مندرجات کا رخ کریں

"حضرت آدم" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Sajedi نے صفحہ مسودہ:حضرت آدم کو حضرت آدم کی جانب منتقل کیا
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
 
سطر 19: سطر 19:
'''حضرت آدم (علیہ السلام)'''، پہلے الہی پیغمبر اور تمام انسانوں کے باپ (ابوالبشر) ہیں۔ [[قرآن]] کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور انہیں تمام اسماء (ناموں) کی تعلیم دی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ آدم اور ان کی شریکِ حیات کا جنت سے ہبوط (زمین پر اتارے جانے) کا واقعہ بھی وہ معاملہ ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔
'''حضرت آدم (علیہ السلام)'''، پہلے الہی پیغمبر اور تمام انسانوں کے باپ (ابوالبشر) ہیں۔ [[قرآن]] کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور انہیں تمام اسماء (ناموں) کی تعلیم دی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ آدم اور ان کی شریکِ حیات کا جنت سے ہبوط (زمین پر اتارے جانے) کا واقعہ بھی وہ معاملہ ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔


[[ اسلام|دین اسلام]] میں آدم اور ان کی تخلیق کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے آدم پہلے پیغمبر ہیں اور جب [[مسلمان]] [[نبوت]] کے آغاز و اختتام کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اصطلاح <big>آدم سے خاتم تک</big> استعمال کرتے ہیں۔ کتبِ تفسیر، حدیث، تاریخ اور ادب میں آدم کے بارے میں جو کچھ بھی آیا ہے، وہ سب [[قرآن]] کی آیات پر مبنی ہے۔ [[قرآن|قرآن کریم]] میں آدم کا نام ۲۵ بار آیا ہے، لیکن ان کی تخلیق کی تفصیل سورہ سوره بقره، سوره اعراف، سوره حجر، سوره اسراء، طہ اور ص میں بیان کی گئی ہے۔
[[ اسلام|دین اسلام]] میں آدم اور ان کی تخلیق کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے آدم پہلے پیغمبر ہیں اور جب [[مسلمان]] [[نبوت]] کے آغاز و اختتام کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اصطلاح <big>آدم سے خاتم تک</big> استعمال کرتے ہیں۔ کتبِ تفسیر، حدیث، تاریخ اور ادب میں آدم کے بارے میں جو کچھ بھی آیا ہے،  
 
وہ سب [[قرآن]] کی آیات پر مبنی ہے۔ [[قرآن|قرآن کریم]] میں آدم کا نام ۲۵ بار آیا ہے، لیکن ان کی تخلیق کی تفصیل سورہ سوره بقره، سوره اعراف، سوره حجر، سوره اسراء، طہ اور ص میں بیان کی گئی ہے۔


== وجہِ تسمیہ (نام رکھنے کی وجہ) ==
== وجہِ تسمیہ (نام رکھنے کی وجہ) ==
سطر 28: سطر 30:


== حضرت آدم اللہ کے خلیفہ ==
== حضرت آدم اللہ کے خلیفہ ==
اس آیت میں لفظِ جانشین (خلیفہ) کے کیا معنی ہیں جہاں اللہ فرماتا ہے: "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں<ref>سورہ بقرہ آیہ(۲): ۳۰۔</ref>؟" مفسرین اس بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی اکثریت کا رجحان یہی ہے کہ آدم روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ (نائب) ہیں۔ اس سلسلے میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں، لیکن مفسرین کی بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ اللہ کے جانشین ہیں<ref>شیخ طوسی، ج۲، ص ۱۶۵۔</ref>۔
اس آیت میں لفظِ جانشین (خلیفہ) کے کیا معنی ہیں جہاں اللہ فرماتا ہے: "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں<ref>سورہ بقرہ آیہ(۲): ۳۰۔</ref>؟" مفسرین اس بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی اکثریت کا رجحان یہی ہے کہ آدم روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ (نائب) ہیں۔  
 
اس سلسلے میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں، لیکن مفسرین کی بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ اللہ کے جانشین ہیں<ref>شیخ طوسی، ج۲، ص ۱۶۵۔</ref>۔


== حضرت آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ اور فرشتوں کی گفتگو ==
== حضرت آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ اور فرشتوں کی گفتگو ==
آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ کی فرشتوں سے گفتگو میں فرشتوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے پروردگار سے کہا: "کیا تو زمین میں اسے پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے<ref>سورہ بقرہ (۲):آیہ ۳۰۔</ref>؟" فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ انسان اس کرہِ ارض پر ان دو بڑی بلاؤں (فساد اور خونریزی) میں مبتلا ہوں گے؟ مفسرین نے اس بارے میں مختلف روایات اور اقوال نقل کیے ہیں جن سے ایک یا دو سے زیادہ نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔
آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ کی فرشتوں سے گفتگو میں فرشتوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے پروردگار سے کہا: "کیا تو زمین میں اسے پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے<ref>سورہ بقرہ (۲):آیہ ۳۰۔</ref>؟"  
 
فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ انسان اس کرہِ ارض پر ان دو بڑی بلاؤں (فساد اور خونریزی) میں مبتلا ہوں گے؟ مفسرین نے اس بارے میں مختلف روایات اور اقوال نقل کیے ہیں جن سے ایک یا دو سے زیادہ نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔


طبری نے بہت سی روایات نقل کی ہیں اور ایک درجہ بندی میں ان اقوال کو یوں بیان کیا ہے:
طبری نے بہت سی روایات نقل کی ہیں اور ایک درجہ بندی میں ان اقوال کو یوں بیان کیا ہے:
سطر 47: سطر 53:


== حضرت آدم کے قالب میں اللہ کی روح پھونکنا ==
== حضرت آدم کے قالب میں اللہ کی روح پھونکنا ==
سورہ حجر اور ص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنی روح میں سے آدم میں پھونکا۔ دیگر مقامات پر بھی (آدم اور [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ]] کے حوالے سے) روح کی نسبت اللہ کی طرف دی گئی ہے۔ اللہ کی طرف روح کی نسبت کے کیا معنی ہیں؟ مفسرین نے اس نکتے کی طرف اشارے کیے ہیں۔
سورہ حجر اور ص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنی روح میں سے آدم میں پھونکا۔ دیگر مقامات پر بھی (آدم اور [[حضرت عیسی علیہ السلام|حضرت عیسیٰ]] کے حوالے سے) روح کی نسبت اللہ کی طرف دی گئی ہے۔  
 
اللہ کی طرف روح کی نسبت کے کیا معنی ہیں؟ مفسرین نے اس نکتے کی طرف اشارے کیے ہیں۔
 
ان افراد کے نزدیک، "پھونکنے" سے مراد کسی چیز میں ہوا جاری کرنا ہے اور یہاں اس سے مراد آدم کو جان عطا کر کے زندگی بخشنا ہے۔ روح کی نسبت اللہ کی طرف دینا آدم کی تکریم و اعزاز کے لیے ہے<ref>طوسی، ج۶، ص۳۲۳۔</ref>۔ اللہ سبحان نے آدم کی روح کو ان کی تشریف و تکریم کی خاطر اپنی طرف منسوب کیا<ref>فخررازی، ج۱۹، ص۱۸۲</ref>


ان افراد کے نزدیک، "پھونکنے" سے مراد کسی چیز میں ہوا جاری کرنا ہے اور یہاں اس سے مراد آدم کو جان عطا کر کے زندگی بخشنا ہے۔ روح کی نسبت اللہ کی طرف دینا آدم کی تکریم و اعزاز کے لیے ہے<ref>طوسی، ج۶، ص۳۲۳۔</ref>۔ اللہ سبحان نے آدم کی روح کو ان کی تشریف و تکریم کی خاطر اپنی طرف منسوب کیا<ref>فخررازی، ج۱۹، ص۱۸۲</ref> اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اس انسانی جان کو پیدا کیا جو جسم سے تعلق رکھتی ہے، نہ کہ یہ گمان کیا جائے کہ ہوا جیسی کوئی چیز انسانی جسم میں داخل ہوئی ہے<ref>طباطبائی، ج۱۲، ص ۱۵۴۔</ref>۔
اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اس انسانی جان کو پیدا کیا جو جسم سے تعلق رکھتی ہے، نہ کہ یہ گمان کیا جائے کہ ہوا جیسی کوئی چیز انسانی جسم میں داخل ہوئی ہے<ref>طباطبائی، ج۱۲، ص ۱۵۴۔</ref>۔


== حضرت آدم کا ہبوط ==
== حضرت آدم کا ہبوط ==
سطر 65: سطر 75:


== حضرت آدم اور حوا کا انتقال ==
== حضرت آدم اور حوا کا انتقال ==
بعض روایات کے مطابق، آدم (علیہ السلام) اپنے بیٹے ہابیل کی موت سے بے حد رنجیدہ ہوئے اور چالیس دن اور رات اس پر گریہ کیا۔ اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ میں ہابیل کے بدلے تمہیں ایک اور بیٹا عطا کروں گا۔ اس کے بعد حوّا حاملہ ہوئیں اور ایک پاکیزہ اور خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کا نام شیث یا ہبۃُ اللہ (یعنی اللہ کی عطا) رکھا گیا۔ بعض نے ہبۃُ اللہ کو عبرانی لفظ شیث کا عربی ترجمہ قرار دیا ہے۔
بعض روایات کے مطابق، آدم (علیہ السلام) اپنے بیٹے ہابیل کی موت سے بے حد رنجیدہ ہوئے اور چالیس دن اور رات اس پر گریہ کیا۔ اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ میں ہابیل کے بدلے تمہیں ایک اور بیٹا عطا کروں گا۔  
 
اس کے بعد حوّا حاملہ ہوئیں اور ایک پاکیزہ اور خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کا نام شیث یا ہبۃُ اللہ (یعنی اللہ کی عطا) رکھا گیا۔ بعض نے ہبۃُ اللہ کو عبرانی لفظ شیث کا عربی ترجمہ قرار دیا ہے۔
 
جب شیث جوان ہوئے تو اللہ کے حکم سے آدم نے انہیں اپنا وصی مقرر کیا، [[نبوت]] کے اسرار ان کے سپرد کیے اور [[انبیاء]] کی علامات ان کے حوالے کیں۔
 
انہوں نے اپنی تدفین اور تکفین کے بارے میں بھی وصیت کی اور فرمایا: جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، مجھ پر نماز میت پڑھنا اور میرے جسد کو تابوت میں رکھنا۔ اور جب تمہاری وفات کا وقت آئے تو جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا ہے اسے اپنے بہترین فرزندوں کے حوالے کرنا۔


جب شیث جوان ہوئے تو اللہ کے حکم سے آدم نے انہیں اپنا وصی مقرر کیا، [[نبوت]] کے اسرار ان کے سپرد کیے اور [[انبیاء]] کی علامات ان کے حوالے کیں۔ انہوں نے اپنی تدفین اور تکفین کے بارے میں بھی وصیت کی اور فرمایا: جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، مجھ پر نماز میت پڑھنا اور میرے جسد کو تابوت میں رکھنا۔ اور جب تمہاری وفات کا وقت آئے تو جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا ہے اسے اپنے بہترین فرزندوں کے حوالے کرنا۔
حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے ۹۳۰ سال، بعض ۹۳۶ سال، بعض ۱۰۰۰ سال، بعض ۱۰۲۰ سال اور بعض ۱۰۴۰ سال بیان کیے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی میت کو سرزمینِ مکہ میں کوه ابوقبیس کی غار (کعبہ کے قریب) میں دفن کیا گیا۔


حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے ۹۳۰ سال، بعض ۹۳۶ سال، بعض ۱۰۰۰ سال، بعض ۱۰۲۰ سال اور بعض ۱۰۴۰ سال بیان کیے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی میت کو سرزمینِ مکہ میں کوه ابوقبیس کی غار (کعبہ کے قریب) میں دفن کیا گیا۔ ڈیڑھ ہزار سال بعد، [[حضرت نوح|حضرت نوح (علیہ السلام)]] نے طوفان کے وقت آدم کی میت کو کوہِ ابوقبیس کی غار سے نکالا، اپنے ساتھ کوفہ لے گئے اور غری (موجودہ [[نجف]]) میں دفن کیا۔ اسی کی طرف اشارہ زیارت‌نامه [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین (علیہ السلام)]] میں یوں ملتا ہے:
ڈیڑھ ہزار سال بعد، [[حضرت نوح|حضرت نوح (علیہ السلام)]] نے طوفان کے وقت آدم کی میت کو کوہِ ابوقبیس کی غار سے نکالا، اپنے ساتھ کوفہ لے گئے اور غری (موجودہ [[نجف]]) میں دفن کیا۔ اسی کی طرف اشارہ زیارت‌نامه [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین (علیہ السلام)]] میں یوں ملتا ہے:


'''السلام علیک و علی ضجیعیک آدم و نوح؛'''   
'''السلام علیک و علی ضجیعیک آدم و نوح؛'''   

حالیہ نسخہ بمطابق 15:58، 29 اپريل 2026ء

حضرت آدم
نامآدم
القاب
  • صفی الله
کنیت
  • ابوالبشر
ہمسر
  • حوا
اولاد
  • هابیل، شیث و قابیل
مدفننجف عراق

حضرت آدم (علیہ السلام)، پہلے الہی پیغمبر اور تمام انسانوں کے باپ (ابوالبشر) ہیں۔ قرآن کے مطابق، اللہ تعالیٰ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا اور انہیں تمام اسماء (ناموں) کی تعلیم دی، پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔ آدم اور ان کی شریکِ حیات کا جنت سے ہبوط (زمین پر اتارے جانے) کا واقعہ بھی وہ معاملہ ہے جس کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔

دین اسلام میں آدم اور ان کی تخلیق کا موضوع انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام کے نقطہ نظر سے آدم پہلے پیغمبر ہیں اور جب مسلمان نبوت کے آغاز و اختتام کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں تو اصطلاح آدم سے خاتم تک استعمال کرتے ہیں۔ کتبِ تفسیر، حدیث، تاریخ اور ادب میں آدم کے بارے میں جو کچھ بھی آیا ہے،

وہ سب قرآن کی آیات پر مبنی ہے۔ قرآن کریم میں آدم کا نام ۲۵ بار آیا ہے، لیکن ان کی تخلیق کی تفصیل سورہ سوره بقره، سوره اعراف، سوره حجر، سوره اسراء، طہ اور ص میں بیان کی گئی ہے۔

وجہِ تسمیہ (نام رکھنے کی وجہ)

آدم کے معنی ہیں "سرخ مٹی"؛ انہیں زمینی اجزاء سے پیدا کیا گیا اور ان میں جان ڈالی گئی۔ اداما ایک عبرانی لفظ ہے جس کے معنی گرد و غبار یا قابلِ کاشت زمین کے ہیں اور لفظ "آدم" کے اشتقاق کا مآخذ یہی ہے[1]۔

امام علی (علیہ السلام) سے ایک حدیث میں آدم اور حوا کے نام رکھنے کی وجہ کے بارے میں منقول ہے: «إنّما سُمّیَ آدَمُ آدَمَ لأنّهُ خُلِقَ مِن أدیمِ الأرضِ۔[2]»۔ آدم کو "آدم" اس لیے کہا گیا کیونکہ وہ زمین کی اوپری سطح (ادیم) سے پیدا کیے گئے۔

حضرت آدم اللہ کے خلیفہ

اس آیت میں لفظِ جانشین (خلیفہ) کے کیا معنی ہیں جہاں اللہ فرماتا ہے: "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں[3]؟" مفسرین اس بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں، اگرچہ ان کی اکثریت کا رجحان یہی ہے کہ آدم روئے زمین پر اللہ کے خلیفہ (نائب) ہیں۔

اس سلسلے میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں، لیکن مفسرین کی بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ وہ اللہ کے جانشین ہیں[4]۔

حضرت آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ اور فرشتوں کی گفتگو

آدم کی تخلیق کے بارے میں اللہ کی فرشتوں سے گفتگو میں فرشتوں کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے پروردگار سے کہا: "کیا تو زمین میں اسے پیدا کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزی کرے[5]؟"

فرشتوں کو کیسے علم ہوا کہ انسان اس کرہِ ارض پر ان دو بڑی بلاؤں (فساد اور خونریزی) میں مبتلا ہوں گے؟ مفسرین نے اس بارے میں مختلف روایات اور اقوال نقل کیے ہیں جن سے ایک یا دو سے زیادہ نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔

طبری نے بہت سی روایات نقل کی ہیں اور ایک درجہ بندی میں ان اقوال کو یوں بیان کیا ہے:

بعض کا کہنا ہے کہ انسانوں سے پہلے زمین پر جنات آباد تھے جو وہاں فساد اور خونریزی کرتے تھے، فرشتوں نے آدم اور ان کی ذریت کے مستقبل کو ان پر قیاس کیا۔

بعض کا کہنا ہے کہ خود اللہ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں، انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسا ہوگا؟ اللہ نے فرمایا کہ وہ فساد اور خونریزی کرے گا۔ انہوں نے پوچھا کہ پھر تو اسے کیوں پیدا کر رہا ہے؟ اللہ نے فرمایا کہ میں نے آدمیوں کی فطرت میں بہت سی خوبیاں اور نیکیاں رکھی ہیں جن کا تمہیں علم نہیں۔

بعض کا کہنا ہے کہ اللہ نے آدم کی تخلیق سے پہلے ان کے بارے میں کچھ معلومات فرشتوں کو دے دی تھیں اور کچھ دیگر معلومات چھپا لی تھیں، اور فرشتوں نے اسی معلومات کی بنیاد پر وہ سوال کیا[6]۔

فضل بن حسن طبرسی کہتے ہیں کہ اس بارے میں ۳ اقوال ہیں:

  1. انسانوں سے پہلے جنات زمین پر تھے اور انہوں نے فساد و خونریزی کی تھی، چنانچہ فرشتوں نے ان کے عمل کو انسان کے مستقبل کا پیمانہ بنا لیا۔
  2. فرشتوں نے محض استفہامیہ طور پر ایسا کہا، یعنی: اے پروردگار، کیا انسانی نسل میں فساد اور خونریزی کا امکان ہوگا یا نہیں؟
  3. خود اللہ نے انہیں بتا دیا تھا کہ ایسا ہوگا، لیکن آدم کی تخلیق کے دیگر فوائد ان سے پوشیدہ رکھے تھے تاکہ وہ اللہ کی حکمت اور علم پر مزید یقین حاصل کر سکیں[7]۔

حضرت آدم کے قالب میں اللہ کی روح پھونکنا

سورہ حجر اور ص میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنی روح میں سے آدم میں پھونکا۔ دیگر مقامات پر بھی (آدم اور حضرت عیسیٰ کے حوالے سے) روح کی نسبت اللہ کی طرف دی گئی ہے۔

اللہ کی طرف روح کی نسبت کے کیا معنی ہیں؟ مفسرین نے اس نکتے کی طرف اشارے کیے ہیں۔

ان افراد کے نزدیک، "پھونکنے" سے مراد کسی چیز میں ہوا جاری کرنا ہے اور یہاں اس سے مراد آدم کو جان عطا کر کے زندگی بخشنا ہے۔ روح کی نسبت اللہ کی طرف دینا آدم کی تکریم و اعزاز کے لیے ہے[8]۔ اللہ سبحان نے آدم کی روح کو ان کی تشریف و تکریم کی خاطر اپنی طرف منسوب کیا[9]

اور اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے اس انسانی جان کو پیدا کیا جو جسم سے تعلق رکھتی ہے، نہ کہ یہ گمان کیا جائے کہ ہوا جیسی کوئی چیز انسانی جسم میں داخل ہوئی ہے[10]۔

حضرت آدم کا ہبوط

حضرت آدم (علیہ السلام) اور ان کی زوجہ حوا نے ممنوعہ پھل کھانے کے بعد، شیطان کے ساتھ جنت سے زمین پر ہبوط (بلندی سے اترنا) کیا۔ آدم کی جنت کی نوعیت، ہبوط کا طریقہ اور ممنوعہ پھل کھانے کی حکمت کے بارے میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔ قرآن اور تورات میں ہبوط کی جگہ متعین نہیں کی گئی۔ اسلامی روایات میں اس سلسلے میں متعدد نظریات بیان ہوئے ہیں۔

امام علی (علیہ السلام) سے منسوب ایک روایت کے مطابق، آدم ہندوستان کے سراندیب پہاڑ پر اور حوّا جدہ میں نازل ہوئیں[11]۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ آدم کوہِ صفا پر اور حوّا مروه پر اتریں، اور صفا کا نام آدم کے لقب صفیُّ اللہ کی مناسبت سے رکھا گیا، جبکہ مروہ کا نام اس عورت (مرأہ) کے وہاں ہبوط کرنے کی وجہ سے پڑا[12]۔

روایات میں سب سے مشہور قول یہ ہے کہ آدم اور حوّا سرزمینِ مکہ میں نازل ہوئے[13]۔ بعض علماء نے روایات میں تطبیق دینے کے لیے ہبوط کو دو مرحلوں پر مشتمل قرار دیا ہے: پہلے سراندیب میں اور پھر مکہ میں[14]۔

بعض روایات میں، آدم (علیہ السلام) کے ساتھ حجرالاسود کے جنت سے ہبوط کا بھی ذکر آیا ہے[15]۔ دیگر روایات میں مطلق طور پر آدم (علیہ السلام) کے لیے حجر الاسود کے نزول کا ذکر کیا گیا ہے[16]۔

آدم کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں یہ بھی نقل ہوا ہے کہ نزول قرآن جبرئیل کعبہ میں ہوا، جس کا نور پورے حرم میں پھیل گیا۔ اس کے بعد آدم کو حکم دیا گیا کہ وہ یومِ ترویہ غسل کریں، احرام باندھیں اور منا میں رات بسر کریں۔ آخرکار عرفات میں جبرئیل نے انہیں کچھ کلمات سکھائے جن کے پڑھنے سے ان کی توبہ قبول ہوئی، اور پھر انہوں نے باقی اعمالِ حج ادا کیے[17]۔

حضرت آدم اور حوا کا انتقال

بعض روایات کے مطابق، آدم (علیہ السلام) اپنے بیٹے ہابیل کی موت سے بے حد رنجیدہ ہوئے اور چالیس دن اور رات اس پر گریہ کیا۔ اللہ نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ میں ہابیل کے بدلے تمہیں ایک اور بیٹا عطا کروں گا۔

اس کے بعد حوّا حاملہ ہوئیں اور ایک پاکیزہ اور خوبصورت بیٹے کو جنم دیا جس کا نام شیث یا ہبۃُ اللہ (یعنی اللہ کی عطا) رکھا گیا۔ بعض نے ہبۃُ اللہ کو عبرانی لفظ شیث کا عربی ترجمہ قرار دیا ہے۔

جب شیث جوان ہوئے تو اللہ کے حکم سے آدم نے انہیں اپنا وصی مقرر کیا، نبوت کے اسرار ان کے سپرد کیے اور انبیاء کی علامات ان کے حوالے کیں۔

انہوں نے اپنی تدفین اور تکفین کے بارے میں بھی وصیت کی اور فرمایا: جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو مجھے غسل دینا، کفن پہنانا، مجھ پر نماز میت پڑھنا اور میرے جسد کو تابوت میں رکھنا۔ اور جب تمہاری وفات کا وقت آئے تو جو کچھ میں نے تمہیں سکھایا ہے اسے اپنے بہترین فرزندوں کے حوالے کرنا۔

حضرت آدم (علیہ السلام) کی عمر کے بارے میں اختلاف ہے؛ بعض نے ۹۳۰ سال، بعض ۹۳۶ سال، بعض ۱۰۰۰ سال، بعض ۱۰۲۰ سال اور بعض ۱۰۴۰ سال بیان کیے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) کی میت کو سرزمینِ مکہ میں کوه ابوقبیس کی غار (کعبہ کے قریب) میں دفن کیا گیا۔

ڈیڑھ ہزار سال بعد، حضرت نوح (علیہ السلام) نے طوفان کے وقت آدم کی میت کو کوہِ ابوقبیس کی غار سے نکالا، اپنے ساتھ کوفہ لے گئے اور غری (موجودہ نجف) میں دفن کیا۔ اسی کی طرف اشارہ زیارت‌نامه امیرالمؤمنین (علیہ السلام) میں یوں ملتا ہے:

السلام علیک و علی ضجیعیک آدم و نوح؛ سلام ہو آپ پر اور آپ کے پہلو میں مدفون آدم اور نوح پر۔

آدم کی وفات کے بعد، حوّا ایک سال اور پندرہ دن بیمار رہیں اور وفات پا گئیں، اور آدم کے پہلو میں دفن ہوئیں[18][19]۔ بعض تاریخی کتب میں حوّا کی بیماری کی مدت پندرہ دن ذکر کی گئی ہے۔

متعلقہ موضوعات

حوالہ جات

  1. (تورات، سفر تکوین 2:7) (قاموس مقدس در لغات: «آدم» و «زمین»)۔ حجة التفاسیر و بلاغ الإکسیر (سید عبدالحجت بلاغی)، جلد دوم تعلیقہ، ص 541۔
  2. بحارالانوار (علامہ مجلسی)، ج 11، ص 102۔
  3. سورہ بقرہ آیہ(۲): ۳۰۔
  4. شیخ طوسی، ج۲، ص ۱۶۵۔
  5. سورہ بقرہ (۲):آیہ ۳۰۔
  6. تفسیر، ج۱، ص ۱۵۸ ۱۶۶۔
  7. شیخ طوسی، ج۱، ص ۷۴۔
  8. طوسی، ج۶، ص۳۲۳۔
  9. فخررازی، ج۱۹، ص۱۸۲
  10. طباطبائی، ج۱۲، ص ۱۵۴۔
  11. علل الشرائع، ج۲، ص۵۹۵؛ کشف‌الاسرار، ج‌۱، ص‌۱۵۱؛ التفسیر الکبیر، ج‌۳، ص‌۲۷؛ بحار الانوار، ج۱۱، ص۱۱۱؛ ج۶۱، ص۲۷۴۔
  12. الکافی، ج۴، ص۱۹۰؛ المیزان، ج‌۱، ص‌۱۳۹۔
  13. تفسیر عیاشی، ج‌۱، ص‌۳۶–۳۹؛ تفسیر ابن ابی حاتم، ج۱، ص۸۸؛ الکافی، ج۴، ص۱۹۰۔
  14. المیزان، ج‌۱، ص‌۱۵۰۔
  15. کمال الدین، ص۲۹۴، ۲۹۸؛ تفسیر العز بن عبدالسلام، ج۳، ص۲۸۹۔
  16. الکافی، ج۴، ص۱۸۵؛ علل الشرایع، ج۲، ص۳۱۸۔
  17. تفسیر قمی، ج۱، ص۴۴–۴۵۔
  18. بعض لوگوں میں یہ مشہور ہے کہ حوا جدہ میں مدفون ہیں اور اسی وجہ سے اس شہر کا نام جدہ رکھا گیا، مگر یہ قول بظاہر بے بنیاد ہے؛ کیونکہ لغت میں جدہ کے معنی سمندر یا نہر کے کنارے کے ہیں، اور شہر کا نام بھی اسی سبب سے رکھا گیا ہے۔
  19. سعدالسعود، ص ۳۷۔