مندرجات کا رخ کریں

"جنگ جمل" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
 
[[فا‏ئل:جنگ جمل.jpg|تصغیر|بائیں|]]
'''جنگ جمل'''، [[مسلمان|مسلمانوں]] کے درمیان [[علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب علیہ السلام]] کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی [[جنگ]] تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی زوجہ عائشہ اور [[طلحہ]] اور [[زبیر بن عوام|زبیر]] کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔
'''جنگ جمل'''، [[مسلمان|مسلمانوں]] کے درمیان [[علی ابن ابی طالب|امام علی بن ابی طالب علیہ السلام]] کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی [[جنگ]] تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم]] کی زوجہ عائشہ اور [[طلحہ]] اور [[زبیر بن عوام|زبیر]] کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔


سطر 68: سطر 68:


یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔
یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔
== حوالہ جات ==
[[fa:جنگ جمل]]

نسخہ بمطابق 14:45، 24 ستمبر 2026ء

جنگ جمل، مسلمانوں کے درمیان امام علی بن ابی طالب علیہ السلام کی حکومت کے زمانے میں ہونے والی پہلی داخلی جنگ تھی یہ جنگ چھتیس ہجری میں امام علی علیہ السلام کی فوج اور ناکثین یعنی عہد توڑنے والے گروہ کے درمیان بصرہ شہر کے قریب ہوئی اس گروہ کی قیادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ عائشہ اور طلحہ اور زبیر کر رہے تھے آخرکار یہ جنگ امام علی علیہ السلام کی فوج کی فتح پر ختم ہوئی۔

بعض صحابہ جن میں طلحہ زبیر اور عائشہ شامل تھے ان کی جانب سے بیعت توڑنا اور امام علی علیہ السلام کی حکومت کی مخالفت کرنا اور عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کو اس مخالفت کا سبب قرار دینا اس جنگ کے وجود میں آنے والے عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔

جنگ کے اسباب

جنگ جمل کے وجود میں آنے کے مختلف اسباب تھے جن کا ذکر درج ذیل ہے

طلحہ اور زبیر کی بیعت شکنی

امام علی علیہ السلام نے پینتیس ہجری کے ماہ ذی الحجہ میں مدینہ کے مہاجرین اور انصار کے اصرار اور اتفاق رائے کے بعد اپنی باطنی خواہش کے برخلاف خلافت کی ذمہ داری قبول کی زیادہ تر لوگوں نے آپ علیہ السلام سے بیعت کی سوائے ان چند افراد کے جو عثمانی رجحان رکھتے تھے مخالفین میں سے کچھ لوگ شام اور مکہ کی طرف چلے گئے۔

طلحہ بن عبید اللہ اور زبیر بن عوام صحابہ کے دو معروف افراد تھے اور خود بھی حکومت سنبھالنے کے امیدواروں میں شامل تھے انہوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کی۔

کہا گیا ہے کہ طلحہ سب سے پہلے بیعت کرنے والا تھا اور چونکہ اس کا ہاتھ شل تھا اس لیے کسی شخص نے اسے بدشگونی قرار دیا اور کہا کہ یہ کام پایہ تکمیل تک نہیں پہنچے گا[1] طلحه‌ و زبیر که‌ نخست‌ چشم‌ به‌ خلافت‌ دوخته‌ بودند [2] [3] [4] وقتی‌ موفق‌ نشدند و خلافت‌ به‌ امام‌ علی‌ (علیه‌السلام‌) رسید، انتظار داشتند که‌ با حضرت‌ در خلافت‌ شریک‌ شوند یا دست‌کم‌ به‌ فرمانروایی‌ ولایات‌ برسند. آن‌ دو از علی‌ (علیه‌السلام‌) خواستند که‌ امارت‌ و حکومت‌ بصره‌ و کوفه‌ (یا عراق‌ و یمن‌) را به‌ آنان‌ دهد، ولی‌ امام‌ آنان‌ را شایسته‌ این‌ کار ندانست‌. [5][6][7]۔

طلحہ اور زبیر ابتدا میں خلافت کے امیدوار تھے جب وہ کامیاب نہ ہوسکے اور خلافت امام علی علیہ السلام کو مل گئی تو انہیں توقع تھی کہ وہ امام کے ساتھ خلافت میں شریک ہوں گے یا کم از کم انہیں کسی علاقے کی حکومت دی جائے گی۔

ان دونوں نے امام علی علیہ السلام سے درخواست کی کہ بصرہ اور کوفہ یا عراق اور یمن کی حکومت انہیں دے دی جائے لیکن امام نے انہیں اس کام کے لیے اہل نہیں سمجھا۔

امام علی علیہ السلام کے خلیفہ بننے کے تقریباً چار ماہ بعد طلحہ اور زبیر نے محسوس کیا کہ امام علی علیہ السلام کی خلافت کے بعد لوگ ان سے دور ہوگئے ہیں اور مدینہ میں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی چنانچہ انہوں نے امام سے عمرہ ادا کرنے کے لیے مکہ جانے کی اجازت طلب کی۔

امام نے فرمایا شاید تم شام یا عراق جانے کا ارادہ رکھتے ہو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا صرف عمرہ کا ارادہ ہے اور انہوں نے قسم کھائی کہ وہ کوئی فساد یا فتنہ برپا نہیں کریں گے اور اپنی بیعت نہیں توڑیں گے

امام نے انہیں اجازت دے دی اور وہ تیزی سے مکہ روانہ ہوگئے اس کے باوجود امام نے فرمایا کہ وہ عمرہ کے لیے نہیں جارہے بلکہ کسی فریب اور سازش کا ارادہ رکھتے ہیں [8][9][10][11][12]

طلحہ اور زبیر کا عائشہ کے ساتھ اتحاد

طلحہ اور زبیر نے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے عائشہ سے درخواست کی جو عثمان کے قتل سے پہلے عمرہ کی ادائیگی کے لیے مکہ گئی ہوئی تھیں کہ وہ عثمان کا بدلہ لینے اور ان کے قاتلوں سے انتقام لینے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوجائیں کیونکہ عثمان کے قاتل اب امام علی علیہ السلام کے قریبی ساتھی اور فوجی کمانڈر بن گئے تھ کچھ عرصے کے بعد عائشہ نے ان کی درخواست قبول کرلی [13][14][15][16]

طلحہ اور زبیر نے عثمان کے خون کا بدلہ لینے کا دعوی کرتے ہوئے امام کی اطاعت سے انکار کیا اور مسلمانوں کی جماعت سے الگ ہوگئے لیکن امام علی علیہ السلام کے قول کے مطابق[17] وہ خود عثمان کے قاتلوں میں شامل تھے [18] آنان‌ ادعا می‌کردند که‌ توبه‌ کرده‌اند و برای‌ جبران‌ گناه‌ خویش‌ می‌خواهند انتقام‌ خون‌ عثمان‌ را که‌ به‌ ستم‌ کشته‌ شده‌ است‌ بگیرند و کار خلافت‌ مسلمانان‌ را به‌ شورایی‌ مانند شورای‌ عمر، واگذارند و بین‌ آنان‌ صلح‌ ایجاد کنند. آن‌ دو از عایشه‌ نیز خواستند که‌ این‌ مطالب‌ را به‌ مردم‌ اعلام‌ کند. [19][20][21][22]

ان کا دعوی تھا کہ انہوں نے توبہ کرلی ہے اور اپنے گناہ کی تلافی کے لیے عثمان کے خون کا بدلہ لینا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے تھے۔

وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ مسلمانوں کی خلافت کا معاملہ عمر کی شوری کی طرح ایک شوری کے سپرد کردیا جائے اور مسلمانوں کے درمیان صلح قائم کی جائے انہوں نے عائشہ سے بھی کہا کہ وہ یہ باتیں لوگوں کے سامنے بیان کریں

طلحہ اور زبیر نے اپنی بیعت شکنی کا جواز پیش کرتے ہوئے دعوی کیا کہ انہوں نے خوف اور مجبوری کی حالت میں بیعت کی تھی اس لیے وہ امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کی اطاعت کے پابند نہیں ہیں [23][24][25][26][27] امام‌ فرمود که‌ زبیر می‌پندارد با دستش‌ بیعت‌ کرده‌ است‌، نه‌ با دلش‌، پس‌ به‌ بیعت‌ اقرار و به‌ خروج‌ از آن‌ ادعا می‌کند و باید برای‌ ادعای‌ خود دلیلی‌ درست‌ بیاورد. [28]

امام نے فرمایا کہ زبیر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے اپنے ہاتھ سے بیعت کی ہے دل سے نہیں اس لیے وہ بیعت کا اقرار بھی کرتا ہے اور اس سے نکلنے کا دعوی بھی کرتا ہے لہذا اسے اپنے دعوے کے لیے صحیح دلیل پیش کرنی چاہیے۔

طلحہ بنی تیم سے تعلق رکھتا تھا اور ابوبکر کا ہم قبیلہ تھا وہ بھی زبیر کی طرح خلافت کی خواہش رکھتا تھا اور دونوں میں سے ہر ایک دوسرے کو اہمیت نہیں دیتا تھا[29] همچون‌ زبیر آرزوی‌ خلافت‌ داشت‌ و هر یک‌ دیگری‌ را به‌ حساب‌ نمی‌آورد. [30]

عثمان کا خون کا بدلہ

عثمان کے قتل کے وقت عائشہ مکہ میں تھیں انہیں گمان تھا یا انہیں یہ خبر پہنچی تھی کہ عثمان کے قتل کے بعد طلحہ خلیفہ بن گیا ہے چنانچہ وہ مدینہ کی طرف روانہ ہوئیں لیکن راستے میں جب انہیں معلوم ہوا کہ لوگوں نے امام علی علیہ السلام سے بیعت کرلی ہے تو وہ مکہ واپس آگئیں ۔

انہوں نے اس بات پر اظہار ندامت کیا کہ انہوں نے پہلے لوگوں کو عثمان کے خلاف ابھارا تھا اور اعلان کیا کہ عثمان ظلم کے ساتھ قتل کیے گئے ہیں۔

انہوں نے لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے امیرالمؤمنین کی مخالفت کرنے اور مدینہ کے شورش پسندوں کے خلاف جدوجہد کرنے کی دعوت دی۔

جب ان سے اعتراض کیا گیا کہ آپ ہی لوگوں کو عثمان کو قتل کرنے کی ترغیب دے رہی تھیں تو انہوں نے کہا کہ عثمان نے توبہ کرلی تھی اور اس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا [31][32][33][34][35]

ناکثین کا اتحاد

زبیر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام علی علیہ السلام کی پھوپھی کے بیٹے اور عائشہ کے بہنوئی تھے ان کے بیٹے عبداللہ نے عائشہ کو طلحہ اور زبیر کے ساتھ شامل کرنے اور جنگ کی آگ بھڑکانے میں اہم کردار ادا کیا [36][37] عایشه‌ خود از علی‌ (علیه‌السلام‌) کینه‌ داشت‌ [38] [39][40][41][42][43]۔

عائشہ کو امام علی علیہ السلام سے عداوت تھی اور یہی امر طلحہ اور زبیر کے ساتھ ان کے شامل ہونے میں مؤثر تھا

طلحہ اور زبیر اور دیگر علیحدگی پسند جانتے تھے کہ عائشہ کے بغیر ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ وہ ام المؤمنین اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ تھیں اور لوگوں کے درمیان انہیں خاص مقام حاصل تھا چنانچہ انہوں نے عائشہ کی رضامندی حاصل کرکے اپنے مقصد کی کامیابی کے لیے اہم قدم اٹھایا[44][45]

عبداللہ بن عامر حضرمی جو مکہ میں عثمان کا عامل تھا سب سے پہلے عائشہ کی دعوت پر لبیک کہنے والا شخص تھا اس کے بعد وہ اموی افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے جو عثمان کے قتل کے بعد مکہ فرار ہوگئے تھے ان میں سعید بن عاص مروان بن حکم عبدالرحمان بن عتاب مغیرہ بن شعبہ اور ولید بن عقبہ شامل تھے۔

مغیرہ لوگوں کو عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی دعوت دیتا تھا عبداللہ بن عامر بن کریز اور یعلی بن امیہ بھی بہت سے مال اور اونٹوں کے ساتھ یمن سے ان کے پاس پہنچے بعض روایات کے مطابق وہ چھ سو اونٹ اور چھ لاکھ درہم یا دینار لے کر آئے تھے۔

یہ سب لوگ عائشہ کے گھر میں جمع ہوگئے اس طرح امام علی علیہ السلام کے تمام مخالفین اور خاص طور پر وہ لوگ جنہیں یہ خوف تھا کہ امام مسلمانوں کے حقوق ان سے واپس لے لیں گے عائشہ کے پاس جمع ہوگئے۔

حوالہ جات

  1. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۷۴۳۵.
  2. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
  3. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۳.
  4. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۵.
  5. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۵۱۵۲.
  6. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹.
  7. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۳۸
  8. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  9. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹.
  10. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۴۴.
  11. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۲۳۳.
  12. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۸۹.
  13. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  14. ↑ دینوری‌، احمد بن‌ داوود، الاخبار الطوال‌، ج۱، ص‌۱۴۴.
  15. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۰.
  16. ↑ ابن‌اعثم‌ کوفی‌، احمد بن اعثم، الفتوح‌، ج‌۲، ص‌۴۵۲.
  17. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۱۷۴، ص۳۸۲.
  18. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۰.
  19. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۶۴.
  20. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص۶۸.
  21. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۳.
  22. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  23. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۲.
  24. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۲۹۴۳۱.
  25. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۳۵.
  26. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۴.
  27. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۶۲.
  28. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌، خطبه ۸، ص۴۶.
  29. ↑ ابن‌کلبی‌، هشام بن محمد، جمهرة‌ النسب‌، ج‌۱، ص‌۷۹۸۰، ج‌۱.
  30. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌البلاغه‌،خطبه ۱۴۸، ص۳۱۲.
  31. ↑ ابن‌قتیبه دینوری، عبدالله بن مسلم، الامامة و السیاسة، ج‌۱، ص‌۵۱.
  32. ↑ بلاذری‌، احمد بن‌ یحیی‌، انساب‌ الاشراف‌، ج‌۲، ص۲۲۴.
  33. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۴۸۴۵۰.
  34. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص۴۵۸ ۴۵۹.
  35. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص‌۲۲۸ ۲۲۹.
  36. ↑ ابن‌اثیر، علی بن محمد، اسدالغابة‌ فی‌ معرفة‌ الصحابه، ج‌۳، ص۲۴۱.
  37. ↑ ابن‌اثیر، علی بن محمد، اسدالغابة‌ فی‌ معرفة‌ الصحابه، ج‌۲، ص۳۰۷.
  38. ↑ امام‌ علی (علیه‌السلام)، نهج‌ البلاغه‌، خطبه ۱۵۶، ص۳۳۲.
  39. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۵۴۴.
  40. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۵، ص‌۱۵۰.
  41. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۲۲۶.
  42. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۴۰۹ـ۴۱۲.
  43. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص۴۲۵ـ۴۳۴.
  44. ↑ طبری‌، محمد بن جریر، تاریخ‌ طبری، ج‌۴، ص‌۴۵۰۴۵۱.
  45. ↑ مفید، محمد بن‌ محمد، الجمل‌ و النصرة‌ لسید العترة‌ فی‌ حرب‌ البصرة، ج۱، ص‌۲۲۶ـ۲۲۷.