"محیالدین جنیدی" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) |
||
| سطر 44: | سطر 44: | ||
=== مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کی عظیم صلاحیت === | === مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کی عظیم صلاحیت === | ||
نائب رئیس | نائب رئیس شورای علمای اندونزی نے [[عالم اسلام|اسلامی ممالک]] کے قدرتی وسائل کی عظیم صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صلاحیت اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، جیسا کہ [[حضرت ابراہیم |حضرت ابراہیم علیہ السلام]] کی دعا میں ان کی صالح اولاد کے لیے اس کا اظہار ملتا ہے۔ تاہم، ان کے نزدیک یہ دولت عوامی مفاد کے لیے مؤثر طور پر استعمال نہیں کی گئی۔ | ||
انہوں نے کہا: درحقیقت یہ قدرتی وسائل اکثر اقتدار والوں کے مفادات پورے کرنے کے لیے مادی، لذتی اور مصرفیت پسند طرزِ زندگی کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ اسلامی اخوت اور عدل و انصاف کی اقدار کی طرف لوٹیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے مفادات کے دفاع کے لیے مضبوط اور دوٹوک موقف اختیار کریں<ref>[https://suaraislam.id/soroti-geopolitik-dunia-islam-wakil-wantim-mui-kritik-sikap-sejumlah-negara-oki-pro-amerika-israel/ معاونِ شوریِٰ مشاورتیِ مجلسِ علماۓ انڈونیشیا (MUI) نے عالمِ اسلام کی جیوپولیٹکس کو اجاگر کرتے ہوئے، تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے بعض رکن ممالک کے امریکہ و اسرائیل نواز رویّوں پر تنقید کی، ویب سائٹ صداے اسلام (Suaraislam)]۔</ref> | انہوں نے کہا: درحقیقت یہ قدرتی وسائل اکثر اقتدار والوں کے مفادات پورے کرنے کے لیے مادی، لذتی اور مصرفیت پسند طرزِ زندگی کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ اسلامی اخوت اور عدل و انصاف کی اقدار کی طرف لوٹیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے مفادات کے دفاع کے لیے مضبوط اور دوٹوک موقف اختیار کریں<ref>[https://suaraislam.id/soroti-geopolitik-dunia-islam-wakil-wantim-mui-kritik-sikap-sejumlah-negara-oki-pro-amerika-israel/ معاونِ شوریِٰ مشاورتیِ مجلسِ علماۓ انڈونیشیا (MUI) نے عالمِ اسلام کی جیوپولیٹکس کو اجاگر کرتے ہوئے، تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے بعض رکن ممالک کے امریکہ و اسرائیل نواز رویّوں پر تنقید کی، ویب سائٹ صداے اسلام (Suaraislam)]۔</ref> | ||
نسخہ بمطابق 12:52، 1 جون 2026ء
| محیالدین جنیدی | |
|---|---|
| پورا نام | محیالدین جنیدی |
| دوسرے نام | دکتر محیالدین جنیدی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1980 ء |
| پیدائش کی جگہ | انڈونیشیا |
| وفات | 2026 ء |
| وفات کی جگہ | غزه |
| مذہب | اسلام، اہل سنت |
| اثرات | صدرِ جمہوریہ آذربائیجان برائے سال 2003 تا حال |
| مناصب | نائب چیئرمین انڈونیشیا کی علمائے کونسل (MUI)، مرکزی عاملہ محمدیہ کے بین الاقوامی روابط کے سربراہ، شرعی نگران بورڈ (DPS) کے رکن، بوگور شہر کی علاقائی کونسل (آسبیسیندو) کے مشیر، انڈونیشیا کی مرکزی علمائے کونسل کی خارجہ تعلقات کمیسیون کے مشیر، مرکزی قیادت محمدیہ کے دفترِ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے نائب سربراہ۔ |
محیالدین جنیدی، انڈونیشیا کے سیاست دان ہیں۔ وہ انڈونیشیا کی علمائے کونسل (MUI) کے نائب چیئرمین، مرکزی عاملہ محمدیہ کے بین الاقوامی روابط کے سربراہ، شرعی نگران بورڈ (DPS) کے رکن، بوگور شہر کی علاقائی کونسل (آسبیسیندو) کے مشیر، انڈونیشیا کی مرکزی علمائے کونسل کی خارجہ تعلقات کمیسیون کے مشیر، اور مرکزی قیادت محمدیہ کے دفترِ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے نائب سربراہ ہیں۔ ان کے نزدیک بعض عرب ممالک کی جانب سے—جن میں امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ بھی شامل ہے—ماہِ رمضان میں حمایت، عالمِ اسلام میں قیادت کے بحران کی علامت ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عقلِ سلیم مفقود ہے، اسلامی وحدت کی حفاظت نہیں کی گئی، اور جاری ناانصافی و بربریت کو سمجھنے میں ناکامی پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں امریکی اڈے، ایران، عراق، افغانستان اور لیبیا جیسے مسلم ممالک پر حملوں کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں؛ لہٰذا عرب ممالک کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ ان کے نقطۂ نظر کے مطابق فلسطین کا مسئلہ صرف مسلمانوں یا عربوں تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے، اور فلسطینیوں کے خلاف جبر اور ناانصافی کا مکمل طور پر حل ہونا چاہیے۔
سوانح حیات
محیالدین جنیدی انڈونیشیا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1980ء میں جامعۂ اسلامی لیبیا سے عربی اور اسلامی مطالعات میں فراغت حاصل کی، اور 1983ء میں جنوبی بحرالکاہل یونیورسٹی، فجی سے انگریزی زبان کی تدریس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
سرگرمیاں
- نائب چیئرمین انڈونیشیا کی علمائے کونسل (MUI)؛
- مرکزی عاملہ محمدیہ کے بین الاقوامی روابط کے سربراہ؛
- شرعی نگران بورڈ (DPS) کے رکن؛
- بوگور کی علاقائی کونسل (آسبیسیندو) کے مشیر؛
- انڈونیشیا کی مرکزی علمائے کونسل کی خارجہ تعلقات کمیسیون کے مشیر؛
- مرکزی قیادت محمدیہ کے دفترِ خارجہ تعلقات و بین الاقوامی تعاون کے نائب سربراہ۔[1]
دیدگاه
امریکہ و اسرائیل کے ایران پر حملے کی مذمت
محیالدین جنیدی نے عالمِ اسلام کو بالخصوص ان چند رکن ممالکِ تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کے مؤقف پر متنبہ کیا جو بظاہر علاقائی تنازعات میں امریکہ اور اسرائیل کا ساتھ دینے کے رجحان کے حامل نظر آتے ہیں۔ انہوں نے بعض عرب ممالک کی جانب سے، جن میں رمضان کے مہینے میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا حملہ بھی شامل ہے، امریکی و اسرائیلی فوجی اقدامات کی حمایت کو عالمِ اسلام میں قیادت کے بحران کی علامت قرار دیا۔ ان کے بقول، بعض رکن ممالکِ تنظیمِ تعاونِ اسلامی کا امریکہ نواز اور اسرائیل نواز موقف، عقلِ سلیم کے زائل ہونے، وحدت اسلامی کے تحفظ میں ناکامی، اور جاری ظلم و بربریت کو سمجھنے میں عدمِ صلاحیت کی دلیل ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کی جانب سے امریکہ و اسرائیل کی تنصیبات پر حملے دراصل اپنی خودمختاری اور مظلوم مسلمان اُمت کے وقار کے تحفظ کے لیے دفاعِ خود کی ایک صورت ہیں۔
خطے میں امریکی اڈے، اسلامی ممالک کے لیے خطرہ

نائب رئیس شورای علمای اندونزی (MUI) نے واضح کیا کہ عرب ممالک کو اپنی پالیسیوں، خصوصاً اپنی سرزمین میں امریکی اڈوں کی موجودگی کے بارے میں ایک جامع جائزہ لینا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ پالیسیاں مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہیں، کیونکہ یہ فوجی تنصیبات اکثر ایران، عراق، افغانستان اور لیبیا جیسے مسلم ممالک کے خلاف استعمال کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا: عرب ممالک کو اپنی پالیسیوں پر غور کرنا چاہیے اور اپنی اصلاح کرنی چاہیے۔ اپنے علاقوں میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو پناہ دینا اور عرب خطے میں سلامتی کے نام پر امریکی فوجی اڈے قائم کرنا دراصل ایک استعمار نواز پالیسی ہے، جو مسلمانوں کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی سلامتی کے نام پر یہ جواز دراصل ان ممالک کے خلاف مداخلت کا ذریعہ بن چکا ہے جو امریکہ کی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
مسلمان ممالک کی خاموشی کی مذمت
محیالدین جنیدی نے بعض اسلامی ممالک کی خاموشی، بالخصوص اسرائیل کے جرائم کے مقابلے میں، اور ماہِ رمضان سے لے کر اب تک مسجد الاقصی کی بندش کا ذکر کرتے ہوئے، ان ممالک کے فلسطین کے دفاع کے عزم پر سوال اٹھایا، حتیٰ کہ وہ اس کی مذمت کرنے کی جرأت بھی نہیں رکھتے۔ انہوں نے زور دے کر کہا: اگر وہ استعمار کی مذمت تک کی جرأت نہیں رکھتے تو اسے نکال باہر کیسے کریں گے؟ بلکہ افسوسناک طور پر بعض لوگ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطے میں فوجی تنصیبات قائم کرنے کی راہ بھی ہموار کر رہے ہیں۔ انہوں نے بعض حکمرانوں کی اُس روش پر بھی تنقید کی جو بیرونی حمایت کے سہارے، بالخصوص فلسطین میں، مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد کے بجائے اپنی اقتدار کی بقا کو ترجیح دیتے ہیں۔
مسلم ممالک کے قدرتی وسائل کی عظیم صلاحیت
نائب رئیس شورای علمای اندونزی نے اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل کی عظیم صلاحیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صلاحیت اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے، جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں ان کی صالح اولاد کے لیے اس کا اظہار ملتا ہے۔ تاہم، ان کے نزدیک یہ دولت عوامی مفاد کے لیے مؤثر طور پر استعمال نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا: درحقیقت یہ قدرتی وسائل اکثر اقتدار والوں کے مفادات پورے کرنے کے لیے مادی، لذتی اور مصرفیت پسند طرزِ زندگی کی نذر کر دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے عالمِ اسلام کے رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ دوبارہ اسلامی اخوت اور عدل و انصاف کی اقدار کی طرف لوٹیں اور پوری دنیا میں مسلمانوں کے مفادات کے دفاع کے لیے مضبوط اور دوٹوک موقف اختیار کریں[2]
ابوظبی - تل ابیب مفاہمت کی مذمت
جنیدی نے ابوظبی - تلآویو مفاہمت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اماراتی اقدام فلسطین کے مسئلے سے غداری تھا۔ انہوں نے کہا: یہ مسلمانوں کے لیے ایک دردناک واقعہ تھا۔ کیا اماراتی رہنماؤں نے تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے فیصلوں کا مطالعہ کیا ہے؟ اس انڈونیشی عالم نے زور دیا کہ امارات کو یاد رکھنا چاہیے کہ تنظیمِ تعاونِ اسلامی نے 2016ء میں جکارتا کے ہنگامی اجلاس میں رژیم صهیونیستی پر پابندیاں عائد کرنے پر زور دیا تھا۔
جنیدی نے مزید کہا: فلسطین پہلا ملک ہے جس نے اندونزی کی آزادی کو تسلیم کیا، ہم ان کی یہ مہربانی کبھی نہیں بھولیں گے۔ انہوں نے انڈونیشیا میں قائم اداروں اور تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ فلسطین کو صہیونی قبضے سے آزاد کرانے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فلسطین کا مسئلہ صرف مسلمانوں یا عربوں تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ ہے، اور فلسطینیوں پر ظلم و جبر کا مسئلہ مکمل طور پر حل ہونا چاہیے[3]
ایران کے تاریخی، زیارتی اور مذہبی مقامات کی اہمیت
پروفیسر ڈاکٹر محیالدین الجنیدی نے قم میں کہا کہ ایران تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے ایک قدیم اور مؤثر ملک ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں تمام شعبوں میں ایران اور اندونزی کے درمیان تعاون اور تعمیری روابط کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے ایران کے متعدد تاریخی، زیارتی اور مذہبی مقامات، خصوصاً مشهد، قم اور شیراز کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنے ملک کے شہریوں کے لیے زیارتی سفر کو آسان بنانے کا مطالبہ کیا۔
قرآن سوزی کی توہین آمیز حرکت پر ردعمل
پروفیسر جنیدی نے قم کی یونیورسٹی برائے ادیان و مذاہب کے دورے کے دوران قرآن سوزی کے توہین آمیز اقدام کے بارے میں کہا: تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم مسلمانوں کے ہمیشہ دشمن رہے ہیں، اور ان میں سب سے اہم ظالم حکمران رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: اس صورتحال کا نتیجہ یہ ہوا کہ آج اتنے زیادہ اسلامی ممالک عالمِ اسلام کے مسائل حل کرنے سے عاجز ہیں اور دشمنوں کی چالوں، یعنی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے، کا شکار ہو گئے ہیں[4]
متعلقہ مضامین
حوالہ جات
- ↑ پروفائل محیالدین جنیدی، نائب چیئرمین انڈونیشیا کی علمائے کونسل (MUI)، ویب سائٹ: Tribunnews (www.tribunnews.com).
- ↑ معاونِ شوریِٰ مشاورتیِ مجلسِ علماۓ انڈونیشیا (MUI) نے عالمِ اسلام کی جیوپولیٹکس کو اجاگر کرتے ہوئے، تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے بعض رکن ممالک کے امریکہ و اسرائیل نواز رویّوں پر تنقید کی، ویب سائٹ صداے اسلام (Suaraislam)۔
- ↑ انڈونیشیا کی مجلسِ علما نے ابوظبی-تل ابیب مفاہمت کی مذمت کی، ویب سائٹ خبرگزاری دفاع مقدس۔
- ↑ رہبر…۔
مراجع
- محیالدین جنیدی کی مختصر سوانح، نائب رئیسِ مجلسِ علماۓ انڈونیشیا (MUI)، ویب سائٹ Tribunnews (www.tribunnews.com)؛ تاریخِ اشاعت: 18 ستمبر 2020ء، تاریخِ ملاحظہ: 9 خرداد 1405 ش۔
- معاونِ شوریِٰ مشاورتیِ مجلسِ علماۓ انڈونیشیا (MUI) نے عالمِ اسلام کی جیوپولیٹکس کو اجاگر کرتے ہوئے، تنظیمِ تعاونِ اسلامی کے بعض رکن ممالک کے امریکہ و اسرائیل نواز رویّوں پر تنقید کی، ویب سائٹ صداے اسلام (https://suaraislam.id)؛ تاریخِ اشاعت: 21 مارچ 2026ء، تاریخِ ملاحظہ: 9 خرداد 1405 ش۔
- انڈونیشیا کی مجلسِ علما نے ابوظبی-تل ابیب مفاہمت کی مذمت کی، ویب سائٹ خبرگزاری دفاع مقدس؛ تاریخِ اشاعت: 29 مرداد 1399 ش، تاریخِ ملاحظہ: 9 خرداد 1405 ش۔