"بر اعظم ایشیا" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 129: | سطر 129: | ||
ایشیا میں مذہبی عقائد کی ایک وسیع تنوع پائی جاتی ہے۔ ایک طرف انیمزم اور شنتو ازم جیسے عقائد ہیں جو مختلف روحوں اور مافوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسلام، عیسائیت اور یہودیت جیسے عالمی مذاہب ہیں جو ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ | ایشیا میں مذہبی عقائد کی ایک وسیع تنوع پائی جاتی ہے۔ ایک طرف انیمزم اور شنتو ازم جیسے عقائد ہیں جو مختلف روحوں اور مافوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسلام، عیسائیت اور یہودیت جیسے عالمی مذاہب ہیں جو ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔ | ||
اسی طرح زرتشتیت، مانویت، برہمنیت، ہندومت، بدھ مت، لامائیت اور کنفیوشس ازم بھی ایشیا کے اہم مذہبی نظاموں میں شمار ہوتے | اسی طرح زرتشتیت، مانویت، برہمنیت، ہندومت، بدھ مت، لامائیت اور کنفیوشس ازم بھی ایشیا کے اہم مذہبی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں <ref>گروسه، رنه، ج۱، ص۲۸، تاریخ آسیا، ترجمه مصطفی فرزانه، تهران، علمی، ۱۳۲۹ش</ref>۔ | ||
== ایشیا کے اہم مذاہب == | == ایشیا کے اہم مذاہب == | ||
نسخہ بمطابق 15:55، 13 جون 2026ء

ایشیا ، کرۂ ارض کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ یہ براعظم زمین کی کل سطح کے 8.7 فیصد اور خشکی کے رقبے کے 30 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔ دنیا کی تقریباً 60 فیصد آبادی بھی اسی براعظم میں رہتی ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے اور سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ایشیا میں واقع ہیں۔ ایشیا اور یورپ مل کر عظیم برِاعظم یوریشیا تشکیل دیتے ہیں۔ ایشیا کے شمال میں بحرِ منجمد شمالی، جنوب میں بحرِ ہند، مشرق میں بحرالکاہل اور مغرب میں بحیرۂ روم اور روس کا وسطی حصہ واقع ہے۔
براعظم ایشیا اپنے اندر انسانی تہذیبوں کے قدیم ترین آثار محفوظ کیے ہوئے ہے۔ موجودہ مشرقِ وسطیٰ کے علاقوں میں بین النہرین، عیلامی، اورارتو اور آریائی تہذیبوں سے لے کر مشرقِ بعید کی مشرقی ایشیائی تہذیبوں تک، بے شمار تاریخی آثار آج بھی موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قدیم براعظم کے ہر گوشے میں انسانی آبادیوں اور عظیم تہذیبوں کی متنوع نشانیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
لفظ ایشیا کی اصل
لفظ "ایشیا" (Asia) کی اصل اب بھی محققین اور مورخین کے درمیان ایک راز اور معمہ بنی ہوئی ہے۔ بہت سے مورخین کا خیال ہے کہ یہ لفظ یونانی تہذیب سے پہلے ہی استعمال میں تھا۔ یونانی وہ پہلی تہذیب تھی جس نے اس خطے کو ایک براعظم کے طور پر شناخت کیا اور اس تصور کو فروغ دیا۔
لسانی اعتبار سے "ایشیا" ایک مؤنث لفظ ہے جس کا مطلب "سورج کا طلوع ہونا" بیان کیا جاتا ہے۔
یونانی اساطیر کے مطابق ایشیا ایک دیوی کا نام تھا جس نے اٹلس (Atlas) کو جنم دیا۔ ٹائٹن (Titan) کی ذمہ داری تھی کہ وہ آسمانی کرّوں (Celestial Spheres) کو ہمیشہ کے لیے سنبھالے رکھے۔ اسی طرح "آسا" (Asa) ایک فینیقی لفظ بھی تھا جو "مشرق" کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔
ایشیا کا جغرافیہ
1730ء میں یوہان کرسٹوف ہومان کی تیار کردہ ایشیا کی ایک نقشہ نگاری میں ایشیائی ممالک کو مختلف رنگوں سے ظاہر کیا گیا تھا۔ ان ممالک کے نام لاطینی زبان میں درج تھے۔ یہ نقشہ صرف چند معمولی تفصیلات میں موجودہ نقشوں سے مختلف تھا اور اپنے زمانے کے لحاظ سے نہایت درست سمجھا جاتا تھا۔
ایشیا کا جغرافیہ براعظم کے مشرقی اور وسطی حصوں میں واقع تقریباً پچاس ممالک پر مشتمل ہے۔ قرونِ وسطیٰ کے یورپی باشندوں نے ایشیا کو ایک علیحدہ براعظم کے طور پر تسلیم کیا۔
تاہم ایشیا کے مختلف خطوں کی حدود متعین کرنے کے بارے میں مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے اور یہ اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ حدود کا تعین کون اور کس مقصد کے لیے کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کی حدود مختلف ذرائع میں مختلف بیان کی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے ایشیا کے نقشوں میں بھی بعض اوقات فرق نظر آتا ہے۔
مثال کے طور پر مصر، جو ایک افریقی ملک ہے اور جغرافیائی طور پر ایشیا کا حصہ نہیں، اکثر مشرقِ وسطیٰ میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کو عموماً ایشیا کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
افریقہ اور ایشیا کے درمیان حدِ فاصل نہرِ سویز اور بحیرۂ احمر ہیں۔ یورپ اور ایشیا کی سرحد بحیرۂ روم کے مغربی حصے، آبنائے باسفورس، کوہِ قفقاز، کوہِ اورال، بحیرۂ اسود اور بحیرۂ خزر سے متعین ہوتی ہے۔ جبکہ آبنائے بیرنگ ایشیا اور شمالی امریکہ کے درمیان سرحد کا کام کرتی ہے۔
مختلف ذرائع نے ایشیا کے رقبے کے بارے میں مختلف اندازے پیش کیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز ورلڈ اٹلس کے مطابق اس کا رقبہ 43,608,000 مربع کلومیٹر، ورلڈ جیوگرافیکل کلچر کے مطابق 44,000,000 مربع کلومیٹر، جبکہ کولمبیا کمپیکٹ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق 44,390,000 مربع کلومیٹر ہے۔
کمپنی میپل کرافٹ (Maplecroft) کی ایک تحقیق کے مطابق ایشیا کے 16 ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کے مقابلے میں انتہائی حساس ہیں۔ اس تحقیق میں آئندہ تیس برسوں کے دوران ممکنہ موسمی تبدیلیوں کے حوالے سے 42 معاشی، سماجی اور ماحولیاتی اشاریوں کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق بنگلہ دیش، بھارت، ویتنام، تھائی لینڈ، پاکستان اور سری لنکا ان ممالک میں شامل ہیں جو ان تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان میں سے بعض تبدیلیاں ماضی میں بھی رونما ہو چکی ہیں۔ مثال کے طور پر بھارت کے گرم خطے، جہاں نیم خشک آب و ہوا پائی جاتی ہے، میں 1901ء سے 2003ء کے دوران اوسط درجہ حرارت میں 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا .[1].
ایشیا کے علاقے
اٹھارہویں صدی سے ایشیا کو کئی ذیلی خطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تاہم ان اصطلاحات کے استعمال کے بارے میں اب تک کوئی عالمی اتفاقِ رائے موجود نہیں ہے۔ ایشیا کے اہم علاقے درج ذیل ہیں:
وسطی ایشیا
اس خطے میں قازقستان، ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان شامل ہیں۔
مشرقی ایشیا
اس میں چین، ہانگ کانگ، مکاؤ، شمالی کوریا، جنوبی کوریا، جاپان، تائیوان اور منگولیا شامل ہیں [2].
جنوبی ایشیا
اس خطے میں افغانستان، پاکستان، بھارت، مالدیپ، سری لنکا، نیپال، بھوٹان اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔ دوسرے الفاظ میں، یہ برصغیر ہند کے ممالک کے ساتھ افغانستان پر مشتمل ہے [3].
جنوب مشرقی ایشیا
اس میں [4].15برونائی، کمبوڈیا، انڈونیشیا، لاؤس، ملائیشیا، میانمار، فلپائن، سنگاپور، تھائی لینڈ، مشرقی تیمور اور ویتنام شامل ہیں۔
مغربی ایشیا
مغربی ایشیا (یا جنوب مغربی ایشیا، یا مصر کے بغیر مشرقِ وسطیٰ) میں [5]. آرمینیا، جمہوریہ آذربائیجان، بحرین، جارجیا، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، غزہ کی پٹی، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، یمن اور قبرص شامل ہیں۔
شمالی ایشیا
شمالی ایشیا میں روس کے مشرقی علاقے شامل ہیں۔
ایشیا کے شماریاتی حقائق
- رقبہ: 43.40 ملین مربع کلومیٹر (جزائر سمیت)
- ایشیا کے ممالک کی تعداد:49 خودمختار ممالک، جبکہ بعض علاقے اب بھی پرتگال اور برطانیہ کی سابق نوآبادیاتی حیثیت سے وابستہ رہے ہیں۔
- سطحِ سمندر سے اوسط بلندی: 960 میٹر
- بلند ترین مقام: کوہِ ایورسٹ، 8,848 میٹر
- سب سے نشیبی مقام اور دنیا کا سب سے پست ساحلی علاقہ: بحیرۂ مردار (ڈیڈ سی)، جو سطحِ سمندر سے تقریباً 200 میٹر نیچے واقع ہے۔
- دنیا کا سب سے گہرا مقام:ماریانا کھائی (Mariana Trench)، جو بحرالکاہل میں واقع ہے اور اس کی گہرائی 11,000 میٹر سے زیادہ ہے۔ زمین کے بلند ترین مقام (کوہِ ایورسٹ) اور گہرے ترین مقام (ماریانا کھائی) کے درمیان فرق تقریباً 20,000 میٹر بنتا ہے۔
- آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے گنجان آباد مقام: انڈونیشیا کا جزیرہ جاوا [6].
دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا براعظم
ایشیا دنیا کی سب سے زیادہ آبادی رکھنے والا براعظم ہے۔ تازہ ترین شماریاتی اندازوں کے مطابق ایشیا کی آبادی تقریباً 4.646 ارب افراد تک پہنچ چکی ہے اور یہ تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا میں رہنے والے تقریباً 60 فیصد انسان ایشیا میں آباد ہیں۔
یہ جاننے کے بعد شاید حیرت کی بات نہیں رہتی کہ ایشیا کی آبادی کی کثافت بھی دنیا کے تمام براعظموں میں سب سے زیادہ ہے، جہاں اوسطاً ہر مربع میل میں 387 افراد رہتے ہیں۔
دنیا کے تین سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بھی ایشیا میں واقع ہیں:
- چین: 1,440,123,000 افراد
- بھارت: 1,381,893,600 افراد
- انڈونیشیا: 273,919,000 افراد
یہ براعظم دنیا کے کئی عظیم شہروں کا بھی میزبان ہے، جن میں چین کے شنگھائی، بیجنگ اور گوانگژو، بھارت کے دہلی اور ممبئی، اور پاکستان کا کراچی شامل ہیں [7].
ایشیا کے امیر ممالک
چین اس براعظم کا سب سے کامیاب ملک سمجھا جاتا ہے، تاہم چند سال قبل اس کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کچھ کمی واقع ہوئی جس کے نتیجے میں یہ ایشیا کے چند سرفہرست امیر ممالک کی فہرست میں اپنی سابقہ پوزیشن سے پیچھے چلا گیا۔
بحرین ایشیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے اور اس کی کرنسی دنیا کی مضبوط ترین کرنسیوں میں شامل ہے۔ بیسویں صدی کے بعد سیاحت اور بینکاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری نے اس ملک کو بہت زیادہ فائدہ پہنچایا۔ اس کا دارالحکومت منامہ مالیاتی سرگرمیوں کے ایک اہم مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے اور دنیا کے کامیاب ترین مالیاتی نظاموں میں سے ایک کا حامل ہے۔ 2008ء میں بحرین کو دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شمار کیا گیا۔ اسلامی بینکاری اور تیل کی صنعت نے اس ملک کو بے پناہ آمدنی فراہم کی، جس کے باعث یہ ایشیا کے خوشحال ترین ممالک میں شامل ہوگیا۔ بحرین اپنی تیل کی پیداوار کا بڑا حصہ برآمد کرتا ہے، جبکہ ایلومینیم بھی اس کی اہم برآمدی مصنوعات میں شامل ہے۔
کویت بھی اپنی مضبوط معیشت اور قیمتی کرنسی کی وجہ سے ایشیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ یہ دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے اور اس کی تقریباً 95 فیصد آمدنی تیل کی صنعت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بڑے بینکوں کی موجودگی نے بھی ملک کے مالیاتی نظام کو مضبوط اور منافع بخش بنایا ہے۔
جاپان ایشیا کے امیر اور ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اور آٹوموبائل صنعت میں عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتا ہے اور ان شعبوں سے بڑی آمدنی حاصل کرتا ہے۔ جاپان دنیا کی ترقی یافتہ معیشتوں میں شمار ہوتا ہے اور وہاں کے خاندانوں کی اوسط آمدنی بھی نسبتاً زیادہ ہے۔ آٹوموبائل کی پیداوار کے لحاظ سے جاپان دنیا کے بڑے ممالک میں شامل ہے اور اس کی تیار کردہ گاڑیاں اعلیٰ معیار کی وجہ سے پوری دنیا میں برآمد کی جاتی ہیں۔ جاپان میں آبادی اس کے رقبے کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے، اور آبادی میں اضافے کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومت مختلف مراعات فراہم کرتی ہے۔
برونائی ایک چھوٹا مگر خوشحال ملک ہے جس کی آبادی کم ہے۔ وہاں کے عوام بلند آمدنی کی وجہ سے اچھی قوتِ خرید رکھتے ہیں۔ اس ملک کی زیادہ تر آمدنی قدرتی گیس اور تیل کی مصنوعات سے حاصل ہوتی ہے، جنہوں نے اسے ایک سرمایہ دار اور خوشحال ریاست بنا دیا ہے۔
تائیوان بھی ایشیا کے خوشحال ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس ملک میں ایک خاندان کی اوسط آمدنی تقریباً 40 ہزار ڈالر ہے اور اس کی معیشت مسلسل ترقی کر رہی ہے۔ تائیوان نے ٹیکنالوجی اور صنعت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جس سے اسے خاطر خواہ معاشی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ نجی شعبے کی مضبوط صنعتوں کی بدولت اس کی برآمدات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اسی وجہ سے تائیوان عالمی منڈی میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
- رقبے کے لحاظ سے ایشیا کے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے ممالک
دنیا کے کئی وسیع ترین ممالک ایشیا میں واقع ہیں۔ روس دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے، جس کا رقبہ تقریباً 17.1 ملین مربع کلومیٹر ہے اور یہ ایشیا کے تقریباً 38.63 فیصد حصے پر مشتمل ہے۔
چین ایشیا کا دوسرا بڑا ملک ہے جس کا رقبہ تقریباً 9.597 ملین مربع کلومیٹر ہے۔ بھارت ایشیا کا تیسرا بڑا ملک ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 3.287 ملین مربع کلومیٹر ہے۔
فلسطین، برونائی، بحرین، سنگاپور اور مالدیپ ایشیا کے چھوٹے ترین ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔ ان میں مالدیپ سب سے چھوٹا ملک ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 298 مربع کلومیٹر ہے۔
ایشیا کے رقبے کے لحاظ سے سب سے چھوٹے اور سب سے بڑے ممالک
دنیا کے کئی وسیع ترین ممالک ایشیا میں واقع ہیں۔ دنیا کا سب سے بڑا ملک روس ہے، جس کا رقبہ 17.1 ملین مربع کلومیٹر ہے اور یہ ایشیا کے کل رقبے کا 38.63 فیصد حصہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
چین براعظم ایشیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے جس کا رقبہ 9.597 ملین مربع کلومیٹر ہے۔ ایشیا کا تیسرا وسیع ترین ملک بھارت ہے جس کا رقبہ 3.287 ملین مربع کلومیٹر ہے۔
فلسطین، برونائی، بحرین، سنگاپور اور مالدیپ ایشیا کے پانچ سب سے چھوٹے ممالک ہیں۔ ان پانچوں میں مالدیپ سب سے چھوٹا ملک ہے، یہ ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جس کا رقبہ تقریباً 298 مربع کلومیٹر ہے [8]۔
ایشیا کی تہذیبیں
ایشیا نہ صرف انسانی ارتقا کے ابتدائی مراحل کی نمائندگی کرتا ہے بلکہ بعد میں انسانی معاشروں کی ترقی اور ارتقا کا بھی اہم مرکز رہا ہے۔ انسانی زندگی سے متعلق قدیم ترین آثار ایشیا ہی سے دریافت ہوئے ہیں۔
مشرقِ قریب (موجودہ مشرقِ وسطیٰ) کے بعض علاقوں میں انسان شکار اور خوراک جمع کرنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر زراعت اور جانوروں کو پالنے کے مرحلے میں داخل ہوا [9]۔ اسی طرح دھاتوں کے استعمال کی ابتدا بھی ایشیا ہی میں ہوئی۔ انسان کی جانب سے استعمال کی جانے والی اولین دھات تانبہ تھی۔
تحریر (لکھائی) کی ایجاد بھی ایشیا سے منسوب کی جاتی ہے۔ ایشیا کو منگول نسل کے ابتدائی مسکن، اسکیمو اور مقامی امریکی اقوام کے آبائی خطے، اور شاید جدید انسان (ہومو سیپینز) کے ابتدائی مراکز میں سے ایک بھی سمجھا جاتا ہے۔
ایشیا کی تاریخ مختلف تہذیبوں اور ثقافتوں کی تاریخ ہے۔ ایشیائی تہذیبوں کی فکری، فلسفیانہ اور سائنسی کامیابیوں نے یورپ، خصوصاً قرونِ وسطیٰ کے دوران، گہرا اثر ڈالا [10]۔
ایشیا میں مذہبی رجحانات
ایشیا دنیا کے بیشتر بڑے مذاہب کا مرکزِ پیدائش اور گہوارہ ہے۔ بڑے مذاہب کے ساتھ ساتھ اس براعظم میں متعدد مذہبی فرقے اور مقامی عقائد بھی موجود ہیں، جن میں سے بعض مقامی طور پر پیدا ہوئے جبکہ بعض مہاجرین اور فاتح اقوام کے ذریعے پھیلے۔
ایشیا میں مذہبی عقائد کی ایک وسیع تنوع پائی جاتی ہے۔ ایک طرف انیمزم اور شنتو ازم جیسے عقائد ہیں جو مختلف روحوں اور مافوق الفطرت طاقتوں پر یقین رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف اسلام، عیسائیت اور یہودیت جیسے عالمی مذاہب ہیں جو ایک خدا پر ایمان رکھتے ہیں۔
اسی طرح زرتشتیت، مانویت، برہمنیت، ہندومت، بدھ مت، لامائیت اور کنفیوشس ازم بھی ایشیا کے اہم مذہبی نظاموں میں شمار ہوتے ہیں [11]۔
ایشیا کے اہم مذاہب
ہندو مت
- ہندو مت ایشیا کے قدیم ترین اور بڑے مذاہب میں سے ایک ہے۔
- ایشیا کے تقریباً 25 فیصد باشندے، یعنی ایک ارب سے زائد افراد، ہندو مت کے پیروکار ہیں۔
- یہ مذہب کسی ایک واحد سرچشمے سے پیدا نہیں ہوا بلکہ مختلف رسوم، عقائد، روایات اور ثقافتی اقدار کے امتزاج سے صدیوں کے دوران تشکیل پایا ہے۔
- ہندو مت کے اندر کئی ذیلی مذاہب اور مکاتبِ فکر شامل ہیں، جن میں شاکت مت، اسمارت مت، شیو مت اور وشنو مت سب سے اہم ہیں۔
- ہندوستان میں دو دیگر اہم مذاہب، یعنی سکھ مت اور جین مت بھی پائے جاتے ہیں، جن کے بعض نظریاتی اور تاریخی روابط ہندو مت سے جوڑے جاتے ہیں۔
- ہندو مت کے پیروکار بالی میں تقریباً 83.5 فیصد، نیپال میں 81 فیصد اور بھارت میں 80 فیصد آبادی پر مشتمل ہیں۔
- اس کے علاوہ سعودی عرب، روس، بنگلہ دیش، ملائیشیا، انڈونیشیا اور بھوٹان میں بھی ہندو اقلیتیں موجود ہیں۔
اسلام
- اسلام ایشیا کا سب سے نمایاں اور اثرورسوخ رکھنے والا مذہب ہے۔
- ایشیا اسلام کا گہوارہ اور عالمِ اسلام کے اہم ترین جغرافیائی خطوں کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔
- اسلام ساتویں صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب میں ظاہر ہوا اور گزشتہ چودہ صدیوں کے دوران دنیا کے مختلف حصوں تک پھیل گیا۔
- اس وقت ایشیا میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً ایک ارب ایک سو ملین (1.1 ارب) افراد تک پہنچتی ہے۔
- اسلام ایک ابراہیمی مذہب ہے اور اس کے پیروکار اللہ تعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات پر ایمان رکھتے ہیں۔
- یہ تعلیمات قرآنِ مجید میں محفوظ ہیں، جو 23 سال کے عرصے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت محمد ﷺ پر نازل ہوا۔
- جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا میں بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور انڈونیشیا جیسے ممالک بڑی مسلم آبادی رکھتے ہیں اور ہر ایک میں دس کروڑ سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔
- وسطی ایشیا میں ازبکستان اور افغانستان نمایاں مسلم آبادی والے ممالک ہیں، جبکہ مغربی ایشیا میں ایران اور ترکیہ جیسے غیر عرب ممالک مسلمانوں کی بڑی تعداد رکھتے ہیں۔
- لبنان، عمان، یمن، بحرین، عراق اور قطر بھی اہم مسلم ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
- مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے پاکستان (97 فیصد)، بنگلہ دیش (90 فیصد) اور انڈونیشیا (87 فیصد) سرفہرست ممالک میں شامل ہیں۔
بدھ مت
- بدھ مت ایشیا کا تیسرا بڑا مذہب ہے اور اس کے پیروکار براعظم کی کل آبادی کا تقریباً 11.9 فیصد ہیں۔
- دنیا بھر میں بدھ مت کے ماننے والوں کی تعداد 520 ملین سے زیادہ ہے، جو عالمی آبادی کا تقریباً 7 فیصد بنتی ہے۔ اس لحاظ سے بدھ مت عیسائیت، اسلام اور ہندو مت کے بعد دنیا کا چوتھا بڑا مذہب ہے۔
- گوتم بدھ بدھ مت کے بانی اور اس مذہب کی مرکزی شخصیت ہیں۔
- اسلام کے ظہور سے پہلے انڈونیشیا، فلپائن، ملائیشیا، افغانستان اور وسطی ایشیا کے کئی علاقوں میں بدھ مت ایک اہم مذہب سمجھا جاتا تھا۔
- اس مذہب کے نمایاں پیروکار جنوبی کوریا (22.9 فیصد)، ہانگ کانگ (15 فیصد)، ویتنام (10 فیصد)، نیپال (10.7 فیصد)، تائیوان (35 فیصد)، جاپان (36.2 فیصد) اور چین (18.2 فیصد) میں آباد ہیں۔
- اس کے علاوہ تھائی لینڈ، سری لنکا، منگولیا، لاؤس، تبت، میانمار (برما) اور بھوٹان میں بھی بدھ مت کے ماننے والے موجود ہیں۔
ایشیا میں دیگر مذاہب
- ایشیا کی تقریباً 21 فیصد آبادی، یعنی ہر پانچ میں سے ایک فرد، کسی مذہب یا عقیدے سے وابستہ نہیں ہے۔
- تقریباً 1 فیصد آبادی عیسائیت سے تعلق رکھتی ہے۔
- دیگر چھوٹے مذاہب مجموعی طور پر ایشیا کی آبادی کا ایک فیصد سے بھی کم حصہ بناتے ہیں۔
ایشیا میں اسلام کے پیروکار
اسلام ایک آسمانی مذہب کے طور پر ایشیا میں سب سے زیادہ پیروکار رکھنے والے مذاہب میں شامل ہے۔ یہ نہ صرف وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے تقریباً تمام ممالک میں نمایاں حیثیت رکھتا ہے بلکہ پاکستان اور انڈونیشیا میں بھی اکثریتی مذہب ہے۔
بھارت، جاوا، سماٹرا اور ایشیا کے گرم خطوں میں بھی اسلام کے کروڑوں پیروکار آباد ہیں۔ اسی وجہ سے بعض ماہرین اسلام کو مشرقی دنیا کی ایک اہم اور فیصلہ کن تہذیبی و سماجی قوت قرار دیتے ہیں۔
اسلام کی ابتدائی توسیع نہایت تیزی سے ہوئی۔ شام اور فلسطین کی فتوحات کے بعد مختصر عرصے میں اسلامی ریاست نے پوری ساسانی سلطنت اور بازنطینی سلطنت کے بیشتر ایشیائی علاقوں (سوائے ایشیائے کوچک کے مغربی حصوں کے) پر اپنا اثر و نفوذ قائم کر لیا۔ آپ کے بھیجے ہوئے متن کا بڑا حصہ میں پہلے ترجمہ کر چکا ہوں، لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ پورا متن مسلسل اور مکمل اردو میں پیش کیا جائے، تو یہ رہا:
اسلام ایشیا میں یورپ کے مقابلے میں زیادہ کیوں پھیلا؟
اسلام کا ظہور ایشیا کے براعظم میں، حجاز کے شہر مکہ میں ہوا۔ اسی وجہ سے اس کا ابتدائی اور وسیع تر پھیلاؤ بھی ایشیا میں ہوا جو اسلام کا مرکز اور گہوارہ تھا۔ یورپ میں اسلام کے نسبتاً کم پھیلنے کی کئی وجوہات بیان کی جاتی ہیں، جن میں مسلمانوں کے اندرونی اختلافات اور اسلامِ نابِ محمدیؐ کے حقیقی اور خوبصورت چہرے کا وہاں مکمل طور پر متعارف نہ ہو پانا شامل ہے۔
وضاحت یہ ہے کہ رسول اللہ کے وصال کے بعد مسلمان مشرق کی طرف حضرت سعد بن ابی وقاص کی قیادت میں روانہ ہوئے، جبکہ شام اور فلسطین کی طرف عمرو بن العاص، یزید بن ابی سفیان، ابو عبیدہ بن الجراح، شرحبیل بن حسنہ اور خالد بن ولید کی قیادت میں لشکر بھیجے گئے۔
مسلمانوں کا مشرقی لشکر ایران تک پہنچ گیا، لیکن مغربی محاذ پر پیش قدمی مسلسل جاری نہ رہ سکی، کیونکہ معاویہ بن ابی سفیان نے اپنے دورِ حکومت میں رومیوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیا تھا۔ بعض مؤرخین کے مطابق مغرب کی جانب اسلامی فتوحات کے رک جانے کی ایک وجہ یہی معاہدہ تھا۔
اس کے علاوہ معاویہ کی طرف سے خلافت کو ملوکیت میں تبدیل کرنے کے باعث مغربی اقوام اسلام کی حقیقی روح اور حقیقت کو سمجھ نہ سکیں اور ان میں اسلام قبول کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو سکا۔ اسی سلسلے میں ایک جرمن دانشور کا یہ قول نقل کیا جاتا ہے:
"مناسب ہے کہ ہم معاویہ بن ابی سفیان کا سونے کا مجسمہ بنا کر برلن میں نصب کریں، کیونکہ اگر اسلام کو ان کی طرف سے وہ کاری ضرب نہ لگتی تو اسلام پوری دنیا میں پھیل جاتا اور آج ہم جرمن اور دیگر یورپی اقوام عرب اور مسلمان ہوتیں۔"
بعد ازاں ولید بن عبدالملک کے دورِ حکومت میں مسلمانوں نے عراق، ایران، شام، مصر اور شمالی افریقہ کو فتح کر لیا اور بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک جا پہنچے۔ انہوں نے آبنائے جبل الطارق عبور کی اور 71 ہجری میں اسپین میں اسلام کا پیغام پہنچایا، جس کے بعد یورپ کے دیگر علاقوں تک بھی اسلام کی دعوت پہنچی۔
اسی دوران مسلمان سیحون اور جیحون کے پار بھی پہنچے اور مختلف علاقوں اور شہروں کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دیتے رہے۔ بالآخر ایک عظیم اسلامی سلطنت وجود میں آئی جس کا مرکز دمشق تھا جو موجودہ شام میں واقع ہے۔
اس نظریے کے مطابق تقریباً 78 ہجری تک یورپ اور افریقہ کے وسیع علاقے اسلامی اقتدار کے زیر اثر آ چکے تھے اور یورپ میں مسلمانوں کی حکمرانی 398 ہجری تک برقرار رہی۔
398 ہجری میں عبدالملک منصور کے انتقال کے بعد ان کے بھائی عبدالرحمن، جو الناصر لدین اللہ کے لقب سے مشہور تھے، اقتدار میں آئے۔ وہ بھی اپنے والد اور بھائی کی طرح اموی خلیفہ سے مستقل وابستگی کے بغیر حکومت کرتے تھے اور انہوں نے خلافت کی باقی ماندہ روایات کو ختم کرنے کا ارادہ کیا۔
اسی مقصد کے تحت انہوں نے خلیفہ سے مطالبہ کیا کہ انہیں اپنا ولی عہد مقرر کیا جائے۔ اس فیصلے سے عوام کی بڑی تعداد ناراض ہو گئی اور خاندانی جھگڑے شروع ہو گئے۔ مسلمان آپس کے تنازعات میں الجھ گئے، سرحدیں کمزور ہو گئیں اور ملک کے اندر ملوک الطوائفی کا دور شروع ہو گیا۔ مختلف حکمران ایک دوسرے کے خلاف برسرِ پیکار رہے جبکہ دشمن قوتیں یہ سب کچھ دیکھتی رہیں۔
مسلمانوں کے انہی اختلافات اور بعض حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے نتیجے میں عیسائی قوتوں نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور مختلف جنگوں کے ذریعے مسلمانوں کو یورپ کے بیشتر علاقوں سے بے دخل کر دیا۔
بعد کے ادوار میں، خصوصاً موجودہ زمانے میں، اسلامی ثقافت اور فکر نے دوبارہ دنیا کے مختلف خطوں، بالخصوص یورپ میں قابلِ توجہ اثر و رسوخ حاصل کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ یورپی ممالک کے وسیع ذرائع ابلاغ اور جدید سہولیات کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جن کے ذریعے بعض اوقات اسلام کی تصویر مسخ کر کے پیش کی گئی اور اسلام کی حقیقی تعلیمات عوام تک مکمل طور پر نہ پہنچ سکیں۔
ایک اور احتمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اس زمانے کے رومی عیسائیت کو ایک آسمانی اور برحق دین سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان کے لیے اسلام کو قبول کرنا آسان نہیں تھا۔ اس لیے مسلمانوں کو ان کے مقابلے میں دو محاذوں پر جدوجہد کرنا پڑتی:
اول: علمی اور ثقافتی محاذ، جہاں اسلام کی حقانیت اور عیسائیت میں رونما ہونے والی تحریفات کو واضح کیا جاتا۔
دوم: عسکری محاذ، جہاں دشمن قوتوں کا مقابلہ کر کے انہیں شکست دینا ضروری تھا۔ مصنف کے مطابق اموی حکمران ایسے افراد تیار نہ کر سکے جو ان دونوں میدانوں میں مؤثر طریقے سے اسلام کا دفاع کر سکتے۔
مزید برآں اہلِ بیتؑ کے مکتب کی تعلیمات اموی حکمرانوں کی مخالفت اور حساسیت کی وجہ سے یورپ کے ان علاقوں تک وسیع پیمانے پر نہ پہنچ سکیں، جبکہ ایران اور اس کے ہمسایہ علاقوں میں ان تعلیمات کا اثر زیادہ ہوا۔ وہاں کے لوگ نہ صرف اسلام قبول کرنے میں آگے بڑھے بلکہ اس کے دفاع اور اشاعت میں بھی فعال کردار ادا کرتے رہے۔
مصنف کے نزدیک عباسیوں کا امویوں کے خلاف اختیار کیا گیا نعرہ "الرضا من آل محمد" بھی اس دعوے کی تائید کرتا ہے۔
ایشیا کے براعظم کے بارے میں 25 دلچسپ حقائق
- 4.5 ارب سے زیادہ آبادی اور دنیا کی کل خشکی کے تقریباً 30 فیصد حصے پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ایشیا دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔
- دنیا کے پانچ بڑے مذاہب، جیسے اسلام اور مسیحیت، کی جڑیں ایشیا سے وابستہ ہیں۔
- دنیا میں پیدا ہونے والے چاول کا تقریباً 90 فیصد ایشیائی ممالک میں پیدا ہوتا ہے۔
- چین، تھائی لینڈ اور بعض دیگر ایشیائی ممالک میں تلی ہوئی کاکروچ (سوسک) بطور خوراک پیش کی جاتی ہے۔
- کوہِ ایورسٹ دنیا کا بلند ترین پہاڑ ہے جو چین، تبت اور نیپال کے درمیان واقع ہے۔
- عام تصور کے برخلاف، شیر (ٹائیگر) افریقہ میں نہیں بلکہ ایشیا کے ممالک جیسے بھارت، بنگلہ دیش، انڈونیشیا وغیرہ میں پائے جاتے ہیں، اور افریقہ کی جنگلی حیات میں ٹائیگر کی موجودگی کے شواہد نہیں ملتے۔
- دنیا کی سب سے تیز اور سب سے سست رفتار انٹرنیٹ سروس دو ایشیائی ممالک کے پاس ہے۔ سنگاپور دنیا میں تیز ترین انٹرنیٹ رکھتا ہے جبکہ یمن میں انٹرنیٹ کی رفتار سب سے کم ہے۔
- اندازہ لگایا جاتا ہے کہ چنگیز خان نے اپنی فتوحات کے دوران ایشیا اور یورپ میں تقریباً 4 کروڑ افراد کی ہلاکت کا سبب بنا۔
- سکندر مقدونی ایک وقت میں مقدونیہ، مصر، ایران اور ایشیا کا بادشاہ کہلاتا تھا۔
- سال 2016 میں سنگاپور کے ایک سڑک کنارے کھانے کے اسٹال کو ایک میشلن اسٹار ملا، جو دنیا میں کسی بھی ریستوران کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھی جاتی ہے۔
- گزشتہ صدی میں ایشیا میں تقریباً ایک لاکھ جنگلی ٹائیگر موجود تھے، لیکن اب ان کی تعداد کم ہو کر تقریباً 3200 رہ گئی ہے۔
- بورنیو دنیا کا تیسرا بڑا جزیرہ اور ایشیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، جس کا شمالی حصہ ملائیشیا اور برونائی جبکہ جنوبی حصہ انڈونیشیا میں واقع ہے۔
- دنیا میں کسی بھی ملک کے پاس انڈونیشیا جتنے فعال آتش فشاں نہیں ہیں۔ اس ملک میں 147 آتش فشانی پہاڑ ہیں جن میں سے 76 فعال ہیں۔
بحیرۂ خزر ایشیا کا ہی نہیں بلکہ دنیا کا سب سے بڑا جھیل نما آبی ذخیرہ ہے۔ دنیا کا سب سے چھوٹا ممالیہ جانور، جسے "بھمورا چمگادڑ" (Bumblebee Bat) کہا جاتا ہے، تھائی لینڈ اور جنوبی میانمار میں پایا جاتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 2 گرام ہوتا ہے۔ چین اور جنوبی ایشیا کے بعض علاقوں میں بندر کا دماغ ایک لذیذ غذا کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ تقریباً 3 کروڑ 80 لاکھ آبادی کے ساتھ ٹوکیو نہ صرف ایشیا بلکہ دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ اوسط IQ رکھنے والے پہلے تین ممالک ایشیا میں واقع ہیں: سنگاپور، جنوبی کوریا اور جاپان۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ نما (Peninsula) ملک ہے جو مغربی ایشیا میں واقع ہے۔ دنیا کا گرم ترین مقام ایران کا صحرائے لوت (کویرِ لوت) سمجھا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں جاپان کے باشندوں کی اوسط متوقع عمر (Life Expectancy) سب سے زیادہ ہے۔ 2007 میں ہونے والی تحقیقات کے مطابق بلی نما جانور (Felines) تقریباً 7000 قبل مسیح سے ایشیا میں موجود تھے۔ خطرۂ انقراض سے دوچار بہت سے جانور ایشیا میں پائے جاتے ہیں، جیسے ایشیائی چیتا (ایرانی یوزپلنگ) اور اورنگ اُٹان۔ ایشیا میں تقریباً 2300 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں چینی زبان سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان ہے۔ ہانگ کانگ میں تقریباً 4000 فلک بوس عمارتیں موجود ہیں، جو نیویارک سٹی کی فلک بوس عمارتوں کی تعداد سے تقریباً دوگنا ہیں۔
متعلقہ تلاشیں
مشرقِ وسطیٰ
- ↑ "Asia". eb.com, Encyclopædia Britannica. Chicago: Encyclopædia Britannica, Inc. 2006
- ↑ "East Asia" Retrieved 6 May 2015.
- ↑ South Asia". Retrieved 6 May 2015
- ↑ "Southeast Asia". Retrieved 6 May 20
- ↑ "West Asia/Middle East". Retrieved 6 May 2015
- ↑ کتاب جغرافی سال دوم راهنمایی
- ↑ ۵ چیزی که باید در مورد آسیا بدانید! | لست سکند
- ↑ آیا میدانید چند کشور، با چه مساحت و جمعیتی در آسیا وجود دارد... https://www.touristgah.com › Article
- ↑ بلنیتسکی، آ، ج۱، ص۶۲، خراسان و ماوراءالنهر (آسیای میانه)، ترجمه پرویز ورجاوند، تهران، نشر گفتار، ۱۳۶۴ش
- ↑ دورانت، ویل، ج۱، ص۹۹۰-۹۹۴، تاریخ تمدن، ترجمه احمد آرام و دیگران، ج ۱
- ↑ گروسه، رنه، ج۱، ص۲۸، تاریخ آسیا، ترجمه مصطفی فرزانه، تهران، علمی، ۱۳۲۹ش