سید ابو القاسم خوئی
| سید ابوالقاسم خوئی | |
|---|---|
| دوسرے نام | آیت الله العظمی خوئی ، استادُ الفقها و المجتہدین |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | ۱۲۷۸ ش |
| پیدائش کی جگہ | خوی، آذربایجان غربی، ایران |
| وفات | ۱۳۷۱ ش |
| وفات کی جگہ | نجف |
| اساتذہ | محمدحسین غروی اصفهانی |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات | البیان فی تفسیر القرآن |
| مناصب | شیعہ مرجع تقلید میں سے ایک |
سید ابوالقاسم خوئی، (پیدائش: ۲۸ نومبر ۱۸۹۹ء بمطابق ۱۲۷۸ شمسی، خوی؛ وفات: ۱۷ اگست ۱۹۹۲ء بمطابق ۱۷ مرداد ۱۳۷۱ شمسی، کوفہ) شیعہ مسلمانوں کے مراجعِ تقلید، جلیل القدر فقیہ، مفسرِ قرآن اور علمِ رجال کے ممتاز محققین میں شمار ہوتے تھے۔ وہ شیعہ مراجعِ تقلید میں سب سے زیادہ بااثر اور کثیر التقلید مراجع میں سے ایک تھے۔ موجودہ دور کے بہت سے شیعہ مراجع و فقہاء ان کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں، اسی وجہ سے فقہاء اور مراجعِ تقلید کے درمیان انہیں "استادُ الفقہاء والمجتهدین" کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی اہم علمی تصانیف میں تفسیر کے میدان میں "البیان فی تفسیر القرآن" اور علمِ رجال کے میدان میں "معجم رجال الحدیث" خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
سوانح حیات
سید ابوالقاسم خوئی، سید علی اکبر بن میر ہاشم موسوی خوئی کے فرزند تھے۔ وہ ۱۸۹۹ء میں، ایک علمی اور متقی خاندان میں، صوبۂ آذربائیجان غربی کے شہر خوی میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد آیت اللہ حاج سید علی اکبر، سید ہاشم موسوی خوئی کے فرزند اور خوی کی ممتاز علمی شخصیات میں سے تھے۔ وہ ۱۲۸۵ھ میں خوی میں پیدا ہوئے اور ۱۳۷۱ھ میں وفات پا گئے۔ تحریکِ مشروطیت کے دوران علماء کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے بعد ان کے والد نجفِ اشرف ہجرت کر گئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔
سید ابوالقاسم نے اپنے بچپن اور نوجوانی کا زمانہ اپنے والد کی نگرانی میں گزارا۔ انہوں نے تیرہ سال کی عمر تک اپنے آبائی شہر خوی میں عربی علوم، صرف و نحو اور قرآنِ کریم کی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ۱۳۳۰ھ میں وہ اپنے بھائی سید عبداللہ خوئی کے ہمراہ نجفِ اشرف روانہ ہوئے اور اپنے والد سے جا ملے۔
وہ نہایت ذہین اور باصلاحیت نوجوان تھے، یہاں تک کہ ان کی علمی استعداد نے حوزۂ علمیہ نجف کے اساتذہ کو حیران اور متاثر کیا۔
نجفِ اشرف میں تقریباً بیس سال تک تحصیلِ علم کے بعد وہ درجۂ اجتہاد پر فائز ہوئے اور متعدد بزرگ علماء نے ان کے اجتہاد کی تصدیق اور گواہی دی۔ ان کا درسِ خارج آخر عمر تک جاری رہا اور اتنی شہرت حاصل کر گیا کہ زندگی کے آخری دو عشروں میں عراق بلکہ پوری دنیاۓ اسلام کے حوزہ ہائے علمیہ میں ان کا علمی حلقۂ درس بے مثال سمجھا جاتا تھا۔
سینکڑوں طلبہ علوم و معارفِ اسلامی کے حصول کے لیے ان کے درس میں شریک ہوتے تھے۔ آج کے بہت سے فقہاء اور فضلاء اس بلند پایہ استاد کے وسیع علمی ذخیرے سے استفادہ کرنے والوں میں شمار ہوتے ہیں۔
ان کے معروف شاگردوں میں آیت اللہ میرزا جواد تبریزی، آیت اللہ سید ابوالحسن شیرازی، آیت اللہ سید جمال الدین خوئی، آیت اللہ باقر شریف قرشی، آیت اللہ باقر ایروانی اور سید محمد باقر حکیم کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
اہلیہ اور اولاد
سید ابوالقاسم خوئی کی ازدواجی زندگی اور اولاد کے بارے میں تفصیلات ان کی علمی و سیاسی سوانح کے مقابلے میں کم بیان ہوئی ہیں۔ ان کے خاندان اور اولاد میں متعدد افراد نے علمی، حوزوی اور دینی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ بالخصوص ان کے فرزند سید عبدالمجید خوئی معروف عالمِ دین اور حوزۂ نجف سے وابستہ شخصیت تھے۔
ان کے دیگر صاحبزادوں میں سید محمدتقی خوئی بھی قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے اپنے والد کے علمی و دینی اداروں کی خدمت اور حوزوی امور میں اہم کردار ادا کیا۔
سید جمال الدین خوئی آیت اللہ خوئی کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ نجف میں اپنے والد کی مرجعیت کے امور کی انجام دہی میں صرف کیا۔ ان کی بعض تصانیف میں شرح کفایة الاصول، بحث فی الفلسفة و علم الکلام، توضیح المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، شرح دیوان متنبی اور فارسی زبان میں ایک دیوانِ شعر شامل ہے۔
سید محمدتقی خوئی نے ۱۳۶۸ شمسی میں آیت اللہ خوئی فاؤنڈیشن کے قیام کے بعد اس کے سیکریٹری جنرل کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی۔ ۱۳۶۹ شمسی میں انتفاضۂ شعبانیہ کے بعد وہ اپنے والد کی جانب سے آزاد کرائے گئے علاقوں کے انتظام کے لیے تشکیل دی گئی منتخب کمیٹی کے رکن تھے۔
تاہم اس تحریک کو کچلنے اور شیعوں کے قتلِ عام کے بعد انہیں بھی اپنے والد کے ساتھ نظر بند کر دیا گیا۔ آخرکار وہ ۳۰ تیر ۱۳۷۳ شمسی کو ایک ٹریفک حادثے میں وفات پا گئے۔ بعض لوگوں نے اس واقعے کو صدام حکومت کی منصوبہ بندی کا نتیجہ قرار دیا ہے۔ ان کی تصانیف میں اپنے والد کے فقہی دروس کی تقریرات کے علاوہ الالتزامات التبعیة فی العقود بھی شامل ہے۔
آیت اللہ خوئی کی بیٹیوں کے بارے میں دقیق معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان کے بعض دامادوں میں سید نصراللہ مستنبط، سید مرتضیٰ حکمی، سید جلال الدین فقیہ ایمانی، جعفر غروی نائینی اور سید محمود میلانی شامل ہیں۔
خدمات اور سرگرمیاں
آیت اللہ خوئی نے عالمِ اسلام کے لیے نہایت گراں قدر اور بے مثال خدمات انجام دیں۔ ان کی خدمات میں ثقافتی و تبلیغی مراکز کا قیام اور مختلف سماجی و رفاہی منصوبے خصوصاً قابلِ ذکر ہیں۔ انہوں نے ایران کے مختلف علاقوں اور دنیا کے دیگر ممالک میں کتب خانوں، مدارس، مساجد، حسینیہ، طلبہ کے لیے رہائش گاہیں، طبی مراکز، ہسپتال، فلاحی ادارے اور یتیم خانے قائم کیے۔
ایران میں ان کے قائم کردہ بعض ثقافتی اور رفاہی مراکز درج ذیل ہیں:
- مدینة العلم، قم
- کتب خانۂ آیت اللہ خوئی، قم
- مدرسہ و کتب خانۂ آیت اللہ خوئی، مشہد
- مؤسسۂ خیریہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی، خوی
- خیریہ ہسپتال حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی، خوی
- امام موسیٰ بن جعفرؑ خیریہ درمان گاہ، جو مؤسسۂ خیریہ حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی سے وابستہ ہے، خوی
- سرائے سالمندان حضرت آیت اللہ العظمیٰ خوئی، خوی
- دارالعلم، اصفہان
- مجتمع امام زمانؑ، اصفہان
اس کے علاوہ ممبئی، بینکاک، ڈھاکہ، پاکستان، ملائیشیا، بیروت، نیویارک، لندن، انڈونیشیا، فرانس، لاس اینجلس اور دنیا کے دیگر علاقوں میں بھی انہوں نے اسی نوعیت کے متعدد ثقافتی، تبلیغی اور تحقیقی مراکز قائم کیے۔
یہ مراکز دنیا بھر میں مذہبِ تشیع کی تبلیغ، اسلامی تعلیمات کے فروغ اور علمی و ثقافتی سرگرمیوں کے لیے نہایت مؤثر اور کارآمد ثابت ہوئے۔
سیاسی موقف
انقلابِ اسلامی ایران سے وابستگی
آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی ان اولین شخصیات میں سے تھے جنہوں نے امام خمینی کی قیادت میں اسلامی تحریک کے آغاز کے بعد حوزۂ علمیہ نجف کو ایران میں رونما ہونے والے اہم واقعات کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے ایران میں علماء اور عوام کی عظیم تحریک کے ساتھ بھرپور تعاون اور حمایت میں قابلِ قدر کوششیں انجام دیں۔
عراق کی انتفاضۂ شعبانیہ
رمضان المبارک ۱۴۱۲ھ میں عراق کے عوام کی خونریز تحریک کے دوران آیت اللہ خوئی اس تحریک کا مرکزی محور اور اسلامی قیام کے احکامات جاری کرنے کا اہم مرکز تھے۔
اسی وجہ سے بعثی خونخوار حکومت کی جانب سے اس تحریک کو کچلنے کے بعد اس بزرگ عالم کو بعثی اہلکاروں کی طرف سے سخت اذیت، تشدد اور توہین کا سامنا کرنا پڑا اور ان کی جان کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا۔
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جب وہ اس خطرے سے محفوظ رہے تو اس کے بعد ایک طویل عرصے تک بعثی اہلکاروں کی نگرانی میں انتہائی سخت حالات میں **نظر بند رہے۔
آثار و تصانیف
سید ابوالقاسم خوئی کی بعض اہم علمی و تحقیقی تصانیف درج ذیل ہیں:
- البیان فی تفسیر القرآن؛
- معجم رجال الحدیث؛
- المسائل الشرعیة؛
- اجود التقریرات؛
- تکملۃ منہاج الصالحین؛
- مبانی تکملۃ منہاج الصالحین؛
- نفحات الاعجاز؛
- خلافت کے بارے میں رسالہ؛
- امیرالمؤمنین حضرت علیؑ کی مدح میں قصیدہ؛
- لباسِ مشکوک کے بارے میں رسالہ؛
- منتخب الرسائل؛
- تلخیص المنتخب؛
- تعلیقہ المنہج لاحکام الحج؛
- مناسکِ حج؛
- المسائل المنتخبۃ؛
- المسائل والردود؛
- مستحدثات المسائل؛
- توضیح المسائل؛
- منتخب توضیح المسائل؛
- عروۃ الوثقیٰ پر حاشیہ؛
- المسائل الفقہیۃ پر حاشیہ؛
- تہذیب و تتمیم منہاج الصالحین؛
- منیۃ المسائل؛
- ازالۃ المحادۃ عن ملک المنافع المتضادۃ؛
- اضاءۃ القلوب بتحقیق المغرب والغروب؛
- انارۃ العقول فی انتصاف المہر بموت احد الزوجین قبل الدخول؛
- فقہ القرآن علی المذاهب الخمس؛
- قاعدۃ التجاوز؛
- فہرست جامع الشتاتِ میرزائے قمی؛
- میرزائے نائینی کے فقہ کے دروس کی تقریرات ؛
- محقق اصفہانی کے فقہ کے دروس کی تقریرات؛
- وسیلۃ النجاۃ پر حاشیہ ؛
- شیخ انصاری کی مکاسب پر حاشیہ ؛
- تعارض الاستصحابین؛
- محقق اصفہانی کے اصول کے دروس کی تقریرات؛
- مصباح الفقاہۃ، (میرزا محمد علی توحیدی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- مبانی منہاج الصالحین، (منہاج الصالحین کی شرح، سید تقی طباطبائی قمی کی تحریر)؛
- المستند فی شرح العروۃ الوثقیٰ، (شیخ مرتضیٰ بروجردی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- المعتمد فی شرح العروۃ الوثقیٰ، (محمدرضا خلخالی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- مصباح الاصول، (محمد الواعظ البہسودی کے اصول کے دروس کی تقریرات)؛
- ہدایۃ فی الاصول، (سید حسن صافی کے اصول کے دروس کی تقریرات)؛
- الواضح فی شرح العروۃ الوثقیٰ، (محمد جوادِ ہری کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- التنقیح علی شرح المکاسب، (میرزا علی غروی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- فقہ الشیعۃ، (محمد مہدی خلخالی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- الشروط أو الالتزامات التبعیۃ فی العقود ، (سید محمد تقی خوئی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- غایۃ المأمول ، (محمد تقی جوادِ ہری کے اصول کے دروس کی تقریرات)؛
- مصابیح الاصول ، (سید علاءالدین بحرالعلوم کے اصول کے دروس کی تقریرات)؛
- جواہر الاصول ، (فخرالدین زنجانی کے متفرق اصولی دروس کی تقریرات)؛
- اصول الفقہ الشیعۃ ، (سید محمد مہدی خلخالی کے اصول کے دروس کی تقریرات)؛
- درس خارج اصولِ فقہ ، (ابوالقاسم گرجی کے اصولی دروس کی تقریرات)؛
- التنقیح فی شرح العروۃ الوثقیٰ ، (میرزا علی غروی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- مبانی فی شرح العروۃ الوثقیٰ ، (سید محمد تقی خوئی کے فقہی دروس کی تقریرات)؛
- محاضرات فی الاصول، (محمد اسحاق فیاض کے اصول کے دروس کی تقریرات)
اساتذہ
آیت اللہ خوئی کے بعض مشہور اساتذہ درج ذیل ہیں:
- آیت اللہ شیخ فتح اللہ شریعت اصفہانی؛
- آیت اللہ حاج شیخ مہدی مازندرانی؛
- آیت اللہ میرزا حسین نائینی؛
- آیت اللہ شیخ محمد جواد بلاغی؛
- آیت اللہ میرزا علی آقا شیرازی، فرزندِ میرزائے شیرازی؛
- آیت اللہ سید حسین بادکوبہ ای؛
- آیت اللہ آقا ضیاء الدین عراقی؛
- آیت اللہ شیخ محمد حسین غروی اصفہانی۔
شاگردان
ابوالقاسم خوئی کے مشہور شاگردوں میں شیعہ علماء اور روحانی شخصیات کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ ان میں درج ذیل نام قابلِ ذکر ہیں:
- محمد تقی بہجت فومنی؛
- سید علی حسینی سیستانی ، موجودہ شیعہ مرجعِ تقلید؛
- قربان علی محقق کابلی، افغانستان کے شیعہ مرجعِ تقلید؛
- میرزا جواد تبریزی؛
- حسین وحید خراسانی؛
- ناصر مکارم شیرازی؛
- سید عبدالکریم موسوی اردبیلی؛
- سید محمد باقر صدر، مشہور شیعہ اصولیین میں سے؛
- موسیٰ شبیری زنجانی؛
- محمد صادقی تہرانی؛
- میرزا علی فلسفی؛
- سید محمد علی موحد ابطحی؛
- شیخ محمد حسن محمدی بجنوردی؛
- سید صادق روحانی؛
- سید محمد روحانی؛
- سید عزالدین حسینی زنجانی؛
- سید محمد موحد محمدی؛
- شیخ علی غیاثی آملی؛
- محمد ابراہیم جناتی؛
- حسن صافی اصفہانی؛
- سید تقی طباطبائی قمی؛
- مجتبیٰ تہرانی؛
- سید عباس مدرسی یزدی؛
- سید محمد حسین میرسجادی؛
- سید عبدالحسین قزوینی؛
- سید محمد رضا خلخالی؛
- محمود انصاری قمی؛
- سید موسیٰ صدر؛
- علی اکبر برہان؛
- محمد صادق سعیدی؛
- محسن کوچہ باغی تبریزی؛
- محمد رضا جعفری؛
- سید علی محمد دستغیب؛
- مسلم ملکوتی؛
- سید جعفر شہیدی؛
- محمد تقی جعفری؛
- سید باقر موسوی عسکری؛
- سید جلال الدین فقیہ ایمانی؛
- سید محمد حسین حسینی طہرانی؛
- محمد صالح کمیلی؛
- شیخ حسن حیدری زنجانی؛
- سید محمد علی علوی گرگانی؛
- سید محمد صادق صدرالحفاظی (رضوی قمی)؛
- ابوالقاسم گرجی؛
- محمد اسحاق فیاض؛
- محمد ہاشم صالحی؛
- سید محمد حسین فضل اللہ؛
- احمد وائلی؛
- شیخ فضل اللہ ذوعلم؛
- سید طیب جزائری؛
- ہادی باریک بین؛
- واعظ بہسودی؛
- خلیل قبلہ ای خوئی؛
- سید مرتضیٰ فیروزآبادی؛
- حسین راستی کاشانی۔
- محمد آصف محسنی؛
وفات
سید ابوالقاسم خوئی نے ہفتہ، ۸ صفر ۱۴۱۳ھ بمطابق ۱۷ مرداد ۱۳۷۱ شمسی کو ۹۴ سال کی عمر میں قلبی عارضے کے باعث کوفہ میں وفات پائی۔
ان کا جسدِ خاکی حرمِ حضرت علی بن ابی طالبؑ کے صحن میں واقع مسجد الخضراء میں سپردِ خاک کیا گیا۔