پاک و ہند میں تشیع کی مختصر تاریخ
پاک و ہند میں تشیع کی مختصر تاریخ برصغیر میں شیعہ علیؑ کا پہلا حوالہ حارث بن مرہ عبدی کا 656ء (36 ہجری) یا 658ء (38 ہجری) ہے جو امام علیؑ کی اجازت سے ایک لشکر کے ہمراہ مکران، قندابیل اور قیقان کے علاقوں تک آئے۔ زید بن علیؑ کی والدہ کا تعلق وادئ سندھ (موجودہ پاکستان) سے تھا اور وہ امام زین العابدینؑ کی دوسری زوجہ تھیں۔ ابن خلدون کے بقول خلیفہ منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔ محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازیؒ کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے۔ عباسی خلیفہ منصور نے ہشام بن عمر ثعلبی کی سربراہی میں لشکر بھیج کر آپکو شہید کرا دیا۔ نویں اور دسویں صدی عیسوی میں ہندوستان میں مبلغین اور صوفیوں کی آمد کا سلسلہ بڑھنا شروع ہوا تب تک سنیوں کے چار فقہی مکاتب (حنفی، حنبلی، مالکی، شافعی) تشکیل پا چکے تھے اور اہلِ تشیع تین شاخوں (زیدی، اثنا عشری، اسماعیلی) میں بٹ چکے تھے۔
دسویں صدی عیسوی میں ایران اور عراق میں اثناء عشری شیعہ خاندان آل بویہ (934ء –1062ء ) اور مصر، شام اور حجاز میں اسماعیلی شیعہ فاطمیوں (909ء –1171ء)کی حکومت قائم ہوئی۔ اسی صدی میں ملتان میں قرامطہ حکومت قائم ہوئی جو مصر کی فاطمی حکومت سے منسلک تھے۔ یہ حکومت محمود غزنوی نے ختم کی۔ 1374ء میں شمالی ہندوستان میں پہلی شیعہ حکومت "جون پور سلطنت" (1374ء –1479ء) قائم ہوئی۔ اس نے علم و فن کی سرپرستی کی جس کے نتیجے میں جون پور کو شیراز ہند کہا جانے لگا۔