مندرجات کا رخ کریں

"عباس اصغر بن علی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:عباس اصغر بن علی کو عباس اصغر بن علی کی جانب منتقل کیا
 
(کوئی فرق نہیں)

حالیہ نسخہ بمطابق 15:53، 18 ستمبر 2026ء

عباس اصغر بن علی
پورا نامیعباس اصغر بن علی
دوسرے نامعباس اصغر بن علی بن ابی طالب (علیہ السلام)
ذاتی معلومات
پیدائش60هق
وفات کی جگہکربلا، عراق
مذہباسلام، شیعه
مناصباز جمله کربلا کے شہداء میں سے تهے

عباس اصغر امام علی (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور کربلا کے شہداء میں سے ہیں[1]۔

نسب عباس

امام علی (علیہ السلام) کے بیٹے حضرت ابوالفضل (علیہ السلام) کے علاوہ، جنہیں علم رجال کے ماہرین عباس اکبر کہتے ہیں[2][3][4]، ایک اور بیٹا عباس اصغر کے نام سے بھی تھا[5][6][7]۔ ان کی اور عمر، اطرف اور رقیہ کی والدہ کا نام صہبا ہے۔

کربلا میں حضور

آپ اپنے بھائی امام حسین (علیہ السلام) کے ہمراہ مدینہ سے کربلا تشریف لائے اور روز تاسوعا[8] یا شب عاشورا[9][10] پانی لینے کے لیے دریا کے کنارے گئے اور شہادت پائی[11][12][13][14]۔

شہادت عباس اصغر پر تحقیق

کربلا میں ان کی شہادت پر دو روایات گواہ ہیں: الف) بنو ابان بن دارم کے ایک شخص نے، جو پہلے خوبصورت اور گورا تھا، قاسم بن اصبغ مجاشعی سے کہا: میں نے کربلا میں ایک نوجوان کو قتل کیا جس کے ماتھے پر سجده کا نشان تھا۔ اب میرا چہرہ کالا ہو گیا ہے۔ وہ عباس بن علی علیہ السلام تھے[15][16]۔

ب) قاسم بن اصبغ کہتے ہیں: حرملة بن کاہل اسدی، جب اسیران اور شہداء کے سر کوفہ لائے گئے تو ایک نوجوان کا سر جس کے ماتھے پر سجده کا نشان واضح تھا اور چودہویں کے چاند کی طرح تھا، اپنے گھوڑے کی گردن میں لٹکا رکھا تھا۔ میں نے اس سر کا نام پوچھا۔ کہا گیا: یہ سر عباس بن علی علیہ السلام کا ہے[17]۔

چونکہ حضرت ابوالفضل (علیہ السلام) کی عمر کربلا میں ۳۴ سال سے کم نہیں تھی[18] اور ایسا شخص ضرور داڑھی والا ہوگا، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ عباس اکبر ہیں[19]۔

بعض کہتے ہیں: «عباس اصغر اپنے والد بزرگوار کے زمانے میں انتقال کر گئے اور ان کی کوئی نسل باقی نہ رہی۔ کیونکہ ان کا نام امام علی (علیہ السلام) کے وارثین میں نظر نہیں آتا[20]۔

حوالہ جات

  1. عباس اصغر
  2. المجدی فی انساب الطالبین، علی بن محمد علوی، جلد ۱، صفحہ ۱۵
  3. نورالابصار، شبلنجی، جلد ۱، صفحہ ۱۷۹
  4. ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی، محب الدین طبری، جلد ۱، صفحہ ۱۱۷
  5. ناسخ التواریخ، محمد تقی سپہر کاشانی، جلد ۲، صفحہ ۳۴۱
  6. العباس علیہ السلام، موسوی مقرم، جلد ۱، صفحہ ۹۴
  7. العباس علیہ السلام، موسوی مقرم، جلد ۱، صفحہ ۱۰۷
  8. منتخب التواریخ، محمد ہاشم خراسانی، جلد ۱، صفحہ ۲۶۱
  9. تذکرة الشہدا، حبیب کاشانی، جلد ۱، صفحہ ۲۲۹
  10. ناسخ التواریخ، محمد تقی سپہر کاشانی، جلد ۲، صفحہ ۳۴۱
  11. وسیلة الدارین، موسوی زنجانی، جلد ۱، صفحہ ۲۶۲
  12. وسیلة الدارین، موسوی زنجانی، جلد ۱، صفحہ ۴۲۸
  13. ناسخ التواریخ، محمد تقی سپہر کاشانی، جلد ۲، صفحہ ۲۶۱
  14. تذكرة الشہدا، حبیب کاشانی، جلد ۱، صفحہ ۲۲۹
  15. مقاتل الطالبیین، ابوالفرج اصفہانی، جلد ۱، صفحہ ۷۹
  16. بحارالانوار، علامہ مجلسی، جلد ۴۵، صفحہ ۳۰۶
  17. تذکرة الخواص، ابن جوزی، جلد ۱، صفحہ ۲۵۳
  18. المجدی فی انساب الطالبین، علی بن محمد علوی، جلد ۱، صفحہ ۱۵
  19. فرسان الہیجا، ذبیح اللہ محلاتی، جلد ۱، صفحہ ۲۲۸
  20. العباس علیہ السلام، موسوی مقرم، جلد ۱، صفحہ ۱۰۷