ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے(کتاب)
| ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے(کتاب) | |
|---|---|
| نام | ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے |
| مؤلفین/ مصنفین | توفیق علی وہبہ |
| زبان | عربی |
| زبان اصلی | عربی |
| ناشر | مسلم محققین، مصر، اسلامی وحدت، تقریبِ مذاہب |
| موضوعات | اہل بیت اور اہل سنت |
| شابک | 9647994702 |
ایران کا سفر، اسلامی وحدت کے لیے (عربی کتاب:"زيارة إلى إيران من أجل الوحدة والتقريب بين المذاهب الإسلامية") کا فارسی ترجمہ ہے۔ اس کتاب کے مصنف مصری دانشور اور مرکزِ عربی مطالعات و تحقیقات کے سربراہ ڈاکٹر توفیق علی وہبہ ہیں۔ مصنف نے اس کتاب میں ایران کے اپنے سفر کی یادداشتوں کو قلم بند کرتے ہوئے شیعہ عقائد، ان کے بارے میں پائے جانے والے شبہات اور شیعہ و اہلِ سنت کے مابین اختلافی مسائل کا جائزہ لیا ہے۔ اسی ضمن میں انہوں نے دوسری بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس، عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی، قم و تہران کے علمی و ثقافتی مراکز اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی بیان کی ہیں۔ کتاب میں مصنف کے سفر سے متعلق متعدد تصویری دستاویزات بھی شامل ہیں۔ اس تصنیف کا بنیادی مقصد پوری امتِ مسلمہ میں وحدتِ اسلامی کے فروغ، مذہبی تعصبات کے خاتمے اور نسلی و فرقہ وارانہ تنازعات پر قابو پانا ہے۔
اجمالی تعارف
یہ کتاب مصری مصنف توفیق علی وہبہ کی ایک سفری روداد ہے، جس میں انہوں نے ایران کے سفر کے دوران شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان وحدت و تقریب کے موضوع پر اپنے مشاہدات اور تجربات کو بیان کیا ہے۔
مصنف نے اس سفر کے دوران مذہبی تعصب سے اجتناب اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات و تفرقے کے خاتمے کی ضرورت کو عملی طور پر محسوس کیا۔ انہوں نے پانچ ابواب میں ایران کے اپنے مشاہدات، قم مقدس کے علمی و ثقافتی مراکز کے تعارف اور ایران کے شیعہ علماء سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔
پہلا باب
پہلا باب اسلامی جمہوریہ ایران کے تعارف سے متعلق ہے۔ اس میں مصنف نے ایران کے بارے میں اپنی عمومی معلومات، مذہبِ شیعہ اثنا عشریہ سے آشنائی اور شیعہ و اہلِ سنت کے اختلافی مسائل کا جائزہ پیش کیا ہے۔
انہوں نے دنیا میں شیعوں کے جغرافیائی پھیلاؤ، خصوصاً ایران کے مرکزی کردار، اسلامی جمہوریہ ایران کے سیاسی و انتظامی نظام، آبادی اور سرکاری مذہب کا تعارف بھی کرایا ہے۔
مصنف کے مطابق شیعہ اور اہلِ سنت کے درمیان بہت سے فکری اور مذہبی مشترکات موجود ہیں اور ان مشترکات کو تقویت دینا ضروری ہے تاکہ اختلافی مسائل کی شدت کم ہو، اسلامی دنیا میں اتحاد و انسجام پیدا ہو اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کم سے کم رہ جائیں۔
دوسرا باب
اس باب میں مصنف نے تہران میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی اسلامی وحدت کانفرنس کی تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔ وہ خود بھی اس کانفرنس میں مدعو مہمان اور مقرر کی حیثیت سے شریک ہوئے اور "وحدت اور تقریبِ مذاہبِ اسلامی" کے عنوان سے ایک مقالہ پیش کیا۔
انہوں نے کانفرنس کے ماحول، اس کے اثرات اور اسلامی مذاہب کے درمیان قربت پیدا کرنے اور اختلافات کو کم کرنے میں اس کے کردار کو بیان کیا ہے۔
تیسرا باب
اس باب میں مصنف نے عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی اور اسلامی وحدت کانفرنس کے انعقاد میں اس کے اہم کردار کا تعارف کرایا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس ادارے کے زیرِ نگرانی کام کرنے والے بعض علمی و ثقافتی مراکز، مثلاً مرکز مطالعات و تحقیقاتِ علمی قم اور جامعہ مذاہبِ اسلامی کا بھی تعارف پیش کیا ہے۔
چوتھا باب
اس باب میں مصنف نے شہرِ قم کے ان علمی اور ثقافتی مراکز کا تعارف کرایا ہے جو اسلامی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جن میں:
- جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ؛
- شہرِ قم کے نمایاں علمی، ثقافتی اور تاریخی آثار؛
- حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کا روضۂ مبارک؛
- آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی کی عظیم الشان لائبریری؛
- عظیم قرآنی طباعتی مرکز؛
- دانشکدۂ علومِ قرآنی؛
- اور مدرسۂ قرآنِ کریم شامل ہیں۔
پانچواں باب
- جامعہ مذاہبِ اسلامی کا دورہ؛
- جامعہ تہران کے دانشکدۂ الٰہیات؛
- جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ میں ڈاکٹر توفیق علی وہبہ کے خطاب کا متن؛
- اختتامیہ؛
- تصاویر۔[1]۔
متعلقہ تلاشیں
- عالمی مجلسِ تقریبِ مذاہبِ اسلامی؛
- پژوهشگاہِ مطالعاتِ تقریبی؛
- جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ؛
- جامعہ مذاہبِ اسلامی۔
حوالہ جات
- ↑ سفر به ايران در راستای وحدت اسلامی-وبسایت پژوهشگاه مطالعات تقریبی]، تاریخ درج مطلب: بیتا، تاریخ مشاهدۀ مطلب: 2 مهرماه 1404 ش