"پیر مهر علی شاه" کے نسخوں کے درمیان فرق
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) «'''پیر سید مہر علی شاہ''' ، (پیدائش: 4 اپریل 1859ء– وفات: 11 مئی 1937ء) سلسلہ عالیہ چشت کے ایک عظیم روحانی بزرگ تھے۔ == پیدائش == پیر سید مہر علی شا ہ چشتی گولڑوی رمضان المبارک 1275ھ بہ مطابق4 اپریل 1859ءبہ ر و ز سو مو ا ر اس گلشن ہستی میں رو نق افر و ز ہ...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا 4 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے) | |||
| سطر 1: | سطر 1: | ||
{{Infobox person | |||
| title = | |||
| image = پیر مہر علی شاہ.jpg | |||
| name = | |||
| other names = سید محمد ہادی کاظمی | |||
| brith year = 1859ء | |||
| brith date = 14 اپریل | |||
| birth place = گولڑہ شریف | |||
| death year = 1937ء | |||
| death date = 11 مئی | |||
| death place = | |||
| teachers = | |||
| students = | |||
| religion = [[اسلام]] | |||
| faith = [[اہل السنۃ والجماعت|سنی]] | |||
| works = {{افقی باکس کی فہرست }} | |||
| known for = | |||
}} | |||
'''پیر سید مہر علی شاہ''' ، (پیدائش: 4 اپریل 1859ء– وفات: 11 مئی 1937ء) سلسلہ عالیہ چشت کے ایک عظیم روحانی بزرگ تھے۔ | '''پیر سید مہر علی شاہ''' ، (پیدائش: 4 اپریل 1859ء– وفات: 11 مئی 1937ء) سلسلہ عالیہ چشت کے ایک عظیم روحانی بزرگ تھے۔ | ||
| سطر 9: | سطر 28: | ||
حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب نے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور ناظرہ [[قرآن |قرآن مجید]] پڑھنے کیلئے آپ کو خا نقا ہ کی درس گاہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لئے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قوت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔ | حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب نے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور ناظرہ [[قرآن |قرآن مجید]] پڑھنے کیلئے آپ کو خا نقا ہ کی درس گاہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لئے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قوت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔ | ||
عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم کے لئے مو لا نا محی الدین کے سامنے ذا نو ئے تلمذ تہہ کئے، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھو ئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی صا حب کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی | عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم کے لئے مو لا نا محی الدین کے سامنے ذا نو ئے تلمذ تہہ کئے، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھو ئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی صا حب کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی۔ | ||
== سلسلہ نسب == | |||
مہر علی شاہ کا سلسلہ نسب : آپ کا سلسلہ نسب 24 ویں پشت میں [[عبد القادر جیلانی|شیخ سید عبدالقادر جیلانی]] سے جا ملتا ہے، آپ ایک بلند پایہ عالم تھے اور اسلام کے علاوہ کئی دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی بہت سی واقفیت رکھتے تھے، آپ اپنے دور کے بہت بڑے شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بے بدل عالم بھی تھے، | |||
آپ نے صرف احیائے تصوف کے لئے کام کیا بلکہ شروع میں مبین کی پابندی اور سنتِ رسول کی پیروی کی بھی خاص طورپر تلقین کرتے رہے، آپ کو حضور نبی کریم سے بے پناہ عشق اور محبت تھی۔ فرمایا کرتے کہ انسان اگر اپنے وجود کو حضورِ مقبول (جو رحمۃ العالمین بھی ہیں) کی محبت میں گم گر دے | |||
تو کائناتِ الٰہی میں وہ کسی وقت بھی اور کسی پہلو بھی بے چینی سے دور چار نہیں ہوگا اور نصرت و فتح اور کامیابی کے دروازے اس پر کھلے رہیں گے، بقول [[ محمد اقبال لاہوری|علامہ اقبال]] | |||
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں | |||
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں | |||
== عقیدت مندوں کا جمِ غفیر == | |||
راولپنڈی کے قریب آستانۂ عالیہ جو کہ اسلام آباد شہر کا ایک حصہ ہے اور اؤلیائے کاملین علما زبانیں کا جائے قرار و مریدین کی جائے پناہ ہے جس میں صبح و شام ہزاروں کی تعداد میں مسافروں امیر و غریب کی مہمان نوازی کی جاتی ہے بالخصوص آپ کے عرس کے موقع پر 28 [[صفر]] سے لوگوں کا ایک جمِ غفیر عقیدمندوں کا ایک سیلاب دستِ طلب دراز ہوتا ہے | |||
اور آپ کے فیوض وبرکات سے مسروعر ہوکر لوٹتے ہیں آپ کی الاد یگانہ حضرت غلام محی الدین عرف حضرت بابو جی تھے اور بابو جی صاحب کے دو فرزند ارجمند حضرت قبلہ سید پیر غلام معین الدین سید ہونے کے ساتھ تمام علومِ ظاہری وباطنی سے آراستہ ہے، | |||
آپ مختلف اوقات میں بیٹھا کرتے زائرین کی طرف سے نذرانۂ ہدایہ کا سلسلہ بارش کی طرح جاری رہتا لیکن جب آپ اٹھ کر تشریف لے جاتے تو ادھر آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور غلام سے فرماتے تھے کہ اس لیے ہدیہ نذرانہ کوا ٹھا کر لانگری کو دے دو چنانچہ اسی طرح سفر میں بھی جو کچھ جمع ہوتا آپ اسے لنگر خانے میں خرچ کرنے کے لئے بھیج دیتے تھے کیونکہ آپ ایک خاندانی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ سلطنتِ مغلیہ سے پہلے اس خطہ کے نواب تھے۔ | |||
== شرف بیعت == | == شرف بیعت == | ||
بھو ئی کے در س سے فا رغ ہو کر مزید تعلیم کے لئے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علاقہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د کے سا منے زا نو ئے تلمذتہہ کئے۔ | بھو ئی کے در س سے فا رغ ہو کر مزید تعلیم کے لئے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علاقہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د کے سا منے زا نو ئے تلمذتہہ کئے۔ | ||
| سطر 15: | سطر 50: | ||
’انگہ“ میں قیا م کے دو را ن اپنے استا ذ محتر م کے ہمرا ہ ”سیال شریف‘ ضلع سر گودھا ، اُن کے پیرو مرشد خو اجہ شمس الدین سیالوی چشتی کی زیا ر ت کے لئے جا یا کر تے تھے اور حضر ت خو ا جہ سیا لو ی رحمتہ اللہ علیہ آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔ | ’انگہ“ میں قیا م کے دو را ن اپنے استا ذ محتر م کے ہمرا ہ ”سیال شریف‘ ضلع سر گودھا ، اُن کے پیرو مرشد خو اجہ شمس الدین سیالوی چشتی کی زیا ر ت کے لئے جا یا کر تے تھے اور حضر ت خو ا جہ سیا لو ی رحمتہ اللہ علیہ آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔ | ||
چنانچہ اسی شفقت و محبت کی بہ دو لت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب سلسلہ چشتیہ نظا میہ سلیما نیہ میں حضر ت خو اجہ شمس الدین سیا لو ی سلیما نی رحمتہ اللہ علیہ کے دست حق پر ست پردولت بیعت سے فیض یاب ہو ئے۔ | |||
== استعمار سے مقابلہ == | |||
جب [[ہندوستان]] اپنی آزادی کے خونی دور سے گزر رہا تھا مکمل طور پر انگریزوں کے پنجۂ استبداد میں تھا سلطنتِ مغلیہ ہمیشہ کے لئے دم توڑ چکی تھی اور [[اسلام|دین اسلام]] کے روشن چراغ ترک وطن کر چکے یا قید و بند کی صعوبتوں میں ایام گزار رہے تھے مسلمان تباہی و بربادی کے تاریک دور سے گزر رہےتھے، | |||
غیر مسلم مغربی مادہ پرست قوم کے علم و اقتدار نظریات کا عفریت مسلمانانِ ہند پر سوار ہو رہا تھا، روحانیت کو گونا گوں مشکلات کا سامنا تھا، اسلامی اقدار یکسر مٹتی نظر آرہی تھیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے۔ | |||
سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو اس خطہ میں ولی بنا کر بھیجا گیا آپ یکم رمضان المبارک بمطابق 1275 ہجری 1875 عیسوی بروز پیر کو پیدا ہوئے ایسی پاک ہستی کو اللہ تعالیٰ نے وجود میں لانا پسند فرمایا جن کی علمی و روحانی قوت سے مسلمانوں میں حیاتِ نو کے آثار پیدا ہوئے جو بالآخر برصغیر میں مسلمانوں کی ایک ایسی آزاد حکومت منصۂ شہود آنے کے باعث بنے، پیر مہر علی شاہ عظیم شخصیت میں سے تھے۔ | |||
آپ نے علم عرفان تصنیف و تالیف احیائے شریعت الحاد کے خاتمے کے لئے جہد و جہد کی آپ علومِ ظاہر و باطن شرعیت و روحانیت کے اس مقام پر پہنچے ہیں کہ جن کے فیض کو بر صغیر کے چوٹی کے علما اور بزرگانِ دین نے تسلیم کیا جو اظہر من الشمس الدین سیالوی سے خلافت ملی آپ کو ظاہری و باطنی خلافت عطا ہوئی | |||
پیر فضل دین فیض یاب ہوئے آپ کی علمی شہرت کا یہ حال تھا کہ بڑے بڑے علما میں یہ بات مشہور تھی یہ کہہ دینا کافی ہوتا ”قال علامہ گولڑی“ سند سمجھا جاتا تھا، قادیانیت کے مقابلے میں صرف آپ کی ذاتِ گرامی تھی آپ کو ہندوستان کے تمام مکاتبِ فکر کے قائدین نے قائد تسلیم کیا تھا۔ | |||
آپ چودھویں صدی کے مجدد کے حثییت سے بسم اللہ کے ہم عدد تھے آپ کے علوم و فنون کی مہارت کمال درجے کی تھی حاجی امداد اللہ مہاجر، جناب مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مولانا احمد سہارن، مولانا احمد حسن کانپوری، [[اشرف علی تھانوی|مولانا اشرف علی تھانوی]]، فاضل اجل مولانا فضل حق رام پوری، مولانا عبداللہ ٹونکی، علامہ انور شاہ کاشمیری اور مولانا نذیر ابیٹھوی فرماتے تھے تمام علوم و فنون پیر مہر علی شاہ کی خدمت میں دست بستہ حاضر کھڑے ہیں، | |||
تصرف کے منتظر معلوم ہوتے ہیں انہی درجے کے 80 علمائے کرام نے حضرت کو مرزائے قادیانی سے مناظرے کے لئے اپنا قائد چنا آپ نے 20 سال کی عمر میں قرآن پاک کا حفظ کیا صرف و نحو، [[فقہ]] اصول منطق، علمِ حدیث، علم تفسیر مکمل اسلامی تمام قواعد و ضوابط و درجات اصولِ فروع کی تمام تعلیمات مکمل فرمائیں اسی طرح آپ کے والد ماجد قبلہ پیر نذر حسین عرف اجی سرکار نے کمالات حاصل کے۔ | |||
== تعلیمی خدمات == | |||
زہدو تقویٰ آپ کا شعار تھا : آپ سید ہیں دورانِ تعلیم طلبا اساتذہ اور لوگ آپ کی کم عمری کے تقویٰ کو دیکھ کر عقیدت مند ہوگئے تھے، عشقِ الٰہی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، آپ نے فنا فی اللہ و فنا فی الرسول اور وحدۃالوجود وحدۃ الشہود کے وہ دقیق مسائل حل فرمائے کہ جن سے بڑے بڑے علمائے کرام حیران تھے، آپ کو جو سخا ورثہ میں ملی ہوئی تھی جن کی گواہی آج بھی آستانۂ عالیہ دے رہا۔ | |||
آپ کے شاگردوں میں مولانا عبدالغفور ہزاروی، شیخ القرآن پیر محمد عبداللہ شاہ غازی پور جلال پور پیر والے اور حضرت پیر امام شاہ لودھراں والے اور دیگر معتبر لوگ آپ کے علمی بحرِ بیکنار کے پروردہ تھے، ایک دفعہ آپ سر گودھا میں جلوہ افروز تھے اور مسئلہ سماع موتی پر بحث چھڑ گئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر بلانے والے کو سلیقہ ہو تو اہلِ برزخ تھی جواب دیتے اور سنتے ہیں۔ | |||
علوم کی علاقائی تحصیل کے بعد آپ مزید تعلیم کے لئے وسطی ہند چکے گئے جہاں لکھنؤ علی گڑھ، فرنگی محل اور دیگر مقامات پر مشہور اسلامی تعلیمی درس گاہیں تھیں، مولانالطف اللہ علی گڑھی ان علما میں ایک ممتاز مقام پر فائز تھے، | |||
== سلسلہ طریقت چشتیہ == | |||
ان سے سندِ فراغت حاصل کی اور دورانِ تعلیم ہی چند ایسے پیچیدہ مسائل کے حل پیش فرمائے کہ علما میں آپ کے علم کی دھوم مچ گئی، آپ عمر کے پچیسویں سال میں وہاں سے واپس لوٹے اور سیال شریف میں حضرت شاہ شمس العارفین قدس اللہ سرہٗ العزیز کے دستِ حق پرست پر داخل سلسلہ طریقت [[چشتیه|چشتیہ]] ہوئے۔ | |||
اس شاہباز طریقت نے بہت جل آپ کو طریقت کے میدان کا شہسوار بنا دیا اور اپنی موجودگی میں سیال شریف ہی میں سلسلہ رشدوہدایت میں آپ کی تکمیل کر کے آپ کو مسندِ ارشاد پر فائز فرما دیا، | |||
جناب شمس العارفین مریدین کی تربیت میں انتہائی جانفشانی سے کام لیا کرتے قبلہ عام کی تربیت بھی آپ نے اسی طور پر فرمائی، گو آپ کے ہاں توبہ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے مجھے ان کے نام یاد نہیں | |||
البتہ ان سب کی شکلوں میں سے انہیں پہچانتا ہوں، جب ان کے لئے دعا کرتا ہوں تو ایک ایک چہرہ میرے سامنے ہوتا ہے، شفقت کا یہ عالم تھا کہ ہر مرید یہ سمجھتا کہ جتنی نظرِ کرم مجھ پر ہے وہ انفرادی ہے۔ | |||
روایت ہے کہ ایک مرتبہ سر گودھا کا ایک بڑا زمیندار آپ کے ہاتھ پر توبہ کر کے داخل سلسلہ ہوا اور اس نے اس زمانے میں کہ روپیے پیسے کی قد تھی پانچ صد روپیے نذر پیش کی، آپ کی عمومی عادت یہ تھی یہ جو کوئی نذر نیاز پیش کرتا، لانگری اسے اٹھا کر لے جاتا اور لنگر خانے میں جمع کردی جاتی، | |||
خلافِ معمول یہ رقم آپ نے اپنے پاس رکھی چند دن بعد وہ شخص انتہائی مایوسی کے عالم میں آیا اور عرض کی کہ آپ میری مریدی مجھے واپس کردیں کہ مرید ہونے کے بعد میری چوری ہوگئی، کئی ایک نقصان ہوئے اور میری عزت خاک میں مل گئی، آپ اٹھے، گھر سے اسے ایک ہزار روپیہ لاکر دیا کہ مسلمان بھائی مشکل میں ہوتو اس کی معاونت کرنی چاہئے لیکن۔ | |||
ساتھ ہی یہ فرمایا کہ میں تمہارا ہاتھ اپنے پیران عظام کے توسط سے نبی پاک صاحب لولاک کی بارگاہ میں پیش کرچکا ہوں، وہاں سے واپسی کی درخواست کی تاب مجھ میں نہیں۔ یہ ایک ابتلا تھا جو چند دن بعد رفع ہوگیا اور وہ علاقے میں پہلے کی طرح صاحبِ عزت ہوا۔ | |||
== سادہ زیستی == | |||
خوراک : عشا کی [[نماز]] کے بعد روزانہ ایک دو لقمے تناول فرماتے اور وضو فرما کر بظاہر سو جاتے مگر در اصل جاگتے رہتے تھے چنانچہ ساری زندگی عشا کے اس وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی، باوجود کم خوری اور کم خوابی کے جسمانی قوت اس قدر تھی کہ ایک بار رستم پہلوان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کشتی لڑنے جا رہا ہوں میری طاقت کا اندازہ ہوجائے۔ | |||
اس نے آپ کا پاؤں دابنا شروع کیا کچھ دیر بعد اپنے پسینے میں شرابور تھا آپ نے فرمایا شاید تم بہت زور لگارہے ہو مگر مجھے محسوس تک نہیں ہوا، آپ نے اس کی کامیابی کی دعا فرمائی، قلب خوراک کے باوجود اتنی طاقت عطائے خداوندی تھی کہ آخری عمر میں آپ کی خوراک صرف دو چھٹانک فی ہفتہ کی تھی آپ کو گھوڑے کی سواری پسند تھی، شریر سے شریر گھوڑے آپ کے سامنے رام ہوجاتے۔ | |||
== آپ کا حسنِ اخلاق == | |||
آپ کا حسنِ اخلاق : آپ کا حسنِ اخلاق اس قدر تھا کہ جو شخص آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتا وہ کئی سالوں تک صرف طبعی نہیں بلکہ روحانی سرور کی کیفیت محسوس کرتا آپ کا لہجہ نہایت نرم اور دلگیر تھا۔ | |||
== لاہور میں قیام == | |||
مہر علی شاہ 24 اگست تا 29 اگست 1900 لاہور شہر میں قیام فرمایا اور اس موقع پر آپ نے ایک بات فرمائی تھی جس کا چرچا بزم در بزم مدت تک رہا، آپ نے فرمایا ”جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ایسے خادمِ دین موجود ہیں کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود کاغذ پر تفسیر لکھ دے“ | |||
ظاہر ہے ان کا شارہ اپنی جانب تھا، اسی قیام کے دوران مرزائیوں کے ایک وفد نے پیر صاحب سے کہا ”ایک نابینا اور اپاہچ کے لئے مرزا صاحب دعا کریں، اسی طرح ایک اور نابینا اپاہچ کے لئے پیر صاحب دعا کریں جس کی دعا قبول ہوگی وہ سچا سمجھائے گا“ پیر صاحب نے جواباً فرمایا” | |||
مرزا صاحب سے کہیں کہ وہ آئیں، اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو وہ بھی قبول ہے “چنانچہ بعد میں آپ نے فرمایا کہ ”[[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم|نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم]] کے جمالِ باکمال سے میرا دل ایسا قوی اور مضبوبط ہوگیا تھا کہ اگر اس سے بڑا دعویٰ بھی کرتا تو اللہ تعالیٰ مجھے ضرور سچا ثابت کرتے“ | |||
== صوبہ سرحد کے مایہ ناز سپوت صاحبزادہ خان عبدالقیوم خان کی حاضری == | |||
سرحد کے مایہ ناز سپوت صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب کی ارادت پر ہمیشہ نازاں رہے، اسلامیہ کالج پشاور کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یہ علم کی نگہداشت کا ہی بندوبست ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا۔ | |||
صاحبزادہ صاحب ربِ کریم نے ہمیں علم کا محافظ بنایا ہے | |||
اور ہم بفضلِ ایزاد وتعالیٰ اس فریضے کو با احسن سرانجام دے رہےہیں مگر یہ کالج وغیرہ علم کی بجائے کسب کی درسگاہیں ہیں۔ آپ خود ہی اس کا سنگ بنیاد رکھ لیں، انگریز مختلف حربوں سے مسلم زعما کو اپنے دام میں لانے کی کوششوں میں تھا اس کے نمائندے گولڑہ شریف بھی آئے، | |||
اور درس کے لئے جاگیر کی پیشکش کی مگر آپ نے اس پیشکش کو شیطانی چال قرار دیتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ فقیر کا فقر اختیاری ہے اور اسی میں ہمارافخر ہے دوسرا حربہ یہ استعمال کیا گیا کہ جرائم پیشہ لوگ اس دربار میں آکر پناہ لیتے ہیں گویا یہ جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ ہے، | |||
اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم جرائم پیشہ لوگوں کو توبہ کی راہ دکھاتے اور راہِ مستقیم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں اور یہ عمل اس طرح سے مستحسن ہے، یہ جگہ جرائم پیشہ لوگوں کو بھی راہِ ہدایت پر چلنے اور درِ توبہ سے مایوس نہ ہونے کا درس دیتی ہے۔ | |||
== مراز غلام احمد سید مہری علی شاہ کے نام مکتوب == | |||
مرزا غلام احمد نے آپ کے نام ایک دعوت نامہ بھیجا اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ احیائے دین اور عروج اسلام کے لئے مجھے مامور کیا گیا ہے، پیر مہر علی شاہ نے مرزا غلام احمد کے ان دعؤوں کی تردید کی اور کہا کہ اپنی توجہ مناظرات اور تبلیغِ اسلام پر مرکوز رکھو | |||
لیکن مرزا نے اصرار جاری رکھا، 1900 عیسوی میں مرزا نے پیر صاحب کو عربی زبان میں تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج دیا، پیر صاحب نے بذریعہ اشہتار مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ چیلنج قبول کیا اور لاہور جلسہ گاہ قرار پایا، پیر صاحب نے مرزا غلام احمد سے یہ بھی کہا کہ بذریعہ تقریر حاضرینِ جلسہ کو اپنے دعویِٰ رسالت، مہدویت اور مسیحیت کا قائل کریں، مرزا نے تقریری مباحثہ کی شرط قبول نہ کی۔ | |||
== شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا سید مہر علی شاہ کے نام مکتوب == | |||
وصال سے چند سال پہلے آپ پر استغراق کی حالت طاری رہنے لگی انہی دنوں آپ کو حضرت علامہ اقبال کا ایک مکتوب موصول ہوا جس میں انہوں نے حضرت شیخِ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم ”حقیقت زماں“ کے بارے میں آپ کی رہنمائی چاہی پیر صاحب نے اس خط کو بڑے غور سے سنا۔ | |||
اور فرمایا کہ میری طبیعت میں افاقہ ہوا تو میں اس خط کا جواب ضرور لکھوں گا جب آپ کی علالت طویل ہو گئی تو ملک سلطان محمود ٹوانہ نے جو مراسلات پر مامور تھے علامہ اقبال کو لکھ بھیجا کہ آپ اپنے ہی مشہور قول کے مصداق اس مکتب میں دیر سے پہنچے ہیں۔ | |||
علامہ اقبال نے 18 اگست 1932 کو اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ ہندوستان بھر میں اس وقت کوئی اور ایسا دروازہ نہیں ہے جسے پیشِ نظر مقصد کے لئے کھٹکھٹایا جائے جب کہ ہمیں آج بھی یہ دیکھ کر اور سن کر کچھ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے کہ ہم شرم سے شرابور ہور رہے ہیں اس دور کو آج پھر کسی غوث کی ضرورت ہے یہ کسی قطب کا محتاج ہے اور پھر کسی مجدد کو آواز دے رہا ہے پیر مہر علی شاہ اب ہر دور میں ہر مرض کی دوا ہے۔ | |||
== علامہ اقبال مہر علی شاہ کے بڑے عقیدت مند تھے == | |||
علامہ اقبال پیر مہر علی شاہ کے بڑے عقیدت مند تھے اٹھارہ اگست 1932 کو آپ نے پیر صاحب کے حضور ایک عریضہ ارسال فرمایا کہ اس وقت ہندوستان بھر میں کوئی دروازہ نہیں جو پیش نظر مقصد کے لئے کھٹکھٹایا جائے آج ہمیں کچھ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے | |||
کہ ہم شرم سے شرابور ہو رہے ہیں اس دور کو آج پھر کسی غوث کی ضروت ہے کسی قطب کا محتاج اور یہ پھر کسی مجدد کو آواز دے رہا ہے اور کسی مہر منیر کو ڈھونڈنے کا انتظار کر رہا ہے حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے جو گیارہ مئی 1937 کو وصال فرما گئے تھے ان دنوں طویل علالت میں مبتلا تھے، علامہ اقبال کو جواب لکھوایا آپ اپنے ہی مشہور قول کے مصداق اس مکتب میں دیر سے پہنچے۔ | |||
== مہر علی شاہ کو شعر و شاعری سے دلچسپی == | |||
خواجہ صاحب کو اگرچہ شعر و شاعری سے کوئی خاص لچسپی نہیں تھی پھر بھی آپ خوب شعر کہا کرتے تھے فارسی اور پنجابی میں آپ کی کافیاں اور دیگر کلام بہت مقبول اور شائع بھی ہوا آپ کی ایک نعت لاکھوں دلوں میں گھر کر چکی ہے جس کے دو ابتدائی اشعار یوں ہیں۔ | |||
آج سک متراں دی و دھیری اے | |||
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے | |||
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے | |||
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں | |||
آپ سادہ لباس زیب تن کرتے اور زیادہ وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہتے اللہ والوں کے راز اللہ والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ | |||
”سک متراں دی۔۔۔“ | |||
امام بو صیری کے قصیدہ بردہ شریف اور اقبال کے نعتیہ قصیدہ ”ذوق و شوق“ سے پیر مہر علی شاہ کی مشہور پنجابی نعت سامنے آتی ہے، یہ نعت مختصر ہے مگر اثر آفرینی کے اعتبار سے اس کا پایہ بہت بلند ہے، | |||
پیر مہر علی شاہ کی نعت میں چار چار مصرعوں کے صرف سات بند ہیں مگر ہر بند اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتا ہے ”آپ نے پہلے بند کا آغاز جنابِ رسولِ پاک کی محبت کے اظہار سے کیا ہے جو عربی قصیدوں کے عام اندازِ تشیب سے مختلف ہے۔ | |||
اج سک متراں دی ودھیری اے | |||
کیوں دلڑی اداس گھٹیری اے | |||
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے | |||
آج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں | |||
ترجمہ : آج محبوب کی یاد کی کسک کچھ زیادہ ہی محسوس ہورہی ہے، معلوم نہیں دل پر کیوں گہری اداسی چھا رہی ہے (دلڑی دل کے لئے ہے جسے فارسی میں دلک) روئیں روئیں سے شوق کی چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں، آنسو ہیں کہ برسات کی گھٹاکی طرح برس رہے ہیں، دوسرے بند حضور کی مدح کا آغاز ہوتا ہے پہلے آنجناب کے حسن صورت کا بیان ہے<ref>[https://sufinama.org/articles/khalid-parvez-malik-articles-8?lang=ur حضرت پیر مہر علی شاہ خالد پرویز ملک]-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 ستمبر 2026ء</ref>۔ | |||
== زیارتِ حرمین طیبین == | == زیارتِ حرمین طیبین == | ||
1890 /1307ءمیں حضر ت پیر سید مہر علی شاہ گولڑ وی رحمتہ اللہ علیہ زیا رت حر مین طیبین کیلئے حا ضر ہو ئے تو جب مکہ مکرمہ میں عارفِ ربانی حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت ”مثنو ی رو م “ کا در س دے رہے تھے، | 1890 /1307ءمیں حضر ت پیر سید مہر علی شاہ گولڑ وی رحمتہ اللہ علیہ زیا رت حر مین طیبین کیلئے حا ضر ہو ئے تو جب مکہ مکرمہ میں عارفِ ربانی حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت ”مثنو ی رو م “ کا در س دے رہے تھے، | ||
| سطر 57: | سطر 192: | ||
== تصانیف == | == تصانیف == | ||
* تحقیق الحق فی کلمۃ الحق (1315 ہجری مطابق 1897 عیسوی) | |||
* | * شمس الہدایہ فی اثبات حیات المسیح (1317 ہجری مطابق 1900 عیسوی) | ||
* شمس الہدایہ | * سیف چشتیائی (1319 ہجری مطابق 1902 عیسوی) | ||
* | * اعلاکلمۃ اللہ فی بیان ما اھل بہ لغیر اللہ (1332 ہجری مطابق 1905-1904 عیسوی) | ||
* | * الفتوحات المصدیہ (1325 ہجری مطابق 1908-1907 عیسوی) | ||
* الفتوحات | * تصفیہ مابین سنی و شیعہ | ||
* | * فتاویٰ مہریہ | ||
* ہدیۃ الرسول | |||
* فتاوی مہریہ | * فتاوی مہریہ | ||
* مراۃ العرفان | * مراۃ العرفان | ||
* مکتوبات طیبات | * مکتوبات طیبات | ||
* ملفوظات مہر علی شاہ | * ملفوظات مہر علی شاہ | ||
== حوالہ جات == | |||
{{حوالہ جات}} | |||
[[زمرہ:شخصیات]] | |||
حالیہ نسخہ بمطابق 23:03، 10 ستمبر 2026ء
| پیر مهر علی شاه | |
|---|---|
| دوسرے نام | سید محمد ہادی کاظمی |
| ذاتی معلومات | |
| پیدائش | 1859ء |
| یوم پیدائش | 14 اپریل |
| پیدائش کی جگہ | گولڑہ شریف |
| وفات | 1937ء |
| یوم وفات | 11 مئی |
| مذہب | اسلام، سنی |
پیر سید مہر علی شاہ ، (پیدائش: 4 اپریل 1859ء– وفات: 11 مئی 1937ء) سلسلہ عالیہ چشت کے ایک عظیم روحانی بزرگ تھے۔
پیدائش
پیر سید مہر علی شا ہ چشتی گولڑوی رمضان المبارک 1275ھ بہ مطابق4 اپریل 1859ءبہ ر و ز سو مو ا ر اس گلشن ہستی میں رو نق افر و ز ہو ئے۔ آ پ کے و ا لد محتر م کا نا م سید نذر دین شا ہ ابن سید غلا م شا ہ ابن سید رو شن دین شا ہ ہے جبکہ آپ کی وا لدہ محتر مہ کا نا م حضر ت معصو مہ مو صو فہ بنت پیر سید بہا در شا ہ ہے ۔
آپ کا سلسلہ نسب 25وا سطو ں سے حضرت سید نا شیخ عبدا لقا در جیلا نی المعر و ف غو ث الاعظم رحمتہ اللہ علیہ سے اور 36 وا سطو ں سے حضر ت سیدنا اما م حسن رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے۔
ابتدائی تعلیم اورقوتِ حافظہ
حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب نے صرف چار سال کی عمر میں پڑھنا شروع کر دیا اور ناظرہ قرآن مجید پڑھنے کیلئے آپ کو خا نقا ہ کی درس گاہ میں اور اردو ، فا رسی وغیر ہ کی تعلیم کے لئے مدر سہ میں دا خل کر دیا گیا، قوت حا فظہ کا یہ عالم تھا کہ قرآن مجید کا سبق رو زا نہ آپ حفظ کر کے سُنا دیا کر تے تھے ۔ جب قرآن حکیم نا ظر ہ ختم کیا ،تو اس وقت آپ کو پو را قرآ ن کر یم حفظ بھی ہوچکا تھا۔
عر بی ، فا رسی اور صر ف ونحو کی تعلیم کے لئے مو لا نا محی الدین کے سامنے ذا نو ئے تلمذ تہہ کئے، آپنے ”کافیہ “ تک اپنے اُستا ذ سے تعلیم حا صل کی اور اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے حسن ابدا ل کے نو اح میں مو ضع ” بھو ئی “ کے مو لا نا محمد شفیع قریشی صا حب کے درس گا ہ میں دا خل ہو ئے اور دو ، اڑھا ئی سال میں رسا ئل ِمنطق میں سے قطبی تک اور نحو اور اصول کے در میا نی اسبا ق تک تعلیم حا صل کی۔
سلسلہ نسب
مہر علی شاہ کا سلسلہ نسب : آپ کا سلسلہ نسب 24 ویں پشت میں شیخ سید عبدالقادر جیلانی سے جا ملتا ہے، آپ ایک بلند پایہ عالم تھے اور اسلام کے علاوہ کئی دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی بہت سی واقفیت رکھتے تھے، آپ اپنے دور کے بہت بڑے شیخ طریقت ہونے کے ساتھ ساتھ شریعت کے بے بدل عالم بھی تھے،
آپ نے صرف احیائے تصوف کے لئے کام کیا بلکہ شروع میں مبین کی پابندی اور سنتِ رسول کی پیروی کی بھی خاص طورپر تلقین کرتے رہے، آپ کو حضور نبی کریم سے بے پناہ عشق اور محبت تھی۔ فرمایا کرتے کہ انسان اگر اپنے وجود کو حضورِ مقبول (جو رحمۃ العالمین بھی ہیں) کی محبت میں گم گر دے
تو کائناتِ الٰہی میں وہ کسی وقت بھی اور کسی پہلو بھی بے چینی سے دور چار نہیں ہوگا اور نصرت و فتح اور کامیابی کے دروازے اس پر کھلے رہیں گے، بقول علامہ اقبال
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
عقیدت مندوں کا جمِ غفیر
راولپنڈی کے قریب آستانۂ عالیہ جو کہ اسلام آباد شہر کا ایک حصہ ہے اور اؤلیائے کاملین علما زبانیں کا جائے قرار و مریدین کی جائے پناہ ہے جس میں صبح و شام ہزاروں کی تعداد میں مسافروں امیر و غریب کی مہمان نوازی کی جاتی ہے بالخصوص آپ کے عرس کے موقع پر 28 صفر سے لوگوں کا ایک جمِ غفیر عقیدمندوں کا ایک سیلاب دستِ طلب دراز ہوتا ہے
اور آپ کے فیوض وبرکات سے مسروعر ہوکر لوٹتے ہیں آپ کی الاد یگانہ حضرت غلام محی الدین عرف حضرت بابو جی تھے اور بابو جی صاحب کے دو فرزند ارجمند حضرت قبلہ سید پیر غلام معین الدین سید ہونے کے ساتھ تمام علومِ ظاہری وباطنی سے آراستہ ہے،
آپ مختلف اوقات میں بیٹھا کرتے زائرین کی طرف سے نذرانۂ ہدایہ کا سلسلہ بارش کی طرح جاری رہتا لیکن جب آپ اٹھ کر تشریف لے جاتے تو ادھر آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے اور غلام سے فرماتے تھے کہ اس لیے ہدیہ نذرانہ کوا ٹھا کر لانگری کو دے دو چنانچہ اسی طرح سفر میں بھی جو کچھ جمع ہوتا آپ اسے لنگر خانے میں خرچ کرنے کے لئے بھیج دیتے تھے کیونکہ آپ ایک خاندانی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں جوکہ سلطنتِ مغلیہ سے پہلے اس خطہ کے نواب تھے۔
شرف بیعت
بھو ئی کے در س سے فا رغ ہو کر مزید تعلیم کے لئے آپ نے مو ضع ’انگہ ‘ (علاقہ سو ن ضلع شا ہ پو ر ) کا سفر اختیا ر کیا اور وہا ں پر مو لا نا حا فظ سلطا ن محمو د کے سا منے زا نو ئے تلمذتہہ کئے۔
’انگہ“ میں قیا م کے دو را ن اپنے استا ذ محتر م کے ہمرا ہ ”سیال شریف‘ ضلع سر گودھا ، اُن کے پیرو مرشد خو اجہ شمس الدین سیالوی چشتی کی زیا ر ت کے لئے جا یا کر تے تھے اور حضر ت خو ا جہ سیا لو ی رحمتہ اللہ علیہ آپ پر خصو صی شفقت و محبت فر ما تے تھے۔
چنانچہ اسی شفقت و محبت کی بہ دو لت حضرت پیر سید مہر علی شاہ صاحب سلسلہ چشتیہ نظا میہ سلیما نیہ میں حضر ت خو اجہ شمس الدین سیا لو ی سلیما نی رحمتہ اللہ علیہ کے دست حق پر ست پردولت بیعت سے فیض یاب ہو ئے۔
استعمار سے مقابلہ
جب ہندوستان اپنی آزادی کے خونی دور سے گزر رہا تھا مکمل طور پر انگریزوں کے پنجۂ استبداد میں تھا سلطنتِ مغلیہ ہمیشہ کے لئے دم توڑ چکی تھی اور دین اسلام کے روشن چراغ ترک وطن کر چکے یا قید و بند کی صعوبتوں میں ایام گزار رہے تھے مسلمان تباہی و بربادی کے تاریک دور سے گزر رہےتھے،
غیر مسلم مغربی مادہ پرست قوم کے علم و اقتدار نظریات کا عفریت مسلمانانِ ہند پر سوار ہو رہا تھا، روحانیت کو گونا گوں مشکلات کا سامنا تھا، اسلامی اقدار یکسر مٹتی نظر آرہی تھیں، اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے۔
سید پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو اس خطہ میں ولی بنا کر بھیجا گیا آپ یکم رمضان المبارک بمطابق 1275 ہجری 1875 عیسوی بروز پیر کو پیدا ہوئے ایسی پاک ہستی کو اللہ تعالیٰ نے وجود میں لانا پسند فرمایا جن کی علمی و روحانی قوت سے مسلمانوں میں حیاتِ نو کے آثار پیدا ہوئے جو بالآخر برصغیر میں مسلمانوں کی ایک ایسی آزاد حکومت منصۂ شہود آنے کے باعث بنے، پیر مہر علی شاہ عظیم شخصیت میں سے تھے۔
آپ نے علم عرفان تصنیف و تالیف احیائے شریعت الحاد کے خاتمے کے لئے جہد و جہد کی آپ علومِ ظاہر و باطن شرعیت و روحانیت کے اس مقام پر پہنچے ہیں کہ جن کے فیض کو بر صغیر کے چوٹی کے علما اور بزرگانِ دین نے تسلیم کیا جو اظہر من الشمس الدین سیالوی سے خلافت ملی آپ کو ظاہری و باطنی خلافت عطا ہوئی
پیر فضل دین فیض یاب ہوئے آپ کی علمی شہرت کا یہ حال تھا کہ بڑے بڑے علما میں یہ بات مشہور تھی یہ کہہ دینا کافی ہوتا ”قال علامہ گولڑی“ سند سمجھا جاتا تھا، قادیانیت کے مقابلے میں صرف آپ کی ذاتِ گرامی تھی آپ کو ہندوستان کے تمام مکاتبِ فکر کے قائدین نے قائد تسلیم کیا تھا۔
آپ چودھویں صدی کے مجدد کے حثییت سے بسم اللہ کے ہم عدد تھے آپ کے علوم و فنون کی مہارت کمال درجے کی تھی حاجی امداد اللہ مہاجر، جناب مولانا لطف اللہ علی گڑھی، مولانا احمد سہارن، مولانا احمد حسن کانپوری، مولانا اشرف علی تھانوی، فاضل اجل مولانا فضل حق رام پوری، مولانا عبداللہ ٹونکی، علامہ انور شاہ کاشمیری اور مولانا نذیر ابیٹھوی فرماتے تھے تمام علوم و فنون پیر مہر علی شاہ کی خدمت میں دست بستہ حاضر کھڑے ہیں،
تصرف کے منتظر معلوم ہوتے ہیں انہی درجے کے 80 علمائے کرام نے حضرت کو مرزائے قادیانی سے مناظرے کے لئے اپنا قائد چنا آپ نے 20 سال کی عمر میں قرآن پاک کا حفظ کیا صرف و نحو، فقہ اصول منطق، علمِ حدیث، علم تفسیر مکمل اسلامی تمام قواعد و ضوابط و درجات اصولِ فروع کی تمام تعلیمات مکمل فرمائیں اسی طرح آپ کے والد ماجد قبلہ پیر نذر حسین عرف اجی سرکار نے کمالات حاصل کے۔
تعلیمی خدمات
زہدو تقویٰ آپ کا شعار تھا : آپ سید ہیں دورانِ تعلیم طلبا اساتذہ اور لوگ آپ کی کم عمری کے تقویٰ کو دیکھ کر عقیدت مند ہوگئے تھے، عشقِ الٰہی کے اعلیٰ مقام پر فائز تھے، آپ نے فنا فی اللہ و فنا فی الرسول اور وحدۃالوجود وحدۃ الشہود کے وہ دقیق مسائل حل فرمائے کہ جن سے بڑے بڑے علمائے کرام حیران تھے، آپ کو جو سخا ورثہ میں ملی ہوئی تھی جن کی گواہی آج بھی آستانۂ عالیہ دے رہا۔
آپ کے شاگردوں میں مولانا عبدالغفور ہزاروی، شیخ القرآن پیر محمد عبداللہ شاہ غازی پور جلال پور پیر والے اور حضرت پیر امام شاہ لودھراں والے اور دیگر معتبر لوگ آپ کے علمی بحرِ بیکنار کے پروردہ تھے، ایک دفعہ آپ سر گودھا میں جلوہ افروز تھے اور مسئلہ سماع موتی پر بحث چھڑ گئی تو آپ نے فرمایا کہ اگر بلانے والے کو سلیقہ ہو تو اہلِ برزخ تھی جواب دیتے اور سنتے ہیں۔
علوم کی علاقائی تحصیل کے بعد آپ مزید تعلیم کے لئے وسطی ہند چکے گئے جہاں لکھنؤ علی گڑھ، فرنگی محل اور دیگر مقامات پر مشہور اسلامی تعلیمی درس گاہیں تھیں، مولانالطف اللہ علی گڑھی ان علما میں ایک ممتاز مقام پر فائز تھے،
سلسلہ طریقت چشتیہ
ان سے سندِ فراغت حاصل کی اور دورانِ تعلیم ہی چند ایسے پیچیدہ مسائل کے حل پیش فرمائے کہ علما میں آپ کے علم کی دھوم مچ گئی، آپ عمر کے پچیسویں سال میں وہاں سے واپس لوٹے اور سیال شریف میں حضرت شاہ شمس العارفین قدس اللہ سرہٗ العزیز کے دستِ حق پرست پر داخل سلسلہ طریقت چشتیہ ہوئے۔
اس شاہباز طریقت نے بہت جل آپ کو طریقت کے میدان کا شہسوار بنا دیا اور اپنی موجودگی میں سیال شریف ہی میں سلسلہ رشدوہدایت میں آپ کی تکمیل کر کے آپ کو مسندِ ارشاد پر فائز فرما دیا،
جناب شمس العارفین مریدین کی تربیت میں انتہائی جانفشانی سے کام لیا کرتے قبلہ عام کی تربیت بھی آپ نے اسی طور پر فرمائی، گو آپ کے ہاں توبہ کرنے والوں کی تعداد لاکھوں سے متجاوز ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے مجھے ان کے نام یاد نہیں
البتہ ان سب کی شکلوں میں سے انہیں پہچانتا ہوں، جب ان کے لئے دعا کرتا ہوں تو ایک ایک چہرہ میرے سامنے ہوتا ہے، شفقت کا یہ عالم تھا کہ ہر مرید یہ سمجھتا کہ جتنی نظرِ کرم مجھ پر ہے وہ انفرادی ہے۔
روایت ہے کہ ایک مرتبہ سر گودھا کا ایک بڑا زمیندار آپ کے ہاتھ پر توبہ کر کے داخل سلسلہ ہوا اور اس نے اس زمانے میں کہ روپیے پیسے کی قد تھی پانچ صد روپیے نذر پیش کی، آپ کی عمومی عادت یہ تھی یہ جو کوئی نذر نیاز پیش کرتا، لانگری اسے اٹھا کر لے جاتا اور لنگر خانے میں جمع کردی جاتی،
خلافِ معمول یہ رقم آپ نے اپنے پاس رکھی چند دن بعد وہ شخص انتہائی مایوسی کے عالم میں آیا اور عرض کی کہ آپ میری مریدی مجھے واپس کردیں کہ مرید ہونے کے بعد میری چوری ہوگئی، کئی ایک نقصان ہوئے اور میری عزت خاک میں مل گئی، آپ اٹھے، گھر سے اسے ایک ہزار روپیہ لاکر دیا کہ مسلمان بھائی مشکل میں ہوتو اس کی معاونت کرنی چاہئے لیکن۔
ساتھ ہی یہ فرمایا کہ میں تمہارا ہاتھ اپنے پیران عظام کے توسط سے نبی پاک صاحب لولاک کی بارگاہ میں پیش کرچکا ہوں، وہاں سے واپسی کی درخواست کی تاب مجھ میں نہیں۔ یہ ایک ابتلا تھا جو چند دن بعد رفع ہوگیا اور وہ علاقے میں پہلے کی طرح صاحبِ عزت ہوا۔
سادہ زیستی
خوراک : عشا کی نماز کے بعد روزانہ ایک دو لقمے تناول فرماتے اور وضو فرما کر بظاہر سو جاتے مگر در اصل جاگتے رہتے تھے چنانچہ ساری زندگی عشا کے اس وضو سے فجر کی نماز ادا فرمائی، باوجود کم خوری اور کم خوابی کے جسمانی قوت اس قدر تھی کہ ایک بار رستم پہلوان آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کشتی لڑنے جا رہا ہوں میری طاقت کا اندازہ ہوجائے۔
اس نے آپ کا پاؤں دابنا شروع کیا کچھ دیر بعد اپنے پسینے میں شرابور تھا آپ نے فرمایا شاید تم بہت زور لگارہے ہو مگر مجھے محسوس تک نہیں ہوا، آپ نے اس کی کامیابی کی دعا فرمائی، قلب خوراک کے باوجود اتنی طاقت عطائے خداوندی تھی کہ آخری عمر میں آپ کی خوراک صرف دو چھٹانک فی ہفتہ کی تھی آپ کو گھوڑے کی سواری پسند تھی، شریر سے شریر گھوڑے آپ کے سامنے رام ہوجاتے۔
آپ کا حسنِ اخلاق
آپ کا حسنِ اخلاق : آپ کا حسنِ اخلاق اس قدر تھا کہ جو شخص آپ سے ہم کلامی کا شرف حاصل کرتا وہ کئی سالوں تک صرف طبعی نہیں بلکہ روحانی سرور کی کیفیت محسوس کرتا آپ کا لہجہ نہایت نرم اور دلگیر تھا۔
لاہور میں قیام
مہر علی شاہ 24 اگست تا 29 اگست 1900 لاہور شہر میں قیام فرمایا اور اس موقع پر آپ نے ایک بات فرمائی تھی جس کا چرچا بزم در بزم مدت تک رہا، آپ نے فرمایا ”جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ایسے خادمِ دین موجود ہیں کہ اگر قلم پر توجہ ڈالیں تو وہ خود بخود کاغذ پر تفسیر لکھ دے“
ظاہر ہے ان کا شارہ اپنی جانب تھا، اسی قیام کے دوران مرزائیوں کے ایک وفد نے پیر صاحب سے کہا ”ایک نابینا اور اپاہچ کے لئے مرزا صاحب دعا کریں، اسی طرح ایک اور نابینا اپاہچ کے لئے پیر صاحب دعا کریں جس کی دعا قبول ہوگی وہ سچا سمجھائے گا“ پیر صاحب نے جواباً فرمایا”
مرزا صاحب سے کہیں کہ وہ آئیں، اگر مردے بھی زندہ کرنے ہوں تو وہ بھی قبول ہے “چنانچہ بعد میں آپ نے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جمالِ باکمال سے میرا دل ایسا قوی اور مضبوبط ہوگیا تھا کہ اگر اس سے بڑا دعویٰ بھی کرتا تو اللہ تعالیٰ مجھے ضرور سچا ثابت کرتے“
صوبہ سرحد کے مایہ ناز سپوت صاحبزادہ خان عبدالقیوم خان کی حاضری
سرحد کے مایہ ناز سپوت صاحبزادہ عبدالقیوم صاحب کی ارادت پر ہمیشہ نازاں رہے، اسلامیہ کالج پشاور کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی یہ علم کی نگہداشت کا ہی بندوبست ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا۔
صاحبزادہ صاحب ربِ کریم نے ہمیں علم کا محافظ بنایا ہے اور ہم بفضلِ ایزاد وتعالیٰ اس فریضے کو با احسن سرانجام دے رہےہیں مگر یہ کالج وغیرہ علم کی بجائے کسب کی درسگاہیں ہیں۔ آپ خود ہی اس کا سنگ بنیاد رکھ لیں، انگریز مختلف حربوں سے مسلم زعما کو اپنے دام میں لانے کی کوششوں میں تھا اس کے نمائندے گولڑہ شریف بھی آئے،
اور درس کے لئے جاگیر کی پیشکش کی مگر آپ نے اس پیشکش کو شیطانی چال قرار دیتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ فقیر کا فقر اختیاری ہے اور اسی میں ہمارافخر ہے دوسرا حربہ یہ استعمال کیا گیا کہ جرائم پیشہ لوگ اس دربار میں آکر پناہ لیتے ہیں گویا یہ جرائم پیشہ لوگوں کی آماجگاہ ہے،
اس پر آپ نے فرمایا کہ ہم جرائم پیشہ لوگوں کو توبہ کی راہ دکھاتے اور راہِ مستقیم پر چلنے کی تلقین کرتے ہیں اور یہ عمل اس طرح سے مستحسن ہے، یہ جگہ جرائم پیشہ لوگوں کو بھی راہِ ہدایت پر چلنے اور درِ توبہ سے مایوس نہ ہونے کا درس دیتی ہے۔
مراز غلام احمد سید مہری علی شاہ کے نام مکتوب
مرزا غلام احمد نے آپ کے نام ایک دعوت نامہ بھیجا اور مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی کہا کہ احیائے دین اور عروج اسلام کے لئے مجھے مامور کیا گیا ہے، پیر مہر علی شاہ نے مرزا غلام احمد کے ان دعؤوں کی تردید کی اور کہا کہ اپنی توجہ مناظرات اور تبلیغِ اسلام پر مرکوز رکھو
لیکن مرزا نے اصرار جاری رکھا، 1900 عیسوی میں مرزا نے پیر صاحب کو عربی زبان میں تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج دیا، پیر صاحب نے بذریعہ اشہتار مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ چیلنج قبول کیا اور لاہور جلسہ گاہ قرار پایا، پیر صاحب نے مرزا غلام احمد سے یہ بھی کہا کہ بذریعہ تقریر حاضرینِ جلسہ کو اپنے دعویِٰ رسالت، مہدویت اور مسیحیت کا قائل کریں، مرزا نے تقریری مباحثہ کی شرط قبول نہ کی۔
شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا سید مہر علی شاہ کے نام مکتوب
وصال سے چند سال پہلے آپ پر استغراق کی حالت طاری رہنے لگی انہی دنوں آپ کو حضرت علامہ اقبال کا ایک مکتوب موصول ہوا جس میں انہوں نے حضرت شیخِ اکبر رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیم ”حقیقت زماں“ کے بارے میں آپ کی رہنمائی چاہی پیر صاحب نے اس خط کو بڑے غور سے سنا۔
اور فرمایا کہ میری طبیعت میں افاقہ ہوا تو میں اس خط کا جواب ضرور لکھوں گا جب آپ کی علالت طویل ہو گئی تو ملک سلطان محمود ٹوانہ نے جو مراسلات پر مامور تھے علامہ اقبال کو لکھ بھیجا کہ آپ اپنے ہی مشہور قول کے مصداق اس مکتب میں دیر سے پہنچے ہیں۔
علامہ اقبال نے 18 اگست 1932 کو اپنے ایک مکتوب میں لکھا کہ ہندوستان بھر میں اس وقت کوئی اور ایسا دروازہ نہیں ہے جسے پیشِ نظر مقصد کے لئے کھٹکھٹایا جائے جب کہ ہمیں آج بھی یہ دیکھ کر اور سن کر کچھ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے کہ ہم شرم سے شرابور ہور رہے ہیں اس دور کو آج پھر کسی غوث کی ضرورت ہے یہ کسی قطب کا محتاج ہے اور پھر کسی مجدد کو آواز دے رہا ہے پیر مہر علی شاہ اب ہر دور میں ہر مرض کی دوا ہے۔
علامہ اقبال مہر علی شاہ کے بڑے عقیدت مند تھے
علامہ اقبال پیر مہر علی شاہ کے بڑے عقیدت مند تھے اٹھارہ اگست 1932 کو آپ نے پیر صاحب کے حضور ایک عریضہ ارسال فرمایا کہ اس وقت ہندوستان بھر میں کوئی دروازہ نہیں جو پیش نظر مقصد کے لئے کھٹکھٹایا جائے آج ہمیں کچھ ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے
کہ ہم شرم سے شرابور ہو رہے ہیں اس دور کو آج پھر کسی غوث کی ضروت ہے کسی قطب کا محتاج اور یہ پھر کسی مجدد کو آواز دے رہا ہے اور کسی مہر منیر کو ڈھونڈنے کا انتظار کر رہا ہے حضرت پیر صاحب گولڑہ شریف نے جو گیارہ مئی 1937 کو وصال فرما گئے تھے ان دنوں طویل علالت میں مبتلا تھے، علامہ اقبال کو جواب لکھوایا آپ اپنے ہی مشہور قول کے مصداق اس مکتب میں دیر سے پہنچے۔
مہر علی شاہ کو شعر و شاعری سے دلچسپی
خواجہ صاحب کو اگرچہ شعر و شاعری سے کوئی خاص لچسپی نہیں تھی پھر بھی آپ خوب شعر کہا کرتے تھے فارسی اور پنجابی میں آپ کی کافیاں اور دیگر کلام بہت مقبول اور شائع بھی ہوا آپ کی ایک نعت لاکھوں دلوں میں گھر کر چکی ہے جس کے دو ابتدائی اشعار یوں ہیں۔
آج سک متراں دی و دھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھنیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
اج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں
آپ سادہ لباس زیب تن کرتے اور زیادہ وقت اللہ کی یاد میں مشغول رہتے اللہ والوں کے راز اللہ والے ہی سمجھ سکتے ہیں۔ ”سک متراں دی۔۔۔“
امام بو صیری کے قصیدہ بردہ شریف اور اقبال کے نعتیہ قصیدہ ”ذوق و شوق“ سے پیر مہر علی شاہ کی مشہور پنجابی نعت سامنے آتی ہے، یہ نعت مختصر ہے مگر اثر آفرینی کے اعتبار سے اس کا پایہ بہت بلند ہے،
پیر مہر علی شاہ کی نعت میں چار چار مصرعوں کے صرف سات بند ہیں مگر ہر بند اپنی جگہ مستقل حیثیت رکھتا ہے ”آپ نے پہلے بند کا آغاز جنابِ رسولِ پاک کی محبت کے اظہار سے کیا ہے جو عربی قصیدوں کے عام اندازِ تشیب سے مختلف ہے۔ اج سک متراں دی ودھیری اے
کیوں دلڑی اداس گھٹیری اے
لوں لوں وچ شوق چنگیری اے
آج نیناں لائیاں کیوں جھڑیاں ترجمہ : آج محبوب کی یاد کی کسک کچھ زیادہ ہی محسوس ہورہی ہے، معلوم نہیں دل پر کیوں گہری اداسی چھا رہی ہے (دلڑی دل کے لئے ہے جسے فارسی میں دلک) روئیں روئیں سے شوق کی چنگاریاں پھوٹ رہی ہیں، آنسو ہیں کہ برسات کی گھٹاکی طرح برس رہے ہیں، دوسرے بند حضور کی مدح کا آغاز ہوتا ہے پہلے آنجناب کے حسن صورت کا بیان ہے[1]۔
زیارتِ حرمین طیبین
1890 /1307ءمیں حضر ت پیر سید مہر علی شاہ گولڑ وی رحمتہ اللہ علیہ زیا رت حر مین طیبین کیلئے حا ضر ہو ئے تو جب مکہ مکرمہ میں عارفِ ربانی حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ اس وقت ”مثنو ی رو م “ کا در س دے رہے تھے،
ایک شخص مثنو ی کے ایک شعر کے با رے میں مزید اطمینا ن و تشفی حا صل کر نا چا ہتا تھا، چنا نچہ حا جی صا حب کی اجا زت سے آفتا ب علم و فضل حضر ت پیر مہر علی شا ہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ نے اس شعر کی ایسی عا رفا نہ اور فا ضلا نہ تو ضیح و تشریح بیا ن کی کہ حا جی صا حب و جد میں میں آگئے اور آپ کو ”سلسلہ چشتیہ صا بریہ“ میں اجازت وخلا فت عطا فرمائی ۔
فتنہ قادیانیت کی پیشین گوئی
پیر سید مہر علی شا ہ صا حب قد س سر ہ العزیز جب حر مین شریفین کی زیا ر ت سے مشر ف ہو ئے تو دل میں خیا ل آیا کہ دیا رِ حبیب میں ہی مستقل قیا م کیا جا ئے مگر حا جی امدا د اللہ مہا جر مکی رحمتہ اللہ علیہ نے وا پس ہندو ستا ن جا نے کامشو رہ دیا اور فر ما یا کہ ہند میں ایک بہت بڑا فتنہ رو نما ہو نے وا لا ہے اور اس فتنہ کا سدبا ب اور قلع قمع صر ف آپ کی ذا ت گرا می سے ہو گا۔
چنانچہ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی رحمتہ اللہ علیہ کی پیشین گوئی کے مطابق پیر مہر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی مسا عئی جمیلہ نے نے ”فتنہ قا دیا نیت “ کی مکرو ہ و مذمو م سا زشو ں پر پا نی پھیر دیا ، جو اس خطے میں انگریزوں کی سر پر ستی میں کی جا رہی تھیں ۔چنا نچہ 1899ءمیں آپ نے”شمس الہدیتہ“ لکھ کر ’ ’حیا ت مسیح علیہ السلام‘ ‘ پر قرآن و حدیث سے بھر پو ر دلا ئل و برا ہین پیش کئے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات کو زبردست طریقے سے ثابت فرمایا ، کیو نکہ مر زا غلا م احمد قا دیا نی ، حضر ت عیسٰی علیہ السلا م کے وفا ت پا نے اور اُن کی” کشمیر “ میں قبر کی مو جو دگی پر انتہا ئی بے ہو دہ ،بے سر و پا اور لغو د لیلیں دے رہا تھا۔
مرزا قادیانی کا چیلنج مناظرہ اور راہِ فرار
مر زا غلا م احمد قا دیا نی نے آفتاب شریعت وطریقت حضرت علامہ پیر سید مہر علی شاہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ کو منا ظرہ کا بھی چیلنج کر دیا ۔ چنا نچہ 25اگست 1900ءکو پیر مہر علی شاہ تو علما ءکر ام ، مشا ئخ عظا م اور اپنے احباب کے جم غفیر کے ہمر ا ہ ” شا ہی مسجد لا ہو ر “ میں منا ظرہ کیلئے تشریف لے آئے ، لیکن مکر و ہ فر یب اور دجل وکذب کے حا مل مر زا صا حب نے سا منے آنے کی جرات نہیں کی اور منا ظرہ اور حق و سچا ئی کا سا منا کر نے سے راہ فر ار اختیا ر کی ۔۔
1900ءمیں ہی مر زا غلا م احمد قا دیا نی نے ایک تفسیر ” اعجا ز المسیح“ کے نام سے عر بی زبان ‘ میں سور ة الفا تحہ “ کی تفسیر لکھی اور اُس کے متعلق یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ یہ تفسیر ” الہا می “ ہے ۔1902ء میں تا جدا ر علم و معرفت فا تح قا دیانیت حضر ت پیر سید مہر علی شاہ چشتی گو لڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے’ ’سیف چشتیا ئی “ کے نا م سے مرزا صا حب کی اس نام نہاد مز عو مہ الہا می تفسیر کا انتہائی لاجواب اور مسکت کا جو ا ب دیا اور مر زا صا حب کی ’ ’عر بی دا نی “ کی بھی قلعی کھو ل دی اور مختلف قدیم عربی کتب سے اُس میں نقل کر دہ عبا دا ت کی نشا ن دھی کر کے اُ س کے مذمو م و مز عو م مقا صد اور مکرو فریب کا قلع قمع کر دیا ۔
مجددیت کا درخشاں سورج
آفتا ب علم و معر فت ، مجد دین و ملت پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑوی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے دور پر فتن کی ضر و رت وا ہمیت کے پیش نظر اور ملک و ملت کے عظیم ترمفا د و را ہنما ئی کی خا طر نہا یت اہم اور بلند پا یہ کتب بھی تصنیف فر ما ئی تھیں، جن میں الفتو حا ت الصمدیہ ، سیف چشتیا ئی ، شمس الہدا یتہ فی اثبا ت حیا ت المسیح، تحقیق الحق فی کلمة الحق ، اعلا ءِکلمةالہٰ فی بیا ن ما اُھل بہ لغیر اللہ، تصفیہ ما بین سنی و شیعہ اور فتا ویٰ مہریہ وغیر ہ نما یا ں ہیں۔
چنانچہ آپ کی ان ہی خدما ت عظیمہ پر اور ملک و ملت کے عظیم تر مفا د اور راہبری و را ہنما ئی کرنے اور ان تصا نیف جلیلہ کی بناء پر آپ کو چو دھویں صدی کا ” مجد د “ کہا جا تا ہے ۔
”مہر منیر “ کے مصنف کے مطا بق حر و ف ابجد کی رو سے ”سیدنا مہر علی شا ہ “کے اعدا د ”۶۸۷“نکلتے ہیں، جو ” بسم اﷲ الر حمن الرحیم “ کے اعدا د بھی ہے ۔ نیز آنجنا ب کے متذکر ہ اسم گر امی سے اگر بہ طریق ِعلم ِجفر ، حر و ف ”ی اور الف اور ہ “ کو جو مکر ر آتے ہیں ، حذف کر دیا جا ئے تو ۰۷۷(سا ت سو سترّ ) اعدا د رہ جا تے ہیں، جو ”مجدو د قر ن را بع عشر “ (چو دھو یںصدی کا مجدّد ) کے حر و ف مکر رہ یعنی ”د ، ر ، ع “حذف کر نے کے بعد کے حر و ف کے اعدا د ہیں“ [2]۔
تبلیغ واشاعت اسلام
اقلیم ولا یت کے نیر اعظم پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑ وی کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک لحظہ قرآن و سنت کی پیر وی میں گزر ا۔ آپ نے تما م عمر شریعت و طریقت کی پا س دا ر ی اور ملک و ملت کی بے مثا ل خدما ت انجا م دینے میں بسر کی ۔
ابتدا ئی عمر سے لے کر آخر ی و قت تک آپ کی زندگی سے منسو ب کئی ایسے نا در و عجیب وا قعا ت اور کر اما ت کا ظہور ہو ا کہ انسا نی عقلیں دنگ رہ جا تی ہے ۔تعلیم و تدریس کے دو را ن آپ کے معا ملا ت اور وا قعا ت سے معلو م ہو تا ہے کہ اللہ تعا لیٰ کا آپ پر خصو صی فضل وکر م اور آقا ئے دو جہا ں اما م الانبیا ءحضو ر سیدِ عالم ﷺ کی خا ص نظر کر م ہے ۔
مجدد دین و ملت حضر ت پیر سید مہر علی شا ہ صا حب چشتی گو لڑ وی قدس سر ہ العز یز نے تبلیغ اسلا م ، احیا ئے سنت وا حیا ئے ملت ، احقا قِ حق اور اذہا ق با طل اور تزکیہ نفس کا عظیم فر یضہ جس مو ثر اور دلآویز اندا ز میں سر انجا م دیا ، وہ تا ریخ اسلا م میں سنہر ی حر و ف سے لکھا جا ئے گا ،
چودھویں صدی ہجری میں آپ اپنی دینی و ملی، ملکی اور مسلکی خدما ت کی بہ دو لت ایک ممتاز اور منفرد مقا م ر کھتے ہیں۔ اشا عتِ دین،اصلا حِ خلق ، احیا ئِ سنت وازالہ بدعت ، اعلاء کلمتہ الحق ، دین حق کی سر بلندی اور کفر کی سر کو بی اور اسلا می اقدار کا فر وغ اوربا طل و مفسد تحریکوں کے قلع قمع کے لئے آپ کی عظیم خدما ت اظہر من الشمس ہیں اور یہی وہ کا رہا ئے نما یا ں ہیں،جنہیں انجا م دینے ہی کے بعد کو ئی فر دِ کا مل مجد د یت کے عظیم منصب پر فا ئز ہو سکتا ہے ۔
پیر سید مہر علی شا ہ صا حب رحمتہ اللہ علیہ خو د شریعت وطریقت کے عظیم الشا ن عالم و فا ضل تھے، اس لئے شر یعت مطہر ہ کی سختی سے پابند تھے اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی شریعت کی پاسداری کی تاکیدو تلقین فر ما تے ،آپ کی زندگی اور سیرتِ مبا رکہ قرآن و سنت کا قا بل رشک اور کا مل نمو نہ تھی، آپ کی زندگی تر ویج و اشا عت دین، اصلا ح و تر بیت مسلمین ، تعمیر ملک و ملّت اور خدمت خلق کیلئے وقف تھی۔
علا مہ غلا م رسو ل سعیدی صاحب کے الفا ظ کے آئینے میں : ”حضر ت پیر مہر علی شا ہ ! عا لم و فا ضل ،عا بد و زا ہد ، فیا ض اور جو ّا د ، ان کا چہر ہ خو ف الہٰی سے زرد اور محبت رسو ل سے رو شن رہتا تھا،
اُن کے فیضا ن کا جو سلسلہ اُن کی زندگی میں قا ئم ہوا تھا، مسلسل بڑھ رہا ہے ، اصول و فر وع اور عقا ئد و اعما ل میں اُمت مسلمہ کو صر اط ِ مستقیم پر جو استقا مت اور تصلّب حا صل ہے ،
اس میں پیر صا حب کا وا فر حصہ ہے ، انہو ں نے آیا ت قرآن کا صحیح محمل بیا ن کیا، احا دیثِ رسو ل ﷺ کی وضا حت کی ، اُن کے حلقے میں شریک ہو کر نجا نے کتنے افرا د دنیا ئے شریعت وطر یقت میں امر ہو گئے ، انہو ں نے ذر و ں کو اُٹھا یا تو رشکِ ما ہتا ب بنا دیا ، ننگِ انسا نیت کو فخر ِملا ئکہ بنا دیا ۔
سلا م ہو ! اس رجل عظیم پر! جس نے جھلملا تے چرا غو ں کو سو ر ج کی تو ا نا ئیا ں بخشیں ، آفرین ہو ! اُس مر د کا مل پر! جس نے علو م اسلا میہ کو رعنا ئیا ں دیں .... آج ” سلسلہ چشتیہ“ میں اُنہی کے فیض کے دھا رے بہہ رہے ہیں، انہو ں نے اللہ تعا لیٰ کے دین کی اشاعت کی ، اللہ عزوجل نے اُن کے ذکر کو ایک عالم میں پھیلا دیا ، دِلو ں میں اُن کی محبت وعقیدت کے چر اغ رو شن کر دئیے جب تک مکا تب ومدارس میں وقیل وقا ل “ کی محفل سجی رہے ، جب تک خا نقا ہو ں میں خر قہ پو شو ں کی مجلس جمی رہے ،آسما ن رحمت سے اُن کی قبر پر انو ار و تجلیا ت کی بر سا ت ہو تی رہے اور جن وا نس کا ایک جہا ں پیر مہر علی شا ہ کو سلا م عقیدت ومحبت پیش کر تا رہے “۔
وصال مبا رک
آسما نِ ولا یت کے ما ہتا ب ، چو دھویں صدی کے عظیم مجدد، اسلا م کے عظیم مبلغ، تا جدا ر علم و معر فت پیکرعلم وفضل۔آفتاب رشدوہدایت المخدو م السید پیر مہر علی شا ہ چشتی گو لڑ وی رحمتہ اللہ علیہ 29صِفر المظفر 1356ھ11/مئی 1937ءبرو ز منگل اس عالم فا نی سے کو چ کر کے اپنے خا لق حقیقی سے وا صل ہو ئے۔ آپ کا مزارِا قدس ”گو لڑہ شریف “ میں مر جع خلا ئق ہے ۔ گو لڑہ شریف راول پنڈی سے تقریبا ً گیا رہ میل کے فا صلہ پر ایک قصبہ ہے ، جو آپ ہی کے قدوم میمنت کی بر کت سے مشہو ر و معر و ف ہے[3]۔
تصانیف
- تحقیق الحق فی کلمۃ الحق (1315 ہجری مطابق 1897 عیسوی)
- شمس الہدایہ فی اثبات حیات المسیح (1317 ہجری مطابق 1900 عیسوی)
- سیف چشتیائی (1319 ہجری مطابق 1902 عیسوی)
- اعلاکلمۃ اللہ فی بیان ما اھل بہ لغیر اللہ (1332 ہجری مطابق 1905-1904 عیسوی)
- الفتوحات المصدیہ (1325 ہجری مطابق 1908-1907 عیسوی)
- تصفیہ مابین سنی و شیعہ
- فتاویٰ مہریہ
- ہدیۃ الرسول
- فتاوی مہریہ
- مراۃ العرفان
- مکتوبات طیبات
- ملفوظات مہر علی شاہ
حوالہ جات
- ↑ حضرت پیر مہر علی شاہ خالد پرویز ملک-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 ستمبر 2026ء
- ↑ مہر منیر : صفحہ63
- ↑ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی رضی اللہ عنہ-اخذ شدہ بہ تاریخ: 10 ستمبر 2026ء