مندرجات کا رخ کریں

"سید محمد رشید رضا" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
سطر 74: سطر 74:
اسی مقصد کے تحت انہوں نے "دار الدعوة والإرشاد" کے نام سے ایک انجمن اور تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام کا خیال انہیں اس وقت آیا جب انہوں نے طرابلس میں امریکی مذہبی مبلغین کے ایک ادارے کی لائبریری کا مشاہدہ کیا۔  
اسی مقصد کے تحت انہوں نے "دار الدعوة والإرشاد" کے نام سے ایک انجمن اور تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام کا خیال انہیں اس وقت آیا جب انہوں نے طرابلس میں امریکی مذہبی مبلغین کے ایک ادارے کی لائبریری کا مشاہدہ کیا۔  


وہ اس ادارے کے ذریعے ایک طرف اسلامی ممالک میں عیسائی مشنری جماعتوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو غیر مؤثر بنانا چاہتے تھے اور دوسری طرف نوجوان واعظین اور اساتذہ کو اسلامی شعائر اور تعلیمات کی تبلیغ کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے۔
وہ اس ادارے کے ذریعے ایک طرف اسلامی ممالک میں عیسائی مشنری جماعتوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو غیر مؤثر بنانا چاہتے تھے اور دوسری طرف نوجوان واعظین اور اساتذہ کو اسلامی شعائر اور تعلیمات کی تبلیغ کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے <ref>عنایت، حمید: سیری در اندیشۀ سیاسی عرب، تهران: امیرکبیر، 1376، ص 157</ref>.


تاہم مالی مشکلات اور دیگر مسائل کی وجہ سے یہ انجمن اور مدرسہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ رشید رضا نے اس ادارے اور اس کے پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے عثمانی حکومت سے مالی مدد کی درخواست بھی کی، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مدرسہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔
تاہم مالی مشکلات اور دیگر مسائل کی وجہ سے یہ انجمن اور مدرسہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ رشید رضا نے اس ادارے اور اس کے پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے عثمانی حکومت سے مالی مدد کی درخواست بھی کی، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مدرسہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

نسخہ بمطابق 14:03، 24 اگست 2026ء


سید محمد رشید رضا
پورا ناممحمد رشیدرضا
دوسرے نامسید رشید رضا
ذاتی معلومات
پیدائش1282 ق
پیدائش کی جگہبیروت لبنان
وفات1354ھ
وفات کی جگہمصر
اساتذہ
  • محمد عبده
  • شیخ عبدالغنی الرافعی
  • محمد الحسینی
مذہباسلام، سنی
اثرات
  • المنار فی تفسیر القرآن
  • الحصون المنیعة
مناصبمذہبی اسکالر

سید محمد رشید رضا، (1282۔1354ھ) بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع طرابلس کے نواحی گاؤں قلمون میں ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو شامی النسل اور "بیت آلِ رضا" کے نام سے معروف تھا۔ ان کا نسب حضرت حسین بن علی (علیہ السلام) تک پہنچتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی، جو گاؤں کے علماء میں شمار ہوتے تھے اور مسجد کے امامِ جماعت بھی تھے۔ اسی دوران انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات حفظ کیں۔ اس کے بعد وہ طرابلس گئے اور عثمانی حکومت کے سرکاری ابتدائی مدرسے "الرشیدیہ" میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں انہوں نے ابتدائی علوم کے علاوہ ترکی زبان بھی سیکھی۔ سن 1299ھ / 1882ء میں وہ "الوطنیۃ الاسلامیۃ" نامی مدرسے میں داخل ہوئے، جو اپنے زمانے کے ترقی یافتہ مدارس میں شمار ہوتا تھا۔ اس مدرسے کے بانی شیخ حسین الجر تھے، جو ممتاز علماء اور عربی بیداری کی تحریک کے پیش رو افراد میں سے تھے۔ تاہم کچھ ہی عرصے بعد عثمانی حکومت نے اس مدرسے کو بند کر دیا۔ رشید رضا نے دوسرے طلبہ کے برخلاف شیخ حسین الجر کی غیر رسمی درس گاہوں میں شرکت جاری رکھی اور ان سے علومِ شرعیہ، عقلیہ اور عربی حاصل کیے۔ اسی زمانے میں انہوں نے شیخ محمود نشابہ سے علمِ حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ اس دور میں ان کے دیگر اساتذہ میں شیخ عبدالغنی الرافعی، محمود الغجاوی اور محمد الحسینی شامل تھے۔

سید جمال الدین اسدآبادی کے افکار سے آشنائی

رشید رضا اس زمانے میں سید جمال الدین اسدآبادی اور شیخ محمد عبده کی اسلامی بیداری کی تحریک سے واقف ہوئے، جب یہ دونوں "العروۃ الوثقیٰ"نامی جریدے کے ذریعے اسلامی تحریک کے فروغ کے لیے سرگرم تھے۔ رشید رضا نے اس رسالے کا مطالعہ کرکے ان کے افکار اور نظریات سے آگاہی حاصل کی۔

وہ سید جمال الدین اسدآبادی سے ملاقات کے بہت خواہش مند تھے، لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی اور ان کا رابطہ صرف خط و کتابت کے ذریعے رہا۔ جب رشید رضا طرابلس میں مقیم تھے تو شیخ محمد عبده کو عثمانی حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں کے الزام میں بیروت جلاوطن کر دیا گیا۔

شیخ محمد عبده اسلامی اور عربی بیداری کی تحریک کے فروغ کے لیے تعلیم و تربیت کو بنیادی اہمیت دیتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے بیروت کے "السلطانیہ"مدرسے میں اپنے درسی حلقوں کا آغاز کیا اور اس علاقے میں اپنے اسلامی افکار کو فروغ دیا۔ اگرچہ شیخ محمد عبده طویل عرصے تک بیروت میں موجود رہے، لیکن رشید رضا اپنی شدید خواہش کے باوجود ان سے ملاقات نہ کرسکے۔ بعد ازاں جب محمد عبده طرابلس آئے تو رشید رضا کو ان سے ملاقات کا موقع ملا۔

رشید رضا نے سید جمال الدین اسدآبادی اور شیخ محمد عبده، دونوں کے افکار کا گہرا مطالعہ کیا۔ سید جمال الدین اسلامی بیداری کے فروغ کے لیے حکومت کے خلاف جدوجہد، مقابلے اور علانیہ تنقید کو ضروری سمجھتے تھے،

جبکہ شیخ محمد عبده تعلیم و تربیت کے فروغ اور پُرسکون علمی و فکری سرگرمیوں کو اسلامی اصلاح کا مؤثر ذریعہ قرار دیتے تھے۔ رشید رضا نے ان دونوں طریقوں اور اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے اسلامی بیداری اور وحدتِ اسلامی کے فروغ کے لیے اپنا ایک مخصوص طریقۂ کار مرتب کیا۔

دینی اور سماجی سرگرمیاں

رشید رضا کی اسلامی اور سماجی سرگرمیوں کا آغاز ان کے آبائی گاؤں قلمون سے ہوا۔ انہوں نے دینی کلاسیں منعقد کیں اور قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر کے ذریعے اسلامی بیداری کی تحریک کو اپنے علاقے سے شروع کرنے کی کوشش کی۔ ان کا مقصد سب سے پہلے اپنے گاؤں کے باشندوں کو جہالت اور دینی جمود سے نجات دلانا تھا۔

وہ قہوہ خانوں اور دیگر عوامی مقامات پر جاتے، لوگوں سے ملاقات کرتے اور انہیں مسجد میں حاضر ہونے اور اسلامی دینی تعلیمات سیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔

دینی و سماجی سرگرمیاں

رشید رضا کی اسلامی اور سماجی سرگرمیوں کا آغاز ان کے آبائی گاؤں قلمون سے ہوا۔ انہوں نے دینی کلاسوں کے انعقاد اور قرآنِ کریم کی آیات کی تفسیر کے ذریعے یہ کوشش کی کہ اسلامی بیداری کی تحریک کا آغاز اپنے وطن ہی سے کریں اور سب سے پہلے وہاں کے باشندوں کو جہالت اور دینی جمود سے نجات دلائیں۔

رشید رضا قہوہ خانوں اور دیگر عوامی مقامات پر جاتے، لوگوں سے ملاقات کرتے اور انہیں مسجد میں حاضری دینے اور اسلام کی دینی تعلیمات سیکھنے کی ترغیب دیتے تھے۔

محمد عبده سے تعلق

محمد عبده کے مصر جانے کے بعد رشید رضا بھی سن 1314ھ / 1898ء میں مصر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے محمد عبده کی معاونت سے، سن 1315ھ / 1899ء میں، باہمی مشاورت اور طویل تبادلۂ خیال کے بعد "المنار" نامی رسالے کی بنیاد رکھی۔

اس رسالے کا مقصد اسلامی اتحاد اور اسلامی و سماجی اصلاحات کو فروغ دینا، اسلام کے بارے میں مغربی حلقوں کی طرف سے اٹھائے جانے والے شبہات کا جواب دینا اور مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔

اس رسالے میں اسلامی اتحاد، اسلامی بیداری اور اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر مضامین اور تحقیقی مقالات شائع ہوتے تھے۔ نیز شیخ محمد عبده کی تفسیر بھی اس میں شائع کی جاتی تھی، جسے بعد میں خود رشید رضا نے آگے بڑھایا اور مکمل کیا۔

اس کے علاوہ اسلامی فتاویٰ و احکام، قارئین کی جانب سے پیش کیے جانے والے فقہی اور اعتقادی سوالات کے جوابات، اسلامی مفکرین اور ممتاز شخصیات کا تعارف، عالمِ اسلام کے حکمرانوں کا تعارف، اسلامی کتابوں اور علمی آثار کا جائزہ، نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کے مسائل پر بھی بحث کی جاتی تھی۔

"المنار" کے دیگر اہم موضوعات میں سے ایک موضوع اسرائیلیات اور اسلام، قرآنِ کریم اور پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں گھڑی گئی روایات کا تنقیدی جائزہ تھا، جس پر خود رشید رضا خصوصی توجہ دیتے تھے۔

اس کے علاوہ وہ اس رسالے میں بارہا اسلامی ممالک میں عیسائی مشنری اسکولوں کے پھیلاؤ سے خبردار کرتے تھے، جنہیں استعماری طاقتوں کی حمایت حاصل تھی۔ وہ ان اداروں کے مقابلے میں اسلامی تعلیم کے فروغ، جدید مدارس کے قیام اور اسلامی علوم کے ساتھ جدید علوم کی تدریس کے حامی تھے۔

رسالہ المنار تقریباً 35 سال تک شائع ہوتا رہا اور پورے عالمِ اسلام اور عرب دنیا میں اس کے بہت سے قارئین پیدا ہوئے۔ تیونس، الجزائر، لیبیا اور افریقہ کے دیگر ممالک، خصوصاً شمالی افریقہ، نیز ہندوستان، انڈونیشیا، عراق، ترکی اور دوسرے اسلامی علاقوں میں اس رسالے کو خاصی شہرت حاصل ہوئی۔

رشید رضا کے ان ممالک کے علماء کے ساتھ وسیع روابط تھے، جس کے نتیجے میں المنار کے علمی و فکری مواد میں مزید وسعت پیدا ہوئی۔ البتہ اس رسالے کا ایک منفی پہلو یہ تھا کہ اس میں بعض اوقات شیعہ عقائد کے بارے میں تنقیدی مباحث بھی شائع کیے جاتے تھے۔

ان تحریروں کے جواب میں سید محسن امین نے، جو خود عثمانی حکومت کے خلاف اسلامی و عربی تحریک میں سرگرم تھے اور عالمِ اسلام میں اسلامی اتحاد کے خواہاں تھے، رسالہ "العرفان" میں رشید رضا کی بعض تحریروں کے جوابات تحریر کیے۔

فرانسیسی محققہ صابرین مروین (Sabrina Mervin) نے بھی اپنی کتاب "شیعہ اصلاحی تحریک"(Un réformisme chiite) میں اس فکری چیلنج اور اس سے متعلق مباحث کا جائزہ لیا ہے [1].

تبلیغی اور تبشیری سرگرمیوں کے خلاف جدوجہد

رشید رضا کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو مغربی اور عیسائی مشنری سرگرمیوں کا مقابلہ تھا، جنہیں استعماری قوتوں کی حمایت حاصل تھی۔ وہ اسلامی علماء اور رہنماؤں کو مشورہ دیتے تھے کہ مغربی اثرات اور مشنری سرگرمیوں کے مقابلے کے لیے جدید اور ترقی یافتہ مدارس قائم کیے جائیں۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے "دار الدعوة والإرشاد" کے نام سے ایک انجمن اور تعلیمی ادارہ قائم کیا۔ اس ادارے کے قیام کا خیال انہیں اس وقت آیا جب انہوں نے طرابلس میں امریکی مذہبی مبلغین کے ایک ادارے کی لائبریری کا مشاہدہ کیا۔

وہ اس ادارے کے ذریعے ایک طرف اسلامی ممالک میں عیسائی مشنری جماعتوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو غیر مؤثر بنانا چاہتے تھے اور دوسری طرف نوجوان واعظین اور اساتذہ کو اسلامی شعائر اور تعلیمات کی تبلیغ کے لیے تیار کرنا چاہتے تھے [2].

تاہم مالی مشکلات اور دیگر مسائل کی وجہ سے یہ انجمن اور مدرسہ زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا۔ رشید رضا نے اس ادارے اور اس کے پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے عثمانی حکومت سے مالی مدد کی درخواست بھی کی، لیکن انہیں کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ بالآخر پہلی جنگِ عظیم کے آغاز کے ساتھ ہی یہ مدرسہ ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا۔

رشید رضا کا منصوبہ یہ تھا کہ اس ادارے میں اصولِ دین، فقہ، تہذیبِ اخلاق، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کے ساتھ ساتھ سماجیات، معاشیات، ریاضیات، حفظانِ صحت اور طب جیسے جدید علوم بھی پڑھائے جائیں۔ ان کا مقصد جدید اور ترقی یافتہ تدریسی طریقوں کے ذریعے پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک ترقی یافتہ معاشرہ اور ایسے مسلمان نوجوان تیار کرنا تھا جو دینی وابستگی کے ساتھ جدید فکر اور علمی بصیرت بھی رکھتے ہوں۔

رشید رضا کو تصوف سے بھی ایک حد تک دلچسپی تھی۔ انہوں نے امام ابو حامد غزالی کی مشہور کتاب "احیاء علوم الدین" کا مطالعہ کیا اور اس کتاب سے گہرا اثر قبول کیا، جس کے نتیجے میں ان کی توجہ تصوف کی طرف ہوئی۔ وہ سلسلۂ نقشبندیہ کے ایک عارف کے ذریعے اس طریقت سے متعارف ہوئے۔

بعد ازاں انہوں نے مختلف صوفی سلسلوں کا مطالعہ کیا اور ان کے بعض پہلوؤں کا تنقیدی جائزہ لے کر ان کی اصلاح کی کوشش بھی کی۔ اسی سلسلے میں انہوں نے "رسالۃ فی حجة الإسلام الغزالی" کے عنوان سے ایک کتاب بھی تحریر کی۔

رشید رضا کا سیاسی نظریہ

اسلامی سیاسی فکر کے بارے میں رشید رضا کے نظریات کی مختلف انداز سے تشریح کی گئی ہے۔ حمید عنایت کے مطابق، رشید رضا اس میدان میں بڑی حد تک محمد عبده اور سید جمال الدین اسدآبادی کے افکار کے پیرو تھے۔

تاہم ایک اہم نکتہ جو انہیں دوسرے جدیدیت پسند مفکرین سے ممتاز کرتا ہے، وہ سنی خلافت کی اصلاح اور اسے ابتدائی اسلامی دور کی صورت میں دوبارہ قائم کرنے پر ان کا اصرار تھا۔

رشید رضا خلافت کو اسلام میں دین اور حکومت کے باہمی تعلق اور یکجائی کی علامت سمجھتے تھے اور ان کے نزدیک اسلام کے دنیاوی مقاصد اور اجتماعی نظریات کے عملی نفاذ کا انحصار خلافت کے نظام پر تھا۔

وہ خلافت کو اسلامی جدیدیت پسندوں کے ایک دوسرے اہم مقصد، یعنی وحدتِ اسلام کے حصول کا بہترین ذریعہ بھی تصور کرتے تھے۔ اسی وجہ سے وہ قوم پرستی اور نیشنلزم کے نظریے پر تنقید کرتے تھے۔

رشید رضا نے اسلامی حکومت کے مسئلے کو خلافت کے موضوع کے بعد تفصیل سے زیرِ بحث لایا اور اس مسئلے کو تین مراحل میں بیان کیا:

  • پہلا مرحلہ: اسلامی سیاسی نظریے اور تصورِ خلافت کے بنیادی اصولوں کی تحقیق۔
  • دوسرا مرحلہ:اسلامی نظریۂ حکومت اور سنی مسلمانوں کی عملی سیاسی تاریخ کے درمیان پیدا ہونے والے فرق اور خلا کا جائزہ۔
  • تیسرا مرحلہ: اس بارے میں اپنے نظریات پیش کرنا کہ اسلامی حکومت کی ساخت اور خصوصیات کیا ہونی چاہئیں۔

رشید رضا نے اپنے ان سیاسی افکار اور نظریات پر تفصیل کے ساتھ اپنی کتاب "الخلافة أو الإمامة العظمى" میں بحث کی ہے۔

رشید رضا کے سیاسی بیانیے کی خصوصیات

رشید رضا کے سیاسی بیانیے میں تین نمایاں خصوصیات پائی جاتی تھیں:

  • احیاء اور بازیافت کا رجحان: ان کے سیاسی افکار میں امام ماوردی، ابن تیمیہ اور ابن القیم جیسے علماء اور مفکرین کی تحریروں اور نظریات کی بازیافت اور احیاء نمایاں تھا۔
  • دینی سیاست کے اصلاحی مطالعے سے اجتناب: انہوں نے دینی سیاست کے بعض اصلاح پسندانہ تعبیرات اور جدید قرأتوں سے اجتناب کیا اور ان سے اپنا فاصلہ قائم رکھا۔
  • اسلامی تحریکوں کے لیے فکری بنیاد: ان کا سیاسی بیانیہ ایک ایسی بنیادی فکر پر قائم تھا جس کی بنیاد پر بعد میں حسن البنا اور اخوان المسلمون جیسے اسلام پسندوں کے افکار اور نظریات نے تشکیل پائی۔

رشید رضا کے نزدیک حکومت ایک ایسا معاہدہ ہے جو انتخاب اور شوریٰ کے ذریعے وجود میں آتا ہے اور حکومت اس وقت تک شرعی حیثیت نہیں رکھتی جب تک اسے بیعت کے ذریعے مشروعیت حاصل نہ ہو۔

وہ سیاست کے مفہوم کی تشریح کرتے ہوئے اسلامی سیاسی ورثے اور مغرب کے جدید سیاسی تصورات کے باہمی تعامل پر زور دیتے ہیں، خصوصاً ان تصورات پر جو تفکیکِ اختیارات کے اصول سے متعلق ہیں۔

رشید رضا توحید، عدالت اور آزادی کو اسلامی نظامِ حکومت کے بنیادی فلسفیانہ اصول قرار دیتے تھے۔ تاہم ان کا یہ بھی نظریہ تھا کہ اگر قوم انتخاب کے معاملے میں کمزور اور نااہل ہو، تو ایسی صورت میں اس بات میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ ایک عادل، مصلح اور ساتھ ہی مضبوط و بااختیار حکمران حکومت سنبھال لے اور قوم کو ترقی اور خوشحالی کی طرف رہنمائی کرے۔

رشید رضا نے عملی سیاست میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے عثمانی حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی اور اس حکومت کے حالات اور نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ وہ "جمعیۃ الشوریٰ العثمانیہ" کے صدر بنے، جسے مصر میں مقیم عثمانی حکومت کے جلاوطن مخالفین نے قائم کیا تھا۔

اس انجمن کی مختلف سرگرمیاں تھیں، جن میں عثمانی سلطنت کے مختلف علاقوں میں خفیہ اعلانات اور بیانات تقسیم کرنا شامل تھا، تاکہ مسلمانوں میں بیداری اور اتحاد پیدا کیا جا سکے۔

عثمانی حکومت کی شکست اور فرانس و برطانیہ کے درمیان عرب دنیا کی تقسیم کے معاہدے کے بعد، رشید رضا نے رسالہ المنار میں اس مسئلے سے متعلق شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے استعمار اور عرب دنیا میں استعماری طاقتوں کی سرگرمیوں کی مذمت کی۔ ان سرگرمیوں کے نتیجے میں عرب رہنماؤں نے جنیوا میں منعقد ہونے والی عرب مسائل سے متعلق کانفرنس میں انہیں نائب صدر منتخب کیا۔

وہ سن 1921ء میں دمشق میں منعقد ہونے والی شامی قومی کانگریس کی صدارت کے لیے منتخب ہوئے۔ اسی سال انہیں شام اور فلسطین کے نمائندہ وفد کے رکن کی حیثیت سے برطانیہ اور فرانس کی سرپرستی اور قیمومت کے خلاف احتجاج کے لیے جمعیتِ اقوام کے پاس بھیجا گیا۔

مسلمانوں کی وحدت اور باہمی ہم آہنگی

رشید رضا کی اہم ترین سرگرمیوں میں مسلمانوں کی وحدت، باہمی قربت اور اسلامی بیداری شامل تھی۔ اس سلسلے میں ان کی سرگرمیاں بنیادی طور پر تین شعبوں میں نمایاں ہوئیں:

  • رسالہ المنار میں مضامین کی اشاعت اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی وحدت اور تقریبِ مذاہب سے متعلق سرگرمیوں اور خبروں کی نشر و اشاعت۔
  • اسلامی اجتماعات اور تعلیمی مراکز میں تقاریر اور تنبیہی خطابات۔
  • اسلامی اتحاد کے موضوع پر کتابوں کی تصنیف، مثلاً "الوحدة الإسلامیة"۔

رشید رضا نے رسالہ المنار کے وسیع دائرۂ اثر کو مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لیے استعمال کیا۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے علماء کو دعوت دی کہ وہ باہمی روابط اور تعامل کو بڑھائیں اور اسلامی اتحاد کے سلسلے میں اپنے نظریات پیش کریں۔ اس دعوت کے نتیجے میں مختلف علاقوں کے مسلمان اپنے مسائل، مشکلات اور فقہی سوالات بھی رسالہ المنار کے ذریعے پیش کرتے تھے۔

مغرب اور تیونس سے لے کر ہندوستان اور انڈونیشیا تک مختلف اسلامی علاقوں کے علماء اور مسلمانوں کا المنار کے ساتھ علمی اور فکری رابطہ قائم تھا۔ رشید رضا مسلمانوں اور عربوں کو صہیونیت کے خطرات اور استعماری سازشوں سے آگاہ کرتے تھے اور صہیونیت اور استعمار کے مقابلے میں اسلامی اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے تھے۔

انہوں نے اسرائیلیات کے موضوع پر بھی بحث اور تنقید کی اور کوشش کی کہ اسلامی فکری نظام میں ان کے پھیلاؤ کو روکا جائے، تاکہ عالمِ اسلام میں تفرقہ اور مذہبی تعصب میں کمی واقع ہو۔

جس زمانے میں بعض عرب مصلحین اور جدید مفکرین پان عرب ازم، عرب وطن پرستی اور عرب قومی تحریک جیسے نظریات کو فروغ دے رہے تھے، رشید رضا مسلمانوں کی پسماندگی سے نجات اور ترقی کا واحد راستہ عالمِ اسلام کی وحدت اور مذاہبِ اسلامی کے درمیان قربت کو سمجھتے تھے۔

اسی مقصد کے تحت انہوں نے مسلمانوں کے اختلافات کم کرنے اور فرقہ واریت سے بچنے کے لیے تجویز پیش کی کہ اسلام کے ان مشترکہ اصولوں اور پہلوؤں پر کتابوں کا ایک سلسلہ مرتب کیا جائے جو قرآن، سنت اور عقل * کی بنیاد پر ہو اور اختلاف انگیز موضوعات سے اجتناب کرتا ہو۔

یہ کتابیں تمام اسلامی گروہوں اور مذاہب میں تقسیم کی جائیں اور مسلمانوں کو ان کی تعلیم اور عملی پیروی کی ترغیب دی جائے۔ اسی طرح علماء بھی انہی مشترکہ اصولوں کی بنیاد پر اسلام کی تبلیغ کریں۔

رشید رضا نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ اسلامی احکام اور فقہ میں زیادہ ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے ایسی کتابیں مرتب کی جائیں جن میں اسلامی مذاہب کے مشترکہ اصولوں کو مدنظر رکھا جائے۔ ممتاز اسلامی علماء عصرِ حاضر کے حالات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ان موضوعات کو تمام اسلامی دنیا کے علماء کے لیے تدریس اور تعلیم کا حصہ بنائیں، تاکہ مسلمانوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ مشترکہ بنیادیں پیدا کی جا سکیں۔

ان کے یہ نظریات عرب دنیا کے بعض اصلاح پسندوں اور قوم پرستوں کو پسند نہیں آئے۔ بنیادی طور پر دو گروہ ان کے افکار کے مخالف تھے:

  • پہلا گروہ: مغرب زدہ روشن فکر افراد، جو نہ صرف اسلامی خلافت بلکہ اسلام کے پورے سیاسی اور سماجی ورثے پر تنقید کرتے اور اسے مسترد کرتے تھے۔
  • دوسرا گروہ: بعض مصری وطن پرست، مثلاً مصطفیٰ کامل اور ان کی وطنی پارٹی کے ارکان، جو رشید رضا کے اسلامی اتحاد کے نظریے کو مصر کے عوام کو ان کے عملی اور داخلی مسائل سے ہٹا کر مبہم اور ناقابلِ عمل مذہبی آرزوؤں کی طرف لے جانے کے مترادف سمجھتے تھے۔

لیکن رشید رضا ان نظریات سے متفق نہیں تھے اور مسلسل اسلامی اصلاح اور مسلمانوں کے اتحاد کے لیے کوشاں رہے۔

رشید رضا نے اسلامی اتحاد اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقاریر اور احتجاجی اجتماعات بھی منعقد کیے۔ وہ بعض اوقات مسلم حکمرانوں اور اسلامی رہنماؤں کو نصیحت آمیز اور رہنمائی پر مبنی خطوط اور خطابات بھی ارسال کرتے تھے۔

مغربی طاقتوں کی عالمِ اسلام کے بارے میں پالیسیوں اور عرب حکمرانوں کے طرزِ عمل کے حوالے سے ان کے موقف نہایت سخت تھے۔ اسلامی اقوام کی آزادی اور اپنے علاقوں کے دفاع کے مسئلے پر انہوں نے متعدد تقاریر کیں اور مضامین تحریر کیے، خصوصاً اٹلی کی جارحیت کے مقابلے میں لیبیا کے مسلمانوں کی جدوجہد اور دفاع کی بھرپور حمایت کی۔

وہ شاہ حسین اور شاہ عبدالعزیز آل سعود کو بھی ان کے طرزِ حکومت اور سیاسی امور کے بارے میں متعدد خطوط لکھتے تھے۔

رشید رضا کی تصانیف

رشید رضا نے اپنے مختلف مضامین کے علاوہ متعدد کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ان کی سب سے اہم تصنیف "تفسیر المنار" یا "تفسیر القرآن العظیم" ہے۔ یہ تفسیر سورۂ یوسف کی آیت 53 تک مکمل ہوئی ہے۔

قرآنِ کریم کے آغاز سے سورۂ نساء کی آیت 126 تک کی تفسیر شیخ محمد عبده کے افکار اور بیانات پر مشتمل ہے، جسے سید رشید رضا نے قلم بند کیا۔ اس کے بعد رشید رضا نے شیخ محمد عبده کے تفسیری اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اس تفسیر کو سورۂ یوسف تک جاری رکھا۔

تفسیر المنار قرآنِ کریم کی تفاسیر میں اپنے سیاسی، سماجی اور تربیتی انداز کی وجہ سے نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔

رشید رضا کی دیگر اہم تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:

  • الحصون المنیعة
  • الحکمة الشرعیة فی محکمة القادریة والرفاعیة
  • تاریخ الأستاذ الإمام الشیخ محمد عبده وما جرى بمصر فی عصره
  • الوحی المحمدی
  • المنار والأزهر
  • ذکر المولد النبوی
  • یسر الإسلام وأصول التشریع العام
  • مناسک الحج وأحکامه وحِکَمه
  • حقیقة الربا
  • المقصورة الرشیدیة

خلاصۂ کلام

رشید رضا نے اسلامی اتحاد، عالمِ اسلام کے مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی اور اسلامی بیداری کے لیے وسیع کوششیں اور سرگرمیاں انجام دیں۔ وہ عرب اتحاد اور عرب قومی تحریک جیسے تصورات پر اسلامی وحدت اور اسلامی بیداری کو ترجیح دیتے تھے۔

اس فکری اور اصلاحی راستے میں وہ شیخ محمد عبده اور سید جمال الدین اسدآبادی کے افکار سے متاثر تھے اور ان دونوں کی اصلاحی اور اسلامی بیداری کی تحریک کے اہم پیروکاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. صابرینا، مرفان: حرکة الإصلاح الشیعی، ترجمۀ هیثم الأمین، بیروت: دارالنهار، 2003، صص 357 ـ 360
  2. عنایت، حمید: سیری در اندیشۀ سیاسی عرب، تهران: امیرکبیر، 1376، ص 157