مندرجات کا رخ کریں

ایران نے جنگ کیسے جیتی؟

ویکی‌وحدت سے

ایران نے جنگ کیسے جیتی؟سیاسی اور اسٹریٹجک تجزیے میں جذبات سے بالاتر ہو کر دیکھنا ناگزیر ہوتا ہے۔ تصویر کا صحیح رخ دیکھنے کے لیے ہمیں اس کی سطحی تہہ سے نکل کر گہرائی میں اترنا ہوگا، تاکہ واقعات کے صرف منتشر ٹکڑوں کو نہیں، بلکہ ان کے رجحانات اور سمتوں کو سمجھ سکیں۔ ہمیں ٹرمپ کے متضاد بیانات اور نیتن یاہو کے دیوانے خوابوں کے شور سے نکل کر ان جرنیلوں اور اسٹریٹجک مفکرین کی بات سننی ہوگی جو جنگ اور تصادم کے اٹل قوانین سے واقف ہیں [1].

پیش لفظ

حقیقت یہ ہے—جسے ٹرمپ کی انتظامیہ، امریکی کانگریس، سیاسی حلقے اور نیتن یاہو کی حکومت تسلیم کرنے کی جرات نہیں رکھتی—کہ ایران پہلے ہی یہ جنگ جیت چکا ہے۔

یہ فتح روایتی عسکری پیمانوں کے مطابق نہیں، بلکہ ان اسٹریٹجک معیارات کے مطابق ہے جو کسی جنگ کے حتمی نتیجے کا تعین کرتے ہیں۔ جنگِ ایران کے تناظر میں ایک بنیادی قانون سمجھنا ضروری ہے: تصادم کے اصول یہ کہتے ہیں کہ جو فریق پہلا وار (First Strike) کرتا ہے، اسے اپنے اہداف حاصل کرنے کا پورا موقع ملتا ہے۔

اس کا مقصد حریف کو کچلنا، اس کی کمر توڑنا اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہوتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف یہی حکمتِ عملی آزمائی؛ انہوں نے ایران کے رہبر اور اس کی صفِ اول کی سیاسی و عسکری قیادت کو نشانادہ کیا، تنصیبات کو تباہ کیا اور کمانڈ سینٹرز کو ملیا میٹ کرنے کی کوشش کی۔

لیکن جنگ کا دوسرا قانون یہ کہتا ہے کہ اگر دوسرا فریق اس شدید دھچکے کو برداشت کر جائے، خود کو سنبھال لے اور اس کے اثرات کو زائل کر دے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اتنی عسکری اور سیاسی قوت رکھتا ہے کہ اب بازی اس کے ہاتھ میں آ گئی ہے اور میدانِ جنگ کا اگلا رخ وہی طے کرے گا۔ ایران کے معاملے میں ٹھیک یہی ہوا ہے۔

امریکہ ٹیکنیکل سطح پر اپنے حریفوں پر غالب تو آتا ہے

گزشتہ چار دہائیوں میں ایران نے ویتنام، افغانستان اور عراق کی جنگوں کا بغور مطالعہ کیا۔ جس اہم نتیجے پر وہ پہنچا وہ یہ تھا کہ امریکہ ٹیکنیکل سطح پر اپنے حریفوں پر غالب تو آتا ہے مگر اسٹریٹجک سطح پر بری طرح ناکام ہوتا ہے۔

ایران نے اپنی عسکری ڈاکٹرائن اسی بنیاد پر استوار کی۔ اس نے اپنی انفراسٹرکچر کو اس لمحے کے لیے تیار کیا: سرنگوں کا جال، خودکار دفاعی راستے، ڈرونز کا خفیہ نیٹ ورک اور ایسی بیلسٹک اور ہائپر سونک میزائل ٹیکنالوجی جسے روکنے کی صلاحیت آج امریکہ کے پاس نہیں ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی مہلک غلطی یہ رہی کہ وہ آج بھی روایتی عسکری نظریے کے اسیر ہیں، جہاں کامیابی کا معیار طیارہ بردار جہازوں، اسٹیلتھ طیاروں اور تباہ کن ہتھیاروں کی تعداد ہے۔ یہ چیزیں جنگ کا ایک معرکہ تو جیت سکتی ہیں، لیکن مکمل جنگ نہیں جیت سکتیں۔

اس مساوات کا حتمی نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل “معرکے” جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ ایران “جنگ” جیتنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بالخصوص تب، جب وہ یہ ثابت کر دے کہ اس کے پاس ‘جنرل وقت’ (صبر اور طویل جنگ لڑنے کی صلاحیت) کا ہتھیار موجود ہے۔

ایران بقا کی جنگ لڑ رہا ہے

اس کے علاوہ، نظریاتی جنگ کا پہلو بھی اہم ہے۔ ایران بقا کی جنگ لڑ رہا ہے، ایک ایسی قوم کے ساتھ جو قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ جبکہ امریکہ اپنی عالمی بالادستی، معیشت اور تسلط کو بچانے کے لیے لڑ رہا ہے۔

آج امریکہ اور اسرائیل ایک حقیقی مخمصے کا شکار ہیں: ایران کو شکست دینے کے لیے زمینی حملے کی ضرورت ہے، جو ان کے پاس نہیں ہے، اور اس کے لیے انہیں ایسے نقصانات اٹھانا پڑیں گے جو ان کے برداشت سے باہر ہیں۔

لہٰذا ان کے لیے جنگ جیتنا تقریباً ناممکن ہے، چاہے وہ کتنی ہی تباہی کیوں نہ مچا لیں۔ ایران کو صرف اتنا کرنا ہے کہ وہ طویل عرصے تک کھڑا رہے، اور ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کر کے امریکی اور اسرائیلی آپشنز کو مزید مہنگا اور مشکل بنا دے۔

یہی صورتحال ٹرمپ کے بیانات میں عیاں ہے۔ کبھی وہ کہتے ہیں کہ ایران پر تباہ کن حملہ کریں گے، اور پھر عین حملے سے کچھ لمحے پہلے اسے روک دیتے ہیں اور بہانہ “دوست ممالک کی درخواست” کا بناتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے پاس فوجی طور پر حملہ کر کے اسے حتمی نتیجے تک پہنچانے کی سکت نہیں، جبکہ ایران امریکیوں کو دردناک ضرب لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ کی صدارتی طیارے (ایئر فورس ون) میں ہونے والی خفیہ میٹنگز اور پینٹاگون کے خدشات اسی بات کی غمازی کرتے ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی انٹیلی جنس یہ مانتی ہے کہ ایران کا 20 فیصد سے زائد میزائل نیٹ ورک تاحال محفوظ ہے، جو امریکی جرنیلوں کے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہے[2]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. ↑ تحریر: احمد رفعت یوسف (معروف عرب تجزیہ نگار)
  2. ↑ ایران نے جنگ کیسے جیتی؟تحریر: احمد رفعت یوسف (معروف عرب تجزیہ نگار)-اخذ شدہ بہ تاریخ: 26 اگست 2026ء