مندرجات کا رخ کریں

رہبرِ انقلابِ اسلامی کی قیادت نے وحدت اور مزاحمت کو مرکزیت بخشی

ویکی‌وحدت سے

رہبرِ انقلابِ اسلامی کی قیادت نے وحدت اور مزاحمت کو مرکزیت بخشی جامعۃ المصطفٰی کراچی پاکستان میں رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت الله العظمیٰ شہید سید علی حسینی خامنہ ای کے چہلم کی مناسبت سے ایک عظیم الشان علمی نشست منعقد ہوئی جس میں علمائے کرام اور طلباء نے بھرپور شرکت کر کے شہدائے مقاومت بالخصوص شہید امام خامنہ ای کو زبردست الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔

حق کے کامل غلبے تک یہ کشمکش برقرار رہے گی

نشست سے خطاب کرتے ہوئے حجت الاسلام جری حیدر نے کہا کہ آغازِ خلقت سے لے کر عصرِ حاضر تک حق و باطل کا معرکہ جاری ہے اور حق کے کامل غلبے تک یہ کشمکش برقرار رہے گی۔

موجودہ دور میں یہ تصادم تہذیبوں کے ٹکراؤ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ مغربی تہذیب، جسے بظاہر دلکش نعروں اور خوشنما اقدار کے ساتھ انسانیت کی منزلِ مقصود کے طور پر پیش کیا گیا،

درحقیقت اس کے پسِ پردہ خدا کے انکار اور انسان کو کائنات کا مرکز و محور قرار دینے کا ایک شیطانی تصور کارفرما تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، ہدایتِ الٰہی کا وہ سلسلہ جو حضرت آدمؑ سے شروع ہو کر ہر زمانے میں حجتِ الٰہی کی رہنمائی میں جاری رہا، قرآنِ کریم کی رو سے فطری انسانی تہذیب کی بنیاد ہے،

جو انسانی معاشرے کی حقیقی شناخت اور اس کی بنیادی ضروریات کو کامل طور پر پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔


حجت الاسلام جری حیدر نے کہا کہ جب سیکولرزم کی بنیاد پر جدید تہذیب کی تشکیل ہوئی تو مادی ترقی کا نعرہ نہایت دلکش اور پرکشش تھا۔ اسی کشش کے باعث انسان اس کی جانب مائل ہوا اور رفتہ رفتہ یہ تہذیب غالب حیثیت اختیار کر گئی،

یہاں تک کہ دنیا اس کے زیرِ اثر آ گئی۔ دین کو محدود کر کے محض مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں تک محصور کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ آزادی کا ایک ایسا نعرہ بلند کیا گیا جو درحقیقت لادینیت پر مبنی تہذیبی تصور تھا، جس کا محور مادی خواہشات کا حصول تھا۔

عصرِ حاضر میں امام خمینیؒ نے ایک ہمہ گیر اسلامی تہذیب پیش کی، جس میں مستضعفین کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور جو مسلک و مذہب سے بالاتر ہو کر عدل و انصاف کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

اس کے بعد وحدت کا نعرہ سامنے آیا، جبکہ مغرب نے ہمیشہ “تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی اختیار کیے رکھی۔پھر مقاومت و مزاحمت کا نظریہ پیش کیا گیا، حالانکہ اس سے قبل مکتبِ تشیع کو محض ایک متشدد نظریے کے طور پر پیش کیا جاتا تھا، جس کے باعث اسے وسیع پذیرائی حاصل نہ ہو سکی تھی۔

انہوں نے کہا کہ انسان کا انفرادی تشخص اگرچہ اس کے نسب سے وابستہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کا اجتماعی تشخص ایک عادلانہ اور مضبوط نظام کے زیرِ سایہ تشکیل پاتا ہے۔ چونکہ انسان کی فطرت خدائی ہے،

اس لیے وہ کمالِ مطلق کی جستجو رکھتا ہے۔ مادی تہذیب کے غلبے کے باوجود انسان کی فطری و روحانی پیاس میں اضافہ ہوتا چلا گیا، کیونکہ وہ اپنی اصل انسانیت سے دور ہوتا گیا۔

امام خمینیؒ نے قرآن و اسلام اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کو ایک جامع نظام کے طور پر متعارف کرایا

مغرب میں خاندانی نظام کمزور پڑ گیا، مفاد پرستی غالب آ گئی، اور ظاہری ترقی کے باوجود ایک گہرا معنوی خلا باقی رہا۔ جب انسان کو اس مادی تہذیب میں حقیقی سکون نہ ملا تو وہ دوبارہ الٰہی اور دینی تہذیب کی جانب متوجہ ہوا۔

امام خمینیؒ نے قرآن و اسلام اور مکتبِ اہلِ بیتؑ کو ایک جامع نظام کے طور پر متعارف کرایا اور اسلام کے سیاسی، اقتصادی اور سماجی پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی تمدن کے مقابل اسلامی انقلاب کو ہمیشہ مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، مگر اس کے باوجود امام خمینیؒ اور ان کے بعد رہبرِ انقلاب نے مسلسل جدوجہد کے ذریعے اس فکر کو استحکام بخشا اور مکتبِ تشیع کو ایک عالمی فکری نظام کے طور پر پیش کیا۔

حجت الاسلام جری حیدر نے کہا کہ رہبرِ انقلابِ اسلامی کی قیادت نے وحدت اور مزاحمت کو مرکزیت دی اور ایک ہمہ گیر فکری نظام کی بنیاد رکھی۔ خصوصاً انسانی اقدار، بالخصوص خواتین کے مقام اور خاندانی نظام کے حوالے سے ایک متوازن اور بامقصد تصور پیش کیا،

مزاحمت کا بیج مشرقِ وسطیٰ میں پروان چڑھا

جو اپنی مثال آپ ہے۔ کئی دہائیوں کی محنت کے نتیجے میں مزاحمت کا بیج مشرقِ وسطیٰ میں پروان چڑھا، جہاں لبنان، یمن اور دیگر خطوں میں محدود وسائل کے باوجود حق و عدالت کے لیے جدوجہد جاری ہے۔

جو کبھی کمزور سمجھے جاتے تھے، وہی آج عزت و وقار کے ساتھ کھڑے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ مغربی تہذیب کے دعوؤں کو بے نقاب کرنے کا ذریعہ بنا اور دنیا بھر میں ایک نئی بیداری پیدا ہوئی،

حتیٰ کہ مغربی معاشروں کے نوجوان بھی اس کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ مجاہدین شہید نصر اللہ، سلیمانی، سنوار، ہنیہ اور دیگر نے اپنی قربانیوں سے اس تحریک کو دوام بخشا۔

رہبرِ انقلاب نے مغربی تہذیب کے باطل چہرے کو اس انداز میں آشکار کیا کہ مخالفین کے پاس انہیں شہید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔

تاہم ان کی شہادت کے بعد پوری دنیا انہیں ایک مثالی شخصیت کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ ان کی با شعور شہادت نے ان کی شخصیت کو مزید جِلا بخشی، کیونکہ جو تاثیر شہادت میں ہے وہ طبعی موت میں نہیں ہوتی۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ آج مکتبِ تشیع ایک آفاقی فکری و عملی نظام کے طور پر پوری قوت کے ساتھ ابھر کر سامنے آ چکا ہے[1]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات