مندرجات کا رخ کریں

"سانچہ:صفحۂ اول/تیسرے نوٹس اور تجزیے" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
(ایک ہی صارف کا 14 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل: نظم نوین جهانی یادداشت.jpg|بدون_چوکھٹا|بائیں]]
[[فائل:مدیریت امام جامعه در فتنۀ دی‌ماه (یادداشت) 5 (2).jpg|تصغیر|بائیں]]
* '''[[نیو ورلڈ آرڈر(نیا عالمی نظام )(نوٹس)|نیو ورلڈ آرڈر(نیا عالمی نظام )]]'''ایک ایسا عنوان ہے جو بین الاقوامی اور علاقائی فضا سے متعلق ہے۔ یہ فضا ابہام سے بھرپور اور بظاہر طاقتور رجحانات کا سامنا کر رہی ہے۔ امریکہ نے سن 1990 (1369 ہجری شمسی) سے، دو قطبی نظام کے خاتمے اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد، ایک ایسے عالمی اور علاقائی نظام کو قائم کرنے کی کوشش کی جسے اُس وقت "بین الاقوامی نیا نظم" (International New Order) کہا جاتا تھا۔ 
'''[[دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت(نوٹس اور تجزیے)|دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت]]''' «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران [[سید علی خامنہ ای|حضرت امام خامنہ‌ای]] کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے۔
اب اُس دور سے 35 سال کا عرصہ گزر چکا ہے، جو کسی نئے نظام کے قیام کے لیے کافی مدت ہے۔ لیکن آج جو منظر سامنے آتا ہے، وہ کسی مستحکم نئے نظم کی علامت نہیں ہے۔
دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

حالیہ نسخہ بمطابق 15:00، 24 جنوری 2026ء

دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت «دی ماہ کے فتنہ میں امامِ معاشرہ کی قیادت و مدیریت» اس یادداشت کا عنوان ہے جس میں دی ماہ 1404 ہجری شمسی کے دہشت گردانہ فسادات کے دوران حضرت امام خامنہ‌ای کی جرات مندانہ اور حکیمانہ قیادت کا جائزہ لیا گیا ہے۔ دینی بنیادوں پر قائم نظاموں میں دینی و سیاسی قیادت کا کردار نہایت بنیادی اور پیچیدہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت سے قریبی تعلق نہیں رکھتے، وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں اور اسی وجہ سے دینی نظام رکھنے والے معاشروں کے واقعات کے تجزیے میں غلطی کا شکار ہو جاتے ہیں۔