مندرجات کا رخ کریں

"ابوالخطاب" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:ابوالخطاب کو ابوالخطاب کی جانب منتقل کیا
 
(2 صارفین 10 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 21: سطر 21:
'''محمد بن ابی زینب مقلاص اسدی''' ملقب به ابوالخطاب ہے جس کی طرف غالی فرقہ خطابیہ منسوب ہے۔ انہیں [[اسماعیلیہ]] کے بانیوں میں سے ایک اور نیز مقدس سلسلہ نصیریہ میں ابواب کے درجے میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض مصادر میں انہیں کنیت ابواسماعیل سے یاد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ انہیں اسماعیل بن جعفر کا روحانی باپ سمجھتے ہیں۔ وہ قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور کوفہ میں رہائش پذیر تھے۔  
'''محمد بن ابی زینب مقلاص اسدی''' ملقب به ابوالخطاب ہے جس کی طرف غالی فرقہ خطابیہ منسوب ہے۔ انہیں [[اسماعیلیہ]] کے بانیوں میں سے ایک اور نیز مقدس سلسلہ نصیریہ میں ابواب کے درجے میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض مصادر میں انہیں کنیت ابواسماعیل سے یاد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ انہیں اسماعیل بن جعفر کا روحانی باپ سمجھتے ہیں۔ وہ قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور کوفہ میں رہائش پذیر تھے۔  


شیخ کلینی کی روایت کے مطابق جو فروع کافی میں موجود ہے، ابوالخطاب غلو کی طرف مائل ہونے سے پہلے [[جعفر بن محمد|جعفر بن محمد (صادقؑ)]] کے اہم اصحاب میں سے تھے اور کوفہ سے [[مدینہ]] جا کر اصحاب [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] کے سوالات لے جاتے تھے اور امام سے حاصل شدہ جوابات اصحاب تک پہنچاتے تھے۔  
شیخ کلینی کی روایت کے مطابق جو فروع کافی میں موجود ہے، ابوالخطاب غلو کی طرف مائل ہونے سے پہلے [[جعفر بن محمد|جعفر بن محمد (صادقؑ)]] کے اہم اصحاب میں سے تھے اور کوفہ سے مدینہ جا کر اصحاب [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] کے سوالات لے جاتے تھے اور امام سے حاصل شدہ جوابات اصحاب تک پہنچاتے تھے۔  


ابوالخطاب کے غلو آمیز خیالات کو [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] نے سختی سے رد کیا اور مختلف مواقع پر ان پر لعنت بھیجی اور انہیں کافر، مشرک اور خدا کا دشمن قرار دیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابوالخطاب امام صادق پر جھوٹ باندھتے تھے، امام کے اصحاب کی کتابوں میں تحریف کرتے تھے اور اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر [[جعفر بن محمد|امام صادق]] کے نام پر ان کتابوں میں شامل کر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے بعض اصحاب اپنی کتابیں امام کی پیش کرتے تھے تاکہ ان کی احادیث کی صحت امام کی نظر سے گزر جائے۔ شاید اسی وجہ سے عقائد اور کتابوں کی امام پر پیشی ایک سنت کے طور پر رائج ہوئی تاکہ امام درست کو غلط سے الگ کر سکیں اور عقائد کی تنقیح فرما سکیں۔
ابوالخطاب کے غلو آمیز خیالات کو [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] نے سختی سے رد کیا اور مختلف مواقع پر ان پر لعنت بھیجی اور انہیں کافر، مشرک اور خدا کا دشمن قرار دیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابوالخطاب امام صادق پر جھوٹ باندھتے تھے،  
 
امام کے اصحاب کی کتابوں میں تحریف کرتے تھے اور اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر [[جعفر بن محمد|امام صادق]] کے نام پر ان کتابوں میں شامل کر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے بعض اصحاب اپنی کتابیں امام کی پیش کرتے تھے تاکہ ان کی احادیث کی صحت امام کی نظر سے گزر جائے۔ شاید اسی وجہ سے عقائد اور کتابوں کی امام پر پیشی ایک سنت کے طور پر رائج ہوئی تاکہ امام درست کو غلط سے الگ کر سکیں اور عقائد کی تنقیح فرما سکیں۔


== ابوالخطاب کا نام اور کنیت ==
== ابوالخطاب کا نام اور کنیت ==
سطر 31: سطر 33:


== انحراف سے قبل ابوالخطاب کی شخصیت ==
== انحراف سے قبل ابوالخطاب کی شخصیت ==
ابوالخطاب ابتدا میں [[جعفر بن محمد|امام صادق]] (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھا<ref>برقی، 1342، ج1، ص10؛ طوسی، 1415ق، ص296.</ref> اور اسے بلند مرتبہ و مقام حاصل تھا<ref>مجلسی، 1363 ج66، ص220.</ref>، یہاں تک کہ بعض اوقات [[ائمه|ائمہ اطہار علیہم السلام]] نے اس کی تعریف بھی فرمائی ہے۔  
ابوالخطاب ابتدا میں [[جعفر بن محمد|امام صادق]] (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھا<ref>برقی، 1342، ج1، ص10؛ طوسی، 1415ق، ص296.</ref> اور اسے بلند مرتبہ و مقام حاصل تھا<ref>مجلسی، 1363 ج66، ص220.</ref>، یہاں تک کہ بعض اوقات [[اہل بیت|ائمہ اطہار علیہم السلام]] نے اس کی تعریف بھی فرمائی ہے۔  


ابن غضائری کے اس قول سے کہ: «... حدثنا ابوالخطاب فی ایام استقامته» (ابوالخطاب نے ہم سے اپنے دورِ استقامت میں حدیث بیان کی)، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابوالخطاب کچھ عرصے تک ہدایت کے راستے پر قائم رہا<ref>ابن غضائری، 1422ق، ص88.</ref>۔ [[اہل بیت|ائمہ معصومین علیہم السلام]] کی احادیث میں اس کے عاریتی ایمان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ابتدائی مراحل میں وہ منحرف نہیں تھا<ref>کلینی، 1362، ج2، ص418؛ طوسی، 1348، ص296؛ طبری، 1413ق، ص330.</ref>۔  
ابن غضائری کے اس قول سے کہ: «... حدثنا ابوالخطاب فی ایام استقامته» (ابوالخطاب نے ہم سے اپنے دورِ استقامت میں حدیث بیان کی)، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابوالخطاب کچھ عرصے تک ہدایت کے راستے پر قائم رہا<ref>ابن غضائری، 1422ق، ص88.</ref>۔ [[اہل بیت|ائمہ معصومین علیہم السلام]] کی احادیث میں اس کے عاریتی ایمان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ابتدائی مراحل میں وہ منحرف نہیں تھا<ref>کلینی، 1362، ج2، ص418؛ طوسی، 1348، ص296؛ طبری، 1413ق، ص330.</ref>۔  
سطر 37: سطر 39:
مذکورہ مصادر میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے شیعیانِ کوفہ کے بعض سوالات [[جعفر بن محمد|امام صادق]] (علیہ السلام) کی خدمت میں لے جاتا تھا اور حضرت کے جوابات ان تک (کوفہ میں) پہنچاتا تھا۔ علی بن عقبہ کہتا ہے: «کان ابوالخطاب قبل أن یفسد، هو یحمل المسائل لاصحابنا و یجیی بجواباتها» (ابوالخطاب فساد سے پہلے ہمارے اصحاب کے سوالات لے جاتا اور ان کے جوابات لے کر آتا تھا)<ref>کلینی، 1362، ج5، ص150؛ طوسی، 1365، ج1، ص4.</ref>۔
مذکورہ مصادر میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے شیعیانِ کوفہ کے بعض سوالات [[جعفر بن محمد|امام صادق]] (علیہ السلام) کی خدمت میں لے جاتا تھا اور حضرت کے جوابات ان تک (کوفہ میں) پہنچاتا تھا۔ علی بن عقبہ کہتا ہے: «کان ابوالخطاب قبل أن یفسد، هو یحمل المسائل لاصحابنا و یجیی بجواباتها» (ابوالخطاب فساد سے پہلے ہمارے اصحاب کے سوالات لے جاتا اور ان کے جوابات لے کر آتا تھا)<ref>کلینی، 1362، ج5، ص150؛ طوسی، 1365، ج1، ص4.</ref>۔


ابن ابی عمیر سے بھی روایت منقول ہے کہ: جب شیعیان پر وہ واقعات پیش آئے (جو ابوالخطاب کے انحراف سے متعلق ہیں)، تو وہ امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے ایسی شخصیت کا تعین فرمائیں جس سے وہ [[دین]] اور [[احکام شرعی|شرعی احکام]] کے امور میں رہنمائی حاصل کر سکیں<ref>خوئی، 1413ق، ج 19، ص 318.</ref>۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوالخطاب اپنے انحراف سے پہلے امام صادق (علیہ السلام) کی جانب سے شیعیان کا معتمد شخص قرار پایا تھا تاکہ لوگ اپنے سوالات اس سے دریافت کریں۔ ایک اور روایت کے مطابق، حمران بن اعین نے امام صادق (علیہ السلام) سے ایک سوال کرتے ہوئے اسے قابل اعتماد شخص قرار دیا ہے<ref>صفار، 1404ق، ص 258و452.</ref>۔ قاضی نعمان مغربی نے بھی اسے (اپنے انحراف سے قبل) امام صادق (علیہ السلام) کا داعی قرار دیا ہے۔ <ref>قاضی نعمان، 1383ق، ج1، ص49.</ref>۔
ابن ابی عمیر سے بھی روایت منقول ہے کہ: جب شیعیان پر وہ واقعات پیش آئے (جو ابوالخطاب کے انحراف سے متعلق ہیں)، تو وہ امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے ایسی شخصیت کا تعین فرمائیں جس سے وہ دین اور شرعی احکام کے امور میں رہنمائی حاصل کر سکیں<ref>خوئی، 1413ق، ج 19، ص 318.</ref>۔  
 
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوالخطاب اپنے انحراف سے پہلے امام صادق (علیہ السلام) کی جانب سے [[شیعہ|شیعیان]] کا معتمد شخص قرار پایا تھا تاکہ لوگ اپنے سوالات اس سے دریافت کریں۔ ایک اور روایت کے مطابق، حمران بن اعین نے امام صادق (علیہ السلام) سے ایک سوال کرتے ہوئے اسے قابل اعتماد شخص قرار دیا ہے<ref>صفار، 1404ق، ص 258و452.</ref>۔ قاضی نعمان مغربی نے بھی اسے (اپنے انحراف سے قبل) امام صادق (علیہ السلام) کا داعی قرار دیا ہے۔ <ref>قاضی نعمان، 1383ق، ج1، ص49.</ref>۔
 
[[محمد باقر مجلسی|علامہ مجلسی]] کی نقل کے مطابق، شیعیان نے ابوالخطاب سے بہت سی روایات نقل کی ہیں<ref>مجلسی، ‏ 1363، ج ‏53، ص 39.</ref>۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابوالخطاب کی روایات، اس کے انحراف سے قبل یا دوسرے الفاظ میں اس کے دورِ استقامت میں، مقبول ہیں یا نہیں؟ ابن غضائری ان روایات کو قبول نہیں کرتا<ref>ابن غضائری، 1422ق، ص88.</ref>۔  


[[محمد باقر مجلسی|علامہ مجلسی]] کی نقل کے مطابق، شیعیان نے ابوالخطاب سے بہت سی روایات نقل کی ہیں<ref>مجلسی، ‏ 1363، ج ‏53، ص 39.</ref>۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابوالخطاب کی روایات، اس کے انحراف سے قبل یا دوسرے الفاظ میں اس کے دورِ استقامت میں، مقبول ہیں یا نہیں؟ ابن غضائری ان روایات کو قبول نہیں کرتا<ref>ابن غضائری، 1422ق، ص88.</ref>۔ علامہ حلی نے بھی «خلاصۃ الاقوال» میں ابوالخطاب کے غلو اور اس پر لعنت بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے ابن غضائری کی رائے نقل کی ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا<ref>حلی، 1417ق، ص392.</ref>۔ لیکن شیخ طوسی نے ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات کو قبول کیا ہے<ref>طوسی، 1417ق، ج‏1، ص151.</ref>۔ [[محمد باقر مجلسی|علامہ مجلسی]] نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: اگر اس کے دورِ انحراف کی کوئی روایت کسی اور نے بھی نقل کی ہو تو وہ قبول کی جائے گی<ref>مجلسی،1363، ج‏53، ص39.</ref>۔ آیت اللہ خوئی نے بھی شیخ طوسی کے کلام «عدۃ الاصول» کی بنیاد پر لکھا ہے: «... لہذا، محمد بن ابی زینب اپنے انحراف سے قبل قابل اعتماد ہے»<ref>خوئی، 1413ق، ج15، ص271.</ref>۔ انہوں نے اس سلسلے میں کئی روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
علامہ حلی نے بھی «خلاصۃ الاقوال» میں ابوالخطاب کے غلو اور اس پر لعنت بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے ابن غضائری کی رائے نقل کی ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا<ref>حلی، 1417ق، ص392.</ref>۔  


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات قابل قبول ہیں، لیکن یہ تعین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کون سی روایات انحراف سے قبل صادر ہوئی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے دورِ استقامت اور دورِ انحراف کے درمیان حد و فاصل بالکل واضح نہیں ہے<ref>کاوند، 1382، ص109.</ref>۔ بلاشبہ، وہ [[محمد بن علی |امام باقر علیہ السلام]] کے دور اور امام صادق (علیہ السلام) کے دور کے ابتدائی حصے میں منحرف نہیں تھا۔ لہٰذا، اگر کوئی روایت امام باقر (علیہ السلام) کے دور یا امام صادق (علیہ السلام) کے دورِ اوائل میں نقل کی گئی ہو، یا یہ تصریح کی گئی ہو کہ فلاں روایت اس کے دورِ استقامت میں نقل ہوئی ہے، تو وہ قابل قبول ہوگی۔
لیکن شیخ طوسی نے ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات کو قبول کیا ہے<ref>طوسی، 1417ق، ج‏1، ص151.</ref>۔ [[محمد باقر مجلسی|علامہ مجلسی]] نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: اگر اس کے دورِ انحراف کی کوئی روایت کسی اور نے بھی نقل کی ہو تو وہ قبول کی جائے گی<ref>مجلسی،1363، ج‏53، ص39.</ref>۔ آیت اللہ خوئی نے بھی شیخ طوسی کے کلام «عدۃ الاصول» کی بنیاد پر لکھا ہے: «... لہذا، محمد بن ابی زینب اپنے انحراف سے قبل قابل اعتماد ہے»<ref>خوئی، 1413ق، ج15، ص271.</ref>۔ انہوں نے اس سلسلے میں کئی روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔
 
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات قابل قبول ہیں، لیکن یہ تعین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کون سی روایات انحراف سے قبل صادر ہوئی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے دورِ استقامت اور دورِ انحراف کے درمیان حد و فاصل بالکل واضح نہیں ہے<ref>کاوند، 1382، ص109.</ref>۔  
 
بلاشبہ، وہ [[محمد بن علی بن موسی|امام باقر علیہ السلام]] کے دور اور امام صادق (علیہ السلام) کے دور کے ابتدائی حصے میں منحرف نہیں تھا۔ لہٰذا، اگر کوئی روایت [[محمدبن علی|امام باقر (علیہ السلام)]] کے دور یا امام صادق (علیہ السلام) کے دورِ اوائل میں نقل کی گئی ہو، یا یہ تصریح کی گئی ہو کہ فلاں روایت اس کے دورِ استقامت میں نقل ہوئی ہے، تو وہ قابل قبول ہوگی۔


== ابوالخطاب کے انحراف کا آغاز ==
== ابوالخطاب کے انحراف کا آغاز ==
مصادر کی نقل کے مطابق، ابوالخطاب نے خود کو [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] اور آپ کے یاران سے جوڑ رکھا تھا<ref>شہرستانی، 1364، ج1، ص210.</ref>۔ وہ اپنے غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے، امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں حاضر ہو کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا تھا کہ امام صادق (علیہ السلام) بعض اسرار اپنے یاران سے چھپاتے ہیں لیکن ابوالخطاب کو ان امور سے آگاہ کرتے ہیں۔ ابن اثیر نے ابوالخطاب اور اس جیسے دیگر فریب کاروں کے غلو آمیز کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: انہوں نے خود کو [[شیعہ|آل محمد کی شیعت]] کا دعویٰ دار ٹھہرایا تاکہ [[ شیعہ|تشیع]] کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں، عوام کو اپنی طرف مائل کریں اور شہروں کے لوگوں پر قبضہ کر لیں۔ انہوں نے زہد، تقویٰ اور عبادت کا بھی ظاہر کیا تاکہ لوگوں کو دھوکہ دے سکیں، حالانکہ وہ خود ان کے مخالف تھے<ref>ابن اثیر، 1385ق، ‏ج 8، ص28.</ref>۔
مصادر کی نقل کے مطابق، ابوالخطاب نے خود کو [[جعفر بن محمد|امام صادق (علیہ السلام)]] اور آپ کے یاران سے جوڑ رکھا تھا<ref>شہرستانی، 1364، ج1، ص210.</ref>۔ وہ اپنے غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے، امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں حاضر ہو کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا تھا  
 
کہ امام صادق (علیہ السلام) بعض اسرار اپنے یاران سے چھپاتے ہیں لیکن ابوالخطاب کو ان امور سے آگاہ کرتے ہیں۔ ابن اثیر نے ابوالخطاب اور اس جیسے دیگر فریب کاروں کے غلو آمیز کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: انہوں نے خود کو [[شیعہ|آل محمد کی شیعت]] کا دعویٰ دار ٹھہرایا  
 
تاکہ [[ شیعہ|تشیع]] کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں، عوام کو اپنی طرف مائل کریں اور شہروں کے لوگوں پر قبضہ کر لیں۔ انہوں نے زہد، تقویٰ اور عبادت کا بھی ظاہر کیا تاکہ لوگوں کو دھوکہ دے سکیں، حالانکہ وہ خود ان کے مخالف تھے<ref>ابن اثیر، 1385ق، ‏ج 8، ص28.</ref>۔


معاویہ بن حکیم اپنے جد سے روایت کرتا ہے: میں امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں موجود تھا، ابوالخطاب بھی وہاں حاضر تھا۔ جب سب لوگ چلے گئے... تو ابوالخطاب نے مجھ سے بھی باہر جانے کو کہا، لیکن امام ہر بار فرماتے: «اس کا مجھ سے کوئی کام ہے»۔ ایک بار وہ امام کے قریب ہوا اور حضرت کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگایا۔ پھر ابوالخطاب باہر چلا گیا۔ امام صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا: «ابوالخطاب یہ کہنا چاہتا ہے کہ امام مجھے آگاہ کرتے ہیں لیکن تم سے چھپاتے ہیں؛ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہے۔ میرے یاران کو یہ بات کہہ دو...»<ref>طوسی، 1348، ص295.</ref>۔ یہ روایت اس بات کی عکاس ہے کہ ابوالخطاب نے امام صادق (علیہ السلام) کے قریب ہو کر آپ کے یاران کو دھوکہ دینے اور خود کو حضرت کا رازدان ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
معاویہ بن حکیم اپنے جد سے روایت کرتا ہے: میں امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں موجود تھا، ابوالخطاب بھی وہاں حاضر تھا۔ جب سب لوگ چلے گئے... تو ابوالخطاب نے مجھ سے بھی باہر جانے کو کہا، لیکن امام ہر بار فرماتے: «اس کا مجھ سے کوئی کام ہے»۔ ایک بار وہ امام کے قریب ہوا اور حضرت کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگایا۔ پھر ابوالخطاب باہر چلا گیا۔ امام صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا: «ابوالخطاب یہ کہنا چاہتا ہے کہ امام مجھے آگاہ کرتے ہیں لیکن تم سے چھپاتے ہیں؛ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہے۔ میرے یاران کو یہ بات کہہ دو...»<ref>طوسی، 1348، ص295.</ref>۔ یہ روایت اس بات کی عکاس ہے کہ ابوالخطاب نے امام صادق (علیہ السلام) کے قریب ہو کر آپ کے یاران کو دھوکہ دینے اور خود کو حضرت کا رازدان ظاہر کرنے کی کوشش کی۔


بلاشبہ ابوالخطاب کا انحراف امام صادق (علیہ السلام) کے دور سے شروع ہوا ہے۔ لہٰذا، صفار اور محمد بن یعقوب کلینی کی وہ روایت جو ابوالخطاب کے انحراف کو [[محمدبن علی|امام باقر (علیہ السلام)]] کے دور سے منسوب کرتی ہے، درست نہیں ہے۔ امام باقر (علیہ السلام) نے اس روایت میں ابوالخطاب کی ہلاکت کی وجہ «محدث» اور «نبی» کی تاویل سے ناواقفیت کو قرار دیا ہے<ref>صفار، 1404ق، ص320؛ کلینی، 1362، ج‏1، ص270.</ref>۔
بلاشبہ ابوالخطاب کا انحراف امام صادق (علیہ السلام) کے دور سے شروع ہوا ہے۔ لہٰذا، صفار اور محمد بن یعقوب کلینی کی وہ روایت جو ابوالخطاب کے انحراف کو [[محمدبن علی|امام باقر (علیہ السلام)]] کے دور سے منسوب کرتی ہے، درست نہیں ہے۔ امام باقر (علیہ السلام) نے اس روایت میں ابوالخطاب کی ہلاکت کی وجہ «محدث» اور «نبی» کی تاویل سے ناواقفیت کو قرار دیا ہے<ref>صفار، 1404ق، ص320؛ کلینی، 1362، ج‏1، ص270.</ref>۔
[[پرونده:ابوالخطاب.jpg|بے قابو|بائیں]]


== ابوالخطاب اور اسماعیلیہ ==
== ابوالخطاب اور اسماعیلیہ ==
اگرچہ بعض مصنفین نے اسماعیلیہ کو ہی خطابیہ قرار دیا ہے<ref>نوبختی، 1404ق، ص 69؛ اشعری قمی، 1360، ص 81.</ref>، لیکن بعض محققین نے ابوالخطاب اور اسماعیل بن جعفر صادق (علیہ السلام) کے درمیان گہرے تعلق اور ابوالخطاب کے اسماعیل پر اثر و رسوخ کے امکان کی تردید کی ہے<ref>موسوی بجنوردی، 1372، ج5، ص435.</ref>۔ بعض دیگر مصادر نے اسماعیلیہ فرقے کا تعلق عبداللہ بن میمون، معروف بہ قداح سے جوڑا ہے۔ ابن ندیم کے بقول، جسے اسماعیلیہ فرقے کا بانی کہا جاتا ہے، وہ اپنے والد کے ہمراہ ابوالخطاب کے پیروکار تھے<ref>ابن ندیم، 1350، ص264.</ref>۔ اگرچہ [[کشی]] کی روایت کے مطابق امام باقر (علیہ السلام) نے ان کی تعریف کی ہے<ref>طوسی، 1348، ص246.</ref>۔ تاہم بعض پژوهشگران نے خطابیہ افکار کی اشاعت میں ان کے فعال کردے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں خطابیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان کڑی قرار دیا ہے<ref>سبحانی، بی تا، ج 8، ص54.</ref>۔ اور درحقیقت اسماعیلیہ کی جڑوں کو خطابیہ سے منسوب کرتے ہوئے میمون بن دیصان، اس کے بیٹے عبداللہ بن میمون اور اس کے مشہور شاگرد دندان کے کردار کا ذکر کیا ہے<ref>همان، ج‏8، ص55.</ref>۔
اگرچہ بعض مصنفین نے اسماعیلیہ کو ہی خطابیہ قرار دیا ہے<ref>نوبختی، 1404ق، ص 69؛ اشعری قمی، 1360، ص 81.</ref>، لیکن بعض محققین نے ابوالخطاب اور اسماعیل بن جعفر صادق (علیہ السلام) کے درمیان گہرے تعلق اور ابوالخطاب کے اسماعیل پر اثر و رسوخ کے امکان کی تردید کی ہے<ref>موسوی بجنوردی، 1372، ج5، ص435.</ref>۔ بعض دیگر مصادر نے اسماعیلیہ فرقے کا تعلق عبداللہ بن میمون، معروف بہ قداح سے جوڑا ہے۔ ابن ندیم کے بقول، جسے اسماعیلیہ فرقے کا بانی کہا جاتا ہے، وہ اپنے والد کے ہمراہ ابوالخطاب کے پیروکار تھے<ref>ابن ندیم، 1350، ص264.</ref>۔ اگرچہ کشی کی روایت کے مطابق امام باقر (علیہ السلام) نے ان کی تعریف کی ہے<ref>طوسی، 1348، ص246.</ref>۔ تاہم بعض پژوهشگران نے خطابیہ افکار کی اشاعت میں ان کے فعال کردے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں خطابیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان کڑی قرار دیا ہے<ref>سبحانی، بی تا، ج 8، ص54.</ref>۔ اور درحقیقت اسماعیلیہ کی جڑوں کو خطابیہ سے منسوب کرتے ہوئے میمون بن دیصان، اس کے بیٹے عبداللہ بن میمون اور اس کے مشہور شاگرد دندان کے کردار کا ذکر کیا ہے<ref>همان، ج‏8، ص55.</ref>۔


== ابوالخطاب کا قتل ==
== ابوالخطاب کا قتل ==
بالآخر، ابوالخطاب منصور عباسی (132-158ھ) کے دور میں اور 138 ہجری میں<ref>طوسی، 1348، ص296.</ref>، شاید اپنے عقائد کی ترویج یا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قیام کا ارادہ کیا۔ اس نے کوفہ کے [[مسجد کوفہ]] میں اپنے 70 ساتھیوں کے ہمراہ اپنا قیام علانیہ کر دیا اور منصور کے حکم پر ابوجعفر منصور عباسی کے عامل عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کر کے [[کوفہ]] کے کناسے میں پھانسی دے دی<ref>نوبختی، 1404ق، ص70.</ref>۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کرنے کے لیے [[مسجد]] (کوفہ) میں اپنے کچھ ساتھیوں کو بھیجا۔ ابوالخطاب کے پیروکاروں اور عیسیٰ بن موسیٰ کی افواج کے درمیان شدید [[جنگ]] ہوئی۔ اس جھڑپ میں ابوالخطاب کے ساتھیوں نے ہتھیاروں کے بجائے سرکنڈوں کا استعمال کیا۔ ابوالخطاب نے ان سے کہا تھا: تمہارے سرکنڈے نیزوں اور دیگر ہتھیاروں کا کام دیں گے اور ان کے ہتھیار تم پر اثر نہیں کریں گے! جب ان میں سے 30 افراد مارے گئے اور ابوالخطاب کے دعویٰ کی غلطی ثابت ہو گئی، تو باقی بچ جانے والے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا، جس کے جواب میں اس نے کہا: اگر تمہارے بارے میں [[بداء]] ہو گیا ہے تو میرا کیا گناہ ہے<ref>اشعری قمی، 1360، ص81ـ82؛ نوبختی، 1404ق، ص70.</ref>؟ یہ بیان ابوالخطاب کے بداء کے بارے میں فریب آمیز عقیدے کی نشانی ہے۔
بالآخر، ابوالخطاب منصور عباسی (132-158ھ) کے دور میں اور 138 ہجری میں<ref>طوسی، 1348، ص296.</ref>، شاید اپنے عقائد کی ترویج یا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قیام کا ارادہ کیا۔ اس نے کوفہ کے مسجد کوفہ میں اپنے 70 ساتھیوں کے ہمراہ اپنا قیام علانیہ کر دیا اور منصور کے حکم پر ابوجعفر منصور عباسی کے عامل عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کر کے کوفہ کے کناسے میں پھانسی دے دی<ref>نوبختی، 1404ق، ص70.</ref>۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کرنے کے لیے [[مسجد]] (کوفہ) میں اپنے کچھ ساتھیوں کو بھیجا۔ ابوالخطاب کے پیروکاروں اور عیسیٰ بن موسیٰ کی افواج کے درمیان شدید [[جنگ]] ہوئی۔ اس جھڑپ میں ابوالخطاب کے ساتھیوں نے ہتھیاروں کے بجائے سرکنڈوں کا استعمال کیا۔ ابوالخطاب نے ان سے کہا تھا: تمہارے سرکنڈے نیزوں اور دیگر ہتھیاروں کا کام دیں گے اور ان کے ہتھیار تم پر اثر نہیں کریں گے! جب ان میں سے 30 افراد مارے گئے اور ابوالخطاب کے دعویٰ کی غلطی ثابت ہو گئی، تو باقی بچ جانے والے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا، جس کے جواب میں اس نے کہا: اگر تمہارے بارے میں [[بداء]] ہو گیا ہے تو میرا کیا گناہ ہے<ref>اشعری قمی، 1360، ص81ـ82؛ نوبختی، 1404ق، ص70.</ref>؟ یہ بیان ابوالخطاب کے بداء کے بارے میں فریب آمیز عقیدے کی نشانی ہے۔


== مصادر ==
== مصادر ==
* [http://tarikh.nashriyat.ir/node/697 ویب سائٹ سے ماخوذ]، مواد درج کرنے کی تاریخ: 1 اسفند 1392 ہجری شمسی، مواد دیکھنے کی تاریخ: 30 بہمن 1400 ہجری شمسی۔
* [http://tarikh.nashriyat.ir/node/697 امام خمینی تحقیقاتی مرکز ویب سائٹ سے ماخوذ]، مواد درج کرنے کی تاریخ:20/فروری/20214ء، مواد دیکھنے کی تاریخ: 17/مئی/2026ء۔


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
سطر 65: سطر 78:
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:تاریخی شخصیات]]
[[زمرہ:تاریخی شخصیات]]
[[fa: ابوالخطاب]]

حالیہ نسخہ بمطابق 18:33، 17 مئی 2026ء

ابوالخطاب
پورا نامابوالخطاب محمد بن ابی زینب (یا محمد بن ابی ثور یا محمد بن ابی یزید) مقلاص اسدی
دوسرے نامابوالخطاب، ابواسماعیل، ابوالطیبات (یا ابوالظیبات، ابوالظیبان)، بَرّاد، اَجدَع
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہکوفه
وفات755 ء
وفات کی جگہکوفه
مذہباسلام، شیعہ
مناصب
  • غالی فرقه خطابیه اور اسماعلیه کے بانی

محمد بن ابی زینب مقلاص اسدی ملقب به ابوالخطاب ہے جس کی طرف غالی فرقہ خطابیہ منسوب ہے۔ انہیں اسماعیلیہ کے بانیوں میں سے ایک اور نیز مقدس سلسلہ نصیریہ میں ابواب کے درجے میں شمار کیا گیا ہے۔ بعض مصادر میں انہیں کنیت ابواسماعیل سے یاد کیا گیا ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ انہیں اسماعیل بن جعفر کا روحانی باپ سمجھتے ہیں۔ وہ قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتے تھے اور کوفہ میں رہائش پذیر تھے۔

شیخ کلینی کی روایت کے مطابق جو فروع کافی میں موجود ہے، ابوالخطاب غلو کی طرف مائل ہونے سے پہلے جعفر بن محمد (صادقؑ) کے اہم اصحاب میں سے تھے اور کوفہ سے مدینہ جا کر اصحاب امام صادق (علیہ السلام) کے سوالات لے جاتے تھے اور امام سے حاصل شدہ جوابات اصحاب تک پہنچاتے تھے۔

ابوالخطاب کے غلو آمیز خیالات کو امام صادق (علیہ السلام) نے سختی سے رد کیا اور مختلف مواقع پر ان پر لعنت بھیجی اور انہیں کافر، مشرک اور خدا کا دشمن قرار دیا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابوالخطاب امام صادق پر جھوٹ باندھتے تھے،

امام کے اصحاب کی کتابوں میں تحریف کرتے تھے اور اپنی طرف سے احادیث گھڑ کر امام صادق کے نام پر ان کتابوں میں شامل کر دیتے تھے۔ اسی وجہ سے بعض اصحاب اپنی کتابیں امام کی پیش کرتے تھے تاکہ ان کی احادیث کی صحت امام کی نظر سے گزر جائے۔ شاید اسی وجہ سے عقائد اور کتابوں کی امام پر پیشی ایک سنت کے طور پر رائج ہوئی تاکہ امام درست کو غلط سے الگ کر سکیں اور عقائد کی تنقیح فرما سکیں۔

ابوالخطاب کا نام اور کنیت

ابوالخطاب کا نام محمد بن مقلاص بن ابی زینب اسدی کوفی (موالی بنی اسد) ہے۔ علامہ حلی نے خلاصۃ الاقوال میں ان کا نام مقلاص ذکر کیا ہے[1]۔ جیسا کہ سید ابوالقاسم خویی اور آیت اللہ سبحانی نے وضاحت کی ہے کہ ان کا نام مقلاص نہیں بلکہ ان کے والد کا نام مقلاص اور اپنا نام محمد ہے[2]۔

بہت سے مصادر میں ان کے والد کا نام 'صاد' کے ساتھ مقلاص لکھا گیا ہے، لیکن رجال طوسی میں 'سین' کے ساتھ آیا ہے[3]۔ ابن داؤد نے بھی اپنی کتاب رجال میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے[4]۔ بعض مصادر میں ان کے نام کے بعد اَجدَع، بزّاز (کپڑا بیچنے والا)، زرّاد (زرہ بنانے والا) اور برّاد (بُرد بیچنے والا) جیسے القاب ذکر کیے گئے ہیں۔ یہ القاب بنیادی طور پر ان کے پیشے اور سماجی حیثیت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ کنیت ابوالخطاب کے علاوہ ان کی دیگر کنیتوں میں ابواسماعیل[5] اور ابوالظبیان[6] کا بھی ذکر ملتا ہے۔

انحراف سے قبل ابوالخطاب کی شخصیت

ابوالخطاب ابتدا میں امام صادق (علیہ السلام) کے اصحاب میں سے تھا[7] اور اسے بلند مرتبہ و مقام حاصل تھا[8]، یہاں تک کہ بعض اوقات ائمہ اطہار علیہم السلام نے اس کی تعریف بھی فرمائی ہے۔

ابن غضائری کے اس قول سے کہ: «... حدثنا ابوالخطاب فی ایام استقامته» (ابوالخطاب نے ہم سے اپنے دورِ استقامت میں حدیث بیان کی)، یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ابوالخطاب کچھ عرصے تک ہدایت کے راستے پر قائم رہا[9]۔ ائمہ معصومین علیہم السلام کی احادیث میں اس کے عاریتی ایمان کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ ابتدائی مراحل میں وہ منحرف نہیں تھا[10]۔

مذکورہ مصادر میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے شیعیانِ کوفہ کے بعض سوالات امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں لے جاتا تھا اور حضرت کے جوابات ان تک (کوفہ میں) پہنچاتا تھا۔ علی بن عقبہ کہتا ہے: «کان ابوالخطاب قبل أن یفسد، هو یحمل المسائل لاصحابنا و یجیی بجواباتها» (ابوالخطاب فساد سے پہلے ہمارے اصحاب کے سوالات لے جاتا اور ان کے جوابات لے کر آتا تھا)[11]۔

ابن ابی عمیر سے بھی روایت منقول ہے کہ: جب شیعیان پر وہ واقعات پیش آئے (جو ابوالخطاب کے انحراف سے متعلق ہیں)، تو وہ امام صادق (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حضرت سے درخواست کی کہ وہ ان کے لیے ایسی شخصیت کا تعین فرمائیں جس سے وہ دین اور شرعی احکام کے امور میں رہنمائی حاصل کر سکیں[12]۔

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ابوالخطاب اپنے انحراف سے پہلے امام صادق (علیہ السلام) کی جانب سے شیعیان کا معتمد شخص قرار پایا تھا تاکہ لوگ اپنے سوالات اس سے دریافت کریں۔ ایک اور روایت کے مطابق، حمران بن اعین نے امام صادق (علیہ السلام) سے ایک سوال کرتے ہوئے اسے قابل اعتماد شخص قرار دیا ہے[13]۔ قاضی نعمان مغربی نے بھی اسے (اپنے انحراف سے قبل) امام صادق (علیہ السلام) کا داعی قرار دیا ہے۔ [14]۔

علامہ مجلسی کی نقل کے مطابق، شیعیان نے ابوالخطاب سے بہت سی روایات نقل کی ہیں[15]۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ابوالخطاب کی روایات، اس کے انحراف سے قبل یا دوسرے الفاظ میں اس کے دورِ استقامت میں، مقبول ہیں یا نہیں؟ ابن غضائری ان روایات کو قبول نہیں کرتا[16]۔

علامہ حلی نے بھی «خلاصۃ الاقوال» میں ابوالخطاب کے غلو اور اس پر لعنت بھیجنے کا ذکر کرتے ہوئے ابن غضائری کی رائے نقل کی ہے اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا[17]۔

لیکن شیخ طوسی نے ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات کو قبول کیا ہے[18]۔ علامہ مجلسی نے بھی اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہ: اگر اس کے دورِ انحراف کی کوئی روایت کسی اور نے بھی نقل کی ہو تو وہ قبول کی جائے گی[19]۔ آیت اللہ خوئی نے بھی شیخ طوسی کے کلام «عدۃ الاصول» کی بنیاد پر لکھا ہے: «... لہذا، محمد بن ابی زینب اپنے انحراف سے قبل قابل اعتماد ہے»[20]۔ انہوں نے اس سلسلے میں کئی روایات کو دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ابوالخطاب کی انحراف سے قبل کی روایات قابل قبول ہیں، لیکن یہ تعین کرنا مشکل معلوم ہوتا ہے کہ اس کی کون سی روایات انحراف سے قبل صادر ہوئی ہیں۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کے دورِ استقامت اور دورِ انحراف کے درمیان حد و فاصل بالکل واضح نہیں ہے[21]۔

بلاشبہ، وہ امام باقر علیہ السلام کے دور اور امام صادق (علیہ السلام) کے دور کے ابتدائی حصے میں منحرف نہیں تھا۔ لہٰذا، اگر کوئی روایت امام باقر (علیہ السلام) کے دور یا امام صادق (علیہ السلام) کے دورِ اوائل میں نقل کی گئی ہو، یا یہ تصریح کی گئی ہو کہ فلاں روایت اس کے دورِ استقامت میں نقل ہوئی ہے، تو وہ قابل قبول ہوگی۔

ابوالخطاب کے انحراف کا آغاز

مصادر کی نقل کے مطابق، ابوالخطاب نے خود کو امام صادق (علیہ السلام) اور آپ کے یاران سے جوڑ رکھا تھا[22]۔ وہ اپنے غلو آمیز عقائد کا اظہار کرنے سے پہلے، امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں حاضر ہو کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا تھا

کہ امام صادق (علیہ السلام) بعض اسرار اپنے یاران سے چھپاتے ہیں لیکن ابوالخطاب کو ان امور سے آگاہ کرتے ہیں۔ ابن اثیر نے ابوالخطاب اور اس جیسے دیگر فریب کاروں کے غلو آمیز کلام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: انہوں نے خود کو آل محمد کی شیعت کا دعویٰ دار ٹھہرایا

تاکہ تشیع کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کر سکیں، عوام کو اپنی طرف مائل کریں اور شہروں کے لوگوں پر قبضہ کر لیں۔ انہوں نے زہد، تقویٰ اور عبادت کا بھی ظاہر کیا تاکہ لوگوں کو دھوکہ دے سکیں، حالانکہ وہ خود ان کے مخالف تھے[23]۔

معاویہ بن حکیم اپنے جد سے روایت کرتا ہے: میں امام صادق (علیہ السلام) کی مجلس میں موجود تھا، ابوالخطاب بھی وہاں حاضر تھا۔ جب سب لوگ چلے گئے... تو ابوالخطاب نے مجھ سے بھی باہر جانے کو کہا، لیکن امام ہر بار فرماتے: «اس کا مجھ سے کوئی کام ہے»۔ ایک بار وہ امام کے قریب ہوا اور حضرت کی داڑھی مبارک کو ہاتھ لگایا۔ پھر ابوالخطاب باہر چلا گیا۔ امام صادق (علیہ السلام) نے مجھ سے فرمایا: «ابوالخطاب یہ کہنا چاہتا ہے کہ امام مجھے آگاہ کرتے ہیں لیکن تم سے چھپاتے ہیں؛ وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے زیادہ قریب ہے۔ میرے یاران کو یہ بات کہہ دو...»[24]۔ یہ روایت اس بات کی عکاس ہے کہ ابوالخطاب نے امام صادق (علیہ السلام) کے قریب ہو کر آپ کے یاران کو دھوکہ دینے اور خود کو حضرت کا رازدان ظاہر کرنے کی کوشش کی۔

بلاشبہ ابوالخطاب کا انحراف امام صادق (علیہ السلام) کے دور سے شروع ہوا ہے۔ لہٰذا، صفار اور محمد بن یعقوب کلینی کی وہ روایت جو ابوالخطاب کے انحراف کو امام باقر (علیہ السلام) کے دور سے منسوب کرتی ہے، درست نہیں ہے۔ امام باقر (علیہ السلام) نے اس روایت میں ابوالخطاب کی ہلاکت کی وجہ «محدث» اور «نبی» کی تاویل سے ناواقفیت کو قرار دیا ہے[25]۔

ابوالخطاب اور اسماعیلیہ

اگرچہ بعض مصنفین نے اسماعیلیہ کو ہی خطابیہ قرار دیا ہے[26]، لیکن بعض محققین نے ابوالخطاب اور اسماعیل بن جعفر صادق (علیہ السلام) کے درمیان گہرے تعلق اور ابوالخطاب کے اسماعیل پر اثر و رسوخ کے امکان کی تردید کی ہے[27]۔ بعض دیگر مصادر نے اسماعیلیہ فرقے کا تعلق عبداللہ بن میمون، معروف بہ قداح سے جوڑا ہے۔ ابن ندیم کے بقول، جسے اسماعیلیہ فرقے کا بانی کہا جاتا ہے، وہ اپنے والد کے ہمراہ ابوالخطاب کے پیروکار تھے[28]۔ اگرچہ کشی کی روایت کے مطابق امام باقر (علیہ السلام) نے ان کی تعریف کی ہے[29]۔ تاہم بعض پژوهشگران نے خطابیہ افکار کی اشاعت میں ان کے فعال کردے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں خطابیہ اور اسماعیلیہ کے درمیان کڑی قرار دیا ہے[30]۔ اور درحقیقت اسماعیلیہ کی جڑوں کو خطابیہ سے منسوب کرتے ہوئے میمون بن دیصان، اس کے بیٹے عبداللہ بن میمون اور اس کے مشہور شاگرد دندان کے کردار کا ذکر کیا ہے[31]۔

ابوالخطاب کا قتل

بالآخر، ابوالخطاب منصور عباسی (132-158ھ) کے دور میں اور 138 ہجری میں[32]، شاید اپنے عقائد کی ترویج یا اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے قیام کا ارادہ کیا۔ اس نے کوفہ کے مسجد کوفہ میں اپنے 70 ساتھیوں کے ہمراہ اپنا قیام علانیہ کر دیا اور منصور کے حکم پر ابوجعفر منصور عباسی کے عامل عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کر کے کوفہ کے کناسے میں پھانسی دے دی[33]۔ کہا جاتا ہے کہ عیسیٰ بن موسیٰ نے اسے گرفتار کرنے کے لیے مسجد (کوفہ) میں اپنے کچھ ساتھیوں کو بھیجا۔ ابوالخطاب کے پیروکاروں اور عیسیٰ بن موسیٰ کی افواج کے درمیان شدید جنگ ہوئی۔ اس جھڑپ میں ابوالخطاب کے ساتھیوں نے ہتھیاروں کے بجائے سرکنڈوں کا استعمال کیا۔ ابوالخطاب نے ان سے کہا تھا: تمہارے سرکنڈے نیزوں اور دیگر ہتھیاروں کا کام دیں گے اور ان کے ہتھیار تم پر اثر نہیں کریں گے! جب ان میں سے 30 افراد مارے گئے اور ابوالخطاب کے دعویٰ کی غلطی ثابت ہو گئی، تو باقی بچ جانے والے ساتھیوں نے اس پر اعتراض کیا، جس کے جواب میں اس نے کہا: اگر تمہارے بارے میں بداء ہو گیا ہے تو میرا کیا گناہ ہے[34]؟ یہ بیان ابوالخطاب کے بداء کے بارے میں فریب آمیز عقیدے کی نشانی ہے۔

مصادر

حوالہ جات

  1. حلی، 1417ق، ص 429۔
  2. خویی،1413ق، ج 15، ص 272؛ سبحانی، 1414ق، ص 441۔
  3. طوسی، 1415ق، ص 296۔
  4. حلی، 1392ق، ص 276۔
  5. طوسی، 1348، ص290۔
  6. مجلسی، 1363، ج‏75، ص290؛ خویی، 1413ق، ج15، ص256۔
  7. برقی، 1342، ج1، ص10؛ طوسی، 1415ق، ص296.
  8. مجلسی، 1363 ج66، ص220.
  9. ابن غضائری، 1422ق، ص88.
  10. کلینی، 1362، ج2، ص418؛ طوسی، 1348، ص296؛ طبری، 1413ق، ص330.
  11. کلینی، 1362، ج5، ص150؛ طوسی، 1365، ج1، ص4.
  12. خوئی، 1413ق، ج 19، ص 318.
  13. صفار، 1404ق، ص 258و452.
  14. قاضی نعمان، 1383ق، ج1، ص49.
  15. مجلسی، ‏ 1363، ج ‏53، ص 39.
  16. ابن غضائری، 1422ق، ص88.
  17. حلی، 1417ق، ص392.
  18. طوسی، 1417ق، ج‏1، ص151.
  19. مجلسی،1363، ج‏53، ص39.
  20. خوئی، 1413ق، ج15، ص271.
  21. کاوند، 1382، ص109.
  22. شہرستانی، 1364، ج1، ص210.
  23. ابن اثیر، 1385ق، ‏ج 8، ص28.
  24. طوسی، 1348، ص295.
  25. صفار، 1404ق، ص320؛ کلینی، 1362، ج‏1، ص270.
  26. نوبختی، 1404ق، ص 69؛ اشعری قمی، 1360، ص 81.
  27. موسوی بجنوردی، 1372، ج5، ص435.
  28. ابن ندیم، 1350، ص264.
  29. طوسی، 1348، ص246.
  30. سبحانی، بی تا، ج 8، ص54.
  31. همان، ج‏8، ص55.
  32. طوسی، 1348، ص296.
  33. نوبختی، 1404ق، ص70.
  34. اشعری قمی، 1360، ص81ـ82؛ نوبختی، 1404ق، ص70.