مندرجات کا رخ کریں

"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 107: سطر 107:
مکہ اور بصرہ کے درمیان راستے میں حوأب نامی ایک مقام کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کیا جب عائشہ نے ان کتوں کی آواز سنی اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ حوأب کا مقام ہے تو انہیں رسول خدا کی ایک بات یاد آگئی اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا رسول خدا نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں
مکہ اور بصرہ کے درمیان راستے میں حوأب نامی ایک مقام کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کیا جب عائشہ نے ان کتوں کی آواز سنی اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ حوأب کا مقام ہے تو انہیں رسول خدا کی ایک بات یاد آگئی اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا رسول خدا نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں


اس موقع پر عبداللہ بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق طلحہ اور زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مقام حوأب ہے اور بنی عامر کے پچاس افراد کو عائشہ کے پاس لائے ان لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کی بات کی تصدیق میں گواہی دی اور قسمیں کھائیں
اس موقع پر عبداللہ بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق طلحہ اور زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مقام حوأب ہے اور بنی عامر کے پچاس افراد کو عائشہ کے پاس لائے ان لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کی بات کی تصدیق میں گواہی دی اور قسمیں کھائیں<ref>بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴. </ref><ref>طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۷. </ref><ref>طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۶۹. </ref><ref>ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۷۴۵۸. </ref><ref>مسعودی‌، علی بن حسین، مروج‌ الذهب، ج‌۳، ص‌۱۰۲ـ۱۰۳.</ref>
 
=== عائشہ کا بصرہ میں داخل ہونا ===
=== عائشہ کا بصرہ میں داخل ہونا ===



نسخہ بمطابق 23:18، 27 ستمبر 2026ء

جنگ جمل، مسلمانوں کے درمیان امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی جنگ تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ اور طلحہ اور زبیر کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔

بعض صحابہ جن میں طلحہ زبیر اور عائشہ شامل تھے ان کی جانب سے بیعت توڑنا اور امام علی علیہ السلام کی حکومت کی مخالفت کرنا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کو اس مخالفت کا سبب قرار دینا اس جنگ کے وجود میں آنے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔

جنگ کے اسباب

جنگ جمل کے وجود میں آنے کے مختلف اسباب تھے جن کا ذکر درج ذیل ہے

طلحہ اور زبیر کی بیعت شکنی

امام علی علیہ السلام نے پینتیس ہجری کے ماہ ذی الحجہ میں مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے اصرار اور اتفاق رائے کے بعد اپنی باطنی خواہش کے برخلاف خلافت کی ذمہ داری قبول کی زیادہ تر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی سوائے ان چند افراد کے جو عثمانی رجحان رکھتے تھے مخالفین میں سے کچھ لوگ شام اور مکہ کی طرف چلے گئے۔

طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام صحابہ کے دو معروف افراد تھے اور خود بھی حکومت سنبھالنے کے امیدواروں میں شامل تھے انہوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کی۔

کہا گیا ہے کہ طلحہ سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا اور چونکہ اس کا ہاتھ شل تھا اس لیے کسی شخص نے اسے بدشگونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا[1] طلحه‌ و زبیر که‌ نخست‌ چشم‌ به‌ خلافت‌ دوخته‌ بودند [2] [3] [4] وقتی‌ موفق‌ نشدند و خلافت‌ به‌ امام‌ علی‌ (علیه‌السلام‌) رسید، انتظار داشتند که‌ با حضرت‌ در خلافت‌ شریک‌ شوند یا دست‌کم‌ به‌ فرمانروایی‌ ولایات‌ برسند. آن‌ دو از علی‌ (علیه‌السلام‌) خواستند که‌ امارت‌ و حکومت‌ بصره‌ و کوفه‌ (یا عراق‌ و یمن‌) را به‌ آنان‌ دهد، ولی‌ امام‌ آنان‌ را شایسته‌ این‌ کار ندانست‌. [5][6][7]۔

طلحہ اور زبیر ابتدا میں خلافت کے امیدوار تھے جب وہ کامیاب نہ ہوسکے اور خلافت امام علی علیہ السلام کو مل گئی تو انہیں توقع تھی کہ وہ امام کے ساتھ خلافت میں شریک ہوں گے یا کم از کم انہیں کسی علاقے کی حکومت دی جائے گی۔

ان دونوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ بصرہ اور کوفہ یا عراق اور یمن کی حکومت انہیں دے دی جائے لیکن امام نے انہیں اس کام کے لیے اہل نہیں سمجھا۔

امام علی علیہ السلام کے خلیفہ بننے کے تقریباً چار ماہ بعد طلحہ اور زبیر نے محسوس کیا کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد لوگ ان سے دور ہوگئے ہیں اور مدینہ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چنانچہ انہوں نے امام سے عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے کی اجازت طلب کی۔

امام نے فرمایا شاید تم شام یا عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا صرف عمرہ کا ارادہ ہے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کوئی فساد یا فتنہ برپا نہیں کریں گے اور اپنی بیعت نہیں توڑیں گے

امام نے انہیں اجازت دے دی اور وہ تیزی سے مکہ روانہ ہوگئے اس کے باوجود امام نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے لیے نہیں جارہے بلکہ کسی فریب اور سازش کا ارادہ رکھتے ہیں [8][9][10][11][12]

طلحہ اور زبیر کا عائشہ کے ساتھ اتحاد

طلحہ اور زبیر نے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے عائشہ سے درخواست کی جو عثمان کے قتل سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ گئی ہوئی تھیں کہ وہ عثمان کا بدلہ لینے اور ان کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوجائیں کیونکہ عثمان کے قاتل اب امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور فوجی کمانڈر بن گئے تھ کچھ عرصے کے بعد عائشہ نے ان کی درخواست قبول کرلی [13][14][15][16]

طلحہ اور زبیر نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوی کرتے ہوئے امام کی اطاعت سے انکار کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگئے لیکن امام علی علیہ السلام کے قول کے مطابق[17] وہ خود عثمان کے قاتلوں میں شامل تھے [18] آنان‌ ادعا می‌کردند که‌ توبه‌ کرده‌اند و برای‌ جبران‌ گناه‌ خویش‌ می‌خواهند انتقام‌ خون‌ عثمان‌ را که‌ به‌ ستم‌ کشته‌ شده‌ است‌ بگیرند و کار خلافت‌ مسلمانان‌ را به‌ شورایی‌ مانند شورای‌ عمر، واگذارند و بین‌ آنان‌ صلح‌ ایجاد کنند. آن‌ دو از عایشه‌ نیز خواستند که‌ این‌ مطالب‌ را به‌ مردم‌ اعلام‌ کند. [19][20][21][22]

ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے گناہ کی تلافی کے لیے عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے تھے۔

وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی خلافت کا معاملہ عمر کی شوری کی طرح ایک شوری کے سپرد کردیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان صلح قائم کی جائے انہوں نے عائشہ سے بھی کہا کہ وہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں

طلحہ اور زبیر نے اپنی بیعت شکنی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انہوں نے خوف اور مجبوری کی حالت میں بیعت کی تھی اس لیے وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اطاعت کے پابند نہیں ہیں [23][24][25][26][27] امام‌ فرمود که‌ زبیر می‌پندارد با دستش‌ بیعت‌ کرده‌ است‌، نه‌ با دلش‌، پس‌ به‌ بیعت‌ اقرار و به‌ خروج‌ از آن‌ ادعا می‌کند و باید برای‌ ادعای‌ خود دلیلی‌ درست‌ بیاورد. [28]

امام نے فرمایا کہ زبیر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے بیعت کی ہے دل سے نہیں اس لیے وہ بیعت کا اقرار بھی کرتا ہے اور اس سے نکلنے کا دعوی بھی کرتا ہے لہذا اسے اپنے دعوے کے لیے صحیح دلیل پیش کرنی چاہیے۔

طلحہ بنی تیم سے تعلق رکھتا تھا اور ابوبکر کا ہم قبیلہ تھا وہ بھی زبیر کی طرح خلافت کی خواہش رکھتا تھا اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اہمیت نہیں دیتا تھا[29] همچون‌ زبیر آرزوی‌ خلافت‌ داشت‌ و هر یک‌ دیگری‌ را به‌ حساب‌ نمی‌آورد. [30]

عثمان کا خون کا بدلہ

عثمان کے قتل کے وقت عائشہ مکہ میں تھیں انہیں گمان تھا یا انہیں یہ خبر پہنچی تھی کہ عثمان کے قتل کے بعد طلحہ خلیفہ بن گیا ہے چنانچہ وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں لیکن راستے میں جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کرلی ہے تو وہ مکہ واپس آگئیں ۔

انہوں نے اس بات پر اظہار ندامت کیا کہ انہوں نے پہلے لوگوں کو عثمان کے خلاف ابھارا تھا اور اعلان کیا کہ عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے امیرالمؤمنین کی مخالفت کرنے اور مدینہ کے شورش پسندوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی دعوت دی۔

جب ان سے اعتراض کیا گیا کہ آپ ہی لوگوں کو عثمان کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ عثمان نے توبہ کرلی تھی اور اس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا [31][32][33][34][35]

ناکثین کا اتحاد

زبیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کی پھوپھی کے بیٹے اور عائشہ کے بہنوئی تھے ان کے بیٹے عبداللہ نے عائشہ کو طلحہ اور زبیر کے ساتھ شامل کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا [36][37] عایشه‌ خود از علی‌ (علیه‌السلام‌) کینه‌ داشت‌ [38] [39][40][41][42][43]۔

عائشہ کو امام علی علیہ السلام سے عداوت تھی اور یہی امر طلحہ اور زبیر کے ساتھ ان کے شامل ہونے میں مؤثر تھا

طلحہ اور زبیر اور دیگر علیحدگی پسند جانتے تھے کہ عائشہ کے بغیر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ام المؤمنین اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں اور لوگوں کے درمیان انہیں خاص مقام حاصل تھا چنانچہ انہوں نے عائشہ کی رضامندی حاصل کرکے اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اہم قدم اٹھایا[44][45]

عبداللہ بن عامر حضرمی جو مکہ میں عثمان کا عامل تھا سب سے پہلے عائشہ کی دعوت پر لبیک کہنے والا شخص تھا اس کے بعد وہ اموی افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے جو عثمان کے قتل کے بعد مکہ فرار ہوگئے تھے ان میں سعید بن عاص مروان بن حکم عبدالرحمان بن عتاب مغیرہ بن شعبہ اور ولید بن عقبہ شامل تھے۔

مغیرہ لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دیتا تھا عبداللہ بن عامر بن کریز اور یعلی بن امیہ بھی بہت سے مال اور اونٹوں کے ساتھ یمن سے ان کے پاس پہنچے بعض روایات کے مطابق وہ چھ سو اونٹ اور چھ لاکھ درہم یا دینار لے کر آئے تھے۔

یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔

جنگ جمل سے پہلے کے واقعات

جنگ جمل سے پہلے کئی ایسے واقعات پیش آئے جن کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے

مخالفین کی بصرہ کی طرف روانگی

مخالفین نے عبداللہ بن عامر کی تجویز پر اتفاق کیا کہ بصرہ کی طرف روانہ ہوں گے جبکہ عائشہ کی رائے یہ تھی کہ مدینہ کی طرف جایا جائے کیونکہ وہ اہل مدینہ کے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اس کے علاوہ بصرہ کے لوگ طلحہ اور زبیر کے حامی تھے اور عبداللہ بن عامر کے بھی وہاں ساتھی موجود تھے طلحہ اور زبیر کو امید تھی کہ عائشہ اہل مکہ کی طرح اہل بصرہ کو بھی امام علی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیں گی۔

انہوں نے ایک مسلح لشکر تیار کیا اور منادی نے اعلان کیا کہ ام المؤمنین عائشہ اور طلحہ و زبیر بصرہ کی طرف جا رہے ہیں لہذا جو شخص اسلام کی عزت اور گناہ گاروں سے جنگ اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا خواہش مند ہو وہ ان کے ساتھ روانہ ہو جائے آخرکار تین ہزار افراد پر مشتمل ایک لشکر روانگی کے لیے تیار ہوا جن میں نو سو افراد مدینہ اور مکہ کے رہنے والے تھے [46][47][48][49][50][51]

معاویہ بھی جو شام کی حکومت اپنے اختیار میں رکھتا تھا اور عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوے دار تھا اس نے زبیر کو خط لکھا اور جھوٹے طور پر ان سے کہا کہ وہ شام کی طرف چلے آئیں تاکہ وہ اور وہاں کے لوگ ان سے بیعت کریں [52]

رسول خدا کی ازواج کا موقف

بزرگان صحابہ کے نزدیک عائشہ کا خروج سورہ احزاب کی آیت تینتیس کی صریح مخالفت تھی جس میں واضح طور پر رسول خدا کی ازواج کو اپنے گھروں میں رہنے کا حکم دیا گیا ہے [53][54][55][56][57]

رسول اکرم کی ازواج میں حفصہ عائشہ کی رائے کی پیروی کرتے ہوئے ان کے ساتھ جانے کا ارادہ رکھتی تھیں لیکن ان کے بھائی عبداللہ بن عمر نے انہیں روک دیا [58][59] ام سلمہ نے لوگوں کو تقوائے الہی اور علی کی پیروی کی دعوت دی اور انہوں نے عائشہ کو بھی پیمان شکنوں کے ساتھ جانے سے روکنے کی کوشش کی انہوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ تم عثمان کے خلاف سب سے زیادہ سخت موقف رکھنے والوں میں تھیں اور انہیں علی کی ولایت اور خلافت کے بارے میں رسول خدا کے ارشادات بھی یاد دلائے [60]لیکن عائشہ نے یہ کہہ کر ان کی نصیحت قبول نہیں کی کہ وہ مسلمانوں کے درمیان اصلاح کی نیت سے نکلی ہیں اور عثمان کے بارے میں اپنے رویے کی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی ہیں [61][62][63]

اس کے بعد ام سلمہ نے علی کو خط لکھ کر مخالفین کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور اپنے بیٹے عمر کو بھی امام کی مدد کے لیے بھیجا بعض روایات میں لکھا ہے کہ رسول خدا کے چچا عباس کی اہلیہ ام فضل نے بھی امام کو خط لکھا [64]تھا ابن اعثم کوفی نے ام سلمہ اور ام فضل دونوں کے خطوط کا ذکر کیا ہے جبکہ ابن قتیبہ دینوری نے ایک خط کی نسبت قثم بن عباس کی طرف دی ہے[65])

مخالفین کے ساتھ امام علی کا موقف

امام علی معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف جنگ کے لیے شام کی طرف لشکر کشی کی تیاری کر رہے تھے کہ مکہ کے لوگوں کی مخالفت کی خبر مدینہ پہنچی حضرت نے اس موقع پر فرمایا کہ اگر وہ صرف اسی حد تک مخالفت اور اعتراض پر اکتفا کریں گے تو آپ ان کے ساتھ کوئی سخت کارروائی نہیں کریں گے [66]

لیکن جب یہ خبر پہنچی کہ مخالفین بصرہ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو آپ ان کے مقابلے کے لیے تیار ہوئے اور فرمایا کہ اگر وہ ایسا کریں گے تو مسلمانوں کا نظام منتشر ہو جائے گا آپ نے مزید فرمایا کہ ان کا ہمارے درمیان رہنا اگرچہ وہ مخالفت اور ناسازگاری ہی کیوں نہ کرتے ہوں ہمارے لیے باعث رنج و تکلیف نہ تھا۔

جنگ کا نام جمل رکھنے کی وجہ

عائشہ عسکر نامی ایک اونٹ پر سوار ہوئیں جسے یعلی بن امیہ نے اسی دینار اور ایک روایت کے مطابق دو سو دینار میں خرید کر ان کے حوالے کیا تھا اسی وجہ سے اس جنگ کو جمل یعنی نر اونٹ کے نام سے موسوم کیا گیا [67][68][69]

بعض سرکردہ افراد کی جنگ سے مخالفت

مغیرہ بن شعبہ ثقفی اور سعید بن عاص جو مکہ سے ایک منزل دور نکل چکے تھے انہوں نے راستے کو جاری رکھنے کے بارے میں آپس میں مشورہ کیا مغیرہ نے موقع پرستی کی بنیاد پر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور ثقفیوں سے کہا کہ وہ واپس چلے جائیں سعید نے بھی اموی مروان بن حکم سے جو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے اہم دعوے داروں میں سے تھا اور عثمان کا داماد بھی تھا کہا کہ جن لوگوں کی گردنوں پر خون ہے وہ اونٹوں پر سوار ہیں انہیں قتل کرو اور اپنے گھروں کو واپس چلے جاؤ اور اپنے آپ کو قتل ہونے کے لیے پیش نہ کرو پھر وہ خود مکہ واپس چلا گیا [70]

دوسری طرف عبداللہ بن عمر نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ مدینہ کے لوگوں میں سے ایک شخص ہیں اور انہی کے فیصلے کے تابع ہیں مکہ ہی میں قیام کیا زبیر کے بیٹوں میں سے صرف عبداللہ ان کے ساتھ روانہ ہوا جبکہ طلحہ نے بھی اپنے بیٹے محمد کو ساتھ رکھا[71][72]

عائشہ کا جنگ سے پشیمان ہونا

مکہ اور بصرہ کے درمیان راستے میں حوأب نامی ایک مقام کے قریب کتوں نے بھونکنا شروع کیا جب عائشہ نے ان کتوں کی آواز سنی اور انہیں معلوم ہوا کہ یہ حوأب کا مقام ہے تو انہیں رسول خدا کی ایک بات یاد آگئی اور انہوں نے واپس جانے کا ارادہ کیا رسول خدا نے اپنی ازواج سے فرمایا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم میں سے کسی ایک پر حوأب کے کتے بھونکیں

اس موقع پر عبداللہ بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق طلحہ اور زبیر نے اس بات سے انکار کیا کہ یہ مقام حوأب ہے اور بنی عامر کے پچاس افراد کو عائشہ کے پاس لائے ان لوگوں نے عبداللہ بن زبیر کی بات کی تصدیق میں گواہی دی اور قسمیں کھائیں[73][74][75][76][77]

عائشہ کا بصرہ میں داخل ہونا

شورش پسند بصرہ کے باہر پہنچ گئے عائشہ کی خواہش پر عبداللہ بن عامر ان کی طرف سے ایک خط لے کر بصرہ کے سرداروں کے پاس خفیہ طور پر شہر میں داخل ہوا جبکہ عائشہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ حفیر یا حفر ابی موسی تک پہنچیں

جب بصرہ کے لوگوں کو اس خبر کا علم ہوا تو علی کی طرف سے مقرر کردہ بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف نے عمران بن حصین اور ابوالاسود دؤلی کو عائشہ کے پاس بھیجا تاکہ ان کے آنے اور مخالفت کی وجہ دریافت کریں

عائشہ نے کہا کہ اوباش لوگوں نے رسول خدا کے حرم پر حملہ کیا اور مسلمانوں کے پیشوا کو ظلم کے ساتھ قتل کر دیا اور محترم اموال کو لوٹ لیا نیز حرام شہر اور حرام مہینے کی حرمت کو پامال کیا میں اس لیے آئی ہوں کہ مسلمانوں کو ان کے کام سے آگاہ کروں اور انہیں بتاؤں کہ اس صورت حال کی اصلاح کے لیے کیا اقدام کرنا چاہیے

ان دونوں نے عائشہ کو یاد دلایا کہ خدا کے حکم کے مطابق انہیں رسول خدا کی دوسری ازواج کی طرح اپنے گھر میں رہنا چاہیے طلحہ اور زبیر نے بھی کہا کہ وہ عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے آئے ہیں اور ان کی بیعت مجبوری کی حالت میں ہوئی تھی

بصرہ میں شورش پسندوں کے اقدامات

امام علی کے حکم سے عثمان بن حنیف کو ذمہ داری دی گئی کہ وہ شورش پسندوں کو راہ حق کی دعوت دیں اور اگر وہ اسے قبول نہ کریں تو امام کے پہنچنے تک ان کے مقابلے میں مزاحمت کریں

عثمان بن حنیف نے لوگوں سے کہا کہ وہ مسلح ہو کر تیار ہو جائیں عائشہ شورش پسندوں کے ساتھ بصرہ کے ایک بڑے اور مشہور محلے مربد میں داخل ہوئیں اور بصرہ کے کچھ لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے طلحہ اور زبیر نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ابھارا اس کے بعد عائشہ اپنے اونٹ پر سوار ہو کر ہودج میں بیٹھیں اور بلند آواز سے عثمان کے ناحق قتل ہونے کے بارے میں گفتگو کی اور علی کی مخالفت کرتے ہوئے خلافت کا معاملہ شوری کے سپرد کرنے کی بات کی

عثمان بن حنیف کے ساتھیوں میں اختلاف پیدا ہوگیا اور ایک گروہ عائشہ کے ساتھ شامل ہوگیا امام علی کے ساتھی جاریہ بن قدامہ نے عائشہ کو نصیحت کی اور ان سے کہا کہ عثمان کا قتل اس کام سے ہلکا ہے جو تم نے کیا ہے کہ اپنے گھر سے نکل کر اس اونٹ پر سوار ہوگئی ہو اور خود کو ہتھیاروں کا نشانہ بنا کر اپنی پردہ داری اور حرمت کو پامال کر رہی ہو

حوالہ جات

  1. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۷۴۳۵.
  2. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
  3. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۳.
  4. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۵.
  5. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۵۱۵۲.
  6. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹.
  7. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۳۸
  8. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  9. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹.
  10. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۴۴.
  11. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۲۳۳.
  12. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۸۹.
  13. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  14. ↑ دینوری‌، احمد بن‌ داوود، الاخبار الطوال‌، ج۱، ص‌۱۴۴.
  15. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۰.
  16. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۲.
  17. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۱۷۴، ص۳۸۲.
  18. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۰.
  19. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۶۴.
  20. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص۶۸.
  21. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۳.
  22. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  23. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  24. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹۴۳۱.
  25. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۳۵.
  26. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۴.
  27. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۶۲.
  28. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۸، ص۴۶.
  29. ↑ ابن‌کلبی‌، هشام بن محمد، جمهرة‌ النسب‌، ج‌۱، ص‌۷۹۸۰، ج‌۱.
  30. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌،خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
  31. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۵۱.
  32. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  33. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۸۴۵۰.
  34. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۸ ۴۵۹.
  35. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص‌۲۲۸ ۲۲۹.
  36. ↑ ابن‌اثیر، علی بن محمد، اسدالغابة‌ فی‌ معرفة‌ الصحابه، ج‌۳، ص۲۴۱.
  37. ↑ ابن‌اثیر، علی بن محمد، اسدالغابة‌ فی‌ معرفة‌ الصحابه، ج‌۲، ص۳۰۷.
  38. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌ البلاغه‌، خطبه ۱۵۶، ص۳۳۲.
  39. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۵۴۴.
  40. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۵، ص‌۱۵۰.
  41. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۲۲۶.
  42. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۴۰۹ـ۴۱۲.
  43. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۴۲۵ـ۴۳۴.
  44. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۰۴۵۱.
  45. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص‌۲۲۶ـ۲۲۷.
  46. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  47. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۹۴۵۲.
  48. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۴.
  49. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۳.
  50. ↑ مسعودی‌، علی بن حسین، مروج‌ الذهب، ج‌۳، ص‌۱۰۲.
  51. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص‌۲۲۸.
  52. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص‌۱۸۳.
  53. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۷۷.
  54. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۶۴۵۷.
  55. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص۴۶۰.
  56. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص۴۶۷.
  57. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص۴۸۳۴۸۴.
  58. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۱.
  59. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۴.
  60. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  61. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص‌۲۲۴.
  62. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۴۴۵۵.
  63. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۱۲۷.
  64. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۵۴۵۷.
  65. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص۵۹.
  66. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۵۴۴۶.
  67. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۲.
  68. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۶۴۵۷.
  69. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۵۰۷.
  70. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۳.
  71. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۴.
  72. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۶۰.
  73. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  74. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۷.
  75. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۶۹.
  76. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۷۴۵۸.
  77. ↑ مسعودی‌، علی بن حسین، مروج‌ الذهب، ج‌۳، ص‌۱۰۲ـ۱۰۳.