جنگ جمل

جنگ جمل، مسلمانوں کے درمیان امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی جنگ تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ اور طلحہ اور زبیر کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔
بعض صحابہ جن میں طلحہ زبیر اور عائشہ شامل تھے ان کی جانب سے بیعت توڑنا اور امام علی علیہ السلام کی حکومت کی مخالفت کرنا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کو اس مخالفت کا سبب قرار دینا اس جنگ کے وجود میں آنے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔
جنگ کے اسباب
جنگ جمل کے وجود میں آنے کے مختلف اسباب تھے جن کا ذکر درج ذیل ہے
طلحہ اور زبیر کی بیعت شکنی
امام علی علیہ السلام نے پینتیس ہجری کے ماہ ذی الحجہ میں مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے اصرار اور اتفاق رائے کے بعد اپنی باطنی خواہش کے برخلاف خلافت کی ذمہ داری قبول کی زیادہ تر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی سوائے ان چند افراد کے جو عثمانی رجحان رکھتے تھے مخالفین میں سے کچھ لوگ شام اور مکہ کی طرف چلے گئے۔
طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام صحابہ کے دو معروف افراد تھے اور خود بھی حکومت سنبھالنے کے امیدواروں میں شامل تھے انہوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کی۔
کہا گیا ہے کہ طلحہ سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا اور چونکہ اس کا ہاتھ شل تھا اس لیے کسی شخص نے اسے بدشگونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا[1] طلحه و زبیر که نخست چشم به خلافت دوخته بودند [2] [3] [4] وقتی موفق نشدند و خلافت به امام علی (علیهالسلام) رسید، انتظار داشتند که با حضرت در خلافت شریک شوند یا دستکم به فرمانروایی ولایات برسند. آن دو از علی (علیهالسلام) خواستند که امارت و حکومت بصره و کوفه (یا عراق و یمن) را به آنان دهد، ولی امام آنان را شایسته این کار ندانست. [5][6][7]۔
طلحہ اور زبیر ابتدا میں خلافت کے امیدوار تھے جب وہ کامیاب نہ ہوسکے اور خلافت امام علی علیہ السلام کو مل گئی تو انہیں توقع تھی کہ وہ امام کے ساتھ خلافت میں شریک ہوں گے یا کم از کم انہیں کسی علاقے کی حکومت دی جائے گی۔
ان دونوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ بصرہ اور کوفہ یا عراق اور یمن کی حکومت انہیں دے دی جائے لیکن امام نے انہیں اس کام کے لیے اہل نہیں سمجھا۔
امام علی علیہ السلام کے خلیفہ بننے کے تقریباً چار ماہ بعد طلحہ اور زبیر نے محسوس کیا کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد لوگ ان سے دور ہوگئے ہیں اور مدینہ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چنانچہ انہوں نے امام سے عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے کی اجازت طلب کی۔
امام نے فرمایا شاید تم شام یا عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا صرف عمرہ کا ارادہ ہے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کوئی فساد یا فتنہ برپا نہیں کریں گے اور اپنی بیعت نہیں توڑیں گے
امام نے انہیں اجازت دے دی اور وہ تیزی سے مکہ روانہ ہوگئے اس کے باوجود امام نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے لیے نہیں جارہے بلکہ کسی فریب اور سازش کا ارادہ رکھتے ہیں [8][9][10][11][12]
طلحہ اور زبیر کا عائشہ کے ساتھ اتحاد
طلحہ اور زبیر نے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے عائشہ سے درخواست کی جو عثمان کے قتل سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ گئی ہوئی تھیں کہ وہ عثمان کا بدلہ لینے اور ان کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوجائیں کیونکہ عثمان کے قاتل اب امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور فوجی کمانڈر بن گئے تھ کچھ عرصے کے بعد عائشہ نے ان کی درخواست قبول کرلی [13][14][15][16]
طلحہ اور زبیر نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوی کرتے ہوئے امام کی اطاعت سے انکار کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگئے لیکن امام علی علیہ السلام کے قول کے مطابق[17] وہ خود عثمان کے قاتلوں میں شامل تھے [18] آنان ادعا میکردند که توبه کردهاند و برای جبران گناه خویش میخواهند انتقام خون عثمان را که به ستم کشته شده است بگیرند و کار خلافت مسلمانان را به شورایی مانند شورای عمر، واگذارند و بین آنان صلح ایجاد کنند. آن دو از عایشه نیز خواستند که این مطالب را به مردم اعلام کند. [19][20][21][22]
ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے گناہ کی تلافی کے لیے عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے تھے۔
وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی خلافت کا معاملہ عمر کی شوری کی طرح ایک شوری کے سپرد کردیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان صلح قائم کی جائے انہوں نے عائشہ سے بھی کہا کہ وہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں
طلحہ اور زبیر نے اپنی بیعت شکنی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انہوں نے خوف اور مجبوری کی حالت میں بیعت کی تھی اس لیے وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اطاعت کے پابند نہیں ہیں [23][24][25][26][27] امام فرمود که زبیر میپندارد با دستش بیعت کرده است، نه با دلش، پس به بیعت اقرار و به خروج از آن ادعا میکند و باید برای ادعای خود دلیلی درست بیاورد. [28]
امام نے فرمایا کہ زبیر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے بیعت کی ہے دل سے نہیں اس لیے وہ بیعت کا اقرار بھی کرتا ہے اور اس سے نکلنے کا دعوی بھی کرتا ہے لہذا اسے اپنے دعوے کے لیے صحیح دلیل پیش کرنی چاہیے۔
طلحہ بنی تیم سے تعلق رکھتا تھا اور ابوبکر کا ہم قبیلہ تھا وہ بھی زبیر کی طرح خلافت کی خواہش رکھتا تھا اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اہمیت نہیں دیتا تھا[29] همچون زبیر آرزوی خلافت داشت و هر یک دیگری را به حساب نمیآورد. [30]
عثمان کا خون کا بدلہ
عثمان کے قتل کے وقت عائشہ مکہ میں تھیں انہیں گمان تھا یا انہیں یہ خبر پہنچی تھی کہ عثمان کے قتل کے بعد طلحہ خلیفہ بن گیا ہے چنانچہ وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں لیکن راستے میں جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کرلی ہے تو وہ مکہ واپس آگئیں ۔
انہوں نے اس بات پر اظہار ندامت کیا کہ انہوں نے پہلے لوگوں کو عثمان کے خلاف ابھارا تھا اور اعلان کیا کہ عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے امیرالمؤمنین کی مخالفت کرنے اور مدینہ کے شورش پسندوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی دعوت دی۔
جب ان سے اعتراض کیا گیا کہ آپ ہی لوگوں کو عثمان کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ عثمان نے توبہ کرلی تھی اور اس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا [31][32][33][34][35]
ناکثین کا اتحاد
زبیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کی پھوپھی کے بیٹے اور عائشہ کے بہنوئی تھے ان کے بیٹے عبداللہ نے عائشہ کو طلحہ اور زبیر کے ساتھ شامل کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا [36][37] عایشه خود از علی (علیهالسلام) کینه داشت [38] [39][40][41][42][43]۔
عائشہ کو امام علی علیہ السلام سے عداوت تھی اور یہی امر طلحہ اور زبیر کے ساتھ ان کے شامل ہونے میں مؤثر تھا
طلحہ اور زبیر اور دیگر علیحدگی پسند جانتے تھے کہ عائشہ کے بغیر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ام المؤمنین اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں اور لوگوں کے درمیان انہیں خاص مقام حاصل تھا چنانچہ انہوں نے عائشہ کی رضامندی حاصل کرکے اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اہم قدم اٹھایا[44][45]
عبداللہ بن عامر حضرمی جو مکہ میں عثمان کا عامل تھا سب سے پہلے عائشہ کی دعوت پر لبیک کہنے والا شخص تھا اس کے بعد وہ اموی افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے جو عثمان کے قتل کے بعد مکہ فرار ہوگئے تھے ان میں سعید بن عاص مروان بن حکم عبدالرحمان بن عتاب مغیرہ بن شعبہ اور ولید بن عقبہ شامل تھے۔
مغیرہ لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دیتا تھا عبداللہ بن عامر بن کریز اور یعلی بن امیہ بھی بہت سے مال اور اونٹوں کے ساتھ یمن سے ان کے پاس پہنچے بعض روایات کے مطابق وہ چھ سو اونٹ اور چھ لاکھ درہم یا دینار لے کر آئے تھے۔
یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔
جنگ جمل سے پہلے کے واقعات
جنگ جمل سے پہلے کئی ایسے واقعات پیش آئے جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے
مخالفین کی بصرہ کی طرف روانگی
مخالفین نے عبداللہ بن عامر کی تجویز پر اتفاق کیا کہ بصرہ کی طرف روانہ ہوں گے جبکہ عائشہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کی طرف جایا جائے کیونکہ وہ اہل مدینہ کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اس کے علاوہ بصرہ کے لوگ طلحہ اور زبیر کے حامی تھے اور عبداللہ بن عامر کے بھی وہاں ساتھی موجود تھے طلحہ اور زبیر کو امید تھی کہ عائشہ اہل مکہ کی طرح اہل بصرہ کو بھی امام علی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیں گی۔
انہوں نے ایک مسلح لشکر تیار کیا اور منادی نے اعلان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ اور طلحہ و زبیر بصرہ کی طرف جا رہے ہیں لہذا جو شخص اسلام کی عزت اور گناہ گاروں سے جنگ اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا خواہش مند ہو وہ ان کے ساتھ روانہ ہو جائے آخرکار تین ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر روانگی کے لیے تیار ہوا جن میں نو سو افراد مدینہ اور مکہ کے رہنے والے تھے [46][47][48][49][50][51]
معاویہ بھی جو شام کی حکومت اپنے اختیار میں رکھتا تھا اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوے دار تھا اس نے زبیر کو خط لکھا اور جھوٹے طور پر ان سے کہا کہ وہ شام کی طرف چلے آئیں تاکہ وہ اور وہاں کے لوگ ان سے بیعت کریں [52]
رسول خدا کی ازواج کا موقف
بزرگان صحابہ کے نزدیک عائشہ کا خروج سورہ احزاب کی آیت تینتیس کی صریح مخالفت تھی جس میں واضح طور پر رسول خدا کی ازواج کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے [53][54][55][56][57]
رسول اکرم کی ازواج میں حفصہ عائشہ کی رائے کی پیروی کرتے ہوئے ان کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن ان کے بھائی عبداللہ بن عمر نے انہیں روک دیا [58][59] ام سلمہ نے لوگوں کو تقوائے الہی اور علی کی پیروی کی دعوت دی اور انہوں نے عائشہ کو بھی پیمان شکنوں کے ساتھ جانے سے روکنے کی کوشش کی انہوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ تم عثمان کے خلاف سب سے زیادہ سخت موقف رکھنے والوں میں تھیں اور انہیں علی کی ولایت اور خلافت کے بارے میں رسول خدا کے ارشادات بھی یاد دلائے [60]لیکن عائشہ نے یہ کہہ کر ان کی نصیحت قبول نہیں کی کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے نکلی ہیں اور عثمان کے بارے میں اپنے رویے کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی ہیں [61][62][63]
اس کے بعد ام سلمہ نے علی کو خط لکھ کر مخالفین کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور اپنے بیٹے عمر کو بھی امام کی مدد کے لیے بھیجا بعض روایات میں لکھا ہے کہ رسول خدا کے چچا عباس کی اہلیہ ام فضل نے بھی امام کو خط لکھا [64]تھا ابن اعثم کوفی نے ام سلمہ اور ام فضل دونوں کے خطوط کا ذکر کیا ہے جبکہ ابن قتیبہ دینوری نے ایک خط کی نسبت قثم بن عباس کی طرف دی ہے[65])
مخالفین کے ساتھ امام علی کا موقف
امام علی معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف جنگ کے لیے شام کی طرف لشکر کشی کی تیاری کر رہے تھے کہ مکہ کے لوگوں کی مخالفت کی خبر مدینہ پہنچی حضرت نے اس موقع پر فرمایا کہ اگر وہ صرف اسی حد تک مخالفت اور اعتراض پر اکتفا کریں گے تو آپ ان کے ساتھ کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے [66]
لیکن جب یہ خبر پہنچی کہ مخالفین بصرہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو مسلمانوں کا نظام منتشر ہو جائے گا آپ نے مزید فرمایا کہ ان کا ہمارے درمیان رہنا اگرچہ وہ مخالفت اور ناسازگاری ہی کیوں نہ کرتے ہوں ہمارے لیے باعث رنج و تکلیف نہ تھا۔
جنگ کا نام جمل رکھنے کی وجہ
عائشہ عسکر نامی ایک اونٹ پر سوار ہوئیں جسے یعلی بن امیہ نے اسی دینار اور ایک روایت کے مطابق دو سو دینار میں خرید کر ان کے حوالے کیا تھا اسی وجہ سے اس جنگ کو جمل یعنی نر اونٹ کے نام سے موسوم کیا گیا [67][68][69]
بعض سرکردہ افراد کی جنگ سے مخالفت
مغیرہ بن شعبہ ثقفی اور سعید بن عاص جو مکہ سے ایک منزل دور نکل چکے تھے انہوں نے راستے کو جاری رکھنے کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا مغیرہ نے موقع پرستی کی بنیاد پر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور ثقفیوں سے کہا کہ وہ واپس چلے جائیں سعید نے بھی اموی مروان بن حکم سے جو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے اہم دعوے داروں میں سے تھا اور عثمان کا داماد بھی تھا کہا کہ جن لوگوں کی گردنوں پر خون ہے وہ اونٹوں پر سوار ہیں انہیں قتل کرو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور اپنے آپ کو قتل ہونے کے لیے پیش نہ کرو پھر وہ خود مکہ واپس چلا گیا [70]
دوسری طرف عبداللہ بن عمر نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ مدینہ کے لوگوں میں سے ایک شخص ہیں اور انہی کے فیصلے کے تابع ہیں مکہ ہی میں قیام کیا زبیر کے بیٹوں میں سے صرف عبداللہ ان کے ساتھ روانہ ہوا جبکہ طلحہ نے بھی اپنے بیٹے محمد کو ساتھ رکھا[71][72]
عائشہ کا جنگ سے پشیمان ہونا
مکہ اور بصرہ کے درمیان راستے میں حوأب نامی ایک مقام کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کیا جب عائشہ نے ان کتوں کی آواز سنی اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ حوأب کا مقام ہے تو انہیں رسول خدا کی ایک بات یاد آگئی اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا رسول خدا نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں
اس موقع پر عبداللہ بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق طلحہ اور زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مقام حوأب ہے اور بنی عامر کے پچاس افراد کو عائشہ کے پاس لائے ان لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کی بات کی تصدیق میں گواہی دی اور قسمیں کھائیں[73][74][75][76][77]
عائشہ کا بصرہ میں داخل ہونا
شورش پسند بصرہ کے باہر پہنچ گئے عائشہ کی خواہش پر عبداللہ بن عامر ان کی طرف سے ایک خط لے کر بصرہ کے سرداروں کے پاس خفیہ طور پر شہر میں داخل ہوا جبکہ عائشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حفیر یا حفر ابی موسی تک پہنچیں [78][79]
جب بصرہ کے لوگوں کو اس خبر کا علم ہوا تو علی کی طرف سے مقرر کردہ بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف نے عمران بن حصین اور ابوالاسود دؤلی کو عائشہ کے پاس بھیجا تاکہ ان کے آنے اور مخالفت کی وجہ دریافت کریں۔
عائشہ نے کہا کہ اوباش لوگوں نے رسول خدا کے حرم پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیشوا کو ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور محترم اموال کو لوٹ لیا نیز حرام شہر اور حرام مہینے کی حرمت کو پامال کیا میں اس لیے آئی ہوں کہ مسلمانوں کو ان کے کام سے آگاہ کروں اور انہیں بتاؤں کہ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے کیا اقدام کرنا چاہیے
ان دونوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ خدا کے حکم کے مطابق انہیں رسول خدا کی دوسری ازواج کی طرح اپنے گھر میں رہنا چاہیے طلحہ اور زبیر نے بھی کہا کہ وہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آئے ہیں اور ان کی بیعت مجبوری کی حالت میں ہوئی تھی[80][81]
بصرہ میں شورش پسندوں کے اقدامات
امام علی کے حکم سے عثمان بن حنیف کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ شورش پسندوں کو راہ حق کی دعوت دیں اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو امام کے پہنچنے تک ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں [82]
عثمان بن حنیف نے لوگوں سے کہا کہ وہ مسلح ہو کر تیار ہو جائیں عائشہ شورش پسندوں کے ساتھ بصرہ کے ایک بڑے اور مشہور محلے مربد میں [83]داخل ہوئیں اور بصرہ کے کچھ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے طلحہ اور زبیر نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ابھارا اس کے بعد عائشہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ہودج میں بیٹھیں اور بلند آواز سے عثمان کے ناحق قتل ہونے کے بارے میں گفتگو کی اور علی کی مخالفت کرتے ہوئے خلافت کا معاملہ شوری کے سپرد کرنے کی بات کی۔
عثمان بن حنیف کے ساتھیوں میں اختلاف پیدا ہوگیا اور ایک گروہ عائشہ کے ساتھ شامل ہوگیا امام علی کے ساتھی جاریہ بن قدامہ نے عائشہ کو نصیحت کی اور ان سے کہا کہ عثمان کا قتل اس کام سے ہلکا ہے جو تم نے کیا ہے کہ اپنے گھر سے نکل کر اس اونٹ پر سوار ہوگئی ہو اور خود کو ہتھیاروں کا نشانہ بنا کر اپنی پردہ داری اور حرمت کو پامال کر رہی ہو۔
باغیوں اور اہل بصرہ کے درمیان جنگ
حکیم بن جبله عثمان بن حنیف کے سواروں کے سردار تھے انہوں نے اپنے سواروں کے ساتھ عائشہ کے ساتھیوں سے جنگ کی اور اہل بصرہ جو دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے حامی تھے گھروں کی چھتوں سے ایک دوسرے کے گروہ پر پتھر پھینکنے لگے۔
اگلے روز بھی طلوع آفتاب سے دوپہر تک عثمان بن حنیف کے ساتھیوں اور عائشہ کے ساتھیوں کے درمیان زابوقہ میں دارالرزق کے مقام پر شدید جنگ ہوئی دارالرزق کو مدینۃ الرزق یا قریۃ الارزاق بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے قریب ایک مقام تھا اس جنگ میں عثمان بن حنیف کے بہت سے ساتھی مارے گئے [84] لیکن آخرکار دونوں گروہوں کے درمیان صلح ہوگئی[85][86][87][88]
باغیوں اور عثمان بن حنیف کے درمیان صلح
عائشہ کے ساتھیوں اور عثمان بن حنیف کے ساتھیوں کے درمیان صلح کے بعد ایک معاہدہ تحریر کیا گیا جس کے مطابق امام علی کے آنے تک جنگ بند رکھی جائے گی بازاروں اور راستوں میں ایک دوسرے سے تعرض نہیں کیا جائے گا دارالامارہ بیت المال اور مسجد عثمان بن حنیف کے اختیار میں رہیں گے اور طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی جہاں چاہیں قیام کر سکیں گے اس کے بعد لوگ منتشر ہوگئے اور اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دیے[89][90][91][92][93] طبری، [94]
طبری نے سیف بن عمر کی ایک روایت میں معاہدے کی ایک دوسری صورت بیان کی ہے جس میں باغیوں کی تائید کی گئی ہے اس روایت کے مطابق دونوں گروہوں نے اتفاق کیا کہ کعب بن سور کو نمائندہ بنا کر مدینہ بھیجا جائے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ طلحہ اور زبیر نے علی کی بیعت مجبوری کے تحت کی تھی یا نہیں لیکن یہ بات بے بنیاد معلوم ہوتی ہے کیونکہ کعب بن سور خود اصحاب جمل کے سرکردہ افراد میں سے تھا اور عثمان بن حنیف فطری طور پر ایسے معاہدے اور ایسے نمائندے سے اتفاق نہیں کر سکتے تھے۔
صلح نامہ توڑنا
صلح کے دو دن بعد طلحہ اور زبیر نے اس خوف سے کہ کہیں علی نہ پہنچ جائیں اور ان پر غلبہ حاصل نہ کر لیں صلح کا معاہدہ توڑ دیا اور اس کے بعد عثمان بن حنیف کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ مسجد میں عشا کی نماز پڑھ رہے تھے۔
ابتدا میں عائشہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا لیکن بعد میں اپنے فیصلے سے رجوع کیا [95][96]اور انہیں قید کرنے کا حکم دیا عثمان بن حنیف کو چالیس کوڑے مارے گئے اور طلحہ یا مجاشع بن مسعود کے حکم پر ان کے سر چہرے بھنویں اور پلکوں کے بال نوچ لیے گئے اور انہیں قید کردیا گیا۔
اس کے بعد عبداللہ بن زبیر اور ایک گروہ دارالامارہ کی طرف گئے اور عثمان بن حنیف کے مقرر کردہ چالیس یا ایک روایت کے مطابق ستر محافظوں کو قتل کرکے محل میں داخل ہوگئے طلحہ اور زبیر نے بیت المال پر قبضہ کرلیا اس وقت بیشتر لوگ باغیوں کے ساتھ تھے اور جو ان کے ساتھ نہیں تھے وہ گمنام اور پوشیدہ تھے۔
لوگوں نے طلحہ اور زبیر کو خلیفہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ امیر کی حیثیت سے بیعت کی جب طلحہ اور زبیر کے درمیان نماز پڑھانے کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوا تو یہ طے کیا گیا کہ ہر روز ان دونوں میں سے ایک یا ان کے بیٹوں محمد اور عبداللہ میں سے ایک باری باری نماز کی امامت کرے گا[97] [98] [99][100][101][102]
حکیم کی طرف سے عثمان کی آزادی کے لیے اقدام
حکیم بن جبله تین سو افراد کے ساتھ زابوقہ کی طرف گئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو باغیوں نے قتل کیا ہے ان کا عثمان کے قتل میں کوئی کردار نہیں تھا حکیم نے طلحہ اور زبیر سے مطالبہ کیا کہ عثمان بن حنیف کو آزاد کیا جائے اور دارالامارہ اور بیت المال ان کے حوالے کیا جائے اور امام علی کے آنے تک اپنی سابقہ جگہوں پر واپس چلے جائیں لیکن انہوں نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا [103][104][105]
حکیم اپنے سواروں اور اپنے قبیلے عبدالقیس اور ربیعہ کے بعض افراد کے ساتھ عثمان بن حنیف کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے شدید جنگ کے بعد حکیم اور عبدالقیس اور ربیعہ کے قبائل کے ستر افراد بھی قتل ہوگئے۔
فرض کی ادائیگی کا دعوی
طلحہ اور زبیر نے اعلان کیا کہ بصرہ کے قبائل میں ان تمام لوگوں سے انتقام لیا جانا چاہیے جنہوں نے خلیفہ عثمان کے خلاف اقدام کیا تھا اس کے بعد انہوں نے اہل شام اہل کوفہ اور اہل مدینہ کے نام خطوط لکھے اور اعلان کیا کہ انہوں نے عثمان کے قاتلوں کو ختم کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے اور انہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے[106][107][108]
عائشہ نے بھی اہل کوفہ کے نام ایک خط میں باغیوں کے اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہم نے بعض لوگوں کو انتقام کے طور پر قتل کیا ہے تو ہم معذور تھے ہم چھبیس دن تک وہاں رہے اور اہل بصرہ کو خدا کی حدود نافذ کرنے اور خونریزی کو روکنے کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے خیانت کی اور خدا نے عثمان کے قاتلوں کو ایک جگہ جمع کردیا اور انہیں قصاص کا نشانہ بنایا لہذا عثمان کے قاتلوں سے درگزر نہ کرو[109] عایشه همچنین در نامههایی به مردم مدینه و یمامه، آنان را به حمایت از شورشیان دعوت کرد. [110]
عائشہ نے اہل مدینہ اور یمامہ کے نام بھی خطوط لکھے اور انہیں باغیوں کی حمایت کی دعوت دی
باغی عثمان بن حنیف کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے بھائی سہل بن حنیف اور ان کے قبیلے کے انتقام کے خوف سے عائشہ کی درخواست پر انہیں چھوڑ دیا گیا اس کے بعد عثمان بن حنیف امام علی کے پاس چلے گئے [111][112][113]
ان واقعات کی تاریخ چھتیس ہجری کے چوبیس اور پچیس ربیع الآخر بیان کی گئی ہے جبکہ بعض روایات میں جمادی الاول کا ذکر بھی ملتا ہے۔
جنگ سے پہلے امام علی کے اقدامات
جب امام علی کو خبر ملی کہ عائشہ طلحہ اور زبیر بصرہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں تو انہوں نے اہل مدینہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا اور لوگوں نے ان کی دعوت قبول کی[114][115]
اس کے بعد انہوں نے سہل بن حنیف انصاری کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور تیزی کے ساتھ اسی سات سو افراد کے لشکر کے ساتھ شہر سے روانہ ہوگئے جو پہلے شام کی طرف روانگی کے لیے تیار تھا اس لشکر میں چار سو مہاجرین اور انصار بھی شامل تھے یہ واقعہ ربیع الآخر سن چھتی ہجری کے آخر میں پیش آیا۔
امام علی کا مقصد یہ تھا کہ شاید باغیوں کو واپس لوٹایا جاسکے لیکن جب آپ ربذہ پہنچے جو مدینہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر تھا[116] تو معلوم ہوا کہ باغی وہاں سے آگے جاچکے ہیں امام علی چند روز ربذہ میں قیام پذیر رہے وہاں طے کے قبیلے سمیت کچھ افراد آپ کے ساتھ شامل ہوگئے اور مدینہ سے آپ کے لیے سواریوں اور ہتھیاروں کا انتظام بھی کیا گیا[117][118][119] [120] [121][122]
ایک روایت میں امام کے ساتھ موجود انصار کی تعداد آٹھ سو بیان ہوئی ہے جبکہ ایک قول کے مطابق مدینہ کے چار ہزار افراد امام کے ساتھ تھے اس کے بعد امام نے اہل کوفہ کے نام خط لکھ کر ان سے مدد طلب کی[123]
کوفیوں سے جہاد کی درخواست
امام علی نے ہاشم بن عتبہ المعروف مرقال کو ایک خط کے ساتھ کوفہ کے عامل ابوموسی اشعری کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ وہ لوگوں کو امام کے ساتھ شامل ہونے کے لیے آمادہ کریں[124] [125] [126][127][128][129][130] لیکن ابوموسی نے لوگوں کو امام کی مدد سے روک دیا اور کہا کہ جو صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ فتنہ ہے حتی کہ انہوں نے ہاشم کو قید کرنے کی دھمکی بھی دی۔
اس کے بعد امام نے عبداللہ بن عباس اور محمد بن ابی بکر کو کوفہ بھیجا ایک روایت کے مطابق پہلی مرتبہ محمد بن ابی بکر اور محمد بن عون اور دوسری مرتبہ عبداللہ بن عباس اور مالک اشتر کو بھیجا گیا تاکہ ابوموسی کو معزول کرکے ان کی جگہ قرظہ بن کعب انصاری کو کوفہ کا والی مقرر کیا جائے۔
اس کے بعد امام نے حسن بن علی اور عمار بن یاسر کو اہل کوفہ کے نام خط کے ساتھ کوفہ بھیجا تاکہ لوگوں کو امام کی مدد کے لیے آمادہ کریں[131] [132] [133][134][135][136][137]
پھر امام علی ربذہ سے ذی قار کی طرف روانہ ہوئے [138] در آنجا، عثمان بن حنیف نزد امام آمد، امام وقتی او را با آن وضع دید از او دلجویی کرد و فرمود: خدا به تو پاداش و نیکی دهد. [139][140][141]وہاں عثمان بن حنیف امام کے پاس پہنچے امام نے جب انہیں اس حالت میں دیکھا تو ان کی دلجوئی کی اور فرمایا خدا تمہیں جزائے خیر اور نیکی عطا فرمائے
کوفہ میں حسن بن علی اور امام کے دوسرے ساتھیوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے اہل کوفہ کو امام کی مدد کے لیے ابھارا کوفہ سے تقریباً نو ہزار افراد پر مشتمل لشکر ان کے ساتھ روانہ ہوا اور ذی قار میں امام سے آملم ہوگیا
بصرہ میں رہنے والے امام کے تقریباً دو ہزار شیعہ عبدالقیس اور ربیعہ کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی امام کے ساتھ شامل ہوگئے ایک قول کے مطابق ان کی تعداد تین ہزار تھی اس کے بعد علی نے حرکت کی اور تقریباً بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بصرہ پہنچ گئے۔
امام علی کے لشکر کی تعداد
امام علی کے لشکر میں مختلف قبائل کے سات گروہ شامل تھے اور ہر گروہ کی قیادت ایک سردار کر رہا تھا بعض قبائل جیسے قیس ازد حنظلہ عمران تمیم ضبہ اور رباب اصحاب جمل کے ساتھ شامل ہوگئے۔
کچھ لوگ دونوں فریقوں سے الگ رہے ان میں احنف بن قیس بھی تھے انہوں نے امام سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ شامل ہوجاؤں اور اگر ایسا نہ چاہیں تو میں اپنے قبیلے بنی سعد کے ساتھ دونوں فریقوں سے الگ رہوں گا اور دس ہزار یا ایک روایت کے مطابق چار ہزار تلواروں کو آپ کے مقابل آنے سے روک دوں گا امام نے ان کے الگ رہنے کو ترجیح دی[142][143][144][145][146][147][148][149][150]
بعض دوسری روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام علی کے لشکر کی تعداد انیس یا بیس ہزار تھی جبکہ باغیوں کے لشکر کی تعداد تیس ہزار یا اس سے زیادہ تھی[151][152][153][154]
شک کا امام علی کا جواب
امام علی کے ایک ساتھی نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ طلحہ زبیر اور عائشہ سب کے سب باطل پر ہوں امام نے جواب دیا کہ حق اور باطل کو لوگوں کے مرتبے اور مقام سے نہیں پہچانا جاسکتا بلکہ پہلے حق کو پہچانو پھر اہل حق کو پہچان لوگے اور باطل کو پہچانو پھر اہل باطل کو پہچان لوگے[155]
بصرہ میں دونوں گروہوں کا قیام
جب امام علی بصرہ میں داخل ہوئے تو طف کے راستے سے داخل ہوئے اور زاویہ کے نام سے معروف مقام پر چند روز قیام کیا پھر اپنا سفر جاری رکھا
طلحہ زبیر اور عائشہ بھی فرضہ یعنی بندرگاہ کی جانب سے روانہ ہوئے امام کے بصرہ پہنچنے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے[156][157][158]
عائشہ بھی اپنی قیام گاہ سے مسجد حدان منتقل ہوگئیں جو قبیلہ ازد کے محلے میں واقع تھی اور جس کے آس پاس جنگ کا میدان تھا[159]
ایک شبہے کا ازالہ
سیف بن عمر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علی کے بھیجے ہوئے نمائندے کی عائشہ طلحہ اور زبیر کے ساتھ گفتگو کے نتیجے میں صلح کا امکان پیدا ہوگیا تھا اور دونوں لشکر بھی باہمی سمجھوتے کے لیے پرامید ہوگئے تھے لیکن عثمان کے قتل کے محرکین جو امام علی کے لشکر میں موجود تھے اور اپنے انجام کو قریب دیکھ رہے تھے جنگ شروع کرنے کے لیے رات کو باہم متفق ہوگئے اور اگلی صبح امام کے لشکر میں موجود کوفیوں نے مخالف گروہ پر حملہ کردیا اور اس طرح جنگ شروع ہوگئی[160][161]
سیف بن عمر کی شخصیت اور ان روایات میں موجود متعدد تضادات کے علاوہ ان روایات کا مقصد ان جنگ پسند افراد اور گروہوں کے اثر کو ظاہر کرنا معلوم ہوتا ہے جن پر عثمان کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا اور جن میں ایک فرضی سبائی گروہ بھی شامل کیا گیا ہے اور ان کے مقابلے میں باغیوں اور بیعت توڑنے والوں کو صلح پسند ظاہر کیا گیا ہے۔
حالانکہ دوسری روایات کے مطابق علی جنگ کے خواہش مند نہیں تھے اور بصرہ میں داخل ہونے کے بعد تین دن تک مختلف پیغامات بھیج کر باغیوں کو جنگ سے باز رکھنے اور اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے رہے جنگ کے دن بھی آپ صبح سے دوپہر تک اصحاب جمل کو واپس آنے کی دعوت دیتے رہے[162][163][164][165] روز جنگ نیز، از صبح تا ظهر، اصحاب جمل را دعوت میکرد تا بازگردند. [166]
امام علی کی صلح کی کوشش
امام علی نے طلحہ اور زبیر کے نام ایک خط میں اپنی خلافت کی مشروعیت عوام کی آزادانہ بیعت عثمان کے قتل میں اپنی بے گناہی عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں طلحہ اور زبیر کے حق دار نہ ہونے اور قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رسول خدا کی زوجہ کو ان کے گھر اور قیام گاہ سے باہر لانے کے طلحہ اور زبیر کے غلط اقدام کا ذکر کیا۔
امام نے عائشہ کے نام بھی ایک خط لکھا اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ قرآن کے حکم کے خلاف اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے لشکر لے کر نکلی ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں مبتلا کرلیا ہے
طلحہ اور زبیر نے امام کے خط کے جواب میں اپنی نافرمانی پر اصرار کیا جبکہ عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا[167][168]
اس کے بعد عبداللہ بن زبیر نے لوگوں کو امام علی کے خلاف بھڑکایا جس کے جواب میں حسن بن علی نے نہایت بلیغ اور روشنگر تقریر کی.
پھر امام علی نے پہلے صعصعہ بن صوحان اور اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو طلحہ زبیر اور عائشہ سے گفتگو کے لیے بھیجا لیکن یہ گفتگو بے نتیجہ رہی اور ان میں عائشہ کا موقف زیادہ سخت تھا[169][170]
خط و کتابت اور گفتگو کے بے نتیجہ رہنے اور باغیوں کے بیعت توڑنے مخالفت اور جنگ پر اصرار کے بعد امام نے خطبہ دیا اور حجت تمام کردی پھر اپنے لشکر کو منظم کیا اور فوجی کمانڈروں کو مقرر کیا اصحاب جمل نے بھی اپنے لشکر کو منظم کیا[171][172][173] [174] [175][176] [177] [178]
عائشہ بھی اس اونٹ پر سوار ہوئیں جسے زرہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور وہ لشکر کی صفوں کے آگے جا کر بیٹھ گئیں[179][180][181]
جنگ کے قوانین کا بیان
امام علی نے اپنے ساتھیوں کو جنگ شروع کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کریں کسی کی لاش کی بے حرمتی نہ کریں کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں کسی کو گالی نہ دیں کسی عورت کو ہدف تنقید نہ بنائیں اور اصحاب جمل کے لشکر کے کیمپ میں موجود سامان کے علاوہ کسی چیز کو نہ اٹھائیں[182]
فتنے کے سرکردہ افراد کو نصیحت
امام علی نے طلحہ اور زبیر سے بالمشافہ گفتگو کی اور زبیر کو جنہیں آپ زیادہ نصیحت قبول کرنے والا سمجھتے تھے رسول خدا کی ایک حدیث یاد دلائی زبیر نے اس حدیث کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر مجھے یہ بات یاد ہوتی تو میں اس راستے پر نہ آتا خدا کی قسم میں کبھی آپ سے جنگ نہیں کروں گا.
اس کے بعد زبیر نے عائشہ سے کہا کہ وہ جنگ سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں لیکن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نے دونوں لشکروں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور اب جب دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اٹھالی ہیں تو کیا آپ انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تم نے بنی ابی طالب کے پرچم دیکھے ہیں جو بہادر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہیں اور تم خوف زدہ ہوگئے ہو[183][184][185][186][187][188][189]
چنانچہ زبیر نے عبداللہ کے اصرار پر اپنی قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرکے ادا کیا اور جنگ کے لیے تیار ہوگئے
اتحاد کی دعوت
جنگ شروع ہونے سے پہلے امام علی نے اپنے ایک ساتھی کو قرآن مجید دیا تاکہ وہ باغیوں کو قرآن کے احکام کی پیروی کی دعوت دے انہیں تفرقے سے روکے اور اتحاد کی دعوت دے لیکن انہوں نے اسے قتل کردیا اور امام کے کئی دوسرے ساتھیوں کو بھی تیر مار کر قتل کردیا اس کے بعد امام نے فرمایا کہ اب جنگ جائز ہے اور جنگ کا وقت آگیا ہے[190] [191] [192][193][194]
جنگ کا آغاز
جنگ جمعرات کے روز چھتیس ہجری کے وسط جمادی الآخر [195][196][197] یا ۱۰ جمادیالآخره ۳۶ [198][199][200][201][202] و یا (۱۰) جمادی الاولی ۳۶[203] [204][205] میں یا چھتیس ہجری کی دس جمادی الآخر کو یا چھتیس ہجری کی دس جمادی الاول کو بصرہ کے ایک علاقے خریبہ میں شروع ہوئی[206] [207][208][209]
جنگ کا حکم
امام علی نے اپنے لشکر کے علمبردار محمد بن حنفیہ اور لشکر کے دائیں بازو کے کمانڈر مالک اشتر کو حملے کا حکم دیا جنگ دوپہر سے شام تک شدت کے ساتھ جاری رہی۔ قبیلہ ضبہ اور ازد نے عائشہ کے گرد حلقہ بنا رکھا تھا
جنگ کے دوران عائشہ کا دفاع
کعب بن سور جو عائشہ کے اونٹ کی لگام تھامے ہوئے تھا قتل ہوگیا اس کے بعد اصحاب جمل میں سے ایک کے بعد دوسرے شخص نے اونٹ کی لگام اپنے ہاتھ میں لی اور عائشہ کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے قتل ہوتے رہے کہا گیا ہے کہ ستر افراد نے اونٹ کی لگام اپنے ہاتھ میں لی ان کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور وہ بھی ہلاک ہوگئے[210][211][212][213][214]خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag
جب امام علی نے دیکھا کہ بصری لوگ اونٹ کے گرد جمع ہو کر مزاحمت کر رہے ہیں تو آپ نے اسے گرانے کا حکم دیا امام کے بعض منتخب ساتھیوں نے اونٹ پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کردیا[215][216][217][218][219]
جنگ کا اختتام
اصحاب جمل چند گھنٹوں کی جنگ اور بہت سے افراد کے قتل کے بعد رات کے وقت شکست کھا کر فرار ہوگئے[220] یعقوبی [221] مسعودی [222] ابنقتیبه دینوری[223]
بلاذری یعقوبی مسعودی اور ابن قتیبہ دینوری نے لکھا ہے کہ امام کے لشکر نے سات دن کی جنگ کے بعد اصحاب جمل پر غلبہ حاصل کیا۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد
جنگ جمل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں۔ ابو خیثمہ کی وہب بن جریر سے روایت کے مطابق جنگ جمل میں بصرہ کے لشکر سے دو ہزار پانچ سو افراد مارے گئے[224][225][226][227] در روایات دیگر، شمار کشتههای اصحاب جمل از ۶،۰۰۰ تا ۲۵،۰۰۰ تن [228][229][230][231][232][233] ذکر شده و یعقوبی [234]
دوسری روایات میں اصحاب جمل کے مقتولین کی تعداد چھ ہزار سے پچیس ہزار تک بیان ہوئی ہے جبکہ یعقوبی نے یہ تعداد تیس ہزار سے زیادہ لکھی ہے جو مبالغہ آمیز معلوم ہوتی ہے[235][236][237]
امام علی کے لشکر کے شہید ہونے والوں کی تعداد چار سو سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی ہے۔
جنگ کے بعد امام علی کے اقدامات
امام علی نے جنگ کے بعد کئی اقدامات کیے جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے۔
زخمیوں اور قیدیوں کے ساتھ سلوک
اصحاب جمل کی شکست کے بعد امام علی نے حکم دیا کہ زخمیوں اور قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے فرار ہونے والوں کا تعاقب کرکے انہیں قتل نہ کیا جائے اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے اور اپنا ہتھیار زمین پر رکھ دے اسے امان دی جائے۔
امام نے اصحاب جمل کے بعض قیدیوں کو بھی قتل نہیں کیا جن میں مروان بن حکم موسی بن طلحہ اور عثمان کے بیٹے اور ولید بن عقبہ شامل تھے بلکہ انہیں امان دی اور آزاد کردیا۔
اہل بصرہ کی معافی
جب اہل بصرہ نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کی تو مروان نے کہا کہ وہ اس وقت تک بیعت نہیں کرے گا جب تک امام اسے مجبور نہ کریں امام نے فرمایا کہ اگر تم بیعت بھی کرلو گے تو عہد شکنی کرو گے اس کے بعد مروان معاویہ کے ساتھ مل گیا
عبداللہ بن زبیر اور عتبہ بن ابی سفیان بھی عائشہ کے پاس چلے گئے اور امام نے ان سے کوئی تعرض نہیں کیا۔
امام علی علیہ السلام نے اصحاب جمل پر فتح حاصل کرنے کے بعد جامع بصرہ میں خطبہ دیا اور اہل بصرہ کو سرزنش کی اور انہیں امت میں سب سے پہلے عہد شکنی کرنے اور تفرقہ پیدا کرنے والے افراد قرار دیا تاہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل مکہ کے ساتھ برتاؤ کی طرح امام نے اہل بصرہ کو معاف کردیا اور انہیں فتنے سے بچنے کی تلقین کی اس کے بعد امام بیٹھ گئے اور لوگوں نے آپ سے بیعت کی[238] [239][240] [241] [242][243]
اموال پر قبضے اور لوٹ مار کی ممانعت
امام علی علیہ السلام نے اپنے لشکر کو اہل بصرہ اور اصحاب جمل کے ذاتی اموال پر قبضہ کرنے اور انہیں لوٹنے سے منع کیا اور فرمایا کہ اصحاب جمل کے مقتولین کے اموال ان کے مستحق رشتہ داروں کی میراث ہیں اور صرف ان چیزوں کو غنیمت کے طور پر لینے کی اجازت دی جو جنگ کے لیے استعمال کی جاتی تھیں اس کے بعد امام نے میدان جنگ سے فرار ہونے والوں کے ہتھیار گھوڑے اور خچر اپنے ساتھیوں میں تقسیم کردیے[244] [245] [246][247]
جب امام کے ایک ساتھی نے پوچھا کہ ہمارے لیے ان لوگوں سے جنگ کرنا اور ان کا خون بہانا کس طرح جائز ہے لیکن ان کی عورتوں کو قیدی بنانا اور ان کے اموال کو غنیمت بنانا کیوں ناجائز ہے تو امام نے فرمایا کہ مسلمان سے قیدی اور مال غنیمت نہیں لیا جاسکتا مگر وہ چیزیں جن کے ذریعے وہ جنگ کر رہے تھے پھر فرمایا کہ تم میں سے کون اپنی ماں عائشہ کو اپنے حصے میں لینا پسند کرے گا اس پر ان لوگوں نے استغفار کیا[248][249]
امام علی علیہ السلام نے جنگ جمل اور باغیوں پر فتح کی خبر اہل کوفہ اور اہل مدینہ کو لکھی بیت المال کو اپنے ساتھیوں اور ہمراہ افراد میں تقسیم کیا اور چند روز بصرہ میں قیام کیا اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو بصرہ کا والی مقرر کیا اور رجب سنہ چھتیس ہجری میں اور ایک قول کے مطابق رمضان میں کوفہ روانہ ہوگئے [250][251] بیتالمال را میان یاران و همراهانش قسمت کرد [252][253] و چند روز در بصره اقامت گزید، [254] آنگاه عبداللّه بن عباس را به امارت بصره منصوب کرد و در رجب (و به قولی رمضان) سال ۳۶ به کوفه رفت. [255][256]
طلحہ اور زبیر کا انجام
جب لشکر جمل فرار ہو رہا تھا تو مروان بن حکم نے طلحہ کی ٹانگ میں تیر مار کر اسے زخمی کردیا طلحہ کو بصرہ کے ایک گھر میں منتقل کیا گیا جہاں زیادہ خون بہنے کی وجہ سے وہ وفات پاگیا۔
کہا گیا ہے کہ مروان نے عثمان کے بیٹے ابان سے کہا کہ میں نے تمہارے والد کے ایک قاتل کو ختم کردیا ہے بعض روایات میں طلحہ کو جنگ جمل کا پہلا مقتول قرار دیا گیا ہے [257] [258] [259][260][261] [262][263]
بعض منابع کے مطابق زبیر اپنے کیے پر پشیمان ہوکر جنگ سے پہلے ہی اصحاب جمل سے الگ ہوگیا تھا ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لشکر جمل کی شکست کے بعد زبیر میدان جنگ سے فرار ہوکر مدینہ کی طرف روانہ ہوا[264] [265] از روایتی دیگر برمیآید که پس از شکست سپاه جمل، زبیر از معرکه گریخت و آهنگ مدینه کرد. خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag[266] [267] [268][269][270][271]
امام علی علیہ السلام نے زبیر کے قتل پر ناراضی کا اظہار کیا اور جب آپ نے اس کی تلوار دیکھی تو اسلام کے ابتدائی دور کی جنگوں میں زبیر کی شجاعت کو یاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تلوار نے کئی مرتبہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے سے غم دور کیا تھا[272][273]
عائشہ کا انجام
جنگ کے بعد عائشہ کو ہودج سے باہر نکالا گیا اور ان کے لیے ایک خیمہ نصب کیا گیا علی علیہ السلام نے انہیں جنگ بھڑکانے پر سرزنش کی پھر ان کے بھائی محمد بن ابی بکر سے فرمایا کہ انہیں بصرہ لے جائیں۔
عائشہ چند روز بصرہ میں رہیں اور اس کے بعد مدینہ روانہ ہونے والی تھیں لیکن جب مقررہ مدت ختم ہوگئی اور انہوں نے روانگی میں تاخیر کی تو امام نے عبداللہ بن عباس کو ان کے پاس بھیجا اور انہیں تنبیہ کی اس کے بعد امام نے بصرہ کی کچھ عورتوں کو مردوں کا لباس پہنا کر اپنے کچھ سپاہیوں کے ہمراہ محمد یا عبدالرحمان بن ابی بکر کی معیت میں عائشہ کو احترام کے ساتھ مدینہ روانہ کردیا اور انہیں بارہ ہزار درہم یا دینار عطا کیے[274][275][276] [277] [278][279][280][281][282]
بعد میں عائشہ جب بھی جنگ جمل کے دن کو یاد کرتیں تو خواہش کرتیں کہ کاش وہ اس سے پہلے وفات پا جاتیں اور اس حادثے میں شریک نہ ہوتیں جب وہ آیت وقرن فی بیوتکن پڑھتی تھیں تو اتنا روتی تھیں کہ ان کا نقاب بھیگ جاتا تھا [283] را میخواند، چندان میگریست که روبندش خیس میشد. [284][285][286]
اسلامی مذاہب کے نقطہ نظر
جنگ جمل میں امام علی علیہ السلام کا طرز عمل اور سیرت فقہائے اسلامی مذاہب کے لیے اہل بغاوت سے قتال اور داخلی سرکشوں کے احکام کے سلسلے میں ایک اہم مرجع بن گئی[287] [288] [289][290][291][292][293]
اسلامی علم کلام کے مذاہب نے بھی اصحاب جمل کی ایمانی حیثیت کے بارے میں بحث کی ہے[294] همچنین مورخان سدههای نخستین، تکنگاریهای بسیاری درباره جنگ جمل داشتهاند که گرچه مبنای آثار بعدی بوده است، اغلب آنها اکنون در دست نیست. [295][296][297][298][299][300][301][302][303][304][305][306][307][308]
اسی طرح ابتدائی صدیوں کے بہت سے مورخین نے جنگ جمل کے بارے میں مستقل کتابیں اور رسالے لکھے تھے اگرچہ بعد کے تاریخی آثار کی بنیاد یہی کتابیں تھیں لیکن ان میں سے اکثر اب دستیاب نہیں ہیں
معتزلہ کا نقطہ نظر
معتزلہ کے بعض علماء کا عقیدہ ہے کہ عائشہ اور ان کے ساتھیوں کا مقصد امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تھا[309]
جنگ کے اسباب
جنگ جمل یا فتنہ ناکثین کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب کا جائزہ لینے اور اس سلسلے میں تحقیق کرنے کے لیے ضروری ہے کہ جنگ میں شامل دونوں فریقوں کے دلائل کا جائزہ لیا جائے اور پھر انہیں تاریخی حقائق کے ساتھ پرکھا جائے تاکہ صحیح موقف کا تعین کیا جاسکے
فتنے کے سرکردہ افراد کا نقطہ نظر
طلحہ نے بصرہ کے لوگوں کے درمیان ایک خطبہ دیا جس میں اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ اس کی تحریک خلافت اور حکومت کے حصول کے لیے نہیں ہے بلکہ وہ بصرہ کے لوگوں سے مدد حاصل کرنا چاہتا ہے تاکہ سب مل کر امت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اصلاح کی کوشش کریں اور اللہ کی اطاعت کو فروغ دیں[310]
جیسا کہ بیان کیا گیا ہے عائشہ اور طلحہ سے منقول اکثر خطبوں میں عثمان کے قتل اور ان کے خون کا بدلہ لینے کو عہد شکنی کی سب سے اہم وجہ قرار دیا گیا ہے تاہم دیگر اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ طلحہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کو سابق خلفاء کے طریقہ کار کے مطابق نہیں سمجھتا تھا اور اس بات پر بھی اعتراض کرتا تھا کہ امام علی علیہ السلام امور حکومت میں اس سے مشورہ نہیں کرتے تھے[311] [312]
امام علی علیہ السلام اور ان کے اصحاب کا نقطہ نظر
امام علی علیہ السلام کے نقطہ نظر سے جنگ جمل کے آغاز کے اسباب بیان کرنے سے پہلے ایک اہم نکتے یعنی جنگ کے اصل محرکین کی طرف توجہ ضروری ہے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ایک سو بہتر میں فرمایا کہ طلحہ اور زبیر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ کو اپنے ساتھ اس طرح کھینچ رہے تھے جیسے کسی کنیز کو بازار میں غلام فروشوں کے پاس لے جایا جاتا ہے[313]
امام علی علیہ السلام کے اس بیان سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ جنگ جمل کے اہم انسانی محرک طلحہ اور زبیر تھے اور عائشہ کو اس معاملے میں زیادہ تر تبلیغاتی مقصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
طلحہ اور زبیر کی اقتدار طلبی
امام علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ایک سو اڑتالیس میں وضاحت فرمائی کہ طلحہ اور زبیر میں سے ہر ایک حکومت حاصل کرنے کی امید رکھتا تھا اور اس کی خواہش میں مبتلا تھا جبکہ وہ اپنے ساتھی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا
عہد شکنی اور فتنہ برپا کرنا
امام علی علیہ السلام نے لوگوں کو جنگ کے لیے تیار رہنے کا حکم دیتے ہوئے ایک خطبے میں فرمایا کہ طلحہ اور زبیر نے بیعت اور عہد کو توڑ دیا اور عائشہ کو ان کے گھر سے باہر نکالا تاکہ فتنہ برپا کریں اور خونریزی کا راستہ ہموار کریں
پرانا بغض اور کینہ
یہ بات قابل انکار نہیں کہ علی علیہ السلام کے خلاف بعض لوگوں کے دلوں میں پہلے سے کینہ موجود تھا چنانچہ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے اس سلسلے کے بعض اسباب بیان کیے ہیں
اول اس لیے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے عائشہ کے والد پر فضیلت دی تھی
دوم اس لیے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنے ساتھ بھائی چارے کے لیے مخصوص فرمایا تھا
سوم اس لیے کہ اللہ نے حکم دیا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کردیے جائیں حتی کہ عائشہ کے والد کے گھر کا دروازہ بھی بند کردیا جائے لیکن میرا دروازہ بند نہیں کیا گیا
چہارم اس لیے کہ جنگ خیبر کے دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوسروں کو پرچم دینے کے بعد وہ پرچم مجھے عطا کیا اور مجھے فتح حاصل ہوئی جس سے ان لوگوں کو رنج ہوا
اس کے علاوہ طلحہ اور زبیر کو امید تھی کہ علی علیہ السلام حکومتی معاملات میں ان سے مشورہ کریں گے کیونکہ وہ خود کو علی علیہ السلام کے برابر مقام و مرتبہ کا حامل سمجھتے تھے وہ یہ بھی امید رکھتے تھے کہ عثمان کی وفات کے بعد حکومت کا کچھ حصہ انہیں حاصل ہوگا لیکن ان میں سے کوئی بھی معاملہ پورا نہ ہوا اور اس صورت حال نے ان دونوں کی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ سابقہ دشمنی کو نمایاں کردیا
خون عثمان کا دعوی
جب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو خبر ملی کہ طلحہ اور زبیر عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے قیام کرچکے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ عثمان کو خود انہی لوگوں نے قتل کیا تھا نہج البلاغہ کے خطبہ نمبر ایک سو سینتیس میں بھی اسی مفہوم کا ذکر ملتا ہے کہ وہ اس خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں جسے خود انہوں نے بہایا تھا
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ طلحہ نے جنگ اس لیے شروع کی تاکہ عثمان کے قتل کے سلسلے میں اس سے باز پرس نہ کی جائے
مندرجہ بالا مطالب پر غور کرنے سے چند نکات سامنے آتے ہیں
اول یہ کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کی طرف سے اصحاب جمل کے بارے میں وارد ہونے والی اکثر سرزنشوں اور ملامتوں میں خطاب طلحہ اور زبیر سے ہے گویا امام ان دونوں کو جنگ کا اصل سبب سمجھتے تھے اور دوسرے لفظوں میں عائشہ کا کردار اس واقعے میں ثانوی تھا اور انہیں ان دونوں کی طرف سے تبلیغاتی طور پر استعمال کیا گیا
دوم یہ کہ اصحاب جمل نے اپنے اقدام کے لیے جو دلائل پیش کیے ان میں سے کوئی بھی قابل قبول نہیں تھا خصوصاً جب یہ بات سامنے آتی ہے کہ عثمان کے قتل اور اس کے خون کا بدلہ لینے کا دعوی محض ایک بہانہ تھا کیونکہ عائشہ کے عثمان کے ساتھ بھی تعلقات زیادہ اچھے نہیں تھے نقل کیا گیا ہے کہ عائشہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیراہن عثمان کے پاس لے کر گئیں اور ان سے کہا کہ ابھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کفن کی نمی خشک نہیں ہوئی اور تم ان کے احکام میں اس طرح تبدیلی کر رہے ہو
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحاب جمل نے ایک بظاہر خوبصورت اور حق پر مبنی عنوان کے تحت اپنے اولی الامر کے خلاف قیام کیا اور اپنی بیعت اور عہد کو توڑ دیا جبکہ یہ عنوان محض ایک بہانہ تھا
جنگ جمل کے موضوع پر لکھی گئی اہم ترین کتاب
الجمل و النصرۃ لسید العترۃ فی حرب البصرۃ شیخ مفید کی تصنیف ہے شیخ مفید سنہ چار سو تیرہ ہجری میں وفات پانے والے امامی شیعہ فقیہ محدث اور متکلم تھے یہ کتاب جنگ جمل کے موضوع پر باقی رہ جانے والی اہم ترین تحریروں میں شمار ہوتی ہے
حوالہ جات
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۷۴۳۵.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۵.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۱۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۳۸
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۴.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۳۳.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۸۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۰.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۲.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۱۷۴، ص۳۸۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۰.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۴.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹۴۳۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۳۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۲.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۸، ص۴۶.
- ↑ ابنکلبی، هشام بن محمد، جمهرة النسب، ج۱، ص۷۹۸۰، ج۱.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه،خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۸۴۵۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۸ ۴۵۹.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۸ ۲۲۹.
- ↑ ابناثیر، علی بن محمد، اسدالغابة فی معرفة الصحابه، ج۳، ص۲۴۱.
- ↑ ابناثیر، علی بن محمد، اسدالغابة فی معرفة الصحابه، ج۲، ص۳۰۷.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۱۵۶، ص۳۳۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۵، ص۱۵۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۶.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۴۰۹ـ۴۱۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۴۲۵ـ۴۳۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۰۴۵۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۶ـ۲۲۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۹۴۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۶۴۵۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۰.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۳۴۸۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۴۴۵۵.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۲۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۵۴۵۷.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۵۴۴۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۶۴۵۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۹.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۷۴۵۸.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۲ـ۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۱ ۴۶۲.
- ↑ اسکافی، محمد بن عبداللّه، المعیار و الموازنة فی فضائل امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب (علیهالسلام)، ج۱، ص۶۰.
- ↑ حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، ج۵، ص۹۸، ذیل «مِرْبَد».
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۳۴۶۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۹.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۳.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۵.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۸.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۷۴۶۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۸۴۶۹.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۱۷۲، ج۱، ص۳۷۸.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۲۱۸، ج۱، ص۵۲۶.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۶.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۸۴۷۰.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۵.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۰۴۷۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۴۴۷۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۲۴۷۴.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۶۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۲۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۴۴۷۵.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۵.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۷.
- ↑ حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، ج۳، ص۲۴، ذیل «الرَّبَذَة».
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷-۴۷۹.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳ـ ۱۰۵.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۱۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴۱۴۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷ ۴۷۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱۴۸۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۹۵۰۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۳۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴۱۴۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷ ۴۷۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱۴۸۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۹۵۰۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۳۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۲۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۶.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۶ـ۱۶۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۸۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۶۴۹۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۰۵۰۵.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۵ـ ۱۴۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۸ـ۴۶۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۵۵۰۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۳.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۷۴.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۰ ۵۰۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۴ـ۱۰۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۸۴۸۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۶۵۰۷.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۶.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۷۸.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۵۴۶۷.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۶۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۹.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۷.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۶ ۱۴۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۸.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۳.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۹.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۵.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷ ۱۴۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱ ۵۰۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۸۵۰۹.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۹ ۴۷۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۷ـ۱۰۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۱۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۷۳.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۲.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۹.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۴.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۳.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۹۵.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۳۳۶.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱۳، ص۲۹۸.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۲.
- ↑ حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، ج۲، ص۳۶۳، ذیل «الخُرَیبَة».
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۱۲۵۱۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۲۵.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۸.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۰۱۵۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۰۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۹۵.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۳۷۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۷۱.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۹۶.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۷۲.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۶۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۷۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۸۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۵.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۵.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۷۴۸۸.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۹۵ـ۹۶.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۳.
- ↑ یعقوبی، احمد بن ابییعقوب، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۷.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۹۶.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، ج۱، ص۵۰، خطبه ۱۳.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۷۲.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۷۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۹۲.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۱۱۵۲.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۳ـ۱۱۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۶۲.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۱۱۵۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۰۳.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۷۲.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۱۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۶ـ۱۱۷.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۱۴.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۷۳.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۲.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۶.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۸۵۰۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۲۷۵۲۸.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۸.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۷۰۴۷۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۱.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۸۴۹۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۱۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۴ ۵۳۵.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۲.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۷۱۴۷۲.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۹۵۱۰.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۵۲.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۳۵۳۴.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۷۳.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۳۴۸۵.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۳ـ۱۱۴.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۶.
- ↑ احزاب/سوره۳۳، آیه۳۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۶۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۷.
- ↑ شافعی، محمد بن ادریس، الاُمّ، ج۴، ص۲۲۹.
- ↑ شافعی، محمد بن ادریس، الاُمّ، ج۴، ص۲۳۶.
- ↑ علمالهدی، علی بن حسین، مسائل الناصریات، ج۱، ص۴۴۳۴۴۴.
- ↑ محمد بن حسن طوسی، المبسوط فی فقه الامامیة، ج۷، ص۲۶۴۲۶۶.
- ↑ سرخسی، محمد بن احمد، المبسوط، ج۷، ص۲۶۶.
- ↑ حلّی، حسن بن یوسف، مختلف الشیعة فی احکامالشریعة، ج۴، ص۴۵۰۴۵۳.
- ↑ شهید ثانی، زینالدین بن علی، الروضةالبهیة فی شرح اللمعة الدمشقیة، ج۲، ص۴۰۷ ۴۰۹.
- ↑ ابنابیالحدید، عبدالحمید، شرح نهجالبلاغه، ج۱۴، ص۲۴.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۱۲۳.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۱۲۲.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۸۶.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۷۷.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۱۳۸.
- ↑ ابنندیم، محمد بن اسحاق، الفهرست، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۱۷.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۱۲۹.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۲۴۰.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۳۲۰.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۳۴۷.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۴۱۸.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۴۳۵.
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج۱، ص۴۲۸.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصره، ص۲۷.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصره، ص۱۷۷.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصره، ص۱۶۴، به نقل انساب الاشراف.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۶.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، ص۳۷۸، خطبه ۱۷۲.