"سویڈن" کے نسخوں کے درمیان فرق
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
Sajedi (تبادلۂ خیال | شراکتیں) کوئی خلاصۂ ترمیم نہیں |
||
| (ایک ہی صارف کا ایک درمیانی نسخہ نہیں دکھایا گیا) | |||
| سطر 6: | سطر 6: | ||
| پورا نام = مملکت سویڈن | | پورا نام = مملکت سویڈن | ||
| طرز حکمرانی = وفاقی جمہوریہ | | طرز حکمرانی = وفاقی جمہوریہ | ||
| دارالحکومت = | | دارالحکومت = اسٹاک هوم | ||
| آبادی = 10.6 ملین | | آبادی = 10.6 ملین | ||
| رقبہ = 450,000 مربع کلومیٹر | | رقبہ = 450,000 مربع کلومیٹر | ||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
}} | }} | ||
''' | '''سوڈان'''، افریقۂ قارہ کے مشرق میں واقع ایک ملک ہے، اور جغرافیائی طور پر یہ یورپ کے کافی قریب ہے۔ اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے سوڈان کا محلِ وقوع نہایت اسٹریٹجک اور اہمیت کا حامل ہے، اور اسے عالمِ اسلام کے لیے افریقہ کا دروازہ کہا جاتا ہے۔ | ||
== پس منظر == | == پس منظر == | ||
سوڈان قدیم زمانوں میں کوش اور نوبیہ کی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ یہ سلطنتیں مسیح کی پیدائش سے صدیوں پہلے جنوبی کردوفان سے لے کر صحرائے سینا تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتی تھیں۔ شمالی افریقہ کے باشندے آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسلام میں داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ اسلام مغربی سوڈان کی منڈیوں اور تجارتی مراکز تک پہنچ گیا، لیکن ابتدا میں اس کا اثر محدود تھا۔ بعد ازاں تقریباً گیارہویں سے چودھویں صدی عیسوی کے درمیان سوڈان میں اسلام کی توسیع نے تیزی اختیار کی اور سترہویں صدی سے مذہبی حکومتوں کے ذریعے اس کی بنیادیں مزید مضبوط اور مستحکم ہو گئیں۔ | سوڈان قدیم زمانوں میں کوش اور نوبیہ کی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ یہ سلطنتیں مسیح کی پیدائش سے صدیوں پہلے جنوبی کردوفان سے لے کر صحرائے سینا تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتی تھیں۔ شمالی افریقہ کے باشندے آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں [[اسلام]] میں داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ [[اسلام]] مغربی سوڈان کی منڈیوں اور تجارتی مراکز تک پہنچ گیا، لیکن ابتدا میں اس کا اثر محدود تھا۔ بعد ازاں تقریباً گیارہویں سے چودھویں صدی عیسوی کے درمیان سوڈان میں [[اسلام]] کی توسیع نے تیزی اختیار کی اور سترہویں صدی سے مذہبی حکومتوں کے ذریعے اس کی بنیادیں مزید مضبوط اور مستحکم ہو گئیں۔ | ||
مصری حکمران محمد علی پاشا نے 1820 تا 1821 عیسوی میں سوڈان پر فوج کشی کی اور اسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان پر عثمانی اور مصر کی مشترکہ حکومت 1881 تک قائم رہی۔ جب برطانوی سلطنت نے مصر پر اپنا تسلط قائم کیا تو ابتدا میں سوڈان کے بیشتر حصے کی انتظامیہ برطانوی حکام کے سپرد کر دی گئی اور بعد میں مصر کے خدیو کی طرف سے جنرل چارلس جارج گورڈن کو سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ اس طرح اگرچہ سوڈان رسمی طور پر مصری کنٹرول میں تھا، لیکن حقیقت میں وہ برطانیہ کی نوآبادی (کالونی) بن چکا تھا۔ | [[مصر|مصری]] حکمران محمد علی پاشا نے 1820 تا 1821 عیسوی میں سوڈان پر فوج کشی کی اور اسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان پر عثمانی اور مصر کی مشترکہ حکومت 1881 تک قائم رہی۔ جب برطانوی سلطنت نے مصر پر اپنا تسلط قائم کیا تو ابتدا میں سوڈان کے بیشتر حصے کی انتظامیہ برطانوی حکام کے سپرد کر دی گئی اور بعد میں مصر کے خدیو کی طرف سے جنرل چارلس جارج گورڈن کو سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ اس طرح اگرچہ سوڈان رسمی طور پر مصری کنٹرول میں تھا، لیکن حقیقت میں وہ برطانیہ کی نوآبادی (کالونی) بن چکا تھا۔ | ||
سوڈانی رہنما محمد احمد سوڈانی، جو “مہدیٔ سوڈان” کے نام سے معروف تھے، نے مہدویت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور 1880 عیسوی میں غیر ملکی قابضین کو سوڈان سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم 1884 تک محمد احمد مہدی کی ہمہ گیر حکومت پوری طرح قائم نہ ہو سکی۔ فروری 1884 میں برطانیہ نے مہدی سوڈانی کے ساتھ مفاہمت کی غرض سے سوڈان کو مصر سے الگ ایک مستقل ملک قرار دیا اور جنرل گورڈن کو دوبارہ سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا۔ محمد احمد نے ام درمان کو اپنا دارالحکومت بنایا، لیکن جون 1885 میں ایک پراسرار بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ | سوڈانی رہنما محمد احمد سوڈانی، جو “مہدیٔ سوڈان” کے نام سے معروف تھے، نے مہدویت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور 1880 عیسوی میں غیر ملکی قابضین کو سوڈان سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم 1884 تک محمد احمد مہدی کی ہمہ گیر حکومت پوری طرح قائم نہ ہو سکی۔ فروری 1884 میں برطانیہ نے مہدی سوڈانی کے ساتھ مفاہمت کی غرض سے سوڈان کو [[مصر]] سے الگ ایک مستقل ملک قرار دیا اور جنرل گورڈن کو دوبارہ سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا۔ محمد احمد نے ام درمان کو اپنا دارالحکومت بنایا، لیکن جون 1885 میں ایک پراسرار بیماری کے باعث وفات پا گئے۔ | ||
ان کی وفات کے بعد داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور بالآخر ان کے ایک پیروکار “عبداللہ” نے اپنی افواج کے ساتھ، جو “انصار” کے نام سے معروف تھیں، 1891 میں اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل کر لیا۔ | ان کی وفات کے بعد داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور بالآخر ان کے ایک پیروکار “عبداللہ” نے اپنی افواج کے ساتھ، جو “انصار” کے نام سے معروف تھیں، 1891 میں اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل کر لیا۔ | ||
| سطر 28: | سطر 28: | ||
1889 اور 1890 کے برسوں میں سوڈان شدید خشک سالی، قحط اور متعدی بیماریوں کا شکار رہا۔ پھر 1896 میں برطانیہ اور فرانس نے بالترتیب شمال اور مغرب کی جانب سے عبداللہ کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ لارڈ ہربرٹ کچنر کی قیادت میں برطانوی اور مصری مشترکہ افواج نے ستمبر 1898 میں ام درمان—جو عبداللہ کی حکومت کا مرکز تھا—پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان عملی طور پر مکمل طور پر برطانیہ کی نوآبادی بن گیا اور سر ریجنالڈ ونگیٹ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے برطانوی طرزِ انتظام سے متاثر ہو کر سوڈان کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ | 1889 اور 1890 کے برسوں میں سوڈان شدید خشک سالی، قحط اور متعدی بیماریوں کا شکار رہا۔ پھر 1896 میں برطانیہ اور فرانس نے بالترتیب شمال اور مغرب کی جانب سے عبداللہ کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ لارڈ ہربرٹ کچنر کی قیادت میں برطانوی اور مصری مشترکہ افواج نے ستمبر 1898 میں ام درمان—جو عبداللہ کی حکومت کا مرکز تھا—پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان عملی طور پر مکمل طور پر برطانیہ کی نوآبادی بن گیا اور سر ریجنالڈ ونگیٹ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے برطانوی طرزِ انتظام سے متاثر ہو کر سوڈان کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ | ||
1922 میں مصر کی آزادی کے بعد سوڈان میں بھی آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور 1943 میں آزادی کے مقصد سے دو سیاسی جماعتیں “الاشقّاد” اور “امت” قائم ہوئیں۔ نومبر | 1922 میں [[مصر]] کی آزادی کے بعد سوڈان میں بھی آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور 1943 میں آزادی کے مقصد سے دو سیاسی جماعتیں “الاشقّاد” اور “امت” قائم ہوئیں۔ نومبر 1953ء میں سوڈان میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے جن میں اسماعیل ازہری کی قیادت میں جماعت “الاشقّاد” نے 51 نشستیں حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ 1955ء میں قومی دستور ساز اسمبلی نے [[مصر]] اور برطانیہ کی تمام افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا اور بالآخر جنوری 1956 میں سوڈان کی آزادی کا جشن منایا گیا۔ | ||
== ملک کا نام == | == ملک کا نام == | ||
| سطر 45: | سطر 45: | ||
دیگر قومیں بھی موجود ہیں جو نوبی زبان بولتی ہیں اور نوبیوں سے قرابت و تعلق رکھتی ہیں۔ | دیگر قومیں بھی موجود ہیں جو نوبی زبان بولتی ہیں اور نوبیوں سے قرابت و تعلق رکھتی ہیں۔ | ||
ماخذ: ژوزف ایم کوک، | ماخذ: ژوزف ایم کوک، مسلمانانِ افریقا، ترجمہ ڈاکٹر سید اسداللہ علوی، ص 413۔ | ||
بجہ قوم وہ گروہ ہے جو اب بحیرۂ احمر کے پہاڑی علاقوں اور اس کے مغربی حصوں میں رہتا ہے۔ وہ زیادہ تر اونٹوں والے خانہبدوش ہیں۔ ان پر عرب اور اسلام کا اثر مختلف درجے میں پڑا ہے۔ | بجہ قوم وہ گروہ ہے جو اب بحیرۂ احمر کے پہاڑی علاقوں اور اس کے مغربی حصوں میں رہتا ہے۔ وہ زیادہ تر اونٹوں والے خانہبدوش ہیں۔ ان پر عرب اور اسلام کا اثر مختلف درجے میں پڑا ہے۔ | ||
عبابده قبیلہ جدید بجہ اقوام میں سب سے شمالی قبیلہ ہے جو اب بالائی مصر اور سوڈان کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ عربی زبان بولتے ہیں۔ | عبابده قبیلہ جدید بجہ اقوام میں سب سے شمالی قبیلہ ہے جو اب بالائی [[مصر]] اور سوڈان کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ عربی زبان بولتے ہیں۔ | ||
سوڈان کے دیگر غیر عرب اقوام میں | سوڈان کے دیگر غیر عرب اقوام میں فور قوم قابلِ ذکر ہے جن کا علاقہ زیادہ تر شمال مشرقی پہاڑوں میں واقع ہے۔ | ||
== سرکاری زبان == | == سرکاری زبان == | ||
| سطر 60: | سطر 60: | ||
==سیاسی ڈھانچہ== | ==سیاسی ڈھانچہ== | ||
سویڈن ایک آئینی بادشاہت ہے جس کا نظام پارلیمانی | سویڈن ایک آئینی بادشاہت ہے جس کا نظام پارلیمانی جمہوریت پر مبنی ہے۔ پارلیمنٹ اس ملک کی جسے «رکسڈاگ» کے نام سے جانا جاتا ہے، میں 349 ارکان شامل ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم مسٹر اولف کرسٹرسن ہیں اور بادشاہ کارل گوستاف شانزدہم تشریفاتی عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں。 | ||
==جغرافیائی ڈھانچہ== | ==جغرافیائی ڈھانچہ== | ||
| سطر 70: | سطر 70: | ||
== سرکاری مذہب == | == سرکاری مذہب == | ||
سوڈان کی تقریباً 97٪ آبادی مسلمان ہے، جبکہ تقریباً 3٪ لوگ مقامی آنیمیستی مذاہب، عیسائیت اور قبطی مذہب کے پیروکار ہیں۔ سوڈان کے اکثر مسلمان فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد صوفی سلسلوں کی پیرو ہے اور ان کی مذہبی رسومات کی پابندی کرتی ہے۔ اسی طرح اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کی ایک اقلیت بھی موجود ہے جو خرطوم، ام درمان، شندی، ابوزبد، پورٹ سوڈان اور ملک کے دیگر شہروں اور صوبوں میں رہتی ہے۔ | سوڈان کی تقریباً 97٪ آبادی [[مسلمان]] ہے، جبکہ تقریباً 3٪ لوگ مقامی آنیمیستی مذاہب، [[مسیحیت (نصرانیت)|عیسائیت]] اور قبطی مذہب کے پیروکار ہیں۔ سوڈان کے اکثر [[مسلمان]] فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد صوفی سلسلوں کی پیرو ہے اور ان کی مذہبی رسومات کی پابندی کرتی ہے۔ اسی طرح [[باره امامی ( اثنا عشری)|اثنا عشری شیعہ]] مسلمانوں کی ایک اقلیت بھی موجود ہے جو خرطوم، ام درمان، شندی، ابوزبد، پورٹ سوڈان اور ملک کے دیگر شہروں اور صوبوں میں رہتی ہے۔ | ||
== جغرافیہ == | == جغرافیہ == | ||
=== دارالحکومت اور اہم شہر === | === دارالحکومت اور اہم شہر === | ||
سوڈان 15 ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم ہے: | سوڈان 15 ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم ہے: | ||
| سطر 97: | سطر 96: | ||
=== سرحدیں === | === سرحدیں === | ||
سوڈان کی سرحد شمال میں مصر سے ملتی ہے۔ مشرق میں بحری سرحد کے ذریعے یمن اور سعودی عرب سے رابطہ ہے۔ جنوب مشرق میں ایتھوپیا اور اریٹیریا، جنوب میں جنوبی سوڈان جبکہ مغرب میں لیبیا، چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ | سوڈان کی سرحد شمال میں [[مصر]] سے ملتی ہے۔ مشرق میں بحری سرحد کے ذریعے یمن اور [[سعودی عرب]] سے رابطہ ہے۔ جنوب مشرق میں ایتھوپیا اور اریٹیریا، جنوب میں جنوبی سوڈان جبکہ مغرب میں لیبیا، چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔ | ||
==== جغرافیائی محلِ وقوع اور آب و ہوا ==== | ==== جغرافیائی محلِ وقوع اور آب و ہوا ==== | ||
| سطر 105: | سطر 104: | ||
== حکومت == | == حکومت == | ||
== سیاسی جماعتیں == | == سیاسی جماعتیں == | ||
سوڈان میں متعدد سیاسی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ، اثر و رسوخ اور ارکان کی تعداد ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے، تاہم سوڈان کے سماجی اور سیاسی ماحول کو سمجھنے کے لیے ان کا تعارف اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں میں درج ذیل شامل ہیں: | سوڈان میں متعدد سیاسی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ، اثر و رسوخ اور ارکان کی تعداد ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے، تاہم سوڈان کے سماجی اور سیاسی ماحول کو سمجھنے کے لیے ان کا تعارف اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں میں درج ذیل شامل ہیں: | ||
{{کالم کی فہرست|2}} | |||
# [[اخوان المسلمین|الإخوان المسلمون]] فی السودان<br> | |||
# التجمع الاتحادی المعارض<br> | |||
# التحالف الفیدرالی الدیمقراطی السودانی<br> | |||
# تنظیم القوی المستقلة الحرة<br> | |||
# جبهة استقلال شرق السودان<br> | |||
# جبهة الشرق<br> | |||
# الجبهة الشعبیة المتحدة للتحریر والعدالة<br> | |||
# الحرکة الشعبیة لتحریر السودان<br> | |||
# حرکة العدل والمساواة<br> | |||
# حرکة تحریر السودان<br> | |||
# حرکة تحریر شرق السودان<br> | |||
# حرکة حق-السودان<br> | |||
# حرکة کوش<br> | |||
# الحزب الإتحادی الدیمقراطی - الاصل<br> | |||
# حزب الأسود الحرة السودانیة<br> | |||
# الحزب الاشتراکی الدیمقراطی الوحدوی (حشد الوحدوی SDUP)<br> | |||
# حزب الأمة السودانی القیادة الجماعیة<br> | |||
# حزب الأمة القومی<br> | |||
# حزب الأمة الوطنی<br> | |||
# حزب الأمة للإصلاح والتجدید<br> | |||
# حزب الأمة للإصلاح والتنمیة<br> | |||
# حزب البعث السودانی<br> | |||
# حزب التمکین السودانی<br> | |||
# حزب الحقیقه الفدرالی<br> | |||
# الحزب الدیمقراطی اللیبرالی الموحد<br> | |||
# الحزب السودانی الوحدوی القومی (SUN PARTY)<br> | |||
# حزب الشعب الحر<br> | |||
# الحزب الشیوعی السودانی<br> | |||
# حزب العدالة "الاصل"<br> | |||
# حزب العموم السودانی<br> | |||
# الحزب القومی السودانی<br> | |||
# حزب المستقلین القومی التلقائی - بقیادة مالک حسین وجلالالدین محمد<br> | |||
# حزب المؤتمر السودانی<br> | |||
# حزب المؤتمر الشعبی<br> | |||
# حزب المؤتمر الوطنی<br> | |||
# حزب الوطن (السودان)<br> | |||
# الحزب الوطنی الاتحادی الموحد<br> | |||
# حزب بناء السودان<br> | |||
# حزب وحدة وادی النیل<br> | |||
# المنبر الدیمقراطی لجبال النوبة<br> | |||
# المنظمة السودانیة للحقوق والتنمیة المعاصرة (منظمة سوادنة)<br> | |||
# مؤتمر البجا | |||
{{اختتام}} | |||
==اسلام کا مقام== | ==اسلام کا مقام== | ||
آج کل | آج کل [[اسلام]] سویڈن میں سب بڑی مذہبی جماعت کے طور پر شمار ہوتا ہے۔ سویڈن کے مسلمانوں کا پس منظر غیر ہم آہنگ ہے اور مذہبی ہونے اور [[اسلام]] کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے مختلف راستے موجود ہیں۔ سویڈش لوگوں کے نقطہ نظر سے، اسلام ایک کثیر الجہتی حقیقت ہے اور سویڈن میں مذہبی ہونے کے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ مسلمان صرف خود کو [[اسلام]] کا پیروکار کہتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی مذہبی حیثیت کو خاص رسومات کی ادائیگی سے مشروط کرتے ہیں۔ کچھ سویڈش مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ غلط فہمیوں کے مقابلے میں انہیں مخالف موقف میں رکھا گیا ہے۔ کچھ دوسروں کے خیال میں، سویڈش لوگ جمہوریت کی تاریخ، فلاحی سیاست اور آزادیِ عقیدہ کی وجہ سے، زیادہ تر معاملات میں ایک مثالی اسلامی معاشرے کے برابر ہیں۔ روزانہ سویڈن میں مسلمانوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی پیدا ہونے والی نسل مشترکہ کوششوں سے سویڈن میں اسلام کی شکل تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی。 | ||
دوسری عالمی جنگ کے بعد ہجرت کے نتیجے میں، سویڈن میں نئے عقائد اور مذہب کے پیروکاروں کی بڑی تعداد نے جماعتیں بنائیں اور نئی مذہبی تنظیموں میں [[اسلام]] نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ سویڈن کے [[مسلمان|مسلمانوں]] کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم، سویڈش لوگوں کا اسلامی ماحول سے رابطہ پرانی تاریخ رکھتا ہے اور مسلمان تارکین وطن بھی معاشرے کی مختلف سطحوں پر موجود رہے ہیں。 | |||
1949 عیسوی میں | 1949 عیسوی میں خرطوم کی اسلامی جماعت کے وجود کا اعلان کرنے کے بعد، اسلام کو پہلے غیر مسیحی مذہب کے طور پر شمار کیا جاتا ہے -مذہبی رواداری کے دور کے گزرنے اور کچھ لوگوں کے یہودی جماعت کی طرف رجحان کے بعد (تقریباً 175 سال پہلے)-۔ 1960 عیسوی کی دہائی میں، مزدوروں کی ہجرت کے وقت، [[ترکی]] اور یوگوسلاویہ کے ممالک سے مسلمانوں کے گروہ سویڈن داخل ہوئے۔ 1970 کی دہائی میں، مسلمان شمالی افریقہ، [[پاکستان]]، [[فلسطین]] اور [[لبنان]] سے پناہ گزینوں کے طور پر سویڈن ہجرت کر گئے۔ 1980 کی دہائی میں، ایرانی، عراقی، ایتھوپیائی، بنگلہ دیشی اور صومالی شہری سویڈن آنے والے تارکین وطن کی اکثریت تشکیل دیتے تھے اور 1990ء کی دہائی میں، زیادہ تر تارکین وطن البانوی نسل اور بوسنیائی تھے。 | ||
سویڈن کے مسلمانوں کی 70 سے 80 ہزار کی آبادی سے متعلق امور کو تین قومی تنظیمیں ہدایت کرتی ہیں۔ نیز، کچھ معتقد مسلمان، پورے سویڈن میں فعال تین تنظیموں میں سے کسی کے بھی رکن نہیں ہیں اور ان کی گنتی کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور اب تک سویڈن کے مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کی کوشش ناکام رہی ہے۔ میڈیا کے زیادہ تخمینوں اور ماہرانہ رپورٹوں کے باوجود، صرف وہ مسلمان قابل شمار ہیں جو کمیٹی آف مسلمین کے رکن ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ زیادہ فعال مذہبی طریقہ کار کی تلاش میں ہیں۔ سویڈن میں مذہب کی آزادی نے اسلام کے پیروکاروں کو مذہبی سرگرمیوں میں آزادی نہیں دی، یہ ایک حقیقت ہے جس پر ترک اور ایرانی تارکین وطن نے بار بار زور دیا | سویڈن کے مسلمانوں کی 70 سے 80 ہزار کی آبادی سے متعلق امور کو تین قومی تنظیمیں ہدایت کرتی ہیں۔ نیز، کچھ معتقد مسلمان، پورے سویڈن میں فعال تین تنظیموں میں سے کسی کے بھی رکن نہیں ہیں اور ان کی گنتی کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور اب تک سویڈن کے مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کی کوشش ناکام رہی ہے۔ میڈیا کے زیادہ تخمینوں اور ماہرانہ رپورٹوں کے باوجود، صرف وہ مسلمان قابل شمار ہیں جو کمیٹی آف مسلمین کے رکن ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ زیادہ فعال مذہبی طریقہ کار کی تلاش میں ہیں۔ سویڈن میں مذہب کی آزادی نے اسلام کے پیروکاروں کو مذہبی سرگرمیوں میں آزادی نہیں دی، یہ ایک حقیقت ہے جس پر ترک اور ایرانی تارکین وطن نے بار بار زور دیا ہے۔ | ||
تاہم، معتقد مسلمانوں کی بڑی تعداد، [[اہل سنت | تاہم، معتقد مسلمانوں کی بڑی تعداد، [[اہل سنت|سنی]] تنظیموں کے غلبے کو دیکھتے ہوئے، زیادہ آزادی محسوس نہیں کرتی۔ اس گروہ میں تصوف، [[شیعہ]] اور علوی فرقوں کے پیروکار شامل ہیں۔ زیادہ تر شیعیان ایرانی مسلمان تارکین وطن پر مشتمل ہیں۔ شیعہ مسلمان تارکین وطن [[عراق]] اور مشرقی افریقہ سے بھی سویڈن آئے ہیں اور یہ لوگ سنی مسلمانوں کی بڑی جماعتوں میں شرکت کے باوجود، زیادہ تر ٹرول ہٹان، مارستا اور دیگر شہروں میں بکھرے ہوئے ہیں۔ | ||
==اسلامی ادارے== | ==اسلامی ادارے== | ||
=== مساجد === | === مساجد === | ||
سویڈن میں کئی | سویڈن میں کئی مساجد ویلا کی طرز تعمیر میں موجود ہیں جہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، سویڈن میں کئی بڑی مساجد آزادانہ طور پر تعمیر کی گئی ہیں۔ پہلی آزاد مسجد 1976ء میں گوٹنبرگ میں قائم ہوئی۔ جب تک یہ مسجد فرقہ احمدیہ کے پاس تھی، دیگر [[مسلمان|مسلمانوں]] کی جانب سے اسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ سویڈن میں دو دیگر مساجد بھی موجود ہیں۔ مالمو اسلامی مراکز کے قیام کے ساتھ ہی، 1980ء کی دہائی کے آغاز میں مالمو مسجد کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور 1983ء میں مکمل ہوئی۔ یہ عمارت اسکینڈینیویا میں قائم ہونے والی پہلی مسجد تھی۔ موجودہ وقت تک اس مسجد کے قیام اور انتظام کے اخراجات تنظیم «رابطہ العالم الاسلامی» کی جانب سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ایک اور مسجد جو ٹرول ہٹن میں نذر آتش ہو گئی تھی، 1994ء میں اس کی مرمت کی گئی اور دوبارہ کھولی گئی۔ نیز اسٹاک ہوم اور اپسالا میں مساجد زیر تعمیر ہیں، اور گوٹنبرگ، سیگتونا اور چند دیگر شہروں میں مساجد بنانے کے منصوبے موجود ہیں۔ ان منصوبوں کے ساتھ مساجد کی عمارتوں کے کنارے کتابخانے، معلوماتی مراکز اور فعال تنظیمیں قائم کی جائیں گی۔ | ||
اسٹاک ہوم میں قبرستان اسکوکسچرکوگارڈن کے علاوہ، اپسالا اور مالمو کے شہروں میں مسلمانوں کے دیگر قبرستان بھی موجود ہیں۔ اب تک، مہاجر مزدوروں نے اپنی اموات کی لاشوں کو دفن کرنے کے لیے زیادہ تر اپنے اصل ممالک واپس بھیجا ہے اور کچھ تنظیموں کی جانب سے اس سلسلے میں خاص سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سویڈن میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ، 1990ء کی دہائی کے آغاز میں اسٹاک ہوم کے قبرستانوں میں مسلمانوں کی موجودگی میں توسیع کے ساتھ تھا۔ | اسٹاک ہوم میں قبرستان اسکوکسچرکوگارڈن کے علاوہ، اپسالا اور مالمو کے شہروں میں مسلمانوں کے دیگر قبرستان بھی موجود ہیں۔ اب تک، مہاجر مزدوروں نے اپنی اموات کی لاشوں کو دفن کرنے کے لیے زیادہ تر اپنے اصل ممالک واپس بھیجا ہے اور کچھ تنظیموں کی جانب سے اس سلسلے میں خاص سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سویڈن میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ، 1990ء کی دہائی کے آغاز میں اسٹاک ہوم کے قبرستانوں میں مسلمانوں کی موجودگی میں توسیع کے ساتھ تھا۔ | ||
| سطر 181: | سطر 175: | ||
=== دیگر اسلامی تنظیمیں === | === دیگر اسلامی تنظیمیں === | ||
الدعوۃ الاسلامیہ، جماعت التبلیغ، رابطہ العالم الاسلامی اور | الدعوۃ الاسلامیہ، جماعت التبلیغ، رابطہ العالم الاسلامی اور منہاج القرآن جیسی کچھ اسلامی تنظیمیں سویڈن میں «الدعوۃ» نامی تنظیم کی جانب سے علمی سرگرمیوں یا وفود کی روانگی میں شامل ہیں۔ اسٹاک ہوم کا اسلامی معلوماتی مرکز دیگر معلوماتی اور تحقیقی مراکز سے بھی منسلک ہے۔ یہ مرکز 1989ء سے سویڈش زبان میں «سلام» کے نام سے ایک رسالہ بھی شائع کر رہا ہے۔ اس مرکز نے کتابخانے، کتابوں کی دکان اور کپڑوں کی دکان جیسی دیگر سہولیات بھی قائم کی ہیں۔ اس مرکز نے اب تک کچھ اسلامی مصادر کا ترجمہ کر کے سویڈش زبان میں شائع بھی کیا ہے<ref>[https://hawzah.net/fa/Magazine/View/5483/5493/52044/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85-%D9%88-%D9%85%D8%B3%D9%84%D9%85%D8%A7%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%B1-%D8%B3%D9%88%D8%A6%D8%AF سویڈن میں اسلام اور مسلمان، حوزہ ویب سائٹ]</ref>۔ | ||
==معاشیات== | ==معاشیات== | ||
| سطر 194: | سطر 188: | ||
سویڈن قومی پارکوں، تاریخی شہروں اور خوبصورت ساحلوں جیسی کئی قدرتی اور تاریخی جاذبیتوں کے ساتھ سیاحوں کے لیے ایک مقبول منزل ہے<ref>[https://sweden.mfa.gov.ir/portal/GeneralCategoryServices/5066 سویڈن کے بارے میں، سویڈن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی ویب سائٹ]</ref>۔ | سویڈن قومی پارکوں، تاریخی شہروں اور خوبصورت ساحلوں جیسی کئی قدرتی اور تاریخی جاذبیتوں کے ساتھ سیاحوں کے لیے ایک مقبول منزل ہے<ref>[https://sweden.mfa.gov.ir/portal/GeneralCategoryServices/5066 سویڈن کے بارے میں، سویڈن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی ویب سائٹ]</ref>۔ | ||
== | ==متعلقه مضامین== | ||
* [[ | * [[مسیحیت (نصرانیت)|مسیحیت]] | ||
* [[اسلام]] | * [[اسلام]] | ||
* [[ | * [[اخوان المسلمین]] | ||
== حوالہ جات == | == حوالہ جات == | ||
حالیہ نسخہ بمطابق 14:47، 3 مئی 2026ء
| مملکت سویڈن | |
|---|---|
![]() | |
| سرکاری نام | سویڈن |
| پورا نام | مملکت سویڈن |
| طرز حکمرانی | وفاقی جمہوریہ |
| دارالحکومت | اسٹاک هوم |
| آبادی | 10.6 ملین |
| مذہب | اسلام |
| سرکاری زبان | سویڈش |
| کرنسی | سویڈش کرون (SEK) |
سوڈان، افریقۂ قارہ کے مشرق میں واقع ایک ملک ہے، اور جغرافیائی طور پر یہ یورپ کے کافی قریب ہے۔ اس ملک کا سرکاری مذہب اسلام ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے سوڈان کا محلِ وقوع نہایت اسٹریٹجک اور اہمیت کا حامل ہے، اور اسے عالمِ اسلام کے لیے افریقہ کا دروازہ کہا جاتا ہے۔
پس منظر
سوڈان قدیم زمانوں میں کوش اور نوبیہ کی سلطنتوں کا حصہ رہا ہے۔ یہ سلطنتیں مسیح کی پیدائش سے صدیوں پہلے جنوبی کردوفان سے لے کر صحرائے سینا تک ایک وسیع علاقے پر حکومت کرتی تھیں۔ شمالی افریقہ کے باشندے آٹھویں صدی عیسوی کے آغاز میں اسلام میں داخل ہوئے اور رفتہ رفتہ اسلام مغربی سوڈان کی منڈیوں اور تجارتی مراکز تک پہنچ گیا، لیکن ابتدا میں اس کا اثر محدود تھا۔ بعد ازاں تقریباً گیارہویں سے چودھویں صدی عیسوی کے درمیان سوڈان میں اسلام کی توسیع نے تیزی اختیار کی اور سترہویں صدی سے مذہبی حکومتوں کے ذریعے اس کی بنیادیں مزید مضبوط اور مستحکم ہو گئیں۔
مصری حکمران محمد علی پاشا نے 1820 تا 1821 عیسوی میں سوڈان پر فوج کشی کی اور اسے فتح کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان پر عثمانی اور مصر کی مشترکہ حکومت 1881 تک قائم رہی۔ جب برطانوی سلطنت نے مصر پر اپنا تسلط قائم کیا تو ابتدا میں سوڈان کے بیشتر حصے کی انتظامیہ برطانوی حکام کے سپرد کر دی گئی اور بعد میں مصر کے خدیو کی طرف سے جنرل چارلس جارج گورڈن کو سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا گیا۔ اس طرح اگرچہ سوڈان رسمی طور پر مصری کنٹرول میں تھا، لیکن حقیقت میں وہ برطانیہ کی نوآبادی (کالونی) بن چکا تھا۔
سوڈانی رہنما محمد احمد سوڈانی، جو “مہدیٔ سوڈان” کے نام سے معروف تھے، نے مہدویت کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تحریک کی بنیاد رکھی اور 1880 عیسوی میں غیر ملکی قابضین کو سوڈان سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ تاہم 1884 تک محمد احمد مہدی کی ہمہ گیر حکومت پوری طرح قائم نہ ہو سکی۔ فروری 1884 میں برطانیہ نے مہدی سوڈانی کے ساتھ مفاہمت کی غرض سے سوڈان کو مصر سے الگ ایک مستقل ملک قرار دیا اور جنرل گورڈن کو دوبارہ سوڈان کا گورنر جنرل مقرر کیا۔ محمد احمد نے ام درمان کو اپنا دارالحکومت بنایا، لیکن جون 1885 میں ایک پراسرار بیماری کے باعث وفات پا گئے۔
ان کی وفات کے بعد داخلی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور بالآخر ان کے ایک پیروکار “عبداللہ” نے اپنی افواج کے ساتھ، جو “انصار” کے نام سے معروف تھیں، 1891 میں اپنے مخالفین پر غلبہ حاصل کر لیا۔
1889 اور 1890 کے برسوں میں سوڈان شدید خشک سالی، قحط اور متعدی بیماریوں کا شکار رہا۔ پھر 1896 میں برطانیہ اور فرانس نے بالترتیب شمال اور مغرب کی جانب سے عبداللہ کی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی۔ لارڈ ہربرٹ کچنر کی قیادت میں برطانوی اور مصری مشترکہ افواج نے ستمبر 1898 میں ام درمان—جو عبداللہ کی حکومت کا مرکز تھا—پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سوڈان عملی طور پر مکمل طور پر برطانیہ کی نوآبادی بن گیا اور سر ریجنالڈ ونگیٹ نے گورنر جنرل کی حیثیت سے برطانوی طرزِ انتظام سے متاثر ہو کر سوڈان کے انتظامی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔
1922 میں مصر کی آزادی کے بعد سوڈان میں بھی آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور 1943 میں آزادی کے مقصد سے دو سیاسی جماعتیں “الاشقّاد” اور “امت” قائم ہوئیں۔ نومبر 1953ء میں سوڈان میں پہلی بار پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے جن میں اسماعیل ازہری کی قیادت میں جماعت “الاشقّاد” نے 51 نشستیں حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ 1955ء میں قومی دستور ساز اسمبلی نے مصر اور برطانیہ کی تمام افواج کے انخلا کا مطالبہ کیا اور بالآخر جنوری 1956 میں سوڈان کی آزادی کا جشن منایا گیا۔
ملک کا نام
ملکِ سوڈان، جسے عربی میں "جمهورية السودان" کہا جاتا ہے، بین الاقوامی اداروں میں، جن میں اقوامِ متحدہ بھی شامل ہے، انگریزی نام "Republic of the Sudan" کے ساتھ درج اور پہچانا جاتا ہے۔
ملک کا پرچم
سوڈان کا قومی پرچم آزادی کے وقت سے لے کر 1969ء تک تین رنگوں کی پٹیوں پر مشتمل تھا: نیلا، زرد اور سبز۔ اس میں نیلا رنگ دریائے نیل کی علامت تھا، زرد رنگ صحرا کی نمائندگی کرتا تھا اور سبز رنگ زرعی زمینوں کی نشاندہی کرتا تھا۔
1969ء میں سوڈان کے پرچم کو تبدیل کر کے اس کی موجودہ شکل اختیار کی گئی۔ اس پرچم کے رنگ اسلامی ممالک کے پرچموں سے کافی مشابہت رکھتے ہیں اور یہ تین افقی پٹیوں—سرخ، سفید اور سیاہ—پر مشتمل ہے، جبکہ بائیں جانب ایک سبز مثلث ان تینوں پٹیوں کو قطع کرتا ہے۔[1]
نسل و قومیت
سوڈان کی آبادی انتہائی پیچیدہ اور متنوع ہے۔ شدید نسلی امتزاج اور قبائل کی وسیع نقل و حرکت نے اس تنوع کو جنم دیا ہے۔ اسی لیے "عرب قوم" کا مفہوم یہاں زیادہ زبان یا ثقافت سے متعلق ہے، نسلی اعتبار سے نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عرب قبائل نے اس سرزمین میں گہری نفوذ حاصل کیا، مگر وہ عموماً مقامی باشندوں کے ساتھ مدغم ہو گئے اور بتدریج اپنی نسلی شناخت کھو بیٹھے۔ اس کے باوجود انہوں نے سوڈان کی ثقافت، ادب اور زبان پر گہرا اثر ڈالا۔ جغرافیائی لحاظ سے سوڈان کا شمالی حصہ دنیائے عرب سے مربوط ہے جبکہ جنوبی حصہ افریقۂ سیاہ سے وابستہ ہے۔
نوبی قوم سوڈان کے اہم ترین گروہوں میں سے ہے۔ 1946ء سے پہلے نوبیان دریائے نیل کے کنارے جنوبِ دنقله تک پھیلے ہوئے تھے، اور اب وہ نیل کے دوسرے سے چوتھے آبشار کے درمیانی علاقے میں سکونت پذیر ہیں۔
دیگر قومیں بھی موجود ہیں جو نوبی زبان بولتی ہیں اور نوبیوں سے قرابت و تعلق رکھتی ہیں۔ ماخذ: ژوزف ایم کوک، مسلمانانِ افریقا، ترجمہ ڈاکٹر سید اسداللہ علوی، ص 413۔
بجہ قوم وہ گروہ ہے جو اب بحیرۂ احمر کے پہاڑی علاقوں اور اس کے مغربی حصوں میں رہتا ہے۔ وہ زیادہ تر اونٹوں والے خانہبدوش ہیں۔ ان پر عرب اور اسلام کا اثر مختلف درجے میں پڑا ہے۔
عبابده قبیلہ جدید بجہ اقوام میں سب سے شمالی قبیلہ ہے جو اب بالائی مصر اور سوڈان کے درمیان تقسیم ہے۔ یہ عربی زبان بولتے ہیں۔
سوڈان کے دیگر غیر عرب اقوام میں فور قوم قابلِ ذکر ہے جن کا علاقہ زیادہ تر شمال مشرقی پہاڑوں میں واقع ہے۔
سرکاری زبان
2005ء سے پہلے سوڈان میں صرف عربی زبان سرکاری تھی، تاہم 2005ء کے آئین کے مطابق عربی اور انگریزی دونوں کو ملک کی سرکاری زبانوں کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
کرنسی
سوڈان کی کرنسی "سوڈانی دینار" ہے۔
سیاسی ڈھانچہ
سویڈن ایک آئینی بادشاہت ہے جس کا نظام پارلیمانی جمہوریت پر مبنی ہے۔ پارلیمنٹ اس ملک کی جسے «رکسڈاگ» کے نام سے جانا جاتا ہے، میں 349 ارکان شامل ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم مسٹر اولف کرسٹرسن ہیں اور بادشاہ کارل گوستاف شانزدہم تشریفاتی عہدہ سنبھالے ہوئے ہیں。
جغرافیائی ڈھانچہ
سویڈن میں متنوع جغرافیائی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ ملک کے شمال سے جنوب تک دو نقاط کے درمیان زیادہ سے زیادہ فاصلہ 1574 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک 499 کلومیٹر ہے۔ اس ملک میں وسیع جنگلات، جھیلیں اور لمبی ساحلی پٹی موجود ہے。
- بلند ترین نقطہ: کوہ کبن (Kebnekaise) جس کی بلندی 2111 میٹر ہے؛
- سب سے بڑی جھیل: جھیل واترن (Vättern)؛
- شہری آبادی: 85 فیصد。
سرکاری مذہب
سوڈان کی تقریباً 97٪ آبادی مسلمان ہے، جبکہ تقریباً 3٪ لوگ مقامی آنیمیستی مذاہب، عیسائیت اور قبطی مذہب کے پیروکار ہیں۔ سوڈان کے اکثر مسلمان فقہِ مالکی سے تعلق رکھتے ہیں اور ان میں سے بڑی تعداد صوفی سلسلوں کی پیرو ہے اور ان کی مذہبی رسومات کی پابندی کرتی ہے۔ اسی طرح اثنا عشری شیعہ مسلمانوں کی ایک اقلیت بھی موجود ہے جو خرطوم، ام درمان، شندی، ابوزبد، پورٹ سوڈان اور ملک کے دیگر شہروں اور صوبوں میں رہتی ہے۔
جغرافیہ
دارالحکومت اور اہم شہر
سوڈان 15 ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم ہے:
• ولایت خرطوم – خرطوم (دارالحکومت)
• بحرِ احمر – پورٹ سوڈان
• الجزیرہ – ود مدنی
• جنوبی دارفور – نیالا
• جنوبی کردفان – کادوقلی
• سنار – سنجہ
• شمالی دارفور – فاشر
• شمالی کردفان – ابیض
• شمالیہ – دنقلا
• مغربی دارفور – جنینہ
• القضارف – القضارف
• کسلا – کسلا
• دریائے نیل – دامر
• نیلِ سفید – ربک
• نیلِ آبی – دمازین
رقبہ
سوڈان کا کل رقبہ 1,886,068 مربع کلومیٹر ہے۔
سرحدیں
سوڈان کی سرحد شمال میں مصر سے ملتی ہے۔ مشرق میں بحری سرحد کے ذریعے یمن اور سعودی عرب سے رابطہ ہے۔ جنوب مشرق میں ایتھوپیا اور اریٹیریا، جنوب میں جنوبی سوڈان جبکہ مغرب میں لیبیا، چاڈ اور وسطی افریقی جمہوریہ اس کے ہمسایہ ممالک ہیں۔
جغرافیائی محلِ وقوع اور آب و ہوا
سوڈان کی لمبائی شمال سے جنوب تک تقریباً 1931 کلومیٹر اور مشرق سے مغرب تک 1609 کلومیٹر ہے۔ اس کے شمالی علاقے نسبتاً آبی وسائل سے مالا مال ہیں اور بعض مقامات پر جنگلاتی نباتات بھی پائی جاتی ہیں، لیکن اس کا شمال مغربی حصہ ایک خشک، گرم اور بنجر صحرا ہے جو دراصل صحرائے لیبیا کا تسلسل ہے اور شمالی سوڈان کے صوبے میں واقع ہے، نیز اس میں نسبتاً بلند علاقے دارفور کے بعض حصے بھی شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اس خطے کی آب و ہوا گرم اور خشک ہے۔ افریقہ کا مکہ معظمہ کے قریب ترین مقام سوڈان میں واقع ہے جسے "رأس البا" کہا جاتا ہے اور یہ بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع ہے۔ [2]
جغرافیائی اعتبار سے سوڈان کا زیادہ تر حصہ ایک وسیع میدان پر مشتمل ہے جسے دریائے نیل اور اس کی شاخیں سیراب کرتی ہیں۔ نیلِ سفید جو جھیل وکٹوریا سے نکلتا ہے، نمول کے علاقے سے سوڈان میں داخل ہوتا ہے اور تقریباً 160 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ایک چکنی مٹی کے میدان میں پہنچ جاتا ہے۔ یہاں اسے رکاوٹ کا سامنا ہوتا ہے اور یہ ایک وسیع دلدلی علاقے میں پھیل جاتا ہے جسے "سد" کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد پیچیدہ راستہ اختیار کرتے ہوئے یہ اپنی مغربی شاخ سے ملتا ہے اور نیل-کانگو کی ایک شاخ تشکیل دیتا ہے۔ نیلِ سفید اور نیلِ آبی کی دونوں شاخیں خرطوم میں آپس میں ملتی ہیں، جس کے بعد مرکزی دریائے نیل عموماً خرطوم سے شمال کی طرف بہتا ہے اور ایک طویل سفر کے بعد دنقلا سے گزر کر مصر میں داخل ہوتا ہے۔ [3]
حکومت
سیاسی جماعتیں
سوڈان میں متعدد سیاسی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اگرچہ ان کی سرگرمیوں کا دائرہ، اثر و رسوخ اور ارکان کی تعداد ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے، تاہم سوڈان کے سماجی اور سیاسی ماحول کو سمجھنے کے لیے ان کا تعارف اہم سمجھا جاتا ہے۔ ان جماعتوں میں درج ذیل شامل ہیں:
- الإخوان المسلمون فی السودان
- التجمع الاتحادی المعارض
- التحالف الفیدرالی الدیمقراطی السودانی
- تنظیم القوی المستقلة الحرة
- جبهة استقلال شرق السودان
- جبهة الشرق
- الجبهة الشعبیة المتحدة للتحریر والعدالة
- الحرکة الشعبیة لتحریر السودان
- حرکة العدل والمساواة
- حرکة تحریر السودان
- حرکة تحریر شرق السودان
- حرکة حق-السودان
- حرکة کوش
- الحزب الإتحادی الدیمقراطی - الاصل
- حزب الأسود الحرة السودانیة
- الحزب الاشتراکی الدیمقراطی الوحدوی (حشد الوحدوی SDUP)
- حزب الأمة السودانی القیادة الجماعیة
- حزب الأمة القومی
- حزب الأمة الوطنی
- حزب الأمة للإصلاح والتجدید
- حزب الأمة للإصلاح والتنمیة
- حزب البعث السودانی
- حزب التمکین السودانی
- حزب الحقیقه الفدرالی
- الحزب الدیمقراطی اللیبرالی الموحد
- الحزب السودانی الوحدوی القومی (SUN PARTY)
- حزب الشعب الحر
- الحزب الشیوعی السودانی
- حزب العدالة "الاصل"
- حزب العموم السودانی
- الحزب القومی السودانی
- حزب المستقلین القومی التلقائی - بقیادة مالک حسین وجلالالدین محمد
- حزب المؤتمر السودانی
- حزب المؤتمر الشعبی
- حزب المؤتمر الوطنی
- حزب الوطن (السودان)
- الحزب الوطنی الاتحادی الموحد
- حزب بناء السودان
- حزب وحدة وادی النیل
- المنبر الدیمقراطی لجبال النوبة
- المنظمة السودانیة للحقوق والتنمیة المعاصرة (منظمة سوادنة)
- مؤتمر البجا
اسلام کا مقام
آج کل اسلام سویڈن میں سب بڑی مذہبی جماعت کے طور پر شمار ہوتا ہے۔ سویڈن کے مسلمانوں کا پس منظر غیر ہم آہنگ ہے اور مذہبی ہونے اور اسلام کے ساتھ موازنہ کرنے کے لیے مختلف راستے موجود ہیں۔ سویڈش لوگوں کے نقطہ نظر سے، اسلام ایک کثیر الجہتی حقیقت ہے اور سویڈن میں مذہبی ہونے کے مختلف تصورات پائے جاتے ہیں۔ کچھ مسلمان صرف خود کو اسلام کا پیروکار کہتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی مذہبی حیثیت کو خاص رسومات کی ادائیگی سے مشروط کرتے ہیں۔ کچھ سویڈش مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ غلط فہمیوں کے مقابلے میں انہیں مخالف موقف میں رکھا گیا ہے۔ کچھ دوسروں کے خیال میں، سویڈش لوگ جمہوریت کی تاریخ، فلاحی سیاست اور آزادیِ عقیدہ کی وجہ سے، زیادہ تر معاملات میں ایک مثالی اسلامی معاشرے کے برابر ہیں۔ روزانہ سویڈن میں مسلمانوں کی پیدائش کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نئی پیدا ہونے والی نسل مشترکہ کوششوں سے سویڈن میں اسلام کی شکل تبدیل کرنے کی کوشش کرے گی。
دوسری عالمی جنگ کے بعد ہجرت کے نتیجے میں، سویڈن میں نئے عقائد اور مذہب کے پیروکاروں کی بڑی تعداد نے جماعتیں بنائیں اور نئی مذہبی تنظیموں میں اسلام نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ سویڈن کے مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ تاہم، سویڈش لوگوں کا اسلامی ماحول سے رابطہ پرانی تاریخ رکھتا ہے اور مسلمان تارکین وطن بھی معاشرے کی مختلف سطحوں پر موجود رہے ہیں。
1949 عیسوی میں خرطوم کی اسلامی جماعت کے وجود کا اعلان کرنے کے بعد، اسلام کو پہلے غیر مسیحی مذہب کے طور پر شمار کیا جاتا ہے -مذہبی رواداری کے دور کے گزرنے اور کچھ لوگوں کے یہودی جماعت کی طرف رجحان کے بعد (تقریباً 175 سال پہلے)-۔ 1960 عیسوی کی دہائی میں، مزدوروں کی ہجرت کے وقت، ترکی اور یوگوسلاویہ کے ممالک سے مسلمانوں کے گروہ سویڈن داخل ہوئے۔ 1970 کی دہائی میں، مسلمان شمالی افریقہ، پاکستان، فلسطین اور لبنان سے پناہ گزینوں کے طور پر سویڈن ہجرت کر گئے۔ 1980 کی دہائی میں، ایرانی، عراقی، ایتھوپیائی، بنگلہ دیشی اور صومالی شہری سویڈن آنے والے تارکین وطن کی اکثریت تشکیل دیتے تھے اور 1990ء کی دہائی میں، زیادہ تر تارکین وطن البانوی نسل اور بوسنیائی تھے。
سویڈن کے مسلمانوں کی 70 سے 80 ہزار کی آبادی سے متعلق امور کو تین قومی تنظیمیں ہدایت کرتی ہیں۔ نیز، کچھ معتقد مسلمان، پورے سویڈن میں فعال تین تنظیموں میں سے کسی کے بھی رکن نہیں ہیں اور ان کی گنتی کا کوئی طریقہ نہیں ہے اور اب تک سویڈن کے مسلمانوں کی تعداد کا تخمینہ لگانے کی کوشش ناکام رہی ہے۔ میڈیا کے زیادہ تخمینوں اور ماہرانہ رپورٹوں کے باوجود، صرف وہ مسلمان قابل شمار ہیں جو کمیٹی آف مسلمین کے رکن ہوں اور ایسا لگتا ہے کہ وہ زیادہ فعال مذہبی طریقہ کار کی تلاش میں ہیں۔ سویڈن میں مذہب کی آزادی نے اسلام کے پیروکاروں کو مذہبی سرگرمیوں میں آزادی نہیں دی، یہ ایک حقیقت ہے جس پر ترک اور ایرانی تارکین وطن نے بار بار زور دیا ہے۔
تاہم، معتقد مسلمانوں کی بڑی تعداد، سنی تنظیموں کے غلبے کو دیکھتے ہوئے، زیادہ آزادی محسوس نہیں کرتی۔ اس گروہ میں تصوف، شیعہ اور علوی فرقوں کے پیروکار شامل ہیں۔ زیادہ تر شیعیان ایرانی مسلمان تارکین وطن پر مشتمل ہیں۔ شیعہ مسلمان تارکین وطن عراق اور مشرقی افریقہ سے بھی سویڈن آئے ہیں اور یہ لوگ سنی مسلمانوں کی بڑی جماعتوں میں شرکت کے باوجود، زیادہ تر ٹرول ہٹان، مارستا اور دیگر شہروں میں بکھرے ہوئے ہیں۔
اسلامی ادارے
مساجد
سویڈن میں کئی مساجد ویلا کی طرز تعمیر میں موجود ہیں جہاں باقاعدگی سے نماز ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، سویڈن میں کئی بڑی مساجد آزادانہ طور پر تعمیر کی گئی ہیں۔ پہلی آزاد مسجد 1976ء میں گوٹنبرگ میں قائم ہوئی۔ جب تک یہ مسجد فرقہ احمدیہ کے پاس تھی، دیگر مسلمانوں کی جانب سے اسے تسلیم نہیں کیا گیا تھا۔ سویڈن میں دو دیگر مساجد بھی موجود ہیں۔ مالمو اسلامی مراکز کے قیام کے ساتھ ہی، 1980ء کی دہائی کے آغاز میں مالمو مسجد کی عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور 1983ء میں مکمل ہوئی۔ یہ عمارت اسکینڈینیویا میں قائم ہونے والی پہلی مسجد تھی۔ موجودہ وقت تک اس مسجد کے قیام اور انتظام کے اخراجات تنظیم «رابطہ العالم الاسلامی» کی جانب سے ادا کیے جا رہے ہیں۔ ایک اور مسجد جو ٹرول ہٹن میں نذر آتش ہو گئی تھی، 1994ء میں اس کی مرمت کی گئی اور دوبارہ کھولی گئی۔ نیز اسٹاک ہوم اور اپسالا میں مساجد زیر تعمیر ہیں، اور گوٹنبرگ، سیگتونا اور چند دیگر شہروں میں مساجد بنانے کے منصوبے موجود ہیں۔ ان منصوبوں کے ساتھ مساجد کی عمارتوں کے کنارے کتابخانے، معلوماتی مراکز اور فعال تنظیمیں قائم کی جائیں گی۔
اسٹاک ہوم میں قبرستان اسکوکسچرکوگارڈن کے علاوہ، اپسالا اور مالمو کے شہروں میں مسلمانوں کے دیگر قبرستان بھی موجود ہیں۔ اب تک، مہاجر مزدوروں نے اپنی اموات کی لاشوں کو دفن کرنے کے لیے زیادہ تر اپنے اصل ممالک واپس بھیجا ہے اور کچھ تنظیموں کی جانب سے اس سلسلے میں خاص سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ سویڈن میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی تعداد میں اضافہ، 1990ء کی دہائی کے آغاز میں اسٹاک ہوم کے قبرستانوں میں مسلمانوں کی موجودگی میں توسیع کے ساتھ تھا۔
«رابطہ العالم الاسلامی» اور «الدعوۃ الاسلامیہ»
مساجد کے امور کی ہدایت ان اماموں کے سپرد ہے جو عام طور پر اسلامی ممالک میں مذہبی دورے گذار چکے ہیں۔ امام، مساجد کے علاوہ، مہاجر مراکز، ہسپتالوں اور جیلوں میں بھی سرگرم عمل ہے اور یقیناً مقامی سطح پر کئی سماجی مسائل کے حوالے سے مسیحی اداروں کے ساتھ اجلاس ہوتے ہیں۔ ان کلاسوں میں سے کچھ کی مالی اعانت تنظیموں «رابطہ العالم الاسلامی» اور «الدعوۃ الاسلامیہ» کی جانب سے کچھ معروف سفارت خانوں کے ذریعے کی جاتی ہے۔ نیز سویڈن کے کچھ علاقوں میں کچھ نجی اسلامی یتیم خانے موجود ہیں اور 1993ء تک مالمو شہر میں 6 سے 9 سال کے بچوں کے لیے ایک نجی اسلامی بچوں کا باغ موجود تھا۔
سویڈن کی مسلم نوجوان تنظیم
سویڈن کی مسلم نوجوان تنظیم کے پاس 23 مقامی تنظیمیں اور 3000 ارکان ہیں۔ نیز مختلف جامعات میں مسلم اسٹوڈنٹ تنظیمیں قائم کی گئی ہیں اور مسلم خواتین کی کئی تنظیمیں مختلف اجلاسوں میں شرکت کرتی ہیں۔
دیگر اسلامی تنظیمیں
الدعوۃ الاسلامیہ، جماعت التبلیغ، رابطہ العالم الاسلامی اور منہاج القرآن جیسی کچھ اسلامی تنظیمیں سویڈن میں «الدعوۃ» نامی تنظیم کی جانب سے علمی سرگرمیوں یا وفود کی روانگی میں شامل ہیں۔ اسٹاک ہوم کا اسلامی معلوماتی مرکز دیگر معلوماتی اور تحقیقی مراکز سے بھی منسلک ہے۔ یہ مرکز 1989ء سے سویڈش زبان میں «سلام» کے نام سے ایک رسالہ بھی شائع کر رہا ہے۔ اس مرکز نے کتابخانے، کتابوں کی دکان اور کپڑوں کی دکان جیسی دیگر سہولیات بھی قائم کی ہیں۔ اس مرکز نے اب تک کچھ اسلامی مصادر کا ترجمہ کر کے سویڈش زبان میں شائع بھی کیا ہے[4]۔
معاشیات
سویڈن کی معیاشت شدید طور پر صنعت اور خدمات پر منحصر ہے۔ ملک کی کل ملکی پیداوار 600 ارب ڈالر اور اقتصادی رشد کی شرح 3.5 فیصد ہے۔ سویڈن دنیا میں صنعتی اور تکنیکی مصنوعات کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔
- برآمدات: 2023ء میں 160 ارب ڈالر؛
- درآمدات: 2023ء میں 150 ارب ڈالر؛
- شرح سود: 2.5 فیصد؛
- فی کس آمدنی: 56,000 ڈالر۔
سیاحتی مقامات
سویڈن قومی پارکوں، تاریخی شہروں اور خوبصورت ساحلوں جیسی کئی قدرتی اور تاریخی جاذبیتوں کے ساتھ سیاحوں کے لیے ایک مقبول منزل ہے[5]۔
متعلقه مضامین
حوالہ جات
- ↑ خیراندیش، رسول و سیاوش شایان. ریشه یابی نام و پرچم کشورها. انتشارات کویر، تابستان ۱۳۷۰. ص۱۳۴.
- ↑ غلامرضا گلی زواره، سرزمین اسلام، ص430؛ جغرافیای کامل جهان، حبیبالله شاملویی، ص358؛ عبدالحسین سعیدیان، کشورهای جهان، ص506.
- ↑ پیامهالت - ام دبلیو دالی، تاریخ سودان بعد از اسلام، ترجمہ محمدتقی اکبری، ص9-10.
- ↑ سویڈن میں اسلام اور مسلمان، حوزہ ویب سائٹ
- ↑ سویڈن کے بارے میں، سویڈن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی ویب سائٹ
ماخذ
- سویڈن کے بارے میں، سویڈن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کی ویب سائٹ، درج مطلب کی تاریخ: بغیر تاریخ، مشاہدہ کی تاریخ: 30 دسمبر 2025ء۔
- سویڈن میں اسلام اور مسلمان، حوزہ ویب سائٹ، درج مطلب کی تاریخ: 30 اکتوبر 2011ء، مشاہدہ کی تاریخ: 30 دسمبر 2025ء۔
