مندرجات کا رخ کریں

صدائے ابابیل!(نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے

صدائے ابابیل!اسلامی جمہوریہ ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکیاں دینے والا اور تہذیب کو بے نشان کرنے کی مجرمانہ نیت ظاہر کرنے والا بدتہذیب انسان کیا جانے کہ تاریخ اپنے نوشتے میں اسے مجرم قرار دے چکی ہے [1]۔

مقدمہ

اسلامی جمہوریہ ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے کی دھمکیاں دینے والا اور تہذیب کو بے نشان کرنے کی مجرمانہ نیت ظاہر کرنے والا بدتہذیب انسان کیا جانے کہ تاریخ اپنے نوشتے میں اسے مجرم قرار دے چکی ہے۔

ہماری تہران یونیورسٹی کے درختوں کی تاریخ امریکی تاریخ سے زیادہ پرانی ہے

شہید صدر آیت الله رئیسی کی زوجہ جو خود پی ایچ ڈی ڈاکٹر، مجتہدہ اور عالمہ ہیں کراچی میں کیا خوب جملہ نذر سامعین کیا مسکراتے ہوئے کہنے لگیں کہ ہماری تہران یونیورسٹی کے درختوں کی تاریخ امریکی تاریخ سے زیادہ پرانی ہے۔

چھ ہزار سال پرانی تہذیب کو پتھر کے زمانے میں بھیجنے والا خود پتھر کے زمانے کا آدمی ہے۔

امریکہ انسانی تہذیب کی تاریخ میں بحری قزاق اور شب خون مارتے ان لٹیروں کی تاریخ ہے جنہوں نے ایک عرصے تک سمندری راستوں پر رہزنی اور لوٹ مار کے بعد باقاعدہ ایک سوسائٹی کی بنیاد رکھی۔

انسانی اخلاقیات کے آداب سے ناواقف یہ طاقتور لٹیرے اب بھی انسانی سماج میں اپنی صدیوں پر مشتمل دہشت گرد ذہنیت کا زہر پھیلا رہے ہیں۔

انسانی سماج اس وقت ان کی لوٹ مار کے مجرمانہ عزائم کی زد میں ہے اور ایران کی مثال اس لٹتے ہوئے مسافر کی ہے جو پلٹ کر راہزن پر حملہ آور ہوتا ہے

اور اپنی جمع پونجی کو بچانے کے لیے اپنی جان داؤ پہ لگا دیتا ہے کچھ لوگوں کے نزدیک ایسے لٹیروں کے مقابل اپنی جان بچانا زیادہ اہم ہے مگر کچھ لوگ سمجھوتے کی بجائے مزاحمت پر یقین رکھتے ہیں اور ان کے نزدیک مزاحمت ہی زندگی ہے!!!

ایک آزاد پروقار باعزت اور پر افتخار زندگی!!

اپنی پونجیاں لٹانے والے زندہ تو رہتے ہیں مگر رہزنوں کے خوف اور بربریت سے آزاد نہیں رہ سکتے۔

میرے نزدیک ساری زندگی خوف کے سائے میں گزارنے کی بجائے لٹیروں اور راہزنوں کا مقابلہ زیادہ بہتر ہے۔ اس وقت انسانی تہذیب کا بدترین دشمن انسان کی قدیم ترین تہذیب پر حملہ آور ہے؛ یہاں مجھے ڈائریکٹر جنرل ثقافتی سینٹر ایران ڈاکٹر سعید طالبی نیا کا وہ جملہ یاد آ رہا ہے

جو انہوں نے کسی محفل میں کہا کہ لوگ اپنے ملکوں کے وجود میں آنے کا دن مناتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں یہ دن نہیں منایا جاتا کیونکہ اتنی طویل ترین تہذیبی زندگی میں ابتدا کا تعین مشکل ہے۔

انسانی تہذیب کے اس قدیم ترین ورثے کی حفاظت عالم انسانیت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ مذہبی تہذیب کو کھنگالا جائے تو یہ خطہ ہمیشہ سے علم و حکمت کا گہوارہ رہا ہے

اہل تسنن کے باعظمت ترین آئمہ جن میں امام نسائی، امام ترمذی، امام ابو حنیفہ اور امام بخاری جیسی مقتدر شخصیات بھی اسی خطے سے متعلق تھیں اورمکتبِ تشیع کی بھی فکری اور نظریاتی بنیادوں کا امین یہی خطہ ہے۔

اس وقت بھی یہ خطہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ظالم کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہے اور مَن یَکفُر بِالطاغُوت کی توحیدی تفسیر پیش کر رہا ہے[2]۔


متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. تحریر: محترمہ معصومہ شیرازی
  2. صدائے ابابیل!- شائع شدہ از: 8 اپریل 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 9 اپریل 2026ء