ماہ رمضان کے بائیسویں دن کی دعا تشریح کے ساتھ
ماہ رمضان کے بائیسویں دن کی دعا
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿اللهمّ افْتَحْ لی فیهِ أبوابَ فَضْلَكَ وأنـْزِل علیّ فیهِ بَرَكاتِكَ وَوَفّقْنی فیهِ لِموجِباتِ مَرْضاتِكَ واسْكِنّی فیهِ بُحْبوحاتِ جَنّاتِكَ یا مُجیبَ دَعْوَةِ المُضْطَرّین﴾
اے اللہ! آج کے دن میرے لیے اپنے کرم کے دروازے کھول دے، اسمیں مجھ پر اپنی برکتیں نازل فرما اس میں مجھے اپنی رضاؤں کے راستے اختیار کرنے کی توفیق دے اور اس میں مجھ کو بہشت میں سکونت عنایت فرما اے بے قرار لوگوں کی دعائیں قبول فرمانے والے۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح
اللهم افتح لی فیه أبواب فضلک
اللهم:پروردگارا!
افتح لی:میرے لیے کھول دے
فیه:اس دن
أبواب فضلک:اپنی برکتوں کے دروازے
خدایا اس مہینے میں مجھ پر اپنے کرم کے دروازے کھول دے۔ خدایا مجھ سے اپنے فضل و کرم کے ساتھ پیش آنا اپنے عدل سے۔ ابواب سے مراد ، دروازے اور وہ جگہ جہاں سے داخل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی بندہ گناہ انجام دیتا ہے تو اللہ تعالی کے غضب اور ناراضگی کے دروازے اس کے لیے کھول دئیے جاتے ہیں۔ اور اگر کوئی نیک عمل انجام دے تواس کیلیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ خدا کے فضل و کرم سے مراد، صراط مستقیم کی ہدایت ہے ایسی ہدایت جس سے خداوند متعال کے رحمت و بخشش کے دروازے بندوں کے لیے کھول دئیے جاتے ہیں۔
و أنزل علی فیه برکاتک
وأنزل علی:اور مجھ پر نازل فرما
فیه:اس دن
برکاتک:اپنی برکات کے دروازے
خدایا اس مہینے میں اپنی برکتوں کے دروازے مجھ پر کھول دے۔ جب اللہ تعالی اپنے فضل اور رحمت کے دروازے، اپنے بندوں کے لیے کھول دئے تو اس وقت ان پر برکات نازل ہوتی ہیں، برکات کی دو قسم کی ہیں ۔مادی برکتیں اور معنوی برکتیں ، مادی برکتوں میں تمام دنیوی اور مادی نعمتیں شامل ہیں جنہیں انسان اپنی زندگی کی ضروریات کے لیے استفادہ کرتا ہے اور معنوی برکتوں میں وہ نعمتیں شامل ہيں جسے انسان خدا سے تقرب اور نزدیک ہونے کے لیے، وسیلہ اور راستہ قرار دیتا ہے جیسے توبہ، استغفار، ذکر اور دعا۔
و وفقنی فیه لموجبات مرضاتک
ووفقنی:اور مجھے توفیق دے
فیه:اس دن
لموجبات مرضاتک:اپنے رضاؤں کے اسباب
پروردگارا اس مہینے میں ان اعمال کو انجام دینے کی توفیق دے جس میں تیری رضا ہو۔آیات اور روایات کی روشنی میں رضا الہی اس میں ہے کہ بندہ، خدا اور رسول کے دستورات پر عمل کرے۔
و أسکنی فیه بحبوحات جناتک
وأسکنی:اور مجھے سکونت دے
فیه:اس دن
بحبوحات:مرکز
جناتک:تیری جنت کے
خدایا مجھے بہشت کے مرکز میں سکونت دے،شاید مرکز بہشت سے مراد اولیاء الہی کے سکونت کی جگے ہیں کہ ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ایسی جگہ ہمیں بھی نصیب فرما۔
یا مجیب دعوة المضطرین
یامجیب:اے جواب دینے والے
دعوةالمضطرین:بے قراروں کی دعا
اے پریشان حالو کی پریشانیوں کو دور کرنے والے ،ہماری آج کی دعاؤں کو مستجاب فرما [1]۔
حواله جات
- ↑ فرمان علی سعیدی شگری، راز بندگی،جی بی گرافکس اسلام آباد، 2022ء ص43 تا 45