سید محمد حسینی بہشتی
| سید محمد حسینی بہشتی | |
|---|---|
| پورا نام | سید محمد حسین حسینی بهشتی |
| دوسرے نام | آیت الله ڈاکٹر بهشتی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1929 ء |
| پیدائش کی جگہ | اصفهان، ایران |
| وفات | 1982 ء |
| وفات کی جگہ | تهران |
| اساتذہ | امام خمینی(ره)، آیتالله محقق داماد، آیتالله سید محمد تقی خوانساری، آیتالله حجتکوهکمرهاى، آیتالله حائری یزدی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | اقتصاد اسلامی، از حزب چہ میدانیم، التوحید فی القرآن، اہمیت شیوہ تعاون، بانکداری و قوانین مالی اسلام و... |
| مناصب | مولف، مبلغ، انقلاب کونسل کا بانی، دیوان عالی کشور (سپریم کورٹ) کی صدارت، حزب جمہوری اسلامی کی سیکرٹری جنرل اور مجلس خبرگان کی رکنیت |
سید محمد حسینی بہشتی، ایک ایرانی شیعہ عالم دین تھے جو سن 1979 عیسوی (1357 شمسی) کے اسلامی انقلاب کی کامیابی اور تشکیل میں سرگرم اور مؤثر رہے۔ انقلاب کے بعد آپ نے دیوان عالی کشور (سپریم کورٹ) کی صدارت، حزب جمہوری اسلامی کی سیکرٹری جنرل اور مجلس خبرگان کی رکنیت جیسی اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ آپ منافقین کی جانب سے حزب جمہوری کے مرکزی دفتر میں کیے گئے بم دھماکے کے نتیجے میں شہید ہوئے۔
زندگی نامہ اور تعلیمات
سید محمد حسینی بہشتی کی ولادت 2 نومبر 1928 (1307 شمسی) کی صبح اصفہان کے محلہ لومبان کے قریب ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپ کے والد حجت الاسلام سید فضل اللہ حسینی بہشتی شہر کے علماء اور مسجد لومبان کے امام جماعت تھے اور آپ کی والدہ معصومہ بیگم خاتون آبادی آیت اللہ العظمیٰ میر محمد صادق خاتون آبادی کی صاحبزادی تھیں۔
مئی 1952 (24 سال کی عمر) میں آپ نے اپنے قریبی رشتہ دار حجت الاسلام سید محمد باقر مدرس مطلق کی صاحبزادی عزت الشریعہ مدرس مطلق (ولادت 1934) سے شادی کی، اس ازدواجی زندگی کا پھل دو بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔
ابتدائی تعلیمات
سن 1932ء (چار سال کی عمر) میں آپ مکتب گئے اور تعلیم کا آغاز کیا۔ سن 1934ء میں جب آپ کی عمر صرف 6 سال تھی، اصفہان کے ثروت پرائمری اسکول (بعد میں 15 بہمن نام رکھا گیا) کے داخلہ امتحان میں اپنی غیر معمولی ذہانت کی بدولت آپ چھٹی جماعت میں بیٹھنے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن کم عمری کی وجہ سے آپ کو چوتھی جماعت سے تعلیم شروع کرنی پڑی۔ پرائمری کے چھٹے سال میں صوبائی سطح کے فائنل امتحانات میں آپ نے شہر میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس دور میں آپ نے ریاضی اور غیر ملکی زبانوں میں کافی دلچسپی ظاہر کی۔
سن 1940ء (12 سال کی عمر) میں آپ نے اصفہان کے سعدی ہائی اسکول (میدان امام خمینی کے قریب) میں تعلیم کا آغاز کیا اور اس دوران فرانسیسی زبان بھی سیکھنا شروع کی۔ ستمبر 1941ء سے جو رضا شاہ کی معزولی اور جزیرہ مورس جلاوطنی کا وقت تھا اور محمد رضا پہلوی کے برسرِ اقتدار آنے تک، علماء پر حکومتی دباؤ میں کسی حد تک کمی آئی جس کے نتیجے میں بہت سے نوجوان علومِ حوزوی سیکھنے کی طرف راغب ہوئے۔ آپ نے بھی فیصلہ کیا کہ اپنی تعلیم علومِ اسلامی کے حصول میں جاری رکھیں۔
حوزوی تعلیمات
سن 1942ء (14 سال کی عمر) میں آپ اصفہان کے مدرسہ علمیہ صدر میں داخل ہوئے اور چار سال کے عرصے میں اپنے دادا کے شاگردوں میں سے کئی عظیم اساتذہ کے پاس عربی ادب، منطق، کلام، فقہ و اصول کی اعلیٰ سطح اور فلسفے کے ابتدائی اسباق پڑھے۔ حوزہ کے ماہر اساتذہ آپ کی ذہانت اور تیزی کو دیکھ کر یہ رائے رکھتے تھے کہ آپ اپنے دادا آیت اللہ العظمیٰ میر محمد صادق خاتون آبادی کے صحیح جانشین بن سکتے ہیں۔
ستمبر 1946ء (18 سال کی عمر) میں آپ قم کے مدرسہ علمیہ چلے گئے اور مدرسہ حجتیہ کے ایک حجرے میں قیام پذیر ہوئے اور بقیہ سطحی تعلیم آیت اللہ محقق یزدی، آیت اللہ اردکانی اور دیگر جلیل القدر مجتہدین و فقہاء کے پاس مکمل کی۔ کفایہ کا کچھ حصہ آیت اللہ شیخ مرتضیٰ حائری یزدی اور کفایہ و مکاسب کا کچھ حصہ آیت اللہ داماد کے پاس پڑھا۔ مرتضیٰ مطہری، مرزا علی آقا مشکینی اور موسیٰ صدر اس دور میں سید محمد کے ہم عصر ساتھی تھے۔
اپریل 1947ء سے آپ مطہری اور منتظری کے ساتھ جو اس وقت امام خمینی کے ذہین شاگردوں میں سے تھے، امام خمینی، آیت اللہ محقق داماد اور اس کے بعد آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری، آیت اللہ حجت کوہ کمرهای اور آیت اللہ حائری یزدی کے درسِ خارج فقہ و اصول میں حاضر ہوتے رہے۔ آپ کا ماننا تھا کہ انہوں نے دقیق نظری اور معلومات کی وسعت آیت اللہ بروجردی سے سیکھی ہے۔
سن 1948ء (20 سال کی عمر) میں آپ محمد مفتح، موسیٰ شبیری زنجانی، موسیٰ صدر، ناصر مکارم شیرازی، احمد آذری قمی، سید مہدی روحانی، علی مشکینی اردبیلی اور عبدالرحیم ربانی شیرازی سے متعارف ہوئے اور ان کے ساتھ علمی بحث و مباحثہ کرتے تھے۔
آپ علومِ عقلی سیکھنے کا بھی شوق رکھتے تھے اور فلسفیانہ شکوک و شبہات کے حل کے لیے غیر ملکی اسکالرشپ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اپنے قریبی دوست اور دانشمند عالم آیت اللہ مرتضیٰ مطہری کی رہنمائی میں آپ نے قم کا رخ کیا اور علامہ طباطبائی کے سادہ مگر پُر فیض محضر سے متعارف ہوئے اور ان کے اخلاق، کردار، صبر اور بردباری سے اتنے متاثر ہوئے کہ بیرون ملک کا ارادہ ترک کر دیا اور 5 سال تک ملا صدرا کی اسفار، ابن سینا کی شفا اور اصول فلسفہ و روش رئالیسم جیسی کتابوں کے درس سے استفادہ کیا۔
یونیورسٹی کی تعلیمات
سن 1945ء (17 سال کی عمر) میں جب آپ سطحی تعلیم کے آخری مراحل میں تھے، آپ نے انگریزی زبان سیکھنے کے کورس کا آغاز کیا۔
آپ کا علمی تشنگی اس قدر تھی کہ اسی سال (1948) آپ نے اپنی کلاسیکی تعلیم دوبارہ شروع کی اور ادبی ڈگری حاصل کرنے کے بعد تہران یونیورسٹی کے فیکلٹی آف تھیولوجی (معقول و منقول) میں فلسفہ کی تعلیم جاری رکھی۔
سن 1951ء (23 سال کی عمر) میں آپ نے فلسفہ میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی اور بیرون ملک اسکالرشپ کے لیے اہل قرار پائے۔ اسی دوران آپ نے ایک غیر ملکی استاد سے انگریزی زبان بھی مکمل طور پر سیکھ لی۔
سن 1955ء میں آپ نے ڈاکٹر محمود شہابی کی زیر نگرانی اور جیوری کی منظوری کے ساتھ بساطت یا ترکیب جسم کے عنوان سے اپنے مقالے کے ساتھ فلسفہ اسلامی میں ماسٹرز کی ڈگری اعلیٰ اعزاز کے ساتھ حاصل کی۔
سن 1956ء میں آپ نے تھیولوجی فیکلٹی میں فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی تعلیم شروع کی۔ باوجود اس کے کہ آپ کو قم میں بھی موجود رہنا تھا، حصولِ علم اور ملازمت کے لیے تہران کے سفر کرتے رہے۔
سن 1959ء (31 سال کی عمر) میں آپ نے فلسفہ اسلامی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور آیت اللہ مطہری کی رہنمائی میں جو اس وقت تھیولوجی فیکلٹی میں استاد تھے، قرآن میں مابعد الطبیعیات کے مسائل کے عنوان سے اپنے مقالے کا دفاع کیا۔ آپ نے نماز کیا ہے؟ کے عنوان سے کتاب بھی ترتیب دی اور اس وقت تک آپ انگریزی، عربی اور جرمن زبانوں پر کافی عبور حاصل کر چکے تھے۔
سرگرمیاں
علمی سرگرمیاں
تدریس: آپ کی ممتاز شاگردوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ آپ مطالعہ، بحث اور تحقیق کے ساتھ سوالات اور اشکالات اٹھاتے تھے۔ آپ ان طلاب میں سے تھے جو حوزہ علمیہ صدر اور قم میں تعلیم کے دوران تدریس بھی کرتے تھے۔
آیت اللہ داماد کا درس خارج: آپ کے علمی اقدامات میں سے ایک، قم کے کچھ فضلاء کی مدد سے آیت اللہ داماد کے درسِ خارج کا اہتمام کرنا تھا۔
انگریزی زبان کی تدریس: سن 1950ء میں اس عقیدے کے تحت کہ علماء کو مالی طور پر خودمختار ہونا چاہیے اور دین کے ذریعے رزق حاصل کرنا درست نہیں سمجھتے تھے، اپنی تعلیم اور گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے تہران کے ہائی اسکولوں میں انگریزی زبان پڑھانا شروع کی۔
سن 1951ء میں آپ نے وزارت تعلیم میں کام شروع کیا اور قم کے حکیم نظامی ہائی اسکول میں انگریزی پڑھانے لگے۔
سن 1954ء میں آپ نے قم میں جدید طرز پر دین و دانش ہائی اسکول کی بنیاد رکھی اور 1963ء تک اس کے انتظام کے ذمہ دار رہے۔ آپ نے طلاب کے لیے زبان سیکھنے کی کلاسیں بھی قائم کیں۔
سن 1960ء میں آپ نے اپنے چند دوستوں کے تعاون سے قم میں مدرسہ حقانی کی بنیاد رکھی اور آیت اللہ مشکینی، آیت اللہ ربانی شیرازی، آیت اللہ جنتی اور شہید آیت اللہ سعیدی کے تعاون سے حوزوی نظام کی تشکیل کے لیے اجلاس بلائے۔ ان اجلاسوں میں طلاب کی تعلیم و تربیت کے لیے 17 سالہ منصوبہ بنایا گیا جو حوزہ کو نظم و ضبط دینے اور تکامل کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پہلا عملی قدم تھا۔
سن 1960ء میں آپ نے اسلامی بینکاری اور مالیاتی قوانین، قرآن میں عالم خلق اور عالم امر اور ہمارے معاشرے میں ایک نیا طبقہ جیسے مضامین تحریر و تنظیم کیے۔
آپ کی سرگرمیوں میں سے ایک اپنے 17 دوستوں کے ساتھ مل کر ایک تحقیقی گروپ بنانا تھا تاکہ ثقافتی شعبوں بشمول ادیان کی تاریخ، مسیحیت کی تاریخ اور مادیت پسند مکاتبِ فکر کا مطالعہ کیا جا سکے اور نتائج کو عوامی اجلاسوں میں پیش کیا جائے۔ سید محمد نے مادیت پرستی کے جائزے کے لیے علی ابطال مذہب المادہ کتاب کا مطالعہ کیا اور فرید وجدی کی کتاب بر ویرانههای مذہب ماتریالیسم کا مطالعہ آقای منتظری کے ساتھ کیا۔
سن 1961ء میں آپ نے اسلام میں حکومت اور علم و دین میں قانونِ علیت کے عنوان سے مضامین تحریر کیے۔
سن 1962ء میں آپ نے ڈاکٹر مفتح کے تعاون سے قم کے طلباء و اساتذہ کے لیے اسلامی کانون کی تشکیل کی۔
سن 1963ء (35 سال کی عمر) میں آپ نے قم کے فضلاء کی مدد سے اسلام میں حکومت کے موضوع پر تحقیقی گروپ تشکیل دیا۔
سن 1972ء میں آپ نے مراکش کے دارالحکومت رباط میں عالمی ادارہ صحت کی کانفرنس کے لیے اسلام کی نظر میں خاندانی تنظیم کے موضوع پر حکم الاجہاض و التعقیم فی الشریعۃ الاسلامیہ کے عنوان سے مقالہ تیار کر کے بھجوایا۔
سن 1974ء میں آپ نے خدا از دیدگاہ قرآن نامی کتاب مرتب کی۔
تبلیغاتی سرگرمیاں
اسی سال (1947ء) ماہ رمضان میں آیت اللہ العظمیٰ بروجردی کے مشورے پر آپ نے آقایان مطہری، حسین علی منتظری اور تقریباً سترہ طلباء کے ساتھ دور دراز دیہاتوں میں تبلیغ کے لیے جانے کا فیصلہ کیا، تاکہ ذاتی تجربات اور معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے اقدام کیا جا سکے۔ ان سفروں کا ایک اور مقصد علماء کی تعلیم اور تبلیغ میں مالی آزادی حاصل کرنا تھا جسے اجتماعی طور پر تجربہ کیا جا رہا تھا۔
گفتارِ ماہ: سن 1949ء میں آپ نے آقایان آیت اللہ مطہری، آیت اللہ طالقانی اور دیگر حضرات کے ساتھ مل کر تہران میں نئی روشوں کے ذریعے اسلام کا پیغام جستجو کرنے والی نسل تک پہنچانے کے لیے گفتارِ ماہ کے نام سے اجلاس تشکیل دیے اور ان اجلاسوں میں زیر بحث آنے والے مسائل کو گفتارِ ماہ اور گفتارِ عاشورا جیسی کتابوں میں مقالوں کی صورت میں شائع کیا۔
سیاسی سرگرمیاں
16 سال کی عمر میں آپ نے ظلم کے خلاف جدوجہد کرنے والے ایک گروہ کی قیادت سنبھالی اور عوام کو منظم کر کے ایک گاؤں کے کدخدا (سربراہ) کو تبدیل کر دیا۔ سن 1950ء میں، جو آیت اللہ کاشانی اور مصدق کی قیادت میں چلنے والی قومی تحریکِ تیل کی سیاسی و سماجی جدوجہد کا عروج تھا، آپ نے ایک نوجوان عالم کے طور پر مظاہروں، اجتماعات اور اجلاسوں میں فعال کردار ادا کیا۔ 20 جولائی کی ہڑتال کے دوران، جو اصفہان کی ٹیلی گراف بلڈنگ میں قوام کے بیانات کے خلاف کی گئی تھی، آپ نے صوبائی ٹیلی گراف خانے میں تقریر کی اور نتیجے میں آپ کو پولیس ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا۔ معیاری انقلابی قوتوں کی پرورش: سن 1962ء میں امام خمینی کی تحریک کے آغاز کے ساتھ ہی آپ نے بھی جدوجہد شروع کر دی اور معیاری، انقلابی اور پرعزم قوتوں کی پرورش کی۔ قم کے پیشرو علماء کے بنیادی اجلاسوں اور بحثوں میں شرکت، اعلامیوں کی تدوین اور 15 خرداد کے واقعات میں عوامی اجتماعات میں فعال کردار، اس دن کے سانحے کے بعد قم کے مراجع کو تعزیتی ٹیلی گرام بھیجنا، اصفہان کے علماء کو ہم آہنگ کرنا اور مجموعی طور پر امام خمینی کی جدوجہد کے ساتھ ہم قدم ہونے کی وجہ سے، اس سال کی سرما میں ساواک کی جانب سے آپ کو محکمہ تعلیم سے نکال دیا گیا، آپ کی ملازمت معطل کر دی گئی اور آپ کو تہران جلاوطن کر دیا گیا۔
جمعیت مؤتلفہ اسلامی کی فقہی و سیاسی کونسل کی رکنیت: تہران آمد اور مؤتلفہ اسلامی بورڈز کے ساتھ رابطے کے بعد، امام خمینی نے آپ کو، آقایان مرتضیٰ مطہری، محی الدین انواری اور مہدی مولائی کے ساتھ اس تنظیم کی فقہی اور سیاسی کونسل کے طور پر مقرر کیا۔
درسی کتابوں کے مواد میں تبدیلی: اس دور میں آپ کی دیگر سرگرمیوں میں ڈاکٹر محمد جواد باهنر، ڈاکٹر غفوری، برقعی، رضی شیرازی اور روزبہ کے ساتھ تعلیماتِ دینی کی کتابوں کے مواد کو اسلامی افکار و نظریات میں بدلنے کے لیے تعاون شامل تھا۔
اصفہان میں تقریر: 5 اگست 1964 (17 ربیع الاول 1384) کو اصفہان کے مدرسہ چہارباغ میں آپ نے ایک اہم تقریر کی جس کے نتیجے میں آپ گرفتار ہو گئے۔ اس تقریر میں آپ نے اس دن کے مولود (پیغمبر اسلام) کا پیغام خدا کے دشمنوں کے خلاف استقامت اور جدوجہد قرار دیا، اور بعد میں آپ اس دن کو ایک نہ بھولنے والی یادگار کے طور پر یاد کرتے تھے۔
اسلامک سینٹر ہیمبرگ کا قیام: سن 1965ء میں چند مراجع (آیت اللہ حائری، آیت اللہ میلانی اور آیت اللہ خوانساری) کے مشورے اور امام خمینی کی رائے سے آپ ہیمبرگ تشریف لے گئے اور آیت اللہ بروجردی مسجد میں دینِ اسلام کی تبلیغ شروع کی۔ چونکہ اس وقت ہیمبرگ میں کوئی اسلامی تنظیم موجود نہیں تھی، اس لیے آپ نے یورپ کے چند مسلمان طلباء کی مدد سے فارسی زبان بولنے والے طلباء کی انجمنوں کی یونین کی بنیاد رکھی۔ جرمنی میں آپ کے دیگر اقدامات میں ایرانیوں کی مسجد کا نام بدل کر اسلامک سینٹر ہیمبرگ رکھنا تھا، جس کے بعد غیر ایرانی اور فارسی زبان جاننے والے مسلمان بھائی، خاص طور پر عرب بھائی بھی اس مسجد میں شرکت کرنے لگے۔
یورپ میں اسلام کی آواز کتاب کی اشاعت: سن 1968ء میں آپ نے دنیا کی پانچ زبانوں میں صداے اسلام در اروپا کے نام سے ایک کتاب تیار اور مرتب کی، تاہم ساواک نے اس کتاب کی اشاعت میں رکاوٹ ڈالی۔
سیاسی و تبلیغی سفر: 1969 کی گرمیوں میں، آپ نے عراق کے سفر کے دوران امام خمینی، آیت اللہ خوئی، آیت اللہ سید محمد باقر صدر اور آیت اللہ حکیم سے ملاقات کی اور گفتگو کی۔ اسی سال آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی اور دوستوں خاص طور پر امام موسیٰ صدر کے ساتھ عہد کی تجدید کے لیے شام اور لبنان کا سفر کیا اور وہاں سے ترکی گئے۔ اسی سال طلباء کی دعوت پر، آپ نے پہلے اسٹوڈنٹ سیمینار میں شرکت کی جو ہیمبرگ مسجد میں دو ہفتوں تک جاری رہا، جس کے دوران مفید نظریاتی بحثیں ہوئیں۔ آپ نے اسی سال کدام مسلک اور نقش ایمان در زندگی انسان کے نام سے مضامین تیار اور مرتب کیے۔
صیہونی حکومت کے خلاف اعلامیہ: سن 1970 میں آپ کی پہل اور امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے تعاون سے، جرمنی میں صیہونی حکومت کے جرائم کے خلاف ایک اعلامیہ شائع کیا گیا جو شاہی حکومت کے لیے باعثِ تشویش بنا۔ اسلام میں خدا پرستی اور منصفانہ قوانین کے موضوع پر آپ کی تقریر اور یورپ میں مقیم طلباء اور دیگر ایرانیوں کے درمیان آپ کی وسیع سیاسی و آگاہی بخش سرگرمیوں نے شاہی حکومت کو مجبور کیا کہ جب آپ اسی سال ایران واپس آئیں تو ساواک آپ کو واپس جرمنی جانے سے منع کر دے۔
مکتب توحید کا قیام: جرمنی سے واپسی کے بعد آپ نے تہران میں مسلمان خواتین کے علمی مرکز مکتب توحید کے قیام میں حصہ لیا؛ یہ علمی مرکز بہت سی خواتین کے لیے دینی اور اسلامی علوم حاصل کرنے کا ذریعہ بنا۔ اس دوران آپ کے تعاون سے جو ایک اور ادارہ قائم ہوا وہ کانون توحید تھا، جو اسلام کی تبلیغ و اشاعت اور نوجوانوں کے اجتماع کا مرکز بن گیا اور علمی بحثوں، کلاسوں اور متعدد تقاریر کے انعقاد کے ساتھ عوامی بیداری اور اس انقلابی مرکز کو حیات دینے میں عظیم کردار ادا کیا۔
مکتب قرآن بورڈ کا قیام: سن 1971ء میں آپ نے مکتب قرآن کے تحت قرآن کی تفسیر اور سیاسی مسائل کے تجزیے کے اجلاس چلائے۔ ان اجلاسوں میں آپ نوجوانوں کو قرآن کی تفسیر اور اسلامی حکومت، عدل، لبرلزم، امر بالمعروف اور آزادی جیسے نئے موضوعات سے متعارف کرواتے تھے، اور چونکہ یہ تعلیمات نوجوانوں کی تعمیر میں گہرا اثر رکھتی تھیں، آخر کار ساواک کے دباؤ پر یہ اجلاس بند کر دیے گئے۔ آپ کو سن 1975 میں مکتب قرآن کے اجلاسوں اور بیرون ملک رابطوں کی وجہ سے ساواک نے گرفتار کر کے چند دن حراست میں رکھا۔
جامعہ روحانیت مبارز کی تشکیل: سن 1976ء میں علماء کے اتحاد اور تنظیم کے لیے آپ نے آیت اللہ مرتضیٰ مطہری، ڈاکٹر محمد مفتح، حجت الاسلام امامی کاشانی اور حجت الاسلام ملکی کی مدد سے روحانیت مبارز کی ابتدائی بنیاد رکھی۔ یہ تنظیم شروع میں شمیران میں مجمع روحانیت مبارز کے نام سے سامنے آئی اور سن 1977ء میں جامعہ روحانیت مبارز کے نام سے اپنے وجود کا اعلان کیا۔
حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد: سن 1978ء کی بہار میں، یونیورسٹی کے طلباء و اساتذہ کی اصولی سرگرمیوں اور امام خمینی کی قیادت پر یقین رکھنے والے سیاسی گروہوں کی نقل و حرکت کو ہم آہنگ کرنے کے لیے آپ نے یورپ اور امریکہ کا سفر کیا۔ اسی سال، انقلابی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر منظم کرنے کے لیے آپ نے حزب جمہوری اسلامی کی بنیاد رکھی اور ان سرگرمیوں کے نتیجے میں 5 دسمبر 1978ء کو آپ کو انسدادِ تخریب کاری کی مشترکہ کمیٹی نے گرفتار کر لیا۔ حزب جمہوری اسلامی، جس کا تصور 1977ء کے آخر میں سید محمد نے پیش کیا تھا، 18 فروری 1979 کو آقایان خامنہ ای، سید عبدالکریم موسوی اردبیلی، اکبر ہاشمی رفسنجانی اور محمد جواد باهنر کے ساتھ اپنے وجود کا اعلان کیا اور پارٹی کے پہلے اجلاس میں آیت اللہ بہشتی کو اکثریت رائے سے پارٹی کا سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا۔
پیرس میں امام خمینی کے ساتھ ہمراہی: رہائی کے بعد، آپ نے ملک کے اندر مجاہدین کی قیادت سنبھالی اور امام خمینی کی پیرس آمد (5 اکتوبر 1978) کے بعد، ان سے مذاکرات اور ہم آہنگی کے لیے نومبر میں پیرس تشریف لے گئے۔
انقلابی کونسل کا قیام: فروری 1979ء کے اوائل میں، امام خمینی کے حکم پر آپ نے انقلابی کونسل (آقایان مرتضیٰ مطہری، محمد جواد باهنر، اکبر ہاشمی رفسنجانی، سید عبدالکریم موسوی اردبیلی، سید محمود طالقانی، سید علی خامنہ ای، محمدرضا مہدوی کنی، مہدی بازرگان، مصطفی کتیرائی، یداللہ سحابی اور احمد حاج سید جوادی کے تعاون سے) تشکیل دی۔
ایئرپورٹ بند کرنے سے ممانعت: 28 جنوری 1979ء کو بختیار حکومت کے خلاف، جس نے امام خمینی کی ایران آمد کو روک رکھا تھا، آپ نے تہران یونیورسٹی کی مسجد میں دھرنا دیا اور یہ دھرنا اس قدر بڑھ گیا کہ علماء، طلباء اور عوام کی ایک بڑی تعداد بھی مسجد میں شامل ہو گئی، نتیجے میں شاہی حکومت 29 جنوری 1979ء کو ایئرپورٹ کھولنے پر مجبور ہو گئی۔
عدلیہ کی صدارت: انقلاب کی کامیابی کے بعد، اسلامی جمہوریہ کے ستونوں میں سے ایک جسے نظر ثانی اور اصلاح کی ضرورت تھی، وہ عدلیہ تھی جسے انقلابی کونسل نے ڈاکٹر سید محمد بہشتی کے سپرد کیا۔
مجلس خبرگان کی رکنیت: 1979ء کی گرمیوں میں، آپ کو تہران کے نمائندے کے طور پر عوام نے سب سے زیادہ ووٹ دے کر مجلس خبرگان کے لیے منتخب کیا اور مجلس کے پہلے اجلاس میں آپ کو مجلس کا نائب صدر منتخب کیا گیا۔
دیوان عالی کشور(سپریم کورٹ) کے سربراہ: آپ کی قابلیت اور کامیاب کارکردگی کی وجہ سے، 24 فروری 1980ء کو امام خمینی کے حکم پر آپ نے دیوان عالی کشور (سپریم کورٹ) کی ذمہ داری سنبھالی، جو اس وقت ملک کا سب سے بڑا عدالتی عہدہ تھا۔ صدارتی کونسل کے رکن: 23 جون 1981 کو بنی صدر کی برطرفی کے بعد، آپ عبوری صدارتی کونسل کے رکن بنے۔
آثار
- اقتصاد اسلامی؛
- از حزب چه میدانیم؛
- التوحید فی القرآن؛
- اهمیت شیوه تعاون؛
- بانکداری و قوانین مالی اسلام؛
- بایدها و نبایدها؛
- بررسی و تحلیلی از جهاد، عدالت، لیبرالیسم، امامت؛
- بهداشت و تنظیم خانواده؛
- پنج گفتار؛
- توکل از دیدگاه قرآن؛
- چهار گفتار از دو شهید (تألیف دکتر سید محمد حسینی بهشتی و دکتر محمدجواد باهنر)؛
- حق و باطل؛
- حکومت در اسلام؛
- حج در قرآن؛
- خدا از دیدگاه قرآن؛
- دکتر شریعتی، جستجوگری در مسیر شدن؛
- ربا در اسلام؛
- رسالت دانشگاه و دانشجو؛
- روش برداشت از قرآن – سلسله درسهاى اسلامی (٣)؛
- روحانیت در اسلام و در میان مسلمین؛
- سرود یکتاپرستی؛
- شناخت دین؛
- شناخت عرفانی؛
- شب قدر؛
- شناخت اسلام؛
- شناخت؛
- شناخت از دیدگاه فطرت؛
- شناخت از دیدگاه قرآن؛
- صداى اسلام در اروپا؛
- طرح لایحه قصاص؛
- طرح علمی و عملی براى مؤسسات آموزشی اسلامی (تألیف دکتر سید محمد حسینی بهشتی و هیئت تحریریه بنیاد نهجالبلاغه)؛
- فلسفه و شناخت الهی؛
- کدام مسلک؛
- مواضع ما؛
- مبارز پیروز؛
- مبانی نظری قانون اساسی؛
- موسیقی و تفریح در اسلام؛
- مسأله مالکیت – سلسله درسهاى اسلامی (١)؛
- محیط پیدایش اسلام؛
- مکتب و تخصص؛
- مدیریت در اسلام؛
- مبارزه با تحریف، یکی از هدفهاى پیغمبر اسلام؛
- نقش آزادی در تربیت کودکان؛
- نماز چیست؟؛
- نقش ایمان در زندگی انسان؛
- نقش تشکیلات در پیشبرد انقلاب اسلامی؛
- وظائف انجمنهاى اسلامی دانشجویان اروپا در برابر جوانان مسلمان؛
- ویژگیهاى انقلاب اسلامی ایران؛
- یک قشر جدید در جامعه ما.
قتل (شہادت)
نظم، منصوبہ بندی، تدبیر اور دانش مندی آپ کی نایاب خصوصیات میں شمار ہوتی تھیں اور ایران اور اسلامی انقلاب کے دشمن آپ کی ان نمایاں خصوصیات سے سخت خوفزدہ تھے، لہذا انہوں نے اپنی پوری طاقت سے آپ کے خلاف سازشیں کیں اور آپ کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کیا۔ پہلے انہوں نے آپ کا کردار کشی (وائٹ ٹیرر) کیا اور کوشش کی کہ عوام میں آپ کی ساکھ کو مشکوک بنائیں، اور آخر کار انہوں نے آپ کا جسمانی خاتمہ کرنے کا فیصلہ کیا اور 53 سالہ سرگرمیوں کے بعد آخر کار اتوار کے دن 28 جون 1981ء (سات تیر) کی رات نو بج کر سات منٹ پر حزب جمہوری اسلامی کے دفتر میں ہونے والے بم دھماکے کے نتیجے میں جو تنظیم مجاہدین خلق ایران کی طرف سے منظم کیا گیا تھا، آپ اپنے 72 ساتھیوں کے ہمراہ شہادت کے عظیم رتبے پر فائز ہوئے۔[1]
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
- ↑ بنیاد تاریخ پژوہی و دانش نامہ انقلاب اسلامی، تاریخ درج مطلب:نامعلوم، تاریخ مشاہدہ مطلب: ۲۴/ مئی / 2026ء۔