مندرجات کا رخ کریں

نبیل حلباوی

ویکی‌وحدت سے
نبیل حلباوی
پورا نامنبیل حلباوی
دوسرے نامشیخ نبیل حلباوی
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہشام، دمشق
مذہباسلام، شیعہ
اثرات
  • عروض الشعر العربی بين التنظير و التطوير، نظم الشعر العربی، ديوان شعری، منهج الحفظ الوظيفی من القرآن الكريم
مناصب
  • شاعر، عالمی کونسل برای تقریب مذاهب اسلامی کے رکن

نبیل حلباوی، شیعه مسلک سے تعلق رکھنے والے تقریب پسند عالم، شام کے ممتاز دینی و علمی شخصیت، جامعۂ دمشق کے استاد، روضۂ سیدہ رقیہ (سلام‌اللہ علیہا) کے امامِ جماعت، پیروانِ اہل‌بیت (علیہم‌السلام) کی کونسلِ علما کے نائب صدر، لبنان میں انجمنِ علمائے مقاومت کے رکن، نیز اهل بیت عالمی کونسل اور عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی کی اعلیٰ کونسل کے رکن ہیں۔

سوانحِ حیات

نبیل طالب حلباوی، 14 مارچ 1346 ء کو دمشق کے علاقے الامین میں پیدا ہوئے۔

تعلیم

جامعاتی تعلیم

  • ڈاکٹریٹ (تعلیم و تربیت)، جامعۂ دمشق، 2006 ء؛
  • ماسٹرز (تعلیم و تربیت)، جامعۂ دمشق، 2002 ء؛
  • ماسٹرز عربی زبان، جامعۂ قاہرہ، 1969 ء؛
  • بیچلر عربی ادب، فیکلٹی آف آرٹس، جامعۂ دمشق، 1968 ء؛
  • بیچلر قانون، فیکلٹی آف لا، جامعۂ دمشق، 1969 ء؛

حوزوی تعلیم

سرگرمیاں

  • مجمع سیدہ رقیہ کے سائنسی معاون، وابستہ جامعۂ بلادِ شام؛
  • فیکلٹی آف آرٹس، جامعۂ دمشق میں فارسی ادب کے مدرس، 2006 ء تا 2011 ء؛
  • فیکلٹی آف شریعت، جامعۂ دمشق میں عربی زبان کے مدرس، 1995 ء تا 2000 ء؛
  • جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ، شعبۂ دمشق میں فلسفہ و علمِ کلام کمیٹی کے سربراہ، 2010 ء تا حال۔

مذہبی و سماجی سرگرمیاں

  • روضۂ سیدہ رقیہ (سلام‌اللہ علیہا) کے امامِ جماعت، 1992 ء تا حال؛
  • رکنِ اعلیٰ کونسل اهل بیت عالمی کونسل ، 2000 ء تا حال؛
  • رکن عالمی کونسل برائے تقریب مذاہب اسلامی، 2000 ء تا حال؛
  • لبنان میں انجمنِ علمائے مقاومت کے رکن، 2010 ء تا حال؛
  • شام میں پیروانِ اہل‌بیت (علیہم‌السلام) علما کونسل کے نائب صدر، 2010 ء تا حال۔

تصانیف

  • عروض الشعر العربی بین التنظیر و التطویر؛
  • نظم الشعر العربی؛
  • دیوانِ شاعری؛
  • منہج الحفظ الوظيفی من القرآن الکریم۔

خطابات

  • اسلامی جمہوریہ ایران میں اسلامی فکر اور بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس میں شرکت؛
  • حضرت امام حسین علیه السلام کی شهادت کی مناسبت پر منعقده سالانہ مجالس میں خطاب، مدرسہ المحسنیہ؛
  • دمشق میں ادبی، سماجی، ثقافتی اور فلاحی انجمنوں کی نشستوں اور متعدد سیمینارز میں شرکت؛
  • روضۂ حضرت رقیہ (سلام‌اللہ علیہا) میں خطبۂ جمعہ، 1992 ء تا حال[1]۔

نظریات

وحدتِ اسلامی؛ امتِ اسلام کا ہدف

شیخ نبیل حلباوی نے پینتیسویں بین الاقوامی وحدتِ اسلامی کانفرنس میں مسلمانوں کے مابین وحدت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وحدت بذاتِ خود ہدف، راستہ اور ایک عظیم قدر ہے۔ ان کے مطابق امت اسلامی کو وحدت کے حصول کے لیے منصوبہ بندی اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عزت، کرامت اور سعادت کا راستہ وحدت ہی سے ہو کر گزرتا ہے اور امتِ اسلام کو اسے اپنے لیے رہنما قطب نما سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے قرآنِ کریم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتِ خاتم الانبیا ایک امت ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ|سورہ=انبیاء|آیت=92}} انہوں نے وضاحت کی کہ اللہ کی حقیقی عبادت امت کی وحدت کے بغیر ممکن نہیں۔ مزید کہا کہ ایمان اور اسلام کی تبلیغ بذاتِ خود عظیم عبادت ہے اور تقوائے الٰہی کا تحفظ سیاست، معیشت، معاشرت اور تربیت سمیت تمام میدانوں میں وحدت کے بغیر ممکن نہیں۔

قرآن میں تفرقہ کے اثرات

امامِ جمعہ روضۂ سیدہ رقیہ نے تفرقہ سے خبردار کرتے ہوئے آیتِ قرآنی نقل کی: وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ|سورہ=انفال|آیت=46}} انہوں نے کہا کہ فرقہ واریت، مذہبی اختلافات اور مسالک کے درمیان تنازع امت کو کمزور کر دیتا ہے، حالانکہ تمام مسالک ایک ہی دین اسلام کے دائرے میں ہیں۔

انہوں نے حقیقی الفت کو قلبی الفت قرار دیا اور ظاہری و شعاری وحدت کو بے فائدہ بتایا۔ اس سلسلے میں درج ذیل آیت کی طرف اشارہ کیا:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا|سورہ=صف|آیت=4}} اسی طرح آیت: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ|سورہ=آل عمران|آیت=110}} کی روشنی میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کی ذمہ داری کو بیان کیا۔

انقلابِ اسلامی؛ وحدت کی عملی تعبیر

نبیل حلباوی نےانقلاب اسلامی کو وحدتِ اسلامی کے عملی نمونے کے طور پر پیش کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی کے حکم سے ہفتۂ وحدت کا آغاز ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، رهبر معظم امام خامنه ای کی قیادت میں وحدت کے فروغ کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے محورِ مقاومت کو وحدت کی معاصر مثال قرار دیا جو شام، عراق، یمن، لبنان اور فلسطین تک پھیلا ہوا ہے، اور کہا کہ اس اتحاد کے بغیر امتِ اسلامی بدترین حالت میں ہوتی[2]۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

ماخذ