"طالبان" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 112: | سطر 112: | ||
=== نسلی برتری === | === نسلی برتری === | ||
طالبان کے نزدیک افغانستان کی اسلامی ریاست کی قیادت کے لیے | طالبان کے نزدیک [[افغانستان]] کی اسلامی ریاست کی قیادت کے لیے قوم پشتون کے قبیلہ احمد شاہ درانی (ابدالی) کو اصل اور مستحق سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی خاندان نے قندھار میں پہلی آزاد حکومت قائم کی تھی جس سے بعد میں افغانستان کی ریاست وجود میں آئی۔ اسی وجہ سے طالبان دیگر اقوام بلکہ بعض دیگر پشتون قبائل جیسے غلزئی یا محمدزئی کی حکمرانی کو قبول نہیں کرتے۔ | ||
<ref>سجادی، «طالبان، دین و حکومت»، ص۲۳۵ و ۲۴۰.</ref> | <ref>سجادی، «طالبان، دین و حکومت»، ص۲۳۵ و ۲۴۰.</ref> | ||
نسخہ بمطابق 21:04، 16 جون 2026ء
| طالبان | |
|---|---|
| پارٹی کا نام | طالبان |
| قیام کی تاریخ | 1996 ء، 1374 ش، 1416 ق |
| بانی پارٹی | ملا عمر |
| پارٹی رہنما | ہبت اللہ اخوندزادہ |
| مقاصد و مبانی |
|
طالبان ایک مسلح سلفی گروہ ہے جو ستمبر ۱۹۹۶ میں افغانستان کے صدارتی محل کے مینار پر "اسلامی امارت" کا سفید پرچم لہرانے کے ساتھ وجود میں آیا۔ اس کا مقصد اُس وقت کے افغانستان کے سیاسی نظام کو گرانا اور کابل کے سقوط کے بعد اسلامی امارت قائم کرنا تھا۔ امریکا نے ۱۱ ستمبر کے حملوں کے بعد ۲۰۰۱ء کے اواخر (مہر ۱۳۸۰ش) میں افغانستان پر حملہ کر کے اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔ تاہم ۲۰۲۱ء میں امریکی اور ناتو افواج کے افغانستان سے انخلا کے بعد طالبان دوبارہ اقتدار میں آ گئے۔ طالبان کی فکر اور طرزِ عمل شریعتِ اسلام کی روایتی اور سخت تعبیر (دیوبندی، سلفی اور وہابی) اور پشتون قبائلی ضوابط پر مبنی ہے۔
طالبان کی فکری بنیاد
طالبان کی فکر کی بنیاد دراصل «مکتبِ دیوبند» کی فکر پر قائم ہے۔ طالبان اور مکتبِ دیوبند کے درمیان روحانی و فکری تعلق پاکستان کے «مدارسِ حقانیہ» کے اساتذہ اور منتظمین کے ذریعے قائم ہوا۔ اسی وجہ سے سوویت یونین کے افغانستان پر قبضے کے زمانے میں طالبان کے اکثر رہنما «حرکتِ انقلابِ اسلامی» (مولوی محمدنبی محمدی کی قیادت میں) اور «حزب اسلامی» (مولوی محمد یونس خالص کی قیادت میں) سے وابستہ تھے۔ ان دونوں تنظیموں کے سخت گیر اور غیر مصالحت پسند رہنماؤں نے مکتبِ دیوبندی سے گہرا اثر قبول کیا تھا اور افغانستان کے سب سے زیادہ روایت پسند افراد میں شمار ہوتے تھے۔ [1]
طالبان کے ظہور کے پس منظر
افغانستان پر سوویت حملے کے بعد پاکستان میں ایک مذہبی تنظیم، جس کی قیادت مولوی فضل الرحمن کر رہے تھے اور جو پشتون قوم سے تعلق رکھتے تھے، پاکستان میں موجود افغان مہاجرین کی امداد کی ذمہ دار بنی۔ اسی تناظر میں بہت سے افغان پشتون نوجوان اس تنظیم کے دینی مدارس میں داخل ہوئے اور مفت قرآن اور اسلامی احکام کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ اسی طرح بہت سی ایسی مائیں جن کے شوہر جنگ میں مارے گئے تھے، اپنے بچوں کو تعلیم سے محروم نہ رہنے دینے کے لیے ان مدارس میں بھیجنے لگیں۔
یہ مدارس پاکستان کے سرکاری تعلیمی نظام کے تابع نہیں تھے اور ان کی بنیادی خصوصیت دیوبندی فکر کی تعلیم اور پشتون قبائلی تعصبات کا امتزاج تھا۔ ان عوامل کے باعث پاکستان کے سرحدی علاقوں میں ان مدارس کی تعداد تیزی سے بڑھ گئی۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مالی امداد اور عوامی عطیات بھی ان مدارس کی طرف بہنے لگے، جس نے ان کے تیز رفتار پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔
ان مدارس کے فارغ التحصیل طلبہ میں مذہبی تعصب نمایاں تھا اور وہ ہر اس فکر اور نظریے کے خلاف سخت اور بعض اوقات پرتشدد طریقے اختیار کرتے تھے جو ان کے عقائد کے خلاف ہو۔ ان مدارس کے نزدیک «جہاد» کا مفہوم ہر اس فکر اور نظریے کے خلاف جدوجہد تھا جو ان کے عقائد سے مختلف ہو؛ اسی وجہ سے وہ اپنے مخالفین کو جلد کفر کا الزام دے دیتے تھے۔ [2]
مولوی سمیع الحق جو جمعیت علمائے اسلام کے رہنماؤں میں سے تھے، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ افغانستان کے پشتون علاقوں میں سوویت مخالف جہاد کے تقریباً ۸۰ فیصد کمانڈر مدرسۂ حقانیہ میں تعلیم حاصل کر چکے تھے، جس کی نگرانی خود وہ کرتے تھے۔ [3]
اسی وجہ سے مولوی سمیع الحق کا مدرسہ بعد میں طالبان کی تربیت کا ایک اہم مرکز بن گیا؛ یہاں تک کہ ۱۹۹۹ء میں طالبان حکومت کے کم از کم آٹھ وزراء «دارالعلوم حقانیہ» میں تعلیم حاصل کر چکے تھے جو مولوی سمیع الحق سے وابستہ تھا۔ [4]
طالبان کی قومیت اور نسلی ساخت
اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان کی اکثریت پشتون قوم سے تعلق رکھتی ہے، تاہم ہر پشتون طالب نہیں ہوتا۔ طالبان کو عمومی طور پر ایک پشتون تحریک کہا جا سکتا ہے، اگرچہ اس میں دیگر اقوام کے افراد بھی کم تعداد میں شامل ہیں۔ طالبان بنیادی طور پر پشتون قوم کی دو بڑی شاخوں «غلجئی» اور «درانی» سے تعلق رکھتے ہیں۔
پشتون علاقوں میں نسلی عنصر کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ طالبان کے مرحوم رہنما ملا محمد عمر غلجئی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک ملا عمر زندہ رہے طالبان کی اندرونی قیادت غلجئیوں کے ہاتھ میں رہی۔ تاہم ان کی وفات کے بعد قیادت درانی قبیلے کو منتقل ہو گئی کیونکہ «ملا اختر محمد منصور» درانی تھے۔ منصور کی ہلاکت کے بعد بھی قیادت درانیوں میں ہی رہی لیکن اس بار درانیوں کی ایک اور شاخ «نورزئی» کو منتقل ہوئی کیونکہ موجودہ طالبان رہنما «ملا ہبت اللہ اخوندزادہ» نورزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ [5]
جغرافیائی ماخذ
طالبان کا جغرافیائی ماخذ افغانستان کا جنوبی علاقہ ہے۔ بنیادی طور پر قندھار، زابل، ہلمند اور ارزگان کی ولایتیں اس گروہ کے روایتی اثر و نفوذ کے علاقے سمجھے جاتے ہیں۔ ولایتِ قندھار اس دائرۂ اثر کا مرکز ہے۔ قندھار کے اضلاع پنجوائی، میوند، خاکریز اور اسپین بولدک کو طالبان کے بڑے رہنماؤں کی پرورش گاہ کہا جا سکتا ہے۔
۱۳۷۳ش کے موسمِ بہار میں، یعنی اس سے چند ماہ پہلے کہ طالبان اسپین بولدک سے قندھار شہر کی طرف روانہ ہو کر پہلی مرتبہ اپنے وجود کا اعلان کرتے، راقم ملک سے باہر جانے کا ارادہ رکھتا تھا کہ قندھار شہر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر مغرب میں «کشک نخود / میوند» کے علاقے میں ان کے مسلح دستوں سے سامنا ہوا۔ اس وقت طالبان کے مسلح نیم فوجی دستے اپنے بقول «احکامِ شرعیہ» نافذ کر رہے تھے۔ اس روز راقم کے سر کے بال ان کی قینچی سے تو بچ گئے، لیکن بعد کے برسوں میں ایسا نصیب ساتھ نہ رہا۔ [6]
طالبان کا ظہور
۱۳۷۳ش / ۱۹۹۴ء میں ملا محمد عمر اپنے تقریباً تیس ساتھیوں کے ساتھ ان مسلح گروہوں کی زیادتیوں پر مشتعل ہو گئے جو ولایتِ قندھار کی شاہراہوں پر لوگوں سے بھتہ لیتے تھے اور لوٹ مار اور زیادتی کو حد سے بڑھا چکے تھے۔ انہوں نے ان کے مقابلے میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کامیابی کے بعد بہت سے طلبہ اور پشتون عوام ملا عمر کے ساتھ شامل ہو گئے۔ [7]
ملا عمر نے اپنے تقریباً ۲۰۰ ساتھیوں کے ساتھ قلب الدين حكمتيار کی جماعتِ اسلامی کے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا اور علاقے کے سب سے بڑے فوجی مرکز پر قبضہ کر لیا۔ اس کارروائی میں اٹھارہ ہزار ہتھیار طالبان کے ہاتھ لگے۔ یہ پہلا موقع تھا جب «طالبان» کا نام دنیا کے اخبارات اور خبر رساں اداروں کی سرخیوں میں نمایاں ہوا۔ [8]
طالبان کی تشکیل داخلی اور خارجی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ تھی، جن کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
داخلی عوامل
طالبان کی سرگرمیوں کے آغاز سے پہلے افغانستان مجموعی طور پر شدید عدم استحکام اور بحران کا شکار تھا۔
عوامی رجحان
محمد نجیب الله کی حکومت کے سقوط (بہار ۱۳۷۱ش / ۱۹۹۲ء) کے بعد مجاہدین گروہوں کے رہنماؤں اور کمانڈروں کے درمیان کابل میں تیزی سے داخل ہونے اور اہم علاقوں اور بھاری ہتھیاروں پر قبضہ کرنے کی دوڑ شروع ہو گئی۔ اس رقابت نے شدید جھڑپوں، بڑے جرائم اور کابل و دیگر بڑے شہروں کی تباہی کو جنم دیا۔
مجاہدین کی حکومت کے زمانے میں اقتصادی سرگرمی، سماجی استحکام اور عمومی سلامتی ختم ہو گئی۔ ترقی کا سست رفتار عمل بھی رک گیا اور بدعنوانی، جبر اور غیر قانونی اعمال میں اضافہ ہو گیا۔ [9]
اسی صورتحال میں عوامی رائے ایک ایسے طاقتور عنصر کے ظہور کی طرف مائل ہوئی جو مجاہدین کی بدانتظامی کو روکے اور حالات کو بہتر بنائے۔ طالبان کی ابتدائی گمنامی نے اس تصور کو جنم دیا کہ شاید یہ گروہ دوسروں سے مختلف اور بہتر ہو۔ [10]
طالبان کی شخصیتی مناسبت
پاکستان کے سرحدی علاقوں خصوصاً پشاور اور کوئٹہ میں چالیس کی دہائی شمسی کے بعد سے سنی مذہبی جماعتوں جیسے جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی اور اہل حدیث نے دینی مدارس قائم کیے۔ ان مدارس میں صرف بعض مذہبی متون دیوبندی مکتبِ فکر کی تعبیر کے ساتھ پڑھائے جاتے تھے جن کے نظریات اور سرگرمیوں میں سلفی اور وهابیت کے ساتھ بھی مشترک پہلو پائے جاتے تھے۔ [11]
افغان مہاجرین کے ان علاقوں میں آنے کے بعد بہت سے نوجوان ان مدارس کی طرف راغب ہوئے اور مدارس کی تعداد بھی بڑھ گئی۔ ان طلبہ کی اکثریت قوم پشتون تھی جو قبائلی اور دیہی ماحول یا مہاجر کیمپوں میں غربت اور محدود سماجی فضا میں پرورش پائے تھے۔ [12]
ان مراکز میں بارہا کہا جاتا تھا کہ مجاہدین اور شیعہ فاسد اور دین اسلام سے خارج ہیں جبکہ غیر ملکی قوتوں کو شیطانی طاقتیں قرار دیا جاتا تھا۔ اس کے بعد طلبہ کو جہاد کے لیے ابھارا جاتا اور افغانستان کو «پاک» کرنے کے دینی فریضے کے نام پر انہیں مسلح اور منظم کر کے افغانستان بھیجا جاتا تھا۔ [13]
بتدریج غیر پشتون یا غیر بنیاد پرست افراد بھی اس گروہ میں شامل ہونے لگے، جیسے بنیاد پرست تاجک اور ازبک سنی، عرب مجاہدین، چیچن اور ازبکستانی جنگجو، اور وہ پشتون افراد جنہوں نے افغانستان کی کمیونسٹ حکومتوں میں کام کیا تھا۔ [14]
خارجی عوامل
افغانستان کے بحران میں شامل ہمسایہ ممالک اور بیرونی قوتیں بھی اپنے مفادات کے حصول اور اس صورتحال سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
حکومتِ پاکستان
سابق سوویت یونین کی افواج کے افغانستان میں داخلے (زمستان ۱۳۵۸ش / ۱۹۸۰ء) اور مجاہدین کے پاکستان کے سرحدی شہروں سے زمینی رابطوں نے پاکستان کو افغانستان میں اپنی پالیسیوں کے نفاذ کا بہتر موقع فراہم کیا۔
پاکستان (ضیاء الحق) کی حمایت اور امریکا، برطانیہ اور بعض اسلامی ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی مالی مدد سے متعدد جہادی جماعتیں تشکیل دی گئیں۔ ان جماعتوں کے قائدین مذہبی علما تھے جبکہ ان کے جنگجو مہاجر نوجوانوں اور ملک کے اندر سے آنے والے افراد پر مشتمل تھے۔ [15]
بعد میں پاکستان اور سعودی عرب کے لیے یہ واضح ہو گیا کہ ان کے حمایت یافتہ سخت گیر گروہ، مثلاً حزبِ اسلامی (قلب الدين حكمتيار) اور اتحاد اسلامی (عبدالرب الرسول سیاف)، ان کے منصوبوں کو مکمل طور پر آگے نہیں بڑھا سکتے۔ اسی لیے پاکستان (بینظیر بھٹو) اور سعودی عرب نے ایک نئے گروہ کی تشکیل کی طرف رخ کیا جس پر زیادہ کنٹرول اور نگرانی ممکن ہو۔ [16]
فکری مبانی
طالبان کے ابتدائی فکری ڈھانچے پر جنوبی افغانستان کے پشتون معاشرے کی ذہنیت اور تربیت کے علاوہ معاصر اسلامی انتہاپسند تحریکوں کے مختلف نظریات نے بھی براہِ راست یا بالواسطہ اثر ڈالا ہے۔
سلفی طرزِ زندگی کو نمونہ قرار دینا
طالبان کے علما کی فکری بنیاد دیوبندی اور سلفی مکتبِ فکر سے متاثر ہے، جو اسلام کے ابتدائی اور درمیانی ادوار کو سنہری زمانہ سمجھتے ہیں اور اسے ہر طرح کی خطا اور تنقید سے پاک قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ دور رسول خدا کی سیرت و سنت کے سب سے زیادہ قریب تھا، لہٰذا مسلمانوں کے موجودہ معاشرے کو بھی اسی طرزِ زندگی کی طرف واپس لوٹنا چاہیے۔ [17]
نظامِ خلافت
دیوبندی اور طالبان کی سیاسی فکر کا بنیادی اصول اسلامی نظامِ خلافت کو دوبارہ زندہ کرنا ہے۔ طالبان کے نزدیک معاشرے کے اسلامی ہونے کے لیے حکومت کا اسلامی ہونا ضروری ہے۔ اس لیے ان کے تصور کے مطابق مثالی اسلامی معاشرے کی طرف واپسی اس وقت ممکن ہے جب خلافت کے سیاسی نظام کو دوبارہ قائم کیا جائے۔ [18]
اس سیاسی نظام کے اہم ارکان میں اہلِ حل و عقد کی بیعت، شوریٰ، نصب اور غلبہ شامل ہیں۔ طالبان کے تصورِ خلافت یا امارت میں عوام اور سیاسی جماعتوں کو کوئی خاص مقام حاصل نہیں۔ [19]
نسلی برتری
طالبان کے نزدیک افغانستان کی اسلامی ریاست کی قیادت کے لیے قوم پشتون کے قبیلہ احمد شاہ درانی (ابدالی) کو اصل اور مستحق سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اسی خاندان نے قندھار میں پہلی آزاد حکومت قائم کی تھی جس سے بعد میں افغانستان کی ریاست وجود میں آئی۔ اسی وجہ سے طالبان دیگر اقوام بلکہ بعض دیگر پشتون قبائل جیسے غلزئی یا محمدزئی کی حکمرانی کو قبول نہیں کرتے۔ [20]
اہداف
اپنے فکری مبانی کی بنیاد پر طالبان عملی میدان میں درج ذیل بنیادی مقاصد کا تعاقب کرتے ہیں:
سلفی طرزِ زندگی کی بحالی
قندھار، ہرات اور کابل پر قبضے اور حکومت قائم کرنے کے بعد طالبان نے اپنے تصور کے مطابق اسلامی طرزِ زندگی نافذ کرنے کے لیے متعدد عمومی احکامات جاری کیے، مثلاً مردوں کے لیے داڑھی رکھنا اور مقامی لباس پہننا ضروری قرار دیا گیا، جماعت کے ساتھ نماز لازم قرار دی گئی، اور ریڈیو، ٹیلی ویژن، انٹرنیٹ، سیٹلائٹ اور موسیقی کے آلات کو «شیطانی» قرار دیا گیا۔ [21]
جاندار مخلوقات کی تصویر کشی اور فوٹوگرافی ممنوع قرار دی گئی۔ لڑکیوں اور خواتین کو تعلیم اور ملازمت سے روک دیا گیا اور گھر سے باہر نکلنے کے لیے مکمل پردہ اور محرم مرد کے ساتھ ہونا لازمی قرار دیا گیا۔ [22]
اہل سنت کے علاوہ دیگر مذاہب جیسے شیعہ اور اسماعیلی پیروکاروں کو مذہبی رسومات ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اسی طرح زکوٰۃ اور عشر کو دوبارہ اسلامی ٹیکس کے طور پر نافذ کیا گیا۔ [23]
نظامِ خلافت کا قیام
طالبان کی سیاسی فکر دیگر سنی تحریکوں کی طرح اسلامی خلافت کے تصور پر مبنی ہے۔ اسی لیے کابل پر قبضے کے بعد طالبان نے ملا محمد عمر کو «امیر المؤمنین» اور «امیرِ امارتِ اسلامی» کے طور پر بیعت کی۔ [24]
بعد کے رہنما بھی انہی دو القاب کے تحت منتخب کیے جاتے ہیں۔
نسلی سیاسی برتری کا تحفظ
پشتون قوم تقریباً گیارہویں صدی شمسی / اٹھارویں صدی عیسوی سے افغانستان کی سیاسی طاقت پر قابض رہی ہے۔ تاہم برہان الدین ربانی (ایک تاجک عالم) کی قیادت میں مجاہدین کی حکومت نے اس تسلسل کو توڑ دیا۔
اسی وجہ سے طالبان کے رہنما ملا محمد عمر نے پشتونوں کی سیاسی برتری کے تصور کے ساتھ اقتدار حاصل کرنے اور اس تاریخی روایت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ [25]
حکومت
مہر ۱۳۷۳ش میں اسپین بولدک میں مقامی مجاہدین کی افواج اور ایک نئے ابھرتے ہوئے گروہ کے درمیان خونریز جھڑپ کے بعد، افغانستان میں پاکستان کی سرحد کے قریب، مولوی منان نیازی نامی ایک شخص نے بیبیسی ریڈیو کے فارسی شعبے سے گفتگو کی اور خود کو اس نئے جنگجو گروہ کا ترجمان متعارف کرایا۔ انہوں نے گروہ کے مقاصد اس طرح بیان کیے: ہم دینی مدارس کے طلبہ اور طالبان ہیں اور ہم نے مقامی مسلح گروہوں کو ختم کرنے اور تجارتی راستوں میں امن قائم کرنے کے لیے اقدام کیا ہے۔ [26]
طالبان نے بہت جلد افغانستان کے اہم جنوبی صوبے قندھار پر قبضہ کر لیا اور وہاں اپنی مقامی حکومت قائم کر لی۔ [27]
مہر ۱۳۷۵ش میں طالبان کابل میں داخل ہوئے، صدارتی محل پر قبضہ کیا اور «اسلامی امارت» قائم کی۔ تاہم ملا عمر قندھار میں ہی مقیم رہے۔ طالبان نے آبان ۱۳۸۰ش تک افغانستان کے بڑے حصے پر حکومت کی۔ اس دوران افغانستان کے مجاہدین مختلف علاقوں میں طالبان کے خلاف لڑتے رہے۔ اسی عرصے میں حاج قاسم سلیمانی جو سپاہ قدس کے کمانڈر تھے، افغانستان کے مختلف علاقوں میں موجود رہے اور طالبان کے خلاف مجاہدین کی مدد کرتے تھے۔ [28]
نیویارک میں جڑواں ٹاورز پر حملے کے بعد امریکی حکومت نے القاعدہ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا اور طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسامه بنلادن، القاعدہ کے رہنما کو امریکہ کے حوالے کریں۔ طالبان کے اس مطالبے کو مسترد کرنے کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر افغانستان پر حملہ کر دیا۔ اس حملے کے نتیجے میں طالبان کمزور ہو گئے اور کئی برسوں سے طالبان کے خلاف جاری مجاہدین کی جدوجہد کامیاب ہوئی اور طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔ طالبان حکومت کے سقوط کے بعد آبان (عقرب) ۱۳۸۰ش میں باقی ماندہ زیادہ تر ارکان پاکستان فرار ہو گئے۔ [29]
رہنما
طالبان کی تشکیل کے بعد سے اب تک اس گروہ کی قیادت مسلسل درج ذیل تین افراد کے ہاتھ میں رہی ہے:
طالبان کے پہلے سربراہ محمد عمر (قندھار ۱۳۳۹ش – پاکستان ۱۳۹۲ش / ۱۹۶۰–۲۰۱۳ء) المعروف ملا عمر تھے۔ کابل پر قبضے (مہر ۱۳۷۵ش / اکتوبر ۱۹۹۶ء) کے بعد جنوبی افغانستان کے علما اور طلبہ کے ایک اجتماع میں انہیں طالبان کی «اسلامی امارت» کا امیر منتخب کیا گیا۔ وہ افغانستان کی بعض جہادی جماعتوں کے رکن بھی رہ چکے تھے اور جہاد کا تجربہ رکھتے تھے، لیکن بعد میں ان سے الگ ہو گئے۔ طالبان حکومت کے سقوط اور پاکستان فرار ہونے کے بعد وہ اپنی وفات تک منظرِ عام پر نہیں آئے۔ [30]
ملا محمد عمر کے بعد اختر محمد منصور (ولایت قندھار ۱۳۴۷ش – پاکستان ۱۳۹۵ش / ۱۹۶۸–۲۰۱۶ء) جو اس گروہ کے دوسرے نمبر کے رہنما تھے، طالبان کے نئے سربراہ منتخب ہوئے۔ تاہم طالبان کے ایک حصے نے اس انتخاب کو قبول نہیں کیا اور گروہ سے الگ ہو گیا۔ [31]
یہ شخصیت (پیدائش: قندھار ۱۳۴۰ش / ۱۹۶۱ء) ملا عمر کے دور میں طالبان کے «قاضی القضاة» تھے اور طالبان میں «شیخ الحدیث» کے لقب سے بھی مشہور ہیں، تاہم ان کے پاس زیادہ فوجی یا انتظامی تجربہ نہیں تھا۔ [32]
دیگر نمایاں شخصیات:
طالبان کی قیادت کو عمومی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1. طلبہ کا حلقہ — جو اصل قیادت سنبھالتے تھے (ملا عمر کی قیادت میں) 2. وہ افراد جن کا نقطۂ نظر نسبتاً وسیع تھا (ملا احسان اللہ کی قیادت میں) 3. معتدل افراد — جن کی تعداد کم تھی اور بڑے سیاسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود تھا۔
طالبان کی مرکزی قیادت میں شامل افراد:
• ملا ہبت اللہ اخوندزادہ (سپریم لیڈر)
داخلی شوریٰ کے ارکان:
1. ملا محمد ربانی 2. ملا احسان اللہ 3. ملا محمد 4. ملا عباس 5. ملا پاسانی
مرکزی شوریٰ کے ارکان:
1. ملا محمد حسن 2. ملا نورالدین 3. ملا وکیل احمد 4. ملا شیر محمد ملنگ 5. ملا عبدالرحمن 6. ملا عبدالحکیم 7. سردار احمد 8. حاجی محمد غوث 9. معصوم افغانی
بعد میں طالبان نے مختلف سرکاری عہدوں پر درج ذیل افراد کو مقرر کیا:
1. مرکزی رہنما — ملا محمد عمر 2. کابل شوریٰ کے سربراہ — ملا حمد ربانی 3. لوگر کے سیاسی رہنما — ملا محمد غوث 4. مقبوضہ علاقوں کے سواره دستوں کے ذمہ دار — ملا احسان اللہ 5. قندھار کے گورنر — ملا محمد حسن 6. ہرات کے گورنر — ملا یار محمد 7. پکتیا کے گورنر — ملا کرامت اللہ 8. وزیر خارجہ — ملا شیر محمد استانکزی 9. مرکزی بینک کے سربراہ — ملا احسان اللہ احسان 10. وزیر اطلاعات و ثقافت — ملا امیر خان متقی 11. قومی سلامتی کے سربراہ — ملا فاضل احمد 12. اقوام متحدہ میں نمائندہ — حامد کرزی (جسے کرزی نے قبول نہیں کیا) 13. وزیر پلان — قاری دین محمد 14. وزیر مہاجرین — ملا عبدالرقیب [33]
دیگر نمایاں طالبان رہنما:
1. نیک محمد — سینئر کمانڈر 2. ملا عبداللہ المعروف خادم 3. عزیز اللہ — طالبان کے شہری نیٹ ورک کے ذمہ دار 4. ملا غوث الدین 5. قاری عزیز اللہ 6. مولوی مصباح 7. ملا نور علی 8. ملا غوث الدین 9. محمد یوسف احمدی — طالبان کے ترجمان 10. سید آغا المعروف درویش 11. ملا سنگین زدران (غیرت اللہ زدران المعروف ملا سنگین) 12. صلاح الدین صادق 13. ملا عبدالغنی برادر 14. جلال الدین حقانی — کوئٹہ شوریٰ کے سینئر رکن اور طالبان کی ایک اہم شاخ کے رہنما
گیارہ ستمبر کے بعد طالبان اور شوریٰ کوئٹہ کا قیام
۲۰۰۱ء میں طالبان کی شکست کے بعد ایک مدت تک ان کی سرگرمیوں کی نمایاں خبر سامنے نہ آئی، یہاں تک کہ ۳ ستمبر ۲۰۰۵ء کو طالبان کے رہنما ملا عمر چار سالہ مخفی زندگی کے بعد پاکستان کے علاقے باجوڑ میں اپنے حامیوں کے ایک بڑے اجتماع میں ظاہر ہوئے۔ انہوں نے وہاں القاعدہ اور طالبان کے اراکین کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے، اپنے انجام کے بارے میں پھیلنے والے شکوک کو رد کرنے اور اپنی حیثیت کو دوبارہ مستحکم کرنے کی کوشش کی۔ اسی موقع پر انہوں نے تجویز پیش کی کہ بڑے علما میں سے چھ افراد پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے جو طالبان کی شکست کے اسباب کا جائزہ لے اور طالبان کے اعمال و رویوں سے متعلق شکوک و شبہات کا جواب دے۔ یہی کمیٹی بعد میں شوریٰ کوئٹہ کے نام سے معروف ہوئی۔ اس کمیٹی کے اراکین سے کہا گیا کہ وہ بیگانوں سے رابطہ اور ان سے مدد لینے سے اجتناب کریں۔ ملا عمر نے ذاتی طور پر طالبان کی شکست اور انہدام کے اسباب یہ بیان کیے:
- بعض اراکین کی طرف سے ملا عمر کی قیادت کو رد کرنا؛
- بیگانوں کے مقابلے کے لیے طالبان کے محرکات کا کمزور پڑ جانا؛
- داخلی اختلافات؛
- پاکستان کا طالبان کی حمایت سے دستبردار ہو جانا اور پاکستانی سرزمین پر طالبان کے اڈوں کو سمیٹنے کی کوشش کرنا۔
یہیں سے ملا عمر کی قیادت میں «شوریٰ کوئٹہ» نے شکل اختیار کی، جس کا مرکزی دفتر پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں تھا۔ یہ شوریٰ، جس کا عملیاتی دائرہ افغانستان اور مغربی افواج کے خلاف سرگرمیوں پر مشتمل تھا، طالبان کی چار علاقائی فوجی شوراؤں اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں موجود اس کی دس کمیٹیوں کی رہنمائی کرتی تھی۔ [35]
افغان حکومت اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات کے معاملے میں، «شوریٰ کوئٹہ» اپنی سیاسی مشروعیت اور طالبان کے درمیان وسیع اثر و رسوخ کی بنا پر بنیادی فریقِ گفتگو کے طور پر سامنے آئی۔ [36]
افغانستان سے باہر کی تنظیمیں، ممالک اور سیاسی حلقے بھی اسی شوریٰ سے رابطے میں رہے، اور طالبان کے اہم حلقوں اور شخصیات پر کنٹرول بھی اسی کے ہاتھ میں تھا۔ ان کے نزدیک افغانستان کی موجودہ حکومت ایک غیر اسلامی نظام تھی جو بیگانوں اور غیر مسلموں کے زیرِ تسلط چل رہی تھی؛ اسی لیے اس حکومت کے ساتھ ہر قسم کا تعاون اور مدد جرم تصور کی جاتی تھی اور اس کی سزا موت سمجھی جاتی تھی۔ ان کے پاس ایک ایسا گروہ بھی تھا جسے وہ جنگی آلے کے طور پر استعمال کرتے تھے اور جس کے ذریعے نیٹو اور افغان حکومت کے خلاف لڑائی کرتے تھے۔ [37]
طالبان کا سیاسی ڈھانچہ
شوریٰ کوئٹہ، حقانی نیٹ ورک اور شوریٰ میران شاہ طالبان کے سیاسی تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل کرتے ہیں۔ البتہ اس کے علاوہ بھی چھوٹی بڑی دیگر شورائیں اور گروہ موجود ہیں جن کا ذکر کیا جا سکتا ہے، مگر اس گروہ کی اندرونی تبدیلیوں کے عمل اور طالبان کے اقتدار کے ڈھانچے میں ان کا اثر نسبتاً محدود ہے۔
الف: شوریٰ کوئٹہ
شوریٰ کوئٹہ کا مرکزی دفتر، جو ملا عمر کے قائم کردہ طالبان گروہ کا بنیادی اور ابتدائی مرکز سمجھا جاتا ہے، پاکستان کے شہر کوئٹہ میں واقع تھا۔ اس وقت اس گروہ کے اہم رہنما اور کلیدی اراکین اسی شہر میں مقیم تھے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی «ایران پرس» کے ایک تجزیے کے مطابق، یہ شوریٰ حالیہ عرصے میں افغانستان کے اندر منتقل ہو چکی ہے۔
ب: حقانی نیٹ ورک
حقانی نیٹ ورک کی سرگرمیوں کا مرکز افغانستان کا مشرقی اور جنوب مشرقی حصہ ہے، بالخصوص خوست اور پکتیکا کی ولایتیں۔
اگرچہ اس نیٹ ورک کا انتظامی ڈھانچہ طالبان سے مختلف ہے، لیکن یہ کبھی بھی اس گروہ سے جدا نہیں رہا۔ طالبان بھی اس نیٹ ورک کو اپنی قیادت کے تحت ایک ذیلی حصہ سمجھتے رہے ہیں اور اس کے رہنماؤں کو طالبان کی مرکزی قیادت کا تابع مانتے ہیں۔
ج: شوریٰ میران شاہ
اس شوریٰ کا بنیادی مرکز پاکستان کے قبائلی علاقے سے تعلق رکھنے والے میران شاہ میں ہے۔ شوریٰ میران شاہ حقانی نیٹ ورک کی نگرانی میں کام کرتی ہے۔ اس شوریٰ کے وفادار افراد میں پاکستانی اور افغانی دونوں شہریت رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔
افرادی قوت اور جغرافیائی دائرۂ اثر کے لحاظ سے شوریٰ میران شاہ، شوریٰ کوئٹہ سے کمزور سمجھی جاتی ہے۔ نظریاتی اعتبار سے بھی، چونکہ اس گروہ کے بہت سے افراد کرائے کے جنگجو ہیں اور جنگ کو آمدنی کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتے ہیں، اس لیے شوریٰ کوئٹہ کے ارکان کے مقابلے میں ان میں انتہا پسندانہ عقائد نسبتاً کم پائے جاتے ہیں۔
چونکہ شوریٰ میران شاہ نسبتاً کم شدت پسند ہے، اس لیے امریکہ اور افغانستان کی مرکزی حکومت کے ساتھ مذاکرات کی طرف اس کا رجحان بھی زیادہ بتایا جاتا ہے۔ تاہم اس شوریٰ کی بعض پیشگی شرائط، جیسے افغانستان سے امریکی انخلا یا افغانستان میں اقتدار میں بڑا حصہ حاصل کرنا، عملی طور پر ہر قسم کے مذاکرات کی راہ مسدود کر دیتی ہیں۔
مزید برآں، اس گروہ کے اراکین چونکہ منشیات کی اسمگلنگ اور دیگر منظم جرائم میں بھی نمایاں سرگرمی رکھتے ہیں، اس لیے افغانستان، خصوصاً اس کے جنوب اور جنوب مشرق، نیز پاکستان کے قبائلی علاقوں اور سرحدی صوبوں میں عدم استحکام کو وہ اپنے مفادات کے مطابق سمجھتے ہیں۔ [38]
طالبان کا قیادتی ڈھانچہ
مولوی عبدالحکیم اسحاق زئی طالبان کے قیادتی ڈھانچے میں طالبان کی عدلیہ کے سربراہ اور شوریٰ قیادت کے رکن کے طور پر شامل ہیں۔ یہی شوریٰ اس وقت ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کو طالبان کا رہنما مقرر کر چکی ہے اور انہیں «امیر المؤمنین» کا لقب دیا گیا ہے۔ اسی طرح سراج الدین حقانی اور ملا محمد یعقوب کو ان کے نائب کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔
طالبان کا فوجی ڈھانچہ
فوجی تنظیم کے اعتبار سے اس وقت طالبان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
پہلا حصہ: حقانی گروہ، جو افغانستان کے مشرق اور مرکز پر اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ یہ گروہ سراج الدین کی قیادت میں افغانستان کے مشرقی علاقوں، نیز پاکستان کے پشاور سے لے کر غزنی، وردک، لوگر، پکتیا، خوست، پکتیکا، کابل، پروان، کاپیسا اور بدخشان تک کے علاقوں کی نگرانی کرتا ہے۔ سراج الدین حقانی اس وقت ملا عمر کے فرزند ملا محمد یعقوب کے ساتھ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے نائبین میں شامل ہیں۔
دوسرا حصہ: افغانستان کا مغربی حصہ، یعنی غزنی سے قندھار، زابل، ہلمند، اور شمالی غور و بادغیس تک، جس کی قیادت شوریٰ کوئٹہ کی فوجی کمیٹی کرتی ہے۔
حقانی نیٹ ورک اور شوریٰ کوئٹہ کے درمیان فیصلہ سازی کے مختلف مراحل میں اختلافات بھی پائے جاتے رہے ہیں؛ چنانچہ ماضی میں حقانی نیٹ ورک بعض اوقات اپنی کارروائیاں شوریٰ کوئٹہ سے ہم آہنگی کے بغیر انجام دیتا تھا۔ [39]
طالبان کی شاخیں
طالبان اپنے قیام سے اب تک متعدد شاخوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ ملا محمد عمر کی قیادت میں قائم ہونے والے اس گروہ سے ان کی وفات کے بعد مختلف وجوہات کی بنا پر بعض اراکین الگ ہو گئے، اور متعدد مواقع پر ان کے درمیان جھڑپیں اور تنازعات بھی رونما ہوئے۔ تحقیق کے مطابق ان کی چند نمایاں شاخیں درج ذیل ہیں:
پہلی شاخ
ملا اختر محمد منصور صاحب وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے طالبان کی قیادت حاصل کرنے کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ طالبان کی قیادت کرنے والی شوریٰ کے ساتھ کئی گھنٹوں کی بحث کے بعد وہ اپنے اصل حریف مولوی یعقوب، جو ملا محمد عمر کے بڑے بیٹے تھے، پر غالب آ گئے۔ اس کے بعد انہوں نے تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے یہ ظاہر کیا کہ طالبان کی ایک بڑی تعداد نے بھی باقاعدہ طور پر انہیں نئے رہنما کے طور پر بیعت کر لی ہے۔ اس کے بعد بعض طالبان رہنماؤں اور عام اراکین کی طرف سے مخالفت کی آوازیں مسلسل سنائی دیتی رہیں۔ چنانچہ ملا سید محمد طیب آغا، جو قطر میں طالبان کے نمائندے تھے اور افغان حکومت کے ساتھ طالبان کے امن وفد کی قیادت کر رہے تھے، ملا محمد عمر کی موت کو شوریٰ کوئٹہ کی طرف سے خفیہ رکھنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے منصب سے مستعفی ہو گئے اور مکمل طور پر طالبان سے الگ ہو گئے۔ [40]
یہ شاخ اب بھی طالبان کے اہم ترین ارکان میں سے شمار ہوتی ہے، اور ملا اختر محمد منصور صاحب کے قتل کے بعد ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں سرگرم ہے۔
دوسری شاخ: شوریٰ رسول
یہ شاخ شوریٰ کوئٹہ کے بعض اراکین کے اختلاف کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس دوران مولوی رسول، ملا باز محمد حارث، ملا منصور داداللہ، ملا شیر محمد اخوندزادہ اور ملا عبدالمنان نیازی کی سربراہی میں ایک نئے گروہ نے اپنے الگ ہونے کا اعلان کیا۔ یہ شاخ ملا محمد رسول کی قیادت میں تشکیل پائی۔
ملا عبدالمنان نیازی، جو اس انشعابی طالبان گروہ کے ترجمان تھے، نے نئے گروہ کے تعارف کے پہلے اجتماع میں اپنی علیحدگی اور ملا اختر محمد منصور کی مخالفت کی دو وجوہات بیان کیں: پہلی یہ کہ ہم ملا اختر منصور سے کہتے تھے کہ وہ امریکیوں کے ساتھ تعلقات منقطع کریں اور صلح کی راہ اختیار نہ کریں۔ دوسری یہ کہ اہل اور حقیقی مجاہدین کو ترجیح دی جائے اور نااہل افراد کو الگ کیا جائے۔ [41]
شوریٰ رسول افغانستان کے صوبہ فراه میں واقع ہے۔ شوریٰ کوئٹہ سے اختلاف کے باوجود، شوریٰ رسول کا تعلق عبیداللہ ہنر اسحاق زئی کے دھڑے سے بھی رہا، جو شوریٰ کوئٹہ کے اراکین میں سے تھے اور تیسری شاخ کے رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ ۲۰۱۵ء سے ۲۰۱۷ء کے درمیان شوریٰ رسول اور شوریٰ کوئٹہ کے مابین ایک طرح کی باہمی جنگ جاری رہی۔ انٹونیو گیوستوزی کے ساتھ ایک گفتگو کے مطابق، شوریٰ رسول کے رہنما ملا رسول شوریٰ کوئٹہ کی طرف سے امن عمل پر اجارہ داری کے سخت مخالف تھے۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے کہا: «ہم پہلے یہ سمجھتے تھے کہ افغان حکومت تمام طالبان کے ساتھ صلح کی خواہاں ہے، لیکن جب ہم نے دیکھا کہ پاکستان کی حکومت کے دباؤ کی وجہ سے وہ صرف ملا منصور کے ساتھ صلح میں دلچسپی رکھتی ہے، تو ہم نے فیصلہ کیا کہ ہم افغان حکومت سے صلح نہیں کریں گے»۔ [42]
تیسری شاخ
مولوی عبیداللہ ہنر کی قیادت میں طالبان کے ایک نئے گروہ نے صوبہ پکتیکا میں اپنے وجود کا اعلان کیا۔ اس گروہ نے اپنے بیان میں ملا اختر منصور کے گروہ، حقانی نیٹ ورک، اور بالخصوص بلال حدران نامی کمانڈر کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔
حقانی شاخ
یہ گروہ جلال الدین حقانی کی قیادت میں قائم ہوا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹوں، خصوصاً سراج الدین حقانی نے اس کی قیادت سنبھالی۔ سراج الدین حقانی اس وقت ملا محمد یعقوب کے ساتھ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے نائبین میں شمار ہوتے ہیں۔
اس نیٹ ورک کے دوسرے نمایاں رہنما غیرت اللہ زدران المعروف ملا سنگین زدران تھے۔
اگرچہ اس نیٹ ورک کا انتظامی ڈھانچہ طالبان سے مختلف ہے، لیکن یہ کبھی بھی اس گروہ سے الگ نہیں ہوا۔ طالبان بھی اس نیٹ ورک کو اپنی مرکزی قیادت کے ذیلی حصے کے طور پر دیکھتے ہیں اور اس کے رہنماؤں کو طالبان کی قیادت کا تابع سمجھتے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک نے کابل اور افغانستان کے مختلف علاقوں میں متعدد مہلک حملے کیے ہیں۔ اس نیٹ ورک کی زیادہ تر شہری کارروائیاں بارود سے بھری گاڑیوں اور خودکش حملہ آوروں کے ذریعے انجام دی جاتی رہی ہیں۔
شوریٰ کوئٹہ، جو ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کی قیادت میں ہے، اور حقانی نیٹ ورک کے درمیان فیصلہ سازی کے کئی مراحل میں اختلافات بھی رہے ہیں؛ چنانچہ ماضی میں حقانی نیٹ ورک بعض کارروائیاں شوریٰ کوئٹہ سے بغیر ہم آہنگی کے بھی انجام دیتا رہا ہے۔ [43]
تحریک اسلامی محاذ فدائی شاخ
گروہ «تحریک اسلامی محاذ فدایی» طالبان، جو کئی برس پہلے وجود میں آ چکا تھا، منصور دادالله کی قیادت میں ۱۳۹۴ش میں ایک اعلامیے کے ذریعے اپنی آزادی اور ملا اختر منصور کی قیادت کے ساتھ صریح مخالفت کا اعلان کیا۔ اس گروہ نے دعویٰ کیا کہ طالبان کے سابق رہنما ملا محمد عمر طبیعی موت نہیں مرے تھے بلکہ طالبان کی اعلیٰ قیادت کے بعض اراکین نے انہیں زہر دے کر قتل کیا تھا۔ اس گروہ نے زور دے کر کہا کہ وہ اب افغان حکومت کے خلاف اپنی مسلح جدوجہد آزادانہ طور پر جاری رکھے گا۔ [44]
منصور دادالله ۱۳۹۴ش کے اواخر میں نومبر کے مہینے میں ملا اختر محمد منصور صاحب کے افراد کے حملے میں زابل میں مارے گئے۔ [45]
طالبان کی سرخ قطعہ
یہ شاخ شدت پسند اور پرتشدد گروہوں میں شمار ہوتی ہے اور سخت گیر معیارات کے ساتھ سرگرم رہی ہے۔ اس دھڑے کے کلیدی افراد میں ملا شهاب، جو طالبان کے «سرخ قطعہ» کے ذمہ دار تھے اور ہرات کی جنگ کی قیادت کر رہے تھے، نیز ملا قدوس غوریانی، ملا ظاہر سلطان زوی، اور مولوی عبدالمجید شامل تھے۔ یہ افراد بعد میں مارے گئے۔ ان میں سے بعض کو ولایت ہرات میں فوجی دستوں کی رات کی کارروائیوں میں ہلاک کیا گیا۔ [46]
شوریٰ مشہد
شوریٰ مشہد، جس میں طالبان کی جنگی قوت کا دس فیصد سے بھی کم حصہ شامل بتایا جاتا ہے، ایران کے شہر مشہد میں قائم تھی۔ [47]
طالبان اور متعدد بمب دھماکے
دلو ۱۳۹۴ کابل بمب دھماکہ
۱ فروری ۲۰۱۶ء (۱۲ دلو ۱۳۹۴ش) کو کابل میں ایک بم دھماکہ ہوا۔ ایک خودکش حملہ آور نے افغان عوامی نظم پولیس کے کمانڈ سینٹر کے داخلی حصے کی قطار میں کھڑے ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ اس دھماکے کے نتیجے میں کم از کم ۲۰ افراد ہلاک اور ۲۹ دیگر زخمی ہوئے۔ طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ [48]
شیعوں کے ساتھ برتاؤ
طالبان نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے یہ کوشش کی کہ شیعوں کے خلاف کھلی سخت گیر اور جانب دار پالیسیوں سے خود کو دور ظاہر کریں، لیکن ابتدا ہی سے شیعہ، خصوصاً ہزارہ برادری، طالبان کے ساتھ شدید مسائل کا شکار رہی۔ عبدالعلی مزاری، جو شیعہ وحدت اسلامی پارٹی کے رہنما تھے، کے ساتھ صلح کے معاہدے کی خلاف ورزی، کابل میں داخلے کی کوشش کے دوران ان کی شہادت، اور اس جماعت کی افواج کے کچل دیے جانے نے شیعوں کے نزدیک طالبان کی شبیہ کو سخت نفرت انگیز بنا دیا۔ [49]
اگرچہ بعد میں بعض شیعہ افراد اور گروہوں کے طالبان سے ملنے اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کے بعد یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی گئی کہ طالبان، خصوصاً ہزارہ شیعوں کے مقابلے میں، تعصب اور دانستہ تشدد سے دور ہیں، لیکن ہزارستان اور دیگر شہروں اور دیہاتوں میں شیعہ مزاحمت کاروں پر پابندیوں، شدید کریک ڈاؤن اور قتل عام نے اس تصور کو باطل کر دیا۔ [50]
کابل کے سقوط اور حزب وحدت اسلامی کے مرکز کے بامیان منتقل ہونے کے بعد طالبان نے اس ولایت پر شدید حملے کیے، لیکن اس کے مکمل قبضے تک وہ بارہا ناکام ہوئے اور پسپا ہونا پڑا۔ خرداد (جوزا) ۱۳۷۶ش میں مزار شریف، جو شمالی افغانستان میں بلخ کی مرکز ولایت ہے، پر قبضے کے بعد اس شہر کے ہزارہ باشندوں اور حزب وحدت کی افواج نے طالبان کے خلاف بغاوت کی، اور ازبکوں اور تاجکوں کی مدد سے طالبان کے سینکڑوں افراد کو قتل کر کے شہر دوبارہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اس واقعے نے طالبان کی افغانستان کے بیشتر علاقوں پر گرفت اور پاکستان و سعودی عرب کی طرف سے ان کی حکومت کو رسمی حیثیت دلانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ [51]
اس کے بدلے میں ہزارستان کے علاقے کا محاصرہ اور اقتصادی دباؤ بڑھا دیا گیا۔ بھوک، بیماری اور جانی نقصانات نے عوام پر شدید دباؤ ڈالا۔ یہ کیفیت تقریباً ۱۵ ماہ تک، بامیان کے سقوط تک، جاری رہی۔ [52]
مزار شریف مرداد (اسد) ۱۳۷۷ش میں پاکستان اور سعودی عرب کی مکمل حمایت سے دوبارہ طالبان کے قبضے میں چلا گیا۔ اس کے بعد ہزارہ اور دیگر اقوام کے خلاف قتل عام کا سلسلہ شروع ہوا۔ بہت سے لوگ قتل کیے جانے سے پہلے تشدد کا نشانہ بھی بنے۔ طالبان کے بعض اعلیٰ کمانڈروں نے سرکاری طور پر اعلان کیا کہ شیعہ کافر ہیں اور انہیں نابود کر دینا چاہیے۔ اس حملے میں ایران کے قونصل خانے کے آٹھ سفارت کار بھی شہید ہوئے۔ [53]
شہریور (سنبله) ۱۳۷۷ش میں ہزارستان کے علاقوں پر طالبان کے حملے مزید شدت اختیار کر گئے اور بامیان بھی سقوط کر گیا۔ رپورٹوں میں درجنوں قتل و غارت کا ذکر ملتا ہے۔ بعض علاقوں میں بااثر شیعہ شخصیات نے خونریزی کم کرنے کے مقصد سے طالبان سے صلح اور تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ مجموعی طور پر آبان (عقرب) ۱۳۸۰ش میں طالبان کے سقوط تک شیعہ شدید کمزوری کی حالت میں رہے، خصوصاً بامیان میں بودا کے مجسموں کی طالبان کے ہاتھوں تباہی، جو ہزارہ قوم کے بڑے تاریخی آثار میں شمار ہوتے تھے، نے ہزارہ شیعوں کے حوصلے پر سخت ضرب لگائی۔ [54]
طالبان کی دوبارہ سرگرمیوں کے آغاز (۱۳۸۵ش / ۲۰۰۶ء) کے بعد بھی شیعوں کے ساتھ اس گروہ کے پرتشدد رویے میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آئی، اور اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کے حملوں کے نقصانات بعض اوقات شیعوں کے لیے زیادہ بھاری ثابت ہوئے ہیں۔ [55]
البتہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں کے آغاز (۱۳۹۴ش / ۲۰۱۵ء) اور خصوصاً شیعوں کے خلاف اس کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد، طالبان نے بعض بیانات میں ان حملوں کی مذمت کی اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ شیعوں کے خلاف دانستہ مذہبی یا نسلی تعصب پر مبنی حملوں سے الگ ہیں۔ [56]
طالبان اور مغربی طاقتیں
طالبان مغربی طرزِ زندگی کو کفر آمیز سمجھتے ہیں، مغربی لباس کو اخلاقی کمزوری کے مترادف قرار دیتے ہیں، اور خواتین کی آزادی کو اسلامی اخلاق کے خلاف تصور کرتے ہیں۔ [57]
وہ مغربی ثقافت کے نفوذ کے بارے میں انتہائی حساس ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک یہ اسلام کی دشمن تہذیب ہے، اور ان کا خیال ہے کہ معاشرہ بیرونی عناصر کی طرف سے خطرے میں ہے۔ اسی لیے اس گروہ کے اہم مقاصد میں افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج کو نکال باہر کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا بھی شامل ہے۔ [58]
طالبان اور دیگر شدت پسند گروہ
طالبان میں القاعده اور داعش جیسے دوسرے شدت پسند گروہوں کے مقابلے میں کچھ نمایاں فرق پائے جاتے ہیں۔ طالبان اپنی جنگ میں «قریب دشمن» کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ قریب دشمن وہ سیکولر نظام اور اس کے حامی ہیں، یعنی افغانستان میں ایساف اور امریکہ کی افواج۔ طالبان اپنی جنگ کو دوسرے ممالک تک لے جانے کی کوشش کم کرتے ہیں، اور امریکہ یا اروپا کے اندر کارروائی کرنے والے نیٹ ورک قائم کرنے کی طرف بھی نسبتاً کم مائل رہے ہیں۔
اس کے برعکس داعش اور القاعدہ اپنی ساخت اور سابقہ تجربات کی بنا پر عالمی حکمتِ عملی رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلامی ریاست کا قیام، اسلامی سرزمین کی توسیع اور عالمگیر خلافت کے قیام کا پہلا مرحلہ ہے۔ داعش کے نام کو «دولت اسلامی عراق و شام» سے کم کر کے صرف «دولت اسلامی» کرنا بھی اسی مقصد سے تھا کہ قومی اور علاقائی حدود کا تصور ختم کیا جائے۔ ابوبکر البغدادی خود کو تمام مسلمانوں کا خلیفہ سمجھتا تھا، جبکہ ملا عمر خود کو صرف افغانستان کا امیر سمجھتے تھے۔ [59]
طالبان نے افغانستان میں دوسرے شدت پسند گروہوں کے ساتھ اس وقت تک رواداری اور موافقت کا رویہ اپنانے کی کوشش کی ہے جب تک وہ اس گروہ کے دائرۂ اثر اور مفادات کو نقصان نہ پہنچائیں اور طالبان کی حیثیت کو تسلیم کریں؛ بصورتِ دیگر طالبان ان کے ساتھ تصادم میں داخل ہو جاتے ہیں۔ حقانی نیٹ ورک، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، ازبکستان کی اسلامی تحریک اور داعش ایسے نمایاں گروہ رہے ہیں۔ [60]
دوبارہ سرگرمی
کچھ مدت کے بعد طالبان نے دوبارہ (۱۳۸۵ش / ۲۰۰۶ء) افغانستان میں سرکاری اور غیر ملکی افواج کے خلاف اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں۔ اس گروہ کے بڑے اور چھوٹے حملوں میں دونوں طرف بھاری جانی نقصان ہوا۔ اسی طرح اس گروہ کی کارروائیوں، خصوصاً خودکش حملوں اور بم دھماکوں کے نتیجے میں اب تک دسیوں ہزار غیر فوجی افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔ طالبان کے رہنما اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ [61] [62]
افغان حکومت نے متعدد بار پاکستان پر طالبان کی حمایت اور تقویت کا الزام عائد کیا ہے، جس طرح خود اس حکومت پر بھی اس کے ناقدین اور سیاسی مخالفین نے سکیورٹی میں غفلت اور طالبان کے مقابلے میں عدمِ قاطعیت کے الزامات لگائے ہیں۔ دوسری طرف افغان حکومت نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات اور صلح کے لیے تیار ہے، لیکن یہ کوششیں بارہا ناکام رہیں۔ طالبان افغان حکومت کو امریکہ کے زیرِ اثر سمجھتے تھے اور انہوں نے اعلان کیا کہ وہ صرف امریکی حکومت سے بات چیت کریں گے۔ حالیہ برسوں میں امریکی حکومت نے بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے مختلف سرگرمیاں کیں۔
بهمن ۱۳۹۷ش میں زلمے خلیل زاد، جو امریکی حکومت کے افغان نژاد نمائندہ تھے، نے طالبان کے ساتھ گفتگو اور صلح کے لیے ایک نئے مرحلے کی کوششوں کا آغاز کیا۔ قطر میں طالبان کا نمائندہ دفتر ان ملاقاتوں کا بنیادی مقام تھا۔ اسی دوران ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ممکن ہے وہ امریکی افواج کے ایک حصے کو افغانستان سے واپس بلا لے۔ [63]
بالآخر ۱۰ اسفند ۱۳۹۸ش، بمطابق ۲۹ فروری ۲۰۲۰ء، طالبان اور امریکہ کے درمیان صلح کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ [64]
اس معاہدے میں امریکہ کی اہم ذمہ داریوں میں یہ شامل تھا کہ وہ ۱۴ ماہ کے اندر افغانستان سے اپنی افواج واپس نکالے، اور اگر معاہدے پر عمل ہوا تو ۲۷ اگست ۲۰۲۰ء تک طالبان پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں۔ اس کے مقابلے میں طالبان نے بھی یہ تعہدات کیے کہ وہ اپنے ارکان یا کسی فرد یا گروہ، بشمول القاعدہ، کو افغانستان کی سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ [65]
متعلقہ موضوعات
حوالہ جات
- ↑ http://www.iess.ir/fa/analysis/1033/
- ↑ احدی، انور الحق، «عربستان سعودی، ایران و جنگ در افغانستان»، افغانستان، طالبان و سیاستهای جهانی، ترجمہ عبدالغفار محقق، انتشارات ترانه، مشہد، ۱۳۷۷ش.
- ↑ امامی، حسام الدین، افغانستان و ظهور طالبان، نشر شاب، تہران، چاپ اول، ۱۳۷۸ش.
- ↑ پہلوان، چنگیز، افغانستان عصر مجاهدین و برآمدن طالبان، نشر قطره، تہران، چاپ اول، ۱۳۷۷ش.
- ↑ http://www.iess.ir/fa/analysis/1033/
- ↑ http://www.iess.ir/fa/analysis/1033/
- ↑ آنتونی دیویز، «نحوه شکل گیری گروه طالبان به عنوان یک نیروی نظامی»، افغانستان، طالبان و سیاستهای جهانی، ص۶۸.
- ↑ شاه آغا صدیق مجددی، لمحات سرنوشتساز، ص۳۴.
- ↑ طنین، افغانستان در قرن بیستم، ۱۳۹۰ش، ص ۳۹۹-۴۱۰.
- ↑ سجادی، «طالبان، دین و حکومت»، ۱۳۷۷ش، ص ۴۴۰.
- ↑ احمدی، «طالبان: ریشهها، علل ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۶.
- ↑ احمدی، «طالبان: ریشهها، علل ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۶.
- ↑ احمدی، «طالبان: ریشهها، علل ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۶.
- ↑ مژده، «بازی قدرتها در افغانستان و شکلگیری طالبان»، ۱۳۸۷ش، ص۷۴.
- ↑ طنین، افغانستان در قرن بیستم، ۱۳۹۰ش، ص ۳۱۳-۳۱۷.
- ↑ طنین، افغانستان در قرن بیستم، ۱۳۹۰ش، ص۴۱۱.
- ↑ عارفی، «مبانی قومی و مذهبی طالبان»، ص ۲۰۵.
- ↑ عارفی، «مبانی قومی و مذهبی طالبان»، ۱۳۷۸ش، ص۲۰۲-۲۰۳.
- ↑ عارفی، «مبانی قومی و مذهبی طالبان»، ۱۳۷۸ش، ص۲۰۲-۲۰۳.
- ↑ سجادی، «طالبان، دین و حکومت»، ص۲۳۵ و ۲۴۰.
- ↑ عارفی، «مبانی قومی و مذهبی طالبان»، ۱۳۷۸ش، ص۲۰۳-۲۰۵.
- ↑ میلی، طالبان، جنگ، مذهب و نظام جدید در افغانستان، ۱۳۷۹ش، ص ۷۶ و ۸۳.
- ↑ میلی، طالبان، جنگ، مذهب و نظام جدید در افغانستان، ۱۳۷۹ش، ص ۷۶ و ۸۳.
- ↑ سجادی، «طالبان، دین و حکومت»، ۱۳۷۷ش، ص۲۴۴.
- ↑ احمدی، «طالبان، ریشهها، ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۹.
- ↑ https://www.khabaronline.ir/news/184533/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%86%DA%AF%D9%88%D9%86%D9%87-%D8%B4%DA%A9%D9%84-%DA%AF%D8%B1%D9%81%D8%AA-%D8%AA%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D8%AE بختیاری، «طالبان چگونه شکل گرفت؟»، سایت خبر آنلاین
- ↑ احمدی، «طالبان، ریشهها، ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۹.
- ↑ https://avapress.com/fa/news/202707 حضور جدی سردار سلیمانی در کنار مقاومتگران افغانستان
- ↑ سینایی، «نقش حمایت خارجی در احیای طالبان»، ۱۳۹۲ش، ص ۹۷.
- ↑ http://www.payam-aftab.com/fa/doc/news/34079/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D9%85%D9%84%D8%A7-%D8%B9%D9%85%D8%B1 وبگاه خبرگزاری پیام آفتاب، زندگینامه ملا عمر، نشر:۰۷/۰۵/۱۳۹۴ بازدید:۱۹/۰۹/۱۳۹۷
- ↑ http://www.payam-aftab.com/fa/doc/news/45017/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C-%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D9%85%D9%84%D8%A7-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D8%B1-%D9%85%D8%AD%D9%85%D8%AF-%D9%85%D9%86%D8%B5%D9%88%D8%B1-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%82%D9%84%D9%85 وبگاه خبرگزاری پیام آفتاب، «زندگینامه ملا اختر محمد منصور»، نشر:۱۳۹۴/۰۶/۱۰، بازدید:۱۳۹۷/۰۹/۱۹
- ↑ https://www.tasnimnews.com/fa/news/1395/03/05/1084017/%D8%A7%D8%B2-%D9%82%D8%A7%D8%B6%DB%8C-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%B6%D8%A7%D8%AA%DB%8C-%D8%AA%D8%A7-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1%DB%8C-%D9%85%D9%84%D8%A7-%D9%87%DB%8C%D8%A8%D8%AA-%D8%A7%D9%84%D9%84%D9%87-%D8%B1%D9%87%D8%A8%D8%B1-%D8%AC%D8%AF%DB%8C%D8%AF-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%DA%A9%DB%8C%D8%B3%D8%AA وبگاه خبرگزاری تسنیم، «از قاضی القضاتی تا رهبری؛ ملا هیبتالله رهبر جدید طالبان کیست؟»، نشر:۱۳۹۵/۰۳/۰۶، بازدید:۱۳۹۷/۰۹/۲۴
- ↑ https://avapress.com/fa/129329/%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AA%D9%88%D9%84%D8%AF-%D8%AA%D8%B4%DA%A9%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D9%88-%D8%AA%D8%AD%D9%88%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%B3%DB%8C%D8%A7%D8%B3%DB%8C-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C
- ↑ جوادی ارجمند، تحرکهای طالبان و تأثیر آن در روابط پاکستان، افغانستان و آمریکا، ص۴۵.
- ↑ نک: جواد جمالی، افراطیگری در پاکستان، ص ۱۲۳.
- ↑ همان، «مذاکره با طالبان پندارها و واقعیتها»، فصلنامه مطالعات راهبردی جهان اسلام، ش ۴۶، ص۱۷.
- ↑ نوری و احمد ضیا، توافقات سیاسی و مذاکره با طالبان، «گفتگو با معین مرستیال- عضو سابق مجلس نمایندگان و رییس ستاد انتخاباتی حامد کرزی- قندوز»، ص۶۷-۶۸.
- ↑ https://atlaspress.af/%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%DA%A9%D9%88%DB%8C%D8%AA%D9%87-%D8%A8%DB%8C%D8%B4%D8%AA%D8%B1-%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%85/
- ↑ https://atlaspress.af/%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%DA%A9%D9%88%DB%8C%D8%AA%D9%87-%D8%A8%DB%8C%D8%B4%D8%AA%D8%B1-%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%85
- ↑ http://www.bbc.com/persian/afghanistan/2015/08/150804_k05_head_of_taliban_political_resign
- ↑ BBC Persian, 1104_k04_taliban_splinter_new_leader
- ↑ http://dailyafghanistan.com/opinion_detail.php?post_id=150132
- ↑ https://atlaspress.af/%D8%A7%D8%B2-%D8%B4%D9%88%D8%B1%D8%A7%DB%8C-%DA%A9%D9%88%DB%8C%D8%AA%D9%87-%D8%A8%DB%8C%D8%B4%D8%AA%D8%B1-%D8%A8%D8%AF%D8%A7%D9%86%DB%8C%D9%85/
- ↑ BBC Persian, 0802_k03_mullah_omar_brother_new_claims
- ↑ https://www.tasnimnews.com/fa/news/1395/06/13/1177049/%D8%A7%D9%81%D8%B2%D8%A7%DB%8C%D8%B4-%D8%A7%D8%AE%D8%AA%D9%84%D8%A7%D9%81-%D8%AF%D8%B1-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A7%D9%86%D8%B4%D8%B9%D8%A7%D8%A8%DB%8C-%D9%85%D8%B3%D8%A6%D9%88%D9%84-%D9%86%D8%B8%D8%A7%D9%85%DB%8C-%DA%AF%D8%B1%D9%88%D9%87-%D9%85%D9%84%D8%A7-%D8%B1%D8%B3%D9%88%D9%84-%D8%A8%D8%B1%DA%A9%D9%86%D8%A7%D8%B1-%D8%B4%D8%AF
- ↑ https://atlaspress.af/%d9%81%d8%b1%d9%85%d8%a7%d9%86%d8%af%d9%87-%d8%b7%d8%a7%d9%84%d8%a8%d8%a7%d9%86-%d8%af%d8%b1-%d8%ac%d9%86%da%af-%d9%87%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%d8%b4%d8%aa%d9%87-%d8%b4%d8%af/
- ↑ http://dailyafghanistan.com/opinion_detail.php?post_id=150132
- ↑ https://www.reuters.com/article/afghanistan-blast-parliament-idUSKCN0VA1W8 سایت رویترز
- ↑ بهمنی قاجار، جایگاه سیاسی و اجتماعی شیعیان در افغانستان، ۱۳۹۵ش، ص۴۱-۴۳.
- ↑ نظری، «مقاوم شیعیان افغانستان در برابر طالبان در چارچوب تحلیل گفتمان»، ۱۳۸۵ش، ص۱۱۷-۱۱۸.
- ↑ احمدی، «طالبان، ریشهها، ظهور و عوامل رشد»، ۱۳۷۷ش، ص۲۴.
- ↑ نظری، «مقاوم شیعیان افغانستان در برابر طالبان در چارچوب تحلیل گفتمان»، ۱۳۸۵ش، ص۱۲۱-۱۲۲.
- ↑ بهمنی قاجار، جایگاه سیاسی و اجتماعی شیعیان در افغانستان، ۱۳۹۵ش، ص۴۱-۴۳.
- ↑ بهمنی قاجار، جایگاه سیاسی و اجتماعی شیعیان در افغانستان، ۱۳۹۵ش، ص۴۱-۴۳.
- ↑ https://www.avapress.com/fa/news/162502/%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86-%D9%85%D8%AD%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D9%85%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D8%A7%D9%81%D8%BA%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DB%B1%DB%B9-%D8%AD%D9%85%D9%84%D9%87-%DB%B5%DB%B4%DB%B4-%DA%A9%D8%B4%D8%AA%D9%87-%DB%B1%DB%B0%DB%B0%DB%B0-%D8%B2%D8%AE%D9%85%DB%8C سایت خبرگزاری صدای افغان، گزارش کمیسیون حقوق بشر درباره قربانیان اقلیتها
- ↑ https://www.tasnimnews.com/fa/news/1396/07/01/1524185/%D8%A7%D8%B9%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%85%D9%88%D8%A7%D8%B6%D8%B9-%DA%AF%D8%B1%D9%88%D9%87-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%B1-%D8%B1%D8%A7%D8%A8%D8%B7%D9%87-%D8%A8%D8%A7-%D8%B9%D8%B2%D8%A7%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C-%D8%B4%DB%8C%D8%B9%DB%8C%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%B1-%D9%85%D8%A7%D9%87-%D9%85%D8%AD%D8%B1%D9%85-%D9%88-%D9%81%D8%AA%D9%86%D9%87-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4 وبگاه خبرگزاری تسنیم، «اعلام مواضع گروه طالبان در رابطه با عزاداری شیعیان در ماه محرم و فتنه داعش»، نشر:۱۳۹۶/۰۷/۰۱، بازدید:۱۳۹۷/۰۹/۱۹.
- ↑ میلی، افغانستان، طالبان و سیاستهای جهانی، ۱۳۷۷ش، ص۲۱۴-۲۱۵.
- ↑ میلی، افغانستان، طالبان و سیاستهای جهانی، ۱۳۷۷ش، ص۲۱۴-۲۱۵.
- ↑ https://www.mashreghnews.ir/news/345246/%D8%AA%D9%81%D8%A7%D9%88%D8%AA-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D9%88-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87-%DA%86%DB%8C%D8%B3%D8%AA «تفاوت طالبان و القاعده چیست؟»
- ↑ http://www.payam-aftab.com/fa/doc/article/45443/%D9%BE%D9%86%D8%AC-%D8%B6%D9%84%D8%B9%DB%8C-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%A7%D8%B9%D8%B4-%D8%A7%D9%84%D9%82%D8%A7%D8%B9%D8%AF%D9%87-%D8%B4%D8%A8%DA%A9%D9%87-%D8%AD%D9%82%D8%A7%D9%86%DB%8C-%D8%AA%D8%AD%D8%B1%DB%8C%DA%A9-%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%A7%D8%B2%D8%A8%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86-%DA%A9%D8%A7%D8%B1-%D8%AF%D9%88%D9%84%D8%AA-%D9%88%D8%AD%D8%AF%D8%AA-%D9%85%D9%84%DB%8C-%D8%B2%D8%A7%D8%B1-%D8%A7%D9%85%D9%86%DB%8C%D8%AA-%DA%A9%D8%B4%D9%88%D8%B1-%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D9%88%D8%AE%DB%8C%D9%85-%D8%AA%D8%B1-%D8%B4%D8%AF%D9%86 وبگاه خبرگزاری پیام آفتاب، «پنجضلعی طالبان، داعش، القاعده، شبکه حقانی و تحریک اسلامی ازبکستان»، نشر:۱۳۹۴/۰۷/۰۶، بازدید:۱۳۹۷/۰۹/۲۴.
- ↑ https://etilaatroz.com/45433/ وبگاه روزنامه اطلاعات روز، «رکورد تازه تلفات غیرنظامیان؛ ۱۶۶۲ کشته در شش ماه»
- ↑ https://etilaatroz.com/45433/ وبگاه روزنامه اطلاعات روز، «گزارش تازه سازمان ملل، رکوردزنی تلفات ملکی (غیرنظامی) در ۲۰۱۶»، بازدید:۱۳۹۷/۰۹/۲۴
- ↑ https://etilaatroz.com/69980/how-does-withdrawal-us-forces-afghanistan-affect-situation-in-country/ سایت روزنامه اطلاعات روز، «خروج نیروهای آمریکایی از افغانستان چه تاثیری دارد؟»
- ↑ https://ir.sputniknews.com/world/202002296023969-%D8%AA%D9%88%D8%A7%D9%81%D9%82%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%B5%D9%84%D8%AD-%D8%B7%D8%A7%D9%84%D8%A8%D8%A7%D9%86-%D8%A8%D8%A7-%D8%A7%DB%8C%D8%A7%D9%84%D8%A7%D8%AA-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF%D9%87-%D8%A2%D9%85%D8%B1%DB%8C%DA%A9%D8%A7-/ «توافقنامه صلح بین مقامات آمریکایی و طالبان در دوحه، پایتخت قطر به امضاء طرفین رسید»
- ↑ https://www.bbc.com/persian/51677036 «محتوای توافقنامه آمریکا و طالبان چیست؟»