محمد فاروق النبهان
| محمد فاروق النبهان | |
|---|---|
| پورا نام | محمد فاروق النبهان |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | شام، حلب |
| مذہب | اسلام، شیعہ |
| اثرات |
|
| مناصب |
|
محمد فاروق النبهان، یونیورسٹی کے پروفیسر، اہلِ سنت کے تقریبپسند مصنف اور سوریہ سے تعلق رکھنے والے جدید اسلامی مفکر تھے۔ وہ سنت کے استحکام کی غرض سے تجدیدِ فکر، اسلامی اصولوں سے وابستگی، اور مسلمانوں کے فکری راستوں کی اصلاح کی دعوت دیتے تھے، تاکہ امتِ اسلام کے امور کو ایک نئے منظم ڈھانچے کی طرف لوٹایا جا سکے۔ اسلامی فکر کو فکری آلودگیوں سے پاک کرنا، عقل کو شرعی خطاب کے مخاطب کے طور پر اسلامی بصیرت کے دائرے میں بروئے کار لانا، اور فکری انحراف کی روک تھام، ان کے نمایاں افکار میں شامل ہیں۔
سوانح حیات
محمد فاروق النبهان 1940ء میں حلب، سوریہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے دادا، شیخ محمد النبهان، اور حلب کے دیگر ممتاز علما سے حاصل کی۔ انہوں نے جامعہ دمشق سے شریعت کی سند حاصل کی اور جامعہ قاہرہ کے کلیۂ دارالعلوم سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔
سرگرمیاں
تعلیمی سرگرمیاں
- 1966ء سے 1970ء تک ریاض میں جامعہ امام اور جامعہ ملک سعود میں تدریس؛
- 1970ء سے 1977ء تک جامعہ کویت کے کلیۂ قانون میں تدریس؛
- مراکش کی جامعات میں ڈاکٹریٹ کے مقالوں کی نگرانی؛
- دارالحدیث الحسنیہ مجلے کی بنیاد اور ادارت؛
- 1984ء سے مراکش کی شاہی اکیڈمی کے رکن؛
- عمان میں اسلامی تہذیبی تحقیقات کی شاہی اکیڈمی کے رکن؛
- جامعہ القرویین کی کونسل کے رکن اور متعدد جامعات میں ترقیِ علمی کمیٹیوں کے رکن؛
- اسلامی فکر کے لیے شاہ محمد ششم انعام کی اعلیٰ کمیٹی کے رکن اور شاہ فیصل بین الاقوامی انعام کی کمیٹیوں میں شرکت؛
- مجلات العربی، الفیصل، الامہ، دراسات خلیج، القضاہ، الاکادیمیہ، دارالحدیث اور دیگر مجلات میں متعدد تحقیقی مقالات کی اشاعت۔
تبلیغی سرگرمیاں
- متعدد علمی کانفرنسوں میں مدعو استاد اور شریک، جن میں قاہرہ میں سپریم کونسل برائے اسلامی امور کی کانفرنسیں شامل ہیں؛
- مراکش میں حسینی خطبات میں شرکت۔
تصانیف
- الاتجاه الجماعی فی التشریع الاقتصادی الإسلامی؛
- نظام الحکم فی الإسلام؛
- المدخل للتشریع الإسلامی؛
- التشریع الجنائی الإسلامی؛
- مبادی الثقافه الإسلامیه؛
- أبحاث فی الاقتصاد الإسلامی؛
- أبحاث فی الفكر والحضاره؛
- القروض الاستثمارية وموقف الإسلام منها؛
- الفكر الخلدونی؛
- المدخل إلى علوم القرآن؛
- الشیخ محمد النبهان: ترجمہ شخصیہ؛
- محاضرات فی الفكر والتاریخ والحضاره؛
- قضایا معاصره؛
- دموع الفجر (سماجی ناول)؛
- الثقافه الإسلامیه والنظام العالمی الجدید؛
- مفهوم النفس عند ابن مسکویہ؛
- تأملات فی الفكر الإسلامی؛
- الفكر الإسلامی والتجدید؛
- محاضرات فی الفكر السیاسی والاقتصادی المعاصر؛
- مفهوم الربا فی ظل التطورات الاقتصادیه المعاصره؛
- علمتنی الحیاه؛
- القیم الإسلامیه والقیم الإنسانیه؛
- التصور الإسلامی للحوار الحضاری[1].
نظریات
مغربی ذرائع ابلاغ کا انتہاپسندی کے فروغ میں کردار
مغربی ذرائع ابلاغ نے براہِ راست مذہبی انتہاپسندی کے فروغ اور تشدد کے رجحان کے پیدا ہونے میں کردار ادا کیا ہے، جس کے نتیجے میں انتہاپسندی ایک خطرناک تشدد میں تبدیل ہو چکی ہے جو بے گناہ انسانوں کی جانوں کے لیے خطرہ ہے۔ اس مسئلے کا مقابلہ کرنے کے لیے حاشیہ نشین طبقات کے جائز سماجی مطالبات کو تسلیم کرنا، روزگار کے مواقع فراہم کرنا، اور شہریوں کے مذہبی و اخلاقی اقدار کے دفاع کے حق کو تسلیم کرنا ناگزیر ہے۔
لہٰذا ہر قسم کے تشدد کی مذمت، اس کے خلاف مزاحمت، شہریوں کے لیے نفسیاتی تحفظ کی فراہمی، اور ایسے تعلیمی اقدار کا قیام ضروری ہے جو تشدد کے خلاف ہوں اور انسانی زندگی کو مقدس سمجھیں۔ اس کے لیے ثقافتی و تہذیبی تکثیریت کا احترام، سماجی مکالمے کے لیے مناسب راستوں کی تلاش، اور سماجی ترقی پر توجہ ضروری ہے۔
دینِ اسلام کی خدمت میں سلف صالح کا کردار
سلف صالح کا مکتب ایک اصیل مکتب ہے جو فہم، اجتہاد اور اصولوں کی بنیاد رکھنے میں قابلِ تقلید ہے، خواہ وہ عقائد ہوں یا فقہی مناہج۔ سلف صالح کی پیروی کا مطلب جمود نہیں، بلکہ اختلافی مسائل کو غیر جانبداری سے پیش کرنا ہے تاکہ اسلامی منہج میں انحراف پیدا نہ ہو۔ اگر سلف کی پیروی جمود کا ذریعہ بن جائے تو وہ ترقی کے منافی ہے۔
سلف صالح کا منہج اسلامی اصولوں سے وابستہ رہتے ہوئے نئے فکری و فقہی مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور تقلیدی جکڑبندیوں سے آزاد ہے۔ یہ مکتب اجتہادِ مستقل کا احترام کرتا ہے اور ہر اس دلیل کو قبول کرتا ہے جو شواہد پر مبنی اور شریعت کے مقاصد سے ہم آہنگ ہو۔
آج ہمیں ایک زندہ، باشعور اور روشن فکر سلفی منہج کی ضرورت ہے جو اصلاح کا کردار ادا کرے اور ہر قسم کے انحراف کا مقابلہ کرے۔
تجدیدِ فکر کا مفہوم
تجدیدِ فکر ایک مطلوبہ دعوت ہے، کیونکہ ہر دور میں اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ تجدید کا مقصد فکری راستوں کی اصلاح، نظم کی بحالی اور انحراف کی روک تھام ہے۔ اگر تجدید، اصلاح اور تثبیت کے لیے ہو تو یہ ناگزیر ہے، لیکن اگر اس کا مطلب نصوص کو منسوخ کرنا یا اسلامی اصولوں کو نظرانداز کرنا ہو تو یہ تجدید نہیں بلکہ تخریب ہے۔
حقیقی تجدید، اسلامی فکر کو ان آلودگیوں سے پاک کرنے کا نام ہے جو وقت کے ساتھ اس میں داخل ہو گئی ہیں۔ عقل شرعی نصوص کو سمجھنے کا آلہ ہے، لیکن اسے اسلامی بصیرت کے دائرے میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
جدید دور میں فتاویٰ کا کردار
میں فتاویٰ کے اجرا کے لیے اجتماعی فتویٰ کا قائل ہوں، جو کسی معتبر علمی ادارے کی جانب سے صادر ہو۔ انفرادی فتاویٰ میں اختلاف اور تضاد کا امکان ہوتا ہے، اس لیے جدید مسائل کو غیر جانبداری سے اجتماعی طور پر پرکھا جانا چاہیے۔ جہاں صریح نص موجود ہو، وہاں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔
انتہاپسندی کے اسباب اور اس کا حل
اسلامی ممالک میں انتہاپسندی ایک تشویش ناک رجحان بن چکی ہے، جو اب محض فردی رویہ نہیں بلکہ معاشرتی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے اس کے اسباب کا گہرائی سے مطالعہ ضروری ہے۔ درست اسلامی تربیت ہی اعلیٰ اقدار کو فروغ دے سکتی ہے اور انحراف کے خلاف مزاحمت پیدا کر سکتی ہے۔
اسلام کی شبیہ بگاڑنے میں مغربی میڈیا کی کوششیں
مغربی میڈیا بعض انحرافی اور انتہاپسند رویوں کو بنیاد بنا کر اسلام کی شبیہ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتا ہے، حالانکہ تشدد اور انتہاپسندی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ تشدد کے نفسیاتی، سماجی اور معاشی اسباب ہوتے ہیں۔ اسلامی شخصیت انسانی وقار کا احترام کرتی ہے اور تشدد کو قبول نہیں کرتی۔
مسلمانوں کا حق ہے کہ ان کے مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی تشخص کا احترام کیا جائے، خصوصاً یورپی معاشروں میں۔ باہمی احترام پر مبنی بقائے باہمی ہی واحد راستہ ہے۔ ہمیں صحیح اسلامی تصور کو فروغ دینے اور مؤثر میڈیا کے قیام کی ضرورت ہے تاکہ مغرب تک اسلام کی حقیقی تصویر پہنچائی جا سکے [2]۔
متعلقہ مضامین
ماخذ
- محمد فاروق النبهان، ویبسائٹ المکتبۃ الشاملہ، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-20
- ڈاکٹر محمد فاروق النبهان سے مکالمہ، ویبسائٹ رابطۃ العلماء السوریین، تاریخِ اشاعت: 2018-09-18، تاریخِ مشاہدہ: 2026-02-20