مندرجات کا رخ کریں

"ایاد حسنی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ایاد حسنی کو ایاد حسنی کی جانب منتقل کیا
 
(2 صارفین 3 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 29: سطر 29:
انہوں نے مختلف آپریشنز کی ڈیزائننگ میں بنیادی کردار ادا کیا جن کے نتیجے میں اسرائیل کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔ ان میں شامل ہیں:
انہوں نے مختلف آپریشنز کی ڈیزائننگ میں بنیادی کردار ادا کیا جن کے نتیجے میں اسرائیل کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔ ان میں شامل ہیں:
* 1994 ع میں اشڈود شہر کے بس اسٹیشن کے قریب علی الاماوی کے ذریعے کیے گئے آپریشن کی نگرانی اور قیادت، جس کے نتیجے میں دو صیہونی فوجی ہلاک ہوئے۔
* 1994 ع میں اشڈود شہر کے بس اسٹیشن کے قریب علی الاماوی کے ذریعے کیے گئے آپریشن کی نگرانی اور قیادت، جس کے نتیجے میں دو صیہونی فوجی ہلاک ہوئے۔
* 22 جنوری 1995 ع کو "بیت لید" شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید جنگجوؤں انور سکر اور صلاح شاکر نے انجام دی اور جس کے نتیجے میں 22 اسرائیلی فوجی ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔   
* 22 جنوری 1995 ع کو "بیت لید" شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید جنگجوؤں انور سکر اور صلاح شاکر نے انجام دی اور جس کے نتیجے میں 22 اسرائیلی فوجی ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔   
* 4 مارچ 1996 ع کو شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید رامز عبید نے تل ابیب کے مرکز میں ڈیزنگوف سٹریٹ پر اسلامی جہاد تحریک فلسطین کے سیکرٹری جنرل اور بانی فتحی ابراهیم شقاقی کے قتل کے جواب میں انجام دی، جس کے نتیجے میں تیرہ صیہونی ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے۔
* 4 مارچ 1996 ع کو شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید رامز عبید نے تل ابیب کے مرکز میں ڈیزنگوف سٹریٹ پر اسلامی جہاد تحریک فلسطین کے سیکرٹری جنرل اور بانی فتحی ابراهیم شقاقی کے قتل کے جواب میں انجام دی، جس کے نتیجے میں تیرہ صیہونی ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے۔
سطر 44: سطر 43:


==شہادت==
==شہادت==
[[فائل:شهید ایاد حسنی.jpg|بغیر فریم|بائیں]]
[[فائل:شهید ایاد حسنی.jpg|تصغیر|بائیں]]
بالآخرہ رژیمِ صیہونی نے 12 مئی 2023ء کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع محلہ النصر کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں انہیں اور ان کے معاون کو نشانہ بنا کر '''ثأر الاحرار''' کی جنگ کے دوران شہید کر دیا۔ یہ کارروائی مشترکہ آپریشن روم برائے گروہائے مزاحمت کی جانب سے رژیمِ صیہونی کے جرائم کے جواب میں کی گئی۔ حسنی، جہاد غنام، طارق عزالدین، خلیل البہتینی، علی حسن غالی اور احمد محمود ابودقہ کی شہادت کے بعد، '''سرایا القدس''' (القدس بریگیڈز) کے چھٹے فوجی کمانڈر تھے جو آپریشن ثأر الاحرار کے دوران صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
بالآخرہ رژیمِ صیہونی نے 12 مئی 2023ء کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع محلہ النصر کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں انہیں اور ان کے معاون کو نشانہ بنا کر '''ثأر الاحرار''' کی جنگ کے دوران شہید کر دیا۔ یہ کارروائی مشترکہ آپریشن روم برائے گروہائے مزاحمت کی جانب سے رژیمِ صیہونی کے جرائم کے جواب میں کی گئی۔ حسنی، جہاد غنام، طارق عزالدین، خلیل البہتینی، علی حسن غالی اور احمد محمود ابودقہ کی شہادت کے بعد، '''سرایا القدس''' (القدس بریگیڈز) کے چھٹے فوجی کمانڈر تھے جو آپریشن ثأر الاحرار کے دوران صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔


سطر 57: سطر 56:


اسی طرح جب فلسطینیوں نے الحسنی کی لاش کو کندھوں پر اٹھایا، تو مزاحمت نے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کی شہادت کے بدلے میں صیہونی ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے۔
اسی طرح جب فلسطینیوں نے الحسنی کی لاش کو کندھوں پر اٹھایا، تو مزاحمت نے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کی شہادت کے بدلے میں صیہونی ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے۔
[[تحريك حماس|حماس تحریک]] کے عسکری بازو کتائب القسام نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے عسکری بازو '''سرایا القدس''' (القدس بریگیڈز) کے رکنِ شورایِ عسکری، آپریشنز کمانڈر اور ان بریگیڈز اور القسام بریگیڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار ایاد الحسنی المعروف ابو انس کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، جو غزہ شہر میں ان کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کی ایک بزدلانہ دہشت گرد کارروائی میں شہید ہوئے۔ کتائب القسام نے اپنے بیان کے جاری رکھتے ہوئے ابو انس اور تمام فلسطینی شہداء سے عہد کیا کہ اس شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہ مجاہدین کے لیے نور اور قابضین کے لیے آگ ثابت ہوگا۔
تحريك حماس کے عسکری بازو کتائب القسام نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے عسکری بازو '''سرایا القدس''' (القدس بریگیڈز) کے رکنِ شورایِ عسکری، آپریشنز کمانڈر اور ان بریگیڈز اور القسام بریگیڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار ایاد الحسنی المعروف ابو انس کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، جو غزہ شہر میں ان کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کی ایک بزدلانہ دہشت گرد کارروائی میں شہید ہوئے۔ کتائب القسام نے اپنے بیان کے جاری رکھتے ہوئے ابو انس اور تمام فلسطینی شہداء سے عہد کیا کہ اس شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہ مجاہدین کے لیے نور اور قابضین کے لیے آگ ثابت ہوگا۔


==مزید دیکھیے==
==مزید دیکھیے==
سطر 73: سطر 72:


{{فلسطین}}
{{فلسطین}}
 
[[زمرہ:شخصیات]]
[[رده:شخصیت‌ها]]
[[زمرہ:فلسطین]]
[[رده:فلسطین]]

حالیہ نسخہ بمطابق 13:35، 3 جون 2026ء

ایاد حسنی
پورا نامایاد العبد الحسنی
ذاتی معلومات
پیدائش1970 ء
پیدائش کی جگہغزہ
وفات2023 ء
یوم وفات27 مئی
وفات کی جگہغزہ
مذہباسلام، سنی
مناصبالقدس بریگیڈز کے بانیان، فوجی کونسل کے رکن، مرکزی آپریشنز کے انچارج، جنہوں نے اسرائیل کے خلاف آپریشنز کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا

ایاد حسنی، القدس بریگیڈز (اسلامی جہاد تحریک کا عسکری بازو) کے بانیان میں سے، فوجی کونسل کے رکن، مرکزی آپریشنز کے انچارج اور ان بریگیڈز اور عزالدین قسام بریگیڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار تھے، جنہوں نے اسرائیل کے خلاف آپریشنز کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی میں مرکزی کردار ادا کیا، جن میں شامل ہیں: 1994 ع میں علی الاماوی آپریشن کی نگرانی اور قیادت، 1995 ع میں شہید جنگجوؤں انور سکر اور صلاح شاکر کے ذریعے شہادت پسند آپریشنز کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، اور 1996 ع میں شہید رامز عبید کے ذریعے، نیز مقبوضہ فوج کے غزہ پٹی کے شہروں اور کیمپوں پر حملوں کے خلاف مزاحمتی آپریشنز کی قیادت، اور آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کے آپریشنز۔ وہ 12 مئی 2023 ع کو، مغربی غزہ شہر کے النصر محلے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں اپنے معاون کے ساتھ، ثأر الاحرار جنگ کے دوران، جو کہ مقبوضہ ریاست کے جرائم کے جواب میں مزاحمتی گروپوں کے مشترکہ آپریشنز روم کا اقدام تھا، صیہونی دشمن کے ایک ڈرون حملے میں شہید ہو گئے۔

سوانح حیات

ایاد العبد الحسنی 1970 ع میں مغربی غزہ شہر کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں ایک فلسطینی پناہ گزین خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اصل میں مقبوضہ غزہ علاقے کے حمامہ گاؤں کے رہنے والے تھے۔

مقاومتی سرگرمیاں

حسنی نے اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں اسلامی جہاد تحریک میں شمولیت اختیار کی اور پہلی فلسطینی انتفاضہ کے دوران، نیز 1988 ع میں غزہ پٹی میں اسلامی جہاد تحریک کے پہلے عسکری سیل کی تشکیل میں، اسلامی جہاد تحریک کے رہنما محمود الخواجہ کے ساتھ، جو اس وقت اسلامی جہاد فورسز کے نام سے جانا جاتا تھا، حصہ لیا۔

اسرائیل کے خلاف آپریشنز کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی

انہوں نے مختلف آپریشنز کی ڈیزائننگ میں بنیادی کردار ادا کیا جن کے نتیجے میں اسرائیل کے فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہلاک اور زخمی ہوئی۔ ان میں شامل ہیں:

  • 1994 ع میں اشڈود شہر کے بس اسٹیشن کے قریب علی الاماوی کے ذریعے کیے گئے آپریشن کی نگرانی اور قیادت، جس کے نتیجے میں دو صیہونی فوجی ہلاک ہوئے۔
  • 22 جنوری 1995 ع کو "بیت لید" شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید جنگجوؤں انور سکر اور صلاح شاکر نے انجام دی اور جس کے نتیجے میں 22 اسرائیلی فوجی ہلاک اور ساٹھ سے زائد زخمی ہوئے۔
  • 4 مارچ 1996 ع کو شہادت پسند آپریشن کی ڈیزائننگ اور منصوبہ بندی، جو شہید رامز عبید نے تل ابیب کے مرکز میں ڈیزنگوف سٹریٹ پر اسلامی جہاد تحریک فلسطین کے سیکرٹری جنرل اور بانی فتحی ابراهیم شقاقی کے قتل کے جواب میں انجام دی، جس کے نتیجے میں تیرہ صیہونی ہلاک اور ایک سو بیس زخمی ہوئے۔
  • مقبوضہ فوج کے غزہ پٹی کے شہروں اور کیمپوں پر حملوں کے خلاف مزاحمتی آپریشنز کی قیادت، نیز آباد کاروں کے خلاف فائرنگ کے آپریشنز، جن میں سے ایک کے نتیجے میں 2002 ع میں دو آباد کار ہلاک ہوئے، اور اسی سال "نتزاریم" بستی کے قریب ایک افسر قتل ہوا۔

القدس بریگیڈز کی تاسیس اور حمایت

حسنی نے القدس بریگیڈز (اسلامی جہاد تحریک کا عسکری بازو) کی تاسیس میں بنیادی کردار ادا کیا۔ وہ القدس بریگیڈز کی فوجی کونسل کے رکن، القدس بریگیڈز میں مرکزی آپریشنز کے انچارج، اور 2023 ع میں مقبوضہ ریاست کے جرائم کے جواب میں مزاحمتی گروپوں کے مشترکہ آپریشنز روم کے اقدام ثأر الاحرار آپریشن میں القسام بریگیڈز اور القدس بریگیڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار تھے۔

حزب اللہ سے روابط

وہ کئی بار غزہ پٹی سے باہر سفر کر گئے اور خطے میں "مزاحمتی محور" کی اہم شخصیات، خاص طور پر حزب اللہ لبنان سے براہ راست رابطے میں رہے۔

گرفتاریاں

انہوں نے اپنی زندگی میں فلسطین کی اشغال کا درد محسوس کیا۔ اشغال کنندہ فورسز نے انہیں پہلی انتفاضہ کے دوران گرفتار کیا، اور 1995 ع سے وہ اسرائیل کے مطلوب تھے۔ اسرائیل سے وابستہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے انہیں 1996 ع میں گرفتار کیا اور دو بار ان کے قتل کی ناکام کوشش کی۔

شہادت

بالآخرہ رژیمِ صیہونی نے 12 مئی 2023ء کو غزہ شہر کے مغرب میں واقع محلہ النصر کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں انہیں اور ان کے معاون کو نشانہ بنا کر ثأر الاحرار کی جنگ کے دوران شہید کر دیا۔ یہ کارروائی مشترکہ آپریشن روم برائے گروہائے مزاحمت کی جانب سے رژیمِ صیہونی کے جرائم کے جواب میں کی گئی۔ حسنی، جہاد غنام، طارق عزالدین، خلیل البہتینی، علی حسن غالی اور احمد محمود ابودقہ کی شہادت کے بعد، سرایا القدس (القدس بریگیڈز) کے چھٹے فوجی کمانڈر تھے جو آپریشن ثأر الاحرار کے دوران صیہونی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوئے۔

ردِ عمل

غزہ میں العالم نیوز چینل کی نامہ نگار اسراء البحیصی نے اس شہید کی جنازہ کی خبر دیتے ہوئے کہا: «ایاد الحسنی کی لاش، جو مزاحمتی محاذ کے مشترکہ آپریشن روم کے کمانڈروں میں سے تھے اور قسام بریگیڈز اور دیگر ٹکڑیوں کے درمیان رابط کار کے طور پر کام کرتے تھے، فلسطین کی تمام طبقات، قومی و عوامی قوتوں اور اس شہید کے فرزندوں کی موجودگی میں سپردِ خاک کی گئی»۔

شہید حسنی کے بھائی نے اس نامہ نگار سے کہا: «ابو انس امت، مزاحمت، فلسطین اور فلسطین سے لے کر شام، غزہ اور عراق تک پورے محورِ مزاحمت کے شہید ہیں۔ حاج قاسم سلیمانی ان کا نمونہ تھے»۔

شہید کے فرزند انس ایاد الحسنی نے العالم کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: صیہونی رژیم ہمیں تکلیف پہنچاتی ہے اور ہمارے دلوں میں غم کا باعث ہے، لیکن وہ ہمیں توڑ نہیں سکتی۔ محورِ مزاحمت کے تمام فرزند اور فلسطینی عوام ہمارے چہروں کو یاد رکھیں گے اور شہداء کے خون کا بدلہ لیں گے۔ شہید کے بھائی اور کتائب شہداء الاقصی کے عالمی سیکرٹری نے بھی العالم کے نامہ نگار سے کہا: «ایاد الحسنی نے آخری لمحے تک مشترکہ آپریشنز کی کمانڈنگ جاری رکھی اور کبھی میدانِ جنگ نہیں چھوڑا»۔


اسی طرح جب فلسطینیوں نے الحسنی کی لاش کو کندھوں پر اٹھایا، تو مزاحمت نے اپنے وعدے کو پورا کرتے ہوئے ان کی شہادت کے بدلے میں صیہونی ٹھکانوں پر میزائل حملے کیے۔ تحريك حماس کے عسکری بازو کتائب القسام نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے فلسطینی اسلامی جہاد تحریک کے عسکری بازو سرایا القدس (القدس بریگیڈز) کے رکنِ شورایِ عسکری، آپریشنز کمانڈر اور ان بریگیڈز اور القسام بریگیڈز کے درمیان ہم آہنگی کے ذمہ دار ایاد الحسنی المعروف ابو انس کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا، جو غزہ شہر میں ان کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنانے کی ایک بزدلانہ دہشت گرد کارروائی میں شہید ہوئے۔ کتائب القسام نے اپنے بیان کے جاری رکھتے ہوئے ابو انس اور تمام فلسطینی شہداء سے عہد کیا کہ اس شہید کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، بلکہ یہ مجاہدین کے لیے نور اور قابضین کے لیے آگ ثابت ہوگا۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات