مندرجات کا رخ کریں

محمد یوسف لدھیانوی

ویکی‌وحدت سے

محمد یوسف لدھیانوی ،(1932ء تا 2000ء) ایک عالم، احراری رہنما، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اور ایک عظیم مذہبی اسکالر تھے- آپ عیسیٰ پور، لدھیانہ مشرقی پنجاب ، ہندوستان میں1932 میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد آپ پاکستان منتقل ہو گئے۔ آپ کو 18 مئی سنہ2000 میں کراچی میں اپنے دفتر جاتے ہوئے شہید کر دیا گیا۔ آپ نے اپنی زندگی دین اسلام کی سربلندی کے لیے وقف کر رکھی تھی- شہید اسلام نے بہت سے باطل فرقوں کا تعاقب کیا اور ان کی سرکوبی کے لیے اپنی زبان اور قلم کا استعمال کیا-آپ 100 سے زائد کتب کے مصنف بھی تھے-

تعلیمی سرگرمیاں

آپ مولانا یوسف بنوری کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، آپ ایک انتہائی قابل احترام عالم اور شفیق استاد کا درجہ رکھتے تھے اور آپ ایک عرصے تک دار العلوم بنوری ٹاؤن کراچی میں دینی تعلیم و تدریس سے وابستہ رہے، آپ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک روزنامہ جنگ سے بھی وابستہ رہے جہاں آپ کا مشہور سوال و جواب کا مضمون "آپ کے مسائل اور اُنکا حل"روزنامہ جنگ میں شائع ہوتا رہا، ان مضامین کے مجموعے بھی کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔

محمد یوسف لدھیانوی شہید سے پرانی یاد اللہ تھی اور میں ان کا بہت پرانا قاری ہوں۔ جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے معروف اسکالر ڈاکٹر فضل الرحمان کو ادارہ تحقیقات اسلامی کا سربراہ مقرر کیا اور اس حوالہ سے ڈاکٹر صاحب کے افکار و خیالات منظر عام پر آنا شروع ہوئے تو ملک کے دینی حلقوں میں ہیجان کی کیفیت پیدا ہوگئی۔

ڈاکٹر فضل الرحمان لاہور کے ایک بزرگ عالم دین مولانا شہاب الدین مرحوم کے فرزند تھے جو فاضل دیوبند تھے اور چوبرجی کے علاقہ میں رہتے تھے۔ ڈاکٹر فضل الرحمان صاحب نے دین و دنیا دونوں کی تعلیم حاصل کی اور اپنی ذہانت و صلاحیت کی بنا پر بہت آگے نکل گئے۔

شکاگو یونیورسٹی ان کی اعلیٰ تعلیم اور پھر عملی سرگرمیوں کا مرکز تھی۔ یہ مستشرقین کے عروج کا دور تھا اور ڈاکٹر صاحب کو واسطہ بھی زیادہ تر انہی سے پیش آیا، اس لیے ان سے متاثر ہونا فطری بات تھی۔

چنانچہ اسلامی تعلیمات پر مستشرقین کے افکار و تربیت کا رنگ چڑھا تو اس سے ڈاکٹر صاحب کی فکری شخصیت تشکیل پائی۔ انہوں نے حکومت پاکستان کے سرکاری ادارہ تحقیقات اسلامی کی سربراہی سنبھالتے ہی آؤ دیکھا نہ تاؤ اسلام کے روایتی ڈھانچے اور اسلامی تعلیمات کی اب تک چلی آنے والی اجماعی تعبیر کو رد کرتے ہوئے اسلام کی نئی تعبیر و تشریح کا طبل بجا دیا۔

جس کی ایک چھوٹی سی مثال صرف معاملہ سمجھانے کے لیے یہ ہے کہ ان کے خیال میں نمازیں اصل میں پانچ نہیں بلکہ صرف تین تھیں مگر مولوی صاحبان نے بڑھا کر انہیں پانچ کر دیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے اس قسم کے خیالات سے ملک کے علماء کو اتفاق نہیں تھا اور چونکہ یہ خیالات سرکاری فورم سے پیش کیے جا رہے تھے اس لیے ان کے خلاف احتجاجی انداز میں اظہار خیال شروع ہوا جس نے بڑھتے بڑھتے صدر محمد ایوب خان کے خلاف دینی حلقوں کی عوامی تحریک کی شکل اختیار کر لی اور ملک بھر میں لوگ اس نئے اسلام کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔

تدریسی خدمات

مولانا محمد یوسف لدھیانوی ان دنوں مدرسہ احیاء العلوم ماموں کانجن ضلع فیصل آباد میں تدریسی خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر فضل الرحمان کے افکار و خیالات پر ملک کے دینی جرائد میں لکھنا شروع کیا۔

انداز تحقیق علمی اور سنجیدہ تھا اور گرفت مضبوط تھی، اس لیے ان کی تحریروں نے بہت جلد ملک کے دینی حلقوں کی توجہات کو اپنی سمت مبذول کر لیا۔ انہی تحریرات کے حوالہ سے وہ مولانا سید محمد یوسف بنوری کی روشناس نگاہوں میں آئے اور مولانا بنوریؒ کی فرمائش پر ضلع فیصل آباد کے ایک دور افتادہ قصبہ کو خیرباد کہہ کر کراچی جیسے مرکزی شہر کو انہوں نے اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔

کچھ عرصہ یہ معمول رہا کہ ہر ماہ کے بیس دن وہ جامعہ رشیدیہ ساہیوال میں دینی علوم کی تدریس کی خدمت سر انجام دیتے اور دس دن کراچی میں رہتے۔ پھر بیس دن ملتان دفتر ختم نبوت میں اور دس دن کراچی میں رہنے کا معمول بھی رہا۔ اور اس کے بعد جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی ہی ان کی مستقل قرارگاہ بن گیا۔

مولانا سید محمد یوسف بنوری نے اپنے علمی و دینی جریدہ ماہنامہ بینات کراچی کی ادارت ان کے سپرد کی جو آخر وقت تک ان کی ادارت میں شائع ہوتا رہا۔ جبکہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی کی نگرانی کے ساتھ ساتھ روزنامہ جنگ کے مستقل دینی کالموں کے ذریعہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے سالہا سال تک ان کے افکار و خیالات سے استفادہ کیا اور ان سے رہنمائی حاصل کی۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی بنیادی طور پر ایک مدرس عالم دین تھے جنہوں نے خداداد ذوق اور صلاحیتوں کے باعث اپنی سرگرمیوں کا دائرہ اس قدر وسیع کر لیا تھا کہ آج دینی جدوجہد کا کوئی شعبہ بھی ان کی تگ و تاز سے خالی نظر نہیں آتا۔

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ

عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ ہو، ناموس صحابہ کرام کا دفاع ہو، دینی مدارس کی سرپرستی ہو، تعلیم و تدریس کا میدان ہو، اصلاح و سلوک کی روحانی جولانگاہ ہو، جہادی تحریکات کی حوصلہ افزائی ہو، دینی تحریکات کی پشت پناہی ہو، یا عام مسلمانوں کی دینی رہنمائی ہو، کسی محاذ پر بھی وہ اپنے معاصرین سے پیچھے نہیں تھے۔ اور ہر مقام پر وہ پورے امتیاز اور اختصاص کے ساتھ صف اول میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔

مگر میرے نزدیک ان کا سب سے بڑا امتیاز و اختصاص یہ تھا کہ وہ قومی صحافت کے اتنے بڑے نقار خانے میں اہل حق کی نمائندگی کرنے والی ایک مضبوط اور توانا آواز کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا یہی امتیاز مولانا سید محمد یوسف بنوری جیسے عظیم محدث کے نزدیک انہیں ماموں کانجن سے اٹھا کر کراچی میں لا بٹھانے کا باعث بنا تھا۔ اور یہی امتیاز میرے جیسے کارکن کے لیے ان کے مرثیہ کا سب سے بڑا عنوان ہے۔

وہ آج کی صحافتی زبان کو سمجھتے تھے، اس کی کاٹ کو محسوس کرتے تھے، اس کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتے تھے، اور ان کے جوابی وار میں جھنجلاہٹ کی بجائے زیر لب تبسم کے ساتھ چٹکی لینے اور اس سے حظ اٹھانے کا انداز نمایاں ہوتا تھا۔

اس لیے جب اس حوالہ سے مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے المناک قتل اور شہادت پر غور کرتا ہوں تو ان کی جدائی سے پیدا ہونے والے خلا کی وسعتوں اور پھر ان میں اپنی تنہائی کو محسوس کر کے طبیعت میں گھبراہٹ سی پیدا ہونے لگتی ہے۔

مولانا لدھیانوی کو ملک کے ہر طبقہ کی طرف سے خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے اور یہ ان کا حق بھی ہے کہ ملک کا کوئی طبقہ ان کے فیض سے محروم نہیں رہا۔ مگر مولانا لدھیانوی کا سب سے بڑا حق علماء پر ہے کہ وہ ان کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور انہوں نے سب سے زیادہ خدمت بھی اسی خاندان کی کی ہے۔

اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا سب سے مؤثر اور صحیح طریقہ ان کی پیروی ہے اور ان کے نقش قدم کو اپنانا ہے۔ اور میں اپنی تنہائی کو ایک بار پھر یاد کرتے ہوئے نوجوان علماء سے گزارش کروں گا کہ وہ مولانا لدھیانویؒ کے اس اختصاص و امتیاز کو ضرور پیش نظر رکھیں

جس نے دور افتادہ علاقے کے ایک مدرسہ کے مدرس مولوی کو جامعہ اسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی کے فقیہ العصر محدث کے منصب تک پہنچا دیا تھا۔ اس لیے کہ یہ امتیاز و اختصاص مولانا لدھیانوی شہیدؒ کے ایک قابل تقلید وصف کے ساتھ دینی جدوجہد کے حوالہ سے وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے[1]۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے اصلاحی سرگرمیاں

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

کہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی

مخدوم العلماء حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو آج نور اللہ لکھتے ہوئے دل خون کے آنسو رو رہا ہے، قلم لرز رہا ہے۔ حضرت کی پاکیزہ ادائیں، مومنانہ فراست، دلنشین فرمودات دل و دماغ میں امنڈتے چلے آ رہے ہیں۔

قادیانیت کے خلاف حضرت کی للکار سے باطل تھرا رہا ہے۔ مولانا لدھیانوی ایک بھرپور مجاہدانہ زندگی گزار کر اللہ جل شانہ کے حضور پہنچ گئے لیکن فتنہ قادیانیت کے خلاف جو عوامی شعور انہوں نے پیدا کیا وہ الحمد للہ برقرار ہی نہیں روز افزوں بھی ہے۔

وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے اور مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے بعد کام سنبھالنے کے لیے ایک ٹیم تیار کر دی ہے جو کہ ان شاء اللہ ان کے مشن کو آگے بڑھائے گی اور مولانا لدھیانوی کا نام زندہ رہے گا۔

لہرا چکی وہ برق مگر اس کی تاب سے

ذروں میں زندگی ہے غزل خواں اسی طرح

ردِ قادیانیت پر بلامبالغہ سینکڑوں نہیں ہزاروں علماء کرام نے قلم اٹھایا ہے۔ ان میں وہ بھی تھے جنہوں نے مشکل اور علمی انداز اختیار کیا۔ وہ بھی تھے جن کا اندازِ تحریر دل نشین بھی تھا اور عوامی بھی، عام فہم بھی تھا اور علمی دلائل سے بھرپور بھی، منفرد بھی تھا اور الہامی بھی۔

مولانا لدھیانوی دوسری قسم کے علماء کرام سے تعلق رکھتے تھے۔ حضرت کے اندازِ تحریر کو مختصر طور پر سہل ممتنع کہا جا سکتا ہے۔ احقر کا حضرت سے تعارف ان کی تحریروں کے واسطہ سے ہوا۔

ان کی علمیت، ان کا دل نشین اور منفرد انداز احقر کو ان کا شیدائی بناتا چلا گیا۔ حضرت کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’حسنِ یوسف‘‘ کے نام سے شائع ہوا جو کہ واقعی اس نام کا مستحق تھا۔ ان کے اس معنوی حسن نے ہر کہ و مہ کو اپنا گرویدہ کر رکھا تھا۔ احقر بھی ردِ قادیانیت کے شعبہ کا ایک طالب علم ہے اور حضرت ٹھہرے اس فن کے امام۔ ان سے استفادہ کی خاطر چند بار خط و کتابت ہوئی۔ حضرت نے بڑی فراخ دلی سے جوابات سے نوازا۔

ان سے شعبان ۱۴۲۰ھ میں چناب نگر میں براہ راست پہلی اور آخری ملاقات ہوئی۔ محترم مولانا اللہ وسایا صاحب نے تعارف کرایا کہ یہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کے مدرسہ میں شعبہ ردِ قادیانیت کے استاذ ہیں اور آپ سے مولانا چنیوٹی کی کتاب پر تقریظ لکھوانے آئے ہیں۔

آپ نے بے ساختہ اس ناکارہ کو اپنے سینہ سے لگا لیا، معانقہ فرمایا اور چند منٹ اسی کیفیت میں دعاؤں سے نوازتے رہے۔ احقر ان کی اپنے معاصرین کے متعلق صاف دلی، چھوٹوں سے حوصلہ افزائی، بزرگانہ شفقت سے بہت متاثر ہوا۔ اسی سفر میں حضرت کا طلباءِ ردِ قادیانیت کو اس سے مدلل خطاب بھی سننے کا موقع ملا جو کہ احقر کے لیے ان کی زندگی کا آخری خطاب تھا۔

خواب بن کر رہ گئی ہیں کیسی کیسی محفلیں

خیال بن کر رہ گئے ہیں کیسے کیسے آشنا

احقر کے خیال میں محمد یوسف لدھیانوی نور اللہ مرقدہ میں علمی اعتبار سے دو خصوصیات ایسی تھیں جو کہ اپنے ہم عصروں سے انہیں ممتاز کرتی تھیں:

عصرِ حاضر میں اسلامی دنیا اور سامراجی طاقتوں کے تعلقات کے اتار چڑھاؤ پر ان کی گہری نظر تھی۔ دورِ حاضر کے تمام فتنوں سے بھی وہ بخوبی آگاہ تھے۔ ان فتنوں کے پس منظر، تہہ منظر اور پیش منظر کے موضوع پر مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔ ان کی تحریریں اس دعوٰی کا واضح ثبوت ہیں۔

ردِ قادیانیت کے موضوع پر وہ تمام نزاکتوں سے آگاہ تھے۔ قادیانیوں کے جتنے داؤ پیچ وہ جانتے تھے، بہت کم علماء ان کی ہم سری کا دعوٰی کر سکتے ہیں۔ قادیانیت سے متعلقہ فنی باریکیوں پر ان کی گرفت نہایت مضبوط تھی۔

قادیانی دلائل کے جوابات بخدا کم از کم احقر کو تو الہامی معلوم ہوتے تھے۔ وہ مومنانہ بصیرت جو کہ ’’تحفہ قادیانیت‘‘ سے آشکارا ہے، محض کتابوں کے پڑھنے سے حاصل نہیں ہو سکتی۔

یہ محض الٰہی انعام تھا ان کی ذات پر۔ ان سے براہ راست استفادہ کا موقع نہ مل سکنے کے باوجود احقر ردِ قادیانیت کے حوالے سے ان کو اپنا استاذ سمجھتا ہے، ان کا جب بھی خیال آتا ہے دل سے بے اختیار دعائیں نکلتی ہیں۔

۱۸ مئی ۲۰۰۰ء کو بوقتِ ظہر حضرت کی شہادت کی خبر حواس پر بجلی بن کر گری۔ دل و دماغ کوئی بھی کام کرنے سے انکاری تھے۔ ایک سکتہ کی سی کیفیت طاری تھی جو کہ رات گئے تک برقرار رہی۔ بار بار یہ سوال ذہن میں گھومتا رہا کہ ملک و ملت کے اس بہی خواہ، اسلامی سرحدوں کے اس نظریاتی محافظ، جہادی تحریکوں کے اس سرپرست کا قصور کیا تھا؟ انہیں کس جرم کی سزا ملی ہے؟ ہماری حکومت اور خفیہ ایجنسیاں کہاں سو رہی ہیں؟ علماء کرام کے خون سے کب تک ہولی کھیلی جاتی رہے گی؟

مولانا لدھیانویؒ عاش سعیدا و مات شہیدا کا مصداق تھے۔

وہ حلم و تواضع اور وہ طرزِ خود فراموشی خدا بخشے جگر کو لاکھ انسانوں کا انسان تھا[2]۔

تصانیف

  • اختلاف امت اور صراط مستقیم
  • شیعہ سنی اختلافات اور صراط مستقیم
  • تحفہ قادیانیت
  • قادیانیت علامہ اقبال کی نظر میں،
  • قادیانیوں کو دعوت اسلام،
  • ربوہ سے تل ابیب تک ،
  • مرزا کا اقرار
  • مراقی نبی،
  • مرزائی تعمیر مسجد ،
  • سر ظفراللہ خان کو دعوت اسلام،
  • قادیانی جنازہ
  • قادیانی مردہ
  • قادیانی کلمہ
  • قادیانی ذبیحہ
  • مرزا قادیانی اپنی تحریروں کے آئینہ میں
  • غدار پاکستان ڈاکٹر عبد السلام قادیانی ،
  • آپ کے مسائل اور ان کا حل (9۔جلدیں)
  • رجم کی شرعی حیثیت
  • صلاحی مواعظ،
  • حسنِ یوسف (3۔ جلدیں)
  • رسائل یوسفی
  • آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات
  1. حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ-شائع شدہ از: 1 جون 2000ء-اخذ شدہ بہ تاریخ: 22 اگست 2026ء
  2. حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہید، مولانا مشتاق احمد-اخذ شدہ بہ تاریخ: 22 اگست 2026ء