ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا تشریح کے ساتھ
ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی دعا
﴿بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ﴾
﴿اللهمّ اجْعَلْ لی فیهِ الى مَرْضاتِکَ دلیلاً ولا تَجْعَل للشّیْطان فیهِ علیّ سَبیلاً واجْعَلِ الجَنّهِ لی منْزِلاً ومَقیلاً یا قاضی حَوائِجَ الطّالِبین﴾
اے اللہ! آج کے دن اپنی رضاؤں کی طرف میری رہنمائی فرما اور اس میں شیطان کو مجھ پر کسی طرح کا اختیار نہ دے اور جنت کو میرا مقام اور ٹھکانہ قرار دے ،اے طلبگاروں کی حاجت پوری کرنے والے۔
الفاظ کے معانی اور مختصر شرح
اللهم اجعل لی فیه الی مرضاتک دلیلا
اللهم اجعل لی:خدایا میرے لیے قرار دے
فیه:اس دن
إلی مرضاتک:تیری خوشنودیوں کی طرف
دلیلا:رہنمائی
اے اللہ! اس مہینے میں اپنی خوشنودیوں کی طرف میری رہنمائی فرما۔ اہل بیت علیہم السلام انسان کے لیے رہنما اور چراغ راہ ہیں۔ آج کی دعا میں ہم اللہ تعالی سے دعا کرتے ہمارے لیے ایک ایسا راہنما قرار دے جس کے زریعے ہم تیری رضا تک پہنچ سکے۔خدا سے درخواست کرتے ہیں وہ ہ ہمیں ایسا بنادے کہ ہم صرف وہی کام کرے جس سے تو راضی ہو، اور وہ تیری خوشنودی کا سبب بنے۔
اگر ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ خدا ہم سے راضي ہے یا نہیں؟ تو ہمیں پہلے دیکھنا چاہیے کہ آیا ہم خدا کی تقسیم سے دل سے راضی ہیں یا نہیں۔ اگر خدا نے کسی کو ایک نعمت دی ہے اور ہمیں اس سے محروم رکھا ہے تو انسان کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ اس میں ہمارے لیے کوئی نہ کوئی مصلحت ہے اور خدا ہماری مصلحتوں سے اچھی طرح سے واقف ہے۔اگر ہم خدا سے راضی رہے تو خدا بھی ہم سے راضي رہے گا۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ہم میں سے اکثر خدا سے راضی نہیں ہیں اور خدا سے شکایت کرتے ہیں کہ خدا فلان نعمت فلان شخص کو دی ہمیں نہیں دی ۔اس نارضايتوں اور ناشکریوں سے توبہ کرلینا چاہیے اور خدا کی رضا پر راضی رہناچاہیے۔
و لا تجعل للشیطان فیه علی سبیلا
ولاتجعل:اور قرار نہ دے
للشیطان:شیطان کے لیے
فیه:اس دن
علی سبیلا:مجھے پر اختیار
اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ شیطان کو کسی بھی وقت ہم پر مسلط ہونے نہ دے۔ شیطان اس وقت ہم پر مسلط ہوتا ہے جب ہم اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کریں اور دستور الہی سے روگردانی کریں اس وقت شیطان کے معمولی وسوسہ سے اس کے دھوکے میں آجاتے ہیں۔
و اجعل الجنة لی منزلا و مقیلا
واجعل الجنة:اور جنت کو قرار دے
لی:میرے لیے
منزلا:مقام
مقیلا:ٹھکانہ
خدایا بهشت کو میرا ٹھکانہ قرار دے۔ مقیلا ایسی جگہ کہ جس میں انسان کو سکون اور آسایش پہنچے اور وسوسے خوف و غم، اور بیہودہ باتوں اور زندگی کی مشکلات سے دور ہو۔ یہ سکون والی جگہ بہشت ہے یہ ان لوگوں کی جزا ہے جنہوں نے دستورات الہی پر عمل کیا ہے اور خواہشات نفسانی کی پیروی نہیں کی۔
یا قاضي حوائج الطالبین
یاقاضی:اے پورا کرنے والا
حوائج الطالبین:طلبگاروں کی حاجات
اے اللہ!ہماری حاجات اور دعاؤں کو پورا فرما اے حاجتوں کو پوری کرنے والے [1]۔
حواله جات
- ↑ فرمان علی سعیدی شگری، راز بندگی،جی بی گرافکس اسلام آباد، 2022ء ص42 تا 43