"جبل عامل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا 6 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 6: | سطر 6: | ||
== نام کی وجہ == | == نام کی وجہ == | ||
جبلِ عامل کو عہدِ جدید میں جبلِ جلیل (عبرانی میں: دایره) کہا گیا۔ اسلامی ماخذ میں اسے جبل عاملہ یا جبل عامل کے نام سے ذکر کیا گیا ہے، جو [[یمن|یمنی]] قحطانی قبیلے بنی عاملہ سے منسوب | جبلِ عامل کو عہدِ جدید میں جبلِ جلیل (عبرانی میں: دایره) کہا گیا۔ اسلامی ماخذ میں اسے جبل عاملہ یا جبل عامل کے نام سے ذکر کیا گیا ہے، جو [[یمن|یمنی]] قحطانی قبیلے بنی عاملہ سے منسوب ہے | ||
یہ قبیلہ مشہور سدِّ مآرب کی ویرانی اور سیلِ عرم کے بعد یہاں منتقل ہوا تھا۔ بعض روایات میں اس علاقے کو ایوبی سردار محمد بن بشارہ عاملی کی نسبت سے بلادِ بشارہ یا بشارتین بھی کہا گیا | یہ قبیلہ مشہور سدِّ مآرب کی ویرانی اور سیلِ عرم کے بعد یہاں منتقل ہوا تھا۔ بعض روایات میں اس علاقے کو ایوبی سردار محمد بن بشارہ عاملی کی نسبت سے بلادِ بشارہ یا بشارتین بھی کہا گیا ہے <ref>انجیل متی، ۱۲:۴، ۱۶:۱۰؛ انجیل یوحنا، ۴۳:۴-۴۷: یعقوبی، «البلدان»، ۳۲۷؛ مقدسی، ۱۶۱-۱۶۲.</ref>. | ||
== تاریخی پس منظر == | == تاریخی پس منظر == | ||
| سطر 16: | سطر 16: | ||
اس علمی و ثقافتی اثر کے نتیجے میں مغربی اور وسطی دشتِ بقاع کے بعض حصے بھی اس علاقے کے ساتھ شامل کیے گئے، اور مشغره اور کرک شہر بھی اس دائرے میں آگئے۔ | اس علمی و ثقافتی اثر کے نتیجے میں مغربی اور وسطی دشتِ بقاع کے بعض حصے بھی اس علاقے کے ساتھ شامل کیے گئے، اور مشغره اور کرک شہر بھی اس دائرے میں آگئے۔ | ||
انہی حدود کی بنیاد پر جبلِ عامل کے علمی و فکری ارتقا اور اس کے علما کے حالات پر مشتمل معروف کتاب امل الآمل فی علماء جبل عامل ، مشہور مؤرخ شیخ حرّ عاملی نے تصنیف کی۔ | انہی حدود کی بنیاد پر جبلِ عامل کے علمی و فکری ارتقا اور اس کے علما کے حالات پر مشتمل معروف کتاب امل الآمل فی علماء جبل عامل ، مشہور مؤرخ شیخ حرّ عاملی نے تصنیف کی <ref>مهاجر، جبل عامل بین الشهیدین، ۲۰۰۵م، ص۱۹ـ۳۰.</ref>. | ||
== جغرافیۂ جبلِ عامل == | |||
لبنان کے جنوبی ساحلی اور کوہستانی علاقوں کو مجموعی طور پر جبلِ عامل کہا جاتا ہے، اگرچہ اس علاقے کی درست سرحدیں بالکل واضح نہیں۔ تقریباً یہ خطہ شمال میں صیدا کے شمال میں واقع دریائے اَوَّلی (قدیم نام: فرادیس)، جنوب میں فلسطین کے شہر نہاریہ کے شمال میں دریائے قَرْن | |||
قدیم نام: ابو فطرس / نہر فطرس)، مشرق میں دریاچۂ حُولہ (جو اردنِ کوچک کے نام سے معروف ہے) اور دریائے حاصبیہ، اور مغرب میں بحیرۂ روم تک پھیلا ہوا ہے <ref>محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۶۱ـ۶۶؛ حسن امین، ص ۳۶؛ ظاهر، ۱۴۲۳، ص ۲۳.</ref>. | |||
جبلِ عامل کی اوسط لمبائی شمال سے جنوب تک تقریباً 80 کلومیٹر اور اوسط چوڑائی مشرق سے مغرب تک تقریباً 40 کلومیٹر ہے، لہٰذا اس کا کل رقبہ تقریباً 3200 مربع کلومیٹربنتا ہے<ref>حسن امین، ص ۳۷.</ref>. | |||
لبنان کی قدیم انتظامی تقسیم میں یہ علاقہ ایک ’’محافظہ‘‘ تھا (جو آج کے ’’محافظۂ نبطیہ‘‘ سے مطابقت رکھتا ہے) <ref> اطلس لبنان و العالم، ص ۷۴ .</ref>. آج کی تقسیمات کے مطابق جبلِ عامل کا بیشتر حصہ استانِ نبطیہ اور استانِ لبنانِ جنوبی میں شامل ہے۔ | |||
جنوبِ لبنان کے شہر بنت جبیل کے مشرق میں واقع بلندیوں کو بھی جبلِ عامل کہا جاتا ہے۔ | |||
جبلِ عامل بنیادی طور پر پہاڑی اور باہم مربوط ٹیلوں سے مل کر بنا ہے، ساتھ ہی تنگ مگر زرخیز ساحلی میدان بھی اس میں شامل ہیں۔ اس خطے میں بلندی مغرب سے مشرق کی طرف بڑھتی ہے، یہاں تک کہ مشرقی حصوں کے بعض مقامات پر بلندی 1000 میٹر سے زیادہ ہے۔ | |||
جبلِ عامل میں باریک اور حاصل خیز ساحلی دشت موجود ہیں، جیسے صور، عدلون، غازیہ (مغرب میں)، مرجعیون (مشرق میں) اور رمیلہ (شمال میں)۔ | |||
متعدد دریا—جیسے لیتانی / لیطانی، زہرانی اور اوَّلی—اور بے شمار چشمے، کنویں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر یہاں کے لوگوں کو پینے اور کھیتی باڑی کا پانی فراہم کرتے ہیں ۔ | |||
مؤرخین اور جغرافیہ نگاروں نے جبلِ عامل کے آب و ہوا کو خوشگوار اور نہایت عمدہ قرار دیا ہے ۔ ساحلی علاقے میں سالانہ اوسط درجہ حرارت 20 درجۂ سینٹی گریڈ سے زیادہ، اور دیگر حصوں میں 15 تا 20 درجے رہتا ہے<ref>فقیه، ص ۲۸ـ۳۰.</ref>. | |||
بارش کی سالانہ مقدار ساحلوں میں 600 ملی میٹر سے، اور شمالی بلندیوں میں 1200 ملی میٹر تک ہوتی ہے <ref>فقیه، ص ۲۸ـ۳۰.</ref>. | |||
پانی کی فراوانی اور زمین کی زرخیزی کی وجہ سے جبلِ عامل میں مختلف قسم کی زرعی پیداوار، حبوبات، انگور، زیتون اور اعلیٰ معیار کا شہد کثرت سے پیدا ہوتا ہے <ref> دمشقی، ص ۲۷۹؛ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۵۷ـ۱۶۰.</ref>. | |||
== جبلِ عامل کے شہر اور دیہات == | |||
جبلِ عامل میں بے شمار معروف شہر اور بستیاں ہیں۔ تمام شہروں اور بستیوں کی مجموعی تعداد 365 ہے، جن میں سے 350 دیہات شمار کیے گئے ہیں<ref> ابراهیم آل سلیمان، بلدان جبل عامل: قلاعه و مدارسه و جسوره و مروجه و مطاحنه و جباله و مشاهده، ج۱، ص۵۳ ـ ۴۵۵.</ref>. | |||
اس خطے کے اہم اور مشہور ترین شہر یہ ہیں: | |||
صیدا، صور، جِزّین، نبطیہ، اسکندریہ، عدلون، بنت جبیل (جنوب میں)، تبنین، جَبَع (شمال میں)، شقیف (جنوب مشرقِ نبطیہ)، صَرفَند، عیناثا (بنت جبیل کے نزدیک)، مشغری (شمال میں)، ناقورہ (جنوب مغرب میں)، اور ہونین (جنوب میں)۔ | |||
ان میں سے کچھ شہر—جیسے صیدا، صور، اسکندریہ اور عدلون—بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہیں ہیں۔ | |||
اس علاقے میں ساحلی شمال-جنوب شاہراہ کے علاوہ تین بڑی مشرق- | |||
مغرب سڑکیں (صیدا–جزّین، صیدا–نبطیہ–مرجعیون، اور صور–بنت جبیل) یہاں کی آبادیوں کے باہمی تعلق اور آمدورفت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ | |||
جبلِ عامل میں کئی تاریخی آثار موجود ہیں، جن میں سب سے اہم قدیم شہر صیدا اور صور اور ان کے گردونواح کے آثار ہیں، جو دنیا کے قدیم ترین تاریخی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔ | |||
متعدد قلعے بھی یہاں پائے جاتے ہیں، جیسے شقیف (رومی دور)، مارون (اسلامی دور)، ہونین، تبنین، دوبیہ اور قلاویہ / قلویہ (صلیبی دور)<ref> ابراهیم آل سلیمان، بلدان جبل عامل: قلاعه و مدارسه و جسوره و مروجه و مطاحنه و جباله و مشاهده، ج۱، ص۵۳ ـ ۴۵۵.</ref>. | |||
جبلِ عامل میں چار سو سے زائد جامع مساجد، بازار اور مدارس موجود تھے، اور ان میں سے بعض نہایت معروف ہیں، جیسے نبطیہ، صور، ہونین، جبع، شقراء اور بنت جبیل کی مسجدیں، اور جبع، بنت جبیل اور نبطیہ کے بازار و مدارس | |||
1311ہجری شمسی کے اعدادوشمار کے مطابق، اس خطے کی آبادی 125,000 سے کچھ زیادہ تھی<ref>محسن امین، خطط جبل عامل، چاپ حسن امین، ص ۱۷۳ـ۱۸۶.</ref>. | |||
دو دہائی پہلے یہ تعداد 150,000 کے قریب پہنچی[۱۵]، اور 1379ش / 2000ء میں اس کا تخمینہ نصف ملین لگایا گیا | |||
موجودہ آبادی میں 90 فیصد سے زیادہ شیعہ اثنا عشری، 5 فیصد اہلِ سنت، اور 5 فیصد مسیحی مارونی ہیں۔ مارونی عیسائی 1173ء سے اس خطے کے بعض حصوں میں مقیم ہیں<ref>سلیمان ظاهر، جبل عامل فی الحرب الکونیّة، ج۱، ص۲۲.</ref>. | |||
== جبلِ عامل کے مشاہیر == | |||
یہ خطہ علمی و مذہبی لحاظ سے نہایت اہم شخصیات کا مولد رہا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں: | |||
* محقق کرکی <ref> دانشنامهٔ اسلام.</ref>. | |||
* شیخ بہائی | |||
* شہیدِ اول | |||
* شہیدِ ثانی | |||
* صاحبِ مدارک | |||
* حسن کامل صبّاح | |||
* [[سید حسن نصر اللہ|سید حسن نصراللہ]] (لبنانی سیاست دان اور حزب اللہ کے سربراہ) | |||
== جبلِ عامل — سرزمینِ شیعیان == | |||
جبلِ عامل مختلف وجوہات کی بنا پر ایک مقدس سرزمین شمار ہوتا ہے۔ ان وجوہ میں شامل ہے: | |||
یہاں بہت سے [[انبیاء|انبیاء،]] اولیاء اور بزرگان کے مزارات کا وجود، جیسے یوشع بن نون (وصی [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ]]) اور حضرت حزقیل نبی <ref> محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۷۸ـ۱۸۰.</ref>. [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ]] کا اس خطے کے مختلف حصوں سے گزرنا <ref>انجیل یوحنا، ۴: ۴۳ـ۴۷؛ انجیل متی، ۲۸: ۱۰، ۱۶.</ref>؛ اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم ﷺ]] کی وہ روایت جس میں الجلیل کو مقدس پہاڑوں میں شمار کیا گیا ہے | |||
جبلِ عامل کو شیعیان کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، اور اس کے باشندوں نے لبنان کے دیگر شہروں سے پہلے مذہبِ تشیع قبول کیا۔ اس کی بنیاد اس واقعے سے جڑی ہے جب صحابیِ بزرگ ابوذر غفاری (جندب بن جنادہ) کو سنہ ۲۴ھ میں خلیفہ [[عثمان بن عفان]] (حکومت: ۲۳–۳۵ھ) کے دور میں [[شام]] کی طرف تبعید کیا گیا۔ | |||
جب ابوذر دمشق پہنچے تو معاویہ (حکومت: ۴۱–۶۰ھ)، جو اپنے مخالفین کو شام کے ساحلی علاقوں یا جبلِ عامل کی طرف بھیج دیا کرتا تھا، اس نے ابوذر کو بھی اسی علاقے کی جانب روانہ کیا۔ | |||
ابوذر نے اس سرزمین میں خلافت اور [[علی ابن ابی طالب|حضرت علی علیہ السلام]] کے مقام و منصب کے بارے میں اپنی آراء کھل کر بیان کیں، جس کے نتیجے میں معاویہ نے انہیں دوبارہ مدینہ واپس بھیج دیا <ref>طبری، ج ۴، ص ۲۸۳؛ حرّعاملی، قسم ۱، ص ۱۳</ref>. | |||
بعض روایات کے مطابق آج بھی دو دیہات— صرفند اور میس الجبل —میں وہ مقامات موجود ہیں جہاں ابوذر نے اپنا پیغام اور تعلیمات بیان کی تھیں، اور لوگ آج بھی انہیں زیارت کے طور پر دیکھنے جاتے ہیں <ref>بنوّت، ص ۳۲ـ۳۳؛ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۸۳ ـ ۸۵.</ref>. | |||
ظاہر یہ ہوتا ہے کہ چوتھی صدی ہجری سے آگے شام اور جبلِ عامل میں شیعی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا <ref>مقدسی، ص ۱۷۹؛ ناصرخسرو، ص ۲۴؛ محمدکاظم مکی، ص ۶۲.</ref>. | |||
چھٹی تا آٹھویں صدی ہجری میں جبلِ عامل کے شیعوں کو رافضہ کہا جاتا تھا <ref>دمشقی، ص ۲۷۹؛ ابن بطوطه، ج ۱، ص ۷۹؛ قلقشندی، ت ج ۴، ص ۱۵۳ـ ۱۵۴.</ref>.گیارہویں صدی ہجری کے اواخر میں اس خطے کے شیعوں کے لیے خاص طور پر متاوِلہ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ | |||
بعض اہلِ تحقیق اس لفظ کو عبارت "مُتْ وَلِیّاً لِعلی" (علی کی ولایت پر مرو) سے ماخوذ سمجھتے ہیں، جو وقت کے ساتھ متولی اور پھر متوالی کی شکل میں بدل گیا<ref>حسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۶۷ـ ۶۸؛ محمدکاظم مکی، ص ۶۴ـ۶۶؛ فقیه، ص ۳۱؛ نیز رجوع کنید به د. اسلام، چاپ دوم.</ref>. | |||
== جبلِ عامل — سرزمینِ شیعیان == | |||
جبلِ عامل مختلف وجوہات کی بنا پر ایک مقدس سرزمین شمار ہوتا ہے۔ ان وجوہ میں شامل ہے: | |||
یہاں بہت سے [[انبیاء|انبیاء،]] اولیاء اور بزرگان کے مزارات کا وجود، جیسے یوشع بن نون (وصی [[حضرت موسی|حضرت موسیٰ]]) اور حضرت حزقیل نبی <ref> محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۷۸ـ۱۸۰.</ref>. حضرت عیسیٰ کا اس خطے کے مختلف حصوں سے گزرنا <ref>انجیل یوحنا، ۴: ۴۳ـ۴۷؛ انجیل متی، ۲۸: ۱۰، ۱۶.</ref>؛ اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسولِ اکرم ﷺ]] کی وہ روایت جس میں الجلیل کو مقدس پہاڑوں میں شمار کیا گیا ہے <ref> ابن شداد، ج ۲، قسم ۲، ص ۳۷؛ نیز رجوع کنید بهآل سلیمان، ص ۴۲ـ۴۳.</ref>. | |||
== بنت جبیل: مقاومت کی تاریخ کا ایک معجزہ == | |||
[[فائل:بنت جبیل.jpg|تصغیر|بائیں|]] | |||
بنت جبیل، جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطین ([[اسرائیل]]) کی سرحد سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی آبادی تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے<ref>تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی</ref>۔ | |||
حوزہ نیوز ایجنسی| بنت جبیل، جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سرحد سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی آبادی تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔ | |||
[[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ]] اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 45 روزہ شدید اور ہولناک جنگ کے بعد، بنت جبیل استقامت، جرات اور مزاحمت کی ایک ایسی علامت بن کر ابھرا ہے جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔ | |||
جدید ترین اسلحہ اور ایٹمی صلاحیت سے لیس صہیونی ریاست کے مقابلے میں اس چھوٹے سے شہر نے جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ | |||
یہ شہر نہ صرف جبل عامل کا دل ہے بلکہ حریت و مقاومت کا زندہ استعارہ بھی ہے۔ | |||
اس [[جنگ]] کے دوران اسرائیلی فوج کی پانچ ڈویژنز یعنی تقریباً 50 سے 75 ہزار تربیت یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوجی اس شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔ | |||
یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ طاقت کا اصل معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ ایمان، عزم اور عوامی حمایت بھی ہوتا ہے۔ | |||
آج اگر کوئی اسرائیلی قیادت کے بیانات سنے تو گمان ہوتا ہے جیسے بنت جبیل کوئی عظیم عسکری قوت یا وسیع و عریض شہر ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ | |||
اس کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی وسعت نہیں بلکہ اس کے باسیوں کا حوصلہ اور مزاحمتی شعور ہے۔ | |||
بنت جبیل نے 2006 اور 2024 کی جنگوں کے بعد ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ مزاحمت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ | |||
== جنگ کے پردے میں بے نقاب ہونے والے چہرے == | |||
بنت جبیل کی اس جنگ نے جہاں صہیونی ریاست کی عسکری طاقت کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا، وہیں وطن کے خائن عناصر اور غیر ملکی ایجنڈوں پر عمل کرنے والوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے نے نقاب کر دیا، اور ان کی اصلیت کو واضح کر دیا۔ | |||
=== 1- پہلا طبقہ: === | |||
وہ حکمران ٹولہ، جو خودمختاری، حکومت کی رٹ کے قیام، اور ملکی سالمیت و استقلال کے دعوے دار تھا۔ جب دشمن لبنان کے چپے چپے پر بمباری کر رہا تھا، ہزاروں شہری شہید ہو رہے تھے، اور تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے، | |||
جبکہ ان کے گھر اور کاروبار تباہ ہو چکے تھے اسی اثنا میں، دشمن کا مقابلہ کرنے، وطن کا دفاع کرنے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے، یہ بزدل حکمران (صدر اور وزیراعظم) امریکی سفارت خانے کی ڈکٹیشن پر عمل کر رہے تھے۔ وہ جنگ بندی سے پہلے ہی حملہ آور دشمن کے ساتھ ذلت آمیز مذاکرات میں مصروف تھے۔ | |||
مزید یہ کہ مذاکرات کی میز پر دشمن، ان پست ذہنیت بزدلوں کو مزید ذلیل کرنے کے لیے یہ تقاضا کر رہا تھا کہ پہلے تم اپنے وطن کا دفاع کرنے والی، اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والی مقاومت کو غیر مسلح کرو، اس کا اسلحہ چھینو، اور پھر اپنے ہی ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دو۔ | |||
گویا ایک طرف سے ہم تمہارے ملک پر حملہ آور ہیں، اور دوسری طرف تم اپنے ہی محافظوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔ | |||
=== 2- دوسرا طبقہ: === | |||
وہ دانشور اور صحافی، جو کبھی لبنان کی سیاسی، فکری اور ادبی اشرافیہ میں شمار کیے جاتے تھے خصوصاً وہ لوگ جو برسوں تک بائیں بازو، قوم پرستی اور آزادی کی تحریکوں کے ستون سمجھے جاتے رہے اس بحران میں اس حد تک زوال کا شکار ہوئے | |||
کہ انہوں نے مختلف تاویلات اور بہانوں کے تحت اپنے ذہن اور قلم دشمن یا اس کے آلہ کاروں کے ہاتھ فروخت کر دیے۔ | |||
اس جنگ کے نتائج کچھ بھی ہوں، بنت جبیل کے لیے یہ اعزاز ہی کافی ہے کہ اس نے آنے والی نسلوں کے لیے شجاعت، استقامت، عزت اور کرامت کی ایک روشن تاریخ رقم کر دی ہے۔ | |||
ایک مختصر جماعت، جس کی تعداد چند سو افراد پر مشتمل تھی، اس نے چاروں طرف سے دشمن کے محاصرے، اور مسلسل فضائی و زمینی حملوں کے باوجود اپنی مقاومت اور مزاحمت کو جاری رکھا، اور ثابت قدمی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔ | |||
== بنت جبیل پر قبضے کی خواہش: بنیادی اسباب == | |||
بنت جبیل نتن یاہو اور اسرائیل کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے تین اہم اسباب درج ذیل ہیں: | |||
=== 1- بنت جبیل کی معنوی حیثیت: === | |||
جب حزب اللہ اور لبنانی مقاومت کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے، 25 مئی 2000 کو اسرائیل نے لبنان سے مکمل انخلا کیا اور لبنان آزاد ہوا، تو اسی شہر کے اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے سید شہدائے مقاومت، علامہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا۔ | |||
اس خطاب میں انہوں نے اسرائیل کے بارے میں ایک مشہور جملہ کہا: | |||
"یہ اسرائیل مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور ہے۔" | |||
یہ جملہ نتن یاہو اور اسرائیلی قیادت کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے، اور وہ اسے بار بار یاد کرتے ہیں۔ وہ مسلسل جنگوں کے ذریعے دنیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اسرائیل ایک ناقابلِ شکست طاقت ہے، | |||
لیکن سید مقاومت نے ان کے بارڈر پر کھڑے ہو کر دنیا کو بتا دیا کہ یہ درحقیقت مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ | |||
اسی لیے جولائی 2025 کی جنگ میں اسرائیل نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اس شہر پر قبضہ کر لے، لیکن وہ تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود ناکام رہا۔ | |||
پھر 2024 کی جنگ میں بھی اس نے پوری قوت صرف کی، لیکن ایک بار پھر ناکامی اس کا مقدر بنی۔ | |||
ابھی چند دن پہلے نتن یاہو اسرائیلی ٹی وی پر یہ دکھا رہا تھا کہ وہ اسٹیڈیم، جہاں سید مقاومت نے خطاب کیا تھا اور یہ جملہ کہا تھا کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، ہم نے اسے تباہ کر دیا ہے، اور وہ اس کو فتح کے طور پر پیش کر رہا تھا؛ لیکن اس کا یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔ | |||
جنگ بندی کا اعلان ہو گیا، مگر اس کی تقریباً 60 سے 70 ہزار فوج، اپنے ٹینکوں، توپوں اور شدید میزائل بمباری کے باوجود، اس شہر پر قبضہ نہ کر سکی۔ | |||
اس شہر کے ہر گھر اور ہر اپارٹمنٹ میں اسرائیلی پیش قدمی کے سامنے اسے ایک کمین گاہ محسوس ہوتی ہے۔ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل محاصرے میں زندگی بسر کرنے والے خدا کے پراسرار مجاہد، دشمن کے ہر حملے اور پیش قدمی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔ | |||
بنت جبیل نے صحیح معنوں میں ثابت کر دیا ہے کہ "اسرائیل" مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، اور یہ تاریخ کا ایک ایسا معجزہ ہے جو مسلسل مہذب مزاحمت کے اس کلچر کو فروغ دیتا ہے، جو کسی قابض کو تسلیم نہیں کرتا اور ہتھیار نہیں ڈالتا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی عظیم قربانیاں کیوں نہ دینی پڑ جائیں۔ | |||
=== 2- بنت جبیل: علاقے کا مرکزی اور بڑا شہر === | |||
جنوبی لبنان کے اس علاقے میں بنت جبیل ایک بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔ اسے اجتماعی، اقتصادی اور دیگر اعتبارات سے پورے خطے میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ | |||
یہاں حزب اللہ کے پاس ہیومن ریسورسز کا ایک اہم مرکز موجود ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ مقاومت کا نیٹ ورک اسی شہر سے تمام سرحدی علاقوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرتا ہے، اسی لیے وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ | |||
=== 3- بنت جبیل کی جغرافیائی حیثیت: === | |||
یہ شہر علاقے کا سب سے بلند مقام ہے اور تقریباً 700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنا فوجی اعتبار سے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہاں سے چاروں اطراف کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ | |||
دشمن کا خیال ہے کہ حزب اللہ کے دفاعی ٹنلز اور مورچے اسی کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔ اس شہر کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث دشمن مسلسل اس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔ | |||
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی درندگی اور جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ | |||
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی پاش پاش کر دیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے۔ | |||
== اختتامیہ == | |||
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی جارحیت اور درندگی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔ | |||
حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں یہ حقیقت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ تمام تر عسکری دباؤ، جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر جارحیت کے باوجود دشمن اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مقاومت نے اپنے مؤقف، اپنی موجودگی اور اپنے مزاحمتی وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدمی اور حکمت عملی کی ایک واضح فتح کا اظہار کیا۔ | |||
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کے دعووں کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی زمین بوس کیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، | |||
مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے اور حالیہ جنگ بندی اس حقیقت کی ایک عملی توثیق ہے کہ مقاومت اپنی جگہ قائم ہے اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم اور فتح مند ہے۔ مقاومت کی قیادت، مجاہدین اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کو مقاومت کی یہ فتح مبارک ہو<ref>[https://ur.hawzahnews.com/news/416497/%D8%A8%D9%86%D8%AA-%D8%AC%D8%A8%DB%8C%D9%84-%D9%85%D9%82%D8%A7%D9%88%D9%85%D8%AA-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE-%DA%A9%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%DA%A9-%D9%85%D8%B9%D8%AC%D8%B2%DB%81 بنت جبیل: مقاومت کی تاریخ کا ایک معجزہ]- شائع شدہ از: 17 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 اپریل 2026ء</ref>۔ | |||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
* [[لبنان]] | |||
* [[ حزب اللہ لبنان]] | |||
* [[ سید حسن نصر اللہ ]] | |||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ: مکانات]] | |||
[[زمرہ: اسلامی شهریں ]] | |||
[[زمرہ: لبنان]] | |||
[[fa:جبل عامل]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 18:20، 24 اپريل 2026ء

جبل عامل لبنان کے جنوبی ساحلی اور کوہستانی علاقوں کا نام ہے۔ یہ علاقہ شمال میں صیدا کے شمال میں واقع دریائے اَوَّلی (جسے قدیم زمانے میں فرادیس کہا جاتا تھا)، جنوب میں شہر نَہاریہ (فلسطین) کے شمال میں دریائے قَرن (قدیم نام: ابو فطرس یا نهر فطرس)، مشرق میں حاصبیہ کے نزدیک دریائے اردنِ کوچک (دریاچۂ حولہ) اور مغرب میں بحیرۂ روم تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کا نام ایک قدیم قبیلہ عامِلہ سے منسوب ہے جو شمال مغربی جزیرۂ عرب میں رہتا تھا۔ اسلامی فتوحات کے دوران یہ لوگ بحرِ مردار (بحر المیت) کے جنوب و مشرق کی سمت ہجرت کر گئے، پھر جلیلِ علیا کے علاقے میں مقیم ہوئے، اور آخرکار پانچویں صدی ہجری میں جنوبی لبنان میں آباد ہو گئے۔ جبلِ عامل قدیم زمانے سے ایک شیعہ علاقہ رہا ہے اور یہاں سے بہت سے علما اور دانشور پیدا ہوئے۔ لبنان کے دیگر شہروں کے مقابلے میں یہاں کے باشندے سب سے پہلے مذہبِ تشیّع کو قبول کرنے والوں میں سے ہیں۔ دسویں اور گیارہویں صدی ہجری کے دوران، ایک طرف سلطنتِ عثمانیہ کے دباؤ اور دوسری طرف صفوی سلطنت کی علمی و مذہبی دعوت کی وجہ سے جبلِ عامل کے بہت سے علما ایران ہجرت کر گئے۔ صفوی بادشاہوں کی ترغیب پر ان میں سے کئی جلیل القدر علما ایران آئے۔ انہی میں مشہور عالم شیخ بہائی (اصلی نام: بہاءالدین عاملی) بھی شامل تھے، جو جبلِ عامل کے مشہور فرزندوں میں سے ہیں۔
نام کی وجہ
جبلِ عامل کو عہدِ جدید میں جبلِ جلیل (عبرانی میں: دایره) کہا گیا۔ اسلامی ماخذ میں اسے جبل عاملہ یا جبل عامل کے نام سے ذکر کیا گیا ہے، جو یمنی قحطانی قبیلے بنی عاملہ سے منسوب ہے
یہ قبیلہ مشہور سدِّ مآرب کی ویرانی اور سیلِ عرم کے بعد یہاں منتقل ہوا تھا۔ بعض روایات میں اس علاقے کو ایوبی سردار محمد بن بشارہ عاملی کی نسبت سے بلادِ بشارہ یا بشارتین بھی کہا گیا ہے [1].
تاریخی پس منظر
عہدِ ممالیک میں نظامِ روك (روک) کے نفاذ کے تحت جبلِ عامل کا علاقہ سُور (صور) اور نبطیہ دو شہروں تک محدود ہو گیا۔ بعد ازاں شیعہ علمی تحریک کے عروج کے نتیجے میں اہلِ جبلِ عامل کے درمیان فکری و مذہبی اتحاد پیدا ہوا، جس سے یہ علاقہ ایک خاص ثقافتی مرکز بن گیا۔
اس علمی و ثقافتی اثر کے نتیجے میں مغربی اور وسطی دشتِ بقاع کے بعض حصے بھی اس علاقے کے ساتھ شامل کیے گئے، اور مشغره اور کرک شہر بھی اس دائرے میں آگئے۔
انہی حدود کی بنیاد پر جبلِ عامل کے علمی و فکری ارتقا اور اس کے علما کے حالات پر مشتمل معروف کتاب امل الآمل فی علماء جبل عامل ، مشہور مؤرخ شیخ حرّ عاملی نے تصنیف کی [2].
جغرافیۂ جبلِ عامل
لبنان کے جنوبی ساحلی اور کوہستانی علاقوں کو مجموعی طور پر جبلِ عامل کہا جاتا ہے، اگرچہ اس علاقے کی درست سرحدیں بالکل واضح نہیں۔ تقریباً یہ خطہ شمال میں صیدا کے شمال میں واقع دریائے اَوَّلی (قدیم نام: فرادیس)، جنوب میں فلسطین کے شہر نہاریہ کے شمال میں دریائے قَرْن
قدیم نام: ابو فطرس / نہر فطرس)، مشرق میں دریاچۂ حُولہ (جو اردنِ کوچک کے نام سے معروف ہے) اور دریائے حاصبیہ، اور مغرب میں بحیرۂ روم تک پھیلا ہوا ہے [3].
جبلِ عامل کی اوسط لمبائی شمال سے جنوب تک تقریباً 80 کلومیٹر اور اوسط چوڑائی مشرق سے مغرب تک تقریباً 40 کلومیٹر ہے، لہٰذا اس کا کل رقبہ تقریباً 3200 مربع کلومیٹربنتا ہے[4].
لبنان کی قدیم انتظامی تقسیم میں یہ علاقہ ایک ’’محافظہ‘‘ تھا (جو آج کے ’’محافظۂ نبطیہ‘‘ سے مطابقت رکھتا ہے) [5]. آج کی تقسیمات کے مطابق جبلِ عامل کا بیشتر حصہ استانِ نبطیہ اور استانِ لبنانِ جنوبی میں شامل ہے۔
جنوبِ لبنان کے شہر بنت جبیل کے مشرق میں واقع بلندیوں کو بھی جبلِ عامل کہا جاتا ہے۔
جبلِ عامل بنیادی طور پر پہاڑی اور باہم مربوط ٹیلوں سے مل کر بنا ہے، ساتھ ہی تنگ مگر زرخیز ساحلی میدان بھی اس میں شامل ہیں۔ اس خطے میں بلندی مغرب سے مشرق کی طرف بڑھتی ہے، یہاں تک کہ مشرقی حصوں کے بعض مقامات پر بلندی 1000 میٹر سے زیادہ ہے۔
جبلِ عامل میں باریک اور حاصل خیز ساحلی دشت موجود ہیں، جیسے صور، عدلون، غازیہ (مغرب میں)، مرجعیون (مشرق میں) اور رمیلہ (شمال میں)۔
متعدد دریا—جیسے لیتانی / لیطانی، زہرانی اور اوَّلی—اور بے شمار چشمے، کنویں اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر یہاں کے لوگوں کو پینے اور کھیتی باڑی کا پانی فراہم کرتے ہیں ۔
مؤرخین اور جغرافیہ نگاروں نے جبلِ عامل کے آب و ہوا کو خوشگوار اور نہایت عمدہ قرار دیا ہے ۔ ساحلی علاقے میں سالانہ اوسط درجہ حرارت 20 درجۂ سینٹی گریڈ سے زیادہ، اور دیگر حصوں میں 15 تا 20 درجے رہتا ہے[6].
بارش کی سالانہ مقدار ساحلوں میں 600 ملی میٹر سے، اور شمالی بلندیوں میں 1200 ملی میٹر تک ہوتی ہے [7].
پانی کی فراوانی اور زمین کی زرخیزی کی وجہ سے جبلِ عامل میں مختلف قسم کی زرعی پیداوار، حبوبات، انگور، زیتون اور اعلیٰ معیار کا شہد کثرت سے پیدا ہوتا ہے [8].
جبلِ عامل کے شہر اور دیہات
جبلِ عامل میں بے شمار معروف شہر اور بستیاں ہیں۔ تمام شہروں اور بستیوں کی مجموعی تعداد 365 ہے، جن میں سے 350 دیہات شمار کیے گئے ہیں[9].
اس خطے کے اہم اور مشہور ترین شہر یہ ہیں: صیدا، صور، جِزّین، نبطیہ، اسکندریہ، عدلون، بنت جبیل (جنوب میں)، تبنین، جَبَع (شمال میں)، شقیف (جنوب مشرقِ نبطیہ)، صَرفَند، عیناثا (بنت جبیل کے نزدیک)، مشغری (شمال میں)، ناقورہ (جنوب مغرب میں)، اور ہونین (جنوب میں)۔
ان میں سے کچھ شہر—جیسے صیدا، صور، اسکندریہ اور عدلون—بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہیں ہیں۔ اس علاقے میں ساحلی شمال-جنوب شاہراہ کے علاوہ تین بڑی مشرق-
مغرب سڑکیں (صیدا–جزّین، صیدا–نبطیہ–مرجعیون، اور صور–بنت جبیل) یہاں کی آبادیوں کے باہمی تعلق اور آمدورفت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
جبلِ عامل میں کئی تاریخی آثار موجود ہیں، جن میں سب سے اہم قدیم شہر صیدا اور صور اور ان کے گردونواح کے آثار ہیں، جو دنیا کے قدیم ترین تاریخی مقامات میں شمار ہوتے ہیں۔
متعدد قلعے بھی یہاں پائے جاتے ہیں، جیسے شقیف (رومی دور)، مارون (اسلامی دور)، ہونین، تبنین، دوبیہ اور قلاویہ / قلویہ (صلیبی دور)[10].
جبلِ عامل میں چار سو سے زائد جامع مساجد، بازار اور مدارس موجود تھے، اور ان میں سے بعض نہایت معروف ہیں، جیسے نبطیہ، صور، ہونین، جبع، شقراء اور بنت جبیل کی مسجدیں، اور جبع، بنت جبیل اور نبطیہ کے بازار و مدارس
1311ہجری شمسی کے اعدادوشمار کے مطابق، اس خطے کی آبادی 125,000 سے کچھ زیادہ تھی[11].
دو دہائی پہلے یہ تعداد 150,000 کے قریب پہنچی[۱۵]، اور 1379ش / 2000ء میں اس کا تخمینہ نصف ملین لگایا گیا
موجودہ آبادی میں 90 فیصد سے زیادہ شیعہ اثنا عشری، 5 فیصد اہلِ سنت، اور 5 فیصد مسیحی مارونی ہیں۔ مارونی عیسائی 1173ء سے اس خطے کے بعض حصوں میں مقیم ہیں[12].
جبلِ عامل کے مشاہیر
یہ خطہ علمی و مذہبی لحاظ سے نہایت اہم شخصیات کا مولد رہا ہے، جن میں سے چند یہ ہیں:
- محقق کرکی [13].
- شیخ بہائی
- شہیدِ اول
- شہیدِ ثانی
- صاحبِ مدارک
- حسن کامل صبّاح
- سید حسن نصراللہ (لبنانی سیاست دان اور حزب اللہ کے سربراہ)
جبلِ عامل — سرزمینِ شیعیان
جبلِ عامل مختلف وجوہات کی بنا پر ایک مقدس سرزمین شمار ہوتا ہے۔ ان وجوہ میں شامل ہے:
یہاں بہت سے انبیاء، اولیاء اور بزرگان کے مزارات کا وجود، جیسے یوشع بن نون (وصی حضرت موسیٰ) اور حضرت حزقیل نبی [14]. حضرت عیسیٰ کا اس خطے کے مختلف حصوں سے گزرنا [15]؛ اور رسولِ اکرم ﷺ کی وہ روایت جس میں الجلیل کو مقدس پہاڑوں میں شمار کیا گیا ہے
جبلِ عامل کو شیعیان کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے، اور اس کے باشندوں نے لبنان کے دیگر شہروں سے پہلے مذہبِ تشیع قبول کیا۔ اس کی بنیاد اس واقعے سے جڑی ہے جب صحابیِ بزرگ ابوذر غفاری (جندب بن جنادہ) کو سنہ ۲۴ھ میں خلیفہ عثمان بن عفان (حکومت: ۲۳–۳۵ھ) کے دور میں شام کی طرف تبعید کیا گیا۔
جب ابوذر دمشق پہنچے تو معاویہ (حکومت: ۴۱–۶۰ھ)، جو اپنے مخالفین کو شام کے ساحلی علاقوں یا جبلِ عامل کی طرف بھیج دیا کرتا تھا، اس نے ابوذر کو بھی اسی علاقے کی جانب روانہ کیا۔
ابوذر نے اس سرزمین میں خلافت اور حضرت علی علیہ السلام کے مقام و منصب کے بارے میں اپنی آراء کھل کر بیان کیں، جس کے نتیجے میں معاویہ نے انہیں دوبارہ مدینہ واپس بھیج دیا [16].
بعض روایات کے مطابق آج بھی دو دیہات— صرفند اور میس الجبل —میں وہ مقامات موجود ہیں جہاں ابوذر نے اپنا پیغام اور تعلیمات بیان کی تھیں، اور لوگ آج بھی انہیں زیارت کے طور پر دیکھنے جاتے ہیں [17].
ظاہر یہ ہوتا ہے کہ چوتھی صدی ہجری سے آگے شام اور جبلِ عامل میں شیعی آبادی میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا [18].
چھٹی تا آٹھویں صدی ہجری میں جبلِ عامل کے شیعوں کو رافضہ کہا جاتا تھا [19].گیارہویں صدی ہجری کے اواخر میں اس خطے کے شیعوں کے لیے خاص طور پر متاوِلہ کا لفظ استعمال ہونے لگا۔
بعض اہلِ تحقیق اس لفظ کو عبارت "مُتْ وَلِیّاً لِعلی" (علی کی ولایت پر مرو) سے ماخوذ سمجھتے ہیں، جو وقت کے ساتھ متولی اور پھر متوالی کی شکل میں بدل گیا[20].
جبلِ عامل — سرزمینِ شیعیان
جبلِ عامل مختلف وجوہات کی بنا پر ایک مقدس سرزمین شمار ہوتا ہے۔ ان وجوہ میں شامل ہے:
یہاں بہت سے انبیاء، اولیاء اور بزرگان کے مزارات کا وجود، جیسے یوشع بن نون (وصی حضرت موسیٰ) اور حضرت حزقیل نبی [21]. حضرت عیسیٰ کا اس خطے کے مختلف حصوں سے گزرنا [22]؛ اور رسولِ اکرم ﷺ کی وہ روایت جس میں الجلیل کو مقدس پہاڑوں میں شمار کیا گیا ہے [23].
بنت جبیل: مقاومت کی تاریخ کا ایک معجزہ

بنت جبیل، جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سرحد سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی آبادی تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے[24]۔
حوزہ نیوز ایجنسی| بنت جبیل، جنوبی لبنان میں مقبوضہ فلسطین (اسرائیل) کی سرحد سے تقریباً ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹا مگر غیر معمولی اہمیت کا حامل شہر ہے، جس کی آبادی تقریباً 20 سے 25 ہزار افراد پر مشتمل ہے۔
حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی 45 روزہ شدید اور ہولناک جنگ کے بعد، بنت جبیل استقامت، جرات اور مزاحمت کی ایک ایسی علامت بن کر ابھرا ہے جس نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا۔
جدید ترین اسلحہ اور ایٹمی صلاحیت سے لیس صہیونی ریاست کے مقابلے میں اس چھوٹے سے شہر نے جس عزم و استقلال کا مظاہرہ کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے۔
یہ شہر نہ صرف جبل عامل کا دل ہے بلکہ حریت و مقاومت کا زندہ استعارہ بھی ہے۔ اس جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی پانچ ڈویژنز یعنی تقریباً 50 سے 75 ہزار تربیت یافتہ اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس فوجی اس شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہے۔
یہ حقیقت اس امر کی غماز ہے کہ طاقت کا اصل معیار صرف اسلحہ نہیں بلکہ ایمان، عزم اور عوامی حمایت بھی ہوتا ہے۔ آج اگر کوئی اسرائیلی قیادت کے بیانات سنے تو گمان ہوتا ہے جیسے بنت جبیل کوئی عظیم عسکری قوت یا وسیع و عریض شہر ہو، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس کی اصل طاقت اس کی جغرافیائی وسعت نہیں بلکہ اس کے باسیوں کا حوصلہ اور مزاحمتی شعور ہے۔
بنت جبیل نے 2006 اور 2024 کی جنگوں کے بعد ایک بار پھر تاریخ رقم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ مزاحمت محض ایک نعرہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔
جنگ کے پردے میں بے نقاب ہونے والے چہرے
بنت جبیل کی اس جنگ نے جہاں صہیونی ریاست کی عسکری طاقت کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا، وہیں وطن کے خائن عناصر اور غیر ملکی ایجنڈوں پر عمل کرنے والوں کو بھی پوری دنیا کے سامنے نے نقاب کر دیا، اور ان کی اصلیت کو واضح کر دیا۔
1- پہلا طبقہ:
وہ حکمران ٹولہ، جو خودمختاری، حکومت کی رٹ کے قیام، اور ملکی سالمیت و استقلال کے دعوے دار تھا۔ جب دشمن لبنان کے چپے چپے پر بمباری کر رہا تھا، ہزاروں شہری شہید ہو رہے تھے، اور تقریباً 12 لاکھ افراد اپنے ہی ملک میں مہاجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے،
جبکہ ان کے گھر اور کاروبار تباہ ہو چکے تھے اسی اثنا میں، دشمن کا مقابلہ کرنے، وطن کا دفاع کرنے اور عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے بجائے، یہ بزدل حکمران (صدر اور وزیراعظم) امریکی سفارت خانے کی ڈکٹیشن پر عمل کر رہے تھے۔ وہ جنگ بندی سے پہلے ہی حملہ آور دشمن کے ساتھ ذلت آمیز مذاکرات میں مصروف تھے۔
مزید یہ کہ مذاکرات کی میز پر دشمن، ان پست ذہنیت بزدلوں کو مزید ذلیل کرنے کے لیے یہ تقاضا کر رہا تھا کہ پہلے تم اپنے وطن کا دفاع کرنے والی، اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے والی مقاومت کو غیر مسلح کرو، اس کا اسلحہ چھینو، اور پھر اپنے ہی ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دو۔
گویا ایک طرف سے ہم تمہارے ملک پر حملہ آور ہیں، اور دوسری طرف تم اپنے ہی محافظوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو جاؤ۔
2- دوسرا طبقہ:
وہ دانشور اور صحافی، جو کبھی لبنان کی سیاسی، فکری اور ادبی اشرافیہ میں شمار کیے جاتے تھے خصوصاً وہ لوگ جو برسوں تک بائیں بازو، قوم پرستی اور آزادی کی تحریکوں کے ستون سمجھے جاتے رہے اس بحران میں اس حد تک زوال کا شکار ہوئے
کہ انہوں نے مختلف تاویلات اور بہانوں کے تحت اپنے ذہن اور قلم دشمن یا اس کے آلہ کاروں کے ہاتھ فروخت کر دیے۔
اس جنگ کے نتائج کچھ بھی ہوں، بنت جبیل کے لیے یہ اعزاز ہی کافی ہے کہ اس نے آنے والی نسلوں کے لیے شجاعت، استقامت، عزت اور کرامت کی ایک روشن تاریخ رقم کر دی ہے۔
ایک مختصر جماعت، جس کی تعداد چند سو افراد پر مشتمل تھی، اس نے چاروں طرف سے دشمن کے محاصرے، اور مسلسل فضائی و زمینی حملوں کے باوجود اپنی مقاومت اور مزاحمت کو جاری رکھا، اور ثابت قدمی کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
بنت جبیل پر قبضے کی خواہش: بنیادی اسباب
بنت جبیل نتن یاہو اور اسرائیل کے لیے ایک چیلنج بن چکا ہے۔ اس کے تین اہم اسباب درج ذیل ہیں:
1- بنت جبیل کی معنوی حیثیت:
جب حزب اللہ اور لبنانی مقاومت کے حملوں کی تاب نہ لاتے ہوئے، 25 مئی 2000 کو اسرائیل نے لبنان سے مکمل انخلا کیا اور لبنان آزاد ہوا، تو اسی شہر کے اسٹیڈیم میں ایک بہت بڑے عوامی اجتماع سے سید شہدائے مقاومت، علامہ سید حسن نصر اللہ نے خطاب کیا۔
اس خطاب میں انہوں نے اسرائیل کے بارے میں ایک مشہور جملہ کہا: "یہ اسرائیل مکڑی کے جال سے بھی زیادہ کمزور ہے۔"
یہ جملہ نتن یاہو اور اسرائیلی قیادت کے لیے ایک مستقل چیلنج بن چکا ہے، اور وہ اسے بار بار یاد کرتے ہیں۔ وہ مسلسل جنگوں کے ذریعے دنیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے کہ اسرائیل ایک ناقابلِ شکست طاقت ہے،
لیکن سید مقاومت نے ان کے بارڈر پر کھڑے ہو کر دنیا کو بتا دیا کہ یہ درحقیقت مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔
اسی لیے جولائی 2025 کی جنگ میں اسرائیل نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ وہ اس شہر پر قبضہ کر لے، لیکن وہ تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود ناکام رہا۔
پھر 2024 کی جنگ میں بھی اس نے پوری قوت صرف کی، لیکن ایک بار پھر ناکامی اس کا مقدر بنی۔
ابھی چند دن پہلے نتن یاہو اسرائیلی ٹی وی پر یہ دکھا رہا تھا کہ وہ اسٹیڈیم، جہاں سید مقاومت نے خطاب کیا تھا اور یہ جملہ کہا تھا کہ اسرائیل مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، ہم نے اسے تباہ کر دیا ہے، اور وہ اس کو فتح کے طور پر پیش کر رہا تھا؛ لیکن اس کا یہ خواب بھی پورا نہ ہو سکا۔
جنگ بندی کا اعلان ہو گیا، مگر اس کی تقریباً 60 سے 70 ہزار فوج، اپنے ٹینکوں، توپوں اور شدید میزائل بمباری کے باوجود، اس شہر پر قبضہ نہ کر سکی۔
اس شہر کے ہر گھر اور ہر اپارٹمنٹ میں اسرائیلی پیش قدمی کے سامنے اسے ایک کمین گاہ محسوس ہوتی ہے۔ ڈیڑھ ماہ سے مسلسل محاصرے میں زندگی بسر کرنے والے خدا کے پراسرار مجاہد، دشمن کے ہر حملے اور پیش قدمی کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں۔
بنت جبیل نے صحیح معنوں میں ثابت کر دیا ہے کہ "اسرائیل" مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے، اور یہ تاریخ کا ایک ایسا معجزہ ہے جو مسلسل مہذب مزاحمت کے اس کلچر کو فروغ دیتا ہے، جو کسی قابض کو تسلیم نہیں کرتا اور ہتھیار نہیں ڈالتا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی عظیم قربانیاں کیوں نہ دینی پڑ جائیں۔
2- بنت جبیل: علاقے کا مرکزی اور بڑا شہر
جنوبی لبنان کے اس علاقے میں بنت جبیل ایک بڑا شہر شمار ہوتا ہے۔ اسے اجتماعی، اقتصادی اور دیگر اعتبارات سے پورے خطے میں ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
یہاں حزب اللہ کے پاس ہیومن ریسورسز کا ایک اہم مرکز موجود ہے۔ دشمن سمجھتا ہے کہ مقاومت کا نیٹ ورک اسی شہر سے تمام سرحدی علاقوں اور دیہاتوں کو کنٹرول کرتا ہے، اسی لیے وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
3- بنت جبیل کی جغرافیائی حیثیت:
یہ شہر علاقے کا سب سے بلند مقام ہے اور تقریباً 700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔ اس شہر پر کنٹرول حاصل کرنا فوجی اعتبار سے نہایت اہم ہے، کیونکہ یہاں سے چاروں اطراف کی نقل و حرکت کو مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
دشمن کا خیال ہے کہ حزب اللہ کے دفاعی ٹنلز اور مورچے اسی کے پہاڑی علاقوں میں موجود ہیں۔ اس شہر کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت کے باعث دشمن مسلسل اس پر قبضہ کرنے کے خواب دیکھتا رہتا ہے۔
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی درندگی اور جارحیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی پاش پاش کر دیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے۔
اختتامیہ
بنت جبیل اب صرف ایک شہر نہیں رہا، بلکہ حزب اللہ اور لبنان کی مقاومت کا ایک جیتا جاگتا استعارہ بن چکا ہے۔ یہ اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب قوم اپنے دفاع، عزت اور آزادی کے لیے اٹھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ محدود وسائل کے باوجود بھی صہیونی جارحیت اور درندگی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاتی ہے۔
حالیہ جنگ بندی کے تناظر میں یہ حقیقت مزید نمایاں ہو کر سامنے آئی ہے کہ تمام تر عسکری دباؤ، جدید ترین ٹیکنالوجی اور وسیع پیمانے پر جارحیت کے باوجود دشمن اپنے بنیادی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا، جبکہ مقاومت نے اپنے مؤقف، اپنی موجودگی اور اپنے مزاحمتی وجود کو برقرار رکھتے ہوئے ثابت قدمی اور حکمت عملی کی ایک واضح فتح کا اظہار کیا۔
یہ شہر اس مزاحمتی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس نے نہ صرف دشمن کی عسکری برتری کے دعووں کو چیلنج کیا بلکہ اس کے غرور کو بھی زمین بوس کیا۔ بنت جبیل نے تاریخ میں یہ پیغام ثبت کر دیا ہے کہ ظلم چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو،
مزاحمت اگر ایمان، بصیرت اور استقامت کے ساتھ ہو تو وہ خود ایک ناقابلِ شکست قوت بن جاتی ہے اور حالیہ جنگ بندی اس حقیقت کی ایک عملی توثیق ہے کہ مقاومت اپنی جگہ قائم ہے اور اپنے اصولوں پر ثابت قدم اور فتح مند ہے۔ مقاومت کی قیادت، مجاہدین اور پوری دنیا کے حریت پسندوں کو مقاومت کی یہ فتح مبارک ہو[25]۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ انجیل متی، ۱۲:۴، ۱۶:۱۰؛ انجیل یوحنا، ۴۳:۴-۴۷: یعقوبی، «البلدان»، ۳۲۷؛ مقدسی، ۱۶۱-۱۶۲.
- ↑ مهاجر، جبل عامل بین الشهیدین، ۲۰۰۵م، ص۱۹ـ۳۰.
- ↑ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۶۱ـ۶۶؛ حسن امین، ص ۳۶؛ ظاهر، ۱۴۲۳، ص ۲۳.
- ↑ حسن امین، ص ۳۷.
- ↑ اطلس لبنان و العالم، ص ۷۴ .
- ↑ فقیه، ص ۲۸ـ۳۰.
- ↑ فقیه، ص ۲۸ـ۳۰.
- ↑ دمشقی، ص ۲۷۹؛ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۵۷ـ۱۶۰.
- ↑ ابراهیم آل سلیمان، بلدان جبل عامل: قلاعه و مدارسه و جسوره و مروجه و مطاحنه و جباله و مشاهده، ج۱، ص۵۳ ـ ۴۵۵.
- ↑ ابراهیم آل سلیمان، بلدان جبل عامل: قلاعه و مدارسه و جسوره و مروجه و مطاحنه و جباله و مشاهده، ج۱، ص۵۳ ـ ۴۵۵.
- ↑ محسن امین، خطط جبل عامل، چاپ حسن امین، ص ۱۷۳ـ۱۸۶.
- ↑ سلیمان ظاهر، جبل عامل فی الحرب الکونیّة، ج۱، ص۲۲.
- ↑ دانشنامهٔ اسلام.
- ↑ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۷۸ـ۱۸۰.
- ↑ انجیل یوحنا، ۴: ۴۳ـ۴۷؛ انجیل متی، ۲۸: ۱۰، ۱۶.
- ↑ طبری، ج ۴، ص ۲۸۳؛ حرّعاملی، قسم ۱، ص ۱۳
- ↑ بنوّت، ص ۳۲ـ۳۳؛ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۸۳ ـ ۸۵.
- ↑ مقدسی، ص ۱۷۹؛ ناصرخسرو، ص ۲۴؛ محمدکاظم مکی، ص ۶۲.
- ↑ دمشقی، ص ۲۷۹؛ ابن بطوطه، ج ۱، ص ۷۹؛ قلقشندی، ت ج ۴، ص ۱۵۳ـ ۱۵۴.
- ↑ حسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۶۷ـ ۶۸؛ محمدکاظم مکی، ص ۶۴ـ۶۶؛ فقیه، ص ۳۱؛ نیز رجوع کنید به د. اسلام، چاپ دوم.
- ↑ محسن امین، ۱۴۰۳ ب، ص ۱۷۸ـ۱۸۰.
- ↑ انجیل یوحنا، ۴: ۴۳ـ۴۷؛ انجیل متی، ۲۸: ۱۰، ۱۶.
- ↑ ابن شداد، ج ۲، قسم ۲، ص ۳۷؛ نیز رجوع کنید بهآل سلیمان، ص ۴۲ـ۴۳.
- ↑ تحریر: ڈاکٹر سید شفقت حسین شیرازی
- ↑ بنت جبیل: مقاومت کی تاریخ کا ایک معجزہ- شائع شدہ از: 17 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 17 اپریل 2026ء