اجتہاد اور نو اندیشی(کتاب)
| اجتہاد اور نو اندیشی(کتاب) | |
|---|---|
| نام | وحدتِ اسلامی میں پیش کیے گئے منتخب مقالات |
| مؤلفین/ مصنفین | سید جلال میرآقایی |
| زبان | فارسی |
| زبان اصلی | فارسی |
| ناشر | مسلم محققین، مصر، اسلامی وحدت، تقریبِ مذاہب |
| موضوعات | اجتهاد |
اجتہاد اور نو اندیشی، ایک اہم علمی کتاب ہے جسے پژوہشگاہ مطالعاتِ تقریبی (مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی سے وابستہ تحقیقی ادارہ) نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب پندرھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدتِ اسلامی میں پیش کیے گئے منتخب مقالات پر مشتمل ہے۔
اجتہاد اور نو اندیشی دو باہم مربوط تصورات ہیں جنہیں فقہ اور دینی فکر، بالخصوص فقہِ شیعہ میں بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اجتہاد سے مراد شرعی احکام کے استنباط کے لیے فقہی وسائل اور علمی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے، جبکہ نو اندیشی سے مراد دینی مسائل پر نئے زاویۂ نظر سے غور و فکر کرنا اور زمانے کے تقاضوں کے مطابق علمی و فقہی آراء پیش کرنا ہے۔
اجتہاد میں نئی فہم (نو فہمی) اور جدت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کوئی نیا دین ایجاد کیا جائے یا محض ذہنی قیاس آرائیوں، شخصی میلانات اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر نئی فقہ قائم کر دی جائے۔
بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ قرآنِ کریم اور سنتِ نبویؐ و اہلِ بیتؑ کے گہرے اور دقیق مطالعے کے ذریعے پوری علمی توانائی صرف کی جائے، ان کے معانی و مفاہیم کو بہتر انداز میں سمجھا جائے اور انہی معتبر منابع سے شرعی احکام کا استنباط کیا جائے۔
اسلامی ثقافت میں مشروع بلکہ ضروری اجتہاد کا مطلب یہی ہے کہ شرعی دلائل اور دینی مصادر کی طرف بار بار رجوع کیا جائے، ان پر عمیق غور و فکر کیا جائے اور ان کی روشنی میں نئے حالات کے مطابق صحیح اور مستند فہم حاصل کی جائے۔ ایسا نیا اور حقیقت پر مبنی استنباط ہی حقیقی اجتہاد کہلاتا ہے۔
اجمالی تعارف
یہ کتاب چار جلدوں پر مشتمل مجموعے کی پہلی جلد ہے، جس میں دو جلدیں فارسی اور دو جلدیں عربی زبان میں شائع ہوئی ہیں۔ اس جلد میں پندرھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدتِ اسلامی کے منتخب علمی مقالات شامل ہیں۔
یہ مجموعہ عالمِ اسلام کے ممتاز مفکرین اور محققین کی علمی کاوشوں کا حاصل ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ اسلام عصرِ حاضر کے معاشرتی، سیاسی، اقتصادی اور تمدنی مسائل کا کس طرح جواب دیتا ہے، اسلامی اصول جدید انسانی تہذیب و تمدن کی کامیابیوں کے ساتھ کس نوعیت کا تعامل رکھتے ہیں، اور اسلام کی حیات بخش تعلیمات کو جدید دور کے مختلف میدانوں میں کس انداز سے پیش کیا جا سکتا ہے۔
اس جلد کے مندرجات میں ایک مقدمہ، دو افتتاحی خطابات، کانفرنس کی رپورٹ اور چودہ تحقیقی مقالات شامل ہیں۔
آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی نے اپنے افتتاحی خطاب میں موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اسلامی وحدت کی ضرورت، اجتہاد کی اہمیت اور اسلام کے بنیادی اصولوں کو محفوظ رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے تقاضوں کا جواب دینے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔
اس کتاب میں ہم پڑھتے ہیں
جلد اول
- آیت اللہ محمد علی تسخیری (سیکرٹری جنرل، مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی) کا خیر مقدمی خطاب۔
- آیت اللہ اکبر ہاشمی رفسنجانی (چیئرمین، مجمع تشخیص مصلحت نظام) کا افتتاحی خطاب۔
- کانفرنس کی رپورٹ — سید جلال میرآقائی۔
- اجتہاد میں زمان و مکان کا کردار — عباس ظہیری۔
- قرآن و سنت کی روشنی میں اجتہاد کی ضرورت کے دلائل — محمد رضا جواہری۔
- اسلامی سیاسی و قانونی نظام میں حکمِ حکومتی کا مقام — محسن اسماعیلی۔
- حکمِ حکومتی: شخصی ہے یا موضوعی؟ — اسماعیل نعمت اللہی۔
- ینی نظام سازی میں "منطقۃ الفراغ" کا کردار (اقتصادی نظام کے تناظر میں) — محمد علی سادات حسینی۔
- اسلامی مذاہب کے درمیان مشترکہ اصولوں کا دائرہ — ابوبکر خوجم لی۔
- مقاصدِ شریعت اور مصلحت کے باہمی تعلق کا جائزہ — سید محمد تقی علوی۔
- اصولِ دین پر ثابت قدمی اور عصرِ حاضر کے تقاضوں کا جواب — رحیم وکیل زادہ۔
- اسلامی نظامِ قانون کی تکمیل میں اجتہاد کا کردار — عبدالحکیم شرعی جوزجانی۔
- علمِ فقہ کی ترقی اور پویائی: عوامل اور رکاوٹیں— محمد رضا بندرچی۔
- فقہ میں تخصص (Specialization) — یعقوب علی برجی۔
- استاد شہید مرتضیٰ مطہری کے نقطۂ نظر سے اصول کی پابندی اور زمانے کے تقاضوں کا جواب (فقہی مباحث کے تناظر میں)— حسین سوزنچی۔
- شہید آیت اللہ بہشتی کے آثار میں اصول و اقدار کی پاسداری اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگی — صدیق قاسمی۔
- اسلامی فقہ میں مطالعہ اور تحقیق کے عمل پر ایک نیا زاویۂ نظر — محمد ہادی یعقوب نژاد۔
جلد دوم

- پندرھویں بین الاقوامی کانفرنس برائے وحدتِ اسلامی کے موضوعات / سیکرٹری جنرل، *مجمعِ جهانی تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛ - احمد مسجد جامعی / وزیرِ ثقافت و ارشادِ اسلامی کا خطاب؛ -
- قرائتوں کا نظریہ یا اسلامی اجتہاد / آیت اللہ محمد علی تسخیری؛ - دین کی متعدد قرائتوں کے بنیادی ڈھانچے / عبدالحسین خسروپناہ؛
- اسلام: تاویل گرائی سے ہرمنیوٹکس تک / ڈاکٹر سوران کردستانی؛ -
- اسلامی فکر میں ہرمنیوٹکس محمد آصف جوادی؛ -
- ہرمنیوٹکس اور اسلامی فکر سے اس کا تعلق / محمد باقر سعیدی روشن؛ -
- ہرمنیوٹکس اور دین سے اس کا تعلق / ڈاکٹر محمد منصورنژاد؛ -
- مذہبی تکثیریت (پلورالزم) کا تحقیقی جائزہ / فاضل شادمانی؛ -
- ہرمنیوٹکس اور اسلامی فکر سے اس کا تعلق / رسول قربانی مقدم؛ -
- ہرمنیوٹکس اور اسلامی فکر سے اس کا تعلق / محمد سالاری (قایینی)؛ -
- اسلامی تہذیب کے تاریخی تحقق کا تجربہ: “اصالت” اور “عصرگرائی” کے درمیان تعامل کا ایک نمونہ / ڈاکٹر محسن الویری۔