مندرجات کا رخ کریں

ادیب الہندی

ویکی‌وحدت سے
ادیب الہندی
پورا نامادیب الہندی
دوسرے ناممجتبی علی خان ادیب الهندی
ذاتی معلومات
پیدائش1323 ش، 1945 ء، 1363 ق
پیدائش کی جگہهندوستان، بهار پور ، سلطان پور
وفات1379 ش، 2001 ء، 1420 ق
یوم وفات4 محرم
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • الامام، انوار، افتخارات العلما اور انقلاب ایران
مناصب
  • مراجعِ تقلید کے نمائندہ، لکھنؤ کے مدرسۃُ الواعظین کے نائب مدیر، علما و مبلغین کی کونسل کے سیکرٹری جنرل، شہر میرٹھ کے منصبیہ عربی کالج کے مدیر

ادیب الہندی شیعہ علما میں سے ایک معروف اور تقریبِ مذاہب کے حامی عالم تھے، جو آیت‌اللہ حکیم، امام خمینی اور آیت‌اللہ خوئی کے شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ہندوستان میں مراجعِ تقلید کے نمائندہ، لکھنؤ کے مدرسۃُ الواعظین کے نائب مدیر، علما و مبلغین کی کونسل کے سیکرٹری جنرل، شہر میرٹھ کے منصبیہ عربی کالج کے مدیر اور شہر فیض آباد کے مدرسۂ وثیقہ کے استاد تھے۔

انہیں جمہوریۂ اسلامی ایران سے گہری دلچسپی تھی۔ انہوں نے جمہوریۂ اسلامی ایران کے آئین کو اردو زبان میں ترجمہ کیا، انقلابِ ایران کے تعارف پر ایک کتاب تصنیف کی، اور ان کی تصانیف میں الامام: جو اہلِ سنت کے ایک عالم کی طرف سے وارد ہونے والے شبہات کے جواب میں لکهی گھی ، انوار: معصومین علیہم السلام کی احادیث، اور افتخارالعلماء: حضرت آیت‌اللہ شیخ سعادت حسین خان کی سوانحِ حیات شامل ہیں۔

سوانحِ حیات

مجتبیٰ علی خان ادیب الہندی، حاج محمد ضیغم علی خان کے فرزند تھے جو ہندوستان کے سلطانپور کے علماء میں سے اور بہارپور کے رئیس تھے۔ وہ 15 رمضان 1364ھ کو شہر سلطانپور کے محلہ عبداللہ بہارپور میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے لکھنؤ کے ناظمیہ حوزۂ علمیہ میں داخلہ لیا اور وہاں دینی علوم کی تعلیم حاصل کی۔ 1384ھ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے نجفِ اشرف تشریف لے گئے اور آیت‌اللہ حکیم، امام خمینی، آیت‌اللہ خوئی وغیرہ جیسے بزرگ علماء کے درس و فیض سے استفادہ کیا۔

سرگرمیاںِ تبلیغی

ادیب الہندی نے اپنی پوری زندگی میں بے شمار تبلیغی اور علمی سرگرمیوں میں حصہ لیا، جن میں درج ذیل امور شامل ہیں:

  • مجالس اور دینی محافل میں خطابات؛
  • بین الاقوامی کانفرنسوں میں خطابات اور شرکت؛
  • مختلف علمی اداروں اور مجامع کی رکنیت؛
  • علمی کتب اور مقالات کی تصنیف و تالیف؛
  • علمی کتب، مقالات اور رسائل کا ترجمہ؛
  • مراجعِ تقلید کی وکالت اور نمائندگی؛
  • مراجعِ عظام سے شرعی وجوہات کے مصرف کی اجازت کا حامل ہونا؛
  • لکھنؤ کے مدرسۃُ الواعظین کے نائب مدیر؛
  • شورائے علما و مبلغین کے سیکرٹری جنرل؛
  • شہر میرٹھ کے منصبیہ عربی کالج کے مدیر؛
  • شہر فیض آباد کے مدرسۂ وثیقہ کے استاد؛
  • مختلف شہروں میں کتب خانوں، مساجد اور حسینیہ جات کا قیام؛
  • بہت سے مذہبی و ثقافتی اداروں کے قیام میں تعاون اور معاونت؛
  • عام شیعہ عوام کے لیے اسلامی کتب کی اشاعت اور طباعت۔

تصانیف و آثار

  • جمہوریۂ اسلامی ایران کے آئین کا اردو ترجمہ؛
  • الامام: ایک اہلِ سنت عالم کی جانب سے پیش کیے گئے شبہات کے جوابات؛
  • انقلابِ ایران: جمہوریۂ اسلامی ایران کے انقلاب کا تعارف؛
  • انوار: معصومین علیہم السلام کی احادیث؛
  • افتخارالعلماء: حضرت آیت‌اللہ شیخ سعادت حسین خان کی سوانحِ حیات۔

وفات

ادیب الہندی 4 محرم 1421ھ کو شہر دہلی میں وفات پا گئے۔ نمازِ جنازہ کے بعد انہیں شہر سلطانپور کی بہارپور حسینیہ میں سپردِ خاک کیا گیا۔[1]

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. الحاج مولانا مجتبی علی خان ادیب الهندی، وب‌سایت علمای هند(زبان فارسی) درج شده تاریخ: ... اخذشده تاریخ: 18/ فروری/ 2026ء