مندرجات کا رخ کریں

جنگِ رمضان؛ واقعۂ کربلا کی ایک جھلک(نوٹس اور تجزیے)

ویکی‌وحدت سے
نظرثانی بتاریخ 15:57، 31 مارچ 2026ء از Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
(فرق) → پرانا نسخہ | تازہ ترین نسخہ (فرق) | تازہ نسخہ ← (فرق)

جنگِ رمضان؛ واقعۂ کربلا کی ایک جھلک تحریکِ حسینی میں کہیں بھی جارحیت یا جنگ پسندی کی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ روزِ عاشورا بھی بنی ہاشم کے جوانوں اور اصحاب کی لڑائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں؛ وہ صرف اہلِ بیتؑ کا دفاع کر رہے تھے۔ قتل و غارت اور ظلم و ستم یزیدیوں کی طرف سے ہوا [1]۔

تاریخی پس منظر

جب یزید اقتدار کے تخت پر بیٹھا تو اس نے مدینہ کے گورنر ولید کو حکم دیا کہ امام حسین علیہ السلام سے بیعت لی جائے۔ جب امام کو یزید کا پیغام ملا تو آپؑ نے ولید سے خطاب کرتے ہوئے پہلے اپنے فضائل و مناقب بیان کیے،

پھر یزید کی اخلاقی برائیوں جیسے سرکشی، نافرمانی، شراب نوشی، قتلِ ناحق اور معاشرے میں فساد پھیلانے کی نشاندہی کی اور فرمایا: "مِثلی لا یُبایِع مِثلہ" یعنی مجھ جیسا شخص، یزید جیسے شخص کی بیعت نہیں کر سکتا۔

امام حسینؑ نے اس عظیم ذلت کو ہرگز قبول نہ کیا اور اسی لمحے سے ایک ناجائز حکومت کے خلاف عوام میں بیداری پیدا کرنے کی جدوجہد شروع کر دی۔ جب آپؑ کو خطرات کا سامنا ہوا تو مدینہ چھوڑنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔

امامؑ نے اپنی تحریک کے آغاز سے لے کر اختتام تک احتجاج، حق گوئی اور بیداری کو اہمیت دی، مگر آپؑ کے تمام مؤقف انتہائی منطقی، پُرامن، خیرخواہانہ اور ہر قسم کی شدت پسندی سے پاک تھے۔

آپؑ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ حکومت کے کارندوں کی طرف سے کوئی خونریزی نہ ہو۔ جب معلوم ہوا کہ مکہ میں آپؑ کے قتل کی سازش ہو رہی ہے تو فوراً مکہ سے نکلنے کا فیصلہ کیا۔

واقعۂ کربلا اپنی اصل میں حماسی اور جہادی ہونے کے باوجود ہرگز جنگ بھڑکانے یا خونریزی کی تحریک نہیں تھی۔ امامؑ نے مدینہ سے نکلنے کے بعد سے عاشورا تک ہمیشہ صبر، وقار، امن، بقائے باہمی، مکالمہ اور مفاہمت پر زور دیا۔

یہاں تک کہ بعض مواقع پر اصحاب نے حر کے لشکر پر حملہ کرنے کی تجویز دی، جو انتہائی کمزور حالت میں تھا، مگر امامؑ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: "میں ہرگز جنگ کا آغاز نہیں کروں گا"۔

اسی طرح آپؑ کے نمائندے مسلم بن عقیل کو بھی ہانی بن عروہ کے گھر میں یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ عبیداللہ بن زیاد کو دھوکے سے قتل کر دیں، مگر انہوں نے کہا: رسول خدا (ص) نے خفیہ قتل (دہشت گردی) کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

تحریکِ حسینی میں کہیں بھی جارحیت یا جنگ پسندی کی مثال نہیں ملتی۔ حتیٰ کہ روزِ عاشورا بھی بنی ہاشم کے جوانوں اور اصحاب کی لڑائیاں دفاعی نوعیت کی تھیں؛ وہ صرف اہلِ بیتؑ کا دفاع کر رہے تھے۔ قتل و غارت اور ظلم و ستم یزیدیوں کی طرف سے ہوا۔


آج جو جراتمندانہ فیصلہ عسکری و سیاسی قیادت نے دشمن کے خلاف کیا ہے، وہ ہرگز جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ ایک مکمل شرعی، قانونی، عقلی اور اخلاقی دفاع ہے، جس کی حمایت سب پر لازم ہے۔

اس حساس مرحلے میں قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور سب کا مقصد دشمن کو جواب دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات، اختلافات یا تقسیم پیدا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ دشمن کے مفاد میں ہوگا۔ میدان اور سفارت کاری دونوں ساتھ ساتھ قومی طاقت کی علامت ہیں۔

جنگی حالات میں ضروری ہے کہ سب لوگ قیادت اور ذمہ دار اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ اگر ہر شخص اپنی رائے پیش کرنے لگے تو نظام میں خلل اور انتشار پیدا ہوگا۔ ان لوگوں پر اعتماد کرنا جو میدان میں موجود ہیں، بہترین خدمت ہے۔

ایران کی عوام، جو ان دنوں مختلف اجتماعات میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں، ان کی سب سے بڑی خواہش اتحاد، یکجہتی اور دشمنوں کو عبرتناک سزا دینا ہے، تاکہ وہ دوبارہ اس خطے میں مداخلت نہ کر سکیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ اس مقصد میں کامیاب اور سرخرو ہوں۔

جنگِ رمضان

آج جنگِ رمضان میں بھی یہی حقیقت دن کی روشنی کی طرح واضح ہے۔ شاید اسی حقیقت کی طرف اشارہ تھا کہ انقلاب کے شہید رہنما نے اپنی شہادت سے چند روز پہلے امام حسینؑ کے اسی جملے "مِثلی لا یُبایِع مِثلہ" پر زور دیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ کئی مراحل میں مذاکرات کیے اور بعض مواقع پر رعایتیں دے کر اپنی نیک نیتی دنیا پر واضح کی۔ حتیٰ کہ جوہری معاہدے کے موقع پر "نرمشِ قہرمانہ" کے اصول کے تحت اس کا خیر مقدم بھی کیا گیا، مگر دنیا نے دیکھا کہ ٹرمپ نے یکطرفہ طور پر معاہدہ توڑ دیا۔

حالیہ دنوں میں بھی مذاکرات کے دوران، نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ کیا گیا، جس میں فوجی و سیاسی شخصیات، عام شہری، بچے اور حتیٰ کہ رہبرِ انقلاب بھی شہید ہوئے۔ اس سے واضح ہو گیا کہ ان کے نزدیک مذاکرات محض دھوکہ ہے اور اصل مقصد ایران کو کمزور اور تقسیم کرنا ہے۔

چند اہم نکات

آج جو جراتمندانہ فیصلہ عسکری و سیاسی قیادت نے دشمن کے خلاف کیا ہے، وہ ہرگز جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ ایک مکمل شرعی، قانونی، عقلی اور اخلاقی دفاع ہے، جس کی حمایت سب پر لازم ہے۔

اس حساس مرحلے میں قیادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور سب کا مقصد دشمن کو جواب دینا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ غیر ذمہ دارانہ بیانات، اختلافات یا تقسیم پیدا کرنے سے گریز کریں، کیونکہ یہ دشمن کے مفاد میں ہوگا۔ میدان اور سفارت کاری دونوں ساتھ ساتھ قومی طاقت کی علامت ہیں۔

جنگی حالات میں ضروری ہے کہ سب لوگ قیادت اور ذمہ دار اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔ اگر ہر شخص اپنی رائے پیش کرنے لگے تو نظام میں خلل اور انتشار پیدا ہوگا۔ ان لوگوں پر اعتماد کرنا جو میدان میں موجود ہیں، بہترین خدمت ہے۔

ایران کی عوام، جو ان دنوں مختلف اجتماعات میں بھرپور شرکت کر رہے ہیں، ان کی سب سے بڑی خواہش اتحاد، یکجہتی اور دشمنوں کو عبرتناک سزا دینا ہے، تاکہ وہ دوبارہ اس خطے میں مداخلت نہ کر سکیں۔ ہم دعا گو ہیں کہ وہ اس مقصد میں کامیاب اور سرخرو ہوں[2]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. تحریر: حجت الاسلام و المسلمین عبدالرحیم اباذری
  2. جنگِ رمضان؛ واقعۂ کربلا کی ایک جھلک- شائع شدہ از: 30 مارچ 2026ء- اخذ شدہ بہ تاریخ: 31 مارچ 2026ء