے بعد، اگرچہ بن لادن افغانستان میں مقیم رہا، لیکن ایمن الظواہری نے چیچنیا جانے اور وہاں روس کے خلاف جہاد میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کی اطلاع بن لادن اور القاعدہ کے چند رہنماؤں کے سوا کسی کو نہیں تھی۔ لیکن یہ سفر ایک المیے میں تبدیل ہونے کے قریب تھا؛ کیونکہ ظواہری اپنے دو ساتھیوں (محمود الحناوی اور احمد سلامہ مبروک) کے ساتھ، جو القاعدہ کے رہنما تھے، غیر قانونی داخلے اور جعلی پاسپورٹ کے الزام میں داغستان کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب داغستانی فورسز گرفتار ہونے والے افراد کی اصل شناخت سے لاعلم تھیں۔ بن لادن کی طرف سے بھیجے گئے ایلچیوں نے داغستان کی سکیورٹی فورسز کو رشوت دے کر ظواہری اور اس کے ساتھیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کی، جس کے بعد ظواہری داغستان کی حراست سے رہا ہو کر افغانستان واپس آ گیا، جبکہ احمد سلامہ مبروک آذربائیجان چلا گیا اور حناوی قفقاز میں مقیم ہو گیا۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 150</ref> | سوڈان چھوڑ کر افغانستان میں داخل ہونے کے بعد، اگرچہ بن لادن [[افغانستان]] میں مقیم رہا، لیکن ایمن الظواہری نے چیچنیا جانے اور وہاں روس کے خلاف جہاد میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کی اطلاع بن لادن اور القاعدہ کے چند رہنماؤں کے سوا کسی کو نہیں تھی۔ لیکن یہ سفر ایک المیے میں تبدیل ہونے کے قریب تھا؛ کیونکہ ظواہری اپنے دو ساتھیوں (محمود الحناوی اور احمد سلامہ مبروک) کے ساتھ، جو القاعدہ کے رہنما تھے، غیر قانونی داخلے اور جعلی پاسپورٹ کے الزام میں داغستان کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب داغستانی فورسز گرفتار ہونے والے افراد کی اصل شناخت سے لاعلم تھیں۔ بن لادن کی طرف سے بھیجے گئے ایلچیوں نے داغستان کی سکیورٹی فورسز کو رشوت دے کر ظواہری اور اس کے ساتھیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کی، جس کے بعد ظواہری داغستان کی حراست سے رہا ہو کر افغانستان واپس آ گیا، جبکہ احمد سلامہ مبروک آذربائیجان چلا گیا اور حناوی قفقاز میں مقیم ہو گیا۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 150</ref> | ||
ظواہری اگرچہ بن لادن کی زندگی میں اس کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ اسی دور میں میڈیا اور پروپیگنڈے کے اعتبار سے بن لادن سے اعلیٰ درجے پر تھا۔ یہاں تک کہ نو سال کے دوران، القاعدہ سے منسلک انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اس کی ساٹھ سے زیادہ آڈیو اور ویڈیو فائلیں جاری کی گئیں۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 309</ref> | ظواہری اگرچہ بن لادن کی زندگی میں اس کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ اسی دور میں میڈیا اور پروپیگنڈے کے اعتبار سے بن لادن سے اعلیٰ درجے پر تھا۔ یہاں تک کہ نو سال کے دوران، القاعدہ سے منسلک انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اس کی ساٹھ سے زیادہ آڈیو اور ویڈیو فائلیں جاری کی گئیں۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 309</ref> | ||
| سطر 86: | سطر 86: | ||
== بن لادن کی جانشینی == | == بن لادن کی جانشینی == | ||
یکم مئی | یکم مئی 2011ء کو، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے اس وقت کے صدر اوباما نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ امریکہ نے [[پاکستان]] کے ایک علاقے میں بن لادن اور اس کے ایک بیٹے (خالد) کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد [[القاعده|القاعدہ]] نے فوراً نئے سربراہ کی تقرری اور بیعت لینے کی کوشش شروع کر دی۔<ref>عبدالرحمن مظهر هلوش: الشیخ و الطبیب، ص 371۔</ref> | ||
القاعدہ نے مصر کے سابق سپیشل فورسز آفیسر اور تنظیم کے اہم رہنما سیف العدل کو عارضی طور پر تنظیم کا سربراہ مقرر کیا تاکہ ایمن الظواہری کی باضابطہ تقرری کا اعلان کیا جا سکے۔<ref>«القاعدة تعین قائدا مؤقتا»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> درحقیقت سیف العدل کا کام القاعدہ کی مختلف شاخوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تاکہ وہ ایمن الظواہری کی بیعت کریں اور ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی جا سکے۔<ref>ماخذ مذکورہ بالا۔</ref> | القاعدہ نے مصر کے سابق سپیشل فورسز آفیسر اور تنظیم کے اہم رہنما سیف العدل کو عارضی طور پر تنظیم کا سربراہ مقرر کیا تاکہ ایمن الظواہری کی باضابطہ تقرری کا اعلان کیا جا سکے۔<ref>«القاعدة تعین قائدا مؤقتا»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> درحقیقت سیف العدل کا کام القاعدہ کی مختلف شاخوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تاکہ وہ ایمن الظواہری کی بیعت کریں اور ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی جا سکے۔<ref>ماخذ مذکورہ بالا۔</ref> | ||
| سطر 92: | سطر 92: | ||
تقریباً ایک ماہ بعد، ایمن الظواہری کے القاعدہ کے نئے سربراہ بننے کے اعلان کے بعد، عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی توجہ اس سلفی شخصیت کی طرف مرکوز ہو گئی۔ تاہم، وہ کبھی بھی بن لادن جیسی کرشماتی شخصیت کا حامل نہ بن سکا اور سلفی نوجوانوں کے دلوں میں اس کا اثر و رسوخ بن لادن کی نسبت کافی کم تھا۔ | تقریباً ایک ماہ بعد، ایمن الظواہری کے القاعدہ کے نئے سربراہ بننے کے اعلان کے بعد، عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی توجہ اس سلفی شخصیت کی طرف مرکوز ہو گئی۔ تاہم، وہ کبھی بھی بن لادن جیسی کرشماتی شخصیت کا حامل نہ بن سکا اور سلفی نوجوانوں کے دلوں میں اس کا اثر و رسوخ بن لادن کی نسبت کافی کم تھا۔ | ||
معتدل سلفیوں کی ایک بڑی تعداد، جو بن لادن کی مغرب اور امریکہ کے خلاف دشمنی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتی تھی، ایمن الظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ اسے القاعدہ کے آپریشنل مقاصد میں انحراف کا باعث سمجھتے تھے۔ انٹرنیٹ پر ایمن الظواہری کی جانشینی سے متعلق خبروں پر صارفین کے تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ بن لادن کے بہت سے مداح ظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ اسے بن لادن کے راستے سے ہٹانے والا اور ایک خونریز شخص قرار دیتے تھے، جس کے لیے عام شہریوں اور مغربی فوجیوں میں کوئی فرق نہیں تھا اور جس کا بنیادی ہدف اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا تھا۔<ref>مزید ملاحظہ کریں: «الظواهری یخلف بن لادن بقیادة القاعدة» خبر کے نیچے صارفین کے تبصرے، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | معتدل سلفیوں کی ایک بڑی تعداد، جو بن لادن کی مغرب اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے خلاف دشمنی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتی تھی، ایمن الظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ اسے القاعدہ کے آپریشنل مقاصد میں انحراف کا باعث سمجھتے تھے۔ انٹرنیٹ پر ایمن الظواہری کی جانشینی سے متعلق خبروں پر صارفین کے تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ بن لادن کے بہت سے مداح ظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ اسے بن لادن کے راستے سے ہٹانے والا اور ایک خونریز شخص قرار دیتے تھے، جس کے لیے عام شہریوں اور مغربی فوجیوں میں کوئی فرق نہیں تھا اور جس کا بنیادی ہدف اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا تھا۔<ref>مزید ملاحظہ کریں: «الظواهری یخلف بن لادن بقیادة القاعدة» خبر کے نیچے صارفین کے تبصرے، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | ||
اس کے باوجود، القاعدہ کی مسلح سلفی تحریکوں کی اکثریت نے اس کی بیعت کی۔ صومالیہ میں شباب المجاہدین نے ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کیا۔<ref>«"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> شمالی مالی کی مسلح تحریکوں نے بھی ایک متحدہ گروپ 'جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین' تشکیل دے کر ایمن الظواہری کی بیعت کی۔<ref>«اندماج جماعات جهادیة مسلحة فی الساحل بتنظیم واحد بایع أیمن الظواهری»، رأی الیوم ویب سائٹ۔</ref> | اس کے باوجود، القاعدہ کی مسلح سلفی تحریکوں کی اکثریت نے اس کی بیعت کی۔ صومالیہ میں شباب المجاہدین نے ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کیا۔<ref>«"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> شمالی مالی کی مسلح تحریکوں نے بھی ایک متحدہ گروپ 'جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین' تشکیل دے کر ایمن الظواہری کی بیعت کی۔<ref>«اندماج جماعات جهادیة مسلحة فی الساحل بتنظیم واحد بایع أیمن الظواهری»، رأی الیوم ویب سائٹ۔</ref> | ||
امریکہ کے اس وقت کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ایمن الظواہری کی جانشینی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ظواہری میں بن لادن جیسی قیادت کی خصوصیات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ بن لادن کی طرح عسکری آپریشنز کی کمان سنبھالنے کا تجربہ رکھتا ہے۔"<ref>«"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے اس وقت کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ایمن الظواہری کی جانشینی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ظواہری میں بن لادن جیسی قیادت کی خصوصیات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ بن لادن کی طرح عسکری آپریشنز کی کمان سنبھالنے کا تجربہ رکھتا ہے۔"<ref>«"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | ||
ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کرنے والا سب سے اہم گروہ 'تحریک طالبان پاکستان' تھا، جس کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایمن الظواہری کو ایک طاقتور فرد قرار دیا جو القاعدہ کو مغرب پر فتح کی طرف لے جا سکتا ہے۔<ref>«طالبان ترحب بالظواهری وأمیرکا تتوعده»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کرنے والا سب سے اہم گروہ 'تحریک طالبان پاکستان' تھا، جس کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایمن الظواہری کو ایک طاقتور فرد قرار دیا جو القاعدہ کو مغرب پر فتح کی طرف لے جا سکتا ہے۔<ref>«طالبان ترحب بالظواهری وأمیرکا تتوعده»، الجزیرہ ویب سائٹ۔</ref> | ||
| سطر 102: | سطر 102: | ||
تاہم، تمام فریقین کے لیے یہ واضح تھا کہ بن لادن کی موت سے پہلے ہی القاعدہ تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو چکی تھی اور اس کی موت کے بعد اس زوال میں تیزی آ گئی، اور یہ کہ القاعدہ ایمن الظواہری کی موجودگی میں اپنی فعالیت کے عروج کے دور میں واپس نہیں آ سکتی۔ | تاہم، تمام فریقین کے لیے یہ واضح تھا کہ بن لادن کی موت سے پہلے ہی القاعدہ تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو چکی تھی اور اس کی موت کے بعد اس زوال میں تیزی آ گئی، اور یہ کہ القاعدہ ایمن الظواہری کی موجودگی میں اپنی فعالیت کے عروج کے دور میں واپس نہیں آ سکتی۔ | ||
ایمن الظواہری کی نااہلی اور القاعدہ کی کمزوری کی ایک اہم علامت شام میں تنظیم کی شاخوں کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف تھا۔ جب داعش، جو ابتدائی طور پر طالبان سے ہم آہنگ تھی اور القاعدہ کا حصہ سمجھی جاتی تھی، نے جبهۃ النصره (جو شام میں سرکاری طور پر القاعدہ کی نمائندہ تھی) کے ساتھ طویل نزاع شروع کر دی۔ یہ نزاع باہمی مسلح جھڑپوں، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے رہنماؤں کے قتل تک جا پہنچی۔ | ایمن الظواہری کی نااہلی اور [[القاعده|القاعدہ]] کی کمزوری کی ایک اہم علامت [[شام]] میں تنظیم کی شاخوں کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف تھا۔ جب داعش، جو ابتدائی طور پر طالبان سے ہم آہنگ تھی اور القاعدہ کا حصہ سمجھی جاتی تھی، نے جبهۃ النصره (جو شام میں سرکاری طور پر القاعدہ کی نمائندہ تھی) کے ساتھ طویل نزاع شروع کر دی۔ یہ نزاع باہمی مسلح جھڑپوں، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے رہنماؤں کے قتل تک جا پہنچی۔ | ||
ظواہری نے بارہا آڈیو اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے شام میں مسلح سلفی تحریکوں سے اتحاد کی اپیل کی اور داعش سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق تک محدود رہے اور شام کو جبهۃ النصره کے حوالے کر دے۔ لیکن القاعدہ کے سربراہ کے الفاظ میں اب وہ اثر اور کشش نہ رہی تھی۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ایمن الظواہری نے اپنے ایک بیان میں داعش کے عناصر کو 'خوارج' سے بدتر قرار دیا۔ | ظواہری نے بارہا آڈیو اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے [[شام]] میں مسلح سلفی تحریکوں سے اتحاد کی اپیل کی اور [[داعش]] سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق تک محدود رہے اور شام کو جبهۃ النصره کے حوالے کر دے۔ لیکن القاعدہ کے سربراہ کے الفاظ میں اب وہ اثر اور کشش نہ رہی تھی۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ایمن الظواہری نے اپنے ایک بیان میں داعش کے عناصر کو 'خوارج' سے بدتر قرار دیا۔ | ||
ان سب سے اہم وہ بیان تھا جس میں ایمن الظواہری نے باضابطہ طور پر القاعدہ کو طالبان کے تابع تسلیم کیا اور دیگر تحریکوں کو بھی طالبان کی اطاعت اور تعاون کی دعوت دی۔<ref>«الظواهری یدعو المسلمین لبیعة طالبان ویتحدّی البغدادی»، عربی 21 ویب سائٹ۔</ref> | ان سب سے اہم وہ بیان تھا جس میں ایمن الظواہری نے باضابطہ طور پر القاعدہ کو طالبان کے تابع تسلیم کیا اور دیگر تحریکوں کو بھی طالبان کی اطاعت اور تعاون کی دعوت دی۔<ref>«الظواهری یدعو المسلمین لبیعة طالبان ویتحدّی البغدادی»، عربی 21 ویب سائٹ۔</ref> | ||
=== افکار === | === افکار === | ||
| سطر 116: | سطر 115: | ||
ایمن الظواہری نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے: «الولاء والبراء عقیدہ منقولہ وواقع مفقود»؛ اس کتاب میں انھوں نے تولی اور تبری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ | ایمن الظواہری نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے: «الولاء والبراء عقیدہ منقولہ وواقع مفقود»؛ اس کتاب میں انھوں نے تولی اور تبری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ | ||
انھوں نے اسلام میں تولی اور تبری کے بنیادی ارکان کو اس طرح بیان کیا ہے: | انھوں نے [[اسلام]] میں تولی اور تبری کے بنیادی ارکان کو اس طرح بیان کیا ہے: | ||
۱- کفار کی ولایت (دوستی اور سربراہی) سے ممانعت، | ۱- کفار کی ولایت (دوستی اور سربراہی) سے ممانعت، | ||
| سطر 128: | سطر 127: | ||
۵- کفار کے شعائر اور رسوم کی تعظیم کرنے اور ان کے باطل امور کی تعریف کرنے سے ممانعت، | ۵- کفار کے شعائر اور رسوم کی تعظیم کرنے اور ان کے باطل امور کی تعریف کرنے سے ممانعت، | ||
۶- مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنے سے ممانعت، | ۶- [[مسلمان|مسلمانوں]] کے خلاف کفار کی مدد کرنے سے ممانعت، | ||
۷- کفار کے خلاف جہاد کا حکم، اور یہ حکم اس وقت متعین (فرضِ عین) ہو جاتا ہے جب وہ اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو جائیں (اس حصے میں انھوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف بھی جہاد کو ان کے مرتد ہونے کی وجہ سے ثابت اور واضح کیا ہے)، | ۷- کفار کے خلاف جہاد کا حکم، اور یہ حکم اس وقت متعین (فرضِ عین) ہو جاتا ہے جب وہ اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو جائیں (اس حصے میں انھوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف بھی جہاد کو ان کے مرتد ہونے کی وجہ سے ثابت اور واضح کیا ہے)، | ||
| سطر 135: | سطر 134: | ||
=== اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے بارے میں نقطہ نظر === | === اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے بارے میں نقطہ نظر === | ||
ایمن الظواہری نے اپنی جوانی کا دور اور اپنی فکری نشوونما کا زمانہ سید | ایمن الظواہری نے اپنی جوانی کا دور اور اپنی فکری نشوونما کا زمانہ [[سید قطب]]، عبدالسلام فرج، شکری مصطفیٰ اور دیگر کے افکار کے عروج کے وقت گزارا، جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ "حکم بغیر ما انزل اللہ" (اللہ کے نازل کردہ احکام کے علاوہ حکومت کرنا) کی وجہ سے حکمران مرتد ہو چکے ہیں۔ اسی فکری سرچشمے سے انھوں نے استفادہ کیا ہے؛ اسی وجہ سے وہ اپنی تحریروں میں ہمیشہ حکمرانوں کے کفر اور ارتداد پر تاکید کرتے ہیں اور انھیں کفار کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ | ||
انھوں نے اپنی کتاب «الولاء والبراء» میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو تولی اور تبری کے اصول کے حوالے سے سب سے زیادہ منحرف گروہ قرار دیا ہے اور انھیں شریعت سے خارج ایسے افراد مانا ہے جو اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔<ref>وہی حوالہ، ص ۸۷۔</ref> | انھوں نے اپنی کتاب «الولاء والبراء» میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو تولی اور تبری کے اصول کے حوالے سے سب سے زیادہ منحرف گروہ قرار دیا ہے اور انھیں شریعت سے خارج ایسے افراد مانا ہے جو اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔<ref>وہی حوالہ، ص ۸۷۔</ref> | ||
انھوں نے حکمرانوں کے انحراف کو ایک مرکب انحراف قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: | انھوں نے حکمرانوں کے انحراف کو ایک مرکب انحراف قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: | ||
وہ ایک طرف تو شریعت کے احکام پر عمل نہیں کرتے (حکم بغیر ما انزل اللہ) اور دوسری طرف دشمنانِ اسلام کی موالات (دوستی اور حمایت) کرتے ہیں اور خود کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔<ref>وہی حوالہ۔</ref> | وہ ایک طرف تو شریعت کے احکام پر عمل نہیں کرتے (حکم بغیر ما انزل اللہ) اور دوسری طرف دشمنانِ [[اسلام]] کی موالات (دوستی اور حمایت) کرتے ہیں اور خود کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔<ref>وہی حوالہ۔</ref> | ||
اس کے علاوہ، انھوں نے اپنی کتاب «الحوار مع الطواغیت، مقبرة الدعاة» میں اسلامی حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہوئے، ان کے کفر کا فتویٰ سلفی علماء جیسے: شنقیطی، محمد حامد الفقی، احمد شاکر، محمود شاکر اور سعودی عرب کے مفتی اعظم محمد بن ابراہیم سے نقل کیا ہے۔<ref>وہی حوالہ، ص ۹۴-۹۵۔</ref> | اس کے علاوہ، انھوں نے اپنی کتاب «الحوار مع الطواغیت، مقبرة الدعاة» میں اسلامی حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہوئے، ان کے کفر کا فتویٰ سلفی علماء جیسے: شنقیطی، محمد حامد الفقی، احمد شاکر، محمود شاکر اور [[سعودی عرب]] کے مفتی اعظم محمد بن ابراہیم سے نقل کیا ہے۔<ref>وہی حوالہ، ص ۹۴-۹۵۔</ref> | ||
نیز، عرب حکمرانوں کی تکفیر کے بارے میں کتاب «الحوار مع الطواغیت مقبرة الدعوة والدعاة» میں لکھا ہے: | نیز، عرب حکمرانوں کی تکفیر کے بارے میں کتاب «الحوار مع الطواغیت مقبرة الدعوة والدعاة» میں لکھا ہے: | ||
| سطر 157: | سطر 156: | ||
ظواہری مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پر اسلامی ممالک میں موجود حکومتوں کے خلاف جہاد کی ضرورت پر تاکید کرتے تھے۔ | ظواہری مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پر اسلامی ممالک میں موجود حکومتوں کے خلاف جہاد کی ضرورت پر تاکید کرتے تھے۔ | ||
وہ اپنی کتاب «الجہاد و فضل الشہادة» میں کفار کے درمیان موجود عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور یہاں تک کہ کفار کے درمیان موجود مسلمانوں کو مارنا بھی جائز قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اگر ہمارا ہدف مشرکین ہوں اور ہمیں ان کے درمیان کچھ مسلمانوں کی موجودگی کا علم بھی ہو، تب بھی ان پر حملہ کرنا جائز ہے اور مجاہد فرد پر مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے دیت اور کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا۔ وہ اس حکم میں بھی ابن تیمیہ کے نظریات سے استشہاد کرتے ہیں۔<ref>وہی حوالہ، ص ۱۷۳-۱۷۵۔</ref> | وہ اپنی کتاب «الجہاد و فضل الشہادة» میں کفار کے درمیان موجود عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور یہاں تک کہ کفار کے درمیان موجود [[مسلمان|مسلمانوں]] کو مارنا بھی جائز قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اگر ہمارا ہدف مشرکین ہوں اور ہمیں ان کے درمیان کچھ مسلمانوں کی موجودگی کا علم بھی ہو، تب بھی ان پر حملہ کرنا جائز ہے اور مجاہد فرد پر مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے دیت اور کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا۔ وہ اس حکم میں بھی ابن تیمیہ کے نظریات سے استشہاد کرتے ہیں۔<ref>وہی حوالہ، ص ۱۷۳-۱۷۵۔</ref> | ||
=== عدوِ قریب اور عدوِ بعید === | === عدوِ قریب اور عدوِ بعید === | ||
ایمن الظواہری، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے کفر پر اپنے عقیدے کی بنیاد پر، انھیں "عدوِ قریب" (نزدیکی دشمن) قرار دیتے تھے، جبکہ مغرب اور امریکہ کو "عدوِ بعید" (دور کا دشمن) کہتے تھے؛ اور آیت «یا أیها الذین آمنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظة...» (اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں)۔<ref>توبہ (۹)، آیت ۱۲۳۔</ref> کی بنیاد پر، حکمرانوں کے خلاف جہاد کو ایک اہم فریضہ گردانتے تھے۔ | ایمن الظواہری، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے کفر پر اپنے عقیدے کی بنیاد پر، انھیں "عدوِ قریب" (نزدیکی دشمن) قرار دیتے تھے، جبکہ مغرب اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کو "عدوِ بعید" (دور کا دشمن) کہتے تھے؛ اور آیت «یا أیها الذین آمنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظة...» (اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں)۔<ref>توبہ (۹)، آیت ۱۲۳۔</ref> کی بنیاد پر، حکمرانوں کے خلاف جہاد کو ایک اہم فریضہ گردانتے تھے۔ | ||
سن ۱۹۹۵ء میں مجاہدین میگزین میں، جو مصر کی تنظیمِ جہاد سے متعلق تھا، ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: "یروشلم (قدس) کا راستہ قاہرہ سے ہو کر گزرتا ہے"؛ اس میں دعویٰ کیا تھا کہ قدس اس وقت تک آزاد نہیں ہوگا جب تک مصر اور الجزائر میں اسلام پسندوں کی فتح نہیں ہو جاتی۔<ref>فواز جرجس، پیشین، ص ۴۶؛ منتصر الزیات، راه بہ سوی القاعده داستان مرد دست راست بنلادن، ص ۹۷۔</ref> | سن ۱۹۹۵ء میں مجاہدین میگزین میں، جو [[مصر]] کی تنظیمِ جہاد سے متعلق تھا، ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: "یروشلم (قدس) کا راستہ قاہرہ سے ہو کر گزرتا ہے"؛ اس میں دعویٰ کیا تھا کہ قدس اس وقت تک آزاد نہیں ہوگا جب تک [[مصر]] اور الجزائر میں اسلام پسندوں کی فتح نہیں ہو جاتی۔<ref>فواز جرجس، پیشین، ص ۴۶؛ منتصر الزیات، راه بہ سوی القاعده داستان مرد دست راست بنلادن، ص ۹۷۔</ref> | ||
ظواہری نے ۲۰ مئی ۱۹۹۶ء کو مصر کی "جماعتِ اسلامی" پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جماعتِ اسلامی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ داخلی اور خارجی دشمن میں فرق کرتی ہے۔ وہ برطانیہ اور شاہ فاروق، امریکہ اور جمال عبدالناصر، اور سوویت یونین اور جمال عبدالناصر کے درمیان فرق کرتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں: نزدیکی دشمن کے ساتھ جنگ کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "قاتلوا الذین یلونکم من الکفار" (ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں)۔<ref>منتصر الزیات، پیشین، ص ۹۹۔</ref> | ظواہری نے ۲۰ مئی ۱۹۹۶ء کو مصر کی "جماعتِ اسلامی" پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جماعتِ اسلامی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ داخلی اور خارجی دشمن میں فرق کرتی ہے۔ وہ برطانیہ اور شاہ فاروق، امریکہ اور جمال عبدالناصر، اور سوویت یونین اور جمال عبدالناصر کے درمیان فرق کرتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں: نزدیکی دشمن کے ساتھ جنگ کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ [[قرآن]] میں فرماتا ہے: "قاتلوا الذین یلونکم من الکفار" (ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں)۔<ref>منتصر الزیات، پیشین، ص ۹۹۔</ref> | ||
جب اخوان المسلمین کے مرشد حامد ابوالنصر (وفات ۱۹۸۶ء) نے یہ اظہار کیا کہ جہاد صرف غیر ملکی دشمن کے خلاف جائز ہے، تو ایمن الظواہری نے ان کے جواب میں کہا: "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کافر دشمن ہمارے وطن کا ہے یا غیر ملکی اور اجنبی؛ کیونکہ اس کے خلاف جنگ کے وجوب کی وجہ اس کا کفر ہے، نہ کہ یہ کہ وہ غیر ملکی ہے یا ہم وطن۔ اس کے علاوہ، کافر اپنے کفر کی وجہ سے اپنے ہم وطن مسلمانوں سے بیگانہ ہو چکا ہے، اس قرآنی آیت کی وجہ سے جو فرماتی ہے: "قال یا نوح إنه لیس من أهلک إنه عمل غیر صالح" (اس نے کہا: اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، بلاشبہ یہ عمل غیر صالح ہے)۔<ref>ظواہری سے نقل: عبدالرحیم علی، تنظیم القاعده عشون عاماً والغزو مستمر، ص ۲۱۲-۲۱۳۔</ref> اور جو لوگ غیر ملکی اور وطنی کافر کے درمیان فرق کرتے ہیں، وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وطنی شراب (خمر) اور غیر ملکی شراب کے درمیان فرق کے قائل ہیں۔" وہ مزید لکھتے ہیں: ان حکمرانوں کے خلاف جہادِ عینی کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کے واجب ہونے کے علم کے باوجود اس پر عمل کرنے سے گریز کرے، وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔</ref> | جب [[اخوان المسلمین]] کے مرشد حامد ابوالنصر (وفات ۱۹۸۶ء) نے یہ اظہار کیا کہ جہاد صرف غیر ملکی دشمن کے خلاف جائز ہے، تو ایمن الظواہری نے ان کے جواب میں کہا: "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کافر دشمن ہمارے وطن کا ہے یا غیر ملکی اور اجنبی؛ کیونکہ اس کے خلاف جنگ کے وجوب کی وجہ اس کا کفر ہے، نہ کہ یہ کہ وہ غیر ملکی ہے یا ہم وطن۔ اس کے علاوہ، کافر اپنے کفر کی وجہ سے اپنے ہم وطن [[مسلمان|مسلمانوں]] سے بیگانہ ہو چکا ہے، اس قرآنی آیت کی وجہ سے جو فرماتی ہے: "قال یا نوح إنه لیس من أهلک إنه عمل غیر صالح" (اس نے کہا: اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، بلاشبہ یہ عمل غیر صالح ہے)۔<ref>ظواہری سے نقل: عبدالرحیم علی، تنظیم القاعده عشون عاماً والغزو مستمر، ص ۲۱۲-۲۱۳۔</ref> اور جو لوگ غیر ملکی اور وطنی کافر کے درمیان فرق کرتے ہیں، وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وطنی شراب (خمر) اور غیر ملکی شراب کے درمیان فرق کے قائل ہیں۔" وہ مزید لکھتے ہیں: ان حکمرانوں کے خلاف جہادِ عینی کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کے واجب ہونے کے علم کے باوجود اس پر عمل کرنے سے گریز کرے، وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔</ref> | ||
=== ایران اور تشیع === | === ایران اور تشیع === | ||
بن لادن اور ظواہری کے درمیان سب سے اہم اختلافات میں سے ایک ایران کے بارے میں تھا؛ کیونکہ ظواہری، ایران کے ساتھ جنگ کو القاعدہ کی سرگرمیوں میں ترجیح دیتا تھا اور ایران کو خطے پر غلبہ پانے اور اہل سنت کے درمیان تشیع کو پھیلانے کا خواہاں سمجھتا تھا۔ وہ ہمیشہ ایران اور عراقی شیعوں (آیت اللہ سیستانی) پر مغرب اور امریکیوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات کا الزام لگاتا تھا۔ لیکن بن لادن اس کے برعکس، ایران کے بارے میں ظواہری کے ان افکار کو مسترد کرتا تھا اور ایران کے خلاف دشمنانہ مؤقف کو ناقابلِ عمل سمجھتا تھا۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔</ref> | بن لادن اور ظواہری کے درمیان سب سے اہم اختلافات میں سے ایک [[ایران]] کے بارے میں تھا؛ کیونکہ ظواہری، [[ایران]] کے ساتھ جنگ کو [[القاعده|القاعدہ]] کی سرگرمیوں میں ترجیح دیتا تھا اور ایران کو خطے پر غلبہ پانے اور [[اہل السنۃ والجماعت|اہل سنت]] کے درمیان [[شیعہ|تشیع]] کو پھیلانے کا خواہاں سمجھتا تھا۔ وہ ہمیشہ [[ایران]] اور عراقی شیعوں ([[سید علی سیستانی|آیت اللہ سیستانی]]) پر مغرب اور امریکیوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات کا الزام لگاتا تھا۔ لیکن بن لادن اس کے برعکس، ایران کے بارے میں ظواہری کے ان افکار کو مسترد کرتا تھا اور ایران کے خلاف دشمنانہ مؤقف کو ناقابلِ عمل سمجھتا تھا۔<ref>عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔</ref> | ||
ظواہری نے ایران کے بارے میں بن لادن کے مؤقف کے جواب میں کہا: مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ بن لادن کے دو بیٹے (سعد اور عبداللہ) سن ۲۰۰۳ء سے ایران میں رہ رہے ہیں۔ میں ایران کو تنظیمِ القاعدہ کا فکری اور عقیدتی دشمن سمجھتا ہوں؛ کیونکہ دنیا میں تشیع کے اثر و رسوخ میں اضافہ، کمیونزم کے نفوذ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔<ref>وہی حوالہ۔</ref> | ظواہری نے ایران کے بارے میں بن لادن کے مؤقف کے جواب میں کہا: مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ بن لادن کے دو بیٹے (سعد اور عبداللہ) سن ۲۰۰۳ء سے ایران میں رہ رہے ہیں۔ میں ایران کو تنظیمِ القاعدہ کا فکری اور عقیدتی دشمن سمجھتا ہوں؛ کیونکہ دنیا میں تشیع کے اثر و رسوخ میں اضافہ، کمیونزم کے نفوذ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔<ref>وہی حوالہ۔</ref> | ||
اس نے ۱۴۱۵ ہجری قمری میں ایک انٹرویو کے دوران ایران کے بارے میں القاعدہ تنظیم کے سرکاری مؤقف کو تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ | اس نے ۱۴۱۵ ہجری قمری میں ایک انٹرویو کے دوران [[ایران]] کے بارے میں القاعدہ تنظیم کے سرکاری مؤقف کو تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ | ||
اس انٹرویو میں ایمن الظواہری سے یہ سوال پوچھا گیا کہ: میڈیا اکثر اسلامی تحریکوں پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایران کی حمایت اور مدد قبول کرتی ہیں اور خاص طور پر مصر کا میڈیا انہیں ایرانِ شیعہ کی پیروی کا الزام دیتا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ | اس انٹرویو میں ایمن الظواہری سے یہ سوال پوچھا گیا کہ: میڈیا اکثر اسلامی تحریکوں پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایران کی حمایت اور مدد قبول کرتی ہیں اور خاص طور پر مصر کا میڈیا انہیں ایرانِ شیعہ کی پیروی کا الزام دیتا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟ | ||
اس نے جواب میں کہا: یہ تمام الزامات محض افتراء پردازی ہیں اور ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور روشن ہے، جو عقیدتی اور علمی حقائق پر مبنی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، ہم سلفِ صالح کے مذہب کے پابند ہیں، اور اس لیے ہمارے اور شیعوں کے درمیان واضح فرق اور خلیجیں موجود ہیں؛ کیونکہ اثنا عشری شیعہ ہمارے نزدیک بدعت پرست فرقوں میں سے ایک شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے دین میں عقیدتی بدعتیں داخل کی ہیں اور شیعوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ: | اس نے جواب میں کہا: یہ تمام الزامات محض افتراء پردازی ہیں اور ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور روشن ہے، جو عقیدتی اور علمی حقائق پر مبنی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، ہم سلفِ صالح کے مذہب کے پابند ہیں، اور اس لیے ہمارے اور [[شیعہ|شیعوں]] کے درمیان واضح فرق اور خلیجیں موجود ہیں؛ کیونکہ [[باره امامی ( اثنا عشری)|اثنا عشری شیعہ]] ہمارے نزدیک بدعت پرست فرقوں میں سے ایک شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے دین میں عقیدتی بدعتیں داخل کی ہیں اور شیعوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ: | ||
* وہ | * وہ [[ابوبکر بن ابی قحافہ|ابوبکر]]، [[عمر بن خطاب|عمر]]، امہات المومنین (پیغمبرِ اسلام کی بیویاں) اور صحابہ و تابعین کے کفر کے قائل ہیں اور کھلم کھلا ان پر سب و لعن کرتے ہیں۔ | ||
* وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔ | * وہ تحریفِ [[قرآن]] کے قائل ہیں۔ | ||
* بارہ اماموں کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کہ یہ امام اس مقام تک پہنچ گئے جہاں کوئی نبیِ مرسل یا فرشتہِ مقرب بھی نہیں پہنچا۔ | * بارہ اماموں کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کہ یہ امام اس مقام تک پہنچ گئے جہاں کوئی نبیِ مرسل یا فرشتہِ مقرب بھی نہیں پہنچا۔ | ||
| سطر 194: | سطر 193: | ||
(ان کا ایک نمونہ) شام کے انقلاب کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ انھوں نے حافظ الاسد کا ساتھ دیا اور کہا کہ اخوان المسلمین امریکہ کے کارندے (ایجنٹ) ہیں۔ | (ان کا ایک نمونہ) شام کے انقلاب کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ انھوں نے حافظ الاسد کا ساتھ دیا اور کہا کہ اخوان المسلمین امریکہ کے کارندے (ایجنٹ) ہیں۔ | ||
افغانستان کے جہاد کے میدان میں بھی وہ صرف شیعہ گروہوں کی امداد کرتے تھے۔ | [[افغانستان]] کے جہاد کے میدان میں بھی وہ صرف شیعہ گروہوں کی امداد کرتے تھے۔ | ||
پاکستان سے عرب مجاہدین کی بے دخلی کے بارے میں بھی ان کا مؤقف چشم پوشی اور بے توجہی کا تھا اور انھوں نے اس میں کوئی مداخلت نہیں کی، اور ایرانی سرزمیں پر کسی بھی عرب مجاہد کا خیر مقدم نہیں کیا۔ | [[پاکستان]] سے عرب مجاہدین کی بے دخلی کے بارے میں بھی ان کا مؤقف چشم پوشی اور بے توجہی کا تھا اور انھوں نے اس میں کوئی مداخلت نہیں کی، اور ایرانی سرزمیں پر کسی بھی عرب مجاہد کا خیر مقدم نہیں کیا۔ | ||
مصر اور الجزائر میں جہاد کے سلسلے میں ایران کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی گئی اور مجاہدین کو طاغوتوں کے خلاف خونریز جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ | [[مصر]] اور الجزائر میں جہاد کے سلسلے میں ایران کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی گئی اور مجاہدین کو طاغوتوں کے خلاف خونریز جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ | ||
وہ ہر اس تحریک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو ان کے دائرہ اثر (مدار) میں ہو، اور مختصراً ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہم ایران کے تابع نہیں ہیں۔ | وہ ہر اس تحریک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو ان کے دائرہ اثر (مدار) میں ہو، اور مختصراً ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہم ایران کے تابع نہیں ہیں۔ | ||
انھوں نے ایران کے زیرِ اثر چلنے والی جہادی تحریکوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا: یہ طریقہ کار آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور ایران کی معمولی سی حمایت کے بدلے، آپ پر ایران کا کٹھ پتلی ہونے کا الزام لگے گا اور آپ اہل سنت کے درمیان اپنا احترام کھو دیں گے۔<ref>وہی حوالہ (عبدالرحیم علی: حلف الارهاب)، ج۳، ص ۳۱۵-۳۱۶۔</ref><ref>عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۴۔</ref> | انھوں نے [[ایران]] کے زیرِ اثر چلنے والی جہادی تحریکوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا: یہ طریقہ کار آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور ایران کی معمولی سی حمایت کے بدلے، آپ پر ایران کا کٹھ پتلی ہونے کا الزام لگے گا اور آپ اہل سنت کے درمیان اپنا احترام کھو دیں گے۔<ref>وہی حوالہ (عبدالرحیم علی: حلف الارهاب)، ج۳، ص ۳۱۵-۳۱۶۔</ref><ref>عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۴۔</ref> | ||
=== اخوان المسلمین مصر === | === اخوان المسلمین مصر === | ||
ظواہری نے کتاب «الحصاد المر؛ الاخوان المسلمون فی ستین عاما» لکھ کر مصر کی جماعت اخوان المسلمین پر شدید تنقید کی ہے۔ انھوں نے سیاسی جدوجہد کے بہانے مصر کی مرتد اور ظالم حکومتوں کے ساتھ اس جماعت کے تعاون کو اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا اور اخوان المسلمین پر جہاد کے فریضے کو کمزور کرنے اور اسے مسترد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔<ref>عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج۳، ص ۱۹۷-۲۹۸۔</ref> | ظواہری نے کتاب «الحصاد المر؛ [[اخوان المسلمین|الاخوان المسلمون]] فی ستین عاما» لکھ کر مصر کی جماعت اخوان المسلمین پر شدید تنقید کی ہے۔ انھوں نے سیاسی جدوجہد کے بہانے مصر کی مرتد اور ظالم حکومتوں کے ساتھ اس جماعت کے تعاون کو اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا اور اخوان المسلمین پر جہاد کے فریضے کو کمزور کرنے اور اسے مسترد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔<ref>عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج۳، ص ۱۹۷-۲۹۸۔</ref> | ||
=== مشکوک اور مبہم موت === | === مشکوک اور مبہم موت === | ||
[فائل:ایمن.jpg| | [[فائل:ایمن.jpg|تصغیر|بائیں|اس عمارت کی کھڑکی جہاں انھیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا]] | ||
ظواہری ۳۱ جولائی ۲۰۲۲ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح ۶ بجے کے فوراً بعد کابل کے ایک پرتعیش محلے شیر پور میں امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔<ref>[https://www.politico.com/news/2022/08/01/sources-u-s-kills-al-qaeda-leader-ayman-al-zawahri-in-drone-strike-00049089 سایت پلیتیکو]</ref> حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے صحافیوں کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: "امریکہ نے ہفتے کے آخر میں افغانستان میں القاعدہ کے ایک اہم ہدف کے خلاف دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا۔ یہ آپریشن کامیاب رہا اور اس میں کسی عام شہری کا جانی نقصان نہیں ہوا۔" امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ صدر جو بائیڈن نے آپریشن کی کامیابی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے دو دن کی تاخیر کے بعد، ۱ اگست ۲۰۲۲ء کی شام کو وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ظواہری کی نشاندہی اس وقت کی تھی جب وہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں کابل کے مرکز میں منتقل ہوئے تھے، اور انھوں نے حملے سے ایک ہفتہ قبل اس کا حکم دیا تھا۔ بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اس آپریشن میں کوئی سویلین ہلاکت نہیں ہوئی اور ظواہری کے خاندان کے ارکان کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ | ظواہری ۳۱ جولائی ۲۰۲۲ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح ۶ بجے کے فوراً بعد کابل کے ایک پرتعیش محلے شیر پور میں امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔<ref>[https://www.politico.com/news/2022/08/01/sources-u-s-kills-al-qaeda-leader-ayman-al-zawahri-in-drone-strike-00049089 سایت پلیتیکو]</ref> حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے صحافیوں کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: "[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] نے ہفتے کے آخر میں [[افغانستان]] میں القاعدہ کے ایک اہم ہدف کے خلاف دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا۔ یہ آپریشن کامیاب رہا اور اس میں کسی عام شہری کا جانی نقصان نہیں ہوا۔" امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ صدر جو بائیڈن نے آپریشن کی کامیابی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے دو دن کی تاخیر کے بعد، ۱ اگست ۲۰۲۲ء کی شام کو وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ظواہری کی نشاندہی اس وقت کی تھی جب وہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں کابل کے مرکز میں منتقل ہوئے تھے، اور انھوں نے حملے سے ایک ہفتہ قبل اس کا حکم دیا تھا۔ بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اس آپریشن میں کوئی سویلین ہلاکت نہیں ہوئی اور ظواہری کے خاندان کے ارکان کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ | ||
ایک اور دلچسپ روایت کے مطابق: افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی، ایمن الظواہری نے حالات کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے سازگار پایا۔ انھوں نے کابل کے وسط میں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب اپنے لیے ایک بڑا گھر تیار کیا جس کے ٹیرس (بالکونی) کو وہ کبھی کبھار تازہ ہوا کھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ درحقیقت، آزادی کا یہ ماحول ظواہری کی طالبان کے ساتھ بیعت کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا اور گھر کی بالکونی میں ان کا یہی ظاہر ہونا آخر کار ان کی موت کا سبب بنا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ شاخِ افریقہ (ہارن آف افریقہ) میں القاعدہ کے ۳۳ سالہ نمائندے سیف العدل خود کو القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔<ref>[https://www.sharghdaily.com/%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-6/852327-%D9%BE%D9%86%D8%AC-%D8%B3%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%A7%D8%B2-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B8%D9%88%D8%A7%D9%87%D8%B1%DB%8C سایت شرق]</ref> | ایک اور دلچسپ روایت کے مطابق: افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی، ایمن الظواہری نے حالات کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے سازگار پایا۔ انھوں نے کابل کے وسط میں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب اپنے لیے ایک بڑا گھر تیار کیا جس کے ٹیرس (بالکونی) کو وہ کبھی کبھار تازہ ہوا کھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ درحقیقت، آزادی کا یہ ماحول ظواہری کی طالبان کے ساتھ بیعت کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا اور گھر کی بالکونی میں ان کا یہی ظاہر ہونا آخر کار ان کی موت کا سبب بنا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ شاخِ افریقہ (ہارن آف افریقہ) میں القاعدہ کے ۳۳ سالہ نمائندے سیف العدل خود کو القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔<ref>[https://www.sharghdaily.com/%D8%A8%D8%AE%D8%B4-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%D8%AA-6/852327-%D9%BE%D9%86%D8%AC-%D8%B3%DA%A9%D8%A7%D9%86%D8%B3-%D8%A7%D8%B2-%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D8%A7%DB%8C%D9%85%D9%86-%D8%A7%D9%84%D8%B8%D9%88%D8%A7%D9%87%D8%B1%DB%8C سایت شرق]</ref> | ||
== متعلقہ موضوعات == | |||
* [[الازہر یونیورسٹی]] | |||
* [[القاعده]] | |||
* [[مصر]] | |||
* [[افغانستان]] | |||
=== مآخذ === | === مآخذ === | ||
* پیٹر ایل برگر: اسامہ بن لادن، ترجمہ: عباس قلی غفاری فرد، تہران: اطلاعات، پہلا ایڈیشن، ۱۳۹۰ ہجری شمسی۔ | * پیٹر ایل برگر: اسامہ بن لادن، ترجمہ: عباس قلی غفاری فرد، تہران: اطلاعات، پہلا ایڈیشن، ۱۳۹۰ ہجری شمسی۔ | ||
* عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب؛ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری، لبنان: ریاض الریس، پہلا ایڈیشن، ۲۰۱۱ء۔ | * عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب؛ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری، لبنان: ریاض الریس، پہلا ایڈیشن، ۲۰۱۱ء۔ | ||
| سطر 231: | سطر 235: | ||
* عربی ۲۱: http://arabi21.com/ | * عربی ۲۱: http://arabi21.com/ | ||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
[[زمرہ:سیاسی شخصیات]] | [[زمرہ:سیاسی شخصیات]] | ||
[[زمرہ:القاعدہ]] | [[زمرہ:القاعدہ]] | ||
[[زمرہ:مصر]] | [[زمرہ:مصر]] | ||
[[fa: ایمن الظواهری]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 16:26، 23 مئی 2026ء
| ایمن الظواہری | |
|---|---|
| پورا نام | ایمن محمد ربیع الظواهری |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1951 ء |
| یوم پیدائش | 19 جون |
| پیدائش کی جگہ | قاهره، مصر |
| مذہب | اسلام، سنی |
| مناصب | اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ |
ایمن الظواہری، اسامہ بن لادن کا جانشین اور القاعدہ تنظیم کا دوسرا سربراہ، مصر کے سلفی جہادیوں کے دل سے ابھرنے والے انتہا پسند جہادی افکار کا مجسمہ تھا۔ اس نے اپنی ترجیح اسلامی دنیا کے اندر اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف لڑائی کو قرار دیا اور مغرب کے خلاف جنگ کے بہانے سلفی اور مسلح شاخیں قائم کرکے اسلامی دنیا میں بدامنی، قتل و غارت اور تباہی کی لہر پیدا کی۔ ظواہری خود کو طالبان تحریک کا تابع سمجھتا تھا اور اسی تحریک کی چھتری تلے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً آڈیو یا ویڈیو فائلیں جاری کرکے عالمی پیش رفت پر اپنے موقف کا اظہار کرتا اور مسلح سلفیوں کو جہاد کی راہ پر اتحاد اور استقامت کی دعوت دیتا۔ یہ مصری سرجن، جو قاہرہ، مصر کے ایک تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتا تھا، ایک ایسی تنظیم کا سربراہ بنا جس کی شاخوں کے درمیان رابطہ ٹوٹ چکا ہے اور اس کی فعالیت کمزور پڑ گئی ہے۔ اس جنگجو اور تکفیری شخصیت کی زندگی اور افکار انتہا پسند اور مسلح سلفی تحریکوں کی ماہیت کا نچوڑ ہیں، جن کا مطالعہ کرنے سے اس ماہیت کے متعدد پہلو سامنے آئیں گے۔
پیدائش اور تعلیم
ایمن الظواہری 19 جون 1951ء کو مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان مصر میں نمایاں علمی اور سماجی پس منظر رکھتا تھا۔ اس کے دادا، شیخ ربیع الظواہری، الازہر کے شیوخ میں سے تھے، اور اس کے والد، محمد ربیع الظواہری، مصر کی عین شمس یونیورسٹی میں فیکلٹی آف میڈیسن میں پروفیسر اور اس خطے کے مشہور ڈاکٹروں میں سے ایک تھے۔ اس کے اجداد میں سے ایک صوفی شیخ تھے جنہیں بعض ممالک میں مصر کا سفیر مقرر کیا گیا تھا اور انہیں 'سفیر متصوف' کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ [1]
اس کی والدہ، امیمہ عزام، مشہور عزام خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، جس کی سب سے نمایاں شخصیت عبدالرحمن پاشا عزام تھے، جو ایمن الظواہری کے دادا کے بھائی اور عرب لیگ کے پہلے سیکرٹری جنرل تھے۔ ایمن الظواہری کی والدہ، الازہر یونیورسٹی میں مشرقی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب عزام کی بیٹی تھیں، جنہوں نے شاہنامہ کا عربی میں ترجمہ کیا تھا۔ [2]
ایمن نے قاہرہ یونیورسٹی کے میڈیکل کالج میں داخلہ لینے کے بعد 1974ء میں وہاں سے نمایاں نمبروں کے ساتھ گریجویشن کی اور پھر 1978ء میں سرجری میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ اس کے بعد اس نے پاکستان کی یونیورسٹیوں میں تعلیم جاری رکھی اور سرجری میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ [3]
سیاسی و مذہبی سرگرمیاں
ایمن الظواہری کی جوانی کا دور مصر میں جہادی اور اسلام پسند احتجاجی تحریکوں کی سرگرمیوں کے عروج کے دوران گزرا۔ سلفی-جہادی افکار نے مصر کی اسلامی فضا میں پھلنے پھولنے کے ساتھ ساتھ ایمن الظواہری کی روح اور فکر کو بھی متاثر کیا۔
اس نے 1966ء میں ایک ایسی دینی تحریک میں شمولیت اختیار کی جس کی قیادت اسماعیل طنطاوی کر رہے تھے۔ لیکن 1975ء میں طنطاوی کے جرمنی کے سفر نے اس تحریک کو منتشر کر دیا۔ اس کے بعد ظواہری نے خود ایک اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی اور 1981ء میں طارق الزمر اور عبود الزمر سے ملاقات کی اور 'تنظیم جہاد' میں شامل ہو گیا، جو انجینئر عبدالسلام فرج کی قیادت میں کام کر رہی تھی۔ [4]
سلفی رادیکال اور جنگجو نظریات پر مبنی یہ تنظیم مصر کی فعال ترین جہادی تحریکوں میں سے ایک سمجھی جاتی تھی، جس نے اپنے منشور 'میثاق العمل الاسلامی' میں درج کیا:
ہمارا نصب العین: اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کا حصول، اس کے لیے اخلاص اور اس کے رسول کی پیروی کو عملی جامہ پہنانا۔
ہمارا عقیدہ: سلف صالحین کا عقیدہ اجمالی اور تفصیلی طور پر۔
ہمارا مقصد: 1- لوگوں کی اللہ کے لیے عبادت کو یقینی بنانا، 2- خلافتِ راشدہ اسلامیہ کا قیام۔
ہمارا راستہ: اللہ کی طرف دعوت، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، اللہ کی راہ میں ایک منظم گروہ کے ذریعے جہاد جس کی فعالیت کا دارومدار حنیف شریعت پر ہو۔
ہمارا توشہ: علم اور تقویٰ، یقین اور توکل، صبر اور شکر، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کے لیے ایثار۔
ہماری وفاداری: اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ۔
ہماری دشمنی: ظالموں کے ساتھ۔
ہمارا اجتماع: ایک ہی نصب العین اور ایک ہی عقیدے کے تحت ایک فکری پرچم تلے۔ [5]
ایمن الظواہری نے مصر میں اپنی سیاسی اور مزاحمتی سرگرمیاں جاری رکھیں، یہاں تک کہ 1980ء میں افغان مجاہدین کی مدد اور علاج کے لیے، وہ اپنے دو دوستوں کے ساتھ جو میڈیسن، اینستھیزیا اور پلاسٹک سرجری کے ماہر تھے، پشاور، پاکستان کا سفر کیا۔ لیکن مصر میں مجاہدین کے حالات بگڑنے کے بعد، کچھ ماہ بعد وہ مصر واپس آیا تو اسے حکومت مصر نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔ [6]
ایمن الظواہری نے انور سادات کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں مصر کی جیلوں میں تین سال گزارے۔ مصر کی جیلوں کے حالات اور اس دور میں اسلام پسند قیدیوں کے درمیان ہونے والی فکری بحثوں کے پیش نظر، یہ فطری تھا کہ ایمن الظواہری کے افکار شدت کے ساتھ انتہا پسندی اور تکفیر کی طرف مائل ہو جائیں۔
افغانستان میں جنگ
جیل سے رہائی کے بعد، یعنی 1985ء میں، ظواہری اپنے رویے، افکار اور کاموں میں واضح تبدیلی کے ساتھ افغانستان کے میدانِ جنگ میں داخل ہوا۔[7]
لیکن اس نے، جو اس میدان کو مسلح سلفیوں کی نشوونما اور مضبوطی کے لیے مناسب سمجھتا تھا، اس جگہ کو انتہا پسند اور جنگجو سلفی فکر کی ترویج کے لیے سازگار پایا اور جہادی سلفیوں کی افرادی قوت کو بڑھانے کے لیے عرب-افغان جنگجوؤں سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔
عرب جنگجو مختلف وجوہات اور محرکات کی بنا پر افغانستان کا رخ کرتے تھے، جن میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں:
- سوویت یونین کے خلاف جنگ میں افغان مجاہدین کے ساتھ مل کر لڑنا اور فریضہ جہاد کی ادائیگی۔
- افغانستان کے اندر اور پاکستان میں افغان مہاجرین کے علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینا۔
- 1992ء کے بعد افغانستان میں عسکری تربیت کے لیے عرب فوجی کیمپوں میں شامل ہونا۔
- اپنے ممالک سے فرار ہو کر افغانستان میں رہائش اختیار کرنا، یا تو جیل جانے کے خوف سے یا اس لیے کہ مختلف الزامات کے تحت وہ قانونی طور پر مطلوب تھے۔
اس دوران ایمن الظواہری، جو پہلے ہی مصر میں تنظیمی سرگرمیوں سے واقف تھا، 1987ء میں بن لادن کی مدد اور دیگر مالی تعاون سے، جو اسے عرب ممالک سے ملتا تھا، اپنی فکری اور میدانی سرگرمیوں کو وسیع کیا۔ اس نے پشاور میں 'دفترِ جہاد' قائم کیا اور افغان مجاہدین کے امین کی حیثیت سے، کچھ عرب ممالک اور فلاحی اداروں سے مالی امداد لے کر افغانستان میں جہاد پر خرچ کی۔ اس نے 'الفتح' کے نام سے ایک جریدہ بھی شائع کیا۔[8]
القاعدہ کی میدانی کمان
اس نے اپنے جریدے کے نام کی مناسبت سے عرب-افغان جنگجوؤں کو 'طلائع الفتح' کا لقب دیا اور بن لادن کے ساتھ مل کر ان قوتوں کو منظم اور ان کا انتظام سنبھالا۔ یہاں تک کہ 1987ء میں افغانستان سے سوویت فوجوں کے انخلا کے ساتھ ہی اس نے القاعدہ کے مبارز جنگجوؤں کو اسلامی دنیا کے دیگر تنازعات کے مراکز میں منتقل کرنا شروع کر دیا، اور کچھ کو یمنی قوتوں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد یمن بھیج دیا۔
اس نے یمن میں موجود افغان جہاد کے شریک یمنی جنگجوؤں کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے محمد مکاوی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا۔ یمنی جنگجوؤں نے بن لادن کی خدمات کے اعتراف میں، یمنی قبائل 'حاشد' کی حمایت سے قائم اپنے عسکری تربیتی کیمپوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں کو تربیت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ چنانچہ مختلف شہریت رکھنے والے القاعدہ کے کچھ جنگجو یمن گئے تاکہ جبل المراقشہ کے علاقے میں، جو حاشد قبائل کے کنٹرول میں تھا، عسکری تربیت حاصل کریں اور وہاں امریکی فوجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صومالیہ روانہ ہونے کی تیاری کریں۔[9]
ایمن الظواہری کو 1993ء کے اوائل میں سوڈان میں منعقدہ القاعدہ کے سربراہوں کے اجلاس میں تنظیم کا میدانی کمانڈر منتخب کیا گیا اور عملی طور پر اس نے تنظیم کے اہم میدانی آپریشنز کی کمان سنبھال لی۔ اس نے فوراً مشرقی افریقہ میں تنظیم کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے کینیا کے خفیہ دورے کیے اور اسے مشرقی افریقہ میں القاعدہ کے جنگجوؤں کے ملاقات اور ہم آہنگی کا مرکز بنا دیا۔[10]
اس نے اپنی سرگرمیوں کو صرف جنگجوؤں کے انتظام تک محدود نہیں رکھا، بلکہ مختلف ممالک کے متعدد دوروں کے دوران، القاعدہ کے لیے مالی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ، دنیا کے مختلف حصوں میں القاعدہ کے لیے افرادی قوت کو جذب کرنے اور ان کے انتظام کی کوشش کی۔
خالد ابوالذہب نے 1999ء میں قاہرہ میں اسلام پسندوں کے مقدمے کے دوران بیان دیا کہ ایمن الظواہری نے 1995ء میں 'ڈاکٹر عبدالمعز' کے فرضی نام سے امریکہ کا سفر کیا اور افغانستان میں جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے رقم جمع کی۔ اس نے پھر اس رقم کا ایک حصہ 1995ء میں اسلام آباد، پاکستان میں مصری سفارت خانے پر دہشت گردانہ دھماکے کے لیے استعمال کیا۔[11]
ایمن الظواہری ان بنیادی شخصیات میں سے ایک تھا جن کی وجہ سے وہ اعلامیہ تشکیل پایا جس میں انتہا پسند سلفیوں کی جانب سے عیسائیوں، یہودیوں اور امریکیوں کے تمام جنگجوؤں، شہریوں اور مفادات کو براہ راست اور واضح خطرہ قرار دیا گیا۔
فروری 1998ء میں مسلح سلفی گروپوں کے چھ رہنماؤں نے ایک اعلامیے پر دستخط کر کے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی اور ایک وسیع جنگ کے آغاز کا اعلان کیا۔ اس اعلامیے پر بن لادن، ایمن الظواہری، رفاعی طہ (مصری جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کے رکن)، منیر حمزہ (پاکستان کی جمعیت علمائے پاکستان کا نمائندہ) اور فضل الرحمان (بنگلہ دیش میں جہاد تحریک کا سربراہ) نے دستخط کیے۔ اس اعلامیے پر دستخط کرنے والوں نے 'یہود و نصاریٰ کے خلاف عالمی جنگی محاذ' کے قیام کا اعلان کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکیوں اور ان کے مغربی اتحادیوں (چاہے وہ عسکری ہوں یا غیر عسکری) کو قتل کرنا ہر اس مسلمان پر واجبِ عینی ہے جو ایسا کرنے کی طاقت رکھتا ہو، تاکہ مسجد الاقصی اور مسجد الحرام ان کے چنگل سے آزاد ہو سکیں اور ان کی فوجیں اسلامی سرزمین سے ذلت کے ساتھ نکل جائیں۔[12]
سوڈان چھوڑ کر افغانستان میں داخل ہونے کے بعد، اگرچہ بن لادن افغانستان میں مقیم رہا، لیکن ایمن الظواہری نے چیچنیا جانے اور وہاں روس کے خلاف جہاد میں مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سفر کی اطلاع بن لادن اور القاعدہ کے چند رہنماؤں کے سوا کسی کو نہیں تھی۔ لیکن یہ سفر ایک المیے میں تبدیل ہونے کے قریب تھا؛ کیونکہ ظواہری اپنے دو ساتھیوں (محمود الحناوی اور احمد سلامہ مبروک) کے ساتھ، جو القاعدہ کے رہنما تھے، غیر قانونی داخلے اور جعلی پاسپورٹ کے الزام میں داغستان کی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہو گئے۔ یہ ایسے وقت میں ہوا جب داغستانی فورسز گرفتار ہونے والے افراد کی اصل شناخت سے لاعلم تھیں۔ بن لادن کی طرف سے بھیجے گئے ایلچیوں نے داغستان کی سکیورٹی فورسز کو رشوت دے کر ظواہری اور اس کے ساتھیوں کو آزاد کرانے کی کوشش کی، جس کے بعد ظواہری داغستان کی حراست سے رہا ہو کر افغانستان واپس آ گیا، جبکہ احمد سلامہ مبروک آذربائیجان چلا گیا اور حناوی قفقاز میں مقیم ہو گیا۔[13]
ظواہری اگرچہ بن لادن کی زندگی میں اس کا دایاں ہاتھ سمجھا جاتا تھا، لیکن وہ اسی دور میں میڈیا اور پروپیگنڈے کے اعتبار سے بن لادن سے اعلیٰ درجے پر تھا۔ یہاں تک کہ نو سال کے دوران، القاعدہ سے منسلک انٹرنیٹ ویب سائٹس پر اس کی ساٹھ سے زیادہ آڈیو اور ویڈیو فائلیں جاری کی گئیں۔[14]
بن لادن کی جانشینی
یکم مئی 2011ء کو، امریکہ کے اس وقت کے صدر اوباما نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ امریکہ نے پاکستان کے ایک علاقے میں بن لادن اور اس کے ایک بیٹے (خالد) کو ہلاک کر دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد القاعدہ نے فوراً نئے سربراہ کی تقرری اور بیعت لینے کی کوشش شروع کر دی۔[15]
القاعدہ نے مصر کے سابق سپیشل فورسز آفیسر اور تنظیم کے اہم رہنما سیف العدل کو عارضی طور پر تنظیم کا سربراہ مقرر کیا تاکہ ایمن الظواہری کی باضابطہ تقرری کا اعلان کیا جا سکے۔[16] درحقیقت سیف العدل کا کام القاعدہ کی مختلف شاخوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تاکہ وہ ایمن الظواہری کی بیعت کریں اور ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی جا سکے۔[17]
تقریباً ایک ماہ بعد، ایمن الظواہری کے القاعدہ کے نئے سربراہ بننے کے اعلان کے بعد، عوامی حلقوں اور تجزیہ کاروں کی توجہ اس سلفی شخصیت کی طرف مرکوز ہو گئی۔ تاہم، وہ کبھی بھی بن لادن جیسی کرشماتی شخصیت کا حامل نہ بن سکا اور سلفی نوجوانوں کے دلوں میں اس کا اثر و رسوخ بن لادن کی نسبت کافی کم تھا۔
معتدل سلفیوں کی ایک بڑی تعداد، جو بن لادن کی مغرب اور امریکہ کے خلاف دشمنی کی وجہ سے اس کی تعریف کرتی تھی، ایمن الظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔ وہ اسے القاعدہ کے آپریشنل مقاصد میں انحراف کا باعث سمجھتے تھے۔ انٹرنیٹ پر ایمن الظواہری کی جانشینی سے متعلق خبروں پر صارفین کے تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ بن لادن کے بہت سے مداح ظواہری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے، بلکہ اسے بن لادن کے راستے سے ہٹانے والا اور ایک خونریز شخص قرار دیتے تھے، جس کے لیے عام شہریوں اور مغربی فوجیوں میں کوئی فرق نہیں تھا اور جس کا بنیادی ہدف اسلامی ممالک کی حکومتوں کو ختم کرنا تھا۔[18]
اس کے باوجود، القاعدہ کی مسلح سلفی تحریکوں کی اکثریت نے اس کی بیعت کی۔ صومالیہ میں شباب المجاہدین نے ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کیا۔[19] شمالی مالی کی مسلح تحریکوں نے بھی ایک متحدہ گروپ 'جماعت نصرۃ الاسلام والمسلمین' تشکیل دے کر ایمن الظواہری کی بیعت کی۔[20]
امریکہ کے اس وقت کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے ایمن الظواہری کی جانشینی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ظواہری میں بن لادن جیسی قیادت کی خصوصیات نہیں ہیں اور نہ ہی وہ بن لادن کی طرح عسکری آپریشنز کی کمان سنبھالنے کا تجربہ رکھتا ہے۔"[21]
ایمن الظواہری کی قیادت کا خیرمقدم کرنے والا سب سے اہم گروہ 'تحریک طالبان پاکستان' تھا، جس کے ترجمان احسان اللہ احسان نے ایمن الظواہری کو ایک طاقتور فرد قرار دیا جو القاعدہ کو مغرب پر فتح کی طرف لے جا سکتا ہے۔[22]
تاہم، تمام فریقین کے لیے یہ واضح تھا کہ بن لادن کی موت سے پہلے ہی القاعدہ تنہائی اور کمزوری کا شکار ہو چکی تھی اور اس کی موت کے بعد اس زوال میں تیزی آ گئی، اور یہ کہ القاعدہ ایمن الظواہری کی موجودگی میں اپنی فعالیت کے عروج کے دور میں واپس نہیں آ سکتی۔
ایمن الظواہری کی نااہلی اور القاعدہ کی کمزوری کی ایک اہم علامت شام میں تنظیم کی شاخوں کے درمیان پیدا ہونے والا اختلاف تھا۔ جب داعش، جو ابتدائی طور پر طالبان سے ہم آہنگ تھی اور القاعدہ کا حصہ سمجھی جاتی تھی، نے جبهۃ النصره (جو شام میں سرکاری طور پر القاعدہ کی نمائندہ تھی) کے ساتھ طویل نزاع شروع کر دی۔ یہ نزاع باہمی مسلح جھڑپوں، قتل و غارت اور ایک دوسرے کے رہنماؤں کے قتل تک جا پہنچی۔
ظواہری نے بارہا آڈیو اور ویڈیو پیغامات کے ذریعے شام میں مسلح سلفی تحریکوں سے اتحاد کی اپیل کی اور داعش سے مطالبہ کیا کہ وہ عراق تک محدود رہے اور شام کو جبهۃ النصره کے حوالے کر دے۔ لیکن القاعدہ کے سربراہ کے الفاظ میں اب وہ اثر اور کشش نہ رہی تھی۔ نوبت یہاں تک آ پہنچی کہ ایمن الظواہری نے اپنے ایک بیان میں داعش کے عناصر کو 'خوارج' سے بدتر قرار دیا۔
ان سب سے اہم وہ بیان تھا جس میں ایمن الظواہری نے باضابطہ طور پر القاعدہ کو طالبان کے تابع تسلیم کیا اور دیگر تحریکوں کو بھی طالبان کی اطاعت اور تعاون کی دعوت دی۔[23]
افکار
الولاء والبراء (دوستی اور بیزاری)
تولی (دوستی) اور تبری (بیزاری) سلفی مسلح گروہوں کے فکری اصولوں میں سے ایک انتہائی اہم اصول ہے، جنھوں نے جہاد کے وجوب کی دلیلوں کو بھی اسی اصول پر استوار کیا ہے اور اس پر بہت زیادہ تاکید کرتے ہیں۔
ایمن الظواہری نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے: «الولاء والبراء عقیدہ منقولہ وواقع مفقود»؛ اس کتاب میں انھوں نے تولی اور تبری کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔
انھوں نے اسلام میں تولی اور تبری کے بنیادی ارکان کو اس طرح بیان کیا ہے:
۱- کفار کی ولایت (دوستی اور سربراہی) سے ممانعت،
۲- کفار سے بغض رکھنا اور ان سے مودت و دوستی ترک کر دینا،
۳- کفار کے ساتھ مانوس ہونے اور ان کے سامنے مسلمانوں کے راز فاش کرنے سے ممانعت،
۴- کفار کو اہم عہدے سونپنے سے ممانعت،
۵- کفار کے شعائر اور رسوم کی تعظیم کرنے اور ان کے باطل امور کی تعریف کرنے سے ممانعت،
۶- مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنے سے ممانعت،
۷- کفار کے خلاف جہاد کا حکم، اور یہ حکم اس وقت متعین (فرضِ عین) ہو جاتا ہے جب وہ اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو جائیں (اس حصے میں انھوں نے اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے خلاف بھی جہاد کو ان کے مرتد ہونے کی وجہ سے ثابت اور واضح کیا ہے)،
۸- مومنین کے ساتھ موالات (دوستی اور حمایت) کرنے اور ان کی مدد کرنے کا حکم۔[24]
اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے بارے میں نقطہ نظر
ایمن الظواہری نے اپنی جوانی کا دور اور اپنی فکری نشوونما کا زمانہ سید قطب، عبدالسلام فرج، شکری مصطفیٰ اور دیگر کے افکار کے عروج کے وقت گزارا، جو اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ "حکم بغیر ما انزل اللہ" (اللہ کے نازل کردہ احکام کے علاوہ حکومت کرنا) کی وجہ سے حکمران مرتد ہو چکے ہیں۔ اسی فکری سرچشمے سے انھوں نے استفادہ کیا ہے؛ اسی وجہ سے وہ اپنی تحریروں میں ہمیشہ حکمرانوں کے کفر اور ارتداد پر تاکید کرتے ہیں اور انھیں کفار کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔
انھوں نے اپنی کتاب «الولاء والبراء» میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کو تولی اور تبری کے اصول کے حوالے سے سب سے زیادہ منحرف گروہ قرار دیا ہے اور انھیں شریعت سے خارج ایسے افراد مانا ہے جو اسلامی سرزمینوں پر قابض ہو گئے ہیں۔[25]
انھوں نے حکمرانوں کے انحراف کو ایک مرکب انحراف قرار دیتے ہوئے لکھا ہے: وہ ایک طرف تو شریعت کے احکام پر عمل نہیں کرتے (حکم بغیر ما انزل اللہ) اور دوسری طرف دشمنانِ اسلام کی موالات (دوستی اور حمایت) کرتے ہیں اور خود کو ان کے سپرد کر دیا ہے۔[26]
اس کے علاوہ، انھوں نے اپنی کتاب «الحوار مع الطواغیت، مقبرة الدعاة» میں اسلامی حکمرانوں کی تکفیر کرتے ہوئے، ان کے کفر کا فتویٰ سلفی علماء جیسے: شنقیطی، محمد حامد الفقی، احمد شاکر، محمود شاکر اور سعودی عرب کے مفتی اعظم محمد بن ابراہیم سے نقل کیا ہے۔[27]
نیز، عرب حکمرانوں کی تکفیر کے بارے میں کتاب «الحوار مع الطواغیت مقبرة الدعوة والدعاة» میں لکھا ہے: "اما کونهم کفاراً مرتدین فلقوله تعالی: ومن لم یحکم بما أنزل اللہ فأولئک هم الکافرون" (رہا ان کا کافر و مرتد ہونا، تو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی وجہ سے ہے: "اور جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرے، تو وہی لوگ کافر ہیں")[28]۔ اور ابن قیم اور سید قطب کے افکار سے استناد کرتے ہوئے اسلامی ممالک میں موجود حکومتوں کی تکفیر کرتے ہیں اور اس کفر کی وجوہات کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
۱- الہی شریعت کے مطابق حکم نہ دینا اور الہی احکام کو بشری قوانین کے ساتھ ملانا۔
۲- الہی شریعت کو چھوٹا سمجھنا اور اس کا مذاق اڑانا، جس کی صورت یہ ہے کہ شرعی قوانین پر دیگر قوانین کو مقدم کیا جائے۔
۳- جمہوریت، جو بذاتِ خود کفر کی دلیل ہے؛ کیونکہ ابوالاعلیٰ مودودی کے قول کے مطابق، جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت ہے اور انھیں اللہ کے مقام پر بٹھانا ہے۔
۴- محرمات کو حلال سمجھنا اور شرعی حلال چیزوں کو حرام قرار دینا۔ جیسا کہ تمام علماء کے فتوے کے مطابق، فلسطین میں اسرائیل کے خلاف جہاد واجب ہے، لیکن اسلامی حکومتیں قوانین وضع کر کے اور اسرائیل کے ساتھ جنگ نہ کر کے، اللہ کے دین کے برخلاف عمل کر رہی ہیں۔[29]
ظواہری مذکورہ بالا دلائل کی بنیاد پر اسلامی ممالک میں موجود حکومتوں کے خلاف جہاد کی ضرورت پر تاکید کرتے تھے۔
وہ اپنی کتاب «الجہاد و فضل الشہادة» میں کفار کے درمیان موجود عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور یہاں تک کہ کفار کے درمیان موجود مسلمانوں کو مارنا بھی جائز قرار دیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اگر ہمارا ہدف مشرکین ہوں اور ہمیں ان کے درمیان کچھ مسلمانوں کی موجودگی کا علم بھی ہو، تب بھی ان پر حملہ کرنا جائز ہے اور مجاہد فرد پر مسلمانوں کو قتل کرنے کی وجہ سے دیت اور کفارہ بھی واجب نہیں ہوتا۔ وہ اس حکم میں بھی ابن تیمیہ کے نظریات سے استشہاد کرتے ہیں۔[30]
عدوِ قریب اور عدوِ بعید
ایمن الظواہری، اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے کفر پر اپنے عقیدے کی بنیاد پر، انھیں "عدوِ قریب" (نزدیکی دشمن) قرار دیتے تھے، جبکہ مغرب اور امریکہ کو "عدوِ بعید" (دور کا دشمن) کہتے تھے؛ اور آیت «یا أیها الذین آمنوا قاتلوا الذین یلونکم من الکفار ولیجدوا فیکم غلظة...» (اے ایمان والو! ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں اور چاہیے کہ وہ تم میں سختی پائیں)۔[31] کی بنیاد پر، حکمرانوں کے خلاف جہاد کو ایک اہم فریضہ گردانتے تھے۔
سن ۱۹۹۵ء میں مجاہدین میگزین میں، جو مصر کی تنظیمِ جہاد سے متعلق تھا، ایک مضمون شائع کیا جس کا عنوان تھا: "یروشلم (قدس) کا راستہ قاہرہ سے ہو کر گزرتا ہے"؛ اس میں دعویٰ کیا تھا کہ قدس اس وقت تک آزاد نہیں ہوگا جب تک مصر اور الجزائر میں اسلام پسندوں کی فتح نہیں ہو جاتی۔[32]
ظواہری نے ۲۰ مئی ۱۹۹۶ء کو مصر کی "جماعتِ اسلامی" پر تنقید کرتے ہوئے کہا: جماعتِ اسلامی کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ داخلی اور خارجی دشمن میں فرق کرتی ہے۔ وہ برطانیہ اور شاہ فاروق، امریکہ اور جمال عبدالناصر، اور سوویت یونین اور جمال عبدالناصر کے درمیان فرق کرتی ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں: نزدیکی دشمن کے ساتھ جنگ کو ترجیح حاصل ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے: "قاتلوا الذین یلونکم من الکفار" (ان کافروں سے لڑو جو تمہارے قریب ہیں)۔[33]
جب اخوان المسلمین کے مرشد حامد ابوالنصر (وفات ۱۹۸۶ء) نے یہ اظہار کیا کہ جہاد صرف غیر ملکی دشمن کے خلاف جائز ہے، تو ایمن الظواہری نے ان کے جواب میں کہا: "اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کافر دشمن ہمارے وطن کا ہے یا غیر ملکی اور اجنبی؛ کیونکہ اس کے خلاف جنگ کے وجوب کی وجہ اس کا کفر ہے، نہ کہ یہ کہ وہ غیر ملکی ہے یا ہم وطن۔ اس کے علاوہ، کافر اپنے کفر کی وجہ سے اپنے ہم وطن مسلمانوں سے بیگانہ ہو چکا ہے، اس قرآنی آیت کی وجہ سے جو فرماتی ہے: "قال یا نوح إنه لیس من أهلک إنه عمل غیر صالح" (اس نے کہا: اے نوح! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے، بلاشبہ یہ عمل غیر صالح ہے)۔[34] اور جو لوگ غیر ملکی اور وطنی کافر کے درمیان فرق کرتے ہیں، وہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو وطنی شراب (خمر) اور غیر ملکی شراب کے درمیان فرق کے قائل ہیں۔" وہ مزید لکھتے ہیں: ان حکمرانوں کے خلاف جہادِ عینی کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس کے واجب ہونے کے علم کے باوجود اس پر عمل کرنے سے گریز کرے، وہ گناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا ہے۔[35]
ایران اور تشیع
بن لادن اور ظواہری کے درمیان سب سے اہم اختلافات میں سے ایک ایران کے بارے میں تھا؛ کیونکہ ظواہری، ایران کے ساتھ جنگ کو القاعدہ کی سرگرمیوں میں ترجیح دیتا تھا اور ایران کو خطے پر غلبہ پانے اور اہل سنت کے درمیان تشیع کو پھیلانے کا خواہاں سمجھتا تھا۔ وہ ہمیشہ ایران اور عراقی شیعوں (آیت اللہ سیستانی) پر مغرب اور امریکیوں کے ساتھ تعاون اور تعلقات کا الزام لگاتا تھا۔ لیکن بن لادن اس کے برعکس، ایران کے بارے میں ظواہری کے ان افکار کو مسترد کرتا تھا اور ایران کے خلاف دشمنانہ مؤقف کو ناقابلِ عمل سمجھتا تھا۔[36]
ظواہری نے ایران کے بارے میں بن لادن کے مؤقف کے جواب میں کہا: مجھے اس سے کوئی سروکار نہیں ہے کہ بن لادن کے دو بیٹے (سعد اور عبداللہ) سن ۲۰۰۳ء سے ایران میں رہ رہے ہیں۔ میں ایران کو تنظیمِ القاعدہ کا فکری اور عقیدتی دشمن سمجھتا ہوں؛ کیونکہ دنیا میں تشیع کے اثر و رسوخ میں اضافہ، کمیونزم کے نفوذ سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔[37]
اس نے ۱۴۱۵ ہجری قمری میں ایک انٹرویو کے دوران ایران کے بارے میں القاعدہ تنظیم کے سرکاری مؤقف کو تفصیل اور صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔
اس انٹرویو میں ایمن الظواہری سے یہ سوال پوچھا گیا کہ: میڈیا اکثر اسلامی تحریکوں پر الزام لگاتا ہے کہ وہ ایران کی حمایت اور مدد قبول کرتی ہیں اور خاص طور پر مصر کا میڈیا انہیں ایرانِ شیعہ کی پیروی کا الزام دیتا ہے۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
اس نے جواب میں کہا: یہ تمام الزامات محض افتراء پردازی ہیں اور ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف واضح اور روشن ہے، جو عقیدتی اور علمی حقائق پر مبنی ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، ہم سلفِ صالح کے مذہب کے پابند ہیں، اور اس لیے ہمارے اور شیعوں کے درمیان واضح فرق اور خلیجیں موجود ہیں؛ کیونکہ اثنا عشری شیعہ ہمارے نزدیک بدعت پرست فرقوں میں سے ایک شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے دین میں عقیدتی بدعتیں داخل کی ہیں اور شیعوں کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ:
- وہ ابوبکر، عمر، امہات المومنین (پیغمبرِ اسلام کی بیویاں) اور صحابہ و تابعین کے کفر کے قائل ہیں اور کھلم کھلا ان پر سب و لعن کرتے ہیں۔
- وہ تحریفِ قرآن کے قائل ہیں۔
- بارہ اماموں کی عصمت کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہ کہ یہ امام اس مقام تک پہنچ گئے جہاں کوئی نبیِ مرسل یا فرشتہِ مقرب بھی نہیں پہنچا۔
- بارہویں امام کے غیبت اور رجعت کے دعوے اور اسی قسم کے دیگر عقائد۔
یہ وہ عقائد ہیں کہ اگر کوئی حجت قائم ہونے کے بعد بھی ان کا قائل رہے تو وہ مرتد ہے؛ البتہ جو شخص جاہل ہو اور ان احادیث کی بنیاد پر جنہیں وہ صحیح سمجھتا ہے ان مسائل کا قائل ہو گیا ہو، یا کوئی عامی اور جاہل شخص ہو تو وہ معذور ہے۔
ایمن الظواہری نے پھر انقلابِ اسلامی کے بعد ایران کے مؤقف کے بارے میں کہا: ایران کے انقلابی رہنماؤں نے شاہ کے خلاف انقلاب کے بعد، جو اس کے اسلام سے انحراف کی وجہ سے ہوا تھا، دعویٰ کیا کہ ان کا انقلاب اسلامی ہے نہ کہ شیعی، اور جہاں بھی مسلمان قومیں دباؤ میں ہوں گی، شیعہ اور سنی کا فرق کیے بغیر، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ لیکن حقائق نے دن بہ دن ثابت کیا کہ یہ بات محض دعویٰ تھی اور ایران کے رہنما صرف وہاں مؤقف اختیار کرتے ہیں جہاں شیعوں کا مفاد ہو، اور دوسری جگہوں پر چاہے جنگ اسلام اور کفر کے درمیان ہی کیوں نہ ہو، جہالت برتتے ہیں۔ اور اس کی مثال یہ ہے:
(ان کا ایک نمونہ) شام کے انقلاب کے بارے میں ان کا مؤقف ہے کہ انھوں نے حافظ الاسد کا ساتھ دیا اور کہا کہ اخوان المسلمین امریکہ کے کارندے (ایجنٹ) ہیں۔
افغانستان کے جہاد کے میدان میں بھی وہ صرف شیعہ گروہوں کی امداد کرتے تھے۔
پاکستان سے عرب مجاہدین کی بے دخلی کے بارے میں بھی ان کا مؤقف چشم پوشی اور بے توجہی کا تھا اور انھوں نے اس میں کوئی مداخلت نہیں کی، اور ایرانی سرزمیں پر کسی بھی عرب مجاہد کا خیر مقدم نہیں کیا۔
مصر اور الجزائر میں جہاد کے سلسلے میں ایران کی جانب سے کوئی مدد نہیں کی گئی اور مجاہدین کو طاغوتوں کے خلاف خونریز جنگ میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔
وہ ہر اس تحریک کے ساتھ تعاون کرتے ہیں جو ان کے دائرہ اثر (مدار) میں ہو، اور مختصراً ایران کے بارے میں ہمارا مؤقف یہ ہے کہ ہم ایران کے تابع نہیں ہیں۔
انھوں نے ایران کے زیرِ اثر چلنے والی جہادی تحریکوں سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا: یہ طریقہ کار آپ کے لیے فائدہ مند نہیں ہے اور ایران کی معمولی سی حمایت کے بدلے، آپ پر ایران کا کٹھ پتلی ہونے کا الزام لگے گا اور آپ اہل سنت کے درمیان اپنا احترام کھو دیں گے۔[38][39]
اخوان المسلمین مصر
ظواہری نے کتاب «الحصاد المر؛ الاخوان المسلمون فی ستین عاما» لکھ کر مصر کی جماعت اخوان المسلمین پر شدید تنقید کی ہے۔ انھوں نے سیاسی جدوجہد کے بہانے مصر کی مرتد اور ظالم حکومتوں کے ساتھ اس جماعت کے تعاون کو اسلامی احکام کے خلاف قرار دیا اور اخوان المسلمین پر جہاد کے فریضے کو کمزور کرنے اور اسے مسترد کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔[40]
مشکوک اور مبہم موت

ظواہری ۳۱ جولائی ۲۰۲۲ء کو مقامی وقت کے مطابق صبح ۶ بجے کے فوراً بعد کابل کے ایک پرتعیش محلے شیر پور میں امریکی سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کے ایک ڈرون حملے میں مارے گئے۔[41] حکومت کے ایک اعلیٰ اہلکار نے صحافیوں کو دیے گئے ایک بیان میں کہا: "امریکہ نے ہفتے کے آخر میں افغانستان میں القاعدہ کے ایک اہم ہدف کے خلاف دہشت گردی کے خلاف آپریشن کیا۔ یہ آپریشن کامیاب رہا اور اس میں کسی عام شہری کا جانی نقصان نہیں ہوا۔" امریکی محکمہ دفاع نے اس حملے کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ صدر جو بائیڈن نے آپریشن کی کامیابی کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے لیے دو دن کی تاخیر کے بعد، ۱ اگست ۲۰۲۲ء کی شام کو وائٹ ہاؤس سے اعلان کیا کہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ظواہری کی نشاندہی اس وقت کی تھی جب وہ ۲۰۲۲ء کے اوائل میں کابل کے مرکز میں منتقل ہوئے تھے، اور انھوں نے حملے سے ایک ہفتہ قبل اس کا حکم دیا تھا۔ بائیڈن نے یہ بھی کہا کہ اس آپریشن میں کوئی سویلین ہلاکت نہیں ہوئی اور ظواہری کے خاندان کے ارکان کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
ایک اور دلچسپ روایت کے مطابق: افغانستان میں طالبان کے برسراقتدار آنے کے ساتھ ہی، ایمن الظواہری نے حالات کو معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے کے لیے سازگار پایا۔ انھوں نے کابل کے وسط میں اور غیر ملکی سفارت خانوں کے قریب اپنے لیے ایک بڑا گھر تیار کیا جس کے ٹیرس (بالکونی) کو وہ کبھی کبھار تازہ ہوا کھانے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ درحقیقت، آزادی کا یہ ماحول ظواہری کی طالبان کے ساتھ بیعت کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا اور گھر کی بالکونی میں ان کا یہی ظاہر ہونا آخر کار ان کی موت کا سبب بنا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ شاخِ افریقہ (ہارن آف افریقہ) میں القاعدہ کے ۳۳ سالہ نمائندے سیف العدل خود کو القاعدہ کی قیادت سنبھالنے کے لیے تیار کر رہے ہیں۔[42]
متعلقہ موضوعات
مآخذ
- پیٹر ایل برگر: اسامہ بن لادن، ترجمہ: عباس قلی غفاری فرد، تہران: اطلاعات، پہلا ایڈیشن، ۱۳۹۰ ہجری شمسی۔
- عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب؛ اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری، لبنان: ریاض الریس، پہلا ایڈیشن، ۲۰۱۱ء۔
- عبدالرحیم علی: حلف الارھاب تنظیم القاعدہ من عبداللہ عزام الی ایمن الظواہری، قاہرہ: مرکز المحروسہ، دوسرا ایڈیشن، ۲۰۰۵ء۔
- عبدالرحیم علی: تنظیم القاعدہ عشرون عاماً.. والغزو مستمر، قاہرہ: المحروسہ، پہلا ایڈیشن، ۲۰۰۷ء۔
- فواز جرجس: القاعدہ الصعود والافول، ترجمہ: محمد شیا، بیروت: مرکز دراسات الوحدۃ العربیہ، پہلا ایڈیشن، ۲۰۱۱۲ء۔
- مصنفین کا ایک گروہ: السلفیہ؛ النشأۃ، المرتکزات، الہویہ، بیروت: معہد المعارف الحکمیہ، ۲۰۰۴ء۔
- منتصر الزیات: راہ بہ سوئے القاعدہ داستانِ مردِ دستِ راستِ بن لادن، ترجمہ: لیلیٰ رشیدی رستمی، تہران: آزاد مہر، پہلا ایڈیشن، ۱۳۸۵ ہجری شمسی۔
انٹرنیٹ سائٹس
- الجزیرہ: http://www.aljazeera.net
- رائے الیوم: http://www.raialyoum.com
- عربی ۲۱: http://arabi21.com/
حوالہ جات
- ↑ [منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 39-40؛ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3، ص 14]
- ↑ [منبع: عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3]
- ↑ [منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 40]
- ↑ [منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 109]
- ↑ منبع: عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 138-139
- ↑ [منبع: عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 29]
- ↑ پیٹر ایل برگن: اسامہ بن لادن، ص 119؛ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج 3، ص 39
- ↑ عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 31
- ↑ عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 35
- ↑ عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 36-37
- ↑ عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 149-150
- ↑ عبدالرحیم علی، حلف الارهاب، ج 3، ص 46
- ↑ عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 150
- ↑ عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ و الطبیب، ص 309
- ↑ عبدالرحمن مظهر هلوش: الشیخ و الطبیب، ص 371۔
- ↑ «القاعدة تعین قائدا مؤقتا»، الجزیرہ ویب سائٹ۔
- ↑ ماخذ مذکورہ بالا۔
- ↑ مزید ملاحظہ کریں: «الظواهری یخلف بن لادن بقیادة القاعدة» خبر کے نیچے صارفین کے تبصرے، الجزیرہ ویب سائٹ۔
- ↑ «"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔
- ↑ «اندماج جماعات جهادیة مسلحة فی الساحل بتنظیم واحد بایع أیمن الظواهری»، رأی الیوم ویب سائٹ۔
- ↑ «"الشباب" ترحب بتعیین الظواہری»، الجزیرہ ویب سائٹ۔
- ↑ «طالبان ترحب بالظواهری وأمیرکا تتوعده»، الجزیرہ ویب سائٹ۔
- ↑ «الظواهری یدعو المسلمین لبیعة طالبان ویتحدّی البغدادی»، عربی 21 ویب سائٹ۔
- ↑ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج۳، ص ۷۶-۸۵۔
- ↑ وہی حوالہ، ص ۸۷۔
- ↑ وہی حوالہ۔
- ↑ وہی حوالہ، ص ۹۴-۹۵۔
- ↑ گروہی از نویسندگان، السلفیة النشأة المرتکزات الهویة، ص ۱۲۷-۱۲۸۔
- ↑ وہی حوالہ، ص ۱۱۱-۱۱۳۔
- ↑ وہی حوالہ، ص ۱۷۳-۱۷۵۔
- ↑ توبہ (۹)، آیت ۱۲۳۔
- ↑ فواز جرجس، پیشین، ص ۴۶؛ منتصر الزیات، راه بہ سوی القاعده داستان مرد دست راست بنلادن، ص ۹۷۔
- ↑ منتصر الزیات، پیشین، ص ۹۹۔
- ↑ ظواہری سے نقل: عبدالرحیم علی، تنظیم القاعده عشون عاماً والغزو مستمر، ص ۲۱۲-۲۱۳۔
- ↑ عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔
- ↑ عبدالرحمن مظهر الهلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۳۔
- ↑ وہی حوالہ۔
- ↑ وہی حوالہ (عبدالرحیم علی: حلف الارهاب)، ج۳، ص ۳۱۵-۳۱۶۔
- ↑ عبدالرحمن مظہر الہلوش: الشیخ والطبیب، ص ۲۷۴۔
- ↑ عبدالرحیم علی: حلف الارهاب، ج۳، ص ۱۹۷-۲۹۸۔
- ↑ سایت پلیتیکو
- ↑ سایت شرق