"واجب" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Saeedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م Saeedi نے صفحہ مسودہ:واجب کو واجب کی جانب منتقل کیا |
||
| (ایک دوسرے صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 66: | سطر 66: | ||
اسلام کے اہم ترین عملی احکام کو ’’[[فروع دین]]‘‘ کہا جاتا ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان میں دس معروف عبادی اعمال شامل ہیں: | اسلام کے اہم ترین عملی احکام کو ’’[[فروع دین]]‘‘ کہا جاتا ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان میں دس معروف عبادی اعمال شامل ہیں: | ||
[[نماز]]، [[روزہ]]، [[حج]]، [[زکات]]، [[خمس]]، [[جہاد]]، [[امر بالمعروف]]، [[نہی عن المنکر]]، [[تولّی]] اور [[تبرّی]]۔ | [[نماز]]، [[روزہ]]، [[حج]]، [[زکات]]، [[خمس]]، [[جہاد]]، [[امر بالمعروف و نهی عن المنکر|امر بالمعروف]]، [[امر بالمعروف و نهی عن المنکر|نہی عن المنکر]]، [[تولی|تولّی]] اور [[تبرا|تبرّی]]۔ | ||
البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دس امور کا خاص طور پر ذکر قرآن کی آیات اور روایات اور روایات میں ان کی غیر معمولی اہمیت کے باعث کیا گیا ہے بیان کی گئی تقسیم کے مطابق فروعِ دین صرف انہی دس امور تک محدود نہیں ہیں،، بلکہ خرید و فروخت، نکاح، قص، دیات، قضاوت وغیرہ کے احکام بھی فروعِ دین میں شامل ہیں۔ | البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دس امور کا خاص طور پر ذکر قرآن کی آیات اور روایات اور روایات میں ان کی غیر معمولی اہمیت کے باعث کیا گیا ہے بیان کی گئی تقسیم کے مطابق فروعِ دین صرف انہی دس امور تک محدود نہیں ہیں،، بلکہ خرید و فروخت، نکاح، قص، دیات، قضاوت وغیرہ کے احکام بھی فروعِ دین میں شامل ہیں۔ | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 15:13، 1 ستمبر 2026ء
واجب اس عمل کو کہتے ہیں جس کا انجام دینا لازم ہو اور اسے ترک کرنے سے ملامت اور عذابِ الٰہی لازم آتا ہو۔ واجب کی مختلف اقسام اور درجہ بندیاں ہیں۔ فروع دین اہم ترین شرعی واجبات ہیں۔
لغوی معنی
لازم، ضروری، ایسا فعل جسے انجام دینا ضروری ہو اور اسے ترک کرنا گناہ ہو، سزاوار، شایستہ، ضرورت کی چیز۔[1]
اصطلاحی تعریف
فقہی اصطلاح میں واجب اس عمل کو کہتے ہیں جس کا شرعی حکم وجوب ہو، اسے انجام دینا ضروری ہو، اور اسے ترک کرنا گناہ نیز اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملامت کا سبب ہو۔[2]
واجب کی تقسیمات
۱۔ واجب نفسی اور واجب غیری
واجب نفسی وہ ہے جس میں خود عمل واجب ہو، کسی دوسرے عمل تک پہنچنے کے لیے نہیں؛ جیسے نماز اور روزہ۔
واجب غیری وہ عمل ہے جو کسی دوسرے واجب تک پہنچنے کے لیے واجب کیا گیا ہو؛ جیسے وضو، غسلِ جنابت، لباس کو نجاست سے پاک کرنا تاکہ نماز ادا کی جا سکے وغیرہ۔ اسے واجب مقدمی بھی کہتے ہیں۔
۲۔ واجب تعبدی اور توصلی
واجب تعبدی وہ عمل ہے جسے قصدِ قربت اور عبادت کی نیت سے انجام دینا ضروری ہو، ورنہ وہ باطل ہوگا؛ جیسے حج توصلی وہ ہے جس میں صرف اصل عمل کا انجام دینا کافی ہو، خواہ قصدِ قربت نہ بھی ہو؛ جیسے نجس چیز کو دھونا اور نماز کے لیے بدن کو پاک کرنا۔
۳۔ واجب عینی اور کفائی
واجب عینی وہ ہے جو ہر مکلف سے الگ الگ مطلوب ہو اور ہر مکلف کو اسے ذاتی طور پر انجام دینا ہو؛ جیسے نماز، روزہ اور وضو۔
واجب کفائی وہ ہے جس میں کسی متعین عمل کا انجام دینا ایک گروہ سے مطلوب ہو؛ جیسے ان لوگوں کے ذمے میت کو دفن کرنا جنہیں اس کی وفات کا علم ہو۔ اس میں اصل مقصد عمل کا تحقق ہے اور سب کی ذمہ داری ہے کہ اس عمل کی انجام دہی کے لیے آگے بڑھیں۔ لہٰذا اگر ان میں سے ایک شخص آگے بڑھ کر عمل انجام دے دے تو چونکہ مطلوبہ کام انجام پا گیا، دوسروں کی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔
۴۔ واجب تعیینی اور تخییری
واجب تعیینی وہ ہے جس میں مکلف سے ایک متعین عمل اور ایک خاص طریقے سے مطلوب ہو؛ جیسے نمازِ فجر۔
واجب تخییری وہ ہے جس میں کئی اعمال میں سے کسی ایک کو اختیار کے ساتھ انجام دینے کا حکم ہو؛ جیسے نمازِ جمعہ یا نمازِ ظہر میں سے ایک کا انتخاب، یا ماہِ رمضان میں روزہ توڑنے کا کفارہ۔
جیسا کہ معلوم ہے، جو شخص ماہِ رمضان کا روزہ عمداً توڑ دے، اسے رمضان کے بعد اس دن کی قضا کے علاوہ کفارہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ ایسا شخص تین متعین کفاروں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر سکتا ہے: ساٹھ دن کے روزے رکھنا، ساٹھ فقیروں کو کھانا کھلانا، یا غلام آزاد کرنا۔ غلامی کے رائج نہ ہونے کی وجہ سے آج کل تیسرا طریقہ عملاً قابلِ اجرا نہیں ہے۔
۵۔ واجب مطلق اور مشروط
واجب مطلق وہ ہے جس کے وجوب کے لیے کوئی قید یا شرط نہ ہو؛ جیسے سلام کا جواب دینا۔
واجب مشروط وہ عمل ہے جس کا وجوب کسی قید یا شرط پر موقوف ہو؛ جیسے حج، جس کا وجوب استطاعت سے مشروط ہے۔ یعنی حج اس وقت واجب ہوتا ہے جب کسی شخص میں اس کے شرائط، مثلاً مالی استطاعت وغیرہ، موجود ہوں۔ ان تمام شرائط کے مجموعے کو استطاعت کہتے ہیں۔
تمام گناہ عدالت کے منافی ہیں۔ اگر کوئی عادل شخص گناہ کا ارتکاب کرے تو اس کی عدالت عارضی طور پر زائل ہو جاتی ہے، خواہ گناہ کبیرہ ہو یا صغیرہ، یہاں تک کہ وہ توبہ کے ذریعے اس کی تلافی کر لے۔
واجب منجّز وہ عمل ہے جسے موجودہ وقت میں انجام دینا ضروری ہو؛ جیسے ایسا قرض ادا کرنا جس کی ادائیگی کا وقت آ چکا ہو، یا اذان فجر کے بعد نمازِ فجر ادا کرنا۔
واجب معلّق وہ ہے جس میں عمل کو مستقبل ادا کرنا، یا گزرنے کے بعد انجام دینا مطلوب ہو؛ جیسے دو ماہ بعد قرض ادا کرنا، یا ایامِ حج میں مکہ جانا۔ اس لیے کہ کوئی شخص مستطیع ہوتے ہی، مثلاً حج سے متعلق مخصوص شرائط کے ساتھ صاحبِ مال بننے کی صورت میں، حج کے لیے مکلف ہو جاتا ہے؛ لیکن اسے انتظار کرنا ہوتا ہے یہاں تک کہ قمری سال کے بارہویں مہینے، یعنی ذوالحجہ، میں حج کا وقت آ جائے۔ اس کے بعد وہ واجب کی ادائیگی کے لیے مکہ جائے گا۔
واجب شرعی وہ عمل ہے جسے قرآن، سنتِ پیغمبر اور ائمهٔ معصومین میں واجب قرار دیا گیا ہو۔
واجب عقلی وہ عمل ہے جسے انسانی عقل لازم قرار دے؛ مثلاً جب شریعتِ اسلام میں حج اور عمرہ واجب ہوں تو مکلف کی عقل سفر کے وسائل فراہم کرنا لازم سمجھتی ہے۔ اس صورت میں خود حج اور عمرہ واجبِ شرعی ہیں، جبکہ ان کے مقدمات فراہم کرنا واجبِ عقلی ہے۔ اسی طرح خداشناسی، نیکی کے بدلے نیکی کرنا، نعمت کے مقابلے میں شکر ادا کرنا، ظلم اور جھوٹ سے پرہیز کرنا اور دیگر امور بھی عقل کے احکام میں شامل ہیں۔ البتہ ممکن ہے شریعت بھی ان میں سے بعض عقلی احکام کے مطابق حکم صادر کرے۔
کسی واجب الاطاعت مقام، جیسے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امام علیہ السلام یا ان کی جانب سے مقرر کردہ شخص کی طرف سے صادر ہونے والا حکم، اگر مستقل طور پر خود اسی مقام کی جانب سے ہو، یعنی وہ کسی مصلحت کے پیشِ نظر کسی کام کو واجب قرار دے، تو اسے امرِ مولوی اور امرِ ولایی، اور اس واجب کو واجبِ مولوی کہتے ہیں۔
لیکن اگر یہ حکم کسی دوسرے واجب کی رہنمائی اور ارشاد کے طور پر ہو تو اسے امرِ ارشادی اور اس واجب کو واجبِ ارشادی کہتے ہیں۔ مثلاً اگر ولیِ امرِ امت فوج کے نظم و ضبط، حملے یا جنگ بندی کا حکم دے تو یہ امور واجبِ مولوی ہوں گے؛ لیکن اگر وہ نماز اور روزے کا حکم دے تو اس کے حکم اور ایجاب کو ارشادی کہا جائے گا۔
واجب موسّع وہ عمل ہے جس کے انجام دینے کا وقت وسیع ہو اور مکلف ایک مقررہ زمانی مدت کے اندر جب چاہے یا جب قدرت پائے، اسے انجام دے سکے؛ جیسے نمازِ ظہر، جس کا وقت زوال کے وقت اذان سے مغرب تک رہتا ہے۔
واجب مضیّق وہ عمل ہے جس کا وقت متعین ہو اور اس عمل کو انجام دینے کے لیے درکار وقت کے برابر ہی ہو؛ جیسے ماہِ رمضان کے ہر دن کا روزہ، جس کا وقت صبح سے مغرب تک ہے۔ نہ اسے وقت سے پہلے انجام دیا جا سکتا ہے اور نہ بعد میں۔ اسی طرح نمازِ جمعہ بھی ہے، جسے جمعہ کے دن زوال کے آغاز پر، نماز کے معمول کے لیے درکار مدت کے اندر ادا کرنا ضروری ہے۔
واجب فوری وہ عمل ہے جسے فوراً اور بغیر تاخیر کے انجام دینا ضروری ہو؛ جیسے سلام کا جواب دینا، زلزلے کے بعد نمازِ آیات ادا کرنا، یا ایسے قرضے ادا کرنا جن کی مدت پوری ہو چکی ہو اور قرض خواہ بھی ان کا مطالبہ کر رہے ہوں۔
واجب غیر فوری، واجب فوری کے مقابلے میں، وہ عمل ہے جسے پہلی ممکن فرصت میں انجام دینے کے لیے عجلت ضروری نہ ہو اور اسے بعد میں بھی ادا کیا جا سکے؛ جیسے قضا شدہ روزانہ نمازیں، یا ایسا قرض جس کے مالک نے کہا ہو: جب تمہارا دل چاہے، واپس کر دینا۔
۱۱۔ واجب اصلی اور تبعی
اسلام جس عمل کا حکم دے اور اسے واجب قرار دے، لازماً اس عمل کو ترک کرنے سے بھی منع کرتا ہے۔ ایسی صورت میں خود عمل کو ’’واجب اصلی‘‘ اور اس کے ترک کو ’’حرام تبعی‘‘ کہتے ہیں۔
اسی طرح اگر کسی عمل کو ابتدا ہی سے حرام قرار دیا جائے تو لازماً اس کے ترک کا بھی حکم ہوگا۔ چنانچہ خود فعل ’’حرام اصلی‘‘ اور اس کا ترک ’’واجب تبعی‘‘ ہوگا۔
لہٰذا ہر واجب اصلی ایک حرام تبعی کے ساتھ لازم و ملزوم ہے اور ہر حرام اصلی ایک واجب تبعی کے ساتھ لازم و ملزوم ہے؛ مثلاً کہا جاتا ہے کہ شراب حرام ہے اور اسے ترک کرنا واجب ہے>فرہنگ نامۂ اصولِ فق اسے ترک کرنا حرام ہے۔[3]
اسلام کے اہم ترین عملی احکام کو ’’فروع دین‘‘ کہا جاتا ہے۔ مشہور قول کے مطابق ان میں دس معروف عبادی اعمال شامل ہیں:
نماز، روزہ، حج، زکات، خمس، جہاد، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، تولّی اور تبرّی۔
البتہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان دس امور کا خاص طور پر ذکر قرآن کی آیات اور روایات اور روایات میں ان کی غیر معمولی اہمیت کے باعث کیا گیا ہے بیان کی گئی تقسیم کے مطابق فروعِ دین صرف انہی دس امور تک محدود نہیں ہیں،، بلکہ خرید و فروخت، نکاح، قص، دیات، قضاوت وغیرہ کے احکام بھی فروعِ دین میں شامل ہیں۔
فروعِ دین کے بعض احکام قوانین اور شرعی احکام کی صورت میں انسان کا خدا کے ساتھ تعلق بیان کرتے اور اس کے لیے فرائض مقرر کرتے ہیں؛ جیسے نماز، روزہ اور حج۔ بعض دیگر احکام ان فرائض سے متعلق ہیں جو انسانوں کے ایک دوسرے کے مقابلے میں عائد ہوتے ہیں اور انسانی تعلقات کو منظم کرتے ہیں؛ جیسے جہاد اور خمس۔[4]
حوالہ جات
- خمینی، سید روح اللہ، تحریر الوسیلہ، قم، مؤسسۂ مطبوعات دارالعلم، [بغیر تاریخ]۔
- ملکی اصفہانی، مجتبیٰ، فرہنگِ اصطلاحاتِ اصول، قم، عالمہ، پہلا ایڈیشن، ۱۳۷۹ش۔
- مشکینی، مرزا علی، اصطلاحات الاصول و معظم ابحاثہا، قم، نشر الہادی، چھٹا ایڈیشن، ۱۴۱۶ق۔
- مرکزِ اطلاعات و مدارکِ اسلامی، فرہنگ نامۂ اصولِ فقہ، قم، پژوهشگاہِ علوم و فرهنگِ اسلامی، ۱۳۸۹ش۔