مندرجات کا رخ کریں

مہدی مقدسی

ویکی‌وحدت سے
مہدی مقدسی
پورا ناممہدی مقدسی
دوسرے نامشیخ مہدی مقدسی سیسکو
ذاتی معلومات
پیدائش کی جگہپاکستان، بلتستان، سیسکو
وفات2019 ء، 1397 ش، 1440 ق
یوم وفات1 رمضان
وفات کی جگہقم ایران
اساتذہ
  • سید آغا طه الموسوی، شیخ علی مدرس، مدرس افغانی، آیت الله حکیم
مذہباسلام، شیعہ
مناصب
  • عالم دین، مبلغ، خطیب، امام جمعه و جماعت، بانی مدرسه دارالعلوم حیدریه سیسکو

مہدی مقدسی ایک مخلص، مجاہد اور زاہد عالمِ دین تھے جن کی پوری زندگی اخلاص، توکل اور استقامت کی عملی تصویر تھی۔ انہوں نے شدید مادی مشکلات کے باوجود علومِ آلِ محمدؐ کی تحصیل کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔ بلتستان، کراچی اور نجف اشرف میں ان کی علمی جدوجہد خالص دینی جذبے اور مسلسل محنت سے عبارت تھی۔ علم، تقویٰ اور سادہ طرزِ حیات کے ذریعے انہوں نے دینی معاشرے میں ایک مؤثر اور باوقار کردار ادا کیا۔

سوانحِ حیات

خاندانی ریکارڈ کے مطابق آپ کی تاریخِ ولادت 1941ءہے۔ آپ کے مرحوم والد کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا، تاہم کم سنی ہی میں آپ کے ایک بھائی اور ایک بہن کا انتقال ہوگیا۔ اس طرح آپ اکلوتے بیٹے رہ گئے اور اسی بنا پر والدین کے نہایت لاڈلے اور پیارے تھے۔

آپ کے والد، محمد حسین، ایک متقی و پرہیزگار انسان تھے۔ وہ واجبات و محرمات کے سخت پابند، مخلص اور نیک سیرت شخصیت کے حامل تھے۔ اگرچہ وہ عالمِ دین نہیں تھے، مگر واجبات، محرمات، مکروہات اور مستحبات کے مسائل، قراءتِ قرآن اور دینی احکام پر انہیں قابلِ ذکر عبور حاصل تھا۔ بالخصوص مالِ حرام کے معاملے میں وہ نہایت حساس تھے اور اپنے بچوں کو روزانہ سختی سے اس بات کی تلقین کرتے کہ دوسروں کا پھل یا کوئی اور چیز بغیر اجازت استعمال نہ کریں۔

آغازِ تعلیم

شیخ مهدی مقدسی نے کم عمری ہی میں اپنے والدِ محترم سے تعلیمِ قرآن کا آغاز کیا اور بڑے شوق و رغبت کے ساتھ علم کے سفر کو جاری رکھا۔ قلیل مدت میں قرآن اور ابتدائی قراءت کی تعلیم مکمل کرلی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ تصحیحِ قراءت کے لیے مرحوم آخوند مہدی کے پاس بھی جایا کرتے تھے۔

تعلیمِ قرآن کی تکمیل کے کچھ عرصے بعد، والدِ گرامی نے آپ میں دینی علوم کے حوالے سے غیر معمولی شوق و رغبت کے ساتھ ساتھ آپ کے کردار و گفتار میں موجود بعض نمایاں نیک صفات کو محسوس کیا۔ چنانچہ تمام تر مالی مشکلات اور سماجی سختیوں کے باوجود، آپ کو علومِ آلِ محمدؐکے حصول کے لیے گھر بار چھوڑنے کی اجازت عطا کردی۔ یہ اجازت آپ کے لیے والد کی جانب سے ایک قیمتی اور تاریخی تحفہ تھی۔

ایک طرف دل کو یہ مسرت حاصل تھی کہ دیرینہ آرزو پوری ہوگئی اور دینی تعلیم کی راہ کھل گئی، مگر دوسری جانب والدین سے جدائی کا غم بھی دل میں تھا۔ تاہم آپ نے اپنے دل کی کیفیت کسی پر ظاہر نہ ہونے دی اور عزم و حوصلے کے ساتھ رختِ سفر باندھ لیا۔

یوں آپ نے مدرسہ قائمیہ، چھوترون میں دینی تعلیم کا آغاز کیا، جو اس زمانے میں علم و فضل کا ایک معتبر اور پررونق مرکز تھا۔ وہاں آپ کو جید اور مخلص اساتذہ، حجۃ الاسلام والمسلمین حافظ شریعت آغا طہٰ الموسوی اور آخوند مولوی (اعلیٰ اللہ مقامہما) کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ آپ نے تمام مادی مشکلات کو نظرانداز کرتے ہوئے، نہایت اخلاص، استقامت اور سنجیدگی کے ساتھ علومِ آلِ محمدؐ کی مقدس راہ کو جاری رکھا۔

بلتستان سے کراچی اور حوزۂ علمیہ نجف کا سفر

شیخ صاحب پوری یکسوئی کے ساتھ سرزمینِ بلتستان کے روشن و درخشاں علمی مرکز، حوزۂ علمیہ چھوترونمیں مشغولِ تحصیل تھے، لیکن ان کے چشمِ تصور میں حوزۂ علمیہ نجف اشرف جگمگانے لگا۔ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے نجف جانے کی خواہش دل میں روز بروز قوت پکڑتی گئی۔

تاہم والدِ محترم مالی حالات کے باعث پورا کرایہ ادا کرنے سے قاصر تھے، اور خود شیخ صاحب کے پاس بھی اتنا زادِ راہ موجود نہ تھا کہ آسانی سے نجف کا سفر کر سکیں۔ اس طرح نجف جانے کا ارادہ مشقت اور سختی سے خالی نہ تھا۔ مگر ان کے عزمِ راسخ، پختہ ارادے اور اللہ پر کامل توکل نے راہِ علم میں حائل تمام رکاوٹوں کو ان کے لیے شہد کی طرح شیریں بنا دیا۔

بے سروسامانی کے عالم میں، یہ عاشقِ علمِ دین وسائلِ سفر اور کرایہ خود مہیا کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ والدین، اکلوتی بہن اور اپنی ابتدائی درسگاہ مدرسہ قائمیہ کے دوستوں سے رخصت ہوکر کراچی کی طرف روانہ ہوگئے۔ ان کے نزدیک اس وقت نجف جانے کا فیصلہ نہایت بروقت تھا۔

چنانچہ علمِ دین کی راہ میں خرچ اور زادِ سفر فراہم کرنے کے لیے وہ پورے شوق اور جذبے کے ساتھ تقریباً ایک سال تک مزدوری کرتے رہے۔ مگر آب و ہوا کی ناسازگاری کے باعث متعدد مرتبہ بیمار بھی ہوئے، جس کی وجہ سے علاج معالجے کے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے۔ نتیجتاً ایک سال میں مکمل زادِ راہ فراہم نہ ہوسکا۔

اس کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری۔ کام جاری رکھا اور اپنے والدِ محترم کو خط لکھ کر حالات سے آگاہ کیا، نیز کچھ مالی مدد کی درخواست کی، کیونکہ وہ اپنی عمر کا مزید حصہ مزدوری میں صرف نہیں کرنا چاہتے تھے۔ والدِ گرامی، علمِ دین سے والہانہ محبت کے باعث، خود مالی تنگی میں ہونے کے باوجود مدد سے دریغ نہ کرسکے اور اپنی استطاعت کے مطابق ایک مختصر رقم شیخ صاحب تک پہنچادی۔ بالآخر اسی رقم کو سہارا بناکر، تقریباً 1960ء میں یہ مجاہدِ فی سبیل اللہ، اللہ کے بھروسے پر کسی نہ کسی طرح نجفِ اشرف پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔

حوزہ علمیه نجف میں قیام

جیسے نجف اشرف میں حوزہ علمیہ نجف اور امام المتقین حضرت امام علی علیہ السلام کے جوار میں پاکر ایسا سکون قلب اور فرحت محسوس کیا جیسا کہ بچہ اپنی ماں کے گود میں محسوس کرتاہے اور اللہ تعالی کی اس کرم نوازی پر شکر کرتے ہوئے حوزہ علمیہ نجف کے دریائے علم و حکمت میں غواصی کرکے موتیوں کو چننا شروع کیا دن رات ایک کرکے محنت کی ۔

حوزہ علمیہ نجف میں ان دنوں زیادہ تر ہندوستان،‎ پاکستان،‎ افغانستان اور ایران کے طلبا ہوتے تھے اور زیادہ تر اساتذہ بھی ایرانی تھے جو فارسی میں دروس پڑھاتے تھے اسی وجہ سے آپ کو فارسی پر بھی عبور حاصل تھا اور آپ کو مرحوم شیخ علی مدرس ،‎ مرحوم مدرس افغانی آیہ اللہ حکیم اور دیگر بعض جید علما کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کا شرف حاصل ہواـ‎ مختلف اساتذہ اور جوار امام علی علیہ السلام سے کسب فیض کا سلسلہ تقریبا دس سال تک طول پکڑاـ

بلتستان کا سفر اور دینی و فلاحی خدمات کا آغاز

شیخ صاحب نے پوری توجہ اور دلجمعی کے ساتھ علم کے ذخیرے سے خوشہ چینی کی اور اس سلسلے کو تقریباً دس برس تک جاری رکھا۔ اس دوران انہوں نے قوم میں تبلیغِ دین کے موجودہ خلا کو شدت سے محسوس کیا۔ قوم و ملت کا درد دل میں لیے، تعلیماتِ قرآنی اور فرامینِ معصومین علیہم السلام سے لوگوں کو روشناس کرانے کا نیک ہدف سامنے رکھ کر، تقریباً 1970ء میں جوارِ ائمہ ششگانہ علیہم السلام اور حوزۂ علمیہ نجف اشرف کو خیر باد کہا اور اپنے آبائی گاؤں سیسکو کو اپنی خالصانہ تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز بنا لیا۔

گاؤں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ان کے والدِ گرامی ان کی آمد سے چند ماہ قبل وفات پا چکے ہیں۔ یہ خبر ان کے لیے نہایت دردناک اور ناقابلِ فراموش تھی، تاہم انہوں نے رضائے الٰہی پر شکر ادا کرتے ہوئے صبر و بردباری کا مظاہرہ کیا۔ مرحوم شیخ نے آیتِ کریمہ وما کان المؤمنون لینفروا کافة فلولا نفر من کل فرقة منهم طائفة لیتفقهوا فی الدین ولینذروا قومهم إذا رجعوا إليهم لعلهم يحذرون (سورۂ توبہ: 122) پر عملاً مکمل عمل کیا۔ انہوں نے نجف یا قم میں مستقل قیام کے بجائے معاشرے میں واپس آکر، محدود دنیاوی وسائل کے باوجود، ایمانی قوت کے سہارے تمام رکاوٹوں کا مقابلہ کیا اور خالص نیت کے ساتھ دین کی خدمت اور تبلیغ کے فرائض انجام دیے۔ ان کی یہ جدوجہد موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک روشن نمونۂ عمل بن گئی۔

انہوں نے اس دور افتادہ گاؤں میں مدرسہ، مسجد اور امام بارگاہوں کی تعمیر کروا کر ایک محروم بستی کو عملی طور پر حوزۂ علمیہ کی شکل دے دی۔ بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر عمر کے افراد کو دینی احکام، اعتقادات اور قرآنی تعلیمات سے فیضیاب کیا۔ مختلف دینی پروگراموں اور قرآنی مقابلوں کے انعقاد کے ذریعے امن، اخوت اور دینی فضا کو فروغ دیا، حتیٰ کہ سیسکو کا ماحول ایک مثالی دینی معاشرے میں تبدیل ہو گیا۔ آج بھی لوگ اس دور کو یاد کرتے ہوئے شیخ صاحب کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور اپنی دینی آگاہی، حلال و حرام اور طہارت و نجاست کے مسائل کو مرحوم شیخ مہدی صاحب کی مرہونِ منت سمجھتے ہیں۔

شیخ صاحب کی تبلیغی جدوجہد سے نہ صرف سیسکو بلکہ اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے مومنین بھی مستفید ہوئے۔ مختصر یہ کہ انہوں نے اپنے علم و عمل کے ذریعے دینِ اسلام کی بے مثال خدمت کی، دینی اقدار و تعلیمات کو فروغ دیا، غلط نظریات پر تنقید اور ان کا تجزیہ کیا، اور عملی میدان میں متعدد مفید شاگردوں کی تربیت کی۔ ان کی بابرکت زندگی محروم علاقوں میں تبلیغِ دین کے لیے ایک کامل نمونہ ہے۔

تعلیماتِ دین کی نشر و اشاعت اور قریہ بہ قریہ سفر

سماج میں دین کی شمع روشن کرنے اور لوگوں تک دینی تعلیمات پہنچانے کے احساسِ ذمہ داری نے شیخ صاحب کو کبھی آرام سے بیٹھنے نہ دیا۔ وہ وقتاً فوقتاً سیسکو کے مضافاتی علاقوں بلکہ دور دراز مقامات تک سفر کیا کرتے تھے۔ کبھی آخوند حسین کو ساتھ لے کر اور کبھی کسی دوسرے ساتھی کے ہمراہ، میلوں پیدل چل کر قریہ بہ قریہ پہنچتے۔

وہ مردوں اور عورتوں کو وضو، غسل اور نماز کی تعلیم دیتے، باری باری حمد و سورہ اور نماز سنتے اور اصلاح فرماتے۔ انہی علاقوں میں نمازِ جماعت کے قیام کا بھی انتظام کرتے۔ بے شمار افراد کو کلمہ، طہارت، نجاست، وضو، غسل، نماز، اصول اور فروعِ دین کی تعلیم انہی کے ذریعے نصیب ہوئی۔

شیخ صاحب نے قرآن اور اہلِ بیت علیہم السلام کے پیغام کو نہایت سادہ مگر مؤثر اور متنوع اسلوب میں قریہ قریہ پہنچانے کا عزم کیا، جس میں وہ بڑی حد تک کامیاب رہے۔ نماز اور دینی تعلیمات کے فروغ کے حوالے سے ان کی کاوشیں نہ صرف قابلِ تحسین ہیں بلکہ آج کے مبلغین کے لیے بھی ایک عملی نمونہ ہیں۔ انہی خدمات کے پیش نظر انہیں اقامۂ نماز کمیٹی کی ذمہ داری سونپی گئی، جسے انہوں نے نہایت حسن و خوبی کے ساتھ نبھایا۔

بے سروسامانی میں کارِ خیر کا آغاز

(تأسیسِ مدرسہ حیدریہ)

جب شیخ صاحب پاکستان تشریف لائے تو انہوں نے اس محروم اور پسماندہ علاقے میں علمِ دین کے فروغ کے لیے اپنے گھر کے ایک کمرے کو دینی مدرسے کی شکل دے کر درس و تدریس اور تبلیغِ دین کا آغاز کیا۔ یہ سلسلہ صرف سیسکو تک محدود نہ رہا بلکہ گرد و نواح کے علاقوں سے معارفِ قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کے تشنہ افراد جوق در جوق اس مرکز کی طرف آنے لگے۔

یوں تعلیم و معارفِ قرآن و آلِ محمد کا یہ سلسلہ بتدریج عروج پذیر ہوا اور مستفید ہونے والوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی۔ اس بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر سیسکو میں ایک باقاعدہ دینی ادارے کے قیام کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ تاہم علاقے کی مالی کمزوری کے باعث یہ کام نہایت دشوار تھا۔ نہ مقامی لوگ مکمل تعاون کی استطاعت رکھتے تھے اور نہ ہی باہر سے کسی مدد کی امید تھی۔ اس عالم میں سوائے اللہ کے انہیں کسی کا سہارا نہ تھا۔

بالآخر انہوں نے توکل علی اللہ کرتے ہوئے بے سروسامانی کے عالم میں مدرسے کی بنیاد رکھ دی۔ اللہ کے فضل و کرم اور شیخ صاحب کے اخلاص کے باعث سیسکو کے مومنین نے اپنی حیثیت کے مطابق تعاون کیا۔ جو مالی مدد نہیں کر سکتے تھے، انہوں نے کئی کئی دن بلا معاوضہ محنت کی۔

بالخصوص حجۃ الاسلام شیخ احمد صاحب کی مالی معاونت اور مرحوم شیخ مہدی صاحب کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں مدرسہ حیدریہ سیسکو کے تین کمرے تعمیر ہوئے، جہاں مرد و زن، بچے اور بزرگ سب علمِ دین سے فیضیاب ہونے لگے۔ وقت کے ساتھ جگہ کی تنگی اور ایک مکمل دینی مدرسہ قائم کرنے کے عزم نے مزید کوششوں کو جنم دیا۔ بعد ازاں بعض اہلِ خیر کے تعاون سے مدرسے کے مزید کمرے تعمیر ہوئے اور یوں ایک عرصے بعد مدرسہ دارالعلوم الحیدریہ ایک مکمل دینی ادارے کی صورت میں معرضِ وجود میں آیا۔

یہ مدرسہ پوری آب و تاب کے ساتھ تشنگانِ معارفِ قرآن و اہلِ بیت علیہم السلام کو فیضیاب کرتا رہا اور آج بھی نئی نسل کی دینی تعلیم و تربیت کا مؤثر مرکز ہے۔ آج دنیا کے مختلف خطوں میں اس ادارے کے تربیت یافتہ شاگرد دینی خدمات انجام دے رہے ہیں یا تعلیم و تعلم کے میدان میں مصروف ہیں۔

ثقافتی کاموں کا احیا

شیخ صاحب اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ اگر علماء معاشرے میں اسلامی ثقافت کے مظاہر کو زندہ رکھنے میں کوتاہی کریں تو اس کی جگہ شیطانی ثقافت لے لیتی ہے۔ اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت انہوں نے مدارسِ دینیہ، امام بارگاہوں اور مساجد کی تعمیر و احیا کے ساتھ ساتھ ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولادت و شہادت کے ایام منانے اور ان کی سیرت کو اجاگر کرنے میں کوئی موقع ضائع نہ ہونے دیا۔

سماجی اور فلاحی خدمات

دینی خدمات کے ساتھ ساتھ شیخ صاحب نے متعدد اجتماعی اور فلاحی کام انجام دیے، جن میں سے چند کا مختصر تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔

بجلی اور پانی کی فراہمی کے لیے جدوجہد

سیسکو تک بجلی کی فراہمی کے لیے شیخ محمد حسن نجفی اور دیگر علماء و عمائدین کے ہمراہ مختلف سرکاری محکموں سے مسلسل رابطہ اور مطالبہ کیا گیا۔ اگر ان علماء کی انتھک کوششیں نہ ہوتیں تو سیسکو کو اتنی جلدی بجلی کی سہولت میسر نہ آتی۔ خود شیخ صاحب بیان کرتے تھے کہ ابتدا میں علاقائی نمائندے حاجی محمد حسین کے پاس گئے، پھر انہیں ساتھ لے کر متعلقہ محکمے میں مطالبہ پیش کیا، اور منظوری نہ ہونے کی صورت میں بھوک ہڑتال تک کی دھمکی دی، جس کے بعد یہ سہولت حاصل ہوئی۔

اسی طرح سیسکو میں پانی کی قلت کے پیش نظر نہر کے پانی کی مقدار بڑھانے کے لیے حاجی شیر، مرحوم حاجی علی محمد اور مرحوم حاجی احمد کے ساتھ مل کر جدوجہد کی۔ اس مقصد کے لیے گانگچن کے قریب مژھیک نامی پہاڑ پر قربانی دی گئی اور وافر مقدار میں بہنے والے پانی کا رخ گانگچن کی طرف موڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں پانی کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوا۔

تعلیمی و سماجی بیداری

جہالت کے اس دور میں شیخ صاحب نے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی پڑھنے لکھنے کے قابل بنایا۔ انہوں نے مجالس اور دینی محافل کے انعقاد کو وسیع پیمانے پر فروغ دیا، جس سے علاقے میں دینی شعور بیدار ہوا۔

نوجوانوں کی ازدواجی زندگی میں معاونت

سیسکو اور بیسل کے متعدد نوجوانوں کی شادیاں شیخ صاحب کی وساطت سے انجام پائیں۔ خصوصاً وہ نادار نوجوان جن کی غربت کے باعث لوگ رشتہ دینے سے گریز کرتے تھے، شیخ صاحب ان کے لیے خصوصی کوشش کرتے۔ ان کی نصیحت اور موعظت کا ایسا اثر ہوتا کہ لوگ رشتہ دینے پر آمادہ ہو جاتے۔ ایک نادار نوجوان نے شادی کے بعد جذبات سے مغلوب ہو کر کہا کہ وہ شیخ صاحب کے قدموں کا بوسہ لینا چاہتا ہے، مگر جب اجازت نہ ملی تو اس نے کہا کہ آپ کا احسان پتھر پر لکھ کر رکھوں گا، کیونکہ جو خدمت آپ نے میرے حق میں انجام دی، وہ کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔

شیخ صاحب اس راہ میں پیش آنے والی بے احترامیوں اور مشکلات کو معاشرے کو انحراف سے بچانے، اللہ کی رضا حاصل کرنے اور نوجوانوں کی ازدواجی مشکلات حل کرنے کی نیت سے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔ جس طرح وہ بلا توقع دینی خدمات انجام دیتے تھے، اسی طرح سماجی اور فلاحی خدمات بھی کسی صلے یا معاوضے کی امید کے بغیر انجام دیتے رہے۔

اسی سلسلے میں سیسکو میں ایک مستقل حسینیہ کی شدید ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے، معرفتی فاؤنڈیشن کی معاونت سے حسینیہ زینبیہ کی تعمیر کروائی، جہاں آج بھی مختلف دینی محافل اور مجالس بہترین انداز میں منعقد ہوتی ہیں۔

اختلافات اور ناچاقیوں کا حل

دینی اہمیت کے پیش نظر شیخ صاحب لوگوں کے درمیان موجود اختلافات اور ناچاقیوں کو ختم کرنا اپنی تبلیغی ذمہ داری کا حصہ سمجھتے تھے اور اس مقصد کے لیے بھرپور کوشش کرتے تھے۔ ان کے علاوہ بھی شیخ صاحب نے اپنی بابرکت زندگی میں بے شمار خدمات انجام دیں، جن کا مکمل احاطہ اس مختصر تحریر میں ممکن نہیں۔ ان شاء اللہ کسی مناسب موقع پر تفصیل کے ساتھ ان خدمات کو پیش کیا جائے گا۔

کسبِ معاش اور شجرکاری

اگرچہ شیخ صاحب کا اصل مقصد سماج میں دینی اور سماجی اعتبار سے مؤثر کردار ادا کرنا تھا، تاہم وہ کسبِ معاش کی اہمیت سے بھی غافل نہ تھے تاکہ لوگوں سے بے نیاز رہ سکیں۔ چنانچہ دینی اور فلاحی خدمات کے ساتھ ساتھ گھریلو کام کاج، کھیتی باڑی، گھاس اور فصل کی کٹائی تک تمام امور خود انجام دیتے تھے۔ بچے کم عمر تھے اور کسی کی معاونت میسر نہ تھی، اس کے باوجود انہوں نے ان مشقتوں کو اللہ کی رضا کا ذریعہ سمجھ کر قبول کیا۔

شجرکاری کی اہمیت کے پیش نظر انہوں نے نہایت شوق و رغبت کے ساتھ درخت لگانے کا سلسلہ جاری رکھا، جو دوسروں کے لیے نمونۂ عمل بن گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ خوبانی کے درخت سب سے زیادہ انہوں نے ہی لگائے، جن کے پھل سے آج بھی سیسکو اور دیگر علاقوں کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص ان درختوں کا پھل کھائے یا گرمی میں ان کے سائے سے فائدہ اٹھائے تو اس کا ثواب مجھے ملے گا۔ یہی اخلاص اور نیت کی پاکیزگی ان کی کامیابی کا راز تھی۔

یتیموں اور ناداروں کی امداد

قرآنی تعلیمات اور فرامینِ معصومین علیہم السلام کا ایک بڑا حصہ یتیموں اور محتاجوں کی کفالت سے متعلق ہے۔ شیخ صاحب نے اس تعلیم کو عملی طور پر اپنی زندگی میں نافذ کیا۔ وہ یتیموں اور ناداروں کی ہر ممکن مدد کرتے، ان کے لیے خوراک اور دیگر ضروریات فراہم کرتے، اور سکردو سے واپسی پر ان کے لیے کپڑے بھی لاتے۔

خصوصاً اپنے ایک رشتہ دار کے یتیم بچوں کی محرومی اور غربت انہیں بہت رنجیدہ رکھتی تھی۔ اسی احساس کے تحت انہوں نے سکردو میں ایک مومن کو ان کی حالت سے آگاہ کیا، جس کے نتیجے میں اس مومن نے امام زمانہ علیہ السلام کے نام پر ان یتیموں کو ایک کنال زمین عطا کی۔

روحانی طبابت

شیخ صاحب دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ سیسکو اور اس کے اطراف کے علاقوں کے لوگوں کے لیے ایک روحانی طبیب کی حیثیت بھی رکھتے تھے۔ ان کی دعا اور قرآنی تعویذات میں ایک حیرت انگیز اثر تھا۔ قریبی ہی نہیں بلکہ دور دراز علاقوں سے بھی لوگ بچوں کی بیماریوں، گھریلو مسائل، ازدواجی مشکلات حتیٰ کہ جانوروں کی بیماریوں کے حل کے لیے ان کے پاس آتے۔

وہ اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر لوگوں کی بات سنتے اور دعا یا قرآنی تعویذ کے ذریعے ان کی مشکلات کے حل کی کوشش کرتے۔ اس خدمت کے بدلے نہ کبھی اجرت طلب کی اور نہ کسی قسم کی لالچ رکھی، بلکہ اسے خالص خدمتِ خلق سمجھ کر انجام دیتے رہے۔ کئی کامیاب افراد اپنی ترقی کو اپنی محنت کے ساتھ ساتھ شیخ صاحب کی دعاؤں کا ثمر قرار دیتے تھے۔ ایک افسر، جناب علی صاحب، نے ان کے انتقال کے بعد افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہم ایک عظیم نعمت سے محروم ہو گئے، جن کی دعا پر ہمیں کامل یقین تھا۔

سیاسی امور پر بصیرت اور بروقت کردار

شیخ صاحب اجتماعی اور سیاسی مسائل پر گہری نظر رکھتے تھے اور سمجھتے تھے کہ اگر عالمِ دین ان امور سے کنارہ کش ہو جائے تو معاشرہ فاسد عناصر کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے ہمیشہ اجتماعی اور سیاسی معاملات میں دین و شریعت کی بالادستی کو معیار بنایا اور کسی ذاتی مفاد کو اپنے قریب نہ آنے دیا۔

جب تحریک جعفریہ نے انتخابات میں حصہ لیا تو اس وقت اسے واحد شیعہ پلیٹ فارم سمجھتے ہوئے، انہوں نے اس کی حمایت کو تشیع اور اسلامِ ناب محمدی کی تقویت کا ذریعہ قرار دیا۔ بعض علاقوں کی طرح مخالف امیدواروں کو ووٹ دینے کو حرام قرار دینے کے فتویٰ کی مخالفت کرنے والوں سے انہوں نے سماجی بائیکاٹ کا اعلان کیا، جس پر اکثریت نے لبیک کہا۔ اس موقف کے باعث انہیں زندگی بھر مختلف اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا، مگر ہر مرحلے پر اللہ تعالیٰ نے ان کی حقانیت کو آشکار کیا۔ مختصر یہ کہ شیخ صاحب کی زندگی میں سیاسی شعور اور جدوجہد ایک واضح اور نمایاں پہلو کی حیثیت رکھتی ہے۔[1]

وفات

شیخ صاحب اپنی زندگی کے آخری ایام میں تقریباً ایک ماہ تک نجف اشرف میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے جوار میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے راز و نیاز کے ساتھ اپنے دورۂ طلبگی کی یادیں تازہ کیں۔ اس کے بعد بغداد، کوفہ، سامرا اور کربلا کی زیارات کر کے اپنے مظلوم ائمہ سے آخری الوداع کیا اور پھر قم مقدس تشریف لے آئے۔

ماہِ مبارک رمضان سے چند دن قبل اچانک علیل ہو گئے۔ ہر ممکن علاج اور دعا کی گئی، مگر حالت میں بہتری نہ آ سکی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا گویا یہ عظیم ہستی ماہِ رمضان کی منتظر تھی۔ چنانچہ یکم رمضان المبارک 2019ء کو فجر کے بعد، داعیٔ اجل کو لبیک کہتے ہوئے اپنے مالکِ حقیقی سے جا ملے۔[2]

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات

  1. سوانح حیات شیخ مہدی مقدسی (زبان اردو) درج شده تاریخ: ۱۲/ جون/ ۲۰۱۹ء اخذشده تاریخ: ۱۹/فروری/۲۰۲۶ء
  2. خصوصی نامه چهره ماندگار علم و عمل سال نشر 1440 ق