"سعد بن معاذ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 56: | سطر 56: | ||
== سعد کی تدفین کا طریقہ == | == سعد کی تدفین کا طریقہ == | ||
مسلمانوں نے سعد کے جنازے کو بقیع کے شروع تک تشییع کیا اور عقیل بن ابیطالب (جو بعد میں بنا) کے گھر کی دیوار کے پاس ان کے لیے قبر کھودی۔ جس نے ان کی قبر کھودی، وہ کہتا تھا: ہر بار جب کلہاڑی زمین پر لگتی اور تھوڑی مٹی نکلتی، ہمیں مشک کی خوشبو محسوس ہوتی تھی<ref> الطبقات الکبری، ابن سعد، ج۳، ص۴۳۲؛ سیر اعلام النبلاء، ذهبی، ج۱، ص۲۸۹</ref>۔ | مسلمانوں نے سعد کے جنازے کو بقیع کے شروع تک تشییع کیا اور عقیل بن [[ابو طالب|ابیطالب]] (جو بعد میں بنا) کے گھر کی دیوار کے پاس ان کے لیے قبر کھودی۔ جس نے ان کی قبر کھودی، وہ کہتا تھا: ہر بار جب کلہاڑی زمین پر لگتی اور تھوڑی مٹی نکلتی، ہمیں مشک کی خوشبو محسوس ہوتی تھی<ref> الطبقات الکبری، ابن سعد، ج۳، ص۴۳۲؛ سیر اعلام النبلاء، ذهبی، ج۱، ص۲۸۹</ref>۔ | ||
قبر تیار ہوئی تو جنازے کو قبر کے سامنے رکھا گیا اور پیامبر(صلّیالله علیه وآله) نے ان پر [[نماز]] پڑھی۔ چار افراد نے جن میں سے ایک سعد کا بھتیجا تھا، انہیں قبر میں اتارا۔ پھر رسول خدا(صلّیالله علیه وآله) خود قبر میں داخل ہوئے اور سعد کی لحد بنائی اور جب لحد بن گئی، تو فرمایا: "نرم مٹی دیں" اور اینٹوں کے درمیان تمام شگاف بند کیے۔ پھر فرمایا: "اگرچہ میں جانتا ہوں کہ جلد ہی ٹوٹ جائے گی لیکن خدا چاہتا ہے کہ اپنا بندہ جو بھی کام کرے، مضبوط اور اچھا کرے۔" | قبر تیار ہوئی تو جنازے کو قبر کے سامنے رکھا گیا اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیامبر(صلّیالله علیه وآله)]] نے ان پر [[نماز]] پڑھی۔ چار افراد نے جن میں سے ایک سعد کا بھتیجا تھا، انہیں قبر میں اتارا۔ پھر رسول خدا(صلّیالله علیه وآله) خود قبر میں داخل ہوئے اور سعد کی لحد بنائی اور جب لحد بن گئی، تو فرمایا: "نرم مٹی دیں" اور اینٹوں کے درمیان تمام شگاف بند کیے۔ پھر فرمایا: "اگرچہ میں جانتا ہوں کہ جلد ہی ٹوٹ جائے گی لیکن خدا چاہتا ہے کہ اپنا بندہ جو بھی کام کرے، مضبوط اور اچھا کرے۔" | ||
قبر کی لحدیں بن گئیں اور مٹی ڈال کر قبر ہموار کر دی گئی۔ سعد بن معاذ کی والدہ جو ایک طرف بیٹھی تھیں، کہا: ہنیئا لک الجنه؛ بهشت تمہارے لیے مبارک ہو۔ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) نے فرمایا: "سعد کی ماں! خاموش رہو! تمہیں خدا سے کیا امید ہے؟ قبر نے سعد پر سخت دباؤ ڈالا"۔ اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت نے تین بار فرمایا: " سُبْحَانَ اَللَّهِ"، اور لوگوں نے بھی ان کی پیروی میں تین بار تسبیح پڑھی۔ وجہ پوچھی گئی؟ فرمایا: "ابھی قبر نے سعد پر ایسا دباؤ ڈالا کہ اگر کوئی اس دباؤ سے بچتا تو سعد بھی ان میں سے ہوتا"۔ | قبر کی لحدیں بن گئیں اور مٹی ڈال کر قبر ہموار کر دی گئی۔ سعد بن معاذ کی والدہ جو ایک طرف بیٹھی تھیں، کہا: ہنیئا لک الجنه؛ بهشت تمہارے لیے مبارک ہو۔ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) نے فرمایا: "سعد کی ماں! خاموش رہو! تمہیں خدا سے کیا امید ہے؟ قبر نے سعد پر سخت دباؤ ڈالا"۔ اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت نے تین بار فرمایا: " سُبْحَانَ اَللَّهِ"، اور لوگوں نے بھی ان کی پیروی میں تین بار تسبیح پڑھی۔ وجہ پوچھی گئی؟ فرمایا: "ابھی قبر نے سعد پر ایسا دباؤ ڈالا کہ اگر کوئی اس دباؤ سے بچتا تو سعد بھی ان میں سے ہوتا"۔ | ||
| سطر 66: | سطر 66: | ||
حضرت نے فرمایا: "چونکہ ملائکه بغیر چادر اور جوتے کے آئے تھے، میں نے بھی ان کی پیروی کی"۔ | حضرت نے فرمایا: "چونکہ ملائکه بغیر چادر اور جوتے کے آئے تھے، میں نے بھی ان کی پیروی کی"۔ | ||
لوگوں نے کہا: آپ نے تابوت کے چاروں کونے کیوں پکڑے؟ فرمایا: "چونکہ میرا ہاتھ | لوگوں نے کہا: آپ نے تابوت کے چاروں کونے کیوں پکڑے؟ فرمایا: "چونکہ میرا ہاتھ جبرئیل کے ہاتھ میں تھا اور جہاں وہ پکڑتے میں بھی پکڑتا"۔ کہا: اتنے احترام و تعظیم کے باوجود، فرمایا کہ سعد نے فشار قبر دیکھا؟ حضرت نے فرمایا: "ہاں، یہ اس لیے تھا کہ سعد اپنے گھر والوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے<ref> الامالی، شیخ صدوق، ج۱، ص۳۶۰؛ ألامالی، شیخ طوسی، ص۴۲۷، ح۹۵۵</ref>"。<ref> عباسی، حبیب، مقاله «سعد بن معاذ»، دایرة المعارف صحابه پیامبر اعظم، ج۵، ص۳۰۹-۳۱۰</ref>۔ | ||
== حواله جات == | == حواله جات == | ||
نسخہ بمطابق 12:47، 3 جولائی 2026ء
| سعد بن معاذ | |
|---|---|
| پورا نام | سعد بن مُعاذ بن نعمان بن امرئ القیس بن زید بن عبدالاشہل |
| دوسرے نام | ابوعمرو |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | سال ۳۲ قبل از ہجرت |
| پیدائش کی جگہ | مدینه |
| وفات | ۵ ق |
| مذہب | اسلام |
| مناصب | جنگ بدر، احد اور خندق میں قبیلہ اوس کا پرچم بردار، مسلمانانوں سے شکست کے بعد یہود بنو قریظہ کا حَکَم |
سعد بن معاذ، ہجرت سے تقریباً 32 سال قبل قبیلہ بنو عبدالاشہل سے جو قبیلہ اوس کا حصہ ہے، شہر مدینہ میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اسلام سے قبل انتقال کر گئے لیکن ان کی والدہ نبوت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے تک زندہ رہیں اور مسلمان ہو گئیں۔ سعد ایک مدبر اور بہادر شخص تھے اور اپنے قبیلے میں بااثر شخصیت رکھتے تھے۔ اسی لیے جوانی ہی میں قبیلہ اوس کی سرداری کے لیے منتخب ہوئے۔ سعد بن معاذ نے ہند، دختر سماک سے شادی کی اور ان کے دو بیٹے عمرو اور عبداللہ ہوئے۔ پہلی بیعت عقبہ اور مصعب بن عمیر کی مدینہ میں ماموریت کے بعد، مصعب کے ہاتھ پر قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سردار نے اسلام قبول کیا۔ سعد کے مسلمان ہونے کا مدینہ میں پیغمبر کے دین کی توسیع پر گہرا اثر پڑا؛ یہاں تک کہ ان کی تدبیر سے ایک ہی دن میں تمام بنو عبدالاشہل کے لوگ مسلمان ہو گئے۔ اس وقت سے لے کر شہادت تک وہ اسلام کی توسیع اور ترویج کے لیے کبھی نہیں رکے، دل میں کوئی شک نہ لایا اور تمام مواقع پر موجود رہے۔ غزوہ بدر کے بعد، غزوہ احد، غزوہ بنو قینقاع، کعب بن اشرف کے قتل کی سریہ، غزوہ بنو نضیر میں شرکت کی۔ ان کے جنگی میدان کا آخری منظر غزوہ خندق تھا یوم الاحزاب میں جہاں ان کا بازو زخمی ہوا اور وہ مقامِ جانبازی پر فائز ہوئے۔
سعد کا نام اور نسب
ان کا نام اور نسب سعد بن معاذ بن نعمان بن امرؤ القیس ہے۔ وہ صحابہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بزرگوں میں سے تھے اور قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ ان کی والدہ کبشہ دختر رافع پہلی خاتون ہیں جو انصار اور اہل مدینہ میں سے ہیں اور بیعت عقبہ اول اور دوم کے درمیان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائیں[1].
سعد کا اسلام لانا
سعد نے مدینہ میں مصعب بن عمیر کے ہاتھ پر (دو بیعت عقبہ کے درمیان) اسلام قبول کیا اور ان کے اسلام لانے سے عبدالاشہل خاندان کے تمام افراد مسلمان ہو گئے[2]۔ یہ خاندان پہلا خاندان ہے جس کے مرد اور عورت سب نے اسلام قبول کیا[3]۔ اسلام لانے کے بعد سعد نے اسید بن حضیر کے ساتھ بنو عبدالاشہل کے بتوں کو توڑا[4]۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمانوں کی مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد اور ابوعبیدہ جراح میں سے مہاجرین کے درمیان بھائی چارے کا معاہدہ کرایا[5]۔ وہ انصار کے بزرگوں اور قبیلہ اوس کے سردار، بہادر، بیان اور فیصلے میں قاطع، مبارزے اور جہاد میں مضبوط تھے[6].
سعد اور آیت کا نزول
ابن اسحاق نے اپنی سند سے ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ معاذ بن جبل، سعد بن معاذ اور خارجہ بن زید نے بعض احبار یہود سے تورات میں موجود بعض چیزوں کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے چھپایا اور سوال کا جواب دینے سے انکار کیا اور اس بارے میں درج ذیل آیات نازل ہوئیں[7]:
"إِنَّ الَّذِینَ یَکْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَیِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَیَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِی الْکِتَابِ أُولَٰئِکَ یَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَیَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ * إِلَّا الَّذِینَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَبَیَّنُوا فَأُولَٰئِکَ أَتُوبُ عَلَیْهِمْ وَأَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیمُ"[8] ۔ اللہ اور لعنت کرنے والے ان لوگوں پر لعنت کرتے ہیں جو دلیلیں اور ہدایت جو ہم نے نازل کی، اس کے بعد کہ ہم نے کتاب (تورات) میں لوگوں کے لیے واضح کر دی، اسے چھپاتے ہیں * سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی اور اصلاح کی اور (چھپی ہوئی باتوں کو) واضح بیان کیا، تو میں ان پر توبہ قبول کرتا ہوں اور میں توبہ قبول کرنے والا مہربان ہوں[9].
سعد کا انجام
اگرچہ سعد کے بازو کا زخم ٹھیک ہو گیا تھا لیکن جب وہ قلعہ بنو قریظہ سے واپس آئے، تو سوتے وقت ایک بکری کے بچے نے تیر کی جگہ لات ماری اور زخم دوبارہ کھل گیا اور خون بہنے لگا اور جو بھی علاج کیا گیا اثر نہ ہوا۔ اسی لیے وہ سن ۵ ہجری میں اور ۳۷ سال کی عمر میں شہادت کو پہنچے[10].
جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سعد کے زخم کا علم ہوا تو ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور انہیں گلے لگایا اور جب سعد کا خون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر اور چہرے پر گر رہا تھا تو آپ نے ان کا سر اپنی گود میں رکھا اور ان پر سفید کپڑا بچھایا کہ جب ان کا چہرہ ڈھکتا تو پاؤں کھلے رہتے اور اگر پاؤں ڈھکتے تو چہرہ کھلا رہتا۔ پھر ان کے لیے اس طرح دعا فرمائی:
اے اللہ! سعد نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تے پیغمبر کی تصدیق کی، اس کی روح کو اچھی طرح قبول فرما"۔ سعد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سن کر ہوش میں آئے اور آنکھیں کھولیں اور کہا: " السَّلَامُ عَلَیْکَ یَا رَسُولَ اللَّهِ "! گواہ رہنا کہ میں آپ کی رسالت پر ہوں"۔ سعد کے خاندان نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ محبت اور گرمجوشی دیکھی تو سخت روئے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "میں اللہ سے چاہتا ہوں کہ تمہاری تعداد کے برابر ملائکہ اتریں اور سعد کی وفات میں حاضر ہوں".
سعد کی والدہ نے اپنے بیٹے کے لیے یہ مرثیہ پڑھا:
| ویل ام سعد سعد حزامة وجدة | بعد ایاد یاله و مجداً مقدماً سد به مسداً |
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تمام وہ لوگ جو مردوں پر نوحہ خوانی کرتے ہیں، جھوٹ بولتے ہیں، سوائے سعد کی ماں کے[11]".
رسول خدا اور سعد کے جنازے کی تعظیم
سعد کے زخم کے کھلنے کے واقعے کے بعد، ایک صبح کے وقت جب رسول خدا(صلّیالله علیه وآله) نیند سے بیدار ہوئے، جبرئیل نازل ہوئے اور کہا: "یا رسول الله! آپ کی امت کا ایک نیک بندہ دنیا سے رخصت ہوا ہے جس کے لیے آسمان کے دروازے کھل گئے ہیں اور عرش الٰہی لرز اٹھا ہے"۔ حضرت نے فرمایا: "سعد بن معاذ بیمار تھے"۔ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) مسجد تشریف لے گئے اور موجودہ لوگوں سے پوچھا: سعد کا کیا ہوا؟ کہا گیا: وفات پا گئے[12]۔
لہذا ان کے رشتہ داروں نے انہیں ان کے گھر لے جایا۔ حضرت نے نماز صبح ادا کی اور مسجد سے باہر تشریف لائے اور لوگ بھی ان کے پیچھے چل پڑے؛ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) اتنی تیزی سے چل رہے تھے کہ لوگ مشکل میں پڑ گئے؛ جوتے پاؤں سے نکل جاتے تھے اور چادریں کندھوں سے گر جاتی تھیں۔
ایک شخص نے کہا: "یا رسول الله! آپ نے لوگوں کو تکلیف میں ڈال دیا!" حضرت نے فرمایا: "مجھے ڈر ہے کہ ملائکه ہم سے سبقت لے جائیں اور انہیں غسل دیں۔ جیسا کہ حنظله کے جنازے میں ہم سے سبقت لے گئے تھے اور انہیں غسل دیا تھا[13]"۔
جب پیامبر(صلّیالله علیه وآله) سعد کے گھر داخل ہوئے تو دیکھا کہ ان کے اقوام انہیں غسل دے رہے ہیں۔ پیامبر ایک طرف بیٹھ گئے لیکن برخلاف توقع دیکھا کہ آپ نے اپنے گھٹنے سمیٹ لیے۔ اس کی وجہ پوچھی گئی، حضرت نے فرمایا: "ایک فرشتہ اترا اور اس کے لیے جگہ نہیں تھی، پس میں نے اسے جگہ دی"۔
سعد کو تین بار غسل دیا گیا اور تین کپڑوں میں کفن کیا گیا۔ پھر انہیں تابوت میں رکھا گیا اور حضرت نے تابوت کے آگے کھڑے ہو کر یہاں تک کہ گھر کے باہر زمین پر رکھا۔ اس کے بعد کبھی جنازے کے آگے چلتے، کبھی دائیں جانب اور کبھی بائیں جانب اور تابوت کے آگے اور پیچھے سے پکڑتے۔ چونکہ سعد بن معاذ ہٹا کٹا اور فربہ شخص تھے۔ جب انہیں تشییع کیا جا رہا تھا تو منافقین ان پر تنقید کرنا چاہتے تھے، پس کہا: آج تک اتنا ہلکا جنازہ نہیں دیکھا اور یہ ہلکا پن اس فیصلے کی وجہ سے ہے جو انہوں نے بنو قریظہ کے بارے میں کیا۔ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) ان کی بات سے آگاه ہوئے، پس فرمایا: "قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، ان کے تابوت کو فرشتے اٹھا رہے ہیں؛ ان کی تشییع جنازہ کے لیے ستر ہزار فرشته آئے ہیں جو اب تک زمین پر نہیں اترے تھے[14]"۔
سعد کی تدفین کا طریقہ
مسلمانوں نے سعد کے جنازے کو بقیع کے شروع تک تشییع کیا اور عقیل بن ابیطالب (جو بعد میں بنا) کے گھر کی دیوار کے پاس ان کے لیے قبر کھودی۔ جس نے ان کی قبر کھودی، وہ کہتا تھا: ہر بار جب کلہاڑی زمین پر لگتی اور تھوڑی مٹی نکلتی، ہمیں مشک کی خوشبو محسوس ہوتی تھی[15]۔
قبر تیار ہوئی تو جنازے کو قبر کے سامنے رکھا گیا اور پیامبر(صلّیالله علیه وآله) نے ان پر نماز پڑھی۔ چار افراد نے جن میں سے ایک سعد کا بھتیجا تھا، انہیں قبر میں اتارا۔ پھر رسول خدا(صلّیالله علیه وآله) خود قبر میں داخل ہوئے اور سعد کی لحد بنائی اور جب لحد بن گئی، تو فرمایا: "نرم مٹی دیں" اور اینٹوں کے درمیان تمام شگاف بند کیے۔ پھر فرمایا: "اگرچہ میں جانتا ہوں کہ جلد ہی ٹوٹ جائے گی لیکن خدا چاہتا ہے کہ اپنا بندہ جو بھی کام کرے، مضبوط اور اچھا کرے۔"
قبر کی لحدیں بن گئیں اور مٹی ڈال کر قبر ہموار کر دی گئی۔ سعد بن معاذ کی والدہ جو ایک طرف بیٹھی تھیں، کہا: ہنیئا لک الجنه؛ بهشت تمہارے لیے مبارک ہو۔ پیامبر(صلّیالله علیه وآله) نے فرمایا: "سعد کی ماں! خاموش رہو! تمہیں خدا سے کیا امید ہے؟ قبر نے سعد پر سخت دباؤ ڈالا"۔ اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت نے تین بار فرمایا: " سُبْحَانَ اَللَّهِ"، اور لوگوں نے بھی ان کی پیروی میں تین بار تسبیح پڑھی۔ وجہ پوچھی گئی؟ فرمایا: "ابھی قبر نے سعد پر ایسا دباؤ ڈالا کہ اگر کوئی اس دباؤ سے بچتا تو سعد بھی ان میں سے ہوتا"۔
لوگوں نے پوچھا: "یا رسول الله، آپ نے سعد کے بارے میں ایسا سلوک کیا جیسا کسی کے ساتھ نہیں کیا؛ ان کے جنازے کو ننگے پاؤں اور بغیر چادر کے تشییع فرمایا؟"
حضرت نے فرمایا: "چونکہ ملائکه بغیر چادر اور جوتے کے آئے تھے، میں نے بھی ان کی پیروی کی"۔
لوگوں نے کہا: آپ نے تابوت کے چاروں کونے کیوں پکڑے؟ فرمایا: "چونکہ میرا ہاتھ جبرئیل کے ہاتھ میں تھا اور جہاں وہ پکڑتے میں بھی پکڑتا"۔ کہا: اتنے احترام و تعظیم کے باوجود، فرمایا کہ سعد نے فشار قبر دیکھا؟ حضرت نے فرمایا: "ہاں، یہ اس لیے تھا کہ سعد اپنے گھر والوں کے ساتھ بدسلوکی کرتے تھے[16]"。[17]۔
حواله جات
- ↑ عباسی، حبیب، مقالہ «سعد بن معاذ»، دائرۃ المعارف صحابہ پیامبر اعظم، ج۵، ص۳۰۰
- ↑ ابناثیر، اسد الغابہ، ج۲، ص۳۱۳؛ ابنسعد، طبقات الکبریٰ، ج۳، ص۴۲۰؛ مزی، تہذیب الکمال، ج۱۰، ص۳۰۰؛ ابنعبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۱۶۸؛ طبری، تاریخ طبری، ج۳، ص۸۹۷-۸۹۸
- ↑ ابنسعد، طبقات الکبریٰ، ج۳، ص۴۲۱
- ↑ ابنسعد، طبقات الکبریٰ، ج۳، ص۴۲۰-۴۲۱
- ↑ ابنسعد، طبقات الکبریٰ، ج۳، ص۴۲۱.
- ↑ ابنحجر، تہذیب التہذیب، ج۳، ص۴۱۸
- ↑ تفسیر جامع البیان، ابن جریر طبری، ج۲، ص۷۲. اسی مضمون پر ہے: تفسیر التبیان، شیخ طوسی، ج۲، ص۴۶
- ↑ سورہ بقرہ آیۂ ۱۵۹-۱۶۰
- ↑ عباسی، حبیب، مقالہ «سعد بن معاذ»، دائرۃ المعارف صحابہ پیامبر اعظم، ج۵، ص۳۰۷.
- ↑ تاریخ الاسلام، ذہبی، ج۲، ص۳۲۷
- ↑ الطبقات الکبریٰ، ابن سعد، ج۳، ص۴۲۸؛ سیر اعلام النبلاء، ذہبی، ج۱، ص۲۸۶؛ تاریخ الاسلام، ذہبی، ج۲، ص۳۲۳
- ↑ مجمع البیان فی تفسیر القرآن، طبرسی، ج۸، ص۵۵۳
- ↑ سیر أعلام النبلاء، ذهبی، ج۱، ص۲۸۷؛ تاریخ الاسلام، ذهبی، ج۲، ص۳۲۶
- ↑ الطبقات الکبری، ابن سعد، ج۳، ص۴۲۸؛ تاریخ الاسلام، ذهبی، ج۲، ص۳۲۴
- ↑ الطبقات الکبری، ابن سعد، ج۳، ص۴۳۲؛ سیر اعلام النبلاء، ذهبی، ج۱، ص۲۸۹
- ↑ الامالی، شیخ صدوق، ج۱، ص۳۶۰؛ ألامالی، شیخ طوسی، ص۴۲۷، ح۹۵۵
- ↑ عباسی، حبیب، مقاله «سعد بن معاذ»، دایرة المعارف صحابه پیامبر اعظم، ج۵، ص۳۰۹-۳۱۰