"زیتون راسمین" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:زیتون راسمین کو زیتون راسمین کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 42: | سطر 42: | ||
== نظریات == | == نظریات == | ||
=== ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت === | === ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت === | ||
وحدتِ اسلامی کے سربراہ محمد زیتون راسمین نے جکارتہ میں مرکزِ گفتگو و تعاونِ بین المذاہب (CDCC) اور عالمی وسطیتِ اسلام مرکز کے زیرِ اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس بعنوان '''«ایک نئے پُرامن، عادلانہ، خوشحال اور مہذب عالمی نظام کے قیام کے لیے عالمِ اسلام کے اتحاد کی ضرورت»''' میں، [[فلسطین]] اور [[ایران]] کے خلاف [[اسرائیل|صیہونی حکومت]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا اور [[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026|ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے]] کی مذمت کی۔ استاد راسمین نے کہا: "یہ [[عالم اسلام|عالمِ اسلام]] کے لیے غور و فکر کا لمحہ ہے۔ ہو سکتا ہے مسئلہ ہمارے اپنے اندر ہی ہو۔ اگر ممکن ہو، تو ہمیں [[وحدت اسلامی|اتحاد]]، | وحدتِ اسلامی کے سربراہ محمد زیتون راسمین نے جکارتہ میں مرکزِ گفتگو و تعاونِ بین المذاہب (CDCC) اور عالمی وسطیتِ اسلام مرکز کے زیرِ اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس بعنوان '''«ایک نئے پُرامن، عادلانہ، خوشحال اور مہذب عالمی نظام کے قیام کے لیے عالمِ اسلام کے اتحاد کی ضرورت»''' میں، [[فلسطین]] اور [[ایران]] کے خلاف [[اسرائیل|صیہونی حکومت]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کی جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا اور [[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026|ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے]] کی مذمت کی۔ استاد راسمین نے کہا: "یہ [[عالم اسلام|عالمِ اسلام]] کے لیے غور و فکر کا لمحہ ہے۔ ہو سکتا ہے مسئلہ ہمارے اپنے اندر ہی ہو۔ اگر ممکن ہو، تو ہمیں [[وحدت اسلامی|اتحاد]]، ایمان، علم اور اخلاق کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کرنے چاہئیں۔" | ||
انہوں نے اس پکار کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جس میں عالمی ناانصافی، خاص طور پر [[فلسطین]] اور [[ایران]] کے خلاف جارحیت کے سامنے مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ استاد زیتون نے اس تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی: "[[مسلمان|مسلمانوں]] کا [[وحدت اسلامی|اتحاد]] محض ایک روحانی پکار نہیں ہے، بلکہ عالمی امن اور انصاف کے حصول کے لیے ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) ضرورت ہے۔ اگر بربریت اور | انہوں نے اس پکار کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جس میں عالمی ناانصافی، خاص طور پر [[فلسطین]] اور [[ایران]] کے خلاف جارحیت کے سامنے مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ استاد زیتون نے اس تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی: "[[مسلمان|مسلمانوں]] کا [[وحدت اسلامی|اتحاد]] محض ایک روحانی پکار نہیں ہے، بلکہ عالمی امن اور انصاف کے حصول کے لیے ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) ضرورت ہے۔ اگر بربریت اور استعمار، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے، جو کہ انسانیت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے، جاری رہے تو دنیا میں کبھی [[صلح|امن]] قائم نہیں ہو سکے گا"<ref>[https://suaraislam.id/ketum-wahdah-islamiyah-serukan-penghentian-agresi-secara-total-dan-permanen/ وحدتِ اسلامی کے سربراہ کا جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ، صدائے اسلام خبری ویب سائٹ]۔</ref>۔ | ||
=== فلسطین کے لیے جدوجہد کی ضرورت === | === فلسطین کے لیے جدوجہد کی ضرورت === | ||
ڈاکٹر محمد زیتون راسمین نے غازیانِ [[غزہ]] کی امداد کے لیے جانے والے انڈونیشیائی رضا کاروں کے انسانی ہمدردی کے قافلے ([[صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت(نوٹس اور تجزیے)|عالمی کاروانِ صمود]])، جنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لے لیا تھا، کی رہائی پر منعقدہ تقریبِ شکرانہ میں رضا کاروں کی رہائی پر اظہارِ تشکر کیا اور انہیں یاد دلایا کہ [[فلسطین]] کے لیے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ | ڈاکٹر محمد زیتون راسمین نے غازیانِ [[غزہ]] کی امداد کے لیے جانے والے انڈونیشیائی رضا کاروں کے انسانی ہمدردی کے قافلے ([[صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی جارحیت(نوٹس اور تجزیے)|عالمی کاروانِ صمود]])، جنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لے لیا تھا، کی رہائی پر منعقدہ تقریبِ شکرانہ میں رضا کاروں کی رہائی پر اظہارِ تشکر کیا اور انہیں یاد دلایا کہ [[فلسطین]] کے لیے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔ | ||
انہوں نے کہا: "9 انڈونیشیائی رضا کار جو قید تھے، اب رہا ہو چکے ہیں۔ ہم انتہائی شکر گزار ہیں۔ ہم عالمی کاروانِ صمود کے کارکنوں کی رہائی کو یقینی بنانے میں انڈونیشیائی حکومت کے فوری اقدام کے لیے بے حد ممنون ہیں۔" اس کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے لیے حمایت رضا کاروں کی رہائی پر ختم نہیں ہونی چاہیے۔ استاد زیتون نے تاکید کی: "ہماری آواز یہاں خاموش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا اصل مشن اور ہم تمام صاحبِ ضمیر لوگوں کا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانی ہمدردی کی امداد [[ | انہوں نے کہا: "9 انڈونیشیائی رضا کار جو قید تھے، اب رہا ہو چکے ہیں۔ ہم انتہائی شکر گزار ہیں۔ ہم عالمی کاروانِ صمود کے کارکنوں کی رہائی کو یقینی بنانے میں انڈونیشیائی حکومت کے فوری اقدام کے لیے بے حد ممنون ہیں۔" اس کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے لیے حمایت رضا کاروں کی رہائی پر ختم نہیں ہونی چاہیے۔ استاد زیتون نے تاکید کی: "ہماری آواز یہاں خاموش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا اصل مشن اور ہم تمام صاحبِ ضمیر لوگوں کا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانی ہمدردی کی امداد [[غزہ]] اور آزاد فلسطین تک پہنچے۔ بولنا بند نہ کریں!"<ref>[http://www.zaitunrasmin.com مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) نے اسرائیلی حراست سے انڈونیشیائی رضا کاروں کی رہائی پر تقریبِ شکرانہ کا انعقاد کیا، زیتون راسمین خبری ویب سائٹ]۔</ref>۔ | ||
=== فلسطین کا انڈونیشیائی دفاع === | === فلسطین کا انڈونیشیائی دفاع === | ||
| سطر 68: | سطر 68: | ||
== مآخذ == | == مآخذ == | ||
* [https://darussalam.id/team/muhammad-zaitun-rasmin/ ڈاکٹر محمد زیتون راسمین، دارالسلام خبری ویب سائٹ (darussalam.id)]، تاریخِ شمولیت: بلا تاریخ، تاریخِ ملاحظہ: | * [https://darussalam.id/team/muhammad-zaitun-rasmin/ ڈاکٹر محمد زیتون راسمین، دارالسلام خبری ویب سائٹ (darussalam.id)]، تاریخِ شمولیت: بلا تاریخ، تاریخِ ملاحظہ:2/ جون/2026ء۔ | ||
* [https://suaraislam.id/ketum-wahdah-islamiyah-serukan-penghentian-agresi-secara-total-dan-permanen/ وحدتِ اسلامی کے سربراہ کا جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ، صدائے اسلام خبری ویب سائٹ]، تاریخِ شمولیت: 13 اپریل 2026ء، تاریخِ ملاحظہ: | * [https://suaraislam.id/ketum-wahdah-islamiyah-serukan-penghentian-agresi-secara-total-dan-permanen/ وحدتِ اسلامی کے سربراہ کا جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ، صدائے اسلام خبری ویب سائٹ]، تاریخِ شمولیت: 13 اپریل 2026ء، تاریخِ ملاحظہ:2/جون/2026ء۔ | ||
* [http://www.zaitunrasmin.com مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) نے اسرائیلی حراست سے انڈونیشیائی رضا کاروں کی رہائی پر تقریبِ شکرانہ کا انعقاد کیا، زیتون راسمین خبری ویب سائٹ]، تاریخِ شمولیت: 26 مئی 2026ء، تاریخِ ملاحظہ: | * [http://www.zaitunrasmin.com مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) نے اسرائیلی حراست سے انڈونیشیائی رضا کاروں کی رہائی پر تقریبِ شکرانہ کا انعقاد کیا، زیتون راسمین خبری ویب سائٹ]، تاریخِ شمولیت: 26 مئی 2026ء، تاریخِ ملاحظہ: 2/جون/2026ء۔ | ||
* [https://hidayatullah.com/berita/nasional/2021/05/28/209076/ustadz-zaitun-rasmin-persoalan-palestina-adalah-masalah-keagamaan-dan-kemanusiaan.html استاد زیتون راسمین: فلسطین کا معاملہ ایک مذہبی اور انسانی دونوں طرح کا مسئلہ ہے، ہدایت اللہ خبری ویب سائٹ (https://hidayatullah.com)]، تاریخِ شمولیت: 22 مئی 2021ء، تاریخِ ملاحظہ: | * [https://hidayatullah.com/berita/nasional/2021/05/28/209076/ustadz-zaitun-rasmin-persoalan-palestina-adalah-masalah-keagamaan-dan-kemanusiaan.html استاد زیتون راسمین: فلسطین کا معاملہ ایک مذہبی اور انسانی دونوں طرح کا مسئلہ ہے، ہدایت اللہ خبری ویب سائٹ (https://hidayatullah.com)]، تاریخِ شمولیت: 22 مئی 2021ء، تاریخِ ملاحظہ: 2/ جون /2026ء)۔ | ||
[[زمرہ:شخصیات]] | [[زمرہ:شخصیات]] | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 13:37، 3 جون 2026ء
| زیتون راسمین | |
|---|---|
| پورا نام | زیتون راسمین |
| دوسرے نام | محمد زیتون راسمین، ڈاکٹر زیتون راسمین |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1966 ء |
| پیدائش کی جگہ | انڈونیشیا |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| مناصب | انڈونیشیا کی وحدتِ اسلامیہ کے سربراہ، انڈونیشیا کی مجلس علمائے (MUI) کی مرکزی کونسل میں نائب سیکرٹری جنرل، شعبۂ تعلقاتِ خارجہ کے سربراہ، اور مجلسِ مشاورتی کے نائب سیکرٹری، انڈونیشیا کی کونسل برائے دانشوران و علمائے نوجوان (MIUMI) کے نائب صدر، عالمی انجمنِ علمائے مسلمین کے رکن، جنوب مشرقی ایشیا بھر کے علما و واعظین کی انجمن کے سربراہ۔ |
زیتون راسمین، انڈونیشیا کی وحدتِ اسلامیہ کے سربراہ، انڈونیشیا کی مجلس علما کی مرکزی کونسل میں نائب سیکرٹری جنرل، شعبۂ تعلقاتِ خارجہ کے سربراہ اور مجلسِ مشاورتی کے نائب سیکرٹری، انڈونیشیا کی کونسل برائے دانشوران و علمائے نوجوان کے نائب صدر، عالمی انجمنِ علمائے مسلمین کے رکن، اور جنوب مشرقی ایشیا بھر کے علما و واعظین کی انجمن کے سربراہ ہیں۔
انہوں نے جکارتہ میں منعقدہ پریس کانفرنس «ایک نئے پُرامن، عادلانہ، خوشحال اور مہذب عالمی نظام کے قیام کے لیے عالمِ اسلام کے اتحاد کی ضرورت» میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے، عالمی ناانصافی کے مقابلے میں، بالخصوص فلسطین اور ایران کے خلاف جارحیت کے تناظر میں، مسلم اتحاد کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کا اتحاد محض ایک روحانی دعوت نہیں بلکہ صلح اور عالمی انصاف کے حصول کے لیے ایک اسٹریٹجک ضرورت ہے، اور امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے بربریت اور استعمار انسانیت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے، جو اگر جاری رہا تو دنیا میں صلح قائم نہیں ہو سکے گی۔
سوانح حیات
محمد زیتون راسمین 1996ء میں گورونتالو، انڈونیشیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی اعلیٰ تعلیم جکارتہ کے ادارۂ علومِ اسلامیہ و عربیہ (LIPIA)، سعودی عرب میں اسلامی یونیورسٹی مدینہ، اور بوگور کی ابن خلدون یونیورسٹی میں حاصل کی۔
ذمہ داریاں
- انڈونیشیا کی وحدتِ اسلامیہ کے سربراہ؛
- انڈونیشیا کی مجلس علما (MUI) کی مرکزی کونسل کے شعبۂ تعلقاتِ خارجہ کے نائب سربراہ، تا 2015ء؛
- انڈونیشیا کی مجلس علمائے (MUI) کی مرکزی کونسل کے نائب سیکرٹری جنرل، 2015ء سے 2020ء تک؛
- انڈونیشیا کی کونسل برائے دانشوران و علمائے نوجوان (MIUMI) کے نائب صدر؛
- عالمی انجمنِ علمائے مسلمین کے رکن؛
- جنوب مشرقی ایشیا بھر کے علما و واعظین کی انجمن کے سربراہ؛
- انڈونیشیا کی مجلس علمائے (MUI) کی مجلسِ مشاورتی کے نائب سیکرٹری، 2020ء سے 2025ء تک۔
اعزازات
مطالعات اور تعلیمِ اسلامی میں ڈاکٹر محمد زیتون راسمین کے نمایاں کردار کی وجہ سے انہیں مصر کی انٹرنیشنل الیکٹرانک یونیورسٹی سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔
ثقافتی سرگرمیاں
ڈاکٹر محمد زیتون راسمین انڈونیشیا کے قومی ٹیلی ویژن (ٹی وی ون، ANTV) پر مذہبی پروگراموں کے خطیب (اسپیکر)، ٹی وی آر آئی (TVRI) کے پروگراموں کے میزبان (بطور نمائندہ مجلس علمائے انڈونیشیا) اور امت ٹی وی (Umat TV) کے صدر اور مینیجر کے طور پر سرگرم عمل ہیں[1]۔
نظریات
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت
وحدتِ اسلامی کے سربراہ محمد زیتون راسمین نے جکارتہ میں مرکزِ گفتگو و تعاونِ بین المذاہب (CDCC) اور عالمی وسطیتِ اسلام مرکز کے زیرِ اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس بعنوان «ایک نئے پُرامن، عادلانہ، خوشحال اور مہذب عالمی نظام کے قیام کے لیے عالمِ اسلام کے اتحاد کی ضرورت» میں، فلسطین اور ایران کے خلاف صیہونی حکومت اور امریکہ کی جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ کیا اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے کی مذمت کی۔ استاد راسمین نے کہا: "یہ عالمِ اسلام کے لیے غور و فکر کا لمحہ ہے۔ ہو سکتا ہے مسئلہ ہمارے اپنے اندر ہی ہو۔ اگر ممکن ہو، تو ہمیں اتحاد، ایمان، علم اور اخلاق کو مضبوط کرنے کے لیے مسلسل مذاکرات کرنے چاہئیں۔"
انہوں نے اس پکار کی مکمل حمایت کا اظہار کیا جس میں عالمی ناانصافی، خاص طور پر فلسطین اور ایران کے خلاف جارحیت کے سامنے مسلمانوں کے اتحاد کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ استاد زیتون نے اس تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تاکید کی: "مسلمانوں کا اتحاد محض ایک روحانی پکار نہیں ہے، بلکہ عالمی امن اور انصاف کے حصول کے لیے ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) ضرورت ہے۔ اگر بربریت اور استعمار، خاص طور پر اسرائیل کی جانب سے، جو کہ انسانیت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے، جاری رہے تو دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکے گا"[2]۔
فلسطین کے لیے جدوجہد کی ضرورت
ڈاکٹر محمد زیتون راسمین نے غازیانِ غزہ کی امداد کے لیے جانے والے انڈونیشیائی رضا کاروں کے انسانی ہمدردی کے قافلے (عالمی کاروانِ صمود)، جنہیں اسرائیلی حکام نے حراست میں لے لیا تھا، کی رہائی پر منعقدہ تقریبِ شکرانہ میں رضا کاروں کی رہائی پر اظہارِ تشکر کیا اور انہیں یاد دلایا کہ فلسطین کے لیے جدوجہد ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا: "9 انڈونیشیائی رضا کار جو قید تھے، اب رہا ہو چکے ہیں۔ ہم انتہائی شکر گزار ہیں۔ ہم عالمی کاروانِ صمود کے کارکنوں کی رہائی کو یقینی بنانے میں انڈونیشیائی حکومت کے فوری اقدام کے لیے بے حد ممنون ہیں۔" اس کے باوجود انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطین کے لیے حمایت رضا کاروں کی رہائی پر ختم نہیں ہونی چاہیے۔ استاد زیتون نے تاکید کی: "ہماری آواز یہاں خاموش نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا اصل مشن اور ہم تمام صاحبِ ضمیر لوگوں کا مشن یہ یقینی بنانا ہے کہ انسانی ہمدردی کی امداد غزہ اور آزاد فلسطین تک پہنچے۔ بولنا بند نہ کریں!"[3]۔
فلسطین کا انڈونیشیائی دفاع
وحدتِ اسلامیہ کے سربراہ اور جکارتہ میں فلسطین کی آزادی کی قومی تحریک (GNPF) کے نائب صدر، استاد زیتون راسمین نے پریس کانفرنس بعنوان «انڈونیشیا فلسطین کا دفاع کرتا ہے» میں گفتگو کرتے ہوئے کہا: "یہ یاد رکھنا چاہیے کہ فلسطین کا معاملہ ایک مذہبی اور انسانی دونوں طرح کا مسئلہ ہے جس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ لاکھوں انڈونیشیائی مسلمانوں نے متعدد انسانی ہمدردی کی تنظیموں کے ذریعے، صیہونی حکومت کی فوجی جارحیت کا شکار ہونے والے فلسطینی عوام کو بڑی گرمجوشی سے اپنے مالی عطیات پیش کیے ہیں۔ محض چند دنوں میں، جمع کی جانے والی امداد کی رقم دسیوں ارب روپے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ مدد ظاہر کرتی ہے کہ انڈونیشیا کے مسلمان فلسطینی عوام کی صورتحال سے گہری ہمدردی رکھتے ہیں جو اب بھی زیرِ تسلط ہیں۔"
انہوں نے مزید کہا: "اگر فلسطین کے مسائل کو مذہبی رنگ دیا گیا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اسرائیلی غاصب، جو کہ یہودی ہیں، مسلمانوں کی مقدس سر زمین فلسطین کی کھلم کھلا بے حرمتی کرتے ہیں اور مسجدِ اقصیٰ کو گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کا پہلا قبله ہے اور مسجدِ حرام (مکہ) اور مسجدِ نبوی (مدینہ) کے بعد تیسری مقدس ترین مسجد ہے۔"
ڈاکٹر زیتون راسمین نے وضاحت جاری رکھتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے وقت سے ہی فلسطین کے مسلمان مختلف قسم کی ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور انڈونیشیائی مسلمانوں کی یہ تشویش مذہبی بنیادوں پر مبنی ہے۔ وہ (انڈونیشیائی مسلمان) اس بات پر غصے میں ہیں کہ فلسطین میں ان کے ہم مذہب بھائیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا: "فلسطین کا مسئلہ ایک انسانی مسئلہ بھی ہے؛ کیونکہ فلسطینی عوام اب بھی غاصبانہ قبضے کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا 1945ء کے آئین کے دیباچے کا پہلا جملہ اس بات کی تصدیق نہیں کرتا کہ دنیا بھر سے استعمار کا خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ انسانیت اور انصاف کے منافی ہے؟ اور درحقیقت، اسرائیلی غاصبوں کی جانب سے فلسطینی عوام کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے متعدد ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو انسانی اقدار کے بالکل منافی ہیں"[4]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ ڈاکٹر محمد زیتون راسمین، دارالسلام خبری ویب سائٹ (darussalam.id)۔
- ↑ وحدتِ اسلامی کے سربراہ کا جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ، صدائے اسلام خبری ویب سائٹ۔
- ↑ مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) نے اسرائیلی حراست سے انڈونیشیائی رضا کاروں کی رہائی پر تقریبِ شکرانہ کا انعقاد کیا، زیتون راسمین خبری ویب سائٹ۔
- ↑ استاد زیتون راسمین: فلسطین کا معاملہ ایک مذہبی اور انسانی دونوں طرح کا مسئلہ ہے، ہدایت اللہ خبری ویب سائٹ (https://hidayatullah.com)۔
مآخذ
- ڈاکٹر محمد زیتون راسمین، دارالسلام خبری ویب سائٹ (darussalam.id)، تاریخِ شمولیت: بلا تاریخ، تاریخِ ملاحظہ:2/ جون/2026ء۔
- وحدتِ اسلامی کے سربراہ کا جارحیت کے مکمل اور مستقل خاتمے کا مطالبہ، صدائے اسلام خبری ویب سائٹ، تاریخِ شمولیت: 13 اپریل 2026ء، تاریخِ ملاحظہ:2/جون/2026ء۔
- مجلس علمائے انڈونیشیا (MUI) نے اسرائیلی حراست سے انڈونیشیائی رضا کاروں کی رہائی پر تقریبِ شکرانہ کا انعقاد کیا، زیتون راسمین خبری ویب سائٹ، تاریخِ شمولیت: 26 مئی 2026ء، تاریخِ ملاحظہ: 2/جون/2026ء۔
- استاد زیتون راسمین: فلسطین کا معاملہ ایک مذہبی اور انسانی دونوں طرح کا مسئلہ ہے، ہدایت اللہ خبری ویب سائٹ (https://hidayatullah.com)، تاریخِ شمولیت: 22 مئی 2021ء، تاریخِ ملاحظہ: 2/ جون /2026ء)۔