"جنگ رمضان" کے نسخوں کے درمیان فرق
Appearance
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 93: | سطر 93: | ||
* [[محمد پاکپور]] | * [[محمد پاکپور]] | ||
* [[علی شمخانی]] | * [[علی شمخانی]] | ||
* [[سید علی | * [[سید علی خامنہ ای]] | ||
* [[سید مجتبی خامنهای]] | |||
* [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] | * [[سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی]] | ||
* [[خلیج فارس]] | * [[خلیج فارس]] | ||
نسخہ بمطابق 14:49، 28 مارچ 2026ء

جنگِ رمضان، امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے جواب میں، ہفتہ کی صبح 9 اسفند 1404 ھ ش، مطابق 30 فروری 2026 ء اور10 رمضان 1447 ھ ق کو تہران میں واقع بیتِ رہبری پر شروع ہوئی۔ ان دہشت گردانہ حملوں میں امام خامنہ ای، ان کے خاندان کے بعض افراد، سید عبدالرحیم موسوی (چیف آف جنرل اسٹاف مسلح افواج جمہوری اسلامی ایران)، سردار محمد پاکپور (سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف)، امیر سرلشکر عزیز نصیرزادہ (وزیر دفاع و پشتیبانی نیروهای مسلح)، امیر دریاسالار علی شمخانی (کمانڈر اِن چیف کے مشیر اور سپریم ڈیفنس کونسل کے سیکریٹری)، میناب شہر کے مدرسۂ شجرۂ طیبہ کے طلبہ اور متعدد غیر فوجی ایرانی شہری شہید ہوگئے۔
ان حملوں کے نتیجے میں جمہوری اسلامی ایران کے مختلف صوبوں اور شہروں میں متعدد شہری، فوجی اہلکار اور امدادی ٹیموں کے افراد بھی زخمی ہوئے۔
جنگِ رمضان کے اہم واقعات
نواں دن
- لَیری جانسن: امریکہ اپنی عوام سے جھوٹ بول رہا ہے؛ ایران نے پانچ جدید ریڈار سسٹمز (جن کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر ہے) اور بحرین میں بحری تنصیبات کو تباہ کر کے امریکی فضائی دفاع کو عملاً اندھا کر دیا ہے اور حملوں کی وارننگ کا وقت 30 منٹ سے کم ہو کر صرف ایک منٹ رہ گیا ہے۔
- جارج گیلوے: ٹرمپ اپنے رویے اور گفتگو پر قابو نہیں رکھتا اور امریکہ و دنیا کے لیے فوری خطرہ ہے؛ اس کے ساتھیوں کو آئین کی 25ویں ترمیم نافذ کرنی چاہیے، بصورت دیگر فوج کو اسے گرفتار کرنا چاہیے۔
- جان برینن: ایران کی غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کی تجویز بے معنی ہے اور میدان میں پائی جانے والی افراتفری کو ظاہر کرتی ہے۔ ایرانی عوام کی شدید مزاحمت اور حکومتی ڈھانچے کو دیکھتے ہوئے کٹھ پتلی حکومت قائم کرنا ناممکن ہے۔
- کوئنسی انسٹی ٹیوٹ: ٹرمپ امریکہ کے اندر ایران کے خلاف جنگ پہلے ہی ہار چکا ہے کیونکہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی شہریوں کی بڑی تعداد اس جنگ کی مخالف ہے۔
- ولی نصر: امریکہ اپنی حکمت عملی کے حسابات میں غلطی کا شکار ہوا اور ایران کی طاقت کو کم سمجھا۔ ایران نے ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنا کر اور آبنائے ہرمز کو خطرے میں ڈال کر واشنگٹن کی حکمت عملی کو درہم برہم کر دیا اور علاقائی دفاعی نیٹ ورک کو نصف اندھا کر دیا ہے۔
- عوامی رائے اور ٹرمپ کا رویہ: عوامی حمایت کم ہونے (27 فیصد) اور واضح حکمت عملی کے فقدان (60 فیصد افراد کا یہی خیال ہے) کے باعث ٹرمپ شدید دباؤ اور غصے میں ہے۔ پیش گوئی کی جا رہی ہے کہ وہ بالآخر پیچھے ہٹ جائے گا، جیسا کہ ماضی میں اس نے عراق جنگ پر تنقید کی تھی۔
- خبر رساں ایجنسی رائٹرز: ایک ہفتے کے بعد امریکہ کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ گئے ہیں اور جنگ ایک علاقائی اور بے قابو بحران میں تبدیل ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت رکنے سے اقتصادی نتائج کے بارے میں فوری خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
- بریج موہن: اسرائیل میں صورتحال انتہائی خوفناک ہے؛ گہرے پناہ گاہیں بھی جانی نقصان کو نہیں روک سکیں۔ حکام ہسپتالوں تک رسائی محدود کر کے اور فلم بندی پر پابندی لگا کر ہلاکتوں کے اصل اعداد و شمار (ایک ہزار سے زیادہ) چھپا رہے ہیں۔
- صہیونی وزارتِ صحت: اس ادارے نے 1929ء زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ آزاد رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی گئی ہے۔
- السٹر کروک: ایران نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے خلیج فارس کی فضا پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور امریکی دفاعی نظام کو ناکام بنا دیا ہے۔
- جنرل میک کینزی: کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکہ اور اسرائیل کے خلاف دو دن سے زیادہ مزاحمت کر سکے گا، لیکن سینٹکام کے اڈے تباہ ہو گئے۔ ٹرمپ نے ان اقدامات سے دنیا میں امریکہ کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
- بشریٰ شیخ: ایران نے سات دن کے اندر امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں رسوا کر دیا اور شہر میں ایک نیا حکمران پیدا ہو گیا ہے۔
- الجزیرہ نیٹ ورک: ایران کی سخت تنبیہات کے بعد یورپی ممالک امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں شامل نہ ہو سکے۔
- فارین پالیسی: ٹرمپ کی جنگ نے تیل کی قیمت میں 35 فیصد اضافہ کیا اور ہوا بازی کی صنعت کو تقریباً 8 ٹریلین ڈالر کا نقصان پہنچایا، جبکہ امریکی اسٹاک مارکیٹ کی قدر میں 805 ارب ڈالر سے زیادہ کی کمی ہوئی۔
- وِل شرائیور: ایران نے واضح تزویراتی فتح حاصل کی ہے اور یہ تصادم امریکی سلطنت کے تیز رفتار زوال کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔
- شارمین نروانی: ایران نے ایک ہفتے میں امریکہ کے آدھے THAAD دفاعی نظام تباہ کر دیے ہیں، جن میں سے ہر ایک کی قیمت تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔
- واشنگٹن پوسٹ: ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی لاشوں کی واپسی جنگ کے تاریک پہلو کو ظاہر کرتی ہے (طیارہ بردار جہاز لنکن بھی ایران کے خوف سے پیچھے ہٹ گیا ہے)۔
- جان ہڈسن: امریکی انٹیلی جنس کے 18 اداروں کی خفیہ رپورٹ کے مطابق حتیٰ کہ وسیع حملہ بھی ایران کے نظام اور شیعہ مذہبی قیادت کو اقتدار سے نہیں ہٹا سکتا کیونکہ وہ شکست ناپذیر ہیں۔
- وولف گانگ اِشنگر: ٹرمپ حکومت کے پاس ایران پر حملے کا کوئی واضح ہدف نہیں ہے، جو انتہائی مایوس کن ہے؛ توجہ یوکرین پر ہونی چاہیے تاکہ ایران کے ساتھ طویل جنگ یوکرین میں اسلحہ کی کمی کو مزید نہ بڑھا دے۔
- ڈین کروئسک: یہ توقع کرنا کہ 90 ملین آبادی اور 2600 سالہ تہذیب رکھنے والی ایرانی قوم اجازت دے گی کہ ان کے رہنما کا انتخاب ’’زمین کے سب سے احمق شخص‘‘ کے ذریعے ہو، محض ایک وہم ہے۔
- خوان کول: امریکہ شیعیت، ایران کی روحانی جغرافیہ اور شہادت و انتظار کے تصور کو درست طور پر نہیں سمجھتا۔ ایران کا ردِعمل شیعہ سوگ کی قدیم روایت اور شہادت تک مزاحمت کی ثقافت پر مبنی ہے، جس نے واشنگٹن کے حسابات کو الٹ دیا ہے۔[1]۔
دسواں دن
- جنگ کا دسواں دن: یہ دن دنیا بھر میں ٹرمپ اور نیتن یاہو پر لعنت بھیجنے کے دن کے طور پر جانا گیا۔ ایران کے اسرائیلی شہروں اور بحرین، قطر، کویت اور دبئی میں امریکی اڈوں پر مشترکہ اور شدید حملے مزید تیز ہو گئے اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
- شاشانک جوشی: سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران نے ابتدائی وارننگ ریڈار سسٹمز کو تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے چند دنوں میں جتنے پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے وہ یوکرین کی پوری جنگ سے بھی زیادہ ہیں، اور ان کی جگہ لینا مشکل ہے۔
- نیویارک ٹائمز اور فارین پالیسی: بھاری جانی نقصان سے ظاہر ہوا کہ ایران ٹرمپ حکومت کی توقعات سے کہیں زیادہ تیار تھا۔ فارین پالیسی نے طنزیہ انداز میں آپریشن کے نام کو "Epic Rage" سے بدل کر "Epic Confusion" قرار دیا اور ٹرمپ کے اہداف کو ناقابل حصول بتایا۔
- فارن افیئرز: کشیدگی میں اضافہ ایران کے لیے فائدہ مند ہے کیونکہ اس کے وسیع علاقائی نتائج اور امریکی فوج کی میزبانی کی سیاسی قیمت خلیج فارس کے ممالک کے لیے بڑھا رہے ہیں اور ایک نیا علاقائی نظام تشکیل دے رہے ہیں۔
- حسین آرین: نیتن یاہو نے دوسری مرتبہ ٹرمپ کو دھوکہ دے کر ایران پر حملہ کروایا۔ ایران کی فوری ردعمل اور جنگ کو علاقائی بنانے کی حکمت عملی دشمن کی غلط حساب کتاب کو ظاہر کرتی ہے۔
- اکانومسٹ: ایران کے میزائل ہتھیاروں کی گہرائی، درستگی اور طاقت نے واشنگٹن اور تل ابیب کے حکام کو حیران کر دیا ہے۔
- سید مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب: آیت اللہ خامنہ ای کے قریبی ترین فرد کو نئے رہبر کے طور پر منتخب کیے جانے کو وال اسٹریٹ جرنل اور فنانشل ٹائمز جیسے ذرائع ابلاغ نے مزاحمت کے تسلسل اور ٹرمپ کی ناکامی کی علامت قرار دیا۔
- اقتصادی اور توانائی بحران: آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث کویت کی تیل پیداوار رک گئی اور سعودی عرب کی پیداوار کم ہو گئی، جبکہ بحرین کی تنصیبات پر حملوں نے تیل کی قیمت کو 120 ڈالر تک پہنچا دیا اور 215 ڈالر تک جانے کی پیش گوئی کی گئی۔ لاس اینجلس میں پیٹرول کی قیمت 100٪ بڑھ گئی اور یورپ میں گیس تین سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
- عالمی منڈیاں: ایشیائی اسٹاک مارکیٹس گر گئیں اور گارڈین و رائٹرز نے خبردار کیا کہ مہنگائی کا جھٹکا اور توانائی کی کمی عالمی اقتصادی بحالی کو تباہ کر سکتی ہے۔
- امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اختلاف: ویب سائٹ Axios کے مطابق امریکہ اسرائیل کے ایران کے ایندھن کے ذخائر پر حملے سے ناراض ہے کیونکہ اس سے تیل کی عالمی منڈی میں خوف پھیل گیا اور قیمتیں بے قابو ہو گئیں۔
- ٹرمپ کی پسپائی: طیارہ بردار جہاز لنکن کے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر پیچھے ہٹنے کے بعد ٹرمپ نے تجارتی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی دعوت دی، جسے عرب صارفین نے امریکی فوج کے خوف کی علامت قرار دیا۔
- آپریشن وعدۂ صادق 4 کی تیسری لہر: ایران کے سب سے شدید حملوں میں مائع اور ٹھوس ایندھن والے میزائلوں کے ذریعے الخضیرہ پاور اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا جس سے تل ابیب میں بجلی بند ہو گئی اور افراتفری پھیل گئی۔
- اخبار معاریو: اسرائیلی فوج بیک وقت دو محاذوں پر جنگ کے لیے تیار نہیں ہے اور اسے سنبھالنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ دو ملین اسرائیلی لبنان اور ایران کی آگ کے نیچے ہیں اور اسرائیلی فوج کوئی سپر پاور نہیں۔
- صہیونی ریڈیو و ٹی وی مرکز: 24 گھنٹوں میں لبنان سے 400 سے زیادہ میزائل داغے گئے اور حزب اللہ کے حملوں کی رفتار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
- ایک صہیونی صارف: خطرے کے سائرنوں کے درمیان زندگی، دس سیکنڈ سے کم وارننگ اور مسلسل حملوں کے ساتھ ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔
- امریکی سینیٹرز: لنڈسی گراہم نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کو مطلوبہ تبدیلی قرار نہیں دیا، جبکہ کرس وین ہولن نے طنزیہ انداز میں کہا کہ نیتن یاہو نے 40 سال انتظار کیا تاکہ ایک احمق صدر ملے جو امریکہ کو جنگ میں گھسیٹ سکے۔
- اسکاٹ رِٹر: امریکہ نے جنگ پہلے دن ہی ہار دی کیونکہ سیاست دانوں نے منتخب ویڈیوز کی بنیاد پر یہ سمجھ لیا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف ہیں، لیکن آج لوگ "زندہ باد شہید خامنہ ای" کے نعرے لگا رہے ہیں۔
- باقر العساف: طنزیہ انداز میں لکھا کہ "دنیا کی سب سے طاقتور ریاست" دس دن کے بعد کردوں، یورپیوں، یوکرین اور خلیجی ممالک سے التجا کر رہی ہے کہ وہ اس کی طرف سے جنگ لڑیں اور اپنے اڈے کھولیں۔
متعلقہ مضامین
- ایران
- محمد پاکپور
- علی شمخانی
- سید علی خامنہ ای
- سید مجتبی خامنهای
- سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
- خلیج فارس
- آبنائے ہرمز