بین الاقوامی فلسطین اور وحدتِ امتِ اسلامی کانفرنس
| بین الاقوامی فلسطین اور وحدتِ امتِ اسلامی کانفرنس | |
|---|---|
| واقعہ کی معلومات | |
| واقعہ کا نام | بین الاقوامی فلسطین اور وحدتِ امتِ اسلامی کانفرنس |
| واقعہ کی تاریخ | 2026ء |
| واقعہ کا دن | 20 جنوری |
| واقعہ کا مقام | کوالالمپور ملائیشیا |
| عوامل | مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور ملائیشیا کی اسلامی تنظیموں کی مشاورتی کونسل کے اشتراک سے |
| اہمیت کی وجہ | فلسطین اور غزہ پر صیہونی حکومت کی بین الاقوامی قوانین کے خلاف عالم اسلام کا موقف |
| نتائج |
|
بین الاقوامی فلسطین اور وحدتِ امتِ اسلامی کانفرنس ایک علاقائی اجلاس تھا جو امتِ اسلامی کے اتحاد اور فلسطین کے مسئلے کے موضوع پر منعقد ہوا۔ یہ کانفرنس مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور ملائیشیا کی اسلامی تنظیموں کی مشاورتی کونسل کے اشتراک سے، نیز ملائیشیا کے عالمی و مزدور اتحاد، عالمی اتحاد اور پیشہ ورانہ یونینز، ایشیا کے علاقائی علمائے کرام کی سیکریٹریٹ، ملائیشیا میں اسلامی جمہوریۂ ایران کے ثقافتی مشیر کے تعاون سے منعقد کی گئی۔ اس اجلاس میں آسیان (جنوب مشرقی ایشیا) کے ممالک سے تعلق رکھنے والے عالمِ اسلام کے علما اور مفکرین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس 30 دی 1404 شمسی، بمطابق 30 رجب المرجب 1447 ہجری، مطابق 20 جنوری 2026ء، ملائیشیا کے شہر کوالالمپور میں منعقد ہوئی۔
سیکریٹری جنرل کا خطاب

مجمعِ تقریب کے سیکریٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین حمید شہریاری نے اس اجلاس میں کہا: اسلامی وحدت مشترکہ اقدار، اعتدال، مکالمے اور مختلف مسالک کے درمیان تعاون کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے، نہ کہ یکسانیت پر۔ وحدت کا مطلب اختلافات کو ختم کرنا نہیں بلکہ عقلی مکالمے اور اتفاقِ رائے کے ذریعے تنوع کو طاقت میں بدلنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسئلۂ فلسطین عالمِ اسلام اور بین الاقوامی برادری کے لیے ایک اخلاقی، انسانی اور تہذیبی امتحان ہے۔ فلسطین کا مسئلہ محض سیاسی نہیں بلکہ عدل اور ظلم کے درمیان ایک بنیادی تصادم ہے۔ فلسطین دنیا میں حق و صداقت کا قطب نما ہے اور اسے ایک مرکزی اخلاقی اور انسانی ترجیح کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔
غزہ میں گھروں، اسکولوں، اسپتالوں کی تباہی اور عام شہریوں، بالخصوص خواتین، بچوں اور صحافیوں کا قتل بے مثال اور اخلاقی طور پر ناقابلِ دفاع ہے۔ ان المناک واقعات نے دنیا بھر میں آگاہی اور یکجہتی کی تحریکوں کو فروغ دیا ہے۔ اب مزاحمت کا بیانیہ ایک عالمی اخلاقی تحریک میں تبدیل ہو چکا ہے جو عدل اور دینی و اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔ مزاحمت صرف ایک سیاسی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور تہذیبی جدوجہد کے طور پر پہچانی جاتی ہے۔
انہوں نے ایران پر مسلط کی گئی 12 روزہ جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریۂ ایران نے قومی خودمختاری کے دفاع اور فلسطین کے مقصد کی حمایت میں بھاری قیمت ادا کی ہے۔ سائنس دانوں، فوجی کمانڈروں اور عام شہریوں، بشمول خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانا، ایران کے اس عزم کا حصہ ہے جو وہ ناانصافی کے مقابلے اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت میں رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "وعدۂ صادق" کی کارروائیوں اور 12 روزہ جنگ کے دوران صہیونی حکومت کو کمزور کرنے اور تطبیع (نارملائزیشن) کے منصوبے کو ناکام بنانے کی بنیاد رکھی گئی۔ اقتصادی نقصانات، داخلی عدمِ تحفظ، آبادکاروں کی ہجرت، سیکیورٹی نظام کی ناکامی، اور دنیا بھر میں صہیونی قبضے کے خلاف متحد مظاہروں نے عالمی سطح پر ایک نمایاں اسٹریٹجک تبدیلی پیدا کی ہے۔
انہوں نے ایران میں حالیہ واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی مداخلتوں اور اندرونی بدامنی کے ذریعے ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں ناکام ہو چکی ہیں۔ بیرونی حمایت یافتہ تخریبی اقدامات، تشدد اور بدامنی کو ایرانی قوم کی جانب سے خودمختاری اور مزاحمت کے حق میں ہونے والے عوامی مظاہروں نے ناکام بنا دیا۔
مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل نے مغربی طاقتوں اور انسانی حقوق کے نفاذ میں دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے دفاع کے دعوے، ظلم اور جنگی جرائم کی مسلسل حمایت کے ساتھ متصادم ہیں۔ بعض عالمی طاقتیں جدید سامراجی تکبر اور یکطرفہ طرزِ عمل کی حامل ہیں [1]۔
ملائیشیا کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین کا خطاب
چیگو محمد عزمی عبدالحمید نے اس اجلاس میں کہا کہ فلسطین محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا: جب تک مسجدِ اقصیٰ پر قبضہ قائم ہے اور غزہ محاصرے میں ہے، امتِ مسلمہ اخلاقی قیادت کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ فلسطین کا المیہ پچھلے 75 برسوں سے جاری ہے، اور یہ صرف قابض طاقت کی وجہ سے نہیں بلکہ خود امت کی تفرقہ بازی، غفلت اور بعض اوقات خاموشی کے باعث بھی ہے۔
عبدالحمید نے وحدت کو ’’مشترکہ سمت، نظم و ضبط اور اجتماعی ذمہ داری‘‘ کا محتاج قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی وحدت میں بیانیے کی وحدت، سیاسی دباؤ، اقتصادی اقدامات، قانونی ابتکارات اور انسانی ردِعمل سب شامل ہونے چاہییں۔ انہوں نے غزہ کی صورتِ حال کو ’’بین الاقوامی اخلاقی نظام کے انہدام کی علامت‘‘ قرار دیا اور ’’منتخب بین الاقوامی قانون‘‘ پر شدید تنقید کی۔
ملائیشیا کی مسلم یوتھ موومنٹ (مپیم) کے صدر نے نسل پرستانہ نظام (اپارتھائیڈ) کے خلاف جدوجہد کے تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ حقیقی تبدیلی منظم اور پائیدار سول سوسائٹی کے دباؤ سے آتی ہے۔ فلسطین کی آزادی صرف اشرافیہ کے مذاکرات سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ عالمی اخلاقی تحریکوں کے بطن سے جنم لے گی۔
انہوں نے کہا کہ جامعات، غیر سرکاری تنظیمیں، علما، ماہرین اور سول سوسائٹی کو تبدیلی کے فعال محرکات بننا ہوگا، اور قابض نظام کو تنہائی، اقتصادی دباؤ، قانونی جوابدہی اور اخلاقی حیثیت کے خاتمے کا سامنا کرنا چاہیے۔
اختتام پر انہوں نے فلسطینی عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا: آپ فراموش نہیں کیے گئے اور آپ اکیلے نہیں ہیں۔ آپ کی مزاحمت اور صبر رائیگاں نہیں جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اجلاس بکھری ہوئی کوششوں سے نکل کر مربوط اور پائیدار عمل کی طرف ایک سنگِ میل ثابت ہونا چاہیے، کیونکہ تاریخ یہ نہیں پوچھے گی کہ کتنی کانفرنسیں ہوئیں، بلکہ یہ پوچھے گی کہ کون سے عملی اقدامات کیے گئے[2]۔
مجمعِ تقریب کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین کا خطاب
مولوی اسحاق مدنی نے حج کے عظیم اجتماع کو دنیا بھر کے مسلمانوں کی وحدت کی عظیم علامت قرار دیتے ہوئے امتِ اسلامی کی ہمہ جہتی وحدت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمِ اسلام میں وسیع تر صلاحیتوں اور امکانات کے باوجود مکمل وحدت کے فقدان نے امتِ اسلامی کے ستونوں کو کمزور کیا ہے اور دشمنوں کو مسلمانوں کی صفوں میں نفوذ کا موقع دیا ہے۔ وحدت آج کے عالمِ اسلام کے بہت سے مسائل کا علاج ہے۔
انہوں نے رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کے اس فرمان کا حوالہ دیا جس کے تحت مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی قائم کیا گیا، اور اسے اسلامی وحدت کے حصول کی راہ میں ایک عظیم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سفر کا مقصد مسلم معاشروں میں وحدت کی ضرورت پر مزید زور دینا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ جب بیرونی میڈیا مسلسل اسلامی مذاہب کے درمیان تفرقہ اور نفاق پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو علما اور مسلم دنیا کے دانشوروں کی ذمہ داری پہلے سے کہیں زیادہ سنگین ہو گئی ہے، اور یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ بیگانگان امتِ اسلامی کے کسی حصے پر ظلم و ستم روا رکھیں[3]۔
شیخ خلیل افرا کا خطاب
اہلِ سنت کے ممتاز عالم، شیخ خلیل افرا نے مسلمانوں کی وحدت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کی اسی سے زیادہ آیات میں اہلِ ایمان کو ریسمانِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کی دعوت دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان یومیہ نمازوں، نمازِ جمعہ، اسلامی تہواروں اور حج جیسے دینی مواقع پر ایک دوسرے کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اور ہمیشہ امتِ اسلامی کی عزت و سربلندی کے لیے دعا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملائیشیا میں اسلامی وحدت اور فلسطین کانفرنس کے انعقاد کا مقصد مظلوم فلسطینی عوام کا متحد ہو کر دفاع کرنا، مسجدِ اقصیٰ اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے کوشش کرنا اور غزہ کے عوام کی مدد کرنا ہے[4]۔
اسلامی سوسائٹی کے بورڈ آف ٹرسٹیز کے رکن کا خطاب
حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد حسن زمانی نے عالمِ اسلام کی عظیم صلاحیتوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: دو ارب سے زائد مسلمانوں کی موجودگی اور وسیع انسانی و قدرتی وسائل، اس بات کا ثبوت ہیں کہ امتِ اسلامی آج کی دنیا میں کہیں بلند مقام حاصل کرنے کی اہل ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونی رژیم کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتلِ عام اور اسلامی ممالک کا ناکافی ردِعمل، امتِ اسلامی کے اندر اتحاد اور اجتماعی ارادے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جسے وحدت اور مشترکہ عملی اقدام کے ذریعے دور کرنا ہوگا[5]۔
اختتامی اعلامیہ
﴿بسم اللہ الرحمٰن الرحیم﴾
﴿إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ﴾ [6]۔ ’’بے شک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمہارا پروردگار ہوں، پس میری عبادت کرو۔‘‘
ہم، علماے دین، مفکرین، مذہبی رہنما اور اسلامی اداروں کے نمائندے، عالمِ اسلام کے مختلف خطوں سے، جو فلسطین اور امتِ اسلامی کی وحدت کے موضوع پر منعقدہ بین الاقوامی اجلاس میں، 20 جنوری 2026ء مطابق 30 رجب 1447ھ کو کوالالمپور، ملائیشیا میں، ملائیشیا کی حکومت کی دعوت اور مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے تعاون سے جمع ہوئے ہیں، اس "اعلانِ کوالالمپور" کو جاری کرتے ہیں۔
یہ کانفرنس ایک تاریخی اور فیصلہ کن لمحے میں منعقد ہوئی ہے، جب غاصب صہیونی رژیم کی جانب سے فلسطینی عوام، بالخصوص غزہ میں، بے مثال جرائم جاری ہیں؛ جن میں اجتماعی قتلِ عام، دسیوں ہزار بے گناہ شہریوں—جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے—کی شہادت، لاکھوں افراد کا زخمی ہونا، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی، اور دو ملین سے زائد انسانوں کی جبری بے دخلی شامل ہے، جو نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
علاقائی و عالمی حالات کا جائزہ لینے اور دینی، اخلاقی اور تاریخی ذمہ داری کے احساس کے تحت، ہم مظلوم فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اعلان کرتے ہیں، غزہ کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں، اور درج ذیل نکات کا اعلان کرتے ہیں:
امتِ اسلامی کی وحدت
امتِ اسلامی ایک امت ہے؛ ایک رب کی عبادت کرتی ہے، ایک نبی کی پیروی کرتی ہے، ایک کتاب پڑھتی ہے اور ایک قبلے کی طرف رخ کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وحدت کا حکم دیا اور تفرقے سے منع فرمایا ہے: ﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا﴾ [7]۔
انسانی وقار، عدل اور ظلم کے خلاف مزاحمت
انسانی وقار، عدل اور سلامتی اسلامی اقدار کی بنیاد ہیں۔ انسانی وقار ہر انسان کے لیے ایک الٰہی عطیہ ہے، اور عدل ایک الٰہی و عقلی حکم ہے جو حکومتوں کی مشروعیت اور سماجی استحکام کی بنیاد ہے۔ انسانی حقوق کی ہر خلاف ورزی ظلم ہے جس کے خلاف مزاحمت ضروری ہے۔
اسلامی تعاون، وحدت کی بنیاد
مسلمانوں کی وحدت کے لیے مذاہب، ممالک اور اداروں کے درمیان اسلامی تعاون کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔ امت کے اندر تنوع تفرقے کا نہیں بلکہ غنا کا ذریعہ ہے۔
فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی مذمت
ہم فرقہ وارانہ اشتعال، نفرت انگیز تقاریر اور توہین آمیز رویوں کے خطرات سے خبردار کرتے ہیں، جو امت کو کمزور اور دشمنوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔
فلسطین اور قدس: مشترکہ مسئلہ
فلسطین، قدس اور بیت المقدس امتِ اسلامی کا مشترکہ اور مرکزی مسئلہ ہے، اور مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت ایک دینی و اخلاقی فریضہ ہے: ﴿وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ﴾ [8]۔
مزاحمت کی حمایت اور جوابدہی
ہم صہیونی رژیم کے خلاف جبهۂ مزاحمت کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں، جنگی جرائم کے مرتکبین کی جوابدہی، فلسطینی قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی، اور آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔
عملی اقدامات اور پابندیاں
ہم غزہ پر فوری حملے کے خاتمے، محاصرے کے اٹھائے جانے، صہیونی رژیم سے سیاسی، اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے خاتمے، ہمہ گیر پابندیوں، اس کی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ، اور فلسطینی عوام کو انسانی، مالی اور دفاعی مدد فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں:﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [9]۔
اختتام پر، ہم مزاحمتی شہدا کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں[10]۔ فلسطینی عوام کی استقامت کو سلام کہتے ہیں، اور اسلامی حکومتوں، علما، سول سوسائٹی اور دنیا کے تمام آزاد انسانوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فیصلہ کن اقدامات کریں تاکہ فلسطینی عوام کے مکمل اور جائز حقوق بحال کیے جا سکیں: ﴿تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَتُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ﴾ [11]۔
گیلری
-
ملائشیا کانفرنس (1)
-
ملائشیا (2)
-
ملائشیا کانفرنس (3)
-
ملائشیا کانفرنس (4)
-
ملائشیا کانفرنس (5)
-
ملائشیا کانفرنس (6)
-
ملائشیا کانفرنس (7)
-
ملائشیا کانفرنس (8)
-
ملائشیا کانفرنس (9)
-
ملائشیا کانفرنس (10)
-
ملائشیا کانفرنس (11)
-
ملائشیا کانفرنس (12)
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کے سیکریٹری جنرل کی تقریر، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین کی تقریر، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ ملائیشیا کی مشاورتی کونسل کے چیئرمین کی تقریر، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ شیخ خلیل افرا کی تقریر، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کی اعلیٰ کونسل کے چیئرمین کی تقریر، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ سورۂ انبیاء آیہ 92
- ↑ سورۂ آل عمران آیہ 103
- ↑ سورۂ نساء آیۂ 75
- ↑ سورء مائدہ آیہ2
- ↑ اجلاس کا اختتامی اعلامیہ، مجمعِ عالمیِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی کا چینل، ایتا پلیٹ فارم پر
- ↑ سورۂ صف آیہ 11