میناب کی شجره طیبہ اسکول پر حملہ
| میناب کی شجره طیبہ اسکول پر حملہ | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | میناب کی شجره طیبہ اسکول پر حملہ |
| واقعہ کی تاریخ | 2026ء |
| واقعہ کا دن | 21 مارچ |
| واقعہ کا مقام | ایران، صوبہ ہرمزگان ضلع میناب |
| عوامل | امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر جارحانہ حملہ |
| اہمیت کی وجہ | جارحانہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی صہیونی رجیم کی طرف سے بے دفاع طلباء پر حملہ |
| نتائج | عالمی برادری کی طرف سے ان جرائم کی مذمت |
میناب کی شجره طیبہ اسکول پر حملہایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے گھنٹے میں، ہفتہ 9 مارچ 2026ء کو صبح 11:30 بجے اور پھر دوپہر 3:40 بجے، پانچ فضائی حملوں میں، یہ حملہ میناب کی شجرہ طیبہ اسکول پر ایک واضح جنگی جرم اور جان بوجھ کر کی گئی جارحیت کی مثال تھا۔ اس دوران، اسکول کی عمارت کی تباہی کے علاوہ، 168 طالب علم شہید ہوئے اور اسکول کے تدریسی عملے اور 96 دیگر افراد زخمی ہوئے۔
وقت اور مقام
میناب کے اسکول شجرہ طیبہ پر حملہ ہفتہ 9 مارچ 2026ء کو صبح 11:30 بجے، جو کہ 30 فروری 2026ء بمطابق 10 رمضان 1447 ق ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے پہلے گھنٹے میں، امریکی-صیہونی جنگی طیاروں نے میناب میں لڑکیوں اور لڑکوں کے لیے مختص شجرہ طیبہ ایلیمنٹری اسکول پر پانچ فضائی حملے کیے۔
اس کے بعد، اسی دن دوپہر 3:40 بجے، اسکول سے ملحقہ کلینک پر ایک اور حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اس اسکول کے طلباء اور تدریسی عملے کی شہادت ہوئی۔
جانی و مالی نقصان
میناب میں شجرہ طیبہ اسکول پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کے نتیجے میں، اسکول کی عمارت کی تباہی کے علاوہ، 168 طالب علم اور اسکول کے تدریسی عملے کے افراد شہید ہوئے اور 96 دیگر زخمی ہوئے[1]۔
ردعمل
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر
مسعود پزشکیان، صدر نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ایران پر فوجی حملے اور میناب کے شجرہ طیبہ پرائمری اسکول کے طلباء کی شہادت کے بعد ایک تعزیتی پیغام جاری کیا۔
پیغام کا متن کچھ یوں ہے:
بسم رب الشهداء والصدیقین
میناب کے اسکول شجرہ طیبہ میں دل خراش سانحہ اور امریکی اور صیہونی جارحین کے ذریعہ شہری مراکز پر بہیمانہ حملے کے نتیجے میں درجنوں معصوم طلباء کی شہادت نے ایران کے تمام عوام اور تمام آزاد انسانوں کے دلوں کو دکھ پہنچایا ہے۔
اس وحشیانہ اقدام نے ان حملہ آوروں کے بے شمار جرائم کے ریکارڈ میں ایک اور سیاہ باب کا اضافہ کیا ہے، جو ہماری قوم کی تاریخی یادداشت سے کبھی نہیں مٹایا جائے گا۔ میں اس غیر انسانی اقدام کی سختی سے مذمت کرتا ہوں،
اور متاثرہ خاندانوں، میناب کے معزز عوام اور ایرانی قوم کے تمام افراد سے اس سانحہ پر دلی تعزیت پیش کرتا ہوں اور خود کو ان کے گہرے دکھ میں شریک سمجھتا ہوں۔
میں علاقے کے تمام امدادی اور طبی مراکز اور متعلقہ حکام سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اس حادثے میں زخمی ہونے والے افراد اور ان کے خاندانوں کی فوری اور بے وقفہ دیکھ بھال کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
خدا سے دعا ہے کہ وہ اس المناک حادثے کے شہداء کو بلند درجات، زخمیوں کو جلد شفایابی اور ان کے معزز خاندانوں کو صبر و سکون عطا فرمائے۔ مسعود پزشکیان، صدر اسلامی جمہوریہ ایران
چیف جسٹس

حجت الاسلام والمسلمین محسنی اژهای، چیف جسٹس نے امریکہ اور صہیونی حکومت کے ذریعہ میناب کی درجنوں طالبات کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
انا لله و انا الیه راجعون
انتہائی غمگین اور تکلیف دہ دل کے ساتھ، ہم نے میناب کے ایک اسکول میں ہمارے ملک کی درجنوں عزیز طالبات کی شہادت اور خون میں لتھپت ہونے کی خبر سنی۔
میناب میں امریکیوں اور صہیونیوں نے ایرانی معصوم بچیوں کے ساتھ جو جرم کیا ہے وہ ایرانی قوم کی تاریخی یادداشت سے کبھی نہیں مٹایا جائے گا۔ امریکی اور صیہونی درندوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ بچے کے قتل میں ماہر ہیں۔
میناب کے گرلز اسکول میں پیش آنے والا ہولناک واقعہ امریکہ اور صہیونی حکومت کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک اور ثبوت ہے؛ ایک ایسا ثبوت جو انسانی حقوق کے دعویداروں کے سامنے ہمیشہ اور ہمیشہ کے لیے پیش کیا جانا چاہیے۔
میں اس دلگیر دل کے ساتھ، تمام پس ماندگان؛ خاص طور پر ان کے سوگوار والدین، اساتذہ اور ہم جماعتوں کو اپنی دلی تعزیت پیش کرتا ہوں اور رحیم خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ صبر کرنے والوں کو بہترین جزا اور سکون و رحمت عطا فرمائے اور ان مسافر فرشتوں کو شہداء کے ساتھ محشور فرمائے اور تمام زخمیوں کو مکمل شفایابی، صحت و عافیت عطا فرمائے۔
بلاشبہ، اسلامی ایران کی مسلح افواج کے حیدری شیر، امریکی اور صیہونی قاتلوں سے سخت انتقام لیں گے اور ہمارے پیارے رہبر کے حکم کی تعمیل میں، خیبر کی طرح لڑیں گے تاکہ اس کرہ ارض کو صیہونی شریروں سے پاک کیا جا سکے۔ غلام حسین محسنی اژهای
ایران کے نائب صدر

محمدرضا عارف، ایران کے نائب صدر نے میناب پر بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے، بے گناہ طلباء کے خون کو جنگی جرم اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور ایک "طاقتور اور متناسب" جواب کی یقین دہانی کرائی۔
ڈاکٹر عارف کے پیغام کا متن یوں ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
انا لله و انا الیه راجعون
اسرائیلی رجیم کی جانب سے، اور امریکہ کی مجرم حکومت کی حمایت اور ساتھ کے ساتھ، بے دفاع شہریوں، خاص طور پر میناب کے مظلوم طلباء پر کھلم کھلا اور وحشیانہ بمباری کی یہ واضح اور بہیمانہ کاروائی، ایک بار پھر ان عناصر کی انسانیت دشمن اور قانون شکن فطرت کو سب پر واضح کر گئی۔
بچوں اور عام شہریوں کو نشانہ بنانا جنگی جرم اور تمام بین الاقوامی اصولوں اور ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔ میں اس دہشت گردانہ اور انسانیت دشمن اقدام کی شدید اور قطعی مذمت کرتا ہوں،
اور اپنے عزیز ہم وطنوں، خاص طور پر بے گناہ طلباء کی شہادت پر امام زمانہ (عج)، شہداء کے معزز خاندانوں، میناب کے معزز عوام اور عظیم ایرانی قوم کو تعزیت پیش کرتا ہوں۔ اور خدا سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اس سانحہ کے شہداء کو بلند درجات، زخمیوں کو جلد شفایابی اور لواحقین کو صبر و اجر عطا فرمائے۔
بلاشبہ، ایسے جرم کا جواب دیا جائے گا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلح افواج، رہبر معظم اور کمانڈر ان چیف (مدظلہ العالی) کی قیادت میں، پوری تیاری، ہوشیاری اور طاقت کے ساتھ، قومی مفادات کے دائرے میں، احتیاط اور استحکام کے ساتھ، اس جرم کے مرتکب افراد اور ان کے حکم دینے والوں کو ایک طاقتور اور متناسب جواب دیں گی۔
ایران کی قوم کی سلامتی اور وقار ہمارے لیے ریڈ لائن ہے، اور کسی بھی جارحیت کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت بھی تمام قانونی، سیاسی اور بین الاقوامی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے، عالمی فورمز پر اس جرم کی پیروی کو سنجیدگی سے جاری رکھے گی، اور بین الاقوامی برادری سے توقع کرتی ہے
کہ وہ اس اقدام کی صریح مذمت کر کے اس طرح کے جارحانہ رویوں کے تسلسل کے خلاف خاموش نہ رہے۔ ان معصوم بچوں اور شہریوں کا پاک خون، ہمارے وطن کے وقار اور خودمختاری کے دفاع میں ایرانی قوم کے عزم کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنائے گا[2]۔ محمدرضا عارف، نائب صدر ایران
وزارت خارجہ کے ترجمان
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان، اسماعیل بقائی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پیغام میں میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکہ اور صہیونی رجیم کے وحشیانہ حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
ایران کے بے گناہ بچے، جو چھوٹے فرشتوں کی مانند تھے، اپنے اسکول پر ایک جان بوجھ کر کیے گئے حملے میں، محض ایرانی مسلح افواج کو تلاش اور بچاؤ کی مایوس کن کوششوں میں مشغول رکھنے کے لیے، وحشیانہ طور پر قتل عام کر دیے گئے۔
اس نے حملہ آوروں کو فوجی اہداف پر زیادہ آسانی اور استثنیٰ کے ساتھ حملہ کرنے کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا: لڑکیوں کے اسکول پر حملے کو صرف "جنگی جرم" قرار دینا، اس جرم کی مکمل شرارت اور تباہی کو ظاہر نہیں کرتا۔
اقوام متحدہ
ایران کے ہلال احمر کی بین الاقوامی کوششوں کے بعد، اقوام متحدہ نے میناب اسکول پر حملے کی مذمت کی اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اس حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جنیوا میں اپنے ہنگامی اجلاس میں، میناب کے اسکول شجرہ طیبہ پر ہونے والے حملے کی مشترکہ طور پر مذمت کی، جس میں کم از کم 170 سے زیادہ طلباء اور اساتذہ ہلاک ہوئے، فوری تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا،
اور ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے میناب اسکول پر حملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے[3]۔
ایران کے وزیر خارجہ

سید عباس عراقچی، وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں میناب کے اسکول پر حملے کے حوالے سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنی تقریر کے ایک حصے میں کہا:
"ایران آج ایک غیر قانونی جنگ کے درمیان ہے جو دو جابر ایٹمی طاقتوں، یعنی امریکہ اور اسرائیل نے مسلط کی ہے۔ یہ جارحانہ جنگ واضح طور پر کسی بھی جواز سے عاری اور انتہائی ظالمانہ ہے۔"
انہوں نے مزید کہا: "انہوں نے یہ جارحیت 28 فروری 1404 ش کو اس وقت شروع کی جب ایران اور امریکہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں امریکہ کے دعووں کو حل کرنے کے لیے سفارتی عمل میں مصروف تھے۔
انہوں نے نو ماہ کے دوران دوسری بار مذاکرات کی میز کو بگاڑ کر اور ناکام بنا کر سفارت کاری کو دھوکہ دیا۔" عراقچی نے مزید کہا:
"اس جارحیت کے سب سے خوفناک مظاہر میں سے ایک جنوبی ایران کے شہر میناب میں 'شجرہ طیبہ' پرائمری اسکول پر منصوبہ بند اور مرحلہ وار حملہ تھا؛ جہاں 175 سے زائد طلباء اور اساتذہ کو مکمل طور پر جان بوجھ کر اور بے رحمی سے شہید کیا گیا۔"
انہوں نے مزید کہا: "یہ وحشیانہ حملہ صرف ایک بہت بڑی آئس برگ کی سب سے اوپر نظر آنے والی چوٹی ہے؛ ایک ایسی چوٹی جو اپنی سطح کے نیچے بہت زیادہ خوفناک مظالم چھپاتی ہے،
جس میں انسانی حقوق اور انسانیت پسندانہ قوانین کی بدترین خلاف ورزیوں کو معمول بنانا، اور مکمل استثنیٰ کے ماحول میں بھیانک جرائم کا ارتکاب کرنے کی جرات شامل ہے۔"
یورپی یونین کے نمائندے
اقوام متحدہ میں یورپی یونین کے نمائندے نے اس حوالے سے کہا: "یورپی ممالک غیر فوجی تنصیبات کے خلاف فوری آپریشن کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم میناب کے بچوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔"
ایتھوپیا کے نمائندے
اقوام متحدہ میں ایتھوپیا کے نمائندے نے بھی نشاندہی کی: "ہم مغربی ایشیا میں ہونے والی پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہیں۔"
میکسیکو کے نمائندے
اقوام متحدہ میں میکسیکو کے نمائندے نے کہا: "مغربی ایشیا میں انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے۔ ہم میناب اسکول پر حملے سمیت وحشیانہ اقدامات کی مذمت کرتے ہیں۔"
جنوبی افریقہ کے نمائندے
اقوام متحدہ میں جنوبی افریقہ کے نمائندے نے مزید کہا: "ہم میناب اسکول پر حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقوں کو بین الاقوامی قوانین یاد دلاتے ہیں۔"
تھائی لینڈ کے نمائندے
اقوام متحدہ میں تھائی لینڈ کے نمائندے نے کہا: "ہم میناب اسکول میں ہونے والے جانی نقصان سے متاثر ہیں. ہم خطے میں جنگ کے بڑھتے ہوئے حالات کے بارے میں فکر مند ہیں۔" انہوں نے نشاندہی کی:
"ہم تعلیمی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ تمام فریقوں کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا چاہیے۔ اسکولوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔"
پاکستان کے نمائندے
پاکستان کے نمائندے نے کہا: "میناب کا واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جنگ کا خاتمہ ہونا چاہیے اور خطے میں دیرپا امن قائم ہونا چاہیے۔"
گیمبیا کے نمائندے
گیمبیا کے نمائندے نے نشاندہی کی: "اسکولوں کو سیکھنے کے لیے محفوظ جگہیں رہنا چاہیے۔"
اٹلی کے نمائندے
اقوام متحدہ میں اٹلی کے نمائندے نے کہا: "ہم میناب کے بچوں کی ہلاکت پر اپنا دکھ اور غصہ ظاہر کرتے ہیں۔"
سوئٹزرلینڈ کے نمائندے
سوئٹزرلینڈ کے نمائندے نے نشاندہی کی: "ہم موجودہ صورتحال کے بگڑنے پر گہری تشویش میں ہیں۔ ہم تعلیمی تنصیبات پر حملوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔"
کیمرون کے نمائندے
کیمرون کے نمائندے نے کہا: "ہم تمام متحارب فریقوں سے تحمل کا مطالبہ کرتے ہیں اور مذاکرات اور سفارتی راستے کے استعمال پر زور دیتے ہیں۔"
آسٹریلیا کے نمائندے
آسٹریلیا کے نمائندے نے نشاندہی کی: "ہم جنگ میں شہریوں کی جانوں کے بارے میں فکر مند ہیں۔ اسکولوں پر حملے بچوں کو تعلیم کے حق سے محروم کرتے ہیں۔"
آئرلینڈ کے نمائندے
آئرلینڈ کے نمائندے نے کہا: "ہم کشیدگی کم کرنے اور غیر فوجی تنصیبات کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہم میناب اسکول کی بمباری سے متاثر ہیں۔"
روس کے نمائندے
روس کے نمائندے نے تصریح کی: "ہم میناب اسکول کے واقعے کی مذمت کرتے ہیں۔ جنگ میں دشمنی امریکہ کے ایران پر حملے کا نتیجہ ہے۔"
نیدرلینڈز کے نمائندے
نیدرلینڈز کے نمائندے نے کہا: "ہم غیر فوجی تنصیبات پر حملے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اسکولوں کو سیکھنے کے لیے محفوظ جگہیں ہونا چاہیے۔"
انڈونیشیا کے نمائندے
انڈونیشیا کے نمائندے نے کہا: "ہم میناب اسکول پر جان بوجھ کر کیے گئے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ حملہ امریکہ اور اسرائیلی رجیم نے کیا۔ ہم نے غزہ اور لبنان میں بھی اسکولوں پر حملے دیکھے ہیں۔"
وینزویلا کے نمائندے
وینزویلا کے نمائندے نے تصریح کی: "اسکولوں پر حملے جنگی جرم ہیں۔ حکومتیں بچوں کے تحفظ کی ذمہ دار ہیں۔"
کولمبیا کے نمائندے
کولمبیا کے نمائندے نے یاد دلایا: "ہم میناب اسکول پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں اس حملے کے ذمہ دار افراد کو سزا ملنی چاہیے۔"[4]۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ایران کے میناب گرلز اسکول کے خلاف امریکی جنگی جرم کو عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے شہریوں کو نقصان پہنچانے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں غفلت برتی ہے
اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے میناب گرلز اسکول کے خلاف امریکہ کے غیر قانونی آپریشن کی منصوبہ بندی اور عمل درآمد کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ تنظیم نے امریکہ کی طرف سے فوری اور شفاف تحقیقات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
متعلقه تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ جزئیات جدیدی از حمله به مدرسه میناب؛ حمله با ۵ موشک و شهادت ۲۴ - شائع شدہ از: 12 اسفند 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 اپریل
- ↑ پیام تسلیت عارف در پی شهادت دانشآموزان بیگناه، جنایت جنگی رژیم صهیونیستی - شائع شدہ از: 9 اسفند 1404ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 اپریل 2026ء
- ↑ سازمان ملل حمله به مدرسه میناب را محکوم کرد- شائع شدہ از: 1405ش- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 اپریل 2026ء
- ↑ در نشست شورای حقوق بشر درباره جنایت آمریکا در مدرسه میناب چه گذشت؟- شائع شدہ از: 29 مارچ 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 11 اپریل 2026ء