مندرجات کا رخ کریں

سید علی خمینی

ویکی‌وحدت سے
سید علی خمینی
دوسرے نامحجۃ الاسلام والمسلمین سید علی خمینی
ذاتی معلومات
پیدائش1986ء)
یوم پیدائش10 اپریل
پیدائش کی جگہتہران
مذہباسلام، شیعہ

سید علی خمینی، حضرت امام خمینیؒ کے پوتے اور مرحوم حاج سید احمد خمینی کے سب سے چھوٹے صاحبزادے ہیں۔ وہ اس وقت عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں مقیم ہیں اور حوزۂ علمیہ نجف میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

سوانح عمری

سید علی خمینی 21 فروردین 1365 ہجری شمسی کو تہران میں پیدا ہوئے۔ آپ حضرت امام خمینیؒ کے پوتے اور مرحوم حاج سید احمد خمینی کے تیسرے فرزند ہیں۔

شادی

آپ کی شادی آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی سیستانی کے نواسے کے خاندان میں ہوئی۔ آپ کی اہلیہ آیت اللہ سید جواد شهرستانی کی صاحبزادی اور آیت اللہ سیستانی کی نواسی ہیں۔

ان کا عقدِ نکاح خود آیت اللہ سیستانی نے روضۂ مبارک حضرت امام علی بن ابی طالب کے جوار میں پڑھایا۔ اس ازدواج سے اللہ تعالیٰ نے انہیں دو صاحبزادے، محمد علی اور محمد حسین، عطا فرمائے ہیں۔

تعلیم

سید علی خمینی چند سال قبل تک قم مقدس میں مقیم تھے، لیکن سن 1397 ہجری شمسی میں عراق ہجرت کر کے نجف اشرف میں سکونت اختیار کی۔ وہ اس وقت حوزۂ علمیہ نجف میں تدریس اور علمی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔

تعلیمی سرگرمیاں

انہوں نے بھی اپنے بڑے بھائیوں سید حسن خمینی اور سید یاسر خمینی کی طرح حوزوی تعلیم حاصل کی اور تکمیلِ تعلیم کے بعد تدریس کا آغاز کیا۔ مثلاً تعلیمی سال 1387-1388 ہجری شمسی میں مدرسہ رضویہ قم میں منطقِ مظفر پڑھاتے تھے۔

بعد ازاں وہ حوزۂ علمیہ قم کے ممتاز اساتذۂ سطحِ عالی میں شمار ہونے لگے اور مکاسب شیخ انصاری کی تدریس بھی انجام دیتے رہے۔

حضرت امام خمینیؒ کی سید علی خمینی سے خصوصی محبت کا تذکرہ

حضرت امام خمینیؒ کی سید علی خمینی سے خصوصی محبت کا تذکرہ متعدد یادداشتوں اور تاریخی روایات میں ملتا ہے۔

امام خمینیؒ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام میں ان کے ساتھ سید علی خمینی کی بعض تصاویر بھی محفوظ ہیں، جو خاصی معروف ہو چکی ہیں۔

سن 1367 ہجری شمسی میں حضرت امام خمینیؒ نے انہیں صحیفۂ سجادیہ بطور تحفہ عطا فرمایا۔ اس موقع پر امام خمینیؒ نے اپنے دستِ مبارک سے ایک نہایت محبت آمیز اور دعائیہ عبارت تحریر فرمائی، جس کا ایک حصہ یوں ہے:

"میں یہ عظیم کتاب اپنے اس عزیز فرزند کو پیش کرتا ہوں، جس کی پیشانی میں نور اور 'نورٌ علیٰ نور' کا جلوہ دیکھتا ہوں؛ وہ عزیز جو احمد کی یادگار، ائمۂ اطہار علیہم السلام کی پاکیزہ نسل سے ہے، اپنی پاک دامن والدہ کی آغوش میں پرورش پایا ہے،

جو ساداتِ طباطبائی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور حضرت امام حسنؑ و حضرت امام حسینؑ کی اولاد ہونے کا شرف رکھتی ہیں۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں جلیل القدر علماء، متعہد فقہاء اور راہِ خدا میں ظاہر و باطن دونوں محاذوں کے مجاہد عرفاء میں شمار ہوں، اس مقدس کتاب سے بھرپور استفادہ کریں،

اور اپنے اس بوڑھے باپ، خمینی، کو جو عمر بھر نفس، نافرمانی اور کوتاہیوں میں مبتلا رہا اور اب سیاہ روئی اور گناہوں کا بوجھ اٹھائے، صرف خداوندِ رحمن کے فضل کی امید پر اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف جا رہا ہے، اپنی دعا، طلبِ رحمت اور مغفرت سے محروم نہ رکھیں۔"[1]۔

  1. صحیفۂ امام*، جلد 21، صفحہ 210۔