مسجد کوفہ

مسجد کوفہ (عربی: مَسْجِدُ الْکُوفَةِ الْمُعَظَّم / الْأَعْظَم) مسلمانوں، خواہ شیعہ ہوں یا سنی، کی چار اہم مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد عراق کے شہر کوفہ میں واقع ہے اور شہر نجف سے تقریباً ۱۲ کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ مسجد ابتدا میں حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کی تھی اور مسجد الحرام کے بعد دنیا کی قدیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ ہجری قمری کی ابتدائی صدیوں میں سعد بن ابی وقاص نے اس مسجد کی تعمیرِ نو کی، پھر حضرت علی ابن ابی طالب نے اسے اپنی خلافت کا ایک اہم مرکز قرار دیا۔ اس مسجد میں بعض بزرگوں اور دینی علماء کی قبریں بھی موجود ہیں۔ شیعہ عقیدے کے مطابق حضرت حجت بن الحسن علیہ السلام کے ظہور کے بعد اس مسجد کی وسعت بہت زیادہ بڑھ جائے گی۔ یہ ان مقامات میں سے بھی ایک ہے جہاں شیعہ مسافر ہونے کے باوجود اپنی نماز مکمل پڑھ سکتے ہیں۔
مسجد کا مقام اور خصوصیات
شہر کوفہ کے قدیم ترین اور اہم ترین زیارتی آثار میں مسجدِ اعظمِ کوفہ کو خاص مقام حاصل ہے۔ یہ مسجد عالمِ اسلام کی بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے اور شیعوں کے نزدیک اہم ترین مساجد میں چوتھے نمبر پر ہے، یعنی مسجد الحرام، مسجد النبی اور مسجد الاقصیٰ کے بعد مسجدِ کوفہ کا مقام آتا ہے۔
مسجدِ کوفہ کی لمبائی ۱۱۰ میٹر اور چوڑائی ۱۰۱ میٹر ہے، جبکہ اس کا کل رقبہ ۱۱۱۶۲ مربع میٹر ہے۔ مسجد کی حفاظت کے لیے اس کے گرد ۱۰ میٹر بلند دیواریں تعمیر کی گئی ہیں۔
مسجد کے کھلے صحن کا رقبہ ۵۶۴۲ مربع میٹر اور شبستانوں کا رقبہ ۵۵۲۰ مربع میٹر ہے۔ مسجد میں ستونوں کی تعداد ۱۸۷ ہے، جبکہ اس کے ۴ مینار ہیں، جن میں ہر ایک کی بلندی ۳۰ میٹر ہے۔ مسجد کے ۵ دروازے ہیں، جن کے نام درج ذیل ہیں:
- بابُ الحُجّہ (مرکزی دروازہ)
- بابُ الثُعبان، بابُ الرحمہ
- بابِ مسلم بن عقیل
- بابِ ہانی بن عروہ [1]۔
مسجدِ کوفہ اپنے قیام کے ابتدائی دور ہی سے شہر کے اہم ثقافتی مراکز میں شمار ہوتی رہی ہے۔ جب حضرت علی علیہ السلام ۳۶ ہجری میں کوفہ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجدِ کوفہ میں داخل ہوئے اور وہاں لوگوں سے خطاب فرمایا۔
کوفہ میں قیام کے بعد حضرت علی علیہ السلام مسجدِ کوفہ میں قرآنِ کریم کی تفسیر اور دیگر علوم کی تعلیم دیتے تھے۔ کمیل بن زیاد اور ابن عباس جیسے بہت سے شاگردوں نے آپ کی علمی مجلس سے استفادہ کیا [2]۔
مسجد کے دروازے
مسجد کی تعمیر کے زمانے سے ہی اس کے لیے متعدد دروازے بنائے گئے تھے:
- بابُ السُّدَّہ: حضرت علی علیہ السلام اسی دروازے سے مسجد میں داخل ہوتے تھے۔
- بابِ کِندہ: یہ مسجد کے مغربی جانب واقع تھا۔
- بابُ الانماط:یہ بابُ الفیل کے بالمقابل واقع تھا۔
- بابُ الفیل یا بابُ الثُعبان:یہ مسجد کے شمالی جانب واقع تھا اور موجودہ دور میں یہی وہ واحد دروازہ ہے جو اس زمانے سے باقی رہ گیا ہے۔ بابُ الفیل کے قریب مسجد کا مینار بھی واقع ہے۔
- بابُ الرحمہ [3]۔
مسجدِ کوفہ کی فضیلتیں
- حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں
اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ کوفہ کے درمیان فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایسی نعمت عطا کی ہے جو کسی اور کو عطا نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری اس نماز گاہ کو ایک خصوصی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ یہ مسجد حضرت آدم علیہ السلام کا گھر، حضرت نوح علیہ السلام کی جائے قیام، حضرت ادریس علیہ السلام کا مقام، حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام اور میرے بھائی خضر علیہ السلام کی نماز گاہ، اور میری نماز کی جگہ ہے۔ تمہاری یہ مسجد ان چار مساجد میں سے ایک ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے اہل کے لیے منتخب فرمایا ہے۔"
"گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں کہ قیامت کے دن یہ دو سفید چادروں کے ساتھ میدانِ حشر میں داخل ہوگی اور ان لوگوں کی شفاعت کرے گی جنہوں نے اس میں نماز ادا کی ہوگی، اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس کی شفاعت رد نہیں کی جائے گی۔
مستقبل میں حجرِ اسود اسی مسجد میں نصب کیا جائے گا۔ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہی مسجد میرے فرزند مہدی علیہ السلام (عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور ہر مؤمن کی نماز گاہ بن جائے گی۔
روئے زمین پر کوئی مؤمن ایسا نہیں ہوگا جو اس مسجد میں داخل نہ ہو اور اس سے دلی محبت نہ رکھتا ہو۔ پس خبردار! اسے ترک اور ویران نہ کرنا۔ اس میں نماز ادا کرو، اس نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو اور اپنی حاجات اللہ تعالیٰ سے طلب کرو۔ اگر لوگ اس مسجد کی فضیلت سے آگاہ ہوتے تو دنیا کے ہر گوشے سے اس کی طرف دوڑتے ہوئے آتے، خواہ انہیں برف پر رینگ کر ہی کیوں نہ آنا پڑتا۔"[4]۔