مندرجات کا رخ کریں

"حبیب بن مظاهر" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
ترجمه خودکار از ویکی فارسی
 
م Saeedi نے صفحہ مسودہ:حبیب بن مظاهر کو حبیب بن مظاهر کی جانب منتقل کیا
 
(2 صارفین 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
{{خانہ معلومات شخصیت
 
| عنوان = حبیب بن مظاهر
{{Infobox person
| تصویر = حبیب بن مظاهر.jpg  
| title = حبیب بن مظاهر  
| نام = حبیب بن مظاهر بن رئاب بن الاشتر بن جخوان بن فقعس بن ظریف بن عمرو بن قیس بن الحرث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد
| image = حبیب بن مظاهر.jpg  
| دیگر نام =  
| name =  حبیب بن مظاهر
| سال پیدائش =
| other names =حبیب بن مظاهر بن رئاب بن الاشتر بن جخوان بن فقعس بن ظریف بن عمرو بن قیس بن الحرث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد
| تاریخ پیدائش =  ۱۴ سال قبل از ہجرت یا بعثت سے ایک سال قبل
| brith year = ۱۴ سال قبل از ہجرت
| مقام پیدائش =  
| brith date =
| سال وفات = ۶۱ ہجری
| birth place =
| تاریخ وفات =  
| death year = ۶۱ق 
| مقام وفات = [[کربلا]]
| death date =  
| اساتذہ =  
| death place = [[کربلا]]
| شاگرد =
| teachers =  
| مذہب = [[اسلام]]
| religion = [[اسلام]]  
| مکتب فکر =  
| faith =  
| آثار =  
| works =  
| فعالیتیں = شرطۃ الخمیس، کربلا میں امام حسین (علیہ السلام) کے سب سے بزرگ ساتھی
| known for = عضو شرطۃ الخمیس اور 65 سال کی عمر میں نهضت [[کربلا]] میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔ 
| ویب سائٹ =
}}
}}
'''حبیب بن مظاهر''' اصل نام «حبیب بن مظهر» قبیلہ «بنی اسد» سے اور [[صحابہ]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیا)|رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ)]] تھے۔ آپ [[بعثت]] [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیا)|پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ)]] سے ایک سال قبل دنیا میں تشریف لائے۔ آپ کا دورِ کودکی ان سالوں کے ساتھ تھا جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) [[مکہ مکرمہ]] میں لوگوں کو [[توحید]] اور خدا پرستی کی دعوت دے رہے تھے۔


'''حبیب بن مظاهر''' اصل نام «حبیب بن مظهر» قبیلہ «بنی اسد» سے اور صحابہ [[حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ|رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ)]] تھے۔ آپ بعثت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے ایک سال قبل دنیا میں آئے۔ آپ کا دورِ کودکی ان سالوں کے ساتھ تھا جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ مکرمہ میں لوگوں کو توحید اور خدا پرستی کی دعوت دے رہے تھے۔
آپ ۷۵ سال کی عمر میں نهضت [[کربلا]] میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔
آپ ۷۵ سال کی عمر میں نهضت [[کربلا]] میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔
 
حبیب ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پانچ امام معصوم کے دیدار کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا چہرہ خوبصورت اور معنوی جمال کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ عبادت، شجاعت، علم، زہد اور حریم ولایت کے دفاع میں زبان زد خاص و عام تھے۔  
حبیب ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پانچ [[ائمہ|امام معصوم]] کے دیدار کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا چہرہ خوبصورت اور معنوی جمال کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ عبادت، شجاعت، علم، زہد اور حریم ولایت کے دفاع میں زبان زد خاص و عام تھے۔  
 
 


==حبیب بن مظاهر کی زندگی کا خلاصہ==
==حبیب بن مظاهر کی زندگی کا خلاصہ==
«حبیب بن مظاهر اسدی» [[علی بن ابی طالب|امام علی (علیہ السلام)]]، [[حسن بن علی (مجتبی)|امام حسن (علیہ السلام)]] اور [[حسین بن علی (سید الشہدا)|امام حسین (علیہ السلام)]] کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ [[کوفہ]] کے رہنے والے اور قبیلہ بنی اسد سے تھے اور آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ تاریخ کی بعض کتابوں میں آپ کی پیدائش کا سال [[ہجرت]] سے ۱۴ سال قبل یا [[بعثت]] سے ایک سال قبل لکھا ہے۔ حبیب بن مظاهر نے نو ہجری میں اپنے خاندان کے ساتھ [[مدینہ]] ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔ آپ ۷۵ سال کی عمر میں [[واقعہ عاشورا]] میں [[شہادت]] پائی۔  
«حبیب بن مظاهر اسدی» [[علی ابن ابی طالب|علی بن ابی طالب]]، [[امام حسن (علیہ السلام) اور[[امام حسین علیہ السلام|امام حسین]] (علیہ السلام) کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کوفہ کے رہنے والے اور قبیلہ بنی اسد سے تھے اور آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ تاریخ کی بعض کتابوں میں آپ کی پیدائش کا سال ہجرت سے ۱۴ سال قبل یا بعثت سے ایک سال قبل لکھا ہے۔ حبیب بن مظاهر نے نو ہجری میں اپنے خاندان کے ساتھ [[مدینہ]] ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔ آپ ۷۵ سال کی عمر میں واقعہ عاشورا میں شہادت پائی۔  
 
 


==حبیب بن مظاهر کے اخلاقی فضائل==
==حبیب بن مظاهر کے اخلاقی فضائل==
حبیب بن مظاهر کے پاس سادہ اور بے ریا زندگی تھی جس میں وہ دنیاوی امور سے مکمل بے رغبت تھے، اور اخلاقی و ایمانی لحاظ سے بلند درجہ رکھتے تھے۔ آپ [[تقویٰ]] والا اور مخلص شخص تھے جو ہر رات [[خداوند]] بزرگ کی [[عبادت]] میں گزارتے تھے۔ حبیب بن مظاهر پورے [[قرآن کریم]] کے حافظ بھی تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق، ہر رات ایک ختم [[قرآن]] کرتے تھے۔ حبیب کو ادبیات، مناظرہ و جدل، [[تفسیر]]، علوم [[فقہ]] اور قرائت جیسے دیگر شعبوں میں بھی خاص مہارت حاصل تھی۔  
حبیب بن مظاهر کے پاس سادہ اور بے ریا زندگی تھی جس میں وہ دنیاوی امور سے مکمل بے رغبت تھے، اور اخلاقی و ایمانی لحاظ سے بلند درجہ رکھتے تھے۔ آپ تقویٰ والا اور مخلص شخص تھے جو ہر رات خداوند بزرگ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ حبیب بن مظاهر پورے [[قرآن کریم]] کے حافظ بھی تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق، ہر رات ایک ختم قرآن کرتے تھے۔ حبیب کو ادبیات، مناظرہ و جدل، تفسیر، علوم فقہ اور قرائت جیسے دیگر شعبوں میں بھی خاص مہارت حاصل تھی۔  
 
 


==پیغمبر اسلام کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار==
==پیغمبر اسلام کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار==
جب پیغمبر اسلام [[محمد بن عبد اللہ (خاتم الانبیا)|حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ)]] نے [[مکہ]] میں اپنی دعوت کا آغاز کیا، تو حبیب بن مظاهر کی عمر کم تھی۔ اس وقت، آپ سید الشہدا (علیہ السلام) کے کھیل کے ساتھی تھے؛ اس لیے پیغمبر کو ان سے بہت لگاؤ تھا اور ان کے بارے میں فرماتے تھے: میں ان سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میرا بیٹا حسین (علیہ السلام) ان سے محبت کرتا ہے۔ پیغمبر کے مکہ سے [[مدینہ]] ہجرت کرنے کے بعد، آپ پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے [[اسلام]] کے احکام سیکھے۔ اس کے بعد آپ [[صحابہ|اصحاب]] پیغمبر میں شامل ہو گئے اور پیغمبر اور اہل بیت کے نامور خدمت گزاروں میں سے بن گئے۔ جب بھی حبیب پیغمبر سے کوئی حدیث سنتے، اسے دوسروں کے لیے بھی بیان کرتے تھے۔  
جب پیغمبر اسلام حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا، تو حبیب بن مظاهر کی عمر کم تھی۔ اس وقت، آپ سید الشہدا (علیہ السلام) کے کھیل کے ساتھی تھے؛ اس لیے پیغمبر کو ان سے بہت لگاؤ تھا اور ان کے بارے میں فرماتے تھے: میں ان سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میرا بیٹا حسین (علیہ السلام) ان سے محبت کرتا ہے۔ پیغمبر کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد، آپ پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے [[اسلام]] کے احکام سیکھے۔ اس کے بعد آپ اصحاب پیغمبر میں شامل ہو گئے اور پیغمبر اور اہل بیت کے نامور خدمت گزاروں میں سے بن گئے۔ جب بھی حبیب پیغمبر سے کوئی حدیث سنتے، اسے دوسروں کے لیے بھی بیان کرتے تھے۔  
 
 


==امام علی (علیہ السلام) کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار==
==امام علی (علیہ السلام) کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار==
جب امام علی (علیہ السلام) نے کوفہ کو اپنا مرکز خلافت بنایا، تو حبیب بن مظاهر وہاں آئے اور مقیم ہو گئے۔ آپ تمام جنگوں میں امام علی (علیہ السلام) کے رکاب میں رہے اور ان کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک امام علی (علیہ السلام) کا علم و دانش عمرو بن حمق خزاعی، [[میثم تمار]] اور رشید ہجری جیسے دیگر افراد کے ساتھ مل کر دوسروں تک پہنچانا بھی تھا۔ اس کے علاوہ آپ "[[شرطہ الخمیس|شرطۃ الخمیس]]" نامی گروہ میں بھی تھے، جو [[علی بن ابی طالب]] (علیہ السلام) کے اصحاب کے خاص گروہ پر مشتمل تھا، اور آپ ان کی طرف سے خاص مشن انجام دیتے تھے۔  
جب امام علی (علیہ السلام) نے کوفہ کو اپنا مرکز خلافت بنایا، تو حبیب بن مظاهر وہاں آئے اور مقیم ہو گئے۔ آپ تمام جنگوں میں امام علی (علیہ السلام) کے رکاب میں رہے اور ان کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک امام علی (علیہ السلام) کا علم و دانش عمرو بن حمق خزاعی، میثم تمار اور رشید ہجری جیسے دیگر افراد کے ساتھ مل کر دوسروں تک پہنچانا بھی تھا۔ اس کے علاوہ آپ "شرطہ الخمیس|شرطۃ الخمیس" نامی گروہ میں بھی تھے، جو [[علی بن ابی طالب]] (علیہ السلام) کے اصحاب کے خاص گروہ پر مشتمل تھا، اور آپ ان کی طرف سے خاص مشن انجام دیتے تھے۔  
 
 


==امام حسین کے دور اور عاشورا سے قبل حبیب بن مظاهر کا کردار==
==امام حسین کے دور اور عاشورا سے قبل حبیب بن مظاهر کا کردار==
۶۰ ہجری میں اور [[معاویہ]] کی موت کے بعد، حبیب بن مظاهر نے [[کوفہ]] میں [[شیعہ]] کے دیگر بزرگان جیسے مسیب بن نجبہ، [[سلیمان بن صرد]] اور شداد بجلی کے ساتھ [[یزید]] کی [[بیعت]] سے انکار کیا۔ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو خط لکھا اور انہیں کوفہ شہر میں قیام کرنے کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ جب [[مسلم بن عقیل]] کوفہ آئے، تو حبیب بن مظاهر نے ان کی حمایت کے لیے مختار کے گھر میں مسلم کے بارے میں بات کی اور ان کی مدد کے لیے دوڑے۔ کوفیوں کی امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ خیانت کے بعد، حبیب بن مظاهر [[کربلا]] کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ نے امام کے کم ساتھی اور بہت زیادہ دشمن دیکھ کر ان سے درخواست کی کہ وہ قریب ہی موجود قبیلہ بنی اسد کے پاس جائیں اور انہیں دعوت دیں۔ امام نے انہیں جانے کی اجازت دی۔ پھر وہ وہاں گئے اور وعظ و نصیحت شروع کی، لیکن آخر میں [[عمر بن سعد بن ابی وقاص|عمر بن سعد]] نے فوج بھیج کر اس قبیلہ کے امام (علیہ السلام) کے ساتھیوں سے ملنے سے روک دیا۔
۶۰ ہجری میں اور [[معاویہ]] کی موت کے بعد، حبیب بن مظاهر نے [[کوفہ]] میں [[شیعہ]] کے دیگر بزرگان جیسے مسیب بن نجبہ، سلیمان بن صرد اور شداد بجلی کے ساتھ یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو خط لکھا اور انہیں کوفہ شہر میں قیام کرنے کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ جب مسلم بن عقیل کوفہ آئے، تو حبیب بن مظاهر نے ان کی حمایت کے لیے مختار کے گھر میں مسلم کے بارے میں بات کی اور ان کی مدد کے لیے دوڑے۔ کوفیوں کی امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ خیانت کے بعد، حبیب بن مظاهر [[کربلا]] کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ نے امام کے کم ساتھی اور بہت زیادہ دشمن دیکھ کر ان سے درخواست کی کہ وہ قریب ہی موجود قبیلہ بنی اسد کے پاس جائیں اور انہیں دعوت دیں۔ امام نے انہیں جانے کی اجازت دی۔ پھر وہ وہاں گئے اور وعظ و نصیحت شروع کی، لیکن آخر میں عمر بن سعد بن ابی وقاص نے فوج بھیج کر اس قبیلہ کے امام (علیہ السلام) کے ساتھیوں سے ملنے سے روک دیا۔


==تاسوعا کی شام اور شب عاشورا میں حبیب بن مظاهر==
==تاسوعا کی شام اور شب عاشورا میں حبیب بن مظاهر==
حبیب بن مظاهر نے تاسوعا کی شام کو امام حسین (علیہ السلام) کے خیموں پر حملہ آور ہونے والے دشمنوں کو نصیحت کرنے کی کوشش کی، انہیں جنگ سے باز رکھا اور امام اور ان کے ساتھیوں کی خوبیاں بیان کیں۔ نیز انہوں نے عمر بن سعد کی طرف سے امام حسین (علیہ السلام) کے پاس خط لانے والے شخص کو بھی نصیحت کی اور ظالموں کی طرف لوٹنے سے منع کیا۔ نیز شب عاشورا کو امام حسین (علیہ السلام) کے اصحاب کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ وہ خاندان پیامبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع آخری قطرہ خون تک کریں گے۔  
حبیب بن مظاهر نے تاسوعا کی شام کو امام حسین (علیہ السلام) کے خیموں پر حملہ آور ہونے والے دشمنوں کو نصیحت کرنے کی کوشش کی، انہیں جنگ سے باز رکھا اور امام اور ان کے ساتھیوں کی خوبیاں بیان کیں۔ نیز انہوں نے عمر بن سعد کی طرف سے امام حسین (علیہ السلام) کے پاس خط لانے والے شخص کو بھی نصیحت کی اور ظالموں کی طرف لوٹنے سے منع کیا۔ نیز شب عاشورا کو امام حسین (علیہ السلام) کے اصحاب کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ وہ خاندان پیامبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع آخری قطرہ خون تک کریں گے۔  


==عاشورا کے دن حبیب بن مظاهر کا کردار اور ان کی شہادت کی داستان==
==عاشورا کے دن حبیب بن مظاهر کا کردار اور ان کی شہادت کی داستان==
عاشورا کی صبح جنگ کے شدت پکڑنے سے قبل، امام حسین (علیہ السلام) نے زہیر بن قین کو لشکر کے دائیں بازو میں، حبیب بن مظاهر کو بائیں بازو میں اور [[عباس بن علی|حضرت ابوالفضل (علیہ السلام)]] کو پرچم کے ساتھ لشکر کے مرکز میں تعینات کیا۔ جنگ کے آغاز میں جب عمر بن سعد کے لشکریوں نے مبارز طلب کیا، تو حبیب بن مظاهر اور بریر میدان جنگ میں جانے کا ارادہ کیا، لیکن امام نے انہیں روک دیا۔ عاشورا کی ظہر کی نماز کے دوران حبیب بن مظاهر نے "حصین بن نمیر" پر حملہ کیا جو امام حسین (علیہ السلام) کے لشکر سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری نماز قبول نہیں، اس نے تلوار سے اس کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا اور اسے زمین گرا دیا۔ پھر حصین کے ساتھیوں نے حملہ کیا اور اسے حبیب کے چنگل سے نجات دلائی۔ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد حبیب بن مظاهر نے بڑی عمر کے باوجود امام کے رکاب میں بہادری سے تلوار چلائی اور دشمن کے لشکر کے تقریباً ۶۲ افراد کو ہلاک کیا۔ پھر دشمن کے لشکر سے "بدیل بن صریم عقفانی" نامی شخص نے حملہ کیا اور تلوار اس کے سر پر برسا دی، اس دوران ایک اور شخص نے نیزے سے ان پر حملہ کیا اور حبیب کو گھوڑے سے زمین پر گرا دیا۔ آخر میں جبکہ حبیب کی داڑھی ان کے سر کے خون سے رنگین تھی، بدیل نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔
عاشورا کی صبح جنگ کے شدت پکڑنے سے قبل، امام حسین (علیہ السلام) نے زہیر بن قین کو لشکر کے دائیں بازو میں، حبیب بن مظاهر کو بائیں بازو میں اور [[عباس بن علی|حضرت ابوالفضل (علیہ السلام)]] کو پرچم کے ساتھ لشکر کے مرکز میں تعینات کیا۔ جنگ کے آغاز میں جب عمر بن سعد کے لشکریوں نے مبارز طلب کیا، تو حبیب بن مظاهر اور بریر میدان جنگ میں جانے کا ارادہ کیا، لیکن امام نے انہیں روک دیا۔ عاشورا کی ظہر کی نماز کے دوران حبیب بن مظاهر نے "حصین بن نمیر" پر حملہ کیا جو امام حسین (علیہ السلام) کے لشکر سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری نماز قبول نہیں، اس نے تلوار سے اس کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا اور اسے زمین گرا دیا۔ پھر حصین کے ساتھیوں نے حملہ کیا اور اسے حبیب کے چنگل سے نجات دلائی۔ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد حبیب بن مظاهر نے بڑی عمر کے باوجود امام کے رکاب میں بہادری سے تلوار چلائی اور دشمن کے لشکر کے تقریباً ۶۲ افراد کو ہلاک کیا۔ پھر دشمن کے لشکر سے "بدیل بن صریم عقفانی" نامی شخص نے حملہ کیا اور تلوار اس کے سر پر برسا دی، اس دوران ایک اور شخص نے نیزے سے ان پر حملہ کیا اور حبیب کو گھوڑے سے زمین پر گرا دیا۔ آخر میں جبکہ حبیب کی داڑھی ان کے سر کے خون سے رنگین تھی، بدیل نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔


==عاشورا کی دوپہر حبیب کی رجز خوانی کا متن==
==عاشورا کی دوپہر حبیب کی رجز خوانی کا متن==
میں حبیب ہوں اور میرے والد مظهر ہیں، میدان جنگ کا بہادر اور نبرد آزما کی شعلہ ور آگ ہوں۔ تمہاری تعداد زیادہ اور بلند ہے، لیکن ہم حق کی راہ میں تم سے زیادہ وفادار اور بردبار ہیں۔ ہماری حجت تم سے بہتر اور واضح تر ہے، درحقیقت ہم تم سے زیادہ پرہیزگار اور قبولیت والے ہیں۔  
میں حبیب ہوں اور میرے والد مظهر ہیں، میدان جنگ کا بہادر اور نبرد آزما کی شعلہ ور آگ ہوں۔ تمہاری تعداد زیادہ اور بلند ہے، لیکن ہم حق کی راہ میں تم سے زیادہ وفادار اور بردبار ہیں۔ ہماری حجت تم سے بہتر اور واضح تر ہے، درحقیقت ہم تم سے زیادہ پرہیزگار اور قبولیت والے ہیں۔  


==حبیب بن مظاهر کی تدفین کی جگہ==
==حبیب بن مظاهر کی تدفین کی جگہ==
جنگ کے اختتام کے بعد جب قبیلہ بنی اسد نے کربلا کے شہداء کی تدفین کا اقدام کیا، تو ان کے بزرگوں میں سے حبیب کی بے سر لاش کو امام حسین (علیہ السلام) کے پاکیزہ مزار سے دس میٹر کے فاصلے پر الگ سے دفن کیا۔ سالوں بعد حبیب بن مظاهر کا مرقد امام حسین (علیہ السلام) کے [[حرم]] کے اندر واقع ہو گیا اور اب اس کی جگہ حرم کے جنوبی رواق میں ہے۔ نیز ان کا سر علی اکبر اور عباس بن علی کے سر کے ساتھ شام میں "باب الصغیر" کے آرام گاہ میں [[سوریه]] دفن کیا گیا۔  
جنگ کے اختتام کے بعد جب قبیلہ بنی اسد نے کربلا کے شہداء کی تدفین کا اقدام کیا، تو ان کے بزرگوں میں سے حبیب کی بے سر لاش کو امام حسین (علیہ السلام) کے پاکیزہ مزار سے دس میٹر کے فاصلے پر الگ سے دفن کیا۔ سالوں بعد حبیب بن مظاهر کا مرقد امام حسین (علیہ السلام) کے حرم کے اندر واقع ہو گیا اور اب اس کی جگہ حرم کے جنوبی رواق میں ہے۔ نیز ان کا سر علی اکبر اور عباس بن علی کے سر کے ساتھ شام میں "باب الصغیر" کے آرام گاہ میں سوریه دفن کیا گیا۔  
 
 


==ماخذ==
==ماخذ==
[https://rasekhoon.net/article/show/1456090/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8-%D8%A8%D9%86-%D9%85%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1 ماخوذ از ویب سائٹ زندگی نامہ حبیب بن مظاهر - راسخون]۔
[https://rasekhoon.net/article/show/1456090/%D8%B2%D9%86%D8%AF%DA%AF%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%85%D9%87-%D8%AD%D8%A8%DB%8C%D8%A8-%D8%A8%D9%86-%D9%85%D8%B8%D8%A7%D9%87%D8%B1 ماخوذ از ویب سائٹ زندگی نامہ حبیب بن مظاهر - راسخون]۔


[[رده:شخصیات]]
[[زمرہ:شخصیات]]
[[رده:شیعہ شخصیات]]
[[زمرہ:صحابہ]]
[[رده:کربلا کے شہید]]
[[رده:صحابہ]]

حالیہ نسخہ بمطابق 11:18، 2 جولائی 2026ء

حبیب بن مظاهر
پورا نامحبیب بن مظاهر
دوسرے نامحبیب بن مظاهر بن رئاب بن الاشتر بن جخوان بن فقعس بن ظریف بن عمرو بن قیس بن الحرث بن ثعلبہ بن دودان بن اسد
ذاتی معلومات
پیدائش۱۴ سال قبل از ہجرت
وفات۶۱ق
وفات کی جگہکربلا
مذہباسلام
مناصبعضو شرطۃ الخمیس اور 65 سال کی عمر میں نهضت کربلا میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔

حبیب بن مظاهر اصل نام «حبیب بن مظهر» قبیلہ «بنی اسد» سے اور صحابہ رسول گرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) تھے۔ آپ بعثت پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے ایک سال قبل دنیا میں آئے۔ آپ کا دورِ کودکی ان سالوں کے ساتھ تھا جب پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ) مکہ مکرمہ میں لوگوں کو توحید اور خدا پرستی کی دعوت دے رہے تھے۔ آپ ۷۵ سال کی عمر میں نهضت کربلا میں موجود تھے اور شہید ہوئے۔ حبیب ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں پانچ امام معصوم کے دیدار کا شرف حاصل ہوا۔ آپ کا چہرہ خوبصورت اور معنوی جمال کمال کو پہنچا ہوا تھا۔ یہاں تک کہ عبادت، شجاعت، علم، زہد اور حریم ولایت کے دفاع میں زبان زد خاص و عام تھے۔

حبیب بن مظاهر کی زندگی کا خلاصہ

«حبیب بن مظاهر اسدی» علی بن ابی طالب، [[امام حسن (علیہ السلام) اورامام حسین (علیہ السلام) کے خاص ساتھیوں میں سے تھے۔ آپ کوفہ کے رہنے والے اور قبیلہ بنی اسد سے تھے اور آپ کی کنیت ابوالقاسم تھی۔ تاریخ کی بعض کتابوں میں آپ کی پیدائش کا سال ہجرت سے ۱۴ سال قبل یا بعثت سے ایک سال قبل لکھا ہے۔ حبیب بن مظاهر نے نو ہجری میں اپنے خاندان کے ساتھ مدینہ ہجرت کی اور وہیں سکونت اختیار کی۔ آپ ۷۵ سال کی عمر میں واقعہ عاشورا میں شہادت پائی۔

حبیب بن مظاهر کے اخلاقی فضائل

حبیب بن مظاهر کے پاس سادہ اور بے ریا زندگی تھی جس میں وہ دنیاوی امور سے مکمل بے رغبت تھے، اور اخلاقی و ایمانی لحاظ سے بلند درجہ رکھتے تھے۔ آپ تقویٰ والا اور مخلص شخص تھے جو ہر رات خداوند بزرگ کی عبادت میں گزارتے تھے۔ حبیب بن مظاهر پورے قرآن کریم کے حافظ بھی تھے اور امام حسین (علیہ السلام) کے فرمان کے مطابق، ہر رات ایک ختم قرآن کرتے تھے۔ حبیب کو ادبیات، مناظرہ و جدل، تفسیر، علوم فقہ اور قرائت جیسے دیگر شعبوں میں بھی خاص مہارت حاصل تھی۔

پیغمبر اسلام کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار

جب پیغمبر اسلام حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے مکہ میں اپنی دعوت کا آغاز کیا، تو حبیب بن مظاهر کی عمر کم تھی۔ اس وقت، آپ سید الشہدا (علیہ السلام) کے کھیل کے ساتھی تھے؛ اس لیے پیغمبر کو ان سے بہت لگاؤ تھا اور ان کے بارے میں فرماتے تھے: میں ان سے محبت کرتا ہوں، کیونکہ میرا بیٹا حسین (علیہ السلام) ان سے محبت کرتا ہے۔ پیغمبر کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد، آپ پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے اسلام کے احکام سیکھے۔ اس کے بعد آپ اصحاب پیغمبر میں شامل ہو گئے اور پیغمبر اور اہل بیت کے نامور خدمت گزاروں میں سے بن گئے۔ جب بھی حبیب پیغمبر سے کوئی حدیث سنتے، اسے دوسروں کے لیے بھی بیان کرتے تھے۔

امام علی (علیہ السلام) کے دور میں حبیب بن مظاهر کا کردار

جب امام علی (علیہ السلام) نے کوفہ کو اپنا مرکز خلافت بنایا، تو حبیب بن مظاهر وہاں آئے اور مقیم ہو گئے۔ آپ تمام جنگوں میں امام علی (علیہ السلام) کے رکاب میں رہے اور ان کے خاص ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی ذمہ داریوں میں سے ایک امام علی (علیہ السلام) کا علم و دانش عمرو بن حمق خزاعی، میثم تمار اور رشید ہجری جیسے دیگر افراد کے ساتھ مل کر دوسروں تک پہنچانا بھی تھا۔ اس کے علاوہ آپ "شرطہ الخمیس|شرطۃ الخمیس" نامی گروہ میں بھی تھے، جو علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کے اصحاب کے خاص گروہ پر مشتمل تھا، اور آپ ان کی طرف سے خاص مشن انجام دیتے تھے۔

امام حسین کے دور اور عاشورا سے قبل حبیب بن مظاهر کا کردار

۶۰ ہجری میں اور معاویہ کی موت کے بعد، حبیب بن مظاهر نے کوفہ میں شیعہ کے دیگر بزرگان جیسے مسیب بن نجبہ، سلیمان بن صرد اور شداد بجلی کے ساتھ یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ انہوں نے امام حسین (علیہ السلام) کو خط لکھا اور انہیں کوفہ شہر میں قیام کرنے کی دعوت دی۔ اس کے علاوہ جب مسلم بن عقیل کوفہ آئے، تو حبیب بن مظاهر نے ان کی حمایت کے لیے مختار کے گھر میں مسلم کے بارے میں بات کی اور ان کی مدد کے لیے دوڑے۔ کوفیوں کی امام حسین (علیہ السلام) کے ساتھ خیانت کے بعد، حبیب بن مظاهر کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ نے امام کے کم ساتھی اور بہت زیادہ دشمن دیکھ کر ان سے درخواست کی کہ وہ قریب ہی موجود قبیلہ بنی اسد کے پاس جائیں اور انہیں دعوت دیں۔ امام نے انہیں جانے کی اجازت دی۔ پھر وہ وہاں گئے اور وعظ و نصیحت شروع کی، لیکن آخر میں عمر بن سعد بن ابی وقاص نے فوج بھیج کر اس قبیلہ کے امام (علیہ السلام) کے ساتھیوں سے ملنے سے روک دیا۔

تاسوعا کی شام اور شب عاشورا میں حبیب بن مظاهر

حبیب بن مظاهر نے تاسوعا کی شام کو امام حسین (علیہ السلام) کے خیموں پر حملہ آور ہونے والے دشمنوں کو نصیحت کرنے کی کوشش کی، انہیں جنگ سے باز رکھا اور امام اور ان کے ساتھیوں کی خوبیاں بیان کیں۔ نیز انہوں نے عمر بن سعد کی طرف سے امام حسین (علیہ السلام) کے پاس خط لانے والے شخص کو بھی نصیحت کی اور ظالموں کی طرف لوٹنے سے منع کیا۔ نیز شب عاشورا کو امام حسین (علیہ السلام) کے اصحاب کے ہمراہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اعلان کیا کہ وہ خاندان پیامبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع آخری قطرہ خون تک کریں گے۔

عاشورا کے دن حبیب بن مظاهر کا کردار اور ان کی شہادت کی داستان

عاشورا کی صبح جنگ کے شدت پکڑنے سے قبل، امام حسین (علیہ السلام) نے زہیر بن قین کو لشکر کے دائیں بازو میں، حبیب بن مظاهر کو بائیں بازو میں اور حضرت ابوالفضل (علیہ السلام) کو پرچم کے ساتھ لشکر کے مرکز میں تعینات کیا۔ جنگ کے آغاز میں جب عمر بن سعد کے لشکریوں نے مبارز طلب کیا، تو حبیب بن مظاهر اور بریر میدان جنگ میں جانے کا ارادہ کیا، لیکن امام نے انہیں روک دیا۔ عاشورا کی ظہر کی نماز کے دوران حبیب بن مظاهر نے "حصین بن نمیر" پر حملہ کیا جو امام حسین (علیہ السلام) کے لشکر سے مخاطب ہو کر کہہ رہا تھا کہ تمہاری نماز قبول نہیں، اس نے تلوار سے اس کے گھوڑے کے منہ پر وار کیا اور اسے زمین گرا دیا۔ پھر حصین کے ساتھیوں نے حملہ کیا اور اسے حبیب کے چنگل سے نجات دلائی۔ جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد حبیب بن مظاهر نے بڑی عمر کے باوجود امام کے رکاب میں بہادری سے تلوار چلائی اور دشمن کے لشکر کے تقریباً ۶۲ افراد کو ہلاک کیا۔ پھر دشمن کے لشکر سے "بدیل بن صریم عقفانی" نامی شخص نے حملہ کیا اور تلوار اس کے سر پر برسا دی، اس دوران ایک اور شخص نے نیزے سے ان پر حملہ کیا اور حبیب کو گھوڑے سے زمین پر گرا دیا۔ آخر میں جبکہ حبیب کی داڑھی ان کے سر کے خون سے رنگین تھی، بدیل نے ان کا سر تن سے جدا کر دیا۔

عاشورا کی دوپہر حبیب کی رجز خوانی کا متن

میں حبیب ہوں اور میرے والد مظهر ہیں، میدان جنگ کا بہادر اور نبرد آزما کی شعلہ ور آگ ہوں۔ تمہاری تعداد زیادہ اور بلند ہے، لیکن ہم حق کی راہ میں تم سے زیادہ وفادار اور بردبار ہیں۔ ہماری حجت تم سے بہتر اور واضح تر ہے، درحقیقت ہم تم سے زیادہ پرہیزگار اور قبولیت والے ہیں۔

حبیب بن مظاهر کی تدفین کی جگہ

جنگ کے اختتام کے بعد جب قبیلہ بنی اسد نے کربلا کے شہداء کی تدفین کا اقدام کیا، تو ان کے بزرگوں میں سے حبیب کی بے سر لاش کو امام حسین (علیہ السلام) کے پاکیزہ مزار سے دس میٹر کے فاصلے پر الگ سے دفن کیا۔ سالوں بعد حبیب بن مظاهر کا مرقد امام حسین (علیہ السلام) کے حرم کے اندر واقع ہو گیا اور اب اس کی جگہ حرم کے جنوبی رواق میں ہے۔ نیز ان کا سر علی اکبر اور عباس بن علی کے سر کے ساتھ شام میں "باب الصغیر" کے آرام گاہ میں سوریه دفن کیا گیا۔

ماخذ

ماخوذ از ویب سائٹ زندگی نامہ حبیب بن مظاهر - راسخون۔