مندرجات کا رخ کریں

"غزہ جنگ بندی: حقیقت اور انجام(مقاله)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
« '''غزہ جنگ بندی: حقیقت اور انجام —'''، غزہ جنگ 2023 کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اور صہیونی افواج کی رفح پر زمینی حملے کی تیاری کے دوران مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی ایک تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز مختلف اتار چڑھاؤ سے گزری اور بالآخر فلسطینی اسلا...» مواد پر مشتمل نیا صفحہ بنایا
 
 
(ایک دوسرے صارف 4 کے درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:


'''غزہ جنگ بندی: حقیقت اور انجام '''، غزہ جنگ 2023 کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اور صہیونی افواج کی رفح پر زمینی حملے کی تیاری کے دوران [[مصر]] اور [[قطر]] کی جانب سے جنگ بندی کی ایک تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز مختلف اتار چڑھاؤ سے گزری اور بالآخر فلسطینی اسلامی مزاحمت اور صہیونی حکومت کے درمیان حتمی اتفاق رائے حاصل نہ کرسکی۔ اس لیے اس تجویز کے متن اور اس سے متعلق امور کو سمجھنا ضروری ہے۔
'''غزہ جنگ بندی: حقیقت اور انجام '''، غزہ جنگ 2023ء کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اور صہیونی افواج کی [[رفح]] پر زمینی حملے کی تیاری کے دوران [[مصر]] اور [[قطر]] کی جانب سے جنگ بندی کی ایک تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز مختلف اتار چڑھاؤ سے گزری اور بالآخر فلسطینی اسلامی مزاحمت اور صہیونی حکومت کے درمیان حتمی اتفاق رائے حاصل نہ کرسکی۔ اس لیے اس تجویز کے متن اور اس سے متعلق امور کو سمجھنا ضروری ہے۔


== مصر اور قطر کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی تجویز ==
== مصر اور قطر کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی تجویز ==
سطر 21: سطر 21:
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ [[اسماعیل ہنیہ]] نے قطر کے وزیر اعظم اور [[مصر]] کے انٹیلی جنس وزیر سے رابطہ کرکے اس منصوبے پر حماس کی رضامندی سے آگاہ کیا۔
حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ [[اسماعیل ہنیہ]] نے قطر کے وزیر اعظم اور [[مصر]] کے انٹیلی جنس وزیر سے رابطہ کرکے اس منصوبے پر حماس کی رضامندی سے آگاہ کیا۔


حماس کے اس اقدام کو مختلف گروہوں اور متعدد ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل اور استقبال ملا۔
[[حماس]] کے اس اقدام کو مختلف گروہوں اور متعدد ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل اور استقبال ملا۔
 


==== صہیونی حکومت کا ردِعمل ====
==== صہیونی حکومت کا ردِعمل ====


صہیونی حکومت نے کہا کہ وہ اس تجویز سے متفق نہیں ہے، لیکن مزید مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
[[اسرائیل|صہیونی حکومت]] نے کہا کہ وہ اس تجویز سے متفق نہیں ہے، لیکن مزید مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
 
اس حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تمام مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب وہ غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور رفح پر حملہ کرنے سے دستبردار نہیں ہوگی۔


اس حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تمام مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب وہ [[غزہ]] پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور [[رفح]] پر حملہ کرنے سے دستبردار نہیں ہوگی۔


== مصر اور قطر کی تجویز کردہ جنگ بندی کا متن ==
== مصر اور قطر کی تجویز کردہ جنگ بندی کا متن ==
سطر 46: سطر 44:
مزید اقدامات:
مزید اقدامات:


- غزہ کی فضائی سرگرمیاں (فوجی اور جاسوسی) روزانہ 10 گھنٹے کے لیے معطل ہوں گی۔   
- [[غزہ]] کی فضائی سرگرمیاں (فوجی اور جاسوسی) روزانہ 10 گھنٹے کے لیے معطل ہوں گی۔   
- قیدیوں کے تبادلے کے دن یہ مدت 12 گھنٹے ہوگی۔
- قیدیوں کے تبادلے کے دن یہ مدت 12 گھنٹے ہوگی۔


سطر 142: سطر 140:


تیسرے مرحلے کا بنیادی مقصد دونوں فریقوں کے ہلاک شدگان کی لاشوں اور باقیات کا شناخت کے بعد تبادلہ کرنا ہے۔   
تیسرے مرحلے کا بنیادی مقصد دونوں فریقوں کے ہلاک شدگان کی لاشوں اور باقیات کا شناخت کے بعد تبادلہ کرنا ہے۔   
اس مرحلے میں بھی پہلے دو مراحل کی طرح [[غزہ پٹی]] میں انسانی امدادی اقدامات جاری رہیں گے۔   
اس مرحلے میں بھی پہلے دو مراحل کی طرح [[غزہ پٹی]] میں انسانی امدادی اقدامات جاری رہیں گے۔<ref>https://www. sna.ir/news/1402111813606/</ref>  


== حماس کا ضمیمہ ==
== حماس کا ضمیمہ ==
سطر 171: سطر 169:
8. غزہ کے پاور پلانٹ کے لیے درکار ایندھن کی فراہمی کی بحالی اور پانی و بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری۔
8. غزہ کے پاور پلانٹ کے لیے درکار ایندھن کی فراہمی کی بحالی اور پانی و بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری۔


[[حماس]] کے جواب کے مطابق مصر، قطر اور دیگر متعلقہ فریقین ان شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور ضمانت کے ذمہ دار ہوں گے۔
[[حماس]] کے جواب کے مطابق مصر، قطر اور دیگر متعلقہ فریقین ان شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور ضمانت کے ذمہ دار ہوں گے۔<ref>https://www. sna.ir/news/1402111813606/</ref>


== قطر کے وزیر اعظم کی جانب سے منصوبہ صہیونی فریق کو ارسال کرنا ==
== قطر کے وزیر اعظم کی جانب سے منصوبہ صہیونی فریق کو ارسال کرنا ==
سطر 177: سطر 175:
اس کے بعد قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ [[حماس]] کا جواب صہیونی فریق کو بھیج دیا گیا ہے۔
اس کے بعد قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ [[حماس]] کا جواب صہیونی فریق کو بھیج دیا گیا ہے۔


[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] اور [[اسرائیل|اسرائیلی]] حکام کو حماس کے جواب کی ایک نقل موصول ہوئی جس میں تین صفحات اور پیرس میں طے شدہ "فریم ورک معاہدے" میں ایک ترمیم شامل تھی۔
[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکی]] اور [[اسرائیل|اسرائیلی]] حکام کو حماس کے جواب کی ایک نقل موصول ہوئی جس میں تین صفحات اور پیرس میں طے شدہ "فریم ورک معاہدے" میں ایک ترمیم شامل تھی۔<ref>https://www. hatreh.com/news/nn14021102770460110848/</ref>
 


== حماس کے جواب کی وصولی کا اعتراف ==
== حماس کے جواب کی وصولی کا اعتراف ==


صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تل ابیب نے پیرس اجلاس کی تجویز پر حماس کا جواب ثالثوں سے موصول کر لیا ہے اور موساد کے ساتھ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔
صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تل ابیب نے پیرس اجلاس کی تجویز پر حماس کا جواب ثالثوں سے موصول کر لیا ہے اور موساد کے ساتھ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔<ref>https://www. hatreh.com/news/nn14021102770460110848/
</ref>


== صہیونی فریق کا مجوزہ مسودہ برائے جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ ==
== صہیونی فریق کا مجوزہ مسودہ برائے جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ ==
سطر 216: سطر 214:
- یہ سلسلہ تمام مراحل میں جاری رہے گا   
- یہ سلسلہ تمام مراحل میں جاری رہے گا   


# **قیدیوں کا تبادلہ**
==== قیدیوں کا تبادلہ ====


- حماس کم از کم 33 اسرائیلی قیدی (تمام خواتین، 19 سال سے کم عمر بچے، 50 سال سے زائد عمر افراد، بیمار اور زخمی) رہا کرے گی۔   
- حماس کم از کم 33 اسرائیلی قیدی (تمام خواتین، 19 سال سے کم عمر بچے، 50 سال سے زائد عمر افراد، بیمار اور زخمی) رہا کرے گی۔   
سطر 225: سطر 223:


عمر قید پانے والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی غزہ کے اندر یا باہر ممکن ہوگی۔
عمر قید پانے والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی غزہ کے اندر یا باہر ممکن ہوگی۔
---


==== تبادلے کا شیڈول ====
==== تبادلے کا شیڈول ====
سطر 253: سطر 249:


=== مرحلہ دوم (42 روز) ===   
=== مرحلہ دوم (42 روز) ===   
اس مرحلے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری مقدمات مکمل کیے جاتے ہیں اور اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکل جاتی ہے۔   
اس مرحلے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری مقدمات مکمل کیے جاتے ہیں اور اسرائیلی فوج [[غزہ]] سے باہر نکل جاتی ہے۔   


اسی مرحلے میں غزہ کی جامع تعمیرِ نو، تباہ شدہ گھروں، شہری تنصیبات اور غیر عسکری بنیادی ڈھانچے کی بازسازی کا عمل آغاز پاتا ہے، جو جنگ کے نتیجے میں برباد ہوئے تھے۔
اسی مرحلے میں غزہ کی جامع تعمیرِ نو، تباہ شدہ گھروں، شہری تنصیبات اور غیر عسکری بنیادی ڈھانچے کی بازسازی کا عمل آغاز پاتا ہے، جو جنگ کے نتیجے میں برباد ہوئے تھے۔
سطر 265: سطر 261:
فلسطینی فریق کو فوجی تنصیبات یا عسکری زیرساختوں کی تعمیرِ نو سے روک دیا جائے گا اور کسی بھی ایسے آلات، مواد یا اشیاء کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جن کے استعمال سے عسکری مقاصد حاصل ہوسکتے ہوں۔
فلسطینی فریق کو فوجی تنصیبات یا عسکری زیرساختوں کی تعمیرِ نو سے روک دیا جائے گا اور کسی بھی ایسے آلات، مواد یا اشیاء کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جن کے استعمال سے عسکری مقاصد حاصل ہوسکتے ہوں۔


ضامن ممالک: [[قطر]]، [[مصر]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ۔]]   
ضامن ممالک: [[قطر]]، [[مصر]] اور [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ۔]]<ref>کد خبر 6093948 خبرگزاری مهر</ref>  


== حماس کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی پر تاکید ==
== حماس کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی پر تاکید ==
سطر 282: سطر 278:


حسام بدران نے الجزیرہ کو بتایا کہ نیتن یاہو اور اس کی انتہاپسند کابینہ جان بوجھ کر بے معنی بہانے تراش کر مذاکرات اور جنگ بندی کے عمل میں خلل ڈال رہی ہے۔
حسام بدران نے الجزیرہ کو بتایا کہ نیتن یاہو اور اس کی انتہاپسند کابینہ جان بوجھ کر بے معنی بہانے تراش کر مذاکرات اور جنگ بندی کے عمل میں خلل ڈال رہی ہے۔


=== سابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے غزہ جنگ کے مقاصد پر سوال ===
=== سابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے غزہ جنگ کے مقاصد پر سوال ===
سطر 290: سطر 285:
انہوں نے روزنامہ ہاآرتص میں لکھا:
انہوں نے روزنامہ ہاآرتص میں لکھا:


- اکثریت کا خیال ہے کہ رفح پر حملے کا مقصد صرف نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بچانا ہے۔   
- اکثریت کا خیال ہے کہ [[رفح]] پر حملے کا مقصد صرف نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بچانا ہے۔   
- یہ حملہ اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔   
- یہ حملہ اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔   
- نیتن یاہو حقیقت سے کٹا ہوا ہے اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر خود کو تاریخی نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔
- نیتن یاہو حقیقت سے کٹا ہوا ہے اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر خود کو تاریخی نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔
سطر 296: سطر 291:
انہوں نے اعتراف کیا:   
انہوں نے اعتراف کیا:   
"یہ کہنا جذباتی طور مشکل ہے، لیکن اسرائیل اس تصادم سے فاتح نہیں نکلے گا۔"
"یہ کہنا جذباتی طور مشکل ہے، لیکن اسرائیل اس تصادم سے فاتح نہیں نکلے گا۔"


== اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے قریب آنے کا دعویٰ ==
== اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے قریب آنے کا دعویٰ ==
سطر 308: سطر 302:
- امریکی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔   
- امریکی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔   


حماس نے بیان میں کہا:
[[حماس]] نے بیان میں کہا:


- ہم نے جنگ بندی کی نئی تجویز پر مثبت ردعمل دکھایا ہے۔   
- ہم نے جنگ بندی کی نئی تجویز پر مثبت ردعمل دکھایا ہے۔   
- ہم اس معاہدے کے لیے مصمم ہیں جو جنگ کے خاتمے، قابض فوج کے انخلا اور بے گھر افراد کی واپسی کا باعث بنے۔
- ہم اس معاہدے کے لیے مصمم ہیں جو [[جنگ]] کے خاتمے، قابض فوج کے انخلا اور بے گھر افراد کی واپسی کا باعث بنے۔
 
حماس کے وفد کے سربراہ خلیل الحیہ ہیں، اور وفد میں زاہر جبارین اور محمد نصر بھی شامل ہیں۔


[[حماس]] کے وفد کے سربراہ [[خلیل الحیہ]] ہیں، اور وفد میں زاہر جبارین اور محمد نصر بھی شامل ہیں۔


== اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی میں عدم دلچسپی ==
== اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی میں عدم دلچسپی ==
سطر 330: سطر 323:
- حتیٰ کہ عدالت میں اس کی گرفتاری کی راہ ہموار ہوسکتی تھی   
- حتیٰ کہ عدالت میں اس کی گرفتاری کی راہ ہموار ہوسکتی تھی   


اس لیے اسرائیل حملہ کرنے پر مجبور تھا۔
اس لیے [[اسرائیل]] حملہ کرنے پر مجبور تھا۔


معروف تجزیہ کار رونن برگمن کے مطابق:   
معروف تجزیہ کار رونن برگمن کے مطابق:   
سطر 339: سطر 332:
نیویارک ٹائمز کے مطابق:
نیویارک ٹائمز کے مطابق:


- دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کے خلاف سفارتی اقدامات کر رہے ہیں   
- دنیا کے کئی ممالک [[اسرائیل]] کے خلاف سفارتی اقدامات کر رہے ہیں   
- متعدد ممالک نے تعلقات کم یا منقطع کر دیے ہیں   
- متعدد ممالک نے تعلقات کم یا منقطع کر دیے ہیں   


=== ترکی ===
=== ترکی ===
ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کردی، جو عالمی دباؤ کا ایک اہم اشارہ ہے۔   
[[ترکی]] نے [[اسرائیل]] کے ساتھ تجارت معطل کردی، جو عالمی دباؤ کا ایک اہم اشارہ ہے۔   
اردوغان کے حماس کو “آزادی کی تحریک” کہنے کے بعد تل ابیب نالاں ہے۔
اردوغان کے حماس کو “آزادی کی تحریک” کہنے کے بعد تل ابیب نالاں ہے۔


سطر 358: سطر 351:


== مغربی اتحادیوں کی متضاد پوزیشن ==
== مغربی اتحادیوں کی متضاد پوزیشن ==
امریکہ، برطانیہ اور جرمنی اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن غزہ کی انسانی صورتحال پر ان کی تنقید بڑھ گئی ہے۔
[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]]، برطانیہ اور جرمنی اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن غزہ کی انسانی صورتحال پر ان کی تنقید بڑھ گئی ہے۔


بحرین اور اردن نے بھی سفرا واپس بلا لیے۔
بحرین اور اردن نے بھی سفرا واپس بلا لیے۔
سطر 368: سطر 361:


=== انتخابی مفاد ===
=== انتخابی مفاد ===
امریکہ کا مقصد بظاہر جنگ بندی کو بطور انتخابی کارڈ استعمال کرنا ہے۔
[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] کا مقصد بظاہر جنگ بندی کو بطور انتخابی کارڈ استعمال کرنا ہے۔


=== جنگ بندی کو اسرائیلی شرط سے مشروط کرنا ===
=== جنگ بندی کو اسرائیلی شرط سے مشروط کرنا ===
سطر 374: سطر 367:
"اگر حماس قیدی چھوڑ دے، تو کل ہی جنگ بندی ممکن ہے۔"
"اگر حماس قیدی چھوڑ دے، تو کل ہی جنگ بندی ممکن ہے۔"


حماس نے اسے امریکی پسپائی اور اسرائیل نوازی قرار دیا۔
[[حماس]] نے اسے امریکی پسپائی اور اسرائیل نوازی قرار دیا۔<ref>https://fa.alalam.ir/news/6863808</ref>


=== اسلحے کی ترسیل روکنے کا دعویٰ — اور پھر عملی انحراف ===
=== اسلحے کی ترسیل روکنے کا دعویٰ — اور پھر عملی انحراف ===
امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے رفح حملے کے سبب اسلحے کی ترسیل روکی ہے۔   
[[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] نے دعویٰ کیا کہ اس نے رفح حملے کے سبب اسلحے کی ترسیل روکی ہے۔<ref>https://inn. r/news/article/66067/</ref>  
لیکن بعد میں امریکی کانگریس نے قانون منظور کیا جس میں کہا گیا:
لیکن بعد میں امریکی کانگریس نے قانون منظور کیا جس میں کہا گیا:


“کسی بھی صورت میں اسرائیل کی اسلحہ سپلائی نہ روکی جائے۔”
“کسی بھی صورت میں [[اسرائیل]] کی اسلحہ سپلائی نہ روکی جائے۔”<ref>https://inn.ir/news/article/66067/.</ref>


== قاہرہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ ==
== قاہرہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ ==
سطر 386: سطر 379:
الاخبار کے مطابق:
الاخبار کے مطابق:


- امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک **سیاسی چال** چلی   
- امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک سیاسی چال چلی   
- پیش کردہ تجاویز نے فلسطینی مطالبات میں سے کسی کو پورا نہیں کیا   
- پیش کردہ تجاویز نے فلسطینی مطالبات میں سے کسی کو پورا نہیں کیا   
- مستقل جنگ بندی کا ذکر تک نہ تھا   
- مستقل جنگ بندی کا ذکر تک نہ تھا   
سطر 392: سطر 385:
- شمالی غزہ کی واپسی مشروط تھی   
- شمالی غزہ کی واپسی مشروط تھی   
- اسرائیلی چیک پوسٹیں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا   
- اسرائیلی چیک پوسٹیں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا   
- مصر کی افواج کو اسرائیلی چیکنگ کا متبادل بنانے کی تجویز دی گئی   
- مصر کی افواج کو [[اسرائیل|اسرائیلی]] چیکنگ کا متبادل بنانے کی تجویز دی گئی   
- کمک تقسیم کا نظام بھی اسرائیل کی نگرانی میں رکھا گیا   
- کمک تقسیم کا نظام بھی اسرائیل کی نگرانی میں رکھا گیا   
- قیدیوں کے تبادلے کی اسرائیلی شرائط انتہائی یکطرفہ تھیں   
- قیدیوں کے تبادلے کی اسرائیلی شرائط انتہائی یکطرفہ تھیں   


ان تمام وجوہات کی بنا پر حماس نے تجویز مسترد کردی۔
ان تمام وجوہات کی بنا پر حماس نے تجویز مسترد کردی۔<ref>https://inn.ir/news/article/60894/</ref>


== جبهۂ مقاومت کا اصولی موقف ==
== جبهۂ مقاومت کا اصولی موقف ==


"جب تک فلسطین اپنے اصل مالکان کو واپس نہیں ملتا، مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا…  
اگلا موضوع [[فلسطین]] کے جاری مسئلے سے متعلق ہے۔ ہمارے نزدیک جب تک فلسطین اپنے اصل مالکان کو واپس نہیں ملتا، مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر بیس یا تیس سال بعد بھی اس نظام کو قائم رکھنے کی کوشش کی جائے — اور ان شاء اللہ وہ ایسا نہیں کر سکیں گے — تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہے جب فلسطین اپنے اصل مالکان، یعنی فلسطینی عوام کو واپس مل جائے۔  
فلسطین مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں سب کا ہے، اس کا فیصلہ اہلِ فلسطین کریں… 
 
اگر خطے کے کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر بھی لے آئیں تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ عوام انہی حکومتوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے…  
فلسطین فلسطینی عوام کی ملکیت ہے؛ ان میں [[مسلمان]] بھی ہیں، عیسائی بھی اور یہودی بھی۔ فلسطین انہی کا ہے۔ فلسطین انہیں واپس دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا نظام اور حکومت قائم کریں، پھر وہ خود فیصلہ کریں کہ صہیونیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا ہے؛ انہیں نکالنا ہے یا رہنے دینا ہے۔ یہ فیصلہ خود فلسطینی عوام کریں۔ یہی وہ حل ہے جسے ہم نے چند سال پہلے پیش کیا تھا اور بظاہر اسے اقوام متحدہ میں بھی درج کیا گیا تھا۔ ہم اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
دباؤ اسرائیل پر بڑھنا چاہیے…"
 
کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر خطے کے ممالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لے آئیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ ایک غلط تصور ہے۔ فرض کریں کہ آس پاس کے مختلف ممالک، بالخصوص عرب ممالک، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لے بھی آئیں، تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ بلکہ مسئلہ خود انہی حکومتوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ یعنی وہ حکومتیں جنہوں نے ان جرائم کو نظر انداز کیا اور اس کے باوجود اس حکومت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا، ان کے اپنے عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اگر آج خطے کے عوام صہیونی حکومت کے خلاف ہیں تو اس صورت میں وہ اپنی حکومتوں کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ مسئلے کا حقیقی حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کو واپس دیا جائے۔  
 
یہ کہا جا سکتا ہے کہ [[سید علی خامنہ ای|رہبر معظم انقلاب]] کی حالیہ دو تقاریر میں دی گئی ہدایات دراصل [[مقاومتی بلاک|محورِ مقاومت]] کی حکمتِ عملی کو واضح کرتی ہیں اور غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے تناظر میں ایک واضح پیغام دیتی ہیں۔ اس پیغام کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا اصول دو الگ امور ہیں۔ جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ دراصل ایک حکمتِ عملی ہو سکتا ہے جس کا مقصد صہیونی حکومت کو قابو میں رکھنا، اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کو مزید نمایاں کرنا اور فلسطینی عوام کے دکھ درد کو کم کرنا ہے؛ نہ کہ مزاحمت کا خاتمہ۔ 
 
لہٰذا کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد مزاحمت اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دے گی۔ اسی طرح بعض حلقوں کو دوبارہ امریکہ اور اسرائیل کی صلح پسندی کے دعووں کو نمایاں کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے؛ کیونکہ اوسلو معاہدہ، کیمپ ڈیوڈ اور دیگر معاہدات — اور خصوصاً چند ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی جس پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا — سب کے سامنے موجود ہیں۔ 
 
رہبر کے اس بیان کہ “جب تک فلسطین اپنے اصل مالکان کو واپس نہیں ملتا، مسئلہ حل نہیں ہوگا” کا اشارہ اسی بنیادی اصول کی طرف ہے۔ اسی تناظر میں حماس کے سینئر رہنما **اسامہ حمدان** نے بھی کہا ہے کہ مزاحمت اب اسرائیلی دشمن کے ساتھ مستقل تصادم کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔ 
 
مزید برآں رہبر نے کہا: 
“[[ایران|اسلامی جمہوریہ ایران]] فلسطین کی حمایت میں کسی کا انتظار نہیں کرتا اور نہ کرے گا… اور ایسے نظام پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟” 
 
اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غزہ کی مزاحمت کسی جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچ بھی جائے تو وہ اپنی طاقت پر انحصار کرے گی اور امریکہ کے وعدوں یا سلامتی کونسل کی تحریری ضمانتوں پر اعتماد نہیں کرے گی، کیونکہ ماضی میں ان کی کوئی عملی ضمانت ثابت نہیں ہوئی۔ 
 
اسی لیے اس بات پر زور دیا گیا کہ [[اسرائیل]] پر دباؤ بڑھایا جانا چاہیے تاکہ: 
 
- مذاکرات میں مزاحمت مضبوط پوزیشن سے کسی بھی معاہدے تک پہنچ سکے۔ 
- اسرائیل تیسرے مرحلے کے نفاذ سے پیچھے نہ ہٹ سکے اور دھوکہ دہی کی صورت میں اسے زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے۔ 
- صہیونی فوجی مشینری کو محدود کرنے کے لیے خاص طور پر بحیرۂ روم میں دباؤ بڑھایا جائے۔ 
 
اسی تناظر میں یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ اگر [[رفح]] پر حملہ کیا گیا تو بحیرۂ روم میں اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یمن سے مشرقی بحیرۂ روم کا فاصلہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔
<ref>بیانات رهبر معظم انقلاب به مناسبت گرامیداشت روز معلّم، 1403/02/12
https://kayhan.ir/fa/news/288091</ref>
 
== متعلقه مضامین ==
* [[غزہ]]
* [[فلسطین]]
* [[حماس]]
* [[رفح]]


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==

حالیہ نسخہ بمطابق 21:30، 6 جون 2026ء

غزہ جنگ بندی: حقیقت اور انجام ، غزہ جنگ 2023ء کے تقریباً آٹھ ماہ بعد اور صہیونی افواج کی رفح پر زمینی حملے کی تیاری کے دوران مصر اور قطر کی جانب سے جنگ بندی کی ایک تجویز پیش کی گئی۔ یہ تجویز مختلف اتار چڑھاؤ سے گزری اور بالآخر فلسطینی اسلامی مزاحمت اور صہیونی حکومت کے درمیان حتمی اتفاق رائے حاصل نہ کرسکی۔ اس لیے اس تجویز کے متن اور اس سے متعلق امور کو سمجھنا ضروری ہے۔

مصر اور قطر کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی تجویز

غزہ جنگ 2023 کے تقریباً 215 دن گزرنے کے بعد مصر اور قطر نے جنگ بندی کی تجویز پیش کی۔ اس منصوبے کو تین مراحل نافذ کیا جانا تھا۔ اگر یہ مکمل طور پر نافذ ہوجاتا تو اس کے نتیجے میں:

- لڑائی میں ابتدائی وقفہ - پائیدار امن - صہیونی افواج کا فلسطینی سرزمین سے انخلا

ممکن ہو سکتا تھا۔

اس مجوزہ معاہدے میں غزہ میں موجود صہیونی قیدیوں کی رہائی اور صہیونی جیلوں میں قید فلسطینی قیدیوں کی نامعلوم تعداد کی رہائی بھی شامل تھی۔

ابتدائی ردِعمل

حماس کا ردِعمل

اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے مصر اور قطر کی جانب سے پیش کردہ جنگ بندی کی تجویز سے اپنی موافقت کا اعلان کیا۔ حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے قطر کے وزیر اعظم اور مصر کے انٹیلی جنس وزیر سے رابطہ کرکے اس منصوبے پر حماس کی رضامندی سے آگاہ کیا۔

حماس کے اس اقدام کو مختلف گروہوں اور متعدد ممالک کی جانب سے مثبت ردعمل اور استقبال ملا۔

صہیونی حکومت کا ردِعمل

صہیونی حکومت نے کہا کہ وہ اس تجویز سے متفق نہیں ہے، لیکن مزید مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔

اس حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تمام مذاکرات اس وقت ہو رہے ہیں جب وہ غزہ پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے اور رفح پر حملہ کرنے سے دستبردار نہیں ہوگی۔

مصر اور قطر کی تجویز کردہ جنگ بندی کا متن

یہ فریم ورک تین باہم مربوط مراحل پر مشتمل تھا۔

پہلا مرحلہ

اس مرحلے میں دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کارروائیوں کی عارضی بندش شامل تھی۔

اس کے مطابق:

- صہیونی افواج گنجان آباد علاقوں سے ہٹ کر غزہ کی سرحد کے قریب ایک مخصوص علاقے کی طرف پیچھے ہٹیں گی۔ - یہ علاقہ وادی غزہ (Netzarim Corridor) اور میدان الکویت سمیت پوری غزہ پٹی کے ساتھ واقع ہوگا۔

مزید اقدامات:

- غزہ کی فضائی سرگرمیاں (فوجی اور جاسوسی) روزانہ 10 گھنٹے کے لیے معطل ہوں گی۔ - قیدیوں کے تبادلے کے دن یہ مدت 12 گھنٹے ہوگی۔

اس مرحلے میں:

- غزہ کے اندرونی بے گھر افراد کو اپنے رہائشی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت ہوگی۔ - صہیونی فوج وادی غزہ، نتزاریم کوریڈور اور میدان الکویت سے پیچھے ہٹ جائے گی۔

دوسرا مرحلہ (42 دن)

اس مرحلے میں:

- مستقل امن کا اعلان کیا جائے گا۔ - تمام فوجی اور جارحانہ کارروائیاں مستقل طور پر روک دی جائیں گی۔ - صہیونی افواج مکمل طور پر غزہ پٹی سے نکل جائیں گی۔

تیسرا مرحلہ (42 دن)

اس مرحلے میں:

- دونوں فریقوں کے لاشوں اور باقیات کا تبادلہ شناخت کے بعد کیا جائے گا۔

اسی مرحلے میں:

- غزہ کی تعمیر نو کا منصوبہ شروع ہوگا۔ - اس کی مدت تقریباً 3 سے 5 سال ہوگی۔ - اس میں مکانات، شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر شامل ہوگی۔

اس کے ساتھ:

- تمام متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا۔ - تعمیر نو کی نگرانی مصر، قطر اور اقوام متحدہ سمیت متعدد ممالک اور ادارے کریں گے۔[1]

اسی منصوبے میں:

- غزہ کی مکمل ناکہ بندی کے خاتمے کا بھی ذکر تھا۔[2]

اس جنگ بندی معاہدے کے ضامن:

- قطر - مصر - امریکہ - اقوام متحدہ

قرار دیے گئے تھے۔[3]

حماس کی منظور شدہ تجویز (ضمائم کے ساتھ)

پہلا مرحلہ (45 دن)

اس مرحلے میں:

- تمام صہیونی قیدیوں (خواتین، 19 سال سے کم عمر افراد، بوڑھے اور بیمار افراد) کو رہا کیا جائے گا۔ - اس کے بدلے میں ایک معین تعداد میں فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

اس مرحلے میں مزید شامل تھا:

- غزہ میں انسانی امداد میں نمایاں اضافہ - صہیونی افواج کا گنجان آباد علاقوں سے انخلا - اسپتالوں، گھروں اور شہری تنصیبات کی تعمیر نو شروع کرنے کی اجازت

اسی مرحلے میں:

- اقوام متحدہ اور اس کے اداروں کو انسانی امداد فراہم کرنے کی اجازت ہوگی۔ - غزہ کے شہریوں کے لیے پناہ گاہی کیمپ قائم کیے جائیں گے۔

اسی دوران:

- غزہ میں مکمل امن کی بحالی کے لیے بالواسطہ مذاکرات بھی شروع ہوں گے۔

پہلے مرحلے کی تفصیلات اس معاہدے کا لازمی حصہ تھیں، بشرطیکہ دوسرے اور تیسرے مرحلے کی تفصیلات پہلے مرحلے کے دوران طے پا جائیں۔

دوسرا مرحلہ (45 دن)

دوسرے مرحلے کے آغاز سے پہلے ضروری تھا کہ:

- جنگ بندی کے تسلسل اور مکمل امن کی شرائط پر بالواسطہ مذاکرات مکمل ہو جائیں۔

اس مرحلے کا مقصد:

- تمام صہیونی مرد قیدیوں (فوجی اور شہری) کی رہائی - اس کے بدلے میں فلسطینی قیدیوں کی ایک متعین تعداد کی رہائی

اسی کے ساتھ:

- انسانی امداد کے اقدامات جاری رہیں گے۔ - صہیونی افواج غزہ کی تمام سرحدوں سے باہر مکمل طور پر نکل جائیں گی۔

اس مرحلے میں:

- غزہ کے تباہ شدہ گھروں، تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو بھی شروع ہوگی، - جو پہلے مرحلے میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق ہوگی۔

تیسرا مرحلہ (45 دن)

تیسرے مرحلے کا بنیادی مقصد دونوں فریقوں کے ہلاک شدگان کی لاشوں اور باقیات کا شناخت کے بعد تبادلہ کرنا ہے۔ اس مرحلے میں بھی پہلے دو مراحل کی طرح غزہ پٹی میں انسانی امدادی اقدامات جاری رہیں گے۔[4]

حماس کا ضمیمہ

حماس کی تجویز کے مطابق اس معاہدے کے مقاصد درج ذیل ہیں:

- دونوں فریقوں کے درمیان باہمی فوجی کارروائیوں کا مکمل خاتمہ - مکمل اور پائیدار امن کا قیام - قیدیوں کا تبادلہ - غزہ کی ناکہ بندی کا خاتمہ - تعمیر نو - رہائشیوں اور بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی - غزہ کے تمام علاقوں میں رہائشیوں کے لیے رہائش اور امدادی ضروریات کی فراہمی

یہ تمام امور تین مراحل میں مکمل کیے جائیں گے۔

حماس کے ضمیمے کی اہم شقیں

حماس کی جانب سے شامل کردہ ضمیمہ میں چند اہم ضمانتیں شامل ہیں:

1. فلسطینی قیدیوں کو اسی سابقہ الزام کی بنیاد پر دوبارہ گرفتار نہ کرنے کے لیے قانونی اقدامات کی تکمیل۔ 2. قابض حکومت کی جیلوں میں قیدیوں کے حالات میں بہتری اور 7 اکتوبر 2023 کے بعد نافذ کی گئی سزاؤں اور پابندیوں کا خاتمہ۔ 3. مسجد الاقصیٰ پر صہیونی آبادکاروں کے حملوں اور یلغار کا خاتمہ اور مسجد الاقصیٰ کی صورتِ حال کو 2002 سے پہلے والی حالت میں بحال کرنا۔ 4. روزانہ کی بنیاد پر ضروری مقدار میں امداد اور ایندھن کی فراہمی میں اضافہ۔ 5. غزہ کے تمام علاقوں میں بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی اور آبادی کی آزادانہ نقل و حرکت کی ضمانت، خصوصاً جنوب سے شمال کی جانب۔ 6. غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہوں کا کھولنا، تجارت کی بحالی اور افراد و سامان کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت۔ 7. رفح گزرگاہ کے ذریعے مسافروں، مریضوں اور زخمیوں کی آمد و رفت پر عائد تمام پابندیوں کا خاتمہ۔ 8. غزہ کے پاور پلانٹ کے لیے درکار ایندھن کی فراہمی کی بحالی اور پانی و بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی ذمہ داری۔

حماس کے جواب کے مطابق مصر، قطر اور دیگر متعلقہ فریقین ان شقوں پر عمل درآمد کی نگرانی اور ضمانت کے ذمہ دار ہوں گے۔[5]

قطر کے وزیر اعظم کی جانب سے منصوبہ صہیونی فریق کو ارسال کرنا

اس کے بعد قطر کے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی نے دوحہ میں امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ حماس کا جواب صہیونی فریق کو بھیج دیا گیا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام کو حماس کے جواب کی ایک نقل موصول ہوئی جس میں تین صفحات اور پیرس میں طے شدہ "فریم ورک معاہدے" میں ایک ترمیم شامل تھی۔[6]

حماس کے جواب کی وصولی کا اعتراف

صہیونی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق تل ابیب نے پیرس اجلاس کی تجویز پر حماس کا جواب ثالثوں سے موصول کر لیا ہے اور موساد کے ساتھ اس کا جائزہ لے رہا ہے۔[7]

صہیونی فریق کا مجوزہ مسودہ برائے جنگ بندی اور قیدیوں کا تبادلہ

اس مسودے کا مکمل متن درج ذیل نکات پر مشتمل ہے:

یہ معاہدہ اسرائیلی اور فلسطینی فریق کے درمیان غزہ میں قیدیوں اور زیر حراست افراد کے تبادلے اور پائیدار امن کی بحالی کے لیے بنیادی اصول طے کرتا ہے۔

اس کا مقصد غزہ میں موجود تمام اسرائیلی قیدیوں (فوجی، شہری، زندہ یا مردہ) کی رہائی ہے۔ معاہدے کی تمام شقوں اور ٹائم لائن کی پابندی پائیدار جنگ بندی کے لیے لازمی قرار دی گئی ہے۔

یہ معاہدہ تین مراحل پر مشتمل ہے:

پہلا مرحلہ (40 دن — قابل توسیع)

فوجی اقدامات

- دونوں فریقوں کے درمیان فوجی کارروائیوں کی عارضی بندش - اسرائیلی افواج کا مشرقی غزہ سے سرحدی علاقوں کی جانب انخلا (غزہ کے میدان کو چھوڑ کر) - روزانہ 8 گھنٹے فضائی پروازوں کی بندش (تبادلے کے دنوں میں 10 گھنٹے) - شہری بے گھر افراد کی اپنے گھروں کو واپسی

مخصوص انخلا کی تاریخیں

- ساتویں دن (تمام خواتین قیدیوں کی رہائی کے بعد) اسرائیلی افواج شارع الرشید سے مشرق کی جانب ہٹیں گی تاکہ انسانی امداد کی ترسیل آسان ہو۔ - بائیسویں دن (دو تہائی اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے بعد) اسرائیلی افواج وسطی غزہ (محور الشہداء نتساریم اور میدان الکویت) سے سرحدی علاقوں کی جانب واپس جائیں گی تاکہ شمالی غزہ میں بے گھر افراد کی واپسی ممکن ہو۔

انسانی امداد

- روزانہ 500 ٹرک امداد (جن میں 50 ٹرک ایندھن کے ہوں گے) - 250 ٹرک شمالی غزہ جائیں گے - ایندھن بجلی گھروں، تجارتی مراکز، ملبہ ہٹانے، اسپتالوں اور بیکریوں کی بحالی کے لیے استعمال ہوگا - یہ سلسلہ تمام مراحل میں جاری رہے گا

قیدیوں کا تبادلہ

- حماس کم از کم 33 اسرائیلی قیدی (تمام خواتین، 19 سال سے کم عمر بچے، 50 سال سے زائد عمر افراد، بیمار اور زخمی) رہا کرے گی۔ - اسرائیل ہر اسرائیلی خاتون یا بچے کے بدلے 20 فلسطینی خواتین یا بچوں کو رہا کرے گا۔ - ہر اسرائیلی بزرگ یا بیمار قیدی کے بدلے 20 فلسطینی بزرگ یا بیمار قیدی رہا کیے جائیں گے (بشرطیکہ ان کی سزا کے 10 سال سے زیادہ باقی نہ ہوں)۔ - اسرائیل ہر ایک اسرائیلی قیدی کے بدلے 40 فلسطینی قیدی رہا کرے گا (20 عمر قید اور 20 ایسے جن کی سزا کے 10 سال سے کم باقی ہوں)۔ - اسرائیل 200 ناموں تک مسترد کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

عمر قید پانے والے فلسطینی قیدیوں کی رہائی غزہ کے اندر یا باہر ممکن ہوگی۔

تبادلے کا شیڈول

- پہلے دن حماس 3 اسرائیلی قیدی رہا کرے گی۔ - ہر تین دن بعد 3 مزید قیدی رہا کیے جائیں گے۔ - یہ عمل 33 دن تک جاری رہے گا۔ - اسرائیل بھی متفقہ فہرست کے مطابق فلسطینی قیدی رہا کرے گا۔

ساتویں دن تک حماس باقی قیدیوں کی مکمل فہرست فراہم کرے گی۔ 34ویں دن سے اضافی رہائیاں شروع ہوں گی۔ ہر اضافی قیدی کی رہائی کے بدلے ایک دن کی عارضی جنگ بندی میں توسیع ہوگی۔

تبادلے کا تسلسل معاہدے کی شقوں (جنگ بندی، فوجی انخلا، بے گھر افراد کی واپسی اور امداد کی ترسیل) کی پابندی سے مشروط ہوگا۔

دیگر شقیں

- آزاد شدہ فلسطینی قیدیوں کو سابقہ الزامات پر دوبارہ گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ - پہلے مرحلے کی بنیادیں دوسرے مرحلے کے لیے خودکار طور پر لاگو نہیں ہوں گی۔ - پہلے مرحلے کے آغاز کے 16 دن کے اندر (نصف قیدیوں کی رہائی کے بعد) مستقل جنگ بندی کے لیے بالواسطہ مذاکرات شروع ہوں گے۔ - اقوام متحدہ اور دیگر ادارے انسانی خدمات جاری رکھیں گے۔ - غزہ کے بنیادی ڈھانچے (بجلی، پانی، نکاسی، مواصلات، سڑکیں) کی بحالی شروع ہوگی۔ - سول ڈیفنس کے لیے آلات کی فراہمی کی اجازت ہوگی۔ - بے گھر افراد کے لیے کیمپ قائم کرنے کے لیے ضروری سامان کی فراہمی جاری رہے گی۔ - معاہدے کے 14ویں دن سے زخمی فوجیوں کو علاج کے لیے رفح گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت دی جائے گی۔

مرحلہ دوم (42 روز)

اس مرحلے میں پائیدار جنگ بندی کے لیے ضروری مقدمات مکمل کیے جاتے ہیں اور اسرائیلی فوج غزہ سے باہر نکل جاتی ہے۔

اسی مرحلے میں غزہ کی جامع تعمیرِ نو، تباہ شدہ گھروں، شہری تنصیبات اور غیر عسکری بنیادی ڈھانچے کی بازسازی کا عمل آغاز پاتا ہے، جو جنگ کے نتیجے میں برباد ہوئے تھے۔

مرحلہ سوم (42 روز)

دونوں فریقوں کے درمیان تمام ہلاک شدگان کی لاشوں کا شناخت کے بعد تبادلہ کیا جائے گا۔

اس مرحلے میں پانچ سالہ بازسازی منصوبہ شروع ہوگا جس میں مکانات، شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو شامل ہوگی۔

فلسطینی فریق کو فوجی تنصیبات یا عسکری زیرساختوں کی تعمیرِ نو سے روک دیا جائے گا اور کسی بھی ایسے آلات، مواد یا اشیاء کو غزہ میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی جن کے استعمال سے عسکری مقاصد حاصل ہوسکتے ہوں۔

ضامن ممالک: قطر، مصر اور امریکہ۔[8]

حماس کی جانب سے مذاکرات اور جنگ بندی پر تاکید

حماس کے رہنما حسام بدران نے (۱۴۰۳/۰۲/۱۵) الجزیرہ مباشر سے گفتگو میں کہا:

• ہم جنگ بندی کے مذاکرات کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہے ہیں اور ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو فلسطینی عوام کی تکالیف کے خاتمے کا باعث بنے۔ • نیتن یاہو اور اس کی انتہاپسند کابینہ بے بنیاد بہانوں کے ذریعے مذاکرات کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ نیتن یاہو کی سیاسی خواہشات اور شخصی حساب کتاب ہی اس کی پالیسیوں پر اثر انداز ہیں اور وہ کسی حقیقی معاہدے کا خواہاں نہیں۔

انہوں نے کہا: اس دور کے مذاکرات میں ہمیں جو تجاویز دی گئیں، وہ سابقہ تجاویز سے بہتر تھیں۔ ہم بالواسطہ طور پر امریکہ سے رابطے میں ہیں، براہِ راست نہیں۔

نیتن یاہو کی جانب سے مذاکرات میں رکاوٹ

حسام بدران نے الجزیرہ کو بتایا کہ نیتن یاہو اور اس کی انتہاپسند کابینہ جان بوجھ کر بے معنی بہانے تراش کر مذاکرات اور جنگ بندی کے عمل میں خلل ڈال رہی ہے۔

سابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے غزہ جنگ کے مقاصد پر سوال

سابق وزیراعظم ایہود اولمرت نے اسرائیلی عوام سے مطالبہ کیا کہ وہ سڑکوں پر نکل کر نیتن یاہو، بن گویر اور سمتریچ کے گروہ کا محاصرہ کریں؛ اس نے اس گروہ کو غیرقانونی قرار دیا جو اسرائیل کو تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔

انہوں نے روزنامہ ہاآرتص میں لکھا:

- اکثریت کا خیال ہے کہ رفح پر حملے کا مقصد صرف نیتن یاہو کا سیاسی مستقبل بچانا ہے۔ - یہ حملہ اسرائیل کے مفاد میں نہیں۔ - نیتن یاہو حقیقت سے کٹا ہوا ہے اور خود فریبی میں مبتلا ہو کر خود کو تاریخی نجات دہندہ تصور کرتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا: "یہ کہنا جذباتی طور مشکل ہے، لیکن اسرائیل اس تصادم سے فاتح نہیں نکلے گا۔"

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کے قریب آنے کا دعویٰ

میڈیا رپورٹس کے مطابق حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔

مصری سیکیورٹی ذرائع کے مطابق:

- بیشتر اختلافی نکات پر اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ - حماس کا وفد قاہرہ پہنچ گیا ہے اور مذاکرات میں خاطر خواہ پیشرفت ہوئی ہے۔ - امریکی دباؤ بھی بڑھ رہا ہے۔

حماس نے بیان میں کہا:

- ہم نے جنگ بندی کی نئی تجویز پر مثبت ردعمل دکھایا ہے۔ - ہم اس معاہدے کے لیے مصمم ہیں جو جنگ کے خاتمے، قابض فوج کے انخلا اور بے گھر افراد کی واپسی کا باعث بنے۔

حماس کے وفد کے سربراہ خلیل الحیہ ہیں، اور وفد میں زاہر جبارین اور محمد نصر بھی شامل ہیں۔

اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی میں عدم دلچسپی

اسرائیل کے سابق اہلکار یارون بلوم نے کہا:

"اسرائیل جنگ بندی نہیں چاہتا، اور نیتن یاہو کا یہ دعویٰ کہ حماس سنجیدہ نہیں، درست نہیں۔"

انہوں نے کہا اگر اسرائیل:

- رفح پر حملہ نہ کرتا - تو جنگ بندی قبول کرنا پڑتی - جو شکست کی علامت ہوتی - اور نیتن یاہو کی حکومت گر سکتی تھی - حتیٰ کہ عدالت میں اس کی گرفتاری کی راہ ہموار ہوسکتی تھی

اس لیے اسرائیل حملہ کرنے پر مجبور تھا۔

معروف تجزیہ کار رونن برگمن کے مطابق: “تل ابیب دباؤ میں ہے، حماس نہیں، اور ہر گزرتا دن اسرائیل کی قیمت بڑھا رہا ہے۔”

غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ

نیویارک ٹائمز کے مطابق:

- دنیا کے کئی ممالک اسرائیل کے خلاف سفارتی اقدامات کر رہے ہیں - متعدد ممالک نے تعلقات کم یا منقطع کر دیے ہیں

ترکی

ترکی نے اسرائیل کے ساتھ تجارت معطل کردی، جو عالمی دباؤ کا ایک اہم اشارہ ہے۔ اردوغان کے حماس کو “آزادی کی تحریک” کہنے کے بعد تل ابیب نالاں ہے۔

تعلقات منقطع کرنے والے ممالک

- بولیویا - کولمبیا - بلیز

چند ممالک نے سفیروں کو واپس بلا لیا ہے:

- چلی - ہونڈوراس - کولمبیا

مغربی اتحادیوں کی متضاد پوزیشن

امریکہ، برطانیہ اور جرمنی اب بھی اسرائیل کی حمایت کرتے ہیں، لیکن غزہ کی انسانی صورتحال پر ان کی تنقید بڑھ گئی ہے۔

بحرین اور اردن نے بھی سفرا واپس بلا لیے۔

سعودی–اسرائیل معمول کے امریکی منصوبے کی ناکامی

جاری حملوں نے واشنگٹن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

امریکہ کی متضاد پالیسی

انتخابی مفاد

امریکہ کا مقصد بظاہر جنگ بندی کو بطور انتخابی کارڈ استعمال کرنا ہے۔

جنگ بندی کو اسرائیلی شرط سے مشروط کرنا

صدر بائیڈن نے کہا: "اگر حماس قیدی چھوڑ دے، تو کل ہی جنگ بندی ممکن ہے۔"

حماس نے اسے امریکی پسپائی اور اسرائیل نوازی قرار دیا۔[9]

اسلحے کی ترسیل روکنے کا دعویٰ — اور پھر عملی انحراف

امریکہ نے دعویٰ کیا کہ اس نے رفح حملے کے سبب اسلحے کی ترسیل روکی ہے۔[10] لیکن بعد میں امریکی کانگریس نے قانون منظور کیا جس میں کہا گیا:

“کسی بھی صورت میں اسرائیل کی اسلحہ سپلائی نہ روکی جائے۔”[11]

قاہرہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟

الاخبار کے مطابق:

- امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر ایک سیاسی چال چلی - پیش کردہ تجاویز نے فلسطینی مطالبات میں سے کسی کو پورا نہیں کیا - مستقل جنگ بندی کا ذکر تک نہ تھا - اسرائیلی انخلا مبہم رکھا گیا - شمالی غزہ کی واپسی مشروط تھی - اسرائیلی چیک پوسٹیں برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا - مصر کی افواج کو اسرائیلی چیکنگ کا متبادل بنانے کی تجویز دی گئی - کمک تقسیم کا نظام بھی اسرائیل کی نگرانی میں رکھا گیا - قیدیوں کے تبادلے کی اسرائیلی شرائط انتہائی یکطرفہ تھیں

ان تمام وجوہات کی بنا پر حماس نے تجویز مسترد کردی۔[12]

جبهۂ مقاومت کا اصولی موقف

اگلا موضوع فلسطین کے جاری مسئلے سے متعلق ہے۔ ہمارے نزدیک جب تک فلسطین اپنے اصل مالکان کو واپس نہیں ملتا، مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر بیس یا تیس سال بعد بھی اس نظام کو قائم رکھنے کی کوشش کی جائے — اور ان شاء اللہ وہ ایسا نہیں کر سکیں گے — تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ مسئلے کا حل اسی وقت ممکن ہے جب فلسطین اپنے اصل مالکان، یعنی فلسطینی عوام کو واپس مل جائے۔

فلسطین فلسطینی عوام کی ملکیت ہے؛ ان میں مسلمان بھی ہیں، عیسائی بھی اور یہودی بھی۔ فلسطین انہی کا ہے۔ فلسطین انہیں واپس دے دیا جائے تاکہ وہ اپنا نظام اور حکومت قائم کریں، پھر وہ خود فیصلہ کریں کہ صہیونیوں کے ساتھ کیا برتاؤ کرنا ہے؛ انہیں نکالنا ہے یا رہنے دینا ہے۔ یہ فیصلہ خود فلسطینی عوام کریں۔ یہی وہ حل ہے جسے ہم نے چند سال پہلے پیش کیا تھا اور بظاہر اسے اقوام متحدہ میں بھی درج کیا گیا تھا۔ ہم اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، مغربی ایشیا کا مسئلہ حل نہیں ہوگا۔

کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر خطے کے ممالک کو مجبور کیا جائے کہ وہ صہیونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لے آئیں تو مسئلہ حل ہو جائے گا۔ یہ ایک غلط تصور ہے۔ فرض کریں کہ آس پاس کے مختلف ممالک، بالخصوص عرب ممالک، اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لے بھی آئیں، تب بھی مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ بلکہ مسئلہ خود انہی حکومتوں کی طرف منتقل ہو جائے گا۔ یعنی وہ حکومتیں جنہوں نے ان جرائم کو نظر انداز کیا اور اس کے باوجود اس حکومت کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا، ان کے اپنے عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اگر آج خطے کے عوام صہیونی حکومت کے خلاف ہیں تو اس صورت میں وہ اپنی حکومتوں کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس طرح مسئلہ حل نہیں ہوگا؛ مسئلے کا حقیقی حل یہی ہے کہ فلسطین فلسطینیوں کو واپس دیا جائے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ رہبر معظم انقلاب کی حالیہ دو تقاریر میں دی گئی ہدایات دراصل محورِ مقاومت کی حکمتِ عملی کو واضح کرتی ہیں اور غزہ میں ممکنہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے کے تناظر میں ایک واضح پیغام دیتی ہیں۔ اس پیغام کے مطابق غزہ میں جنگ بندی کا معاہدہ اور صہیونی حکومت کے خلاف مزاحمت کا اصول دو الگ امور ہیں۔ جنگ بندی کا کوئی بھی معاہدہ دراصل ایک حکمتِ عملی ہو سکتا ہے جس کا مقصد صہیونی حکومت کو قابو میں رکھنا، اس جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ناکامیوں کو مزید نمایاں کرنا اور فلسطینی عوام کے دکھ درد کو کم کرنا ہے؛ نہ کہ مزاحمت کا خاتمہ۔

لہٰذا کسی کو یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ کسی بھی جنگ بندی کے معاہدے کے بعد مزاحمت اپنا اسلحہ زمین پر رکھ دے گی۔ اسی طرح بعض حلقوں کو دوبارہ امریکہ اور اسرائیل کی صلح پسندی کے دعووں کو نمایاں کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے؛ کیونکہ اوسلو معاہدہ، کیمپ ڈیوڈ اور دیگر معاہدات — اور خصوصاً چند ماہ قبل ہونے والی جنگ بندی جس پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا — سب کے سامنے موجود ہیں۔

رہبر کے اس بیان کہ “جب تک فلسطین اپنے اصل مالکان کو واپس نہیں ملتا، مسئلہ حل نہیں ہوگا” کا اشارہ اسی بنیادی اصول کی طرف ہے۔ اسی تناظر میں حماس کے سینئر رہنما **اسامہ حمدان** نے بھی کہا ہے کہ مزاحمت اب اسرائیلی دشمن کے ساتھ مستقل تصادم کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

مزید برآں رہبر نے کہا: “اسلامی جمہوریہ ایران فلسطین کی حمایت میں کسی کا انتظار نہیں کرتا اور نہ کرے گا… اور ایسے نظام پر کیسے اعتماد کیا جا سکتا ہے؟”

اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر غزہ کی مزاحمت کسی جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچ بھی جائے تو وہ اپنی طاقت پر انحصار کرے گی اور امریکہ کے وعدوں یا سلامتی کونسل کی تحریری ضمانتوں پر اعتماد نہیں کرے گی، کیونکہ ماضی میں ان کی کوئی عملی ضمانت ثابت نہیں ہوئی۔

اسی لیے اس بات پر زور دیا گیا کہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جانا چاہیے تاکہ:

- مذاکرات میں مزاحمت مضبوط پوزیشن سے کسی بھی معاہدے تک پہنچ سکے۔ - اسرائیل تیسرے مرحلے کے نفاذ سے پیچھے نہ ہٹ سکے اور دھوکہ دہی کی صورت میں اسے زیادہ بھاری قیمت چکانی پڑے۔ - صہیونی فوجی مشینری کو محدود کرنے کے لیے خاص طور پر بحیرۂ روم میں دباؤ بڑھایا جائے۔

اسی تناظر میں یمن کی مسلح افواج نے اعلان کیا کہ اگر رفح پر حملہ کیا گیا تو بحیرۂ روم میں اسرائیلی بندرگاہوں کی طرف جانے والے تمام جہازوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ یمن سے مشرقی بحیرۂ روم کا فاصلہ دو ہزار کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ [13]

متعلقه مضامین

حوالہ جات

  1. https://www.izanonline.ir/fa/news/4771884/
  2. https://www.izanonline.ir/fa/news/4771884/
  3. https://www.izanonline.ir/fa/news/4771884/
  4. https://www. sna.ir/news/1402111813606/
  5. https://www. sna.ir/news/1402111813606/
  6. https://www. hatreh.com/news/nn14021102770460110848/
  7. https://www. hatreh.com/news/nn14021102770460110848/
  8. کد خبر 6093948 خبرگزاری مهر
  9. https://fa.alalam.ir/news/6863808
  10. https://inn. r/news/article/66067/
  11. https://inn.ir/news/article/66067/.
  12. https://inn.ir/news/article/60894/
  13. بیانات رهبر معظم انقلاب به مناسبت گرامیداشت روز معلّم، 1403/02/12 https://kayhan.ir/fa/news/288091