مندرجات کا رخ کریں

"ایڈوارڈو اینیلی" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
سطر 77: سطر 77:


== متعلقہ تلاشیں ==
== متعلقہ تلاشیں ==
* [[2026 امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ]]
* [[امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ 2026]]
* [[وحدت اسلامی|اسلامی اتحاد]]
* [[وحدت اسلامی|اسلامی اتحاد]]
* [[شیعه]]
* [[شیعہ]]
* [[مسلمان]]
* [[مسلمان]]
* [[اٹلی]]
* [[اٹلی]]

نسخہ بمطابق 15:56، 24 مئی 2026ء

ایڈوارڈو اینیلی
پورا نامایڈوارڈو اینیلی
ذاتی معلومات
پیدائش1954 ع
پیدائش کی جگہنیویارک
مذہباسلام، شیعہ
مناصبیونیورسٹی آف پرنسٹن نیویارک میں مذاہبی فلسفہ کا طالب علم جسنے ایران کے دورے کے دوران آیه الله سید روح الله موسوی خمینی سے ملاقات کی اور اسلام اور تشیع کو قبول کر لیا۔

ایڈوارڈو اینیلی 9 جون 1954 کو نیویارک میں پیدا ہوا۔ وہ مشہور اطالوی ملٹی بلینئر سینیٹر جووانی اینیلی کا اکلوتا بیٹا اور وارث تھا، جبکہ اس کی والدہ مارلا کراچیلو ایک یہودی شہزادی تھیں۔ ایڈوارڈو نے اٹلانٹک کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جدید ادب اور مشرقی فلسفہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے پرنسٹن یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ تصوف اور مشرقی مذاہب کا مطالعہ کرنے کے لیے بھارت اور ایران گیا، اور اپنے ایران کے دورے کے دوران سید روح الله موسوی خمینی سے ملاقات کی اور اسلام اور تشیع کو قبول کر لیا۔

سوانح حیات

ایڈوارڈو اینیلی اطالوی امیر سینیٹر جیانی اینیلی کا بیٹا تھا، جو فیٹ، فراری، مازراتی، الفا رومیو، لانچیا، آبارٹ، آئیکو جیسی گاڑیاں بنانے والی فیکٹریوں، کئی صنعتی پرزے بنانے والے کارخانوں، کئی نجی بینکوں، فیشن اور لباس ڈیزائن کرنے والی کمپنیوں، بڑے اخبارات لاستامپا اور کوریری ڈیلا سیرا، فراری ریسنگ کلب اور یوونٹس فٹ بال کلب کا مالک تھا[1].

خاندانی پس منظر

جووانی اینیلی، ایڈوارڈو کا کیتھولک باپ، اٹلی کے امیر ترین اور بااثر ترین افراد میں سے ایک تھا۔ ایڈوارڈو کی ماں ایک یہودی شہزادی تھی۔ اینیلی خاندان کی سالانہ آمدنی 60 ارب ڈالر سے زائد تخمینہ لگائی جاتی ہے۔ ایڈوارڈو کے بہت سے قریبی لوگ یہ مانتے ہیں کہ اینیلی خاندان میں ایک یہودی عورت کا شادی کرنا اتفاقی نہیں تھا۔ اس شادی کے بعد ایڈوارڈو کے ایک چچا کا انتقال ہو گیا۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ایڈوارڈو کی بہن کی شادی "الکان" نامی ایک یہودی صحافی سے ہوئی تھی، جس سے اس کے چار بچے ہیں۔ اس طرح ایسا لگتا ہے کہ اس خاندان کا صیہونیوں سے تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔

ایڈوارڈو کا مسلمان ہونا

ایڈوارڈو نیویارک کی مشہور پرنسٹن یونیورسٹی میں مذاہبی فلسفہ کا طالب علم تھا۔ وہ خود بھی نیویارک میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے انجیل اور تورات کا مطالعہ کیا تھا، لیکن ان کتابوں نے اسے قانع نہیں کیا تھا۔ 20 سال کی عمر میں اتفاقیہ طور پر لائبریری میں اس کی نظر قرآن پر پڑی، اس نے اس کی چند آیات پڑھیں تو اسے احساس ہوا کہ یہ کلام انسانی نہیں ہو سکتا۔ اس نے پورا قرآن پڑھا اور بغیر کسی سے مشورہ کیے مسلمان ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ وہ نیویارک کے ایک اسلامی مرکز میں گیا اور وہاں کہا کہ میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں، اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور وہاں اس کا نام "ہشام عزیز" رکھ دیا گیا۔ ایڈوارڈو ایران کے سفر کے بعد شیعہ ہوا اور امام خمینی (رہ) سے ملاقات کرنے میں کامیاب رہا۔ ڈاکٹر قدیری ابیانہ نے شیعہ ہونے اور ایڈوارڈو کے ایران کے پہلے سفر کے بارے میں کہا: "شیعہ ہونے اور آقای فخرالدین حجازی کے سامنے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد ہم نے اس کا نام 'مہدی' رکھا۔" جب وہ پہلی بار ایران آیا تو حضرت امام (رہ) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس ملاقات میں حضرت آیت اللہ سید علی حسینی خامنه‌ای، آقای ہاشمی، سید احمد خمینی اور فخرالدین حجازی موجود تھے، اور ترجمے کی ذمہ داری ہمارے ایک ایرانی دوست نے نبھائی جو اب مشہد میں رہتا ہے اور جس کا نام ہم نہیں لینا چاہتے، وہ ایڈوارڈو کا دوست بھی تھا۔ ہمارے اس مشترک دوست نے بعد میں بتایا کہ امام سے ملاقات کے بعد ہم جمعہ کی نماز میں گئے، جہاں ایڈوارڈو پہلی صف میں کھڑا تھا۔ اس سفر میں وہ مشہد گیا اور امام رضا (علیہ السلام) کی زیارت کی۔ وہاں وہ زیارت سے بہت متاثر ہوا اور کہتا تھا کہ میں امام رضا (علیہ السلام) کی موجودگی محسوس کر رہا ہوں۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ آپ نے امام رضا (علیہ السلام) سے کیا مانگا؟ تو اس نے کہا: میں نے خدا سے دعا کی کہ وہ میرے باپ کا دل میرے لیے مہربان کر دے۔

اٹلی میں سرگرمیاں

ایڈوارڈو نے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اٹلی کے چینل ون ٹیلی ویژن کو قائل کیا کہ وہ اسلامی ممالک کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بنائے، اور اس فلم کی تیاری کی ذمہ داری بھی خود سنبھالی۔ اس سلسلے میں وہ ایران بھی آیا اور بعد میں یہ فلم ٹیلی ویژن پر نشر کی گئی۔ آخری قسط کی نشریات کے بعد اس نے اخبار "لاستامپا" کے صحافی "ایگور من" کے ساتھ اسلام پر مباحثہ کیا۔ نیز جب سلمان رشدی کی کتاب شائع ہوئی تو ایک اطالوی ناشر نے اسے شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایڈوارڈو کو یہ خبر ملنے پر وہ اس کے پاس گیا اور اس کتاب کی اشاعت پر اس سے احتجاج کیا۔ ڈاکٹر قدیری ابیانہ اس کی سرگرمیوں کے بارے میں کہتے ہیں: "وہ کہتا تھا کہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ میری مقدسات کی توہین کی جائے اور میں خاموش رہوں۔ وہ فلسطین میں اسرائیل کی وحشیوں پر بھی برداشت نہیں کر سکتا تھا اور وزیر اعظم، صدر اور حتیٰ کہ دیگر ممالک کے سربراہان کو فون کر کے ان اقدامات کو روکنے کی اپیل کرتا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ تم ان کاموں سے اپنی شہادت کو جلدی لا رہے ہو۔ صیہونی تمہیں چھوڑنے والے نہیں ہیں، ان کاموں سے باز آ جاؤ۔"

مسیحیت کی طرف لوٹنے کے لیے دباؤ

حسین عبداللہی اور محمد اسحاق عبداللہی، ایڈوارڈو کے قریب ترین ایرانی دوست، ایڈوارڈو پر اس کے خاندان کی جانب سے ڈالے گئے دباؤ کو ناقابل یقین قرار دیتے ہیں۔ حسین عبداللہی کہتے ہیں: "ایڈوارڈو شدید معاشی دباؤ کا شکار تھا۔ آنیلی خاندان نے اس کا مکمل معاشی بائیکاٹ کر رکھا تھا، یہاں تک کہ اس کے پاس ٹیکسی میں بیٹھنے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے۔" حسین مزید کہتے ہیں: "ایک دن ہم ایڈوارڈو کے ساتھ اٹلی میں ایران ایئر کے دفتر گئے تاکہ اس کے لیے ایران جانے کا ٹکٹ خریدا جا سکے۔ ایران ایئر کے اٹالوی ایجنٹ نے کہا کہ وہ ایڈوارڈو کے لیے ٹکٹ نہیں خرید سکتا۔ اس شخص سے کافی بحث و تمحیص کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ ایڈوارڈو کے والد کے سیکرٹری نے اس ملازم سے فون پر رابطہ کیا تھا اور اسے حکم دیا تھا کہ وہ ایڈوارڈو کے لیے کوئی ٹکٹ جاری نہ کرے۔"


آنیلی خاندان نے ایڈوارڈو کو وراثت سے محروم کرنے کے لیے اسے پاگل ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ اسی مقصد کے تحت اسے ایک نفسیاتی ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا، جس کے بارے میں ایڈوارڈو خود کہتا ہے کہ وہاں کے تمام عملے کے ارکان یہودی تھے۔ ایڈوارڈو کو خوف تھا کہ اس ہسپتال میں اس کے ساتھ دماغ شویی کے علاج کیے جائیں گے، اور وہ ایک بار وہاں سے بھاگ بھی چکا تھا۔

شہادت یا خودکشی؟

نومبر 2000ء میں ایڈوارڈو آنیلی کی لاش شمالی اٹلی کے شہر تورینو کے قریب تورینو-ساوانا ہائی وے پر پائی گئی۔ اس کی گاڑی، جو کہ ایک سرمئی رنگ کی فیاٹ کروما تھی، رومانو پل پر چھوڑی ہوئی تھی؛ گاڑی کے اشارے کی لائٹس جل رہی تھیں اور اس کے دروازے کھلے ہوئے تھے۔ اٹالوی پولیس نے ایڈوارڈو کی موت کو خودکشی قرار دیا اور اس کی وجہ منشیات کا ضرورت سے زیادہ استعمال بتائی گئی۔

ایڈوارڈو کے قتل کی کئی واضح وجوہات

تاہم، ایڈوارڈو کے قتل کی نشاندہی کرنے والی کئی واضح وجوہات موجود ہیں: پہلی بات یہ کہ ایڈوارڈو کسی بھی طرح منشیات کا عادی نہیں تھا، بلکہ بعض اوقات تو یہ دیکھا گیا کہ وہ اپنے ان دوستوں اور قریبی رشتہ داروں سے، جو منشیات استعمال کرتے تھے، گھنٹوں بات چیت کرتا تھا تاکہ انہیں اس بری عادت سے باز رکھ سکے۔

دوسری بات یہ کہ اسلام میں خودکشی کی سختی سے ممانعت ہے۔ ایڈوارڈو ایک انتہائی مثالی شخصیت کا حامل تھا، جو یہاں تک کہ دباؤ اور دھمکیوں کو کم کرنے کے لیے بھی مصلحتاً اسلام سے منہ موڑنے کا اعلان کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس کا مقصد اٹلی اور مغربی دنیا کے لوگوں کو اسلام سے متعارف کرانا تھا۔ ایسا شخص خودکشی کیسے کر سکتا ہے؟ خودکشی تو ایسے لوگ کرتے ہیں جو بے دین ہوں یا جو زندگی کے آخری موڑ پر پہنچ چکے ہوں۔ جبکہ ایڈوارڈو ایک پکا معتقد بن چکا تھا، ابھی تو وہ اپنے سفر کے آغاز میں تھا اور اس کے پاس انجام دینے کے لیے بہت سے کام باقی تھے۔

تیسری وجہ: ایڈوارڈو کے باورچی کا کہنا ہے کہ جس دن اسے قتل کیا گیا، اس نے صبح کے وقت اپنے دوپہر کے کھانے کی قسم متعین کر دی تھی۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جو شخص خودکشی کا ارادہ رکھتا ہو، وہ دو تین گھنٹے بعد کے لیے کھانے کا آرڈر کیوں دے گا؟ نیز، ایڈوارڈو نے واقعے والی صبح اپنے چچا سے فون پر بات کی تھی۔ چچا کے بقول، ایڈوارڈو کی بات چیت میں کوئی مشکوک بات نہیں تھی اور وہ بالکل معمول کے مطابق بات کر رہا تھا۔ اس کے علاوہ، ایڈوارڈو نے خودکشی کے فیصلے کے حوالے سے کوئی نوٹ بھی نہیں چھوڑا تھا۔

چوتھی وجہ: حسین عبداللہی ایڈوارڈو کے طویل مدتی منصوبوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں: "ایڈوارڈو کہتا تھا کہ میں ایران جانا چاہتا ہوں، وہاں سیاسی پناہ حاصل کروں گا اور قم میں اپنی تعلیم جاری رکھوں گا۔" محمد عبداللہی بھی کہتے ہیں: "ایڈوارڈو کی موت سے ایک ہفتہ پہلے ہم ساتھ بیٹھے تھے اور سورہ بنی اسرائیل کا اٹالوی ترجمہ پڑھ رہے تھے۔ ایڈوارڈو نے مجھ سے کہا کہ وہ عربی زبان سیکھنا چاہتا ہے تاکہ وہ قرآن کو بہتر طور پر سمجھ سکے۔ یہ بات واضح ہے کہ جو شخص اپنی زندگی کے لیے طویل مدتی منصوبے رکھتا ہو اور بلند اہداف کا پیروکار ہو، وہ ہرگز خودکشی نہیں کر سکتا۔"

پانچویں وجہ: ایڈوارڈو کی شہادت کے حوالے سے ایک اور مشکوک پہلو یہ ہے کہ اس کے قتل کے طریقہ کار کے بارے میں کوئی اضافی تحقیق نہیں کی گئی۔ اس کی لاش کی کوئی پوسٹ مارٹم (کالبد شکافی) نہیں کی گئی اور اس کی موت کو فوراً خودکشی ظاہر کر دیا گیا۔ یہاں تک کہ پولیس کی جانب سے سرکاری طور پر اس کی موت کو خودکشی قرار دیے جانے سے پہلے ہی، بعض اخبارات نے فیاٹ فیکٹری کے مالک کے بیٹے کی خودکشی کی خبر شائع کر دی تھی، جس سے عوام کی توجہ مکمل طور پر خودکشی کے امکان کی طرف مبذول کر دی گئی۔ اس کی لاش کو واقعے کے اگلے دن دوپہر تک دفنا دیا گیا تاکہ کسی بھی قسم کی تحقیق کا موقع ہی نہ مل سکے۔ اور بھی دیگر وجوہات موجود ہیں...

ایڈوارڈو کا ایران سے تعارف

ایڈوارڈو کا اسلامی انقلاب ایران سے پہلا تعارف 31 فروردین 1359 ہجری شمسی کو ہوا؛ یہ ڈاکٹر قدیری ابیانہ کے امریکی، عراقی اور اطالوی صحافیوں کے ساتھ ٹیلی ویژنی مباحثے کے ایک ہفتے بعد کا واقعہ تھا، جو 24 فروردین 1359 ہجری شمسی کو اطالوی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے براہ راست نشر کیا گیا تھا۔ اس مباحثے کے بعض حصے ایڈوارڈو پر بنائی گئی دستاویزی فلم میں بھی شامل کیے گئے ہیں۔ وہ جو قدیری سے صرف چھ مہینے چھوٹے تھے، قدیری سے تعارف اور دوستی کا ارادہ رکھتے ہوئے گمنامی میں ان کے گھر تشریف لے گئے۔


ڈاکٹر قدیری ابیانہ اس ملاقات کے بارے میں فرماتے ہیں: "ٹیلی ویژنی میزگرد میں شرکت کے ایک ہفتے بعد، جسے ایڈوارڈو نے دیکھا تھا، اتوار کے دن جب میں سفارت خانے کی رہائش گاہ پر موجود تھا، تو دربان نے اطلاع دی کہ ایک اطالوی نوجوان آیا ہے جو آپ سے ملنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو اسے کل ملاقات کے لیے آنے کو کہہ دیں۔ لیکن کچھ لمحوں بعد دربان نے دوبارہ فون کر کے بتایا کہ یہ نوجوان کہہ رہا ہے: 'خدا ہر بند دروازہ کھول دیتا ہے।' میں نے فوراً دروازہ کھولنے کا حکم دیا اور خود استقبال کے لیے باہر گیا۔ وہ ایک لمبا قد اور دُبلا پتلا نوجوان تھا جو ایک پرانی موٹر سائیکل پر آیا تھا اور اس نے اپنا تعارف ایڈوارڈو آنیلی کے طور پر کرایا۔ میں نے، بغیر کسی مثبت جواب کی امید کیے، اس سے پوچھا: 'کیا آپ کا مشہور آنیلی خاندان سے کوئی رشتہ ہے؟' تو اس نے جواب دیا: 'میں ان کا بیٹا ہوں!'"

ایڈوارڈو کئی بار ایران آئے۔ اپنے پہلے سفر میں وہ امام خمینی (رح) سے ملنے گئے تھے، اور امام نے ان کے پیشانی کو بوسہ دیا تھا۔ ایران کے اپنے سفر میں، جمعہ 14 فروردین 1360 ہجری شمسی کو، ایڈوارڈو نے تہران کی جمعہ کی نماز میں، جس کی امامت حضرت آیت اللہ خامنہ ای کر رہے تھے، پہلی صف میں شرکت کی۔ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اپنی یادداشتوں میں نام ذکر کیے بغیر لکھا ہے کہ فیات کے صدر کا مسلمان ہونے والا بیٹا امام سے ملا۔ اس ملاقات میں آیت اللہ خامنہ ای بھی موجود تھے۔ امام خمینی (رح) سے یہ ملاقات 8 شہریور 1360 ہجری شمسی کو حضرت آیت اللہ خامنہ ای، ہاشمی رفسنجانی، مرحوم حاج احمد خمینی اور جناب فخرالدین حجازی کی موجودگی میں ہوئی[2]۔

متعلقہ تلاشیں

حوالہ جات