"ابو ایوب انصاری" کے نسخوں کے درمیان فرق
ترجمه خودکار از ویکی فارسی |
Halimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{جعبہ معلومات شخصیت | {{جعبہ معلومات شخصیت | ||
| عنوان = | | عنوان = | ||
| تصویر = ابوایوب انصاری.jpg | | تصویر = ابوایوب انصاری.jpg | ||
| نام = | | نام = | ||
| نامهای دیگر = | | نامهای دیگر = | ||
| سال تولد = | | سال تولد = | ||
| تاریخ تولد = | | تاریخ تولد = | ||
| سطر 18: | سطر 18: | ||
| وبگاه = | | وبگاه = | ||
}} | }} | ||
{{خانہ معلومات شخصیت | |||
| title = ابو ایوب انصاری | |||
| image = محمد خلیل نفیس.jpg | |||
| name = خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبدعوف بن غنم بن مالک بن النجار | |||
| other names = ابوایوب اَنصاری ابوایوب | |||
| brith year = | |||
| brith date = | |||
| birth place = مدينه | |||
| death year = 52 ه | |||
| death date = | |||
| death place = | |||
| teachers = | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[شیعہ|شيعه]] | |||
| works = | |||
| known for = [[علی ابن ابی طالب|امیرالمؤمنین]] کی طرف سے مدینہ کا والی مقرر هوے علی جمع آوری [[قرآن]] پیغمبر اسلام [[محمد بن عبدالله (خاتم الانبیا)|پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ)]] کا کاتب قرآن مخالفت با شورائے سقیفہ کا مخالف }} | |||
'''ابو ایوب انصاری''' جنگوں میں مسلسل شرکت، [[اہل بیت|اہل بیت]] پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے مکمل محبت اور عقیدت اور [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ)]] کے بعد [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابیطالب]] (علیہ السّلام) کی قیادت کی پیروی کی وجہ سے اصحاب پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہ فدائی اور مخلص شخصیت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے مدینہ تشریف لانے کے پہلے ہی دنوں میں اپنا گھر اور سادہ زندگی آپ کے حوالے کر دی۔ | |||
وہ ذاتی طور پر پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ)، علی (علیہ السّلام) اور اصحاب و تابعین کی شدید عزت اور توجہ کے مستحق تھے، یہاں تک کہ پیغمبر نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی اور ان کی نابینا آنکھوں کو شفا مل گئی۔ جب امیرالمومنین (علیہ السّلام) نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی تو ان کا عطا پانچ گنا بڑھا دیا۔ جب ابن عباس نے ابو ایوب کی پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے لیے کی گئی خدمات کے احترام میں اپنی تمام جائیداد جو گھر میں تھی ان کے حوالے کر دی۔ اس انفاق کی مقدار تقریباً چالیس ہزار لکھی گئی ہے۔ | |||
ابو ایوب مسجد النبى مدینہ کی امامت جماعت کے ذمہ دار تھے اور [[عثمان]] کی قتل کے بعد پہلے ان افراد میں سے تھے جنہوں نے |امام علی (علیہ السّلام) کی بیعت کی۔ | |||
اس کے بعد وہ امیرالمؤمنین (علیہ السّلام) کے ہمراہ تین جنگوں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں شریک ہوئے، عہد شکنوں، ظالموں اور دین سے برگشتہ باغیوں سے لڑے اور ان تینوں جنگوں میں بہادری کے کارنامے سرانجام دیے۔ مثال کے طور پر جنگ نہروان میں [[خوارج]] کے بانی حرقوص بن زہیر سعدی کو قتل کرنے کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ | |||
امام علی کی شہادت کے بعد اور معاویہ کی حکومت کے دوران، ابو ایوب انصاری جنگ کے لیے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) گئے اور آخر کار سال 52 میں قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران بیمار ہو گئے اور انتقال کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں قسطنطنیہ کی دیواروں کے پاس دفن کیا گیا۔ ترکوں کے قسطنطنیہ پر قابض ہونے کے بعد، ابو ایوب کی تدفین گاہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی، اور آج بھی استنبول شہر میں ان کا مزار [[شیعہ]] اور [[سنّی]] دونوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔ | |||
== ابو ایوب انصاری کی والدہ == | == ابو ایوب انصاری کی والدہ == | ||
ابو ایوب کی والدہ ایک پرہیزگار خاتون تھیں اور اگرچہ نابینا تھیں، لیکن وہ | ابو ایوب کی والدہ ایک پرہیزگار خاتون تھیں اور اگرچہ نابینا تھیں، لیکن وہ پیغمبر خدا کی خدمت گزاری کی بہت خواہاں تھیں (پیغمبر نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی اور ان کی نابینا آنکھوں کو شفا مل گئی۔ روایت ہے کہ استقبال کرنے والوں کے ہجوم اور بھیڑ کی وجہ سے ان کا ہاتھ رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) تک نہ پہنچا، تو انہوں نے پیغمبر کا سامان اونٹ سے اتار کر اپنے گھر لے گئے تاکہ پیغمبر وہاں تشریف لائیں۔ جب پیغمبر نے سامان کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا: "ابو ایوب انصاری کی والدہ اسے اپنے گھر لے گئی ہیں"۔ حضرت نے فرمایا: "انسان کو اپنے سامان کے ساتھ ہونا چاہیے" اور ابو ایوب کے گھر تشریف لے گئے<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج2، ص 140</ref>. | ||
== ابو ایوب کا نسبی شرف == | == ابو ایوب کا نسبی شرف == | ||
ابو ایوب کے اجداد میں سے ایک یہودیوں کے بڑے عالم اور حق طلب شخص تھے۔ وہ [[حضرت موسی | ابو ایوب کے اجداد میں سے ایک یہودیوں کے بڑے عالم اور حق طلب شخص تھے۔ وہ [[حضرت موسی]](علیہ السّلام) کی تعلیمات کے مطابق پیغمبر اسلام کی بعثت کے منتظر تھے اور چونکہ ان کا یقین تھا کہ پیغمبر مدینہ میں ظاہر ہوں گے، اس لیے وہ اس شہر میں سکونت پذیر ہو گئے تاکہ بعثت کے وقت ان کے اصحاب میں شامل ہو سکیں<ref>عبداللہ المامقانی، تنقیح المقال، ج1، ص 391</ref>. | ||
== ابو ایوب انصاری؛ خادم == | == ابو ایوب انصاری؛ خادم == | ||
جب سے پیغمبر خدا ابو ایوب کے گھر تشریف لائے، انہوں نے پوری جان سے آپ کی خدمت کا عہد کیا۔ ابو ایوب نے اپنا ہی ایک بکرا ذبح کیا اور گھر میں موجود تھوڑے سے جو سے روٹی تیار کی۔ اس طرح انہوں نے | جب سے پیغمبر خدا ابو ایوب کے گھر تشریف لائے، انہوں نے پوری جان سے آپ کی خدمت کا عہد کیا۔ ابو ایوب نے اپنا ہی ایک بکرا ذبح کیا اور گھر میں موجود تھوڑے سے جو سے روٹی تیار کی۔ اس طرح انہوں نے پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور ان کے ساتھیوں کے لیے کھانا تیار کیا اور ان کی میزبانی کی۔ پیغمبر کے قیام کے پورے عرصے میں، ابو ایوب ایک فدائی خادم کی طرح آپ کی خدمت میں رہے۔ وہ انس اور مالک بن نضر کے کنوؤں سے آپ کے لیے پینے کا پانی لاتے تھے۔ وہ ہمیشہ مناسب کھانا تیار کرتے تھے اور پوری احتیاط سے کوشش کرتے تھے کہ ایسا کھانا فراہم کریں جو پیغمبر کو پسند ہو۔ جب تک رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کھانا نہ کھاتے، وہ اور ان کی والدہ کھانے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ | ||
ابو ایوب کہتے ہیں: "ایک رات ہم نے ایسا کھانا تیار کیا جس میں پیاز اور لہسن تھا۔ پیغمبر نے اس کھانے سے نہیں کھایا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ نے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حضرت نے فرمایا: آج کے کھانے میں لہسن تھا اور چونکہ میں لوگوں سے ملتا ہوں، اس لیے اس کھانے کو کھانے سے معذور ہوں، لیکن تمہارے لیے اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد ہم ہمیشہ ایسا کھانا تیار کرتے جو پیغمبر خدا کو پسند آئے<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاءوغیرہ، ج2، ص 144</ref>"۔ | ابو ایوب کہتے ہیں: "ایک رات ہم نے ایسا کھانا تیار کیا جس میں پیاز اور لہسن تھا۔ پیغمبر نے اس کھانے سے نہیں کھایا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ نے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حضرت نے فرمایا: آج کے کھانے میں لہسن تھا اور چونکہ میں لوگوں سے ملتا ہوں، اس لیے اس کھانے کو کھانے سے معذور ہوں، لیکن تمہارے لیے اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد ہم ہمیشہ ایسا کھانا تیار کرتے جو پیغمبر خدا کو پسند آئے<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاءوغیرہ، ج2، ص 144</ref>"۔ | ||
| سطر 48: | سطر 56: | ||
== میزبانی کے بعد نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد == | == میزبانی کے بعد نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد == | ||
ابو ایوب نے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب اللہ کے رسول [[مسجد]] کے پاس والے گھر میں سکونت اختیار فرما چکے تھے، اپنی پوری طاقت کے مطابق آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد جاری رکھی۔ ام المومنین | ابو ایوب نے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب اللہ کے رسول [[مسجد]] کے پاس والے گھر میں سکونت اختیار فرما چکے تھے، اپنی پوری طاقت کے مطابق آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد جاری رکھی۔ ام المومنین ام سلمہ فرماتی ہیں: "کچھ انصار دوسروں کی نسبت رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے ساتھ زیادہ نیکی کرتے تھے؛ ان میں سے ایک ابو ایوب انصاری تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی امور میں مدد کرتے رہتے تھے<ref>محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج8، ص 163</ref>"۔ اور جب فاطمہ بنت محمد (زہرا) حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا نکاح علی (علیہ السلام) سے ہوا، تو ابو ایوب انصاری نے نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کو ایک بھیڑ تحفہ پیش کی۔ آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے یہ تحفہ قبول فرمایا اور ان کے لیے دعا کی<ref>محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج18، ص 21</ref>۔ | ||
جب | |||
== جنگوں میں ابو ایوب کی شرکت == | == جنگوں میں ابو ایوب کی شرکت == | ||
ابو ایوب انصاری ایک ایثار پسند مجاہد اور فدائی سپاہی تھے جو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور اور اس کے بعد تمام جنگوں میں فعالانہ شریک رہے۔ آپ | ابو ایوب انصاری ایک ایثار پسند مجاہد اور فدائی سپاہی تھے جو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور اور اس کے بعد تمام جنگوں میں فعالانہ شریک رہے۔ آپ غزوہ احد میں لڑنے کے علاوہ رجز خوانی اور نعرے لگا کر اسلامی فوج کو دشمن کے خلاف جنگ کی ترغیب دیتے تھے۔ اس جنگ میں آپ یہ آیت متن قرآن |انفرو خفافاً و ثقالاً سورہ = توبہ آیت = ۴۱ ؛ "تم سب جہاد کے لیے نکلو، چاہے ہلکے ہو یا بھاری" کی تلاوت فرماتے تھے۔ | ||
اسی طرح آپ نے غزوہ بدر میں بہادری سے جنگ کی اور "مطلب بن حنطب" نامی ایک بہادر جنگجو کو قیدی بنا لیا<ref>ابو عبداللہ محمد بن عمر الواقدی، المغازی، تحقیق مارسڈن جونز، ج1، ص 141</ref>۔ ابو ایوب نے مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی وفات کے بعد بھی امام علی (علیہ السلام) کے دور میں تمام جنگوں میں شرکت کی۔ | |||
اسی طرح آپ نے | |||
== نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی نگہبانی == | == نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی نگہبانی == | ||
جنگ خیبر کے بعد ایک [[یہودی]] عورت نے اللہ کے رسول (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان لینے کی کوشش کی۔ اس وجہ سے بہت سے اصحاب کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دشمن دوبارہ آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان کو خطرے میں نہ ڈالے۔ روایت ہے کہ جنگ خیبر سے واپسی پر اسلامی فوج نے راستے میں ایک مقام پر رات گزاری۔ ابو ایوب، جو دوسروں کی نسبت نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے، نے آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی نگہبانی کا فیصلہ کیا۔ | |||
جب خیمے لگائے گئے اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) اپنے خیمے میں تشریف لے گئے، تو ابو ایوب فوراً آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی حفاظت کے لیے خیمے کے پاس آ گئے اور ہتھیار بند ہو کر خیمے کے گرد پہرہ دیتے رہے اور صبح تک جاگتے رہے۔ جب صبح صادق کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) خیمے سے باہر تشریف لائے، تو ابو ایوب کو تیار کھڑے دیکھا۔ جب ابو ایوب نے نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کو سلامت دیکھا، تو تکبیر کہی۔ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے پوچھا: "اے ابو ایوب! کیا بات ہے؟" | جب خیمے لگائے گئے اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) اپنے خیمے میں تشریف لے گئے، تو ابو ایوب فوراً آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی حفاظت کے لیے خیمے کے پاس آ گئے اور ہتھیار بند ہو کر خیمے کے گرد پہرہ دیتے رہے اور صبح تک جاگتے رہے۔ جب صبح صادق کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) خیمے سے باہر تشریف لائے، تو ابو ایوب کو تیار کھڑے دیکھا۔ جب ابو ایوب نے نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کو سلامت دیکھا، تو تکبیر کہی۔ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے پوچھا: "اے ابو ایوب! کیا بات ہے؟" | ||
ابو ایوب نے جواب دیا: "اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر تھا کہ کہیں دشمن کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، اسی لیے میں آپ کی نگہبانی کر رہا تھا۔" رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اے اللہ! ابو ایوب کی حفاظت فرما، جیسے انہوں نے میری حفاظت کی ہے<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج3، ص 355</ref>"۔ | ابو ایوب نے جواب دیا: "اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر تھا کہ کہیں دشمن کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، اسی لیے میں آپ کی نگہبانی کر رہا تھا۔" رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اے اللہ! ابو ایوب کی حفاظت فرما، جیسے انہوں نے میری حفاظت کی ہے<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج3، ص 355</ref>"۔ | ||
یہ بھی منقول ہے کہ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے دو بار فرمایا: "رحمک اللہ یا ابا ایوب"؛ "اے ابو ایوب! اللہ تجھ پر رحم کرے<ref>محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج21، ص 33</ref>"۔ | یہ بھی منقول ہے کہ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے دو بار فرمایا: "رحمک اللہ یا ابا ایوب"؛ "اے ابو ایوب! اللہ تجھ پر رحم کرے<ref>محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج21، ص 33</ref>"۔ | ||
== منافقین کا مقابلہ == | == منافقین کا مقابلہ == | ||
منافقین اسلامی معاشرے کے خطرناک ترین دشمنوں میں سے ہیں۔ یہ ظاہری طور پر نظام کے ساتھ اور ہم خیال نظر آتے ہیں، لیکن عملی طور پر دشمنوں کے ہم نوا اور ہم عقیدہ ہوتے ہیں۔ رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور میں بھی ان گروہوں نے اسلامی معاشرے کو بڑے نقصانات پہنچائے۔ | منافقین اسلامی معاشرے کے خطرناک ترین دشمنوں میں سے ہیں۔ یہ ظاہری طور پر نظام کے ساتھ اور ہم خیال نظر آتے ہیں، لیکن عملی طور پر دشمنوں کے ہم نوا اور ہم عقیدہ ہوتے ہیں۔ رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور میں بھی ان گروہوں نے اسلامی معاشرے کو بڑے نقصانات پہنچائے۔ | ||
دیگر ادیان کے پیروکاروں کا ایک گروہ ظاہری طور پر اسلام لایا تھا، لیکن باطنی طور پر یہودیوں کا ساتھ دیتا تھا۔ یہ لوگ مسجد میں نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی باتیں سنتے اور پھر اپنے حلقوں میں آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کا مذاق اڑاتے۔ ایک دن نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے ان میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا جو مسجد میں اکٹھے بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے، تو آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے حکم دیا کہ انہیں مسجد سے نکال دیا جائے۔ جب ابو ایوب کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کا یہ حکم پہنچا، تو انہوں نے بنو النجار خاندان کے دو افراد کو، جو ان کے ہم قبیلہ تھے، مسجد سے باہر نکال دیا اور ان سے کہا: "تم پر افسوس اے ناپاک منافقو! جس راستے سے آئے ہو، اسی سے رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مسجد سے نکل جاؤ<ref>ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج2، ص 174، 175</ref>"۔ | |||
دیگر | اسی طرح عبداللہ بن ابی—جو منافقین کے سرداروں میں سے تھا—نے غزوہ احد میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، لیکن جنگ کے بعد وہ دوبارہ مسجد میں حاضر ہوا اور خود کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے اصحاب میں شامل کرانا چاہا۔ تاہم ابو ایوب انصاری نے چند دیگر افراد کے ساتھ مل کر اسے مسجد سے باہر نکال دیا<ref>وہی، ج3، ص111؛ ابو عبداللہ محمد بن عمر الواقدی، المغازی، تحقیق مارسڈن جونز، ج1، ص 318</ref>۔ | ||
اسی طرح | |||
== امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے ابو ایوب کی عقیدت == | == امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے ابو ایوب کی عقیدت == | ||
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بعد ابو ایوب انصاری کا ایمان اور امام علی (علیہ السلام) سے ان کی عقیدت کبھی کم نہیں ہوئی اور وہ ہمیشہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی [[اہل بیت|اہل بیت]] کے بارے میں دی گئی نصیحتوں پر عمل پیرا رہے۔ وہ امام علی (علیہ السلام) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ | نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بعد ابو ایوب انصاری کا ایمان اور امام علی (علیہ السلام) سے ان کی عقیدت کبھی کم نہیں ہوئی اور وہ ہمیشہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی [[اہل بیت|اہل بیت]] کے بارے میں دی گئی نصیحتوں پر عمل پیرا رہے۔ وہ امام علی (علیہ السلام) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ | ||
ابو ایوب انصاری کی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی تھا کہ انہوں نے نہ صرف حدیث [[غدیرخم|غدیر]] کا انکار نہیں کیا اور نہ ہی اسے چھپایا، بلکہ موقع آنے پر اس واقعے کا ذکر کرتے اور اس کی درستگی کی گواہی دیتے تھے۔ تاریخ اسلام میں وہ حدیث غدیر کے راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جس دن بصرہ میں جنگ جمل ختم ہوئی اور امیر المومنین [[امام حسن مجتبی علیہ السلام|امام حسن]] اور [[امام حسین علیہ السلام|امام حسین]] علیہما السلام، [[عمار]]، زید اور ابو ایوب انصاری کے ہمراہ بصرہ داخل ہوئے، تو ابو ایوب نے بصرہ کے تیس بزرگان اور شیوخ کے سامنے یہ روایت بیان کی: خدا کی قسم! میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو فرماتے ہوئے سنا: "إنک تقاتل الناکثین والقاسطین والمارقین بعدی مع علی بن أبی طالب"؛ تم میرے بعد [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]] (علیہ السلام) کے ساتھ پیمان شکنوں، ظالموں اور گمراہوں کے خلاف جنگ کرو گے۔ | |||
ابو ایوب انصاری کی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی تھا کہ انہوں نے نہ صرف [[ | |||
لوگوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ حدیث خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے خود سنی ہے۔ لوگوں نے کہا: جو کچھ تم نے علی کے بارے میں نبی سے سنا ہے، وہ ہمارے سامنے بیان کرو۔ ابو ایوب نے کہا: میں نے نبی سے سنا کہ آپ نے فرمایا: "علی مع الحق والحق معه وهو الإمام والخلیفة بعدی یقاتل علی التأویل کما قاتلت علی التنزیل..."؛ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے؛ وہ میرے بعد امام اور خلیفہ ہیں۔ وہ تاویل کی بنیاد پر جنگ کریں گے جیسے میں تنزیل کی بنیاد پر جنگ کرتا رہا ہوں۔ | لوگوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ حدیث خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے خود سنی ہے۔ لوگوں نے کہا: جو کچھ تم نے علی کے بارے میں نبی سے سنا ہے، وہ ہمارے سامنے بیان کرو۔ ابو ایوب نے کہا: میں نے نبی سے سنا کہ آپ نے فرمایا: "علی مع الحق والحق معه وهو الإمام والخلیفة بعدی یقاتل علی التأویل کما قاتلت علی التنزیل..."؛ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے؛ وہ میرے بعد امام اور خلیفہ ہیں۔ وہ تاویل کی بنیاد پر جنگ کریں گے جیسے میں تنزیل کی بنیاد پر جنگ کرتا رہا ہوں۔ | ||
== حدیث غدیر کی روایت == | == حدیث غدیر کی روایت == | ||
ابو ایوب انصاری ان لوگوں میں سے تھے جو مناسب مواقع پر لوگوں کے سامنے حدیث غدیر بیان کرتے تھے۔ اس طرح وہ امام علی (علیہ السلام) کا دفاع کرتے تھے۔ | ابو ایوب انصاری ان لوگوں میں سے تھے جو مناسب مواقع پر لوگوں کے سامنے حدیث غدیر بیان کرتے تھے۔ اس طرح وہ امام علی (علیہ السلام) کا دفاع کرتے تھے۔ | ||
رباح بن حارث نخعی کہتے ہیں: میں امیر المومنین علی (علیہ السلام) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ اچانک نقاب پوشوں کا ایک گروہ آیا اور حضرت سے مخاطب ہو کر بولے: "سلام ہو آپ پر، اے ہمارے مولا اور سردار"۔ حضرت نے ان کا سلام جواب دیا اور پھر فرمایا: "تم مجھے اپنا مولا کیوں کہتے ہو؟ کیا تم بدو عرب نہیں ہو؟" | رباح بن حارث نخعی کہتے ہیں: میں امیر المومنین علی (علیہ السلام) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ اچانک نقاب پوشوں کا ایک گروہ آیا اور حضرت سے مخاطب ہو کر بولے: "سلام ہو آپ پر، اے ہمارے مولا اور سردار"۔ حضرت نے ان کا سلام جواب دیا اور پھر فرمایا: "تم مجھے اپنا مولا کیوں کہتے ہو؟ کیا تم بدو عرب نہیں ہو؟" | ||
انہوں نے کہا: "ہاں، لیکن ہم نے رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے [[غدیر خم]] کے دن فرمایا تھا: 'من کنت مولاه فعلی مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله'؛ 'جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے اس سے دوستی رکھ، جو اس سے دشمنی کرے اس سے دشمنی رکھ، جو اس کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے اسے تنہا چھوڑ دے'۔" | انہوں نے کہا: "ہاں، لیکن ہم نے رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے [[غدیر خم]] کے دن فرمایا تھا: 'من کنت مولاه فعلی مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله'؛ 'جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے اس سے دوستی رکھ، جو اس سے دشمنی کرے اس سے دشمنی رکھ، جو اس کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے اسے تنہا چھوڑ دے'۔" | ||
یہ الفاظ سن کر حضرت کے چہرے پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی، یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آئے۔ پھر آپ نے فرمایا: "اے لوگو! گواہ رہو کہ تمہارے نبی نے میرے بارے میں کیا فرمایا اور تمہیں میری مدد کا حکم کیسے دیا ہے۔" | یہ الفاظ سن کر حضرت کے چہرے پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی، یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آئے۔ پھر آپ نے فرمایا: "اے لوگو! گواہ رہو کہ تمہارے نبی نے میرے بارے میں کیا فرمایا اور تمہیں میری مدد کا حکم کیسے دیا ہے۔" | ||
تھوڑی ہی دیر بعد یہ نقاب پوش گروہ اپنے سواریوں اور سامان کی طرف لوٹ گیا۔ میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے پوچھا: "تم کون لوگ ہو؟" ان میں سے ایک نے کہا: "ہم انصار کا ایک گروہ ہیں۔" پھر اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "وہ شخص ابو ایوب انصاری ہیں، جو رسول خدا کے میزبان تھے۔" میں آگے بڑھا، ان تک پہنچا اور ان سے مصافحہ کیا<ref>عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج10، ص 17</ref>. | تھوڑی ہی دیر بعد یہ نقاب پوش گروہ اپنے سواریوں اور سامان کی طرف لوٹ گیا۔ میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے پوچھا: "تم کون لوگ ہو؟" ان میں سے ایک نے کہا: "ہم انصار کا ایک گروہ ہیں۔" پھر اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "وہ شخص ابو ایوب انصاری ہیں، جو رسول خدا کے میزبان تھے۔" میں آگے بڑھا، ان تک پہنچا اور ان سے مصافحہ کیا<ref>عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج10، ص 17</ref>. | ||
== امام علی کی خلافت کے دور کی جنگوں میں فعال شرکت == | == امام علی کی خلافت کے دور کی جنگوں میں فعال شرکت == | ||
ابو ایوب انصاری ان بزرگانِ اصحاب میں سے تھے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے ہمراہ تھے اور | ابو ایوب انصاری ان بزرگانِ اصحاب میں سے تھے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے ہمراہ تھے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ رہے اور ان کے رکاب میں تلوار چلاتے رہے۔ وہ جنگ نہروان میں بھی فوج کی قیادت کرتے ہوئے خوارج کے خلاف جنگ کے لیے آگے بڑھے<ref>عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج10، ص 17</ref>۔ | ||
== خلافتِ علیؑ کے دور کی جنگوں میں ابو ایوب انصاری == | == خلافتِ علیؑ کے دور کی جنگوں میں ابو ایوب انصاری == | ||
ابو ایوب انصاری نے غزواتِ نبویؐ کے علاوہ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں بھی شرکت کی۔ وہ لوگوں کو یہ بھی سمجھاتے تھے کہ انہوں نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا۔ ابراہیم بن علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نے ابو ایوب انصاری سے کہا: اے ابو ایوب! اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کرامت عطا فرمائی جو کسی اور کو نہیں دی؛ آپ نبی اکرمؐ کے میزبان رہے، پھر آپ نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا اور مسلمانوں سے قتال کیوں کیا؟ | ابو ایوب انصاری نے غزواتِ نبویؐ کے علاوہ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں بھی شرکت کی۔ وہ لوگوں کو یہ بھی سمجھاتے تھے کہ انہوں نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا۔ ابراہیم بن علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نے ابو ایوب انصاری سے کہا: اے ابو ایوب! اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کرامت عطا فرمائی جو کسی اور کو نہیں دی؛ آپ نبی اکرمؐ کے میزبان رہے، پھر آپ نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا اور مسلمانوں سے قتال کیوں کیا؟ | ||
ابو ایوب نے جواب دیا: خدا کی قسم! اسی گھر میں جہاں تم آج بیٹھے ہو، میں ایک دن نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر تھا اور گھر میں کوئی اور نہ تھا۔ علیؑ نبیؐ کے دائیں جانب بیٹھے تھے اور میں بائیں جانب؛ انس بن مالک نبیؐ کے سامنے کھڑے تھے۔ اچانک دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ نبیؐ نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازہ کون کھٹکھٹا رہا ہے؟ انس باہر گئے تو دیکھا کہ عمار بن یاسر دروازے پر کھڑے ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا: عمار کے لیے دروازہ کھول دو۔ عمار اندر داخل ہوئے اور سلام کیا۔ | |||
ابو ایوب نے جواب دیا: خدا کی قسم! اسی گھر میں جہاں تم آج بیٹھے ہو، میں ایک دن نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر تھا اور گھر میں کوئی اور نہ تھا۔ علیؑ نبیؐ کے دائیں جانب بیٹھے تھے اور میں بائیں جانب؛ | |||
نبی اکرمؐ نے ان کا خیرمقدم کرنے کے بعد فرمایا: اے عمار! میرے بعد ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ لوگ ایک دوسرے پر تلواریں اٹھائیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔ نیز بعض گروہ دوسرے گروہوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ اے عمار! جب وہ دن آئے تو تم اس شخص کی پیروی کرنا جو میرے دائیں جانب بیٹھا ہے۔ اے عمار! اگر تمام لوگ کسی ایک راستے پر چلیں اور علیؑ کسی اور راستے پر جائیں تو تم علیؑ کے راستے پر چلنا۔ اے عمار! علیؑ کبھی تمہیں ہدایت سے نہیں ہٹائیں گے اور نہ ہی گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ اے عمار! علیؑ کی پیروی میری پیروی ہے اور میری پیروی اللہ کی پیروی ہے۔ | نبی اکرمؐ نے ان کا خیرمقدم کرنے کے بعد فرمایا: اے عمار! میرے بعد ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ لوگ ایک دوسرے پر تلواریں اٹھائیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔ نیز بعض گروہ دوسرے گروہوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ اے عمار! جب وہ دن آئے تو تم اس شخص کی پیروی کرنا جو میرے دائیں جانب بیٹھا ہے۔ اے عمار! اگر تمام لوگ کسی ایک راستے پر چلیں اور علیؑ کسی اور راستے پر جائیں تو تم علیؑ کے راستے پر چلنا۔ اے عمار! علیؑ کبھی تمہیں ہدایت سے نہیں ہٹائیں گے اور نہ ہی گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ اے عمار! علیؑ کی پیروی میری پیروی ہے اور میری پیروی اللہ کی پیروی ہے۔ | ||
=== جنگِ جمل === | |||
جنگِ جمل میں ابو ایوب انصاری ایک ہزار سپاہیوں کے کماندار تھے<ref>سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج6، ص 285</ref>۔ جنگِ جمل شروع ہونے سے قبل ابو ایوب امیر المومنین علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "اے امیر المومنین! اس [[قریش]] کے گروہ نے آپ سے اپنا عہد توڑ دیا اور آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے سے منہ موڑ لیا۔ انہوں نے خفیہ طور پر ہمیں دعوت دی کہ ہم آپ کی نصرت چھوڑ دیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایثار سے دور تھے اور دوسروں کے ساتھ مل کر چلنے سے گریز کرتے تھے۔ جب آپ نے ان کے اور غیر عربوں کے درمیان مساوات قائم کی تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے دشمنوں سے اتحاد کر لیا اور خون بہا کا مطالبہ کیا تاکہ مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے اور گمراہوں کے مقاصد پورے ہوں۔ ہم اس معاملے میں آپ کے حکم کی پیروی کریں گے<ref>عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج7، ص 39</ref>"۔ | جنگِ جمل میں ابو ایوب انصاری ایک ہزار سپاہیوں کے کماندار تھے<ref>سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج6، ص 285</ref>۔ جنگِ جمل شروع ہونے سے قبل ابو ایوب امیر المومنین علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "اے امیر المومنین! اس [[قریش]] کے گروہ نے آپ سے اپنا عہد توڑ دیا اور آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے سے منہ موڑ لیا۔ انہوں نے خفیہ طور پر ہمیں دعوت دی کہ ہم آپ کی نصرت چھوڑ دیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایثار سے دور تھے اور دوسروں کے ساتھ مل کر چلنے سے گریز کرتے تھے۔ جب آپ نے ان کے اور غیر عربوں کے درمیان مساوات قائم کی تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے دشمنوں سے اتحاد کر لیا اور خون بہا کا مطالبہ کیا تاکہ مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے اور گمراہوں کے مقاصد پورے ہوں۔ ہم اس معاملے میں آپ کے حکم کی پیروی کریں گے<ref>عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج7، ص 39</ref>"۔ | ||
| سطر 217: | سطر 198: | ||
مدینہ میں ابو ایوب کا گھر بھی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں چاروں مذاہب کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا گیا جو "شہابیہ" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اس مقام کی نشاندہی کی گئی جہاں نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا اونٹ اترا تھا، جسے "مبروکہ" کہا جاتا تھا، اور لوگ اس سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ | مدینہ میں ابو ایوب کا گھر بھی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں چاروں مذاہب کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا گیا جو "شہابیہ" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اس مقام کی نشاندہی کی گئی جہاں نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا اونٹ اترا تھا، جسے "مبروکہ" کہا جاتا تھا، اور لوگ اس سے تبرک حاصل کرتے تھے۔ | ||
== متعلقہ تلاشیں == | |||
* [[اہل سنت]] | |||
* [[مسلمان]] | |||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
{{ | {{حوالہ جات}} | ||
== ماخذ == | == ماخذ == | ||
نسخہ بمطابق 20:38، 16 مئی 2026ء
| ابو ایوب انصاری | |
|---|---|
| پورا نام | خالد بن زید بن کلیب بن ثعلبہ بن عبدعوف بن غنم بن مالک بن النجار |
| دوسرے نام | ابوایوب اَنصاری ابوایوب |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش کی جگہ | مدينه |
| وفات | 52 ه |
| مذہب | اسلام، شيعه |
| مناصب | امیرالمؤمنین کی طرف سے مدینہ کا والی مقرر هوے علی جمع آوری قرآن پیغمبر اسلام پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا کاتب قرآن مخالفت با شورائے سقیفہ کا مخالف |
ابو ایوب انصاری جنگوں میں مسلسل شرکت، اہل بیت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) سے مکمل محبت اور عقیدت اور پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے بعد علی بن ابیطالب (علیہ السّلام) کی قیادت کی پیروی کی وجہ سے اصحاب پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ یہ فدائی اور مخلص شخصیت پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے مدینہ تشریف لانے کے پہلے ہی دنوں میں اپنا گھر اور سادہ زندگی آپ کے حوالے کر دی۔ وہ ذاتی طور پر پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ)، علی (علیہ السّلام) اور اصحاب و تابعین کی شدید عزت اور توجہ کے مستحق تھے، یہاں تک کہ پیغمبر نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی اور ان کی نابینا آنکھوں کو شفا مل گئی۔ جب امیرالمومنین (علیہ السّلام) نے مسلمانوں کی باگ ڈور سنبھالی تو ان کا عطا پانچ گنا بڑھا دیا۔ جب ابن عباس نے ابو ایوب کی پیغمبر (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے لیے کی گئی خدمات کے احترام میں اپنی تمام جائیداد جو گھر میں تھی ان کے حوالے کر دی۔ اس انفاق کی مقدار تقریباً چالیس ہزار لکھی گئی ہے۔ ابو ایوب مسجد النبى مدینہ کی امامت جماعت کے ذمہ دار تھے اور عثمان کی قتل کے بعد پہلے ان افراد میں سے تھے جنہوں نے |امام علی (علیہ السّلام) کی بیعت کی۔ اس کے بعد وہ امیرالمؤمنین (علیہ السّلام) کے ہمراہ تین جنگوں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں شریک ہوئے، عہد شکنوں، ظالموں اور دین سے برگشتہ باغیوں سے لڑے اور ان تینوں جنگوں میں بہادری کے کارنامے سرانجام دیے۔ مثال کے طور پر جنگ نہروان میں خوارج کے بانی حرقوص بن زہیر سعدی کو قتل کرنے کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ امام علی کی شہادت کے بعد اور معاویہ کی حکومت کے دوران، ابو ایوب انصاری جنگ کے لیے قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) گئے اور آخر کار سال 52 میں قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران بیمار ہو گئے اور انتقال کر گئے۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں قسطنطنیہ کی دیواروں کے پاس دفن کیا گیا۔ ترکوں کے قسطنطنیہ پر قابض ہونے کے بعد، ابو ایوب کی تدفین گاہ پر ایک بڑی مسجد تعمیر کی گئی، اور آج بھی استنبول شہر میں ان کا مزار شیعہ اور سنّی دونوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔
ابو ایوب انصاری کی والدہ
ابو ایوب کی والدہ ایک پرہیزگار خاتون تھیں اور اگرچہ نابینا تھیں، لیکن وہ پیغمبر خدا کی خدمت گزاری کی بہت خواہاں تھیں (پیغمبر نے ان کی والدہ کے لیے دعا کی اور ان کی نابینا آنکھوں کو شفا مل گئی۔ روایت ہے کہ استقبال کرنے والوں کے ہجوم اور بھیڑ کی وجہ سے ان کا ہاتھ رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) تک نہ پہنچا، تو انہوں نے پیغمبر کا سامان اونٹ سے اتار کر اپنے گھر لے گئے تاکہ پیغمبر وہاں تشریف لائیں۔ جب پیغمبر نے سامان کے بارے میں پوچھا تو کہا گیا: "ابو ایوب انصاری کی والدہ اسے اپنے گھر لے گئی ہیں"۔ حضرت نے فرمایا: "انسان کو اپنے سامان کے ساتھ ہونا چاہیے" اور ابو ایوب کے گھر تشریف لے گئے[1].
ابو ایوب کا نسبی شرف
ابو ایوب کے اجداد میں سے ایک یہودیوں کے بڑے عالم اور حق طلب شخص تھے۔ وہ حضرت موسی(علیہ السّلام) کی تعلیمات کے مطابق پیغمبر اسلام کی بعثت کے منتظر تھے اور چونکہ ان کا یقین تھا کہ پیغمبر مدینہ میں ظاہر ہوں گے، اس لیے وہ اس شہر میں سکونت پذیر ہو گئے تاکہ بعثت کے وقت ان کے اصحاب میں شامل ہو سکیں[2].
ابو ایوب انصاری؛ خادم
جب سے پیغمبر خدا ابو ایوب کے گھر تشریف لائے، انہوں نے پوری جان سے آپ کی خدمت کا عہد کیا۔ ابو ایوب نے اپنا ہی ایک بکرا ذبح کیا اور گھر میں موجود تھوڑے سے جو سے روٹی تیار کی۔ اس طرح انہوں نے پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور ان کے ساتھیوں کے لیے کھانا تیار کیا اور ان کی میزبانی کی۔ پیغمبر کے قیام کے پورے عرصے میں، ابو ایوب ایک فدائی خادم کی طرح آپ کی خدمت میں رہے۔ وہ انس اور مالک بن نضر کے کنوؤں سے آپ کے لیے پینے کا پانی لاتے تھے۔ وہ ہمیشہ مناسب کھانا تیار کرتے تھے اور پوری احتیاط سے کوشش کرتے تھے کہ ایسا کھانا فراہم کریں جو پیغمبر کو پسند ہو۔ جب تک رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کھانا نہ کھاتے، وہ اور ان کی والدہ کھانے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ ابو ایوب کہتے ہیں: "ایک رات ہم نے ایسا کھانا تیار کیا جس میں پیاز اور لہسن تھا۔ پیغمبر نے اس کھانے سے نہیں کھایا۔ میں ان کے پاس گیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان، آپ نے کچھ کیوں نہیں کھایا؟ حضرت نے فرمایا: آج کے کھانے میں لہسن تھا اور چونکہ میں لوگوں سے ملتا ہوں، اس لیے اس کھانے کو کھانے سے معذور ہوں، لیکن تمہارے لیے اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔ اس کے بعد ہم ہمیشہ ایسا کھانا تیار کرتے جو پیغمبر خدا کو پسند آئے[3]"۔
ابو ایوب اور ان کی محترم والدہ نے رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی میزبانی کے دوران پوری احتیاط، ادب اور مکمل احترام کے ساتھ ان کی خدمت کی اور ہمیشہ اس بات کا خیال رکھا کہ اسلامی آداب کے خلاف کوئی کام نہ ہو۔ ایک دن ابو ایوب نے سوچا کہ کہیں اوپری منزل پر ان کا اور ان کی والدہ کا چلنا پھرنا نیچے والی منزل پر موجود رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کو تکلیف نہ دے۔ اس لیے وہ پیغمبر کے پاس گئے اور اس بارے میں پوچھا۔ حضرت نے فرمایا: "میں نیچے والی منزل پر زیادہ آرام محسوس کرتا ہوں"۔ اس کے باوجود، ابو ایوب آمد و رفت اور گھر کی صفائی، کھانا پکانے وغیرہ کے کاموں میں بہت احتیاط برتتے تھے تاکہ کہیں پیغمبر اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی آرام دہی میں خلل نہ پڑے۔
میزبانی کے بعد نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد
ابو ایوب نے حتیٰ کہ اس وقت بھی جب اللہ کے رسول مسجد کے پاس والے گھر میں سکونت اختیار فرما چکے تھے، اپنی پوری طاقت کے مطابق آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مدد جاری رکھی۔ ام المومنین ام سلمہ فرماتی ہیں: "کچھ انصار دوسروں کی نسبت رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے ساتھ زیادہ نیکی کرتے تھے؛ ان میں سے ایک ابو ایوب انصاری تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی امور میں مدد کرتے رہتے تھے[4]"۔ اور جب فاطمہ بنت محمد (زہرا) حضرت زہرا (سلام اللہ علیہا) کا نکاح علی (علیہ السلام) سے ہوا، تو ابو ایوب انصاری نے نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کو ایک بھیڑ تحفہ پیش کی۔ آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے یہ تحفہ قبول فرمایا اور ان کے لیے دعا کی[5]۔
جنگوں میں ابو ایوب کی شرکت
ابو ایوب انصاری ایک ایثار پسند مجاہد اور فدائی سپاہی تھے جو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور اور اس کے بعد تمام جنگوں میں فعالانہ شریک رہے۔ آپ غزوہ احد میں لڑنے کے علاوہ رجز خوانی اور نعرے لگا کر اسلامی فوج کو دشمن کے خلاف جنگ کی ترغیب دیتے تھے۔ اس جنگ میں آپ یہ آیت متن قرآن |انفرو خفافاً و ثقالاً سورہ = توبہ آیت = ۴۱ ؛ "تم سب جہاد کے لیے نکلو، چاہے ہلکے ہو یا بھاری" کی تلاوت فرماتے تھے۔ اسی طرح آپ نے غزوہ بدر میں بہادری سے جنگ کی اور "مطلب بن حنطب" نامی ایک بہادر جنگجو کو قیدی بنا لیا[6]۔ ابو ایوب نے مسلمانوں کی فتح میں اہم کردار ادا کیا اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی وفات کے بعد بھی امام علی (علیہ السلام) کے دور میں تمام جنگوں میں شرکت کی۔
نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی نگہبانی
جنگ خیبر کے بعد ایک یہودی عورت نے اللہ کے رسول (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان لینے کی کوشش کی۔ اس وجہ سے بہت سے اصحاب کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا کہ کہیں دشمن دوبارہ آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان کو خطرے میں نہ ڈالے۔ روایت ہے کہ جنگ خیبر سے واپسی پر اسلامی فوج نے راستے میں ایک مقام پر رات گزاری۔ ابو ایوب، جو دوسروں کی نسبت نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی جان کے بارے میں زیادہ فکر مند تھے، نے آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی نگہبانی کا فیصلہ کیا۔
جب خیمے لگائے گئے اور رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) اپنے خیمے میں تشریف لے گئے، تو ابو ایوب فوراً آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی حفاظت کے لیے خیمے کے پاس آ گئے اور ہتھیار بند ہو کر خیمے کے گرد پہرہ دیتے رہے اور صبح تک جاگتے رہے۔ جب صبح صادق کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) خیمے سے باہر تشریف لائے، تو ابو ایوب کو تیار کھڑے دیکھا۔ جب ابو ایوب نے نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کو سلامت دیکھا، تو تکبیر کہی۔ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے پوچھا: "اے ابو ایوب! کیا بات ہے؟" ابو ایوب نے جواب دیا: "اے اللہ کے رسول! مجھے ڈر تھا کہ کہیں دشمن کی طرف سے آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچے، اسی لیے میں آپ کی نگہبانی کر رہا تھا۔" رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے مسکراتے ہوئے فرمایا: "اے اللہ! ابو ایوب کی حفاظت فرما، جیسے انہوں نے میری حفاظت کی ہے[7]"۔ یہ بھی منقول ہے کہ نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے دو بار فرمایا: "رحمک اللہ یا ابا ایوب"؛ "اے ابو ایوب! اللہ تجھ پر رحم کرے[8]"۔
منافقین کا مقابلہ
منافقین اسلامی معاشرے کے خطرناک ترین دشمنوں میں سے ہیں۔ یہ ظاہری طور پر نظام کے ساتھ اور ہم خیال نظر آتے ہیں، لیکن عملی طور پر دشمنوں کے ہم نوا اور ہم عقیدہ ہوتے ہیں۔ رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے دور میں بھی ان گروہوں نے اسلامی معاشرے کو بڑے نقصانات پہنچائے۔ دیگر ادیان کے پیروکاروں کا ایک گروہ ظاہری طور پر اسلام لایا تھا، لیکن باطنی طور پر یہودیوں کا ساتھ دیتا تھا۔ یہ لوگ مسجد میں نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی باتیں سنتے اور پھر اپنے حلقوں میں آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کا مذاق اڑاتے۔ ایک دن نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے ان میں سے کچھ لوگوں کو دیکھا جو مسجد میں اکٹھے بیٹھے سرگوشیاں کر رہے تھے، تو آپ (صلّیاللہ علیہ وآلہ) نے حکم دیا کہ انہیں مسجد سے نکال دیا جائے۔ جب ابو ایوب کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کا یہ حکم پہنچا، تو انہوں نے بنو النجار خاندان کے دو افراد کو، جو ان کے ہم قبیلہ تھے، مسجد سے باہر نکال دیا اور ان سے کہا: "تم پر افسوس اے ناپاک منافقو! جس راستے سے آئے ہو، اسی سے رسول خدا (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کی مسجد سے نکل جاؤ[9]"۔ اسی طرح عبداللہ بن ابی—جو منافقین کے سرداروں میں سے تھا—نے غزوہ احد میں شرکت سے انکار کر دیا تھا، لیکن جنگ کے بعد وہ دوبارہ مسجد میں حاضر ہوا اور خود کو نبی اکرم (صلّیاللہ علیہ وآلہ) کے اصحاب میں شامل کرانا چاہا۔ تاہم ابو ایوب انصاری نے چند دیگر افراد کے ساتھ مل کر اسے مسجد سے باہر نکال دیا[10]۔
امیر المومنین علی (علیہ السلام) سے ابو ایوب کی عقیدت
نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے بعد ابو ایوب انصاری کا ایمان اور امام علی (علیہ السلام) سے ان کی عقیدت کبھی کم نہیں ہوئی اور وہ ہمیشہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی اہل بیت کے بارے میں دی گئی نصیحتوں پر عمل پیرا رہے۔ وہ امام علی (علیہ السلام) کے خاص اصحاب میں سے تھے۔ ابو ایوب انصاری کی دیگر خصوصیات میں سے یہ بھی تھا کہ انہوں نے نہ صرف حدیث غدیر کا انکار نہیں کیا اور نہ ہی اسے چھپایا، بلکہ موقع آنے پر اس واقعے کا ذکر کرتے اور اس کی درستگی کی گواہی دیتے تھے۔ تاریخ اسلام میں وہ حدیث غدیر کے راویوں میں شمار ہوتے ہیں۔ جس دن بصرہ میں جنگ جمل ختم ہوئی اور امیر المومنین امام حسن اور امام حسین علیہما السلام، عمار، زید اور ابو ایوب انصاری کے ہمراہ بصرہ داخل ہوئے، تو ابو ایوب نے بصرہ کے تیس بزرگان اور شیوخ کے سامنے یہ روایت بیان کی: خدا کی قسم! میں نے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو فرماتے ہوئے سنا: "إنک تقاتل الناکثین والقاسطین والمارقین بعدی مع علی بن أبی طالب"؛ تم میرے بعد علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے ساتھ پیمان شکنوں، ظالموں اور گمراہوں کے خلاف جنگ کرو گے۔ لوگوں نے پوچھا: کیا تم نے یہ حدیث خود نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے سنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے خود سنی ہے۔ لوگوں نے کہا: جو کچھ تم نے علی کے بارے میں نبی سے سنا ہے، وہ ہمارے سامنے بیان کرو۔ ابو ایوب نے کہا: میں نے نبی سے سنا کہ آپ نے فرمایا: "علی مع الحق والحق معه وهو الإمام والخلیفة بعدی یقاتل علی التأویل کما قاتلت علی التنزیل..."؛ علی حق کے ساتھ ہیں اور حق ان کے ساتھ ہے؛ وہ میرے بعد امام اور خلیفہ ہیں۔ وہ تاویل کی بنیاد پر جنگ کریں گے جیسے میں تنزیل کی بنیاد پر جنگ کرتا رہا ہوں۔
حدیث غدیر کی روایت
ابو ایوب انصاری ان لوگوں میں سے تھے جو مناسب مواقع پر لوگوں کے سامنے حدیث غدیر بیان کرتے تھے۔ اس طرح وہ امام علی (علیہ السلام) کا دفاع کرتے تھے۔ رباح بن حارث نخعی کہتے ہیں: میں امیر المومنین علی (علیہ السلام) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ اچانک نقاب پوشوں کا ایک گروہ آیا اور حضرت سے مخاطب ہو کر بولے: "سلام ہو آپ پر، اے ہمارے مولا اور سردار"۔ حضرت نے ان کا سلام جواب دیا اور پھر فرمایا: "تم مجھے اپنا مولا کیوں کہتے ہو؟ کیا تم بدو عرب نہیں ہو؟" انہوں نے کہا: "ہاں، لیکن ہم نے رسول خدا سے سنا ہے کہ آپ نے غدیر خم کے دن فرمایا تھا: 'من کنت مولاه فعلی مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه وانصر من نصره واخذل من خذله'؛ 'جس کا میں مولا ہوں، علی اس کے مولا ہیں۔ اے اللہ! جو اس سے دوستی کرے اس سے دوستی رکھ، جو اس سے دشمنی کرے اس سے دشمنی رکھ، جو اس کی مدد کرے اس کی مدد فرما اور جو اسے تنہا چھوڑے اسے تنہا چھوڑ دے'۔" یہ الفاظ سن کر حضرت کے چہرے پر مسکراہٹ ظاہر ہوئی، یہاں تک کہ آپ کے دندانِ مبارک نظر آئے۔ پھر آپ نے فرمایا: "اے لوگو! گواہ رہو کہ تمہارے نبی نے میرے بارے میں کیا فرمایا اور تمہیں میری مدد کا حکم کیسے دیا ہے۔" تھوڑی ہی دیر بعد یہ نقاب پوش گروہ اپنے سواریوں اور سامان کی طرف لوٹ گیا۔ میں ان کے پیچھے گیا اور ان سے پوچھا: "تم کون لوگ ہو؟" ان میں سے ایک نے کہا: "ہم انصار کا ایک گروہ ہیں۔" پھر اس نے ایک شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: "وہ شخص ابو ایوب انصاری ہیں، جو رسول خدا کے میزبان تھے۔" میں آگے بڑھا، ان تک پہنچا اور ان سے مصافحہ کیا[11].
امام علی کی خلافت کے دور کی جنگوں میں فعال شرکت
ابو ایوب انصاری ان بزرگانِ اصحاب میں سے تھے جو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے ہمراہ تھے اور جنگ جمل اور جنگ صفین میں حضرت علی (علیہ السلام) کے شانہ بشانہ رہے اور ان کے رکاب میں تلوار چلاتے رہے۔ وہ جنگ نہروان میں بھی فوج کی قیادت کرتے ہوئے خوارج کے خلاف جنگ کے لیے آگے بڑھے[12]۔
خلافتِ علیؑ کے دور کی جنگوں میں ابو ایوب انصاری
ابو ایوب انصاری نے غزواتِ نبویؐ کے علاوہ جنگِ جمل، صفین اور نہروان میں بھی شرکت کی۔ وہ لوگوں کو یہ بھی سمجھاتے تھے کہ انہوں نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا۔ ابراہیم بن علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نے ابو ایوب انصاری سے کہا: اے ابو ایوب! اللہ تعالیٰ نے آپ کو وہ کرامت عطا فرمائی جو کسی اور کو نہیں دی؛ آپ نبی اکرمؐ کے میزبان رہے، پھر آپ نے جنگوں میں علیؑ کا ساتھ کیوں دیا اور مسلمانوں سے قتال کیوں کیا؟ ابو ایوب نے جواب دیا: خدا کی قسم! اسی گھر میں جہاں تم آج بیٹھے ہو، میں ایک دن نبی اکرمؐ کی خدمت میں حاضر تھا اور گھر میں کوئی اور نہ تھا۔ علیؑ نبیؐ کے دائیں جانب بیٹھے تھے اور میں بائیں جانب؛ انس بن مالک نبیؐ کے سامنے کھڑے تھے۔ اچانک دروازے پر دستک کی آواز آئی۔ نبیؐ نے فرمایا: اے انس! دیکھو دروازہ کون کھٹکھٹا رہا ہے؟ انس باہر گئے تو دیکھا کہ عمار بن یاسر دروازے پر کھڑے ہیں۔ نبیؐ نے فرمایا: عمار کے لیے دروازہ کھول دو۔ عمار اندر داخل ہوئے اور سلام کیا۔ نبی اکرمؐ نے ان کا خیرمقدم کرنے کے بعد فرمایا: اے عمار! میرے بعد ایسے فتنے برپا ہوں گے کہ لوگ ایک دوسرے پر تلواریں اٹھائیں گے اور ایک دوسرے کو قتل کریں گے۔ نیز بعض گروہ دوسرے گروہوں سے برأت کا اعلان کریں گے۔ اے عمار! جب وہ دن آئے تو تم اس شخص کی پیروی کرنا جو میرے دائیں جانب بیٹھا ہے۔ اے عمار! اگر تمام لوگ کسی ایک راستے پر چلیں اور علیؑ کسی اور راستے پر جائیں تو تم علیؑ کے راستے پر چلنا۔ اے عمار! علیؑ کبھی تمہیں ہدایت سے نہیں ہٹائیں گے اور نہ ہی گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ اے عمار! علیؑ کی پیروی میری پیروی ہے اور میری پیروی اللہ کی پیروی ہے۔
جنگِ جمل
جنگِ جمل میں ابو ایوب انصاری ایک ہزار سپاہیوں کے کماندار تھے[13]۔ جنگِ جمل شروع ہونے سے قبل ابو ایوب امیر المومنین علیؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: "اے امیر المومنین! اس قریش کے گروہ نے آپ سے اپنا عہد توڑ دیا اور آپ کے ساتھ کیے گئے وعدے سے منہ موڑ لیا۔ انہوں نے خفیہ طور پر ہمیں دعوت دی کہ ہم آپ کی نصرت چھوڑ دیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایثار سے دور تھے اور دوسروں کے ساتھ مل کر چلنے سے گریز کرتے تھے۔ جب آپ نے ان کے اور غیر عربوں کے درمیان مساوات قائم کی تو انہیں یہ بات ناگوار گزری۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے دشمنوں سے اتحاد کر لیا اور خون بہا کا مطالبہ کیا تاکہ مسلمانوں کی وحدت پارہ پارہ ہو جائے اور گمراہوں کے مقاصد پورے ہوں۔ ہم اس معاملے میں آپ کے حکم کی پیروی کریں گے[14]"۔
جنگِ صفین
جنگِ صفین میں شام کے امیر نے ابو ایوب انصاری کے نام ایک دھمکی آمیز خط لکھا، لیکن ابو ایوب نے دھمکیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے علیؑ کا ساتھ دیا اور آپؑ کے رکاب میں جان و دل سے جنگ کی۔
علقمہ اور اسود بیان کرتے ہیں: جب ابو ایوب انصاری جنگِ صفین سے واپس لوٹے تو ہم ان کے پاس گئے اور کہا: "اے ابو ایوب! اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس بات پر سرفراز کیا کہ محمدؐ مدینہ میں آپ کے گھر تشریف لائے اور آپ کی اونٹنی آپ کے گھر میں زانو زن ہوئی۔ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص فضیلت تھی جس میں دوسروں کا کوئی حصہ نہیں۔ پھر ایسا کیا ہوا کہ آپ نے اپنی تلوار اٹھائی اور اہل شام سے جنگ کی جو 'لا الہ الا اللہ' کہتے تھے؟"
ابو ایوب نے کہا: "رسول اللہؐ نے کبھی ہم سے جھوٹ نہیں کہا۔ انہوں نے ہمیں علیؑ کے ساتھ تین گروہوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا:
میں نے رسول اللہؐ کو عمار سے یہ فرماتے ہوئے سنا: اے عمار! تمہیں ایک سرکش گروہ قتل کرے گا اور اس وقت تم حق پر ہوگے اور حق تمہارے ساتھ ہوگا۔ اے عمار! اگر تم دیکھو کہ علیؑ کسی ایک سمت جا رہے ہیں اور لوگ کسی اور سمت جا رہے ہیں، تو تم علیؑ کے ساتھ رہنا کیونکہ وہ تمہیں گمراہ نہیں کریں گے اور نہ ہی ہدایت سے دور لے جائیں گے۔ اے عمار! جو شخص تلوار اٹھا کر علیؑ کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے موتیوں کا ہار پہنائے گا، اور جو شخص تلوار اٹھا کر علیؑ کے دشمنوں کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے گلے میں آگ کا طوق ڈال دے گا۔
ہم نے ابو ایوب سے کہا: "خدا آپ پر رحم کرے، آپ نے جو کچھ کہا وہ ہمارے لیے کافی ہے[15]"۔
جنگِ صفین میں ابو ایوب انصاری کا کردار
ابن اعثم کوفی لکھتے ہیں: جنگِ صفین کے ایک دن ابو ایوب امیر المومنینؑ کے لشکر کی صف سے نکلے اور میدانِ جنگ میں مقابل طلب کیا۔ انہوں نے کئی بار آواز دی لیکن معاویہ کے لشکر سے کوئی ان سے لڑنے نہ آیا۔ ابو ایوب نے اپنے گھوڑے کو کوڑا مارا اور شامیوں کے لشکر پر حملہ آور ہو گئے، لیکن پھر بھی کوئی ان کے سامنے نہ آیا۔ مجبوراً وہ معاویہ کے خیمے کی طرف بڑھے۔ جب معاویہ نے ابو ایوب کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا اور دوسری طرف سے نکل گیا۔ ابو ایوب وہیں کھڑے رہے اور مقابل طلب کرتے رہے یہاں تک کہ شامیوں کا ایک گروہ ان سے لڑنے دوڑا۔
ابو ایوب نے ان پر حملہ کیا، کئی زخمی کیے اور سلامت واپس علیؑ کے لشکر کی صف میں شامل ہو گئے۔ معاویہ بدلتے ہوئے چہرے کے ساتھ اپنے خیمے میں لوٹا اور سپاہیوں کو سخت سرزنش کی کہ علیؑ کے لشکر کا ایک سوار اس طرح دوڑتا ہوا ہمارے خیمے تک آ گیا اور تم میں سے کسی نے کوئی ردعمل نہیں دکھایا۔ کیا ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے کہ کسی میں ہمت نہ تھی کہ مٹھی بھر مٹی اٹھا کر اس کے گھوڑے پر مار دیتا؟ شامیوں میں سے مترفع بن منصور نامی ایک شخص بولا: اے معاویہ! فکر نہ کرو، جس طرح وہ سوار حملہ آور ہو کر تمہارے خیمے تک آیا، میں بھی علیؑ کے خیمے پر حملہ کروں گا۔ اگر میں اس پر قابو پا لوں گا تو اسے زخمی کر کے تمہیں خوش کر دوں گا۔ پھر وہ گھوڑے پر سوار ہو کر علیؑ کے خیمے کی طرف دوڑا۔ جب ابو ایوب انصاری نے اسے دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور دونوں میں جھڑپ ہو گئی۔ ابو ایوب نے اس کے ہاتھ اور گردن پر وار کیا اور اسے قتل کر دیا۔ علیؑ کے سپاہیوں نے جب یہ بے مثال بہادری دیکھی تو ابو ایوب پر درود بھیجا۔
میں مارقین سے جنگ کا منتظر ہوں
محمد بن سلیمان کہتے ہیں: جب ابو ایوب انصاری ہمارے پاس آئے اور ٹھہرے، تو ہم ان کی خدمت میں گئے، ان کے گھوڑے کے لیے کچھ چارہ لائے اور کہا: اے ابو ایوب! آپ نے اسی تلوار سے رسول اللہؐ کے رکاب میں کفار سے جنگ کی؛ اب آپ مسلمانوں سے کیوں لڑ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہؐ نے ہمیں قاسطین، مارقین اور ناکثین سے جنگ کرنے کا حکم دیا تھا۔ میں نے ان کے حکم کے مطابق دو گروہوں سے جنگ کی ہے اور مستقبل میں تیسرے گروہ سے... نہروان میں جنگ کروں گا؛ لیکن مجھے نہیں معلوم کہ یہ جگہ کہاں ہے؟
جنگِ نہروان میں ابو ایوب
جب خوارج بے بنیاد بہانوں کی بنا پر 'حروراء' نامی جگہ رک گئے، تو امیر المومنینؑ ان کے پاس تشریف لے گئے تاکہ ان کے شبہات دور کریں اور انہیں راستِ راست پر لائیں۔ پھر آپؑ نے امان کا جھنڈا ابو ایوب انصاری کے سپرد کیا تاکہ جو کوئی واپس آنا چاہے، وہ ابو ایوب کے پاس آ جائے۔ ابو ایوب نے پکارا: جو کوئی اس جھنڈے کی طرف آئے گا اور اس گروہ سے الگ ہو جائے گا، وہ محفوظ رہے گا۔ ان میں سے آٹھ ہزار لوگ واپس آ گئے۔ خوارج اپنی سرکشی اور بغاوت پر اڑے رہے اور نہروان جانے کے ارادے سے وہاں سے چلے گئے۔
ابو ایوب میمنہ میں
خوارجِ نہروان سے جنگ کے لیے لشکر کی ترتیب کے وقت، آپؑ نے بہادر جنگجو ابو ایوب انصاری کو میمنہ (دائیں بازو) پر مقرر فرمایا۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں: عبداللہ کوا، جو جنگ سے کنارہ کش ہو گیا تھا، خوارج کے ایک ہزار افراد کے ساتھ ابو ایوب کی طرف بڑھا جو لشکر کے میمنہ پر تھے۔ ابو ایوب پہلے شخص تھے جو نہروانیوں سے لڑنے دوڑے اور خارجی زید بن حصین کو قتل کر دیا۔
سپاہیوں کے سامنے ابو ایوب کے پرجوش خطبات
جب لوگوں نے امیر المومنینؑ کی باتیں نہ سنیں اور دشمنوں کے خلاف جنگ و جہاد میں شرکت سے انکار کر دیا، تو ابو ایوب اٹھے اور بولے: اے لوگو! جان لو کہ امیر المومنینؑ نے اپنا پیغام ان لوگوں تک پہنچا دیا جن کے کان سننے والے اور دل بیدار و آگاہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا، لیکن تم نے جیسا چاہیے تھا ویسا قبول نہیں کیا۔ بے شک تمہارے نبیؑ کے چچا زاد تمہارے درمیان تشریف لائے ہیں تاکہ تمہیں دین کی سمجھ دیں اور عہد شکنوں کے خلاف جہاد کی دعوت دیں۔ گویا تمہارے کان نہیں سنتے اور تمہارے دلوں پر مہر لگ چکی ہے؛ کیا تم عقل کھو بیٹھے ہو؟ اے لوگو! تمہیں شرم نہیں آتی؟!
کیا کل ہی کی تو بات ہے جب ظلم ہر جگہ پھیلا ہوا تھا؟ کتنے ہی لوگ تھے جو اپنے حق سے محروم کیے گئے، تھپڑ مارے گئے، بھوکے اور سرگردان بیابانوں میں چھوڑ دیے گئے؛ آندھیاں ان پر چلتی تھیں اور گرمی و دھوپ کے سامنے ان کے پاس ان پرانے کپڑوں اور گھسے ہوئے اون کے کمبلوں کے سوا کوئی پوشش یا سایہ نہ تھا۔ یہاں تک کہ اللہ نے امیر المومنینؑ کو یہاں لایا۔ انہوں نے سچائی کو ظاہر کیا، انصاف پھیلاया اور کتابِ خدا پر عمل کیا۔ اے لوگو! اللہ کا شکر ادا کرو جس نے تم پر یہ نعمت کی ہے، اور ان لوگوں جیسے مت بنو جنہوں نے کہا: 'ہم نے سنا' لیکن انہوں نے نہیں سنا۔ اپنی تلواروں کو تیز کرو اور اپنے دشمنوں سے جنگ کے لیے تیار ہو جاؤ۔ اگر تمہیں بلایا جائے تو لبیک کہو، اور اگر حکم آئے تو سنو اور اطاعت کرو، اور جو کچھ وہ کہیں اسے اپنے دل کی بات سمجھو تاکہ تم سچے ثابت ہو۔
مدینہ سے خروج
شام کے امیر نے 'بسرہ بن ارطاہ' کو حکم دیا کہ وہ حجاز (مکہ اور مدینہ) سے یمن تک کا راستہ طے کرے اور اس کے احکامات پر عمل کرے۔ جب وہ مدینہ کے قریب پہنچا تو قبیلہ 'قضاعہ' اس کے استقبال کے لیے آیا اور ان کے لیے کئی اونٹ ذبح کیے۔
وہ اور اس کے سپاہی اچانک مدینہ میں داخل ہو گئے۔
ابو ایوب انصاری، جو اس وقت مدینہ میں امام علیؑ کے نمائندہ تھے اور کسی بھی طرح مقابلے کے لیے تیار نہ تھے، خون ریزی سے بچنے کے لیے فوراً مدینہ سے نکل گئے۔
بسرہ نے کئی گھروں کو، جن میں 'ابو ایوب انصاری'، 'زرارہ بن حرون' اور 'رفاعہ بن رافع زرقی' کے گھر شامل تھے، آگ لگا دی اور تباہ کر دیا۔
پھر وہ جابر بن عبداللہ انصاری کی تلاش میں گیا، لیکن جابر اس کے ہتھے چڑھنے سے پہلے ہی وہاں سے بھاگ گئے۔ بسرہ نے جابر بن عبداللہ انصاری کے پورے قبیلے کو، جو بنو سلمہ سے تھے، موت کی دھمکی دی۔
جابر نے اپنے قبیلے سے شر دور کرنے کے لیے ام المومنین ام سلمہؓ، نبیؐ کی زوجہ، کی پناہ لی[16]۔
شام کے امیر کے سامنے ابو ایوب کی بے باکی
امام علیؑ کی شہادت کے بعد، ایک دن ابو ایوب انصاری معاویہ کے پاس گئے۔ معاویہ نے انہیں اپنے تخت پر بٹھایا اور مسلسل ان کے کارناموں کا ذکر کرتا رہا۔ اس جلسے میں کئی شامی بھی موجود تھے اور سن رہے تھے۔ اچانک معاویہ نے ابو ایوب سے مخاطب ہو کر کہا: "اے ابو ایوب انصاری! فلاں دن (بدر میں) ابتر گھوڑے کا مالک کس نے قتل کیا تھا؟"
ابو ایوب نے پوری بہادری سے کہا: "میں نے اسے قتل کیا؛ کیونکہ تم اور تمہارے باپ سرخ اونٹ پر سوار تھے اور کفر کا جھنڈا اٹھائے ہوئے تھے"۔
معاویہ کو یہ توقع نہ تھی کہ ابو ایوب اس طرح کھل کر جاہلیت اور اس کے کفر کے دور کے بارے میں بات کریں گے، اس لیے وہ سر جھکا کر بیٹھ گیا۔ شامی بھی ابو ایوب پر غصہ ہو گئے۔ پھر معاویہ نے سر اٹھایا اور کہا: "چھوڑ دو، چھوڑ دو، میری جان کی قسم! میں نے تم سے اس موضوع کے بارے میں نہیں پوچھا تھا اور میرا مقصد بھی یہ نہ تھا[17]"۔
ابو ایوب انصاری کا علمی مقام
ابو ایوب کی شخصیت کے اہم پہلوؤں میں سے ایک ان کا علمی مقام اور عالی اسلامی معارف سے ان کی آگاہی ہے۔ وہ نہ صرف رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے لیے ایک بہادر سپاہی اور مخلص خادم تھے، بلکہ انہوں نے انصار میں سے پانچ دیگر افراد کے ہمراہ نبی اکرم کی حیاتِ طیبہ میں ہی قرآن کریم کو جمع کیا[18]۔
وہ اہم اور معتبر راویوں میں سے ہیں جنہوں نے رسول اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) اور امیر المؤمنین علی (علیہ السلام) سے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔
عثمان کی جگہ نمازِ جماعت کی امامت
35 ہجری میں، مہاجرین اور انصار نے عثمان کو ان کی جانب سے کی گئی انحرافات اور بدعتوں کی وجہ سے مسجد میں داخل ہونے اور نماز کی امامت کرنے سے روک دیا۔ «سعد قرظ»، مسجد کے مؤذن امام علی (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہا: «اب جب کہ خلیفہ کو نماز کی امامت سے روک دیا گیا ہے، تو نماز کون پڑھائے گا؟»
حضرت نے فرمایا: «خالد بن زید (ابو ایوب انصاری) سے کہو کہ وہ لوگوں کے ساتھ نمازِ جماعت قائم کریں[19]»۔
ابو ایوب بیان کرتے ہیں:
ایک دن میں رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: «اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی نصیحت فرمائیں»۔ حضرت نے فرمایا: «میں تمہیں پانچ نصیحتیں کرتا ہوں:
- جو کچھ دوسروں کے پاس ہے اس سے مایوس ہو جاؤ، کیونکہ یہ خود بے نیازی کی بہترین شکل ہے؛
- لالچ سے بچو، کیونکہ یہ ہمیشہ کی ضرورت ہے؛
- جب نماز پڑھو تو ایسے پڑھو جیسے کوئی وداع کرنے والا (اپنی آخری نماز پڑھنے والا) پڑھتا ہو؛
- وہ بات مت کہو جس کے لیے کل معذرت خواہی کرنی پڑے؛
- جو کچھ اپنے لیے پسند کرو، اسے اپنے مؤمن بھائی کے لیے بھی پسند کرو[20]»۔
وہ ایک اور روایت میں نقل کرتے ہیں: «جب بھی میں نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے پیچھے نماز پڑھتا تھا، تو آپ نماز کے بعد یہ دعا پڑھتے تھے: اے اللہ! میرے تمام خطاؤں اور گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! مجھے اپنی نعمتوں سے عطا فرما، مجھے زندہ رکھ، مجھے رزق دے، اور مجھے نیک اعمال اور اچھے اخلاق کی توفیق دے؛ کیونکہ تیرے سوا کوئی نیک اعمال کی ہدایت نہیں کرتا اور تیرے سوا کوئی برے اعمال سے نہیں روکتا[21]»۔
ابو ایوب انصاری کی وفات
ابو ایوب کو بڑھاپے میں خبر ملی کہ رومی فوج اسلامی سرحدوں پر حملے کے موقع کی تلاش میں گھات لگائے ہوئے ہے۔ چنانچہ، چونکہ اسلام کی بنیادیں خطرے میں تھیں، انہوں نے اپنے اوپر فرض سمجھا کہ وہ مسلمانوں کی فوج کے ہمراہ روم کی طرف روانہ ہوں۔ انہوں نے اپنی پوری بابرکت زندگی میں ہمیشہ گھوڑے پر سوار اور تلوار ہاتھ میں رکھ کر اسلام کی بلندی اور حق کے دفاع کے لیے جنگی میدانوں میں جدوجہد کی۔ جب اسلامی فوج قسطنطنیہ کے قریب پہنچی، تو ابو ایوب رومی فوجیوں کے ساتھ لڑتے ہوئے بیمار پڑ گئے[22]۔
ابو ایوب کے ساتھیوں نے ان سے بیماری کے بستر پر پوچھا: «آپ کی کوئی خواہش یا وصیت ہے؟» انہوں نے کہا: «میری کوئی دنیاوی خواہش یا ضرورت نہیں، لیکن اگر میں مر جاؤں، تو میری لاش کو اٹھا کر جہاں تک ممکن ہو دشمن کی زمین میں آگے لے جانا اور مجھے آخری سرحد پر دفن کرنا؛ کیونکہ میں نے سنا ہے کہ رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) نے فرمایا: قسطنطنیہ کی قلعہ بندی کی دیوار کے پاس میرے اصحاب میں سے ایک نیک شخص دفن ہوگا، اور مجھے امید ہے کہ وہی شخص میں ہوں[23]»۔ کچھ عرصہ بیماری گزارنے کے بعد انہوں نے اس فانی دنیا کو الوداع کہا اور انتقال فرما گئے۔
ابو ایوب کی وصیت کے مطابق، ان کی لاش کو قسطنطنیہ کی قلعہ بندی تک لے جایا گیا اور وہیں دفن کیا گیا۔ مسلمانوں کو ڈر تھا کہ دشمن مسلمانوں سے کینہ اور دشمنی کی وجہ سے ابو ایوب انصاری کی قبر کو کھود ڈالے گا۔ اس لیے انہوں نے رومیوں کو دھمکی دی اور کہا: «اگر تم نے ابو ایوب کی قبر کھودی، تو ہم اسلامی ممالک میں تمام رومی گھنٹیوں کو خاموش کر دیں گے»۔
رسول خدا (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کے اس پاک صحابی، بہادر سپاہی اور مخلص اسلامی سردار کا مزار آج کل شہر استنبول میں واقع ہے اور دنیا کے دور دراز علاقوں سے آنے والے بہت سے مسلمانوں کے لیے زیارت گاہ ہے۔
دیوار کے پاس دفن
ابو ایوب کی وفات کے بعد یزید نے ان کی جنازہ کی نماز پڑھائی (کیونکہ یہ واقعہ انہی کے عہد میں پیش آیا) اور حکم دیا کہ انہیں شہر کی دیوار کے پاس دفن کیا جائے۔ پھر بعض روایات کے مطابق، اس نے گھڑسار فوج کو مامور کیا کہ وہ اپنے گھوڑوں سے ان کی قبر کی جگہ کو اس طرح روند ڈالے کہ وہ مٹ جائے تاکہ دشمن ان کی قبر کا پتا نہ لگا سکے۔ تاہم، ابو ایوب کی وفات اور ان کے مدفون ہونے کی خبر دشمن سے پوشیدہ نہ رہ سکی۔ رومی بادشاہ نے یہ افواہ پھیلائی کہ جب مسلمان پیچھے ہٹیں گے تو وہ ان کی قبر کھود کر ان کی لاش کو درندوں کا شکار بنا دیں گے۔
اس کے جواب میں یزید نے دھمکی دی کہ وہ پوری عرب زمین میں کسی مسیحی کو زندہ نہیں چھوڑے گا اور نہ ہی کوئی کلیسا قائم رہنے دے گا۔ یہ دھمکی اثر آور ہوئی اور رومی اپنے ارادے سے باز آ گئے۔ ابن سعد نے نقل کیا ہے کہ رومی ان کی قبر کا اتنا احترام کرتے تھے کہ خاص طور پر قحط کے مواقع پر وہ وہاں زیارت کے لیے جاتے اور بارش کی دعا مانگتے تھے۔ ابن عبد ربہ کے قول کے مطابق بعد ازاں ان کی قبر پر ایک گنبد تعمیر کیا گیا جو ان کے زمانے تک موجود رہا۔ اس کے بعد 857ھ بمطابق 1453ء تک، جب تک کہ عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ فتح نہیں کیا، ان کی قبر گمنام رہی۔ اسی سال آق شمس الدین شیخ الاسلام نے افسانوی انداز میں ان کے مزار کی نشاندہی کی۔ 863ھ بمطابق 1458ء میں سلطان محمد دوم عثمانی نے ان کی قبر پر ایک مسجد اور روضہ تعمیر کروایا۔ اس کے بعد سے بہت سے عثمانی بزرگان اسی کے قریب دفن ہونے لگے۔ عثمانی سلاطین تخت نشینی کے موقع پر ایک رسمی رسم کے طور پر ان کے مزار پر حاضر ہوتے تھے اور ایک خاص تقریب کے دوران اپنے آباؤ اجداد کی تلوار، جسے "شمشیرِ عثمان" کہا جاتا تھا، اپنی کمر پر باندھتے تھے۔
مدینہ میں ابو ایوب کا گھر بھی مسلمانوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ یہاں چاروں مذاہب کے لیے ایک مدرسہ قائم کیا گیا جو "شہابیہ" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اس مقام کی نشاندہی کی گئی جہاں نبی اکرم (صلّی اللہ علیہ وآلہ) کا اونٹ اترا تھا، جسے "مبروکہ" کہا جاتا تھا، اور لوگ اس سے تبرک حاصل کرتے تھے۔
متعلقہ تلاشیں
حوالہ جات
- ↑ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج2، ص 140
- ↑ عبداللہ المامقانی، تنقیح المقال، ج1، ص 391
- ↑ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاءوغیرہ، ج2، ص 144
- ↑ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج8، ص 163
- ↑ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج18، ص 21
- ↑ ابو عبداللہ محمد بن عمر الواقدی، المغازی، تحقیق مارسڈن جونز، ج1، ص 141
- ↑ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج3، ص 355
- ↑ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج21، ص 33
- ↑ ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی السقاء وغیرہ، ج2، ص 174، 175
- ↑ وہی، ج3، ص111؛ ابو عبداللہ محمد بن عمر الواقدی، المغازی، تحقیق مارسڈن جونز، ج1، ص 318
- ↑ عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج10، ص 17
- ↑ عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج10، ص 17
- ↑ سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج6، ص 285
- ↑ عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج7، ص 39
- ↑ علی نظری منفرد، قصہ ی کوفہ، ص 343
- ↑ عبدالحمید بن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، ج2، ص 3
- ↑ سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج6، ص 286
- ↑ محمد بن سعد، طبقات الکبری، ج2، ص 356
- ↑ عز الدین ابو الحسن علی بن محمد بن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج2، ص 300
- ↑ ابو جعفر محمد بن الحسن طوسی، الامالی، ج2، ص 122
- ↑ سید محسن الامین، اعیان الشیعہ، ج6، ص 286
- ↑ عز الدین ابو الحسن علی بن محمد بن الاثیر، الکامل فی التاریخ، ج3، ص 461
- ↑ محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، ج22، ص 113