مندرجات کا رخ کریں

"سمیر سامی قنطار" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 1: سطر 1:
{{سانچہ:شخصیت
{{Infobox person
| عنوان =  
| title = سمیر سامی قنطار
| تصویر = Sameir-ghentar.jpg
| image = Sameir-ghentar.jpg
| نام = سمیر سامی قنطار
| name = سمیر سامی قنطار  
| دیگر نام = عمید الاسرا
| other names =   عمید الاسرا
| سال پیدائش = 1962ء
| brith year = 1962 ء     
| تاریخ پیدائش =  
| brith date =
| مقام پیدائش = لبنان
| birth place = لبنان
| سال وفات =  
| death year =  
| تاریخ وفات =  
| death dat  =
| مقام وفات =  
| death place =  
| اساتذہ =  
| teachers =  
| شاگرد =  
| students =  
| مذہب = اسلام
| religion = [[اسلام]]
| مسلک = شیعہ
| faith = [[شیعہ]]
| آثار =  
| works =
| سرگرمیاں = لبنانی مجاہد اور صیہونی رژیم اور اردن کی جیلوں میں اسارت
| known for = {{فهرست جعبه افقی|لبنانی مجاہد |صیہونی رژیم اور اردن کی جیلوں میں اسارت}}
| ویب سائٹ =
}}
}}
'''سمیر قنطار''' مجاہد [[درزی|درزی مذہب]] رکن [[سازمان آزادی بخش فلسطین]] تھا جس نے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ وہ [[اسرائیل|اسرائیلی]] افواج کے خلاف کارروائیوں میں گرفتار ہوا اور جیل کی سزا ہوئی۔ 2008ء میں اسرائیل اور [[حزب اللہ لبنان]] کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں وہ جیل سے رہا ہوا۔ وہ [[سوریہ]] میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں شہید ہوا۔ [[حزب اللہ لبنان]] اسے ہیرو اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کرتا ہے۔


'''سمیر قنطار''' مجاہد، درزی مذہب سے تعلق اور  فلسطین کی حریت پسند تنظیم کا رکن  تھا جس نے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ وہ [[اسرائیل|اسرائیلی]] افواج کے خلاف کارروائیوں میں گرفتار ہوا اور جیل کی سزا ہوئی۔ 2008ء میں اسرائیل اور [[حزب اللہ لبنان]] کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں وہ جیل سے رہا ہوا۔ وہ شام میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں شہید ہوا۔ [[حزب اللہ لبنان]] اسے ہیرو اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کرتا ہے۔


==پیدائش==
==پیدائش==
سمیر قنطار 1962ء میں [[لبنان]] میں ایک درزی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان لبنانی مجاہدین میں سے تھا، سمیر نے 14 سال کی عمر میں [[جبهہ آزادی بخش فلسطین|جبهہ آزادی بخش فلسطین]] میں شمولیت اختیار کی۔
سمیر قنطار 1962ء میں [[لبنان]] میں ایک درزی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان لبنانی مجاہدین میں سے تھا، سمیر نے 14 سال کی عمر میں فلسطین کی حریت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔
 
 


==مجاہدانہ سرگرمیاں==
==مجاہدانہ سرگرمیاں==
اپنے پہلے مشن میں [[فلسطین]] میں خفیہ داخلے کے راستے میں وہ اردن کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور ایک سال سے کم عرصہ اردن کی جیل میں رہا اور رہائی کے بعد اسے اس ملک میں داخلے سے منع کر دیا گیا۔
اپنے پہلے مشن میں [[فلسطین]] میں خفیہ داخلے کے راستے میں وہ اردن کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور ایک سال سے کم عرصہ اردن کی جیل میں رہا اور رہائی کے بعد اسے اس ملک میں داخلے سے منع کر دیا گیا۔


== مقبوضہ علاقے میں کارروائی ==
== مقبوضہ علاقے میں کارروائی ==
21 اپریل 1979ء کی آدھی رات کو، 16 سالہ سمیر قنطار چند دیگر نوجوانوں کے ہمراہ لبنان کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر نہاریا پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مقصد لبنانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک اسرائیلی سائنسدان کو اغوا کرنا تھا۔ اس کی قیادت میں گروپ کی اسرائیلی افواج سے جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں اس کے ساتھی مارے گئے اور وہ گرفتار ہو گیا۔
21 اپریل 1979ء کی آدھی رات کو، 16 سالہ سمیر قنطار چند دیگر نوجوانوں کے ہمراہ لبنان کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر نہاریا پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مقصد لبنانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک اسرائیلی سائنسدان کو اغوا کرنا تھا۔ اس کی قیادت میں گروپ کی اسرائیلی افواج سے جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں اس کے ساتھی مارے گئے اور وہ گرفتار ہو گیا۔


== تیس سالہ قید ==
== تیس سالہ قید ==
قنطار کی سماعت کے بعد، 1980ء میں عدالت نے اسے تین افراد کے قتل کے الزام میں پانچ بار عمر قید اور 47 سال کی جیل کی سزا سنائی۔ سمیر قنطار تقریباً 30 سال جیل میں رہا۔ 2004ء میں حزب اللہ کے قیدیوں کی تبادلے کے دوران اس کی رہائی تقریبہ طے پا گئی تھی، لیکن اسرائیل نے اس وقت اس کی رہائی سے اتفاق نہیں کیا۔
قنطار کی سماعت کے بعد، 1980ء میں عدالت نے اسے تین افراد کے قتل کے الزام میں پانچ بار عمر قید اور 47 سال کی جیل کی سزا سنائی۔ سمیر قنطار تقریباً 30 سال جیل میں رہا۔ 2004ء میں حزب اللہ کے قیدیوں کی تبادلے کے دوران اس کی رہائی تقریبہ طے پا گئی تھی، لیکن اسرائیل نے اس وقت اس کی رہائی سے اتفاق نہیں کیا۔


==رہائی==
==رہائی==
16 جولائی 2008ء کو، 33 روزہ جنگ کے دو سال بعد، سمیر قنطار کو حزب اللہ کے چار دیگر ارکان کے ساتھ دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے بدلے رہا کیا گیا۔ 28 سال کی قید کے بعد اس کی رہائی نے اسرائیل میں بہت ہنگامہ اور تنقید پیدا کی، لیکن بیروت ایئرپورٹ پر اس کا استقبال لبنان کے اس وقت کے صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر نے ایک «قومی ہیرو» کی طرح کیا۔
16 جولائی 2008ء کو، 33 روزہ جنگ کے دو سال بعد، سمیر قنطار کو حزب اللہ کے چار دیگر ارکان کے ساتھ دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے بدلے رہا کیا گیا۔ 28 سال کی قید کے بعد اس کی رہائی نے اسرائیل میں بہت ہنگامہ اور تنقید پیدا کی، لیکن بیروت ایئرپورٹ پر اس کا استقبال لبنان کے اس وقت کے صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر نے ایک «قومی ہیرو» کی طرح کیا۔


== ایران اور سوریہ کا سفر ==
== ایران اور سوریہ کا سفر ==
قنطار بہمن 1387ھ شمسی میں [[ایران]] گیا اور ایران کے عہدیداران بشمول [[آیت اللہ خامنہ ای]]، رہنما جمہوریہ اسلامی ایران سے ملاقات کی۔ سوریہ میں خانہ جنگی شروع ہونے کے وقت سے، سمیر قنطار مرتفعات جولان میں حزب اللہ تحریک کے ساتھ سرگرم عمل تھا۔
قنطار بہمن 1387ھ شمسی میں [[ایران]] گیا اور ایران کے عہدیداران بشمول [[آیت اللہ خامنہ ای]]، رہنما جمہوریہ اسلامی ایران سے ملاقات کی۔ سوریہ میں خانہ جنگی شروع ہونے کے وقت سے، سمیر قنطار مرتفعات جولان میں حزب اللہ تحریک کے ساتھ سرگرم عمل تھا۔


==شیعہ ہونا==
==شیعہ ہونا==
سمیر قنطار درزی مذہب کا تھا۔ اس نے اسرائیلی جیل میں رہتے ہوئے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ اس سے جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں اس نے بتایا کہ وہ جیل میں تشیع اور [[نہج البلاغہ]] سے واقف ہوا اور مذہب شیعہ کو قبول کیا۔ لیکن جیل میں رہتے ہوئے یہ بات ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ حزب اللہ لبنان کے عہدیداران کے مطابق اس کے انکشاف سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ سمیر قنطار نے جیل سے رہائی کے لیے مذہب تبدیل کیا ہے۔
سمیر قنطار درزی مذہب کا تھا۔ اس نے اسرائیلی جیل میں رہتے ہوئے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ اس سے جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں اس نے بتایا کہ وہ جیل میں تشیع اور [[نہج البلاغہ]] سے واقف ہوا اور مذہب شیعہ کو قبول کیا۔ لیکن جیل میں رہتے ہوئے یہ بات ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ حزب اللہ لبنان کے عہدیداران کے مطابق اس کے انکشاف سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ سمیر قنطار نے جیل سے رہائی کے لیے مذہب تبدیل کیا ہے۔


==شہادت==
==شہادت==
سمیر قنطار 20 دسمبر 2015ء کو 53 سال کی عمر میں جرمانا، دمشق سوریہ کے قریب [[اسرائیل|اسرائیل]] کے میزائل حملے کے نتیجے میں شہید ہوا اور بیروت کی ضاحیہ میں دفن کیا گیا۔
سمیر قنطار 20 دسمبر 2015ء کو 53 سال کی عمر میں جرمانا، دمشق سوریہ کے قریب [[اسرائیل|اسرائیل]] کے میزائل حملے کے نتیجے میں شہید ہوا اور بیروت کی ضاحیہ میں دفن کیا گیا۔


==مزید مطالعہ==
کتاب حقیقت سمیر: سمیر قنطار کی سوانح حیات ہے جسے 1394ھ شمسی میں ادارہ سورہ مہر نے شائع کیا ہے۔


== متعلقه مضامین ==


==مزید مطالعہ==
کتاب حقیقت سمیر: سمیر قنطار کی سوانح حیات ہے جسے 1394ھ شمسی میں ادارہ سورہ مہر نے شائع کیا ہے۔


[[زمرہ:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
سطر 69: سطر 54:
[[زمرہ:شہدا]]
[[زمرہ:شہدا]]
[[زمرہ:لبنان]]
[[زمرہ:لبنان]]
[[fa: سمیر سامی قنطار]]

نسخہ بمطابق 10:54، 12 جولائی 2026ء

سمیر سامی قنطار
پورا نامسمیر سامی قنطار
دوسرے نامعمید الاسرا
ذاتی معلومات
پیدائش1962 ء
پیدائش کی جگہلبنان
مذہباسلام، شیعہ
مناصب
  • لبنانی مجاہد
  • صیہونی رژیم اور اردن کی جیلوں میں اسارت

سمیر قنطار مجاہد، درزی مذہب سے تعلق اور فلسطین کی حریت پسند تنظیم کا رکن تھا جس نے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ وہ اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں میں گرفتار ہوا اور جیل کی سزا ہوئی۔ 2008ء میں اسرائیل اور حزب اللہ لبنان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے میں وہ جیل سے رہا ہوا۔ وہ شام میں اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملے میں شہید ہوا۔ حزب اللہ لبنان اسے ہیرو اور مزاحمت کی علامت کے طور پر یاد کرتا ہے۔

پیدائش

سمیر قنطار 1962ء میں لبنان میں ایک درزی خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کا خاندان لبنانی مجاہدین میں سے تھا، سمیر نے 14 سال کی عمر میں فلسطین کی حریت پسند تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔

مجاہدانہ سرگرمیاں

اپنے پہلے مشن میں فلسطین میں خفیہ داخلے کے راستے میں وہ اردن کی سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار ہوا اور ایک سال سے کم عرصہ اردن کی جیل میں رہا اور رہائی کے بعد اسے اس ملک میں داخلے سے منع کر دیا گیا۔

مقبوضہ علاقے میں کارروائی

21 اپریل 1979ء کی آدھی رات کو، 16 سالہ سمیر قنطار چند دیگر نوجوانوں کے ہمراہ لبنان کی سرحد سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر نہاریا پہنچا۔ کہا جاتا ہے کہ ان کا ایک مقصد لبنانی قیدیوں کے تبادلے کے لیے ایک اسرائیلی سائنسدان کو اغوا کرنا تھا۔ اس کی قیادت میں گروپ کی اسرائیلی افواج سے جھڑپ ہوئی جس کے نتیجے میں اس کے ساتھی مارے گئے اور وہ گرفتار ہو گیا۔

تیس سالہ قید

قنطار کی سماعت کے بعد، 1980ء میں عدالت نے اسے تین افراد کے قتل کے الزام میں پانچ بار عمر قید اور 47 سال کی جیل کی سزا سنائی۔ سمیر قنطار تقریباً 30 سال جیل میں رہا۔ 2004ء میں حزب اللہ کے قیدیوں کی تبادلے کے دوران اس کی رہائی تقریبہ طے پا گئی تھی، لیکن اسرائیل نے اس وقت اس کی رہائی سے اتفاق نہیں کیا۔

رہائی

16 جولائی 2008ء کو، 33 روزہ جنگ کے دو سال بعد، سمیر قنطار کو حزب اللہ کے چار دیگر ارکان کے ساتھ دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشوں کے بدلے رہا کیا گیا۔ 28 سال کی قید کے بعد اس کی رہائی نے اسرائیل میں بہت ہنگامہ اور تنقید پیدا کی، لیکن بیروت ایئرپورٹ پر اس کا استقبال لبنان کے اس وقت کے صدر، وزیر اعظم اور اسپیکر نے ایک «قومی ہیرو» کی طرح کیا۔

ایران اور سوریہ کا سفر

قنطار بہمن 1387ھ شمسی میں ایران گیا اور ایران کے عہدیداران بشمول آیت اللہ خامنہ ای، رہنما جمہوریہ اسلامی ایران سے ملاقات کی۔ سوریہ میں خانہ جنگی شروع ہونے کے وقت سے، سمیر قنطار مرتفعات جولان میں حزب اللہ تحریک کے ساتھ سرگرم عمل تھا۔

شیعہ ہونا

سمیر قنطار درزی مذہب کا تھا۔ اس نے اسرائیلی جیل میں رہتے ہوئے مذہب شیعہ کو اختیار کیا۔ اس سے جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں اس نے بتایا کہ وہ جیل میں تشیع اور نہج البلاغہ سے واقف ہوا اور مذہب شیعہ کو قبول کیا۔ لیکن جیل میں رہتے ہوئے یہ بات ظاہر نہیں ہوئی کیونکہ حزب اللہ لبنان کے عہدیداران کے مطابق اس کے انکشاف سے یہ تاثر پیدا ہوتا کہ سمیر قنطار نے جیل سے رہائی کے لیے مذہب تبدیل کیا ہے۔

شہادت

سمیر قنطار 20 دسمبر 2015ء کو 53 سال کی عمر میں جرمانا، دمشق سوریہ کے قریب اسرائیل کے میزائل حملے کے نتیجے میں شہید ہوا اور بیروت کی ضاحیہ میں دفن کیا گیا۔

مزید مطالعہ

کتاب حقیقت سمیر: سمیر قنطار کی سوانح حیات ہے جسے 1394ھ شمسی میں ادارہ سورہ مہر نے شائع کیا ہے۔

متعلقه مضامین