"مشرق وسطی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
[[فائل:خاورمیانه.jpg|تصغیر|بائیں|]] | [[فائل:خاورمیانه.jpg|تصغیر|بائیں|]] | ||
'''مشرقِ وسطیٰ''' (عربی: «الشرق الأوسط») مغربی ایشیا اور شمال مشرقی | '''مشرقِ وسطیٰ''' (عربی: «الشرق الأوسط») مغربی ایشیا اور شمال مشرقی افریقہ کا ایک خطہ ہے۔ یہ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ ہے، اور وہ سرزمین جہاں زرتشتیت، مسیحیت، یہودیت اور [[اسلام]] جیسے چار بڑے مذاہب نے جنم لیا۔ یہ خطہ بیشتر پیغمبروں کا جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے دنیا کے سب سے زیادہ مذہبی علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں لاتعداد مقدس مقامات موجود ہیں۔ فی الحال یہ علاقہ سیاسی بے امنی اور انقلابات کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ صدی میں تیل کے وسیع ذخائر کی موجودگی نے مشرقِ وسطیٰ کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔ | ||
مشرقِ وسطیٰ سے مراد بحیرۂ روم اور [[خلیج فارس]] کے درمیان کے علاقے ہیں۔ اس خطے کو | مشرقِ وسطیٰ سے مراد بحیرۂ روم اور [[خلیج فارس]] کے درمیان کے علاقے ہیں۔ اس خطے کو افریقہ-یوریشیا یا خاص طور پر ایشیا کا حصہ شمار کیا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں شمالی افریقہ کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ | ||
ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث موجود ہے، کیونکہ بعض اسے جنوبی ایشیا یا وسطی ایشیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ | ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث موجود ہے، کیونکہ بعض اسے جنوبی ایشیا یا وسطی ایشیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔ | ||
== مشرقِ وسطیٰ کا تعارف == | == مشرقِ وسطیٰ کا تعارف == | ||
"مشرقِ وسطیٰ" کی اصطلاح سب سے پہلے امریکی بحریہ کے مورخ اور جغرافیہ دان | "مشرقِ وسطیٰ" کی اصطلاح سب سے پہلے امریکی بحریہ کے مورخ اور جغرافیہ دان الفریڈ ماہان (Alfred Mahan) نے ۱۹۰۲ء میں استعمال کی۔ وہ یورپ کے نقطۂ نظر سے اس علاقے کو دیکھ رہے تھے اور ان کے خیال میں "مشرقِ بعید" اور "مشرقِ قریب" کی اصطلاحات اس خطے کے لیے مناسب نہیں تھیں، اس لیے انہوں نے [[خلیج فارس]] کے گرد و نواح کے علاقے کے لیے یہ اصطلاح وضع کی<ref>Alasdair Drysdale and Gerald Henry Blake, The Middle East andNorth Africa: a political geography, New York 1985, Vol. 1, pp. 19-20.</ref>۔ | ||
۲۲ مارچ ۱۹۱۱ء کو، برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایران، ترکی اور خلیج فارس کے مسائل پر بحث کے دوران، | ۲۲ مارچ ۱۹۱۱ء کو، برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایران، ترکی اور خلیج فارس کے مسائل پر بحث کے دوران، لارڈ کرزن (Lord Curzon) نے اس اصطلاح کو استعمال کیا<ref>Peter Beaumont, Gerald Henry Blake, Vol. 1, pp. 1-2, and John Malcolm Goustaf.</ref>۔ [[پہلی عالمی جنگ]] (۱۹۱۴-۱۹۱۸) کے دوران، [[ہندوستان]] کے راستے عراق بھیجے جانے والے اتحادی افواج کو "مشرقِ وسطیٰ کی افواج" کہا گیا۔ اسی طرح [[دوسری عالمی جنگ]] (۱۹۳۹-۱۹۴۵) کے آغاز میں قاہرہ میں برطانوی فوجی کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو "مشرقِ وسطیٰ کمانڈ" کا نام دیا گیا، اور بتدریج یہ اصطلاح عام ہو گئی۔<ref>Ewan W Anderson, The Middle East: geography and geopolitics, London 2000, Vol. 1, p. 12.</ref> | ||
== جغرافیہ == | == جغرافیہ == | ||
ایشیا کے اس علاقے کو جو مشرقِ وسطیٰ یا جنوب مغربی ایشیا کے نام سے جانا جاتا ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: شمالی حصہ جس میں | ایشیا کے اس علاقے کو جو مشرقِ وسطیٰ یا جنوب مغربی ایشیا کے نام سے جانا جاتا ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: شمالی حصہ جس میں ترکی اور [[ایران]] شامل ہیں، اور جنوبی حصہ جس میں جزیرہ نما عرب شامل ہے۔ شمالی حصے کو ایک زین کے ornaments سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس کا مرکز قفقاز کے جنوب میں واقع ہے، اور اس کا مغربی یا بائیں حصہ اناطولیہ (موجودہ ترکی) پر مشتمل ہے۔ اس زین کا مشرقی یا دائیں حصہ ایران ہے، جو خود ایک بلند سطح مرتفع (Plateau) ہے جس کا ڈھلوان مشرق کی طرف ہے اور اس کے چاروں طرف بلند پہاڑی سلسلے ہیں۔ جزیرہ نما عرب یا جنوب مغربی ایشیا کا جنوبی حصہ بہت سادہ ساخت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک عظیم بلاک سے تشکیل پایا ہے جس کے ابھارے ہوئے حصے بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر کے قریب نظر آتے ہیں۔ ایشیا کا دوسرا بڑا علاقہ عظیم برصغیر [[ہندوستان|ہند]] اور [[پاکستان]] پر مشتمل ہے، جسے شمال مغربی سمت میں سلیمان پہاڑی سلسلے، شمال میں قراقرم-ہمالیہ، اور مشرق میں آراکان اور یوما پہاڑی سلسلے دیگر علاقوں سے جدا کرتے ہیں<ref>محمد حسن گنجی (بہار 2537 شاہنشاہی). «زمین کا جغرافیائی مطالعہ ایک قدرتی وسیلہ کے طور پر ایشیا کے نمونوں کے ساتھ». جغرافیا (انجمن جغرافیہ دانان ایران کا جریدہ). انجمن جغرافیہ دانان ایران.</ref>۔ | ||
جیسی وہیلر (Jessie Wheeler) نے اپنی کتاب "Global Geography" (Important Geographical Regions) میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں لکھا ہے: | جیسی وہیلر (Jessie Wheeler) نے اپنی کتاب "Global Geography" (Important Geographical Regions) میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں لکھا ہے: | ||
| سطر 19: | سطر 19: | ||
== سرحدیں == | == سرحدیں == | ||
مشرقِ وسطیٰ کے کل 18 ممالک میں سے 13 عرب ممالک ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک [[مصر]]، [[ایران]] اور | مشرقِ وسطیٰ کے کل 18 ممالک میں سے 13 عرب ممالک ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک [[مصر]]، [[ایران]] اور ترکی ہیں، جبکہ اس علاقے کا سب سے وسیع ملک [[سعودی عرب]] ہے۔ | ||
=== مشرقِ وسطیٰ کے علاقے اور قلمرو === | === مشرقِ وسطیٰ کے علاقے اور قلمرو === | ||
1. ایران کا سطح مرتفع؛ | 1. ایران کا سطح مرتفع؛ | ||
2. اناطولیہ؛ | 2. اناطولیہ؛ | ||
3. | 3. بین النہرین؛ | ||
4. [[شام | 4. [[شام |شام]]؛ | ||
5. | 5. جزیرہ نما عرب اور [[خلیج فارس]] کے اطراف کے ممالک بشمول [[سعودی عرب]]، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، [[عراق]]، بحرین، [[یمن]] اور کویت؛ | ||
6. مصر<ref>"Historical Dictionary of Middle Eastern Intelligence - Ephraim Kahana, Muhammad Suwaed - Google Books". web.archive.org. 2015-12-23. Retrieved 2021-02-13.</ref>۔ | 6. مصر<ref>"Historical Dictionary of Middle Eastern Intelligence - Ephraim Kahana, Muhammad Suwaed - Google Books". web.archive.org. 2015-12-23. Retrieved 2021-02-13.</ref>۔ | ||
== مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ == | == مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ == | ||
مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ یہاں انسان کی اولین دریافتیں ہوئیں، اور اسی سرزمین پر جدید انسان (Homo sapiens) کے افریقی آباء و اجداد اور | مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ یہاں انسان کی اولین دریافتیں ہوئیں، اور اسی سرزمین پر جدید انسان (Homo sapiens) کے افریقی آباء و اجداد اور نی اینڈرٹل انسان کے درمیان پہلی ملاقاتیں ہوئیں<ref>Humans and Neanderthals likely interbred in the Middle East sciencemag.org</ref>۔ دنیا کے اولین قوانین (حمورابی کا قانون) اسی خطے میں لکھے گئے۔ | ||
بیسویں صدی کے وسط سے، مشرقِ وسطیٰ عالمی توجہ کا مرکز اور شاید دنیا کا سب سے حساس علاقہ بن گیا، جو سٹریٹیجک، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے اہم ہے۔ یہ عرب-اسرائیل تنازع کا میدان بھی رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ | بیسویں صدی کے وسط سے، مشرقِ وسطیٰ عالمی توجہ کا مرکز اور شاید دنیا کا سب سے حساس علاقہ بن گیا، جو سٹریٹیجک، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے اہم ہے۔ یہ عرب-اسرائیل تنازع کا میدان بھی رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ یہودیت]، مسیحیت، [[اسلام]] جیسے بڑے مذاہب کا جائے پیدائش ہونے کے ساتھ ساتھ زرتشتیت، مہر پرستی اور مانویت جیسے غیر ابراہیمی مذاہب کا بھی مسکن رہا ہے۔ | ||
یہ کہنا مشکل ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پوری تاریخ مشترک ہے، حالانکہ ثقافتی خصوصیات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حبیب برجیاں (Habib Borjian) نے مشرقِ وسطیٰ کو "ثقافتی براعظم" (Cultural Continent) کا نام دیا ہے، اور ان کے خیال میں ایران کا اس خطے کی تاریخ اور ثقافت میں، خاص طور پر | یہ کہنا مشکل ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پوری تاریخ مشترک ہے، حالانکہ ثقافتی خصوصیات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حبیب برجیاں (Habib Borjian) نے مشرقِ وسطیٰ کو "ثقافتی براعظم" (Cultural Continent) کا نام دیا ہے، اور ان کے خیال میں ایران کا اس خطے کی تاریخ اور ثقافت میں، خاص طور پر ہخامنشی سلطنت اور صفوی سلطنت سے قبل کے ادوار میں، نمایاں کردار رہا ہے<ref>برجیان، حبیب، «ایران در قاره فرهنگی خاور میانه»، پر، شمارههای ۹۸–۹۹، ۱۳۸۱.</ref>۔ | ||
== مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت اور سٹریٹیجک پوزیشن == | == مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت اور سٹریٹیجک پوزیشن == | ||
=== تاریخی اور مذہبی اہمیت === | === تاریخی اور مذہبی اہمیت === | ||
مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ | مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ یہودیت، مسیحیت اور [[اسلام]] جیسے اہم مذاہب کا جائے پیدائش ہے۔ ان تینوں مذاہب کے مقدس مقامات بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ انسان کی اولین دریافتیں یہاں ہوئیں۔ دنیا کے اولین قوانین یہاں لکھے گئے۔ | ||
=== اقتصادی اہمیت === | === اقتصادی اہمیت === | ||
اگرچہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کا دل یعنی خلیج فارس کا علاقہ قدیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا حامل ہے، لیکن اس خطے کو دنیا میں جو اہمیت حاصل ہے وہ اس کے وسیع توانائی کے ذخائر، بالخصوص | اگرچہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کا دل یعنی [[خلیج فارس]] کا علاقہ قدیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا حامل ہے، لیکن اس خطے کو دنیا میں جو اہمیت حاصل ہے وہ اس کے وسیع توانائی کے ذخائر، بالخصوص تیل کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک ایسا امتیاز ہے جس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، اور یہ خطہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی ذخائر کا حامل ہے۔ خلیج فارس کے ممالک کے تسلیم شدہ تیل کے ذخائر 360 بلین بیرل ہیں، جو دنیا کے کل تیل ذخائر کا 64% ہے۔ سب سے زیادہ تیل کے ذخائر بالترتیب سعودی عرب (163.2 بلین بیرل)، کویت (65.4 بلین)، [[عراق]] (59 بلین)، [[ایران]] (56 بلین)، متحدہ عرب امارات (7.5 بلین)، قطر (3.7 بلین) اور بحرین (2.4 بلین) میں ہیں۔ اس طرح ان ممالک کی تیل سے آمدنی 1973ء سے 1993ء تک دو ہزار پانچ سو بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (IPAA) کی رپورٹ کے مطابق، اوپیک کے رکن ممالک 8.4 بلین بیرل کے ذخائر کے ساتھ دنیا کے کل تیل ذخائر کا تقریباً 78% رکھتے ہیں، جبکہ دنیا کے کل تیل کی کھپت کا صرف 6.5% ان ممالک میں ہوتا ہے۔ | ||
اس میں سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، ایران اور | اس میں سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، ایران اور وینزویلا جیسے ممالک کے پاس دنیا کے 70% ذخائر ہیں۔ خلیج فارس کے پانچ بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک (سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، ایران) جو اوپیک کے تقریباً 81% ذخائر کے حامل ہیں، خام تیل کے سب سے اہم پروڈیوسر اور ایکسپورٹر ہیں۔ ان کے بغیر نہ تو اوپیک اور اس کے ڈھانچے کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی عالمی تیل کی مارکیٹ کا تجزیہ اور اس کے مستقبل کے رجحانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس موازنے میں، امریکہ اکیلا دنیا کے کل تیل کی پیداوار کا 25% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، جبکہ اس کے پاس دنیا کے کل تیل ذخائر کا 3% سے بھی کم ہے۔ یورپ، جس کے پاس دنیا کے کل تیل ذخائر کا 12% سے بھی کم ہے، وہ دنیا کی کل تیل کی کھپت کا 21% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، اور جاپان، جو دنیا کے کل تیل کی کھپت کا 7% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، بنیادی طور پر تیل کے ذخائر سے محروم ہے۔ | ||
خلیج فارس کے ممالک، بشمول ایران، کی معیشت کی 95% سے 100% تک تیل کی برآمدات پر انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے، مندرجہ ذیل دو نکات زیادہ اہم ہیں: | خلیج فارس کے ممالک، بشمول ایران، کی معیشت کی 95% سے 100% تک تیل کی برآمدات پر انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے، مندرجہ ذیل دو نکات زیادہ اہم ہیں: | ||
1. خلیج فارس کے ممالک، بشمول ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک، تیل کی بھاری آمدنی کے باوجود ابھی تک صنعتی ہونے سے بہت دور ہیں۔ | 1. [[خلیج فارس]] کے ممالک، بشمول [[ایران]] اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک، تیل کی بھاری آمدنی کے باوجود ابھی تک صنعتی ہونے سے بہت دور ہیں۔ | ||
2. یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کی سلامتی اور تیل کی ترسیل، علاقے کے ممالک اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے کتنی بنیادی اور اہم ہے۔ تیل کس طرح ایک اسٹریٹیجک شے بن گیا ہے اور اس نے تیسری صدی ہجری میں خلیج فارس کو ایک منفرد پوزیشن دی ہے جس کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ | 2. یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کی سلامتی اور تیل کی ترسیل، علاقے کے ممالک اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے کتنی بنیادی اور اہم ہے۔ تیل کس طرح ایک اسٹریٹیجک شے بن گیا ہے اور اس نے تیسری صدی ہجری میں خلیج فارس کو ایک منفرد پوزیشن دی ہے جس کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ | ||
* اس کے علاوہ، پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے 25 سالوں میں، ایران، سعودی | * اس کے علاوہ، پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے 25 سالوں میں، ایران، [[سعودی عرب]]، عراق اور کویت کے چار بڑے ممالک کے علاوہ باقی دنیا کے تیل کے ذخائر ختم ہو جائیں گے، اور وہ ممالک جن کے پاس فی الحال تیل ہے، وہ مستقبل میں خلیج فارس کے تیل کے محتاج ہوں گے۔ البتہ، تیل کے ذخائر کا حامل ہونا خود ایک موقع نہیں ہے، کیونکہ اس موقع سے سب سے زیادہ فائدہ مغرب، خاص طور پر [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] نے تیل کے استعمال اور ذخیرہ اندوزی میں اٹھایا ہے۔ | ||
خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک میں تیل کی پیداوار کے علاوہ، قدرتی گیس کے ذخائر بھی اس علاقے کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ خلیج فارس کے ممالک دنیا کے کل قدرتی گیس کے ذخائر کا تقریباً 30% رکھتے ہیں، اور ایران، جو گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اس کی پیداوار اور استخراج کے لحاظ سے خلیج فارس کے ممالک میں سرفہرست ہے۔ پیٹرو کیمیکل صنعت کے لحاظ سے بھی مشرقِ وسطیٰ کا خطہ دنیا کی معیشت اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی مصنوعات کا 1/4 حصہ مشرقِ وسطیٰ کی پیٹرو کیمیکل صنعت سے پورا ہوتا ہے، اور سالانہ 330,000 ٹن یوریا، 100,000 ٹن سلفورک ایسڈ، اور 20,000 ٹن میلامین، اور روزانہ پانچ ہزار ٹن امونیا اور میتھانول خلیج فارس کے ممالک سے [[ | خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک میں تیل کی پیداوار کے علاوہ، قدرتی گیس کے ذخائر بھی اس علاقے کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ خلیج فارس کے ممالک دنیا کے کل قدرتی گیس کے ذخائر کا تقریباً 30% رکھتے ہیں، اور ایران، جو گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اس کی پیداوار اور استخراج کے لحاظ سے خلیج فارس کے ممالک میں سرفہرست ہے۔ پیٹرو کیمیکل صنعت کے لحاظ سے بھی مشرقِ وسطیٰ کا خطہ دنیا کی معیشت اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی مصنوعات کا 1/4 حصہ مشرقِ وسطیٰ کی پیٹرو کیمیکل صنعت سے پورا ہوتا ہے، اور سالانہ 330,000 ٹن یوریا، 100,000 ٹن سلفورک ایسڈ، اور 20,000 ٹن میلامین، اور روزانہ پانچ ہزار ٹن امونیا اور میتھانول خلیج فارس کے ممالک سے یورپ، [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] اور اوقیانوسیہ کو برآمد کیے جاتے ہیں۔ | ||
=== اسٹریٹیجک اور فوجی اہمیت === | === اسٹریٹیجک اور فوجی اہمیت === | ||
مشرقِ وسطیٰ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے تین بڑے براعظموں کے سنگم پر واقع ہے اور ایسے علاقوں اور آبی گزرگاہوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے سب سے اہم جغرافیائی اسٹریٹیجک علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بحیرۂ احمر، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن، بحیرۂ اسود اور خلیج فارس جیسے سمندروں کے ساتھ بحر اوقیانوس اور بحر ہند سے قربت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی سٹریٹیجک اور فوجی اہمیت ہمیشہ سے عالمی طاقت کے مراکز کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس کے علاوہ، | مشرقِ وسطیٰ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے تین بڑے براعظموں کے سنگم پر واقع ہے اور ایسے علاقوں اور آبی گزرگاہوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے سب سے اہم جغرافیائی اسٹریٹیجک علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بحیرۂ احمر، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن، بحیرۂ اسود اور [[خلیج فارس]] جیسے سمندروں کے ساتھ بحر اوقیانوس اور بحر ہند سے قربت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی سٹریٹیجک اور فوجی اہمیت ہمیشہ سے عالمی طاقت کے مراکز کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سویز نہر (بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر کو مصر میں ملانے والا مقام)، [[آبنائے ہرمز]] (خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو ملانے والا مقام)، باسفورس اور داردانیل کے تنگے (ترکی کے شمال مغرب میں)، باب المندب کا تنگا (بحیرۂ احمر اور عدن کی خلیج کو جنوب مغربی عربستان میں ملانے والا)، اور جبل الطارق کا تنگا (بحیرۂ روم کو بحر اوقیانوس سے ملانے والا) جیسے اسٹریٹیجک نہریں اور تنگے مشرقِ وسطیٰ کے کردار کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے، اس علاقے پر تسلط سوویت یونین اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کے درمیان سرد جنگ کے دوران اہم ترین تنازعات میں سے ایک تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کے اسٹریٹیجک علاقوں میں، خلیج فارس کا آبی راستہ اور تنگۂ ہرمز، جغرافیائی اور جیو اسٹریٹیجک لحاظ سے دنیا کے چودہ اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ امریکی بحریہ کے ایڈمرل الفریڈ ماہان (1902) کے نظریہ کے مطابق، خلیج فارس زمین کا "دل" (Heartland) ہے اور اس پر کنٹرول دنیا پر کنٹرول ہے۔ | ||
یہ وہ چیز ہے جو قدیم زمانے سے فوجی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے خاتمے اور اس کے بعد نشاۃِ ثانیہ کے آغاز اور یورپیوں کے مشرقِ وسطیٰ کے وسائل سے آگاہ ہونے کے بعد، ان کی خلیج فارس پر تسلط کی خواہش میں اضافہ ہوا، اور پرتگالیوں (1497)، ڈچوں (1607)، فرانسیسیوں (17ویں صدی کے چھٹے عشرے)، انگریزوں (19ویں اور 20ویں صدی میں) اور امریکیوں (1971 کے بعد) نے پوری قوت سے اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اگرچہ خلیج فارس کے ممالک کا تیل جزوی طور پر پائپ لائنوں کے ذریعے یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، لیکن روزانہ 15 سے 20 ملین بیرل تیل دیو ہیکل آئل ٹینکروں کے ذریعے تنگۂ ہرمز سے گزرتا ہے، اس کے علاوہ سینکڑوں تجارتی بحری جہاز بھی روزانہ اس آبی راستے سے گزرتے ہیں<ref>مشرقِ وسطیٰ - پرسمان https://www.porseman.com › khavarmiyanah.</ref>۔ | یہ وہ چیز ہے جو قدیم زمانے سے فوجی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے خاتمے اور اس کے بعد نشاۃِ ثانیہ کے آغاز اور یورپیوں کے مشرقِ وسطیٰ کے وسائل سے آگاہ ہونے کے بعد، ان کی خلیج فارس پر تسلط کی خواہش میں اضافہ ہوا، اور پرتگالیوں (1497)، ڈچوں (1607)، فرانسیسیوں (17ویں صدی کے چھٹے عشرے)، انگریزوں (19ویں اور 20ویں صدی میں) اور امریکیوں (1971 کے بعد) نے پوری قوت سے اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اگرچہ خلیج فارس کے ممالک کا تیل جزوی طور پر پائپ لائنوں کے ذریعے یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، لیکن روزانہ 15 سے 20 ملین بیرل تیل دیو ہیکل آئل ٹینکروں کے ذریعے تنگۂ ہرمز سے گزرتا ہے، اس کے علاوہ سینکڑوں تجارتی بحری جہاز بھی روزانہ اس آبی راستے سے گزرتے ہیں<ref>مشرقِ وسطیٰ - پرسمان https://www.porseman.com › khavarmiyanah.</ref>۔ | ||
== مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے قانونی مشترکات اور مماثلت == | == مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے قانونی مشترکات اور مماثلت == | ||
[[ایران]]، [[اسرائیل]]، ترکی، قبرص کا جزیرہ، کراتاری اور ڈیکیلیا کے علاوہ، باقی 13 ممالک عربی زبان بولتے ہیں اور ان کی تاریخ مشترک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ 314 ملین [[مسلمان|مسلمانوں]] کی آبادی کے ساتھ، دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا خطہ ہے۔ درحقیقت، اس کی 93% آبادی [[مسلمان]] ہے۔ عرب ممالک اپنے سیاسی نظاموں میں مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض ممالک میں مذہب سیاست کا حصہ بن گیا ہے، یعنی ملک کا سیاسی رہنما بیک وقت مذہبی رہنما بھی سمجھا جاتا ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جیسے ممالک میں آئینی بادشاہت کا نظام رائج ہے، اور بادشاہ ذاتی طور پر حکومتی اداروں اور اختیارات کی تقسیم میں مداخلت کرتا ہے۔ [[سعودی عرب]]، قطر اور عمان مطلق بادشاہت کے طور پر چلائے جاتے ہیں، اور طاقت مکمل طور پر حکومت کے سربراہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایران، [[یمن]]، [[شام]]، [[عراق]]، [[لبنان]]، اسرائیل، ترکی، مصر، فلسطین اور قبرص کے ممالک جمہوری حکومت کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔ لبنان میں پارلیمنٹ میں نمائندگی مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہے۔ قبرص کے جزیرے پر کراتاری اور ڈیکیلیا [[برطانیہ]] کے زیر تسلط علاقے ہیں۔ عرب ممالک یا پورے مشرقِ وسطیٰ میں کوئی یکساں اور متحد قانون سازی کا نظام موجود نہیں ہے، لیکن عرب قوانین میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب اور عمان کے علاوہ تمام عرب ممالک میں جدید سول قوانین ہیں۔ مجموعی طور پر، عرب ممالک میں قوانین کی بنیاد شرعی ہے، شریعت یا اسلام دین کو ان تمام ممالک میں عام قانون کے طور پر مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان معاملات میں جہاں کوئی قانون وضع نہیں کیا گیا، شریعت فیصلہ سازی کی بنیاد بنے گی۔ ان شرعی قوانین کے بارے میں بھی ان ممالک میں مذہبی فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ممکن ہے۔ ایران میں عرب ممالک کی طرح اسلامی آئین ہے۔ قبرص کے جزیرے کے قوانین برطانوی اصولوں پر مبنی ہیں۔ ترکی میں آئینی طور پر سیکولر ہے اور کوئی اسلامی آئین نہیں ہے۔ اس ملک میں دین سیاست سے الگ ہے۔<ref>سفر به خاورمیانه و جزئیات آن - مجله GO2TR https://go2tr.com › ... › فهرست وبلاگ.</ref>۔ | |||
== مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی == | == مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی == | ||
مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جدید اسلامی تحریکوں کا ظہور ان ممالک کے بحرانی ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوا۔ خطے میں بحران پیدا کرنے والے اہم عوامل میں ایک طرف قوم پرست رجحانات تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کو تقسیم کیا، اور دوسری طرف غربت اور طبقاتی تضادات تھے جو ناکارہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں مسلسل بڑھ رہے تھے۔ علاقے کے ممالک کی فوجی کمزوری، خاص طور پر [[اسرائیل]] کے ہاتھوں عربوں کی شکست، اور ثقافتی بحران جو ان ممالک کی مغرب کی تقلید کی کوششوں کے نتیجے میں ابھرا، فوجی اور اقتصادی ترقی کے حصول کی خواہش کے ساتھ، علاقے میں بحران پیدا کرنے والے دیگر عوامل تھے۔ اس دوران، قوم پرست سیکولر نظریات جیسے متبادل نظریات کی ناکامی نے خطے میں اسلام پسندی کی طرف رجحان کو تیز کیا۔ 1967ء میں اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی شکست اور مصر کے قوم پرست رہنما | مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جدید اسلامی تحریکوں کا ظہور ان ممالک کے بحرانی ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوا۔ خطے میں بحران پیدا کرنے والے اہم عوامل میں ایک طرف قوم پرست رجحانات تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کو تقسیم کیا، اور دوسری طرف غربت اور طبقاتی تضادات تھے جو ناکارہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں مسلسل بڑھ رہے تھے۔ علاقے کے ممالک کی فوجی کمزوری، خاص طور پر [[اسرائیل]] کے ہاتھوں عربوں کی شکست، اور ثقافتی بحران جو ان ممالک کی مغرب کی تقلید کی کوششوں کے نتیجے میں ابھرا، فوجی اور اقتصادی ترقی کے حصول کی خواہش کے ساتھ، علاقے میں بحران پیدا کرنے والے دیگر عوامل تھے۔ اس دوران، قوم پرست سیکولر نظریات جیسے متبادل نظریات کی ناکامی نے خطے میں اسلام پسندی کی طرف رجحان کو تیز کیا۔ 1967ء میں اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی شکست اور مصر کے قوم پرست رہنما جمال عبدالناصر کی 1970ء میں وفات نے عرب قوم پرستی کے نظریات کے زوال اور نئے نظریہ (اسلام پسندی) کی جگہ لینے کے لیے زمین ہموار کی، اور اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے راستہ کھولا۔ | ||
1979ء میں ایران میں [[اسلامی انقلاب]] کی فتح کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بہت سے اسلامی تحریکوں نے ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر اسے اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا نمونہ قرار دیا۔<ref>ایرانی انقلاب، جان اسپوزیتو کا مقدمہ.</ref>۔ | 1979ء میں ایران میں [[انقلاب اسلامی|اسلامی انقلاب]] کی فتح کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بہت سے اسلامی تحریکوں نے ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر اسے اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا نمونہ قرار دیا۔<ref>ایرانی انقلاب، جان اسپوزیتو کا مقدمہ.</ref>۔ | ||
1970ء کی دہائی سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں اسلامی جماعتوں اور گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان تنظیموں نے ان ممالک کی سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ مصر میں [[اخوان المسلمون]] (Muslim Brotherhood)، جو 1928ء میں قائم ہوئی تھی، نے سیاسی ماحول کے پیش نظر 1984ء کے انتخابات میں پارلیمنٹ کی سات نشستیں حاصل کیں۔ بعد کے ادوار میں بھی ان کی پارلیمنٹ میں موجودگی جاری رہی۔ لبنان میں 1964ء میں الجماعة الإسلامیة اور [[امل موومنٹ]] (Amal Movement) اور [[حزب اللہ]] (Hezbollah) نامی دو شیعہ جماعتیں 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں قائم ہوئیں۔ فلسطین میں | 1970ء کی دہائی سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں اسلامی جماعتوں اور گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان تنظیموں نے ان ممالک کی سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ مصر میں [[اخوان المسلمین|اخوان المسلمون]] (Muslim Brotherhood)، جو 1928ء میں قائم ہوئی تھی، نے سیاسی ماحول کے پیش نظر 1984ء کے انتخابات میں پارلیمنٹ کی سات نشستیں حاصل کیں۔ بعد کے ادوار میں بھی ان کی پارلیمنٹ میں موجودگی جاری رہی۔ لبنان میں 1964ء میں الجماعة الإسلامیة اور [[امل موومنٹ]] (Amal Movement) اور [[حزب اللہ لبنان|حزب اللہ]] (Hezbollah) نامی دو شیعہ جماعتیں 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں قائم ہوئیں۔ فلسطین میں اسلامک جہاد موومنٹ (Islamic Jihad Movement) ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر اور [[حماس]] (Hamas) نے اخوان المسلمون سے متاثر ہو کر اسی دور میں تشکیل پائی۔ عراق میں [[دعوت اسلامی پارٹی]] (Da'wa Party)، اگرچہ 1958-1959ء میں قائم ہوئی تھی، لیکن ایرانی انقلاب کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ شام میں 1980ء میں مختلف اسلامی گروہوں نے مل کر اسلامی محاذ شام (Islamic Front in Syria) تشکیل دیا۔ اردن میں اخوان المسلمون کو قانونی حیثیت ملی اور 1989ء کے انتخابات میں 22 پارلیمانی نشستیں حاصل کیں۔ یمن میں 1970ء میں اخوان المسلمون کی ایک شاخ قائم ہوئی، اور شمالی و جنوبی [[یمن]] کے اتحاد کے بعد 1990ء میں قانونی طور پر سرگرم اسلامی پارٹیوں کی تعداد 46 ہو گئی۔ کویت میں [[سماجی اصلاحات کی انجمن]] (Social Reform Association)، جو 1963ء میں قائم ہوئی تھی، 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اپنی سرگرمیوں کے عروج پر پہنچی۔ ترکی میں 1970ء کی دہائی میں [[رفاہ پارٹی]] (Welfare Party) اور [[نیشنل آرڈر پارٹی]] (National Order Party) جیسی اسلامی جماعتیں وجود میں آئیں، جنہوں نے ترکی کی سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کیا۔<ref>حیدر ابراہیم علی، التیارات الاسلامیة و قضیة الدیمقراطیة، ج1، ص88-91.</ref>۔ | ||
== مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہر == | == مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہر == | ||
| سطر 75: | سطر 75: | ||
=== دوحہ - قطر === | === دوحہ - قطر === | ||
دوحہ، | دوحہ، قطر کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت، قطر کی خوبصورت ترین سیاحتی دلکشیوں کا حامل ہے۔ دوحہ بھی قطر کی طرح جدید شاپنگ مالز اور دلکش سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے، اسی لیے اسے مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر آنے والے بہت سے سیاح دوحہ کے روایتی بازاروں میں خریداری، سنسنی خیز تفریحات اور خوبصورت ساحلوں پر آرام کرنے کے لیے آتے ہیں۔ | ||
=== پیٹرا - اردن === | === پیٹرا - اردن === | ||
[[فائل:پترا اردن.jpg|تصغیر|بائیں|]] | [[فائل:پترا اردن.jpg|تصغیر|بائیں|]] | ||
پیٹرا مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے جو خوبصورت ملک | پیٹرا مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے جو خوبصورت ملک اردن میں واقع ہے۔ پیٹرا مشرقِ وسطیٰ کے سب سے خوبصورت اور تاریخی شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پیٹرا کا سفر وقت میں سفر کرنے کے مترادف ہے۔ پیٹرا میں پتھر کی بہت خوبصورت عمارتیں ہیں اور یہ ہمیشہ ان سیاحوں کو دلکش لگتا رہا ہے جو قدیم تاریخ اور فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ | ||
=== بیروت - لبنان === | === بیروت - لبنان === | ||
بیروت، [[لبنان]] کا دارالحکومت، اپنی منفرد تاریخ، ثقافت اور دلکش روایات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس شہر میں متعدد تاریخی اور دیدہ زیب مقامات موجود ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بیروت کا جدید حصہ خوبصورت ساحلوں، پرتعیش ہوٹلوں اور دلکش کیفے اور ریستورانوں سے آراستہ ہے جو ہمیشہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بہرحال، بیروت کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ | |||
=== استنبول - ترکی === | === استنبول - ترکی === | ||
استنبول، اگرچہ ترکی کا دارالحکومت نہیں ہے، لیکن یہ ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ استنبول ایشیا اور یورپ دونوں براعظموں میں واقع ہے اور اس میں مساجد، میوزیم اور شاندار محلات جیسی متعدد سیاحتی دلکشیاں موجود ہیں۔ ان سب کے علاوہ، استنبول میں بہت سے شاپنگ سینٹرز بھی ہیں اور اسے مشرقِ وسطیٰ کا "خریداری کا جنت" (Shopping Paradise) کہا جاتا ہے۔ | |||
=== قاہرہ - مصر === | === قاہرہ - مصر === | ||
قاہرہ ایک خوبصورت شہر ہے جس کا فن تعمیر ہمیشہ قابل تعریف رہا ہے اور یہ اس کے قدیم تاریخ اور ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔ قاہرہ مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے اور ہمیشہ اپنی ماقبل تاریخ کی عمارتوں کے لیے مشہور رہا ہے۔ ان سب کے علاوہ، قاہرہ خریداری اور تفریح کے لیے بھی بہترین ہے، اسی لیے یہ اتنا مقبول ہے۔ | |||
=== ابوظہبی - متحدہ عرب امارات === | === ابوظہبی - متحدہ عرب امارات === | ||
ابوظہبی مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ سیاحتی شہروں میں سے ایک ہے۔ ابوظہبی پرتعیش ہوٹلوں اور پرتعیش ریستورانوں سے بھرا ہوا ہے اور | ابوظہبی مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ سیاحتی شہروں میں سے ایک ہے۔ ابوظہبی پرتعیش ہوٹلوں اور پرتعیش ریستورانوں سے بھرا ہوا ہے اور شیخ زاید مسجد، خلیفہ پارک وغیرہ جیسی متعدد سیاحتی دلکشیاں رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر، ابوظہبی کا سفر کرنے والے افراد اس شہر کی شاندار تاریخ، دلکش ماحول اور جدید بنیادی ڈھانچے سے متاثر ہوتے ہیں۔ | ||
=== ریاض - سعودی عرب === | === ریاض - سعودی عرب === | ||
| سطر 97: | سطر 97: | ||
=== منامہ - بحرین === | === منامہ - بحرین === | ||
بحرین مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کا دارالحکومت منامہ بھی مشرقِ وسطیٰ کے سب سے دلکش سیاحتی شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ منامہ بحرین کا سب سے بڑا شہر ہے اور تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بہت امیر ہے۔ منامہ کی فطرت بھی بہت خوبصورت ہے اور اس کا جدید فن تعمیر اور شاندار سیاحتی دلکشیاں ہمیشہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہیں<ref>مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہر جو یورپی شہروں سے بھی بہتر ہیں... https://zima.ir › news › 83-زیباتری...</ref>۔ | |||
== مشرقِ وسطیٰ کے امیر ترین اور غریب ترین ممالک == | == مشرقِ وسطیٰ کے امیر ترین اور غریب ترین ممالک == | ||
=== قطر === | === قطر === | ||
قطر مشرقِ وسطیٰ کے سب سے چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے جس کا رقبہ صرف 4,473 مربع میل ہے۔ تاہم، اس ملک نے قدرتی وسائل سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بہت امیر بن گیا ہے۔ قطر تیل کے ثابت ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک ہے جس کے ذخائر 15 بلین بیرل تک پہنچ چکے ہیں۔ اس ملک کی قدرتی وسائل سے کل دولت 166.9 بلین ڈالر ہے۔ قطر مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی آبادی بہت کم ہے، اور اس کی آبادی تقریباً 2.8 ملین ہے۔ دوسری طرف، اس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 129,700 ڈالر سے زیادہ ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ | |||
=== کویت === | === کویت === | ||
کویت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے جس کا رقبہ 6,880 مربع میل ہے۔ کویت بھی دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 71,300 ڈالر ہے۔ کویت دنیا کا دسویں اور مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا امیر ترین ملک ہے۔ اس کے قدرتی وسائل سے مجموعی گھریلو پیداوار (GDP)، اس کی نسبتاً کم آبادی 4.3 ملین کے پیش نظر، بہت زیادہ ہے۔ اس ملک کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت 2.5 ملین بیرل یومیہ ہے اور اس کے تیل کے ذخائر کا تخمینہ تقریباً 94 بلین بیرل لگایا گیا ہے۔ کویت کی سرکاری کرنسی کویت دینار ہے، جو دنیا کی سب سے قیمتی کرنسی ہے۔ | |||
=== متحدہ عرب امارات (UAE) === | === متحدہ عرب امارات (UAE) === | ||
متحدہ عرب امارات عربی جزیرہ نما میں واقع ایک اور ملک ہے اور مشرقِ وسطیٰ کا تیسرا امیر ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک کا رقبہ 32,300 مربع میل ہے اور اس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 67,700 ڈالر ہے۔ اس کی معیشت جزوی طور پر اس کے بھرپور معدنی ذخائر پر منحصر ہے اور اس کی تیل سے آمدنی 377 بلین ڈالر ہے۔ اس ملک کی آبادی 9.3 ملین ہے، جن میں سے تخمینے کے مطابق 7.8 ملین تارکین وطن ہیں۔ | |||
==== مشرقِ وسطیٰ کے غریب ترین ممالک ==== | ==== مشرقِ وسطیٰ کے غریب ترین ممالک ==== | ||
| سطر 120: | سطر 120: | ||
== متعلقہ مضامین == | == متعلقہ مضامین == | ||
* [[خلیج فارس]] | * [[خلیج فارس]] | ||
* [[ایران]] | * [[ایران]] | ||
نسخہ بمطابق 15:02، 1 اپريل 2026ء

مشرقِ وسطیٰ (عربی: «الشرق الأوسط») مغربی ایشیا اور شمال مشرقی افریقہ کا ایک خطہ ہے۔ یہ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ ہے، اور وہ سرزمین جہاں زرتشتیت، مسیحیت، یہودیت اور اسلام جیسے چار بڑے مذاہب نے جنم لیا۔ یہ خطہ بیشتر پیغمبروں کا جائے پیدائش ہونے کی وجہ سے دنیا کے سب سے زیادہ مذہبی علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں لاتعداد مقدس مقامات موجود ہیں۔ فی الحال یہ علاقہ سیاسی بے امنی اور انقلابات کی لپیٹ میں ہے۔ گزشتہ صدی میں تیل کے وسیع ذخائر کی موجودگی نے مشرقِ وسطیٰ کو پہلے سے کہیں زیادہ اہم بنا دیا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ سے مراد بحیرۂ روم اور خلیج فارس کے درمیان کے علاقے ہیں۔ اس خطے کو افریقہ-یوریشیا یا خاص طور پر ایشیا کا حصہ شمار کیا جاتا ہے، اور بعض صورتوں میں شمالی افریقہ کا بھی احاطہ کرتا ہے۔
ایران کو مشرقِ وسطیٰ میں شامل کرنے یا نہ کرنے پر بحث موجود ہے، کیونکہ بعض اسے جنوبی ایشیا یا وسطی ایشیا کا حصہ سمجھتے ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کا تعارف
"مشرقِ وسطیٰ" کی اصطلاح سب سے پہلے امریکی بحریہ کے مورخ اور جغرافیہ دان الفریڈ ماہان (Alfred Mahan) نے ۱۹۰۲ء میں استعمال کی۔ وہ یورپ کے نقطۂ نظر سے اس علاقے کو دیکھ رہے تھے اور ان کے خیال میں "مشرقِ بعید" اور "مشرقِ قریب" کی اصطلاحات اس خطے کے لیے مناسب نہیں تھیں، اس لیے انہوں نے خلیج فارس کے گرد و نواح کے علاقے کے لیے یہ اصطلاح وضع کی[1]۔
۲۲ مارچ ۱۹۱۱ء کو، برطانوی پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں ایران، ترکی اور خلیج فارس کے مسائل پر بحث کے دوران، لارڈ کرزن (Lord Curzon) نے اس اصطلاح کو استعمال کیا[2]۔ پہلی عالمی جنگ (۱۹۱۴-۱۹۱۸) کے دوران، ہندوستان کے راستے عراق بھیجے جانے والے اتحادی افواج کو "مشرقِ وسطیٰ کی افواج" کہا گیا۔ اسی طرح دوسری عالمی جنگ (۱۹۳۹-۱۹۴۵) کے آغاز میں قاہرہ میں برطانوی فوجی کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو "مشرقِ وسطیٰ کمانڈ" کا نام دیا گیا، اور بتدریج یہ اصطلاح عام ہو گئی۔[3]
جغرافیہ
ایشیا کے اس علاقے کو جو مشرقِ وسطیٰ یا جنوب مغربی ایشیا کے نام سے جانا جاتا ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: شمالی حصہ جس میں ترکی اور ایران شامل ہیں، اور جنوبی حصہ جس میں جزیرہ نما عرب شامل ہے۔ شمالی حصے کو ایک زین کے ornaments سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جس کا مرکز قفقاز کے جنوب میں واقع ہے، اور اس کا مغربی یا بائیں حصہ اناطولیہ (موجودہ ترکی) پر مشتمل ہے۔ اس زین کا مشرقی یا دائیں حصہ ایران ہے، جو خود ایک بلند سطح مرتفع (Plateau) ہے جس کا ڈھلوان مشرق کی طرف ہے اور اس کے چاروں طرف بلند پہاڑی سلسلے ہیں۔ جزیرہ نما عرب یا جنوب مغربی ایشیا کا جنوبی حصہ بہت سادہ ساخت رکھتا ہے، کیونکہ یہ ایک عظیم بلاک سے تشکیل پایا ہے جس کے ابھارے ہوئے حصے بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر کے قریب نظر آتے ہیں۔ ایشیا کا دوسرا بڑا علاقہ عظیم برصغیر ہند اور پاکستان پر مشتمل ہے، جسے شمال مغربی سمت میں سلیمان پہاڑی سلسلے، شمال میں قراقرم-ہمالیہ، اور مشرق میں آراکان اور یوما پہاڑی سلسلے دیگر علاقوں سے جدا کرتے ہیں[4]۔
جیسی وہیلر (Jessie Wheeler) نے اپنی کتاب "Global Geography" (Important Geographical Regions) میں مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں لکھا ہے: "مشرقِ وسطیٰ ایک ایسا خطہ ہے جس کا بیشتر حصہ صحرا اور چراگاہوں پر مشتمل ہے۔ اس علاقے کی وسعت کے بارے میں ماہرین کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض اسے "مشرقِ وسطیٰ" کی اصطلاح کو قبول ہی نہیں کرتے کیونکہ وہ اسے بہت مبہم اور غلط سمجھتے ہیں۔ یہ اصطلاح یورپیوں نے اس علاقے کو دی ہے کیونکہ یورپیوں نے مشرقی یورپ کے علاقوں کو ترتیب وار تین حصوں میں تقسیم کیا ہے: مشرقِ بعید (مشرقی ایشیا)، مشرقِ وسطیٰ (جنوب مغربی ایشیا) اور مشرقِ قریب۔ تاہم، یہ اصطلاح ایک علاقے کے نام کے طور پر اس طرح قائم ہو گئی ہے کہ اسے بدلنا آسان نہیں۔"[5]۔
سرحدیں
مشرقِ وسطیٰ کے کل 18 ممالک میں سے 13 عرب ممالک ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک مصر، ایران اور ترکی ہیں، جبکہ اس علاقے کا سب سے وسیع ملک سعودی عرب ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کے علاقے اور قلمرو
1. ایران کا سطح مرتفع؛ 2. اناطولیہ؛ 3. بین النہرین؛ 4. شام؛ 5. جزیرہ نما عرب اور خلیج فارس کے اطراف کے ممالک بشمول سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، عمان، عراق، بحرین، یمن اور کویت؛ 6. مصر[6]۔
مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ
مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ یہاں انسان کی اولین دریافتیں ہوئیں، اور اسی سرزمین پر جدید انسان (Homo sapiens) کے افریقی آباء و اجداد اور نی اینڈرٹل انسان کے درمیان پہلی ملاقاتیں ہوئیں[7]۔ دنیا کے اولین قوانین (حمورابی کا قانون) اسی خطے میں لکھے گئے۔
بیسویں صدی کے وسط سے، مشرقِ وسطیٰ عالمی توجہ کا مرکز اور شاید دنیا کا سب سے حساس علاقہ بن گیا، جو سٹریٹیجک، اقتصادی، سیاسی اور ثقافتی اعتبار سے اہم ہے۔ یہ عرب-اسرائیل تنازع کا میدان بھی رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ یہودیت]، مسیحیت، اسلام جیسے بڑے مذاہب کا جائے پیدائش ہونے کے ساتھ ساتھ زرتشتیت، مہر پرستی اور مانویت جیسے غیر ابراہیمی مذاہب کا بھی مسکن رہا ہے۔
یہ کہنا مشکل ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی پوری تاریخ مشترک ہے، حالانکہ ثقافتی خصوصیات میں یکسانیت پائی جاتی ہے۔ حبیب برجیاں (Habib Borjian) نے مشرقِ وسطیٰ کو "ثقافتی براعظم" (Cultural Continent) کا نام دیا ہے، اور ان کے خیال میں ایران کا اس خطے کی تاریخ اور ثقافت میں، خاص طور پر ہخامنشی سلطنت اور صفوی سلطنت سے قبل کے ادوار میں، نمایاں کردار رہا ہے[8]۔
مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت اور سٹریٹیجک پوزیشن
تاریخی اور مذہبی اہمیت
مشرقِ وسطیٰ دنیا کی اولین تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے۔ دنیا کے بہت سے عقائد اور مذاہب کا آغاز اسی خطے سے ہوا۔ مشرقِ وسطیٰ یہودیت، مسیحیت اور اسلام جیسے اہم مذاہب کا جائے پیدائش ہے۔ ان تینوں مذاہب کے مقدس مقامات بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔ انسان کی اولین دریافتیں یہاں ہوئیں۔ دنیا کے اولین قوانین یہاں لکھے گئے۔
اقتصادی اہمیت
اگرچہ مشرقِ وسطیٰ اور اس کا دل یعنی خلیج فارس کا علاقہ قدیم تہذیب، تاریخ اور ثقافت کا حامل ہے، لیکن اس خطے کو دنیا میں جو اہمیت حاصل ہے وہ اس کے وسیع توانائی کے ذخائر، بالخصوص تیل کی وجہ سے ہے۔ یہ ایک ایسا امتیاز ہے جس کا دنیا میں کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا، اور یہ خطہ دنیا کے سب سے بڑے توانائی ذخائر کا حامل ہے۔ خلیج فارس کے ممالک کے تسلیم شدہ تیل کے ذخائر 360 بلین بیرل ہیں، جو دنیا کے کل تیل ذخائر کا 64% ہے۔ سب سے زیادہ تیل کے ذخائر بالترتیب سعودی عرب (163.2 بلین بیرل)، کویت (65.4 بلین)، عراق (59 بلین)، ایران (56 بلین)، متحدہ عرب امارات (7.5 بلین)، قطر (3.7 بلین) اور بحرین (2.4 بلین) میں ہیں۔ اس طرح ان ممالک کی تیل سے آمدنی 1973ء سے 1993ء تک دو ہزار پانچ سو بلین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ امریکن پٹرولیم انسٹی ٹیوٹ (IPAA) کی رپورٹ کے مطابق، اوپیک کے رکن ممالک 8.4 بلین بیرل کے ذخائر کے ساتھ دنیا کے کل تیل ذخائر کا تقریباً 78% رکھتے ہیں، جبکہ دنیا کے کل تیل کی کھپت کا صرف 6.5% ان ممالک میں ہوتا ہے۔
اس میں سعودی عرب، عراق، متحدہ عرب امارات، کویت، ایران اور وینزویلا جیسے ممالک کے پاس دنیا کے 70% ذخائر ہیں۔ خلیج فارس کے پانچ بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک (سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، عراق، ایران) جو اوپیک کے تقریباً 81% ذخائر کے حامل ہیں، خام تیل کے سب سے اہم پروڈیوسر اور ایکسپورٹر ہیں۔ ان کے بغیر نہ تو اوپیک اور اس کے ڈھانچے کو سمجھا جا سکتا ہے اور نہ ہی عالمی تیل کی مارکیٹ کا تجزیہ اور اس کے مستقبل کے رجحانات کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس موازنے میں، امریکہ اکیلا دنیا کے کل تیل کی پیداوار کا 25% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، جبکہ اس کے پاس دنیا کے کل تیل ذخائر کا 3% سے بھی کم ہے۔ یورپ، جس کے پاس دنیا کے کل تیل ذخائر کا 12% سے بھی کم ہے، وہ دنیا کی کل تیل کی کھپت کا 21% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، اور جاپان، جو دنیا کے کل تیل کی کھپت کا 7% سے زیادہ استعمال کرتا ہے، بنیادی طور پر تیل کے ذخائر سے محروم ہے۔
خلیج فارس کے ممالک، بشمول ایران، کی معیشت کی 95% سے 100% تک تیل کی برآمدات پر انحصار کو مدنظر رکھتے ہوئے، مندرجہ ذیل دو نکات زیادہ اہم ہیں: 1. خلیج فارس کے ممالک، بشمول ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک، تیل کی بھاری آمدنی کے باوجود ابھی تک صنعتی ہونے سے بہت دور ہیں۔ 2. یہ آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ اس علاقے کی سلامتی اور تیل کی ترسیل، علاقے کے ممالک اور تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے کتنی بنیادی اور اہم ہے۔ تیل کس طرح ایک اسٹریٹیجک شے بن گیا ہے اور اس نے تیسری صدی ہجری میں خلیج فارس کو ایک منفرد پوزیشن دی ہے جس کا دنیا کے کسی دوسرے علاقے سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
- اس کے علاوہ، پیشین گوئیوں کے مطابق، اگلے 25 سالوں میں، ایران، سعودی عرب، عراق اور کویت کے چار بڑے ممالک کے علاوہ باقی دنیا کے تیل کے ذخائر ختم ہو جائیں گے، اور وہ ممالک جن کے پاس فی الحال تیل ہے، وہ مستقبل میں خلیج فارس کے تیل کے محتاج ہوں گے۔ البتہ، تیل کے ذخائر کا حامل ہونا خود ایک موقع نہیں ہے، کیونکہ اس موقع سے سب سے زیادہ فائدہ مغرب، خاص طور پر امریکہ نے تیل کے استعمال اور ذخیرہ اندوزی میں اٹھایا ہے۔
خلیج فارس کے کنارے واقع ممالک میں تیل کی پیداوار کے علاوہ، قدرتی گیس کے ذخائر بھی اس علاقے کی اہمیت میں اضافہ کرتے ہیں۔ خلیج فارس کے ممالک دنیا کے کل قدرتی گیس کے ذخائر کا تقریباً 30% رکھتے ہیں، اور ایران، جو گیس کے وسیع ذخائر رکھتا ہے، اس کی پیداوار اور استخراج کے لحاظ سے خلیج فارس کے ممالک میں سرفہرست ہے۔ پیٹرو کیمیکل صنعت کے لحاظ سے بھی مشرقِ وسطیٰ کا خطہ دنیا کی معیشت اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک کی صنعتی مصنوعات کا 1/4 حصہ مشرقِ وسطیٰ کی پیٹرو کیمیکل صنعت سے پورا ہوتا ہے، اور سالانہ 330,000 ٹن یوریا، 100,000 ٹن سلفورک ایسڈ، اور 20,000 ٹن میلامین، اور روزانہ پانچ ہزار ٹن امونیا اور میتھانول خلیج فارس کے ممالک سے یورپ، امریکہ اور اوقیانوسیہ کو برآمد کیے جاتے ہیں۔
اسٹریٹیجک اور فوجی اہمیت
مشرقِ وسطیٰ ایشیا، یورپ اور افریقہ کے تین بڑے براعظموں کے سنگم پر واقع ہے اور ایسے علاقوں اور آبی گزرگاہوں پر مشتمل ہے جو دنیا کے سب سے اہم جغرافیائی اسٹریٹیجک علاقوں میں شمار ہوتے ہیں۔ بحیرۂ احمر، بحیرۂ روم، بحیرۂ کیسپیئن، بحیرۂ اسود اور خلیج فارس جیسے سمندروں کے ساتھ بحر اوقیانوس اور بحر ہند سے قربت کی وجہ سے مشرقِ وسطیٰ کی سٹریٹیجک اور فوجی اہمیت ہمیشہ سے عالمی طاقت کے مراکز کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ اس کے علاوہ، سویز نہر (بحیرۂ روم اور بحیرۂ احمر کو مصر میں ملانے والا مقام)، آبنائے ہرمز (خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کو ملانے والا مقام)، باسفورس اور داردانیل کے تنگے (ترکی کے شمال مغرب میں)، باب المندب کا تنگا (بحیرۂ احمر اور عدن کی خلیج کو جنوب مغربی عربستان میں ملانے والا)، اور جبل الطارق کا تنگا (بحیرۂ روم کو بحر اوقیانوس سے ملانے والا) جیسے اسٹریٹیجک نہریں اور تنگے مشرقِ وسطیٰ کے کردار کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے، اس علاقے پر تسلط سوویت یونین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے دوران اہم ترین تنازعات میں سے ایک تھا۔ مشرقِ وسطیٰ کے اسٹریٹیجک علاقوں میں، خلیج فارس کا آبی راستہ اور تنگۂ ہرمز، جغرافیائی اور جیو اسٹریٹیجک لحاظ سے دنیا کے چودہ اہم ترین مقامات میں سے ایک ہے۔ امریکی بحریہ کے ایڈمرل الفریڈ ماہان (1902) کے نظریہ کے مطابق، خلیج فارس زمین کا "دل" (Heartland) ہے اور اس پر کنٹرول دنیا پر کنٹرول ہے۔
یہ وہ چیز ہے جو قدیم زمانے سے فوجی طاقتوں کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ یورپ میں قرونِ وسطیٰ کے خاتمے اور اس کے بعد نشاۃِ ثانیہ کے آغاز اور یورپیوں کے مشرقِ وسطیٰ کے وسائل سے آگاہ ہونے کے بعد، ان کی خلیج فارس پر تسلط کی خواہش میں اضافہ ہوا، اور پرتگالیوں (1497)، ڈچوں (1607)، فرانسیسیوں (17ویں صدی کے چھٹے عشرے)، انگریزوں (19ویں اور 20ویں صدی میں) اور امریکیوں (1971 کے بعد) نے پوری قوت سے اس پر قابو پانے کی کوشش کی۔ اگرچہ خلیج فارس کے ممالک کا تیل جزوی طور پر پائپ لائنوں کے ذریعے یورپی ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے، لیکن روزانہ 15 سے 20 ملین بیرل تیل دیو ہیکل آئل ٹینکروں کے ذریعے تنگۂ ہرمز سے گزرتا ہے، اس کے علاوہ سینکڑوں تجارتی بحری جہاز بھی روزانہ اس آبی راستے سے گزرتے ہیں[9]۔
مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے قانونی مشترکات اور مماثلت
ایران، اسرائیل، ترکی، قبرص کا جزیرہ، کراتاری اور ڈیکیلیا کے علاوہ، باقی 13 ممالک عربی زبان بولتے ہیں اور ان کی تاریخ مشترک ہے۔ مشرقِ وسطیٰ 314 ملین مسلمانوں کی آبادی کے ساتھ، دنیا کا سب سے بڑا مسلم آبادی والا خطہ ہے۔ درحقیقت، اس کی 93% آبادی مسلمان ہے۔ عرب ممالک اپنے سیاسی نظاموں میں مختلف طریقوں سے کام کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض ممالک میں مذہب سیاست کا حصہ بن گیا ہے، یعنی ملک کا سیاسی رہنما بیک وقت مذہبی رہنما بھی سمجھا جاتا ہے۔ اردن، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت جیسے ممالک میں آئینی بادشاہت کا نظام رائج ہے، اور بادشاہ ذاتی طور پر حکومتی اداروں اور اختیارات کی تقسیم میں مداخلت کرتا ہے۔ سعودی عرب، قطر اور عمان مطلق بادشاہت کے طور پر چلائے جاتے ہیں، اور طاقت مکمل طور پر حکومت کے سربراہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ایران، یمن، شام، عراق، لبنان، اسرائیل، ترکی، مصر، فلسطین اور قبرص کے ممالک جمہوری حکومت کے ماڈل پر عمل پیرا ہیں۔ لبنان میں پارلیمنٹ میں نمائندگی مسیحیوں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم ہے۔ قبرص کے جزیرے پر کراتاری اور ڈیکیلیا برطانیہ کے زیر تسلط علاقے ہیں۔ عرب ممالک یا پورے مشرقِ وسطیٰ میں کوئی یکساں اور متحد قانون سازی کا نظام موجود نہیں ہے، لیکن عرب قوانین میں بہت سی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ سعودی عرب اور عمان کے علاوہ تمام عرب ممالک میں جدید سول قوانین ہیں۔ مجموعی طور پر، عرب ممالک میں قوانین کی بنیاد شرعی ہے، شریعت یا اسلام دین کو ان تمام ممالک میں عام قانون کے طور پر مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان معاملات میں جہاں کوئی قانون وضع نہیں کیا گیا، شریعت فیصلہ سازی کی بنیاد بنے گی۔ ان شرعی قوانین کے بارے میں بھی ان ممالک میں مذہبی فقہاء کے درمیان اختلاف رائے ممکن ہے۔ ایران میں عرب ممالک کی طرح اسلامی آئین ہے۔ قبرص کے جزیرے کے قوانین برطانوی اصولوں پر مبنی ہیں۔ ترکی میں آئینی طور پر سیکولر ہے اور کوئی اسلامی آئین نہیں ہے۔ اس ملک میں دین سیاست سے الگ ہے۔[10]۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی
مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں جدید اسلامی تحریکوں کا ظہور ان ممالک کے بحرانی ماحول کے ردعمل کے طور پر ہوا۔ خطے میں بحران پیدا کرنے والے اہم عوامل میں ایک طرف قوم پرست رجحانات تھے جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ کے مسلمانوں کو تقسیم کیا، اور دوسری طرف غربت اور طبقاتی تضادات تھے جو ناکارہ حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں مسلسل بڑھ رہے تھے۔ علاقے کے ممالک کی فوجی کمزوری، خاص طور پر اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی شکست، اور ثقافتی بحران جو ان ممالک کی مغرب کی تقلید کی کوششوں کے نتیجے میں ابھرا، فوجی اور اقتصادی ترقی کے حصول کی خواہش کے ساتھ، علاقے میں بحران پیدا کرنے والے دیگر عوامل تھے۔ اس دوران، قوم پرست سیکولر نظریات جیسے متبادل نظریات کی ناکامی نے خطے میں اسلام پسندی کی طرف رجحان کو تیز کیا۔ 1967ء میں اسرائیل کے ہاتھوں عربوں کی شکست اور مصر کے قوم پرست رہنما جمال عبدالناصر کی 1970ء میں وفات نے عرب قوم پرستی کے نظریات کے زوال اور نئے نظریہ (اسلام پسندی) کی جگہ لینے کے لیے زمین ہموار کی، اور اسلامی گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے راستہ کھولا۔
1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے ساتھ مشرقِ وسطیٰ میں اسلام پسندی اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ بہت سے اسلامی تحریکوں نے ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر اسے اسلامی معاشرے کے قیام کے لیے اپنا نمونہ قرار دیا۔[11]۔
1970ء کی دہائی سے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں اسلامی جماعتوں اور گروہوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ ان تنظیموں نے ان ممالک کی سیاسی میدان میں اہم کردار ادا کیا۔ مصر میں اخوان المسلمون (Muslim Brotherhood)، جو 1928ء میں قائم ہوئی تھی، نے سیاسی ماحول کے پیش نظر 1984ء کے انتخابات میں پارلیمنٹ کی سات نشستیں حاصل کیں۔ بعد کے ادوار میں بھی ان کی پارلیمنٹ میں موجودگی جاری رہی۔ لبنان میں 1964ء میں الجماعة الإسلامیة اور امل موومنٹ (Amal Movement) اور حزب اللہ (Hezbollah) نامی دو شیعہ جماعتیں 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں قائم ہوئیں۔ فلسطین میں اسلامک جہاد موومنٹ (Islamic Jihad Movement) ایرانی انقلاب سے متاثر ہو کر اور حماس (Hamas) نے اخوان المسلمون سے متاثر ہو کر اسی دور میں تشکیل پائی۔ عراق میں دعوت اسلامی پارٹی (Da'wa Party)، اگرچہ 1958-1959ء میں قائم ہوئی تھی، لیکن ایرانی انقلاب کے بعد اس کی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا۔ شام میں 1980ء میں مختلف اسلامی گروہوں نے مل کر اسلامی محاذ شام (Islamic Front in Syria) تشکیل دیا۔ اردن میں اخوان المسلمون کو قانونی حیثیت ملی اور 1989ء کے انتخابات میں 22 پارلیمانی نشستیں حاصل کیں۔ یمن میں 1970ء میں اخوان المسلمون کی ایک شاخ قائم ہوئی، اور شمالی و جنوبی یمن کے اتحاد کے بعد 1990ء میں قانونی طور پر سرگرم اسلامی پارٹیوں کی تعداد 46 ہو گئی۔ کویت میں سماجی اصلاحات کی انجمن (Social Reform Association)، جو 1963ء میں قائم ہوئی تھی، 1970ء اور 1980ء کی دہائیوں میں اپنی سرگرمیوں کے عروج پر پہنچی۔ ترکی میں 1970ء کی دہائی میں رفاہ پارٹی (Welfare Party) اور نیشنل آرڈر پارٹی (National Order Party) جیسی اسلامی جماعتیں وجود میں آئیں، جنہوں نے ترکی کی سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کیا۔[12]۔
مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہر
دبئی - متحدہ عرب امارات
دبئی ہر لحاظ سے ایک خوابوں کا شہر ہے۔ دبئی کا ہر کونہ حیرتوں اور سیاحتی دلکشیوں سے بھرپور ہے، اور یہ اتنا خوبصورت شہر ہے کہ اسے ایک مثالی شہر (Utopia) کہا جاتا ہے۔ دنیا کی بلند ترین عمارتوں اور آسمان چھوتی عمارتوں میں سے کئی دبئی میں تعمیر کی گئی ہیں۔ دوسری طرف دبئی کے ساحل، صحرا، جدید شاپنگ مالز، روایتی بازار اور تفریحی مقامات سبھی دلکش اور حیرت انگیز ہیں۔ ان سب کے علاوہ، دبئی کے پرتعیش ہوٹل اور پرتعیش ریستوراں جو یہاں بنائے گئے ہیں، اور ان سب کی وجہ سے دبئی کو مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
دوحہ - قطر
دوحہ، قطر کا سب سے بڑا شہر اور دارالحکومت، قطر کی خوبصورت ترین سیاحتی دلکشیوں کا حامل ہے۔ دوحہ بھی قطر کی طرح جدید شاپنگ مالز اور دلکش سیاحتی مقامات سے بھرا ہوا ہے، اسی لیے اسے مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قطر آنے والے بہت سے سیاح دوحہ کے روایتی بازاروں میں خریداری، سنسنی خیز تفریحات اور خوبصورت ساحلوں پر آرام کرنے کے لیے آتے ہیں۔
پیٹرا - اردن

پیٹرا مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے جو خوبصورت ملک اردن میں واقع ہے۔ پیٹرا مشرقِ وسطیٰ کے سب سے خوبصورت اور تاریخی شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پیٹرا کا سفر وقت میں سفر کرنے کے مترادف ہے۔ پیٹرا میں پتھر کی بہت خوبصورت عمارتیں ہیں اور یہ ہمیشہ ان سیاحوں کو دلکش لگتا رہا ہے جو قدیم تاریخ اور فن تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
بیروت - لبنان
بیروت، لبنان کا دارالحکومت، اپنی منفرد تاریخ، ثقافت اور دلکش روایات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس شہر میں متعدد تاریخی اور دیدہ زیب مقامات موجود ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ بیروت کا جدید حصہ خوبصورت ساحلوں، پرتعیش ہوٹلوں اور دلکش کیفے اور ریستورانوں سے آراستہ ہے جو ہمیشہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بہرحال، بیروت کو بھی مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
استنبول - ترکی
استنبول، اگرچہ ترکی کا دارالحکومت نہیں ہے، لیکن یہ ترکی کا سب سے بڑا شہر ہے۔ استنبول ایشیا اور یورپ دونوں براعظموں میں واقع ہے اور اس میں مساجد، میوزیم اور شاندار محلات جیسی متعدد سیاحتی دلکشیاں موجود ہیں۔ ان سب کے علاوہ، استنبول میں بہت سے شاپنگ سینٹرز بھی ہیں اور اسے مشرقِ وسطیٰ کا "خریداری کا جنت" (Shopping Paradise) کہا جاتا ہے۔
قاہرہ - مصر
قاہرہ ایک خوبصورت شہر ہے جس کا فن تعمیر ہمیشہ قابل تعریف رہا ہے اور یہ اس کے قدیم تاریخ اور ثقافت سے جڑا ہوا ہے۔ قاہرہ مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے اور ہمیشہ اپنی ماقبل تاریخ کی عمارتوں کے لیے مشہور رہا ہے۔ ان سب کے علاوہ، قاہرہ خریداری اور تفریح کے لیے بھی بہترین ہے، اسی لیے یہ اتنا مقبول ہے۔
ابوظہبی - متحدہ عرب امارات
ابوظہبی مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے اور مشرقِ وسطیٰ کے سب سے زیادہ سیاحتی شہروں میں سے ایک ہے۔ ابوظہبی پرتعیش ہوٹلوں اور پرتعیش ریستورانوں سے بھرا ہوا ہے اور شیخ زاید مسجد، خلیفہ پارک وغیرہ جیسی متعدد سیاحتی دلکشیاں رکھتا ہے۔ بنیادی طور پر، ابوظہبی کا سفر کرنے والے افراد اس شہر کی شاندار تاریخ، دلکش ماحول اور جدید بنیادی ڈھانچے سے متاثر ہوتے ہیں۔
ریاض - سعودی عرب
ریاض سعودی عرب کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ اس وسیع و عریض شہر میں متعدد سیاحتی دلکشیاں اور دیدہ زیب مقامات موجود ہیں اور اسے سعودی عرب کا ثقافتی اور تجارتی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ریاض میں عرب روایات کو مغربی ثقافت کے ساتھ بہترین طریقے سے ملایا گیا ہے اور یہ ان لوگوں میں مقبول ہے جو خریداری، تاریخ، بولنگ، اونٹ کی سواری اور سنسنی خیز تفریحات سے محبت کرتے ہیں۔
منامہ - بحرین
بحرین مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین ممالک میں سے ایک ہے اور اس کا دارالحکومت منامہ بھی مشرقِ وسطیٰ کے سب سے دلکش سیاحتی شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ منامہ بحرین کا سب سے بڑا شہر ہے اور تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بہت امیر ہے۔ منامہ کی فطرت بھی بہت خوبصورت ہے اور اس کا جدید فن تعمیر اور شاندار سیاحتی دلکشیاں ہمیشہ سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہی ہیں[13]۔
مشرقِ وسطیٰ کے امیر ترین اور غریب ترین ممالک
قطر
قطر مشرقِ وسطیٰ کے سب سے چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے جس کا رقبہ صرف 4,473 مربع میل ہے۔ تاہم، اس ملک نے قدرتی وسائل سے بہت فائدہ اٹھایا ہے اور اپنے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدنی سے بہت امیر بن گیا ہے۔ قطر تیل کے ثابت ذخائر کے لحاظ سے دنیا کا تیسرا ملک ہے جس کے ذخائر 15 بلین بیرل تک پہنچ چکے ہیں۔ اس ملک کی قدرتی وسائل سے کل دولت 166.9 بلین ڈالر ہے۔ قطر مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک میں سے ہے جن کی آبادی بہت کم ہے، اور اس کی آبادی تقریباً 2.8 ملین ہے۔ دوسری طرف، اس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 129,700 ڈالر سے زیادہ ہے، جو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔
کویت
کویت مشرقِ وسطیٰ کے دیگر چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے جس کا رقبہ 6,880 مربع میل ہے۔ کویت بھی دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے جس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 71,300 ڈالر ہے۔ کویت دنیا کا دسویں اور مشرقِ وسطیٰ کا دوسرا امیر ترین ملک ہے۔ اس کے قدرتی وسائل سے مجموعی گھریلو پیداوار (GDP)، اس کی نسبتاً کم آبادی 4.3 ملین کے پیش نظر، بہت زیادہ ہے۔ اس ملک کی تیل پیدا کرنے کی صلاحیت 2.5 ملین بیرل یومیہ ہے اور اس کے تیل کے ذخائر کا تخمینہ تقریباً 94 بلین بیرل لگایا گیا ہے۔ کویت کی سرکاری کرنسی کویت دینار ہے، جو دنیا کی سب سے قیمتی کرنسی ہے۔
متحدہ عرب امارات (UAE)
متحدہ عرب امارات عربی جزیرہ نما میں واقع ایک اور ملک ہے اور مشرقِ وسطیٰ کا تیسرا امیر ترین ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس ملک کا رقبہ 32,300 مربع میل ہے اور اس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 67,700 ڈالر ہے۔ اس کی معیشت جزوی طور پر اس کے بھرپور معدنی ذخائر پر منحصر ہے اور اس کی تیل سے آمدنی 377 بلین ڈالر ہے۔ اس ملک کی آبادی 9.3 ملین ہے، جن میں سے تخمینے کے مطابق 7.8 ملین تارکین وطن ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کے غریب ترین ممالک
شام
شام مشرقِ وسطیٰ کے ان ممالک میں سے ہے جو لبنان، ترکی، اردن، اسرائیل اور عراق کے ساتھ سرحدیں رکھتا ہے۔ اس ملک کی آبادی 17 ملین ہونے کا تخمینہ ہے جو 71,500 مربع میل کے علاقے میں آباد ہے۔ شام کی معیشت اس خطے کی متنوع ترین معیشتوں میں سے ایک ہے، جس کے اہم شعبے زراعت، خدمات، صنعت اور تیل سے متعلق ہیں، اور اس کا فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) مشرقِ وسطیٰ میں سب سے کم سطح پر ہے، جو 2,900 ڈالر کے برابر ہے۔ دوسری طرف، شام میں جنگ نے ملک کی معیشت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور شدید اقتصادی نقصانات پہنچائے ہیں۔ شام میں جنگ سے ہونے والے اقتصادی نقصانات کا تخمینہ 237 بلین ڈالر سے زیادہ ہے۔
یمن
یمن عربی جزیرہ نما کے جنوبی حصے میں واقع ایک ملک ہے جس کا رقبہ 203,850 مربع میل ہے۔ اس ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) تقریباً 73.445 بلین ڈالر ہے اور اس کی آبادی 28 ملین سے زیادہ ہے۔ فی کس مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 2,500 ڈالر ہے، جو مشرقِ وسطیٰ میں سب سے کم ہے۔ اس کی 90% برآمدات تیل پر مشتمل ہیں، جس کے ثابت ذخائر 4 بلین بیرل سے زیادہ ہیں۔[14]۔
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ Alasdair Drysdale and Gerald Henry Blake, The Middle East andNorth Africa: a political geography, New York 1985, Vol. 1, pp. 19-20.
- ↑ Peter Beaumont, Gerald Henry Blake, Vol. 1, pp. 1-2, and John Malcolm Goustaf.
- ↑ Ewan W Anderson, The Middle East: geography and geopolitics, London 2000, Vol. 1, p. 12.
- ↑ محمد حسن گنجی (بہار 2537 شاہنشاہی). «زمین کا جغرافیائی مطالعہ ایک قدرتی وسیلہ کے طور پر ایشیا کے نمونوں کے ساتھ». جغرافیا (انجمن جغرافیہ دانان ایران کا جریدہ). انجمن جغرافیہ دانان ایران.
- ↑ بدیعی، ربیع (1362). جغرافیای مفصل ایران. اقبال. صفحہ 12.
- ↑ "Historical Dictionary of Middle Eastern Intelligence - Ephraim Kahana, Muhammad Suwaed - Google Books". web.archive.org. 2015-12-23. Retrieved 2021-02-13.
- ↑ Humans and Neanderthals likely interbred in the Middle East sciencemag.org
- ↑ برجیان، حبیب، «ایران در قاره فرهنگی خاور میانه»، پر، شمارههای ۹۸–۹۹، ۱۳۸۱.
- ↑ مشرقِ وسطیٰ - پرسمان https://www.porseman.com › khavarmiyanah.
- ↑ سفر به خاورمیانه و جزئیات آن - مجله GO2TR https://go2tr.com › ... › فهرست وبلاگ.
- ↑ ایرانی انقلاب، جان اسپوزیتو کا مقدمہ.
- ↑ حیدر ابراہیم علی، التیارات الاسلامیة و قضیة الدیمقراطیة، ج1، ص88-91.
- ↑ مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت ترین شہر جو یورپی شہروں سے بھی بہتر ہیں... https://zima.ir › news › 83-زیباتری...
- ↑ مشرقِ وسطیٰ کے امیر ترین اور غریب ترین ممالک اور ایران کا مقام... https://dinu.ir › سرگرمی › دانستنیها.