"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 222: | سطر 222: | ||
امام نے عائشہ کے نام بھی ایک خط لکھا اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ قرآن کے حکم کے خلاف اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے لشکر لے کر نکلی ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں مبتلا کرلیا ہے | امام نے عائشہ کے نام بھی ایک خط لکھا اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ قرآن کے حکم کے خلاف اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے لشکر لے کر نکلی ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں مبتلا کرلیا ہے | ||
طلحہ اور زبیر نے امام کے خط کے جواب میں اپنی نافرمانی پر اصرار کیا جبکہ عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا | طلحہ اور زبیر نے امام کے خط کے جواب میں اپنی نافرمانی پر اصرار کیا جبکہ عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا<ref>ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۶. </ref><ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۵۴۶۷. </ref> | ||
اس کے بعد عبداللہ بن زبیر نے لوگوں کو امام علی کے خلاف بھڑکایا جس کے جواب میں حسن بن علی نے نہایت بلیغ اور روشنگر تقریر کی | اس کے بعد عبداللہ بن زبیر نے لوگوں کو امام علی کے خلاف بھڑکایا جس کے جواب میں حسن بن علی نے نہایت بلیغ اور روشنگر تقریر کی. | ||
پھر امام علی نے پہلے صعصعہ بن صوحان اور اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو طلحہ زبیر اور عائشہ سے گفتگو کے لیے بھیجا لیکن یہ گفتگو بے نتیجہ رہی اور ان میں عائشہ کا موقف زیادہ سخت تھا | پھر امام علی نے پہلے صعصعہ بن صوحان اور اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو طلحہ زبیر اور عائشہ سے گفتگو کے لیے بھیجا لیکن یہ گفتگو بے نتیجہ رہی اور ان میں عائشہ کا موقف زیادہ سخت تھا<ref>مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۶۷. </ref><ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۷. </ref> | ||
خط و کتابت اور گفتگو کے بے نتیجہ رہنے اور باغیوں کے بیعت توڑنے مخالفت اور جنگ پر اصرار کے بعد امام نے خطبہ دیا اور حجت تمام کردی پھر اپنے لشکر کو منظم کیا اور فوجی کمانڈروں کو مقرر کیا اصحاب جمل نے بھی اپنے لشکر کو منظم کیا | خط و کتابت اور گفتگو کے بے نتیجہ رہنے اور باغیوں کے بیعت توڑنے مخالفت اور جنگ پر اصرار کے بعد امام نے خطبہ دیا اور حجت تمام کردی پھر اپنے لشکر کو منظم کیا اور فوجی کمانڈروں کو مقرر کیا اصحاب جمل نے بھی اپنے لشکر کو منظم کیا<ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۹.</ref><ref>ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۷. </ref><ref>دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۶ ۱۴۷. </ref> <ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۸. </ref> <ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۱. </ref><ref>مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۱. </ref> <ref>مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۳. </ref> <ref>مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۷. </ref> | ||
عائشہ بھی اس اونٹ پر سوار ہوئیں جسے زرہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور وہ لشکر کی صفوں کے آگے جا کر بیٹھ گئیں | عائشہ بھی اس اونٹ پر سوار ہوئیں جسے زرہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور وہ لشکر کی صفوں کے آگے جا کر بیٹھ گئیں<ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۹. </ref><ref>دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷. </ref><ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۷. </ref> | ||
== جنگ کے قوانین کا بیان == | |||
جنگ کے | امام علی نے اپنے ساتھیوں کو جنگ شروع کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کریں کسی کی لاش کی بے حرمتی نہ کریں کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں کسی کو گالی نہ دیں کسی عورت کو ہدف تنقید نہ بنائیں اور اصحاب جمل کے لشکر کے کیمپ میں موجود سامان کے علاوہ کسی چیز کو نہ اٹھائیں<ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰. </ref> | ||
== فتنے کے سرکردہ افراد کو نصیحت == | |||
امام علی نے طلحہ اور زبیر سے بالمشافہ گفتگو کی اور زبیر کو جنہیں آپ زیادہ نصیحت قبول کرنے والا سمجھتے تھے رسول خدا کی ایک [[حدیث]] یاد دلائی زبیر نے اس حدیث کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر مجھے یہ بات یاد ہوتی تو میں اس راستے پر نہ آتا خدا کی قسم میں کبھی آپ سے جنگ نہیں کروں گا. | |||
اس کے بعد زبیر نے عائشہ سے کہا کہ وہ جنگ سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں لیکن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نے دونوں لشکروں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور اب جب دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اٹھالی ہیں تو کیا آپ انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تم نے بنی ابی طالب کے پرچم دیکھے ہیں جو بہادر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہیں اور تم خوف زدہ ہوگئے ہو<ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۱. </ref><ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۵. </ref><ref>دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷ ۱۴۸. </ref><ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱ ۵۰۲. </ref><ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۸۵۰۹. </ref><ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۹ ۴۷۱. </ref><ref>مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۷ـ۱۰۸.</ref> | |||
چنانچہ زبیر نے عبداللہ کے اصرار پر اپنی قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرکے ادا کیا اور جنگ کے لیے تیار ہوگئے | |||
== اتحاد کی دعوت == | |||
اتحاد کی دعوت | جنگ شروع ہونے سے پہلے امام علی نے اپنے ایک ساتھی کو قرآن مجید دیا تاکہ وہ باغیوں کو قرآن کے احکام کی پیروی کی دعوت دے انہیں تفرقے سے روکے اور اتحاد کی دعوت دے لیکن انہوں نے اسے قتل کردیا اور امام کے کئی دوسرے ساتھیوں کو بھی تیر مار کر قتل کردیا اس کے بعد امام نے فرمایا کہ اب جنگ جائز ہے اور جنگ کا وقت آگیا ہے<ref>بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰. </ref> <ref>یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲. </ref> <ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۹. </ref><ref>طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۱۱. </ref><ref>ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۷۳. </ref> | ||
جنگ کا آغاز | جنگ کا آغاز | ||
نسخہ بمطابق 11:18، 28 ستمبر 2026ء

جنگ جمل، مسلمانوں کے درمیان امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی جنگ تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ اور طلحہ اور زبیر کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔
بعض صحابہ جن میں طلحہ زبیر اور عائشہ شامل تھے ان کی جانب سے بیعت توڑنا اور امام علی علیہ السلام کی حکومت کی مخالفت کرنا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کو اس مخالفت کا سبب قرار دینا اس جنگ کے وجود میں آنے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔
جنگ کے اسباب
جنگ جمل کے وجود میں آنے کے مختلف اسباب تھے جن کا ذکر درج ذیل ہے
طلحہ اور زبیر کی بیعت شکنی
امام علی علیہ السلام نے پینتیس ہجری کے ماہ ذی الحجہ میں مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے اصرار اور اتفاق رائے کے بعد اپنی باطنی خواہش کے برخلاف خلافت کی ذمہ داری قبول کی زیادہ تر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی سوائے ان چند افراد کے جو عثمانی رجحان رکھتے تھے مخالفین میں سے کچھ لوگ شام اور مکہ کی طرف چلے گئے۔
طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام صحابہ کے دو معروف افراد تھے اور خود بھی حکومت سنبھالنے کے امیدواروں میں شامل تھے انہوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کی۔
کہا گیا ہے کہ طلحہ سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا اور چونکہ اس کا ہاتھ شل تھا اس لیے کسی شخص نے اسے بدشگونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا[1] طلحه و زبیر که نخست چشم به خلافت دوخته بودند [2] [3] [4] وقتی موفق نشدند و خلافت به امام علی (علیهالسلام) رسید، انتظار داشتند که با حضرت در خلافت شریک شوند یا دستکم به فرمانروایی ولایات برسند. آن دو از علی (علیهالسلام) خواستند که امارت و حکومت بصره و کوفه (یا عراق و یمن) را به آنان دهد، ولی امام آنان را شایسته این کار ندانست. [5][6][7]۔
طلحہ اور زبیر ابتدا میں خلافت کے امیدوار تھے جب وہ کامیاب نہ ہوسکے اور خلافت امام علی علیہ السلام کو مل گئی تو انہیں توقع تھی کہ وہ امام کے ساتھ خلافت میں شریک ہوں گے یا کم از کم انہیں کسی علاقے کی حکومت دی جائے گی۔
ان دونوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ بصرہ اور کوفہ یا عراق اور یمن کی حکومت انہیں دے دی جائے لیکن امام نے انہیں اس کام کے لیے اہل نہیں سمجھا۔
امام علی علیہ السلام کے خلیفہ بننے کے تقریباً چار ماہ بعد طلحہ اور زبیر نے محسوس کیا کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد لوگ ان سے دور ہوگئے ہیں اور مدینہ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چنانچہ انہوں نے امام سے عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے کی اجازت طلب کی۔
امام نے فرمایا شاید تم شام یا عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا صرف عمرہ کا ارادہ ہے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کوئی فساد یا فتنہ برپا نہیں کریں گے اور اپنی بیعت نہیں توڑیں گے
امام نے انہیں اجازت دے دی اور وہ تیزی سے مکہ روانہ ہوگئے اس کے باوجود امام نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے لیے نہیں جارہے بلکہ کسی فریب اور سازش کا ارادہ رکھتے ہیں [8][9][10][11][12]
طلحہ اور زبیر کا عائشہ کے ساتھ اتحاد
طلحہ اور زبیر نے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے عائشہ سے درخواست کی جو عثمان کے قتل سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ گئی ہوئی تھیں کہ وہ عثمان کا بدلہ لینے اور ان کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوجائیں کیونکہ عثمان کے قاتل اب امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور فوجی کمانڈر بن گئے تھ کچھ عرصے کے بعد عائشہ نے ان کی درخواست قبول کرلی [13][14][15][16]
طلحہ اور زبیر نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوی کرتے ہوئے امام کی اطاعت سے انکار کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگئے لیکن امام علی علیہ السلام کے قول کے مطابق[17] وہ خود عثمان کے قاتلوں میں شامل تھے [18] آنان ادعا میکردند که توبه کردهاند و برای جبران گناه خویش میخواهند انتقام خون عثمان را که به ستم کشته شده است بگیرند و کار خلافت مسلمانان را به شورایی مانند شورای عمر، واگذارند و بین آنان صلح ایجاد کنند. آن دو از عایشه نیز خواستند که این مطالب را به مردم اعلام کند. [19][20][21][22]
ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے گناہ کی تلافی کے لیے عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے تھے۔
وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی خلافت کا معاملہ عمر کی شوری کی طرح ایک شوری کے سپرد کردیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان صلح قائم کی جائے انہوں نے عائشہ سے بھی کہا کہ وہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں
طلحہ اور زبیر نے اپنی بیعت شکنی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انہوں نے خوف اور مجبوری کی حالت میں بیعت کی تھی اس لیے وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اطاعت کے پابند نہیں ہیں [23][24][25][26][27] امام فرمود که زبیر میپندارد با دستش بیعت کرده است، نه با دلش، پس به بیعت اقرار و به خروج از آن ادعا میکند و باید برای ادعای خود دلیلی درست بیاورد. [28]
امام نے فرمایا کہ زبیر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے بیعت کی ہے دل سے نہیں اس لیے وہ بیعت کا اقرار بھی کرتا ہے اور اس سے نکلنے کا دعوی بھی کرتا ہے لہذا اسے اپنے دعوے کے لیے صحیح دلیل پیش کرنی چاہیے۔
طلحہ بنی تیم سے تعلق رکھتا تھا اور ابوبکر کا ہم قبیلہ تھا وہ بھی زبیر کی طرح خلافت کی خواہش رکھتا تھا اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اہمیت نہیں دیتا تھا[29] همچون زبیر آرزوی خلافت داشت و هر یک دیگری را به حساب نمیآورد. [30]
عثمان کا خون کا بدلہ
عثمان کے قتل کے وقت عائشہ مکہ میں تھیں انہیں گمان تھا یا انہیں یہ خبر پہنچی تھی کہ عثمان کے قتل کے بعد طلحہ خلیفہ بن گیا ہے چنانچہ وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں لیکن راستے میں جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کرلی ہے تو وہ مکہ واپس آگئیں ۔
انہوں نے اس بات پر اظہار ندامت کیا کہ انہوں نے پہلے لوگوں کو عثمان کے خلاف ابھارا تھا اور اعلان کیا کہ عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے امیرالمؤمنین کی مخالفت کرنے اور مدینہ کے شورش پسندوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی دعوت دی۔
جب ان سے اعتراض کیا گیا کہ آپ ہی لوگوں کو عثمان کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ عثمان نے توبہ کرلی تھی اور اس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا [31][32][33][34][35]
ناکثین کا اتحاد
زبیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کی پھوپھی کے بیٹے اور عائشہ کے بہنوئی تھے ان کے بیٹے عبداللہ نے عائشہ کو طلحہ اور زبیر کے ساتھ شامل کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا [36][37] عایشه خود از علی (علیهالسلام) کینه داشت [38] [39][40][41][42][43]۔
عائشہ کو امام علی علیہ السلام سے عداوت تھی اور یہی امر طلحہ اور زبیر کے ساتھ ان کے شامل ہونے میں مؤثر تھا
طلحہ اور زبیر اور دیگر علیحدگی پسند جانتے تھے کہ عائشہ کے بغیر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ام المؤمنین اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں اور لوگوں کے درمیان انہیں خاص مقام حاصل تھا چنانچہ انہوں نے عائشہ کی رضامندی حاصل کرکے اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اہم قدم اٹھایا[44][45]
عبداللہ بن عامر حضرمی جو مکہ میں عثمان کا عامل تھا سب سے پہلے عائشہ کی دعوت پر لبیک کہنے والا شخص تھا اس کے بعد وہ اموی افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے جو عثمان کے قتل کے بعد مکہ فرار ہوگئے تھے ان میں سعید بن عاص مروان بن حکم عبدالرحمان بن عتاب مغیرہ بن شعبہ اور ولید بن عقبہ شامل تھے۔
مغیرہ لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دیتا تھا عبداللہ بن عامر بن کریز اور یعلی بن امیہ بھی بہت سے مال اور اونٹوں کے ساتھ یمن سے ان کے پاس پہنچے بعض روایات کے مطابق وہ چھ سو اونٹ اور چھ لاکھ درہم یا دینار لے کر آئے تھے۔
یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔
جنگ جمل سے پہلے کے واقعات
جنگ جمل سے پہلے کئی ایسے واقعات پیش آئے جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے
مخالفین کی بصرہ کی طرف روانگی
مخالفین نے عبداللہ بن عامر کی تجویز پر اتفاق کیا کہ بصرہ کی طرف روانہ ہوں گے جبکہ عائشہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کی طرف جایا جائے کیونکہ وہ اہل مدینہ کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اس کے علاوہ بصرہ کے لوگ طلحہ اور زبیر کے حامی تھے اور عبداللہ بن عامر کے بھی وہاں ساتھی موجود تھے طلحہ اور زبیر کو امید تھی کہ عائشہ اہل مکہ کی طرح اہل بصرہ کو بھی امام علی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیں گی۔
انہوں نے ایک مسلح لشکر تیار کیا اور منادی نے اعلان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ اور طلحہ و زبیر بصرہ کی طرف جا رہے ہیں لہذا جو شخص اسلام کی عزت اور گناہ گاروں سے جنگ اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا خواہش مند ہو وہ ان کے ساتھ روانہ ہو جائے آخرکار تین ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر روانگی کے لیے تیار ہوا جن میں نو سو افراد مدینہ اور مکہ کے رہنے والے تھے [46][47][48][49][50][51]
معاویہ بھی جو شام کی حکومت اپنے اختیار میں رکھتا تھا اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوے دار تھا اس نے زبیر کو خط لکھا اور جھوٹے طور پر ان سے کہا کہ وہ شام کی طرف چلے آئیں تاکہ وہ اور وہاں کے لوگ ان سے بیعت کریں [52]
رسول خدا کی ازواج کا موقف
بزرگان صحابہ کے نزدیک عائشہ کا خروج سورہ احزاب کی آیت تینتیس کی صریح مخالفت تھی جس میں واضح طور پر رسول خدا کی ازواج کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے [53][54][55][56][57]
رسول اکرم کی ازواج میں حفصہ عائشہ کی رائے کی پیروی کرتے ہوئے ان کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن ان کے بھائی عبداللہ بن عمر نے انہیں روک دیا [58][59] ام سلمہ نے لوگوں کو تقوائے الہی اور علی کی پیروی کی دعوت دی اور انہوں نے عائشہ کو بھی پیمان شکنوں کے ساتھ جانے سے روکنے کی کوشش کی انہوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ تم عثمان کے خلاف سب سے زیادہ سخت موقف رکھنے والوں میں تھیں اور انہیں علی کی ولایت اور خلافت کے بارے میں رسول خدا کے ارشادات بھی یاد دلائے [60]لیکن عائشہ نے یہ کہہ کر ان کی نصیحت قبول نہیں کی کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے نکلی ہیں اور عثمان کے بارے میں اپنے رویے کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی ہیں [61][62][63]
اس کے بعد ام سلمہ نے علی کو خط لکھ کر مخالفین کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور اپنے بیٹے عمر کو بھی امام کی مدد کے لیے بھیجا بعض روایات میں لکھا ہے کہ رسول خدا کے چچا عباس کی اہلیہ ام فضل نے بھی امام کو خط لکھا [64]تھا ابن اعثم کوفی نے ام سلمہ اور ام فضل دونوں کے خطوط کا ذکر کیا ہے جبکہ ابن قتیبہ دینوری نے ایک خط کی نسبت قثم بن عباس کی طرف دی ہے[65])
مخالفین کے ساتھ امام علی کا موقف
امام علی معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف جنگ کے لیے شام کی طرف لشکر کشی کی تیاری کر رہے تھے کہ مکہ کے لوگوں کی مخالفت کی خبر مدینہ پہنچی حضرت نے اس موقع پر فرمایا کہ اگر وہ صرف اسی حد تک مخالفت اور اعتراض پر اکتفا کریں گے تو آپ ان کے ساتھ کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے [66]
لیکن جب یہ خبر پہنچی کہ مخالفین بصرہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو مسلمانوں کا نظام منتشر ہو جائے گا آپ نے مزید فرمایا کہ ان کا ہمارے درمیان رہنا اگرچہ وہ مخالفت اور ناسازگاری ہی کیوں نہ کرتے ہوں ہمارے لیے باعث رنج و تکلیف نہ تھا۔
جنگ کا نام جمل رکھنے کی وجہ
عائشہ عسکر نامی ایک اونٹ پر سوار ہوئیں جسے یعلی بن امیہ نے اسی دینار اور ایک روایت کے مطابق دو سو دینار میں خرید کر ان کے حوالے کیا تھا اسی وجہ سے اس جنگ کو جمل یعنی نر اونٹ کے نام سے موسوم کیا گیا [67][68][69]
بعض سرکردہ افراد کی جنگ سے مخالفت
مغیرہ بن شعبہ ثقفی اور سعید بن عاص جو مکہ سے ایک منزل دور نکل چکے تھے انہوں نے راستے کو جاری رکھنے کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا مغیرہ نے موقع پرستی کی بنیاد پر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور ثقفیوں سے کہا کہ وہ واپس چلے جائیں سعید نے بھی اموی مروان بن حکم سے جو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے اہم دعوے داروں میں سے تھا اور عثمان کا داماد بھی تھا کہا کہ جن لوگوں کی گردنوں پر خون ہے وہ اونٹوں پر سوار ہیں انہیں قتل کرو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور اپنے آپ کو قتل ہونے کے لیے پیش نہ کرو پھر وہ خود مکہ واپس چلا گیا [70]
دوسری طرف عبداللہ بن عمر نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ مدینہ کے لوگوں میں سے ایک شخص ہیں اور انہی کے فیصلے کے تابع ہیں مکہ ہی میں قیام کیا زبیر کے بیٹوں میں سے صرف عبداللہ ان کے ساتھ روانہ ہوا جبکہ طلحہ نے بھی اپنے بیٹے محمد کو ساتھ رکھا[71][72]
عائشہ کا جنگ سے پشیمان ہونا
مکہ اور بصرہ کے درمیان راستے میں حوأب نامی ایک مقام کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کیا جب عائشہ نے ان کتوں کی آواز سنی اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ حوأب کا مقام ہے تو انہیں رسول خدا کی ایک بات یاد آگئی اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا رسول خدا نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں
اس موقع پر عبداللہ بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق طلحہ اور زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مقام حوأب ہے اور بنی عامر کے پچاس افراد کو عائشہ کے پاس لائے ان لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کی بات کی تصدیق میں گواہی دی اور قسمیں کھائیں[73][74][75][76][77]
عائشہ کا بصرہ میں داخل ہونا
شورش پسند بصرہ کے باہر پہنچ گئے عائشہ کی خواہش پر عبداللہ بن عامر ان کی طرف سے ایک خط لے کر بصرہ کے سرداروں کے پاس خفیہ طور پر شہر میں داخل ہوا جبکہ عائشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حفیر یا حفر ابی موسی تک پہنچیں [78][79]
جب بصرہ کے لوگوں کو اس خبر کا علم ہوا تو علی کی طرف سے مقرر کردہ بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف نے عمران بن حصین اور ابوالاسود دؤلی کو عائشہ کے پاس بھیجا تاکہ ان کے آنے اور مخالفت کی وجہ دریافت کریں۔
عائشہ نے کہا کہ اوباش لوگوں نے رسول خدا کے حرم پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیشوا کو ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور محترم اموال کو لوٹ لیا نیز حرام شہر اور حرام مہینے کی حرمت کو پامال کیا میں اس لیے آئی ہوں کہ مسلمانوں کو ان کے کام سے آگاہ کروں اور انہیں بتاؤں کہ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے کیا اقدام کرنا چاہیے
ان دونوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ خدا کے حکم کے مطابق انہیں رسول خدا کی دوسری ازواج کی طرح اپنے گھر میں رہنا چاہیے طلحہ اور زبیر نے بھی کہا کہ وہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آئے ہیں اور ان کی بیعت مجبوری کی حالت میں ہوئی تھی[80][81]
بصرہ میں شورش پسندوں کے اقدامات
امام علی کے حکم سے عثمان بن حنیف کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ شورش پسندوں کو راہ حق کی دعوت دیں اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو امام کے پہنچنے تک ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں [82]
عثمان بن حنیف نے لوگوں سے کہا کہ وہ مسلح ہو کر تیار ہو جائیں عائشہ شورش پسندوں کے ساتھ بصرہ کے ایک بڑے اور مشہور محلے مربد میں [83]داخل ہوئیں اور بصرہ کے کچھ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے طلحہ اور زبیر نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ابھارا اس کے بعد عائشہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ہودج میں بیٹھیں اور بلند آواز سے عثمان کے ناحق قتل ہونے کے بارے میں گفتگو کی اور علی کی مخالفت کرتے ہوئے خلافت کا معاملہ شوری کے سپرد کرنے کی بات کی۔
عثمان بن حنیف کے ساتھیوں میں اختلاف پیدا ہوگیا اور ایک گروہ عائشہ کے ساتھ شامل ہوگیا امام علی کے ساتھی جاریہ بن قدامہ نے عائشہ کو نصیحت کی اور ان سے کہا کہ عثمان کا قتل اس کام سے ہلکا ہے جو تم نے کیا ہے کہ اپنے گھر سے نکل کر اس اونٹ پر سوار ہوگئی ہو اور خود کو ہتھیاروں کا نشانہ بنا کر اپنی پردہ داری اور حرمت کو پامال کر رہی ہو۔
باغیوں اور اہل بصرہ کے درمیان جنگ
حکیم بن جبله عثمان بن حنیف کے سواروں کے سردار تھے انہوں نے اپنے سواروں کے ساتھ عائشہ کے ساتھیوں سے جنگ کی اور اہل بصرہ جو دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کے حامی تھے گھروں کی چھتوں سے ایک دوسرے کے گروہ پر پتھر پھینکنے لگے۔
اگلے روز بھی طلوع آفتاب سے دوپہر تک عثمان بن حنیف کے ساتھیوں اور عائشہ کے ساتھیوں کے درمیان زابوقہ میں دارالرزق کے مقام پر شدید جنگ ہوئی دارالرزق کو مدینۃ الرزق یا قریۃ الارزاق بھی کہا جاتا ہے اور یہ بصرہ کے قریب ایک مقام تھا اس جنگ میں عثمان بن حنیف کے بہت سے ساتھی مارے گئے [84] لیکن آخرکار دونوں گروہوں کے درمیان صلح ہوگئی[85][86][87][88]
باغیوں اور عثمان بن حنیف کے درمیان صلح
عائشہ کے ساتھیوں اور عثمان بن حنیف کے ساتھیوں کے درمیان صلح کے بعد ایک معاہدہ تحریر کیا گیا جس کے مطابق امام علی کے آنے تک جنگ بند رکھی جائے گی بازاروں اور راستوں میں ایک دوسرے سے تعرض نہیں کیا جائے گا دارالامارہ بیت المال اور مسجد عثمان بن حنیف کے اختیار میں رہیں گے اور طلحہ زبیر اور ان کے ساتھی جہاں چاہیں قیام کر سکیں گے اس کے بعد لوگ منتشر ہوگئے اور اپنے ہتھیار زمین پر رکھ دیے[89][90][91][92][93] طبری، [94]
طبری نے سیف بن عمر کی ایک روایت میں معاہدے کی ایک دوسری صورت بیان کی ہے جس میں باغیوں کی تائید کی گئی ہے اس روایت کے مطابق دونوں گروہوں نے اتفاق کیا کہ کعب بن سور کو نمائندہ بنا کر مدینہ بھیجا جائے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ طلحہ اور زبیر نے علی کی بیعت مجبوری کے تحت کی تھی یا نہیں لیکن یہ بات بے بنیاد معلوم ہوتی ہے کیونکہ کعب بن سور خود اصحاب جمل کے سرکردہ افراد میں سے تھا اور عثمان بن حنیف فطری طور پر ایسے معاہدے اور ایسے نمائندے سے اتفاق نہیں کر سکتے تھے۔
صلح نامہ توڑنا
صلح کے دو دن بعد طلحہ اور زبیر نے اس خوف سے کہ کہیں علی نہ پہنچ جائیں اور ان پر غلبہ حاصل نہ کر لیں صلح کا معاہدہ توڑ دیا اور اس کے بعد عثمان بن حنیف کو اس وقت گرفتار کرلیا جب وہ مسجد میں عشا کی نماز پڑھ رہے تھے۔
ابتدا میں عائشہ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا لیکن بعد میں اپنے فیصلے سے رجوع کیا [95][96]اور انہیں قید کرنے کا حکم دیا عثمان بن حنیف کو چالیس کوڑے مارے گئے اور طلحہ یا مجاشع بن مسعود کے حکم پر ان کے سر چہرے بھنویں اور پلکوں کے بال نوچ لیے گئے اور انہیں قید کردیا گیا۔
اس کے بعد عبداللہ بن زبیر اور ایک گروہ دارالامارہ کی طرف گئے اور عثمان بن حنیف کے مقرر کردہ چالیس یا ایک روایت کے مطابق ستر محافظوں کو قتل کرکے محل میں داخل ہوگئے طلحہ اور زبیر نے بیت المال پر قبضہ کرلیا اس وقت بیشتر لوگ باغیوں کے ساتھ تھے اور جو ان کے ساتھ نہیں تھے وہ گمنام اور پوشیدہ تھے۔
لوگوں نے طلحہ اور زبیر کو خلیفہ کی حیثیت سے نہیں بلکہ امیر کی حیثیت سے بیعت کی جب طلحہ اور زبیر کے درمیان نماز پڑھانے کے معاملے میں اختلاف پیدا ہوا تو یہ طے کیا گیا کہ ہر روز ان دونوں میں سے ایک یا ان کے بیٹوں محمد اور عبداللہ میں سے ایک باری باری نماز کی امامت کرے گا[97] [98] [99][100][101][102]
حکیم کی طرف سے عثمان کی آزادی کے لیے اقدام
حکیم بن جبله تین سو افراد کے ساتھ زابوقہ کی طرف گئے انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو باغیوں نے قتل کیا ہے ان کا عثمان کے قتل میں کوئی کردار نہیں تھا حکیم نے طلحہ اور زبیر سے مطالبہ کیا کہ عثمان بن حنیف کو آزاد کیا جائے اور دارالامارہ اور بیت المال ان کے حوالے کیا جائے اور امام علی کے آنے تک اپنی سابقہ جگہوں پر واپس چلے جائیں لیکن انہوں نے یہ مطالبہ قبول نہیں کیا [103][104][105]
حکیم اپنے سواروں اور اپنے قبیلے عبدالقیس اور ربیعہ کے بعض افراد کے ساتھ عثمان بن حنیف کی مدد کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے شدید جنگ کے بعد حکیم اور عبدالقیس اور ربیعہ کے قبائل کے ستر افراد بھی قتل ہوگئے۔
فرض کی ادائیگی کا دعوی
طلحہ اور زبیر نے اعلان کیا کہ بصرہ کے قبائل میں ان تمام لوگوں سے انتقام لیا جانا چاہیے جنہوں نے خلیفہ عثمان کے خلاف اقدام کیا تھا اس کے بعد انہوں نے اہل شام اہل کوفہ اور اہل مدینہ کے نام خطوط لکھے اور اعلان کیا کہ انہوں نے عثمان کے قاتلوں کو ختم کرکے اپنا فرض ادا کردیا ہے اور انہیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے[106][107][108]
عائشہ نے بھی اہل کوفہ کے نام ایک خط میں باغیوں کے اقدامات کا جواز پیش کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہم نے بعض لوگوں کو انتقام کے طور پر قتل کیا ہے تو ہم معذور تھے ہم چھبیس دن تک وہاں رہے اور اہل بصرہ کو خدا کی حدود نافذ کرنے اور خونریزی کو روکنے کی دعوت دیتے رہے لیکن انہوں نے خیانت کی اور خدا نے عثمان کے قاتلوں کو ایک جگہ جمع کردیا اور انہیں قصاص کا نشانہ بنایا لہذا عثمان کے قاتلوں سے درگزر نہ کرو[109] عایشه همچنین در نامههایی به مردم مدینه و یمامه، آنان را به حمایت از شورشیان دعوت کرد. [110]
عائشہ نے اہل مدینہ اور یمامہ کے نام بھی خطوط لکھے اور انہیں باغیوں کی حمایت کی دعوت دی
باغی عثمان بن حنیف کو بھی قتل کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے بھائی سہل بن حنیف اور ان کے قبیلے کے انتقام کے خوف سے عائشہ کی درخواست پر انہیں چھوڑ دیا گیا اس کے بعد عثمان بن حنیف امام علی کے پاس چلے گئے [111][112][113]
ان واقعات کی تاریخ چھتیس ہجری کے چوبیس اور پچیس ربیع الآخر بیان کی گئی ہے جبکہ بعض روایات میں جمادی الاول کا ذکر بھی ملتا ہے۔
جنگ سے پہلے امام علی کے اقدامات
جب امام علی کو خبر ملی کہ عائشہ طلحہ اور زبیر بصرہ کی طرف روانہ ہوچکے ہیں تو انہوں نے اہل مدینہ کو اپنی مدد کے لیے بلایا اور لوگوں نے ان کی دعوت قبول کی[114][115]
اس کے بعد انہوں نے سہل بن حنیف انصاری کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا اور تیزی کے ساتھ اسی سات سو افراد کے لشکر کے ساتھ شہر سے روانہ ہوگئے جو پہلے شام کی طرف روانگی کے لیے تیار تھا اس لشکر میں چار سو مہاجرین اور انصار بھی شامل تھے یہ واقعہ ربیع الآخر سن چھتی ہجری کے آخر میں پیش آیا۔
امام علی کا مقصد یہ تھا کہ شاید باغیوں کو واپس لوٹایا جاسکے لیکن جب آپ ربذہ پہنچے جو مدینہ سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر تھا[116] تو معلوم ہوا کہ باغی وہاں سے آگے جاچکے ہیں امام علی چند روز ربذہ میں قیام پذیر رہے وہاں طے کے قبیلے سمیت کچھ افراد آپ کے ساتھ شامل ہوگئے اور مدینہ سے آپ کے لیے سواریوں اور ہتھیاروں کا انتظام بھی کیا گیا[117][118][119] [120] [121][122]
ایک روایت میں امام کے ساتھ موجود انصار کی تعداد آٹھ سو بیان ہوئی ہے جبکہ ایک قول کے مطابق مدینہ کے چار ہزار افراد امام کے ساتھ تھے اس کے بعد امام نے اہل کوفہ کے نام خط لکھ کر ان سے مدد طلب کی[123]
کوفیوں سے جہاد کی درخواست
امام علی نے ہاشم بن عتبہ المعروف مرقال کو ایک خط کے ساتھ کوفہ کے عامل ابوموسی اشعری کے پاس بھیجا اور پیغام دیا کہ وہ لوگوں کو امام کے ساتھ شامل ہونے کے لیے آمادہ کریں[124] [125] [126][127][128][129][130] لیکن ابوموسی نے لوگوں کو امام کی مدد سے روک دیا اور کہا کہ جو صورت حال پیدا ہوئی ہے وہ فتنہ ہے حتی کہ انہوں نے ہاشم کو قید کرنے کی دھمکی بھی دی۔
اس کے بعد امام نے عبداللہ بن عباس اور محمد بن ابی بکر کو کوفہ بھیجا ایک روایت کے مطابق پہلی مرتبہ محمد بن ابی بکر اور محمد بن عون اور دوسری مرتبہ عبداللہ بن عباس اور مالک اشتر کو بھیجا گیا تاکہ ابوموسی کو معزول کرکے ان کی جگہ قرظہ بن کعب انصاری کو کوفہ کا والی مقرر کیا جائے۔
اس کے بعد امام نے حسن بن علی اور عمار بن یاسر کو اہل کوفہ کے نام خط کے ساتھ کوفہ بھیجا تاکہ لوگوں کو امام کی مدد کے لیے آمادہ کریں[131] [132] [133][134][135][136][137]
پھر امام علی ربذہ سے ذی قار کی طرف روانہ ہوئے [138] در آنجا، عثمان بن حنیف نزد امام آمد، امام وقتی او را با آن وضع دید از او دلجویی کرد و فرمود: خدا به تو پاداش و نیکی دهد. [139][140][141]وہاں عثمان بن حنیف امام کے پاس پہنچے امام نے جب انہیں اس حالت میں دیکھا تو ان کی دلجوئی کی اور فرمایا خدا تمہیں جزائے خیر اور نیکی عطا فرمائے
کوفہ میں حسن بن علی اور امام کے دوسرے ساتھیوں نے اپنی تقاریر کے ذریعے اہل کوفہ کو امام کی مدد کے لیے ابھارا کوفہ سے تقریباً نو ہزار افراد پر مشتمل لشکر ان کے ساتھ روانہ ہوا اور ذی قار میں امام سے آملم ہوگیا
بصرہ میں رہنے والے امام کے تقریباً دو ہزار شیعہ عبدالقیس اور ربیعہ کے قبائل سے تعلق رکھتے تھے وہ بھی امام کے ساتھ شامل ہوگئے ایک قول کے مطابق ان کی تعداد تین ہزار تھی اس کے بعد علی نے حرکت کی اور تقریباً بارہ ہزار سپاہیوں کے ساتھ بصرہ پہنچ گئے۔
امام علی کے لشکر کی تعداد
امام علی کے لشکر میں مختلف قبائل کے سات گروہ شامل تھے اور ہر گروہ کی قیادت ایک سردار کر رہا تھا بعض قبائل جیسے قیس ازد حنظلہ عمران تمیم ضبہ اور رباب اصحاب جمل کے ساتھ شامل ہوگئے۔
کچھ لوگ دونوں فریقوں سے الگ رہے ان میں احنف بن قیس بھی تھے انہوں نے امام سے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کے ساتھ شامل ہوجاؤں اور اگر ایسا نہ چاہیں تو میں اپنے قبیلے بنی سعد کے ساتھ دونوں فریقوں سے الگ رہوں گا اور دس ہزار یا ایک روایت کے مطابق چار ہزار تلواروں کو آپ کے مقابل آنے سے روک دوں گا امام نے ان کے الگ رہنے کو ترجیح دی[142][143][144][145][146][147][148][149][150]
بعض دوسری روایات میں بیان ہوا ہے کہ امام علی کے لشکر کی تعداد انیس یا بیس ہزار تھی جبکہ باغیوں کے لشکر کی تعداد تیس ہزار یا اس سے زیادہ تھی[151][152][153][154]
شک کا امام علی کا جواب
امام علی کے ایک ساتھی نے سوال کیا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ طلحہ زبیر اور عائشہ سب کے سب باطل پر ہوں امام نے جواب دیا کہ حق اور باطل کو لوگوں کے مرتبے اور مقام سے نہیں پہچانا جاسکتا بلکہ پہلے حق کو پہچانو پھر اہل حق کو پہچان لوگے اور باطل کو پہچانو پھر اہل باطل کو پہچان لوگے[155]
بصرہ میں دونوں گروہوں کا قیام
جب امام علی بصرہ میں داخل ہوئے تو طف کے راستے سے داخل ہوئے اور زاویہ کے نام سے معروف مقام پر چند روز قیام کیا پھر اپنا سفر جاری رکھا
طلحہ زبیر اور عائشہ بھی فرضہ یعنی بندرگاہ کی جانب سے روانہ ہوئے امام کے بصرہ پہنچنے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے کے سامنے آگئے[156][157][158]
عائشہ بھی اپنی قیام گاہ سے مسجد حدان منتقل ہوگئیں جو قبیلہ ازد کے محلے میں واقع تھی اور جس کے آس پاس جنگ کا میدان تھا[159]
ایک شبہے کا ازالہ
سیف بن عمر کی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام علی کے بھیجے ہوئے نمائندے کی عائشہ طلحہ اور زبیر کے ساتھ گفتگو کے نتیجے میں صلح کا امکان پیدا ہوگیا تھا اور دونوں لشکر بھی باہمی سمجھوتے کے لیے پرامید ہوگئے تھے لیکن عثمان کے قتل کے محرکین جو امام علی کے لشکر میں موجود تھے اور اپنے انجام کو قریب دیکھ رہے تھے جنگ شروع کرنے کے لیے رات کو باہم متفق ہوگئے اور اگلی صبح امام کے لشکر میں موجود کوفیوں نے مخالف گروہ پر حملہ کردیا اور اس طرح جنگ شروع ہوگئی[160][161]
سیف بن عمر کی شخصیت اور ان روایات میں موجود متعدد تضادات کے علاوہ ان روایات کا مقصد ان جنگ پسند افراد اور گروہوں کے اثر کو ظاہر کرنا معلوم ہوتا ہے جن پر عثمان کے قتل کا الزام لگایا گیا تھا اور جن میں ایک فرضی سبائی گروہ بھی شامل کیا گیا ہے اور ان کے مقابلے میں باغیوں اور بیعت توڑنے والوں کو صلح پسند ظاہر کیا گیا ہے۔
حالانکہ دوسری روایات کے مطابق علی جنگ کے خواہش مند نہیں تھے اور بصرہ میں داخل ہونے کے بعد تین دن تک مختلف پیغامات بھیج کر باغیوں کو جنگ سے باز رکھنے اور اپنے ساتھ شامل ہونے کی دعوت دیتے رہے جنگ کے دن بھی آپ صبح سے دوپہر تک اصحاب جمل کو واپس آنے کی دعوت دیتے رہے[162][163][164][165] روز جنگ نیز، از صبح تا ظهر، اصحاب جمل را دعوت میکرد تا بازگردند. [166]
امام علی کی صلح کی کوشش
امام علی نے طلحہ اور زبیر کے نام ایک خط میں اپنی خلافت کی مشروعیت عوام کی آزادانہ بیعت عثمان کے قتل میں اپنی بے گناہی عثمان کے خون کا بدلہ لینے میں طلحہ اور زبیر کے حق دار نہ ہونے اور قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رسول خدا کی زوجہ کو ان کے گھر اور قیام گاہ سے باہر لانے کے طلحہ اور زبیر کے غلط اقدام کا ذکر کیا۔
امام نے عائشہ کے نام بھی ایک خط لکھا اور انہیں متنبہ کیا کہ وہ قرآن کے حکم کے خلاف اپنے گھر سے باہر نکلی ہیں اور لوگوں کے درمیان اصلاح اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے بہانے لشکر لے کر نکلی ہیں اور اس طرح اپنے آپ کو ایک بڑے گناہ میں مبتلا کرلیا ہے
طلحہ اور زبیر نے امام کے خط کے جواب میں اپنی نافرمانی پر اصرار کیا جبکہ عائشہ نے کوئی جواب نہیں دیا[167][168]
اس کے بعد عبداللہ بن زبیر نے لوگوں کو امام علی کے خلاف بھڑکایا جس کے جواب میں حسن بن علی نے نہایت بلیغ اور روشنگر تقریر کی.
پھر امام علی نے پہلے صعصعہ بن صوحان اور اس کے بعد عبداللہ بن عباس کو طلحہ زبیر اور عائشہ سے گفتگو کے لیے بھیجا لیکن یہ گفتگو بے نتیجہ رہی اور ان میں عائشہ کا موقف زیادہ سخت تھا[169][170]
خط و کتابت اور گفتگو کے بے نتیجہ رہنے اور باغیوں کے بیعت توڑنے مخالفت اور جنگ پر اصرار کے بعد امام نے خطبہ دیا اور حجت تمام کردی پھر اپنے لشکر کو منظم کیا اور فوجی کمانڈروں کو مقرر کیا اصحاب جمل نے بھی اپنے لشکر کو منظم کیا[171][172][173] [174] [175][176] [177] [178]
عائشہ بھی اس اونٹ پر سوار ہوئیں جسے زرہ سے ڈھانپ دیا گیا تھا اور وہ لشکر کی صفوں کے آگے جا کر بیٹھ گئیں[179][180][181]
جنگ کے قوانین کا بیان
امام علی نے اپنے ساتھیوں کو جنگ شروع کرنے سے منع کیا اور فرمایا کہ کسی زخمی کو قتل نہ کریں کسی کی لاش کی بے حرمتی نہ کریں کسی کے گھر میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں کسی کو گالی نہ دیں کسی عورت کو ہدف تنقید نہ بنائیں اور اصحاب جمل کے لشکر کے کیمپ میں موجود سامان کے علاوہ کسی چیز کو نہ اٹھائیں[182]
فتنے کے سرکردہ افراد کو نصیحت
امام علی نے طلحہ اور زبیر سے بالمشافہ گفتگو کی اور زبیر کو جنہیں آپ زیادہ نصیحت قبول کرنے والا سمجھتے تھے رسول خدا کی ایک حدیث یاد دلائی زبیر نے اس حدیث کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر مجھے یہ بات یاد ہوتی تو میں اس راستے پر نہ آتا خدا کی قسم میں کبھی آپ سے جنگ نہیں کروں گا.
اس کے بعد زبیر نے عائشہ سے کہا کہ وہ جنگ سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں لیکن عبداللہ بن زبیر نے اپنے والد سے کہا کہ آپ نے دونوں لشکروں کو ایک دوسرے کے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور اب جب دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف تلواریں اٹھالی ہیں تو کیا آپ انہیں چھوڑ دینا چاہتے ہیں تم نے بنی ابی طالب کے پرچم دیکھے ہیں جو بہادر نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہیں اور تم خوف زدہ ہوگئے ہو[183][184][185][186][187][188][189]
چنانچہ زبیر نے عبداللہ کے اصرار پر اپنی قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرکے ادا کیا اور جنگ کے لیے تیار ہوگئے
اتحاد کی دعوت
جنگ شروع ہونے سے پہلے امام علی نے اپنے ایک ساتھی کو قرآن مجید دیا تاکہ وہ باغیوں کو قرآن کے احکام کی پیروی کی دعوت دے انہیں تفرقے سے روکے اور اتحاد کی دعوت دے لیکن انہوں نے اسے قتل کردیا اور امام کے کئی دوسرے ساتھیوں کو بھی تیر مار کر قتل کردیا اس کے بعد امام نے فرمایا کہ اب جنگ جائز ہے اور جنگ کا وقت آگیا ہے[190] [191] [192][193][194]
جنگ کا آغاز
جنگ جمعرات کے روز چھتیس ہجری کے وسط جمادی الآخرہ میں یا چھتیس ہجری کی دس جمادی الآخرہ کو یا چھتیس ہجری کی دس جمادی الاول کو بصرہ کے ایک علاقے خریبہ میں شروع ہوئی
جنگ کا حکم
امام علی نے اپنے لشکر کے علمبردار محمد بن حنفیہ اور لشکر کے دائیں بازو کے کمانڈر مالک اشتر کو حملے کا حکم دیا جنگ دوپہر سے شام تک شدت کے ساتھ جاری رہی
قبیلہ ضبہ اور ازد نے عائشہ کے گرد حلقہ بنا رکھا تھا
جنگ کے دوران عائشہ کا دفاع
کعب بن سور جو عائشہ کے اونٹ کی لگام تھامے ہوئے تھا قتل ہوگیا اس کے بعد اصحاب جمل میں سے ایک کے بعد دوسرے شخص نے اونٹ کی لگام اپنے ہاتھ میں لی اور عائشہ کا سختی سے دفاع کرتے ہوئے قتل ہوتے رہے کہا گیا ہے کہ ستر افراد نے اونٹ کی لگام اپنے ہاتھ میں لی ان کے ہاتھ کاٹ دیے گئے اور وہ بھی ہلاک ہوگئے
عائشہ کے اونٹ کو گرا دینا
طبری نے باغیوں کی جانب سے اونٹ کی تقدیس اور عائشہ کی حمایت میں ان کے تعصب کے بارے میں ایک عجیب روایت نقل کی ہے
جب امام علی نے دیکھا کہ بصری لوگ اونٹ کے گرد جمع ہو کر مزاحمت کر رہے ہیں تو آپ نے اسے گرانے کا حکم دیا امام کے بعض منتخب ساتھیوں نے اونٹ پر حملہ کیا اور اسے ہلاک کردیا
جنگ کا اختتام
اصحاب جمل چند گھنٹوں کی جنگ اور بہت سے افراد کے قتل کے بعد رات کے وقت شکست کھا کر فرار ہوگئے
بلاذری یعقوبی مسعودی اور ابن قتیبہ دینوری نے لکھا ہے کہ امام کے لشکر نے سات دن کی جنگ کے بعد اصحاب جمل پر غلبہ حاصل کیا
ہلاک ہونے والوں کی تعداد
جنگ جمل میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں
ابو خیثمہ کی وہب بن جریر سے روایت کے مطابق جنگ جمل میں بصرہ کے لشکر سے دو ہزار پانچ سو افراد مارے گئے
دوسری روایات میں اصحاب جمل کے مقتولین کی تعداد چھ ہزار سے پچیس ہزار تک بیان ہوئی ہے جبکہ یعقوبی نے یہ تعداد تیس ہزار سے زیادہ لکھی ہے جو مبالغہ آمیز معلوم ہوتی ہے
امام علی کے لشکر کے شہید ہونے والوں کی تعداد چار سو سے پانچ ہزار تک بیان کی گئی ہے
جنگ کے بعد امام علی کے اقدامات
امام علی نے جنگ کے بعد کئی اقدامات کیے جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کیا جاتا ہے
زخمیوں اور قیدیوں کے ساتھ سلوک
اصحاب جمل کی شکست کے بعد امام علی نے حکم دیا کہ زخمیوں اور قیدیوں کو قتل نہ کیا جائے فرار ہونے والوں کا تعاقب کرکے انہیں قتل نہ کیا جائے اور جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کرکے بیٹھ جائے اور اپنا ہتھیار زمین پر رکھ دے اسے امان دی جائے
امام نے اصحاب جمل کے بعض قیدیوں کو بھی قتل نہیں کیا جن میں مروان بن حکم موسی بن طلحہ اور عثمان کے بیٹے اور ولید بن عقبہ شامل تھے بلکہ انہیں امان دی اور آزاد کردیا
حوالہ جات
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۷۴۳۵.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۵.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۱۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۳۸
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۴.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۳۳.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۸۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۰.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۲.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۱۷۴، ص۳۸۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۰.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۴.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۲۹۴۳۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۳۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۲.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه، خطبه ۸، ص۴۶.
- ↑ ابنکلبی، هشام بن محمد، جمهرة النسب، ج۱، ص۷۹۸۰، ج۱.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهجالبلاغه،خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۸۴۵۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۸ ۴۵۹.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۸ ۲۲۹.
- ↑ ابناثیر، علی بن محمد، اسدالغابة فی معرفة الصحابه، ج۳، ص۲۴۱.
- ↑ ابناثیر، علی بن محمد، اسدالغابة فی معرفة الصحابه، ج۲، ص۳۰۷.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۱۵۶، ص۳۳۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۴۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۵، ص۱۵۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۶.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۴۰۹ـ۴۱۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۴۲۵ـ۴۳۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۰۴۵۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۶ـ۲۲۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۹۴۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۲.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۲۲۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۸۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۶۴۵۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۰.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۳۴۸۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۴۴۵۵.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۲۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۵۴۵۷.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۵۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۴۵۴۴۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۶۴۵۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۹.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۷۴۵۸.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۲ـ۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۱ ۴۶۲.
- ↑ اسکافی، محمد بن عبداللّه، المعیار و الموازنة فی فضائل امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب (علیهالسلام)، ج۱، ص۶۰.
- ↑ حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، ج۵، ص۹۸، ذیل «مِرْبَد».
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۳۴۶۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۹.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۳.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۵.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۸.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۷۴۶۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۸۴۶۹.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۱۷۲، ج۱، ص۳۷۸.
- ↑ امام علی (علیهالسلام)، نهج البلاغه، خطبه ۲۱۸، ج۱، ص۵۲۶.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۶.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۶۸۴۷۰.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۵.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۰۴۷۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۴۴۷۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۲۴۷۴.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۶۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۲۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۳۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۴۴۷۵.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۵.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۷.
- ↑ حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، ج۳، ص۲۴، ذیل «الرَّبَذَة».
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷-۴۷۹.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۳ـ ۱۰۵.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۱۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴۱۴۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷ ۴۷۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱۴۸۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۹۵۰۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۳۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۴.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۴۱۴۵.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۷۷ ۴۷۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱۴۸۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۹۵۰۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۳۰.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۵۲۴۵۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۱.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۰.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۵۶.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۶ـ۱۶۹.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۸۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۹۶۴۹۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۰۵۰۵.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۵ـ ۱۴۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۵۸ـ۴۶۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۳.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۱۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۵۵۰۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۳.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۸۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۷۴.
- ↑ شیبانی عصفری، خلیفة بن خیاط، تاریخ خلیفة بن خیاط، ج۱، ص۱۸۴.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۰ ۵۰۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۴ـ۱۰۶.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۳.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۴۸۸۴۸۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۶۵۰۷.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۶.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۷۸.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۶.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۵۴۶۷.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ج۱، ص۱۶۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۱۶۹.
- ↑ ابنقتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج۱، ص۶۷.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۶ ۱۴۷.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۸.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۱.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۳.
- ↑ مفید، محمد بن محمد، الجمل و النصرة لسید العترة فی حرب البصرة، ص۱۷۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۳۹.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۷.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۱.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۵۵.
- ↑ دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، ج۱، ص۱۴۷ ۱۴۸.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۱ ۵۰۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۸۵۰۹.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۶۹ ۴۷۱.
- ↑ مسعودی، علی بن حسین، مروج الذهب، ج۳، ص۱۰۷ـ۱۰۸.
- ↑ بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۰.
- ↑ یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۸۲.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۰۹.
- ↑ طبری، محمد بن جریر، تاریخ طبری، ج۴، ص۵۱۱.
- ↑ ابناعثم کوفی، احمد بن اعثم، الفتوح، ج۲، ص۴۷۳.