زاہر بن عمرو کندی
| زاہر بن عمرو کندی | |
|---|---|
| پورا نام | زاہر بن عمرو کندی |
| ذاتی معلومات | |
| وفات | ۶۱ ق |
| وفات کی جگہ | کربلا |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| مناصب | سپاہ روزعاشوراامام حسین (علیہ السلام) کے اصحاب اور شهدای کربلا |
زاہر بن عمرو کندی کربلا کے شہداء میں سے ہیں[1]. آپ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) کے صحابہ میں سے تھے۔ انہیں عمرو بن حمق خزاعی کا غلام بتایا گیا ہے جو معاویہ کی جانب سے ان کے قتل کے حکم کی وجہ سے خفیہ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کا ذکر صلح حدیبیہ اور خیبر کے واقعات میں ملتا ہے۔ وہ مکہ میں حسین بن علی (علیہ السلام) کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ ان کا ذکر زیارت ناحیہ مقدسہ اور زیارت رجبیہ میں آیا ہے۔ شہادت کے وقت ان کی عمر 70 سال بتائی جاتی ہے اور انہیں قبیلہ کندہ سے منسوب جانا جاتا ہے[2] [3].
نام
بعض ان کا نام زاہد[4] اور بعض ذاہر [5] کہتے ہیں۔ زاہر بن عمرو قبیلہ کندہ کے بزرگوں اور کوفہ کے رہائشی تھے۔ وہ اپنے دور کے شیعہ شیوخ اور جنگجو تھے۔ ابن اثیر[6] اور ابن حجر عسقلانی[7] انہیں اسود بن حجاج الاسلمی کا بیٹا، عرب قحطانی اور قبیلہ بنی اسلم سے بتاتے ہیں، لیکن بعض نے زاہر بن عمرو کندی اور زاہر اسلمی میں فرق کیا ہے۔
زاہر بن عمرو یا زاہر بن اسود
زاہر بن عمرو، عمرو بن حمق خزاعی کے دوست اور ساتھی اور کربلا کے شہید ہیں[8][9][10][11]. بعض مصادر میں آیا ہے کہ وہی زاہر -بن عمرو یا اسود- اسلمی ہیں جو بیعت شجرہ اور جنگ خیبر میں موجود تھے اور ان کے بیٹے «بحزاہ» نے ان کی واسطے سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت نقل کی ہے[12][13][14][15]. جبکہ بعض دیگر نے ان دو شخصیات - یعنی زاہر اور زاہر اسلمی - کو الگ الگ متعارف کرایا ہے[16][17][18][19][20][21][22][23][24].
معاویہ کے ظلم کے خلاف مبارزہ
زاہر ایک آزمودہ پہلوان، بہادر اور خاندانِ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں مشہور تھے[25][26]. امام علی (علیہ السلام) کی شہادت کے بعد، عمرو بن حمق کے ساتھ، معاویہ کی ظالمانہ حکومت اور اس کے کٹھ پتلی عامل زیاد کے خلاف مبارزہ کیا۔ جب معاویہ نے زاہر اور عمرو کو گرفتار اور قتل کرنے کا حکم صادر کیا، تو دونوں شہر سے فرار ہو گئے اور کوہ و بیابان میں چھپ گئے۔ یہاں تک کہ عمرو بن حمق اپنے ٹھکانے پر سانپ کے ڈسنے کا شکار ہوئے اور پھر حکومتی مأموروں نے انہیں گرفتار کر کے شہید کر دیا، لیکن زاہر زندہ رہے۔
کربلا میں حضور
زاہر سن 60 ہجری میں موسمِ حج میں امام حسین (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس حضرت کے ہمراہ کربلا تشریف لائے اور یوم عاشورا پہلے حملے میں شہادت کا شرف حاصل کیا[27][28][29][30].
زاہر کا مقام
زیارت منسوب بہ ناحیہ مقدسہ اور زیارت رجبیہ میں ان پر یہ درود بھیجا گیا ہے: السَّلامُ عَلی زَاهِرٍ مَولَی عَمْروِ بْنِ الْحمق[31][32].
زاہر کی نسل
محمد بن سنان، ابوجعفر زاہری (متوفی 220 ہجری)، امام رضا (علیہ السلام) کے صحابی اور کتابوں الطرائف، الاظلہ، المکاسب وغیرہ کے مصنف، اسی «زاہر» کی اولاد میں سے ہیں[33].
حوالہ جات
- ↑ زاہر بن عمرو کندی
- ↑ بینش و دیگران، کربلا کے شہداء کے بارے میں تحقیق، 164–165. سنگری، آئینہ داران آفتاب، ج1، ص534
- ↑ زاہر
- ↑ مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، ج45، ص72
- ↑ عمادزادہ، حسین، عاشورا کون سا دن ہے؟، ج1، ص 254
- ↑ اسد الغابہ فی معرفہ الصحابہ، ابن اثیر، عز الدین علی بن احمد بن ابی الکرم، چاپ عادل احمد رفاعی، بیروت: 1417 ہجری / 1966 عیسوی. فی معرفہ الصحابہ، ابن اثیر، عز الدین علی بن احمد بن ابی الکرم، چاپ عادل احمد رفاعی، بیروت: 1417 ہجری / 1966 عیسوی.، ج2، ص138
- ↑ الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، بہ کوشش علی محمد بجاوی، بیروت: مؤسسہ التاریخ العربی، 1328 ہجری.، ج1، ص523
- ↑ کوفی، فضیل، تسمیہ من قتل مع الحسین علیہ السلام، ج1، ص29
- ↑ حمید بن احمد، الحدائق الوردیہ، ج1، ص104
- ↑ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، ج1، ص101
- ↑ ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص240
- ↑ ابن اثیر، ابوالحسن، اسدالغابہ، ج2، ص192- 193
- ↑ عسقلانی، ابن حجر، الاصابہ فی تمییز الصحابہ، ج2، ص451- 452
- ↑ عسقلانی، ابن حجر، تہذیب التہذیب، ج10، ص45
- ↑ مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال، ج28، ص30
- ↑ مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال، ج28، ص26
- ↑ تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، ج4، ص402- 404
- ↑ خویی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، ج8، ص221
- ↑ اردبیلی، محمدعلی، جامع الرواة، ج1، ص324
- ↑ حسینی تفرشی، مصطفی، نقد الرجال، ج2، ص251- 252
- ↑ قہپائی، عنایة اللہ بن علی، مجمع الرجال، ج4، ص403- 404
- ↑ امین، محسن، اعیان الشیعہ، ج7، ص41- 42
- ↑ طوسی، محمد ین حسن، رجال الطوسی، ج1، ص101
- ↑ طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، ج1، ص39
- ↑ مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال، ج28، ص30
- ↑ سماوی، محمد بن طاہر، ابصارالعین، ج1، ص173
- ↑ ابن عساکر، علی بن حسن، تاریخ مدینة دمشق، ج45، ص502- 503
- ↑ مامقانی، عبداللہ، تنقیح المقال، ج28، ص30-31
- ↑ سماوی، محمد بن طاہر، ابصارالعین، ج1، ص173
- ↑ ابن شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص260
- ↑ ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج3، ص79
- ↑ ابن طاووس، علی بن موسی، الاقبال بالاعمال الحسنہ، ج3، ص346
- ↑ نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، ج1، ص328