مندرجات کا رخ کریں

"کامیابی پریقین(نوٹس)" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی‌وحدت سے
م Sajedi نے صفحہ مسودہ:کامیابی پریقین(نوٹس) کو کامیابی پریقین(نوٹس) کی جانب منتقل کیا
 
(ایک ہی صارف کا 8 درمیانی نسخے نہیں دکھائے گئے)
سطر 1: سطر 1:
[[فائل:اطمینان به پیروزی (یادداشت).jpg|تصغیر|بائیں|]]
[[فائل:اطمینان به پیروزی (یادداشت).jpg|تصغیر|بائیں|]]


'''پیروزی پر اطمینان''' ایک یادداشت کا عنوان ہے جس میں [[جنگ رمضان]] اور محور مقاومت کی عالمی استکبار، مجرم [[ایالات متحده آمریکا|امریکہ]] اور غاصب [[اسرائیل]] پر کامیابی کی امید اور یقین پر گفتگو کی گئی ہے<ref>بقلم: سعدالله زارعی۔</ref>۔   
'''کامیابی پریقین'''، ایک یادداشت کا عنوان ہے جس میں [[جنگ رمضان]] اور محور مقاومت کی عالمی استکبار، مجرم [[ایالات متحده آمریکا|امریکہ]] اور غاصب [[اسرائیل]] پر کامیابی کی امید اور یقین پر گفتگو کی گئی ہے<ref>کالم، روزنامه کیهان، کالم نگار: سعدالله زارعی</ref>۔   
قلم تب دار ہے، ایک عظیم شخصیت خون آلود چہرے کے ساتھ اعلیٰ علیین کی طرف کوچ کر گئی ہے؛ ایسی شخصیت جس کے ایک لمحہ مزید باقی رہنے کے لیے ہم اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس کا ہم پر حقِ حیات ہے کیونکہ وہ امت کا باپ تھا اور [[ایران]] پر حقِ احیا رکھتا ہے؛ اس لیے کہ اس نے اور اس کے صالح پیش رو نے اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا جسے آج ہم دیکھتے ہیں۔ دشمن اس چیز کو چھین لینے کے لیے جو اس نے ایران اور ایرانیوں کو عطا کی ہے، طرح طرح کے فتنوں کو جنم دیتے ہیں اور جنگیں برپا کرتے ہیں، مگر پھر بھی کامیاب نہیں ہوتے، اور ظاہر ہے وہ باز بھی نہیں آتے اگرچہ ایران کے ساتھ مقابلوں میں بارہا زمین پر گر چکے ہوں۔
قلم تب دار ہے، ایک عظیم شخصیت خون آلود چہرے کے ساتھ اعلیٰ علیین کی طرف کوچ کر گئی ہے؛ ایسی شخصیت جس کے ایک لمحہ مزید باقی رہنے کے لیے ہم اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس کا ہم پر حقِ حیات ہے کیونکہ وہ امت کا باپ تھا اور [[ایران]] پر حقِ احیا رکھتا ہے؛ اس لیے کہ اس نے اور اس کے صالح پیش رو نے اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا جسے آج ہم دیکھتے ہیں۔ دشمن اس چیز کو چھین لینے کے لیے جو اس نے ایران اور ایرانیوں کو عطا کی ہے، طرح طرح کے فتنوں کو جنم دیتے ہیں اور جنگیں برپا کرتے ہیں، مگر پھر بھی کامیاب نہیں ہوتے، اور ظاہر ہے وہ باز بھی نہیں آتے اگرچہ ایران کے ساتھ مقابلوں میں بارہا زمین پر گر چکے ہوں۔


سطر 11: سطر 11:


== امام شہید ==
== امام شہید ==
[[سید علی حسینی خامنه‌ای|امام خامنہ‌ای]] کی شہادت، وہ بھی ایسے حساس اور اہم جنگ کے دوران، اس عظیم شخصیت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔ عالمی استکبار اور صہیونیت اور ان کے کارندوں کی طرف سے [[انقلاب اسلامی ایران|انقلاب]] کے خلاف ایک سخت جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور اس کے آغاز میں ہی یہ عظیم رہبر [[شهادت|شہید]] ہو گئے۔   
[[سید علی خامنہ ای|امام خامنہ‌ای]] کی شہادت، وہ بھی ایسے حساس اور اہم جنگ کے دوران، اس عظیم شخصیت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔ عالمی استکبار اور صہیونیت اور ان کے کارندوں کی طرف سے [[انقلاب اسلامی|اسلامی انقلاب]] کے خلاف ایک سخت جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور اس کے آغاز میں ہی یہ عظیم رہبر شہید ہو گئے۔   
مادی حسابات کے مطابق دشمن یہ سمجھتا تھا کہ امام کی شہادت کے بعد امت منتشر ہو جائے گی، جیسا کہ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے۔ مگر آج ایسی شہادت کے باوجود امت اگرچہ خامنہ‌ای بزرگ سے دوبارہ ملاقات کی حسرت میں جل رہی ہے، لیکن اسی جلوے کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی طرف اس کے شہید امام نے اسے بلایا تھا۔ یہ ایک بار پھر خامنہ‌ای کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے امت کو اس طرح تربیت دی کہ وہ خود امام بن جائے اور اپنا راستہ صحیح طور پر پہچان سکے۔ جیسا کہ [[قرآن|قرآن کریم]] فرماتا ہے:   
مادی حسابات کے مطابق دشمن یہ سمجھتا تھا کہ امام کی شہادت کے بعد امت منتشر ہو جائے گی، جیسا کہ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے۔ مگر آج ایسی شہادت کے باوجود امت اگرچہ خامنہ‌ای بزرگ سے دوبارہ ملاقات کی حسرت میں جل رہی ہے، لیکن اسی جلوے کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی طرف اس کے شہید امام نے اسے بلایا تھا۔ یہ ایک بار پھر خامنہ‌ای کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے امت کو اس طرح تربیت دی کہ وہ خود امام بن جائے اور اپنا راستہ صحیح طور پر پہچان سکے۔ جیسا کہ [[قرآن کریم]] فرماتا ہے:   
'''«کنتم خیرُ اُمّةٍ اُخرجت للناس»'''۔   
'''«کنتم خیرُ اُمّةٍ اُخرجت للناس»'''۔   
کیا ہم نے انبیاء کے زمانے میں بھی ایسا منظر دیکھا ہے؟ کیا یہ عصرِ غیبت میں ان دو ائمہ پر خاص عنایت کی نشانی نہیں؟
کیا ہم نے انبیاء کے زمانے میں بھی ایسا منظر دیکھا ہے؟ کیا یہ عصرِ غیبت میں ان دو ائمہ پر خاص عنایت کی نشانی نہیں؟


== خمینی اور خامنہ‌ای کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش ==
== خمینی اور خامنہ‌ای کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش ==
[[اسلام]] کے دشمن کئی برسوں سے [[سید روح‌الله موسوی خمینی|امام خمینی]] اور [[سید علی حسینی خامنه‌ای|امام خامنہ‌ای]] کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صرف دس یا بیس سال کا معاملہ نہیں بلکہ [[انقلاب اسلامی ایران|انقلاب]] کے آغاز سے ہی جاری ہے۔   
[[اسلام]] کے دشمن کئی برسوں سے [[سید روح اللہ موسوی خمینی|امام خمینی]] اور [[سید علی خامنہ ای|امام خامنہ‌ای]] کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صرف دس یا بیس سال کا معاملہ نہیں بلکہ [[انقلاب اسلامی|انقلاب]] کے آغاز سے ہی جاری ہے۔   
موشے دایان نے انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں [[رژیم صهیونیستی|صہیونی حکومت]] کے وزیر اعظم میناخم بیگن کو خط لکھا کہ عربوں کے ساتھ بحث و گفتگو اور ان کو قابو میں رکھنے کے منصوبے کو چھوڑ دیں، کیونکہ ایران کے انقلاب کی کامیابی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا نہایت مشکل ہوگا۔
موشے دایان نے انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں [[اسرائیل|صہیونی حکومت]] کے وزیر اعظم میناخم بیگن کو خط لکھا کہ عربوں کے ساتھ بحث و گفتگو اور ان کو قابو میں رکھنے کے منصوبے کو چھوڑ دیں، کیونکہ ایران کے انقلاب کی کامیابی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا نہایت مشکل ہوگا۔


یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہوا اور بعد میں [[جرج دبلیو بوش]] کی علاقائی جنگوں تک پہنچا، اور آج یہی باتیں [[دونالد ترامپ]] اور [[بنیامین نتانیاهو]] کی زبان سے سنائی دیتی ہیں۔ مسئلہ وہی ابتدائی مسئلہ ہے، محاذ بھی وہی ہے اور فریق بھی وہی ہیں، حتیٰ کہ اہداف اور حکمتِ عملیاں بھی تقریباً وہی ہیں۔
یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہوا اور بعد میں جرج دبلیو بوش کی علاقائی جنگوں تک پہنچا، اور آج یہی باتیں [[ڈونلڈ ٹرمپ|دونالد ترامپ]] اور بنیامین نتانیاهو کی زبان سے سنائی دیتی ہیں۔ مسئلہ وہی ابتدائی مسئلہ ہے، محاذ بھی وہی ہے اور فریق بھی وہی ہیں، حتیٰ کہ اہداف اور حکمتِ عملیاں بھی تقریباً وہی ہیں۔


=== دایان کی عسکری وارننگ ===
=== دایان کی عسکری وارننگ ===
بیگن نے دایان کی وارننگ کے جواب میں فوجی طاقت کے ساتھ [[لبنان]] پر حملہ کیا، حالانکہ اس وقت حزب اللہ وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس سے کچھ پہلے [[رژیم بعثی|صدام حسین کی بعثی حکومت]] کو بھی [[ایران]] کے خلاف جنگ پر اکسایا گیا تھا۔ بعد میں [[جرج اچ دبلیو بوش|بوش پدر]] نے 1991 میں ’’نیا عالمی نظام‘‘ کے نعرے کے ساتھ عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ پھر بوش پسر نے بھی فوج کشی اور جنگ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش کی۔   
بیگن نے دایان کی وارننگ کے جواب میں فوجی طاقت کے ساتھ [[لبنان]] پر حملہ کیا، حالانکہ اس وقت حزب اللہ وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس سے کچھ پہلے صدام کی بعثی حکومت کو بھی [[ایران]] کے خلاف جنگ پر اکسایا گیا تھا۔ بعد میں جرج اچ دبلیو بوش نے 1991 میں ’’نیا عالمی نظام‘‘ کے نعرے کے ساتھ عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ پھر بوش پسر نے بھی فوج کشی اور جنگ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش کی۔   
آج بھی ٹرمپ اور نتانیاہو کی باتیں دایان اور بوش کے بیانات سے مختلف نہیں ہیں۔
آج بھی ٹرمپ اور نتانیاہو کی باتیں دایان اور بوش کے بیانات سے مختلف نہیں ہیں۔


سطر 29: سطر 29:
اس جنگ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کا نتیجہ صرف ایک فوجی شکست تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ امریکہ کی تقدیر بھی وابستہ ہو گئی ہے۔   
اس جنگ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کا نتیجہ صرف ایک فوجی شکست تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ امریکہ کی تقدیر بھی وابستہ ہو گئی ہے۔   
ٹرمپ نے عملاً دکھایا کہ اس کی پہلی ترجیح جعلی اسرائیلی ریاست کی بقا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے امریکہ اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی تمام طاقتیں استعمال کی ہیں۔ نتانیاہو نے واضح کہا ہے کہ اسرائیل کی بقا مشرقِ وسطیٰ کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ اسرائیل کی ممکنہ تباہی کی علامت ہے۔   
ٹرمپ نے عملاً دکھایا کہ اس کی پہلی ترجیح جعلی اسرائیلی ریاست کی بقا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے امریکہ اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی تمام طاقتیں استعمال کی ہیں۔ نتانیاہو نے واضح کہا ہے کہ اسرائیل کی بقا مشرقِ وسطیٰ کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ اسرائیل کی ممکنہ تباہی کی علامت ہے۔   
اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے حق میں ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس طرح اس جنگ کا نتیجہ امریکہ کے مستقبل کو بھی متاثر کرے گا۔
اسی لیے [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] نے [[اسرائیل]] کے حق میں ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس طرح اس جنگ کا نتیجہ امریکہ کے مستقبل کو بھی متاثر کرے گا۔


== جنگ میں کامیابی ==
== جنگ میں کامیابی ==
ہر جنگ کے دو فریق ہوتے ہیں اور کامیابی یا ناکامی دونوں کے لیے ممکن ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر ٹرمپ اور نتانیاہو اپنی تمام طاقت ایک ایسے جوا میں لگا چکے ہیں جس کا ایک نتیجہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست بھی ہو سکتا ہے۔   
ہر جنگ کے دو فریق ہوتے ہیں اور کامیابی یا ناکامی دونوں کے لیے ممکن ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر [[ڈونلڈ ٹرمپ|ٹرمپ]] اور نتانیاہو اپنی تمام طاقت ایک ایسے جوا میں لگا چکے ہیں جس کا ایک نتیجہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست بھی ہو سکتا ہے۔   
اس کے مقابلے میں ایران اپنی حکمتِ عملی کو یقینی کامیابی کے اصول پر ترتیب دے رہا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن گزشتہ جنگوں میں شکست کھا چکا ہے جبکہ ایران ان مقابلوں میں کامیاب رہا ہے۔
اس کے مقابلے میں ایران اپنی حکمتِ عملی کو یقینی کامیابی کے اصول پر ترتیب دے رہا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن گزشتہ جنگوں میں شکست کھا چکا ہے جبکہ ایران ان مقابلوں میں کامیاب رہا ہے۔


ایران خود کو نہ تو عسکری شکست کے خطرے میں دیکھتا ہے اور نہ ہی ٹوٹنے یا تقسیم ہونے کے امکان میں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف وہ جنگ میں مضبوطی کے ساتھ موجود ہے، دوسری طرف اپنی سرحدوں کو مضبوطی سے کنٹرول کر رہا ہے اور ملک کے اندر عوامی اجتماعات کے ذریعے دشمن کے فتنوں کو ناکام بنا رہا ہے۔   
[[ایران]] خود کو نہ تو عسکری شکست کے خطرے میں دیکھتا ہے اور نہ ہی ٹوٹنے یا تقسیم ہونے کے امکان میں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف وہ جنگ میں مضبوطی کے ساتھ موجود ہے، دوسری طرف اپنی سرحدوں کو مضبوطی سے کنٹرول کر رہا ہے اور ملک کے اندر عوامی اجتماعات کے ذریعے دشمن کے فتنوں کو ناکام بنا رہا ہے۔   
جتنا امریکہ اور اسرائیل قیاس و گمان کی بنیاد پر اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں، اسی قدر اسلامی جمہوریہ ایران الٰہی مدد اور اپنی کامیابی کے پختہ یقین کے ساتھ جنگی میدان کو نہایت اطمینان کے ساتھ سنبھال رہا ہے۔
جتنا [[ریاستہائے متحدہ امریکا|امریکہ]] اور [[اسرائیل]] قیاس و گمان کی بنیاد پر اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں، اسی قدر اسلامی جمہوریہ ایران الٰہی مدد اور اپنی کامیابی کے پختہ یقین کے ساتھ جنگی میدان کو نہایت اطمینان کے ساتھ سنبھال رہا ہے۔


== متعلقہ مضامین ==
== متعلقہ مضامین ==
سطر 44: سطر 44:


== حوالہ جات ==
== حوالہ جات ==
== منابع ==
{{حوالہ جات}}
* [https://kayhan.ir/fa/news/328925/%DA%86%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%D9%87-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D9%85-%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA-%D8%B1%D9%88%D8%B2 کیوں ہمیں اپنی کامیابی پر یقین ہے؟ (یادداشت روز)]، تاریخ درج مطلب: 11 مارچ 2026، تاریخ مشاہدہ: 15 مارچ 2026۔
== مآخذ ==
* [https://kayhan.ir/fa/news/328925/%DA%86%D8%B1%D8%A7-%D8%A8%D9%87-%D9%BE%DB%8C%D8%B1%D9%88%D8%B2%DB%8C-%D8%AE%D9%88%D8%AF-%D8%A7%D8%B7%D9%85%DB%8C%D9%86%D8%A7%D9%86-%D8%AF%D8%A7%D8%B1%DB%8C%D9%85-%DB%8C%D8%A7%D8%AF%D8%AF%D8%A7%D8%B4%D8%AA-%D8%B1%D9%88%D8%B2 کیوں ہمیں اپنی کامیابی پر یقین ہے؟ (یادداشت روز)]، تاریخ درج مطلب: 11 مارچ 2026، تاریخ مشاہدہ: 28 مارچ 2026۔


[[زمرہ:یادداشتیں اور تجزیے]]
[[زمرہ:یادداشتیں اور تجزیے]]
[[زمرہ:ایران]]
[[زمرہ:ایران]]

حالیہ نسخہ بمطابق 16:46، 28 مارچ 2026ء

کامیابی پریقین، ایک یادداشت کا عنوان ہے جس میں جنگ رمضان اور محور مقاومت کی عالمی استکبار، مجرم امریکہ اور غاصب اسرائیل پر کامیابی کی امید اور یقین پر گفتگو کی گئی ہے[1]۔ قلم تب دار ہے، ایک عظیم شخصیت خون آلود چہرے کے ساتھ اعلیٰ علیین کی طرف کوچ کر گئی ہے؛ ایسی شخصیت جس کے ایک لمحہ مزید باقی رہنے کے لیے ہم اپنی جان نثار کرنے کے لیے تیار تھے۔ اس کا ہم پر حقِ حیات ہے کیونکہ وہ امت کا باپ تھا اور ایران پر حقِ احیا رکھتا ہے؛ اس لیے کہ اس نے اور اس کے صالح پیش رو نے اس ملک کو اس مقام تک پہنچایا جسے آج ہم دیکھتے ہیں۔ دشمن اس چیز کو چھین لینے کے لیے جو اس نے ایران اور ایرانیوں کو عطا کی ہے، طرح طرح کے فتنوں کو جنم دیتے ہیں اور جنگیں برپا کرتے ہیں، مگر پھر بھی کامیاب نہیں ہوتے، اور ظاہر ہے وہ باز بھی نہیں آتے اگرچہ ایران کے ساتھ مقابلوں میں بارہا زمین پر گر چکے ہوں۔

ائمۂ انقلاب

امام خامنہ‌ای کون تھے؟ سوال آسان ہے مگر اس کا جواب نہایت مشکل اور پیچیدہ ہے۔ کیا ممکن ہے کہ کئی دہائیوں کی مخلصانہ، فکری اور کامیاب جدوجہد کو چند سطور میں بیان کیا جا سکے؟ قرآن کریم نے بہت سے پیامبران کا ذکر کیا ہے، مگر خاتم الانبیا حضرت محمد اور حضرت ابراہی (صلوات اللہ علیہما) کے بارے میں اس کی گفتگو کا انداز مختلف ہے۔ پیغمبر اعظم کے بارے میں فرمایا کہ وہ ہدایتِ خلق کے راستے میں اپنی جان تک میدان میں لے آئے تھے، اور حضرت ابراہیم خلیل کے بارے میں گفتگو کو اوج پر پہنچاتے ہوئے انہیں ایک امت قرار دیتا ہے۔

امام خمینی اور سید علی خامنہ ایامام خامنہ‌ای یقیناً پیغمبر نہیں تھے اور یہ قلم حدود کو نظر انداز نہیں کرنا چاہتا، مگر امام عصر (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کے نواب میں آغاز سے آج تک وہ بلاشبہ بلند ترین مقام پر فائز رہے ہیں۔ کیونکہ ایک دینی حکومت کا قیام، جس کا نتیجہ عوام کی عمومی ہدایت ہے اور جو امر بالمعروف کی سب سے بڑی مثال ہے، انبیائے الٰہی کا بنیادی مشن رہا ہے۔ اس عظیم مقصد کی تحقق ایک پیغمبرانہ عمل ہے۔ امام خمینی اور امام خامنہ‌ای کے کام کے نتائج جتنے عظیم ہیں، اتنے ہی عظیم آزمائشوں اور ابتلاؤں سے بھی وابستہ ہیں۔ قرآن میں انبیاء کے بارے میں سب سے زیادہ اوصاف حضرت مصطفیٰ اور حضرت خلیل کے بارے میں آئے ہیں اور انہی پر سب سے بڑی آزمائشیں بھی آئیں۔ اسی طرح ائمۂ انقلاب کی آزمائشیں بھی ان کی عظمت اور کامیابی کی دلیل ہیں۔

امام شہید

امام خامنہ‌ای کی شہادت، وہ بھی ایسے حساس اور اہم جنگ کے دوران، اس عظیم شخصیت کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے۔ عالمی استکبار اور صہیونیت اور ان کے کارندوں کی طرف سے اسلامی انقلاب کے خلاف ایک سخت جنگ چھیڑ دی گئی ہے اور اس کے آغاز میں ہی یہ عظیم رہبر شہید ہو گئے۔ مادی حسابات کے مطابق دشمن یہ سمجھتا تھا کہ امام کی شہادت کے بعد امت منتشر ہو جائے گی، جیسا کہ تاریخ میں اکثر ایسا ہوا ہے۔ مگر آج ایسی شہادت کے باوجود امت اگرچہ خامنہ‌ای بزرگ سے دوبارہ ملاقات کی حسرت میں جل رہی ہے، لیکن اسی جلوے کے ساتھ سامنے آئی ہے جس کی طرف اس کے شہید امام نے اسے بلایا تھا۔ یہ ایک بار پھر خامنہ‌ای کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے امت کو اس طرح تربیت دی کہ وہ خود امام بن جائے اور اپنا راستہ صحیح طور پر پہچان سکے۔ جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: «کنتم خیرُ اُمّةٍ اُخرجت للناس»۔ کیا ہم نے انبیاء کے زمانے میں بھی ایسا منظر دیکھا ہے؟ کیا یہ عصرِ غیبت میں ان دو ائمہ پر خاص عنایت کی نشانی نہیں؟

خمینی اور خامنہ‌ای کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش

اسلام کے دشمن کئی برسوں سے امام خمینی اور امام خامنہ‌ای کے مشرقِ وسطیٰ کو بدلنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ صرف دس یا بیس سال کا معاملہ نہیں بلکہ انقلاب کے آغاز سے ہی جاری ہے۔ موشے دایان نے انقلاب کی کامیابی کے ابتدائی دنوں میں صہیونی حکومت کے وزیر اعظم میناخم بیگن کو خط لکھا کہ عربوں کے ساتھ بحث و گفتگو اور ان کو قابو میں رکھنے کے منصوبے کو چھوڑ دیں، کیونکہ ایران کے انقلاب کی کامیابی ایک بہت بڑا خطرہ ہے اور اس سے نجات حاصل کرنا نہایت مشکل ہوگا۔

یہ سلسلہ اسی وقت شروع ہوا اور بعد میں جرج دبلیو بوش کی علاقائی جنگوں تک پہنچا، اور آج یہی باتیں دونالد ترامپ اور بنیامین نتانیاهو کی زبان سے سنائی دیتی ہیں۔ مسئلہ وہی ابتدائی مسئلہ ہے، محاذ بھی وہی ہے اور فریق بھی وہی ہیں، حتیٰ کہ اہداف اور حکمتِ عملیاں بھی تقریباً وہی ہیں۔

دایان کی عسکری وارننگ

بیگن نے دایان کی وارننگ کے جواب میں فوجی طاقت کے ساتھ لبنان پر حملہ کیا، حالانکہ اس وقت حزب اللہ وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ اس سے کچھ پہلے صدام کی بعثی حکومت کو بھی ایران کے خلاف جنگ پر اکسایا گیا تھا۔ بعد میں جرج اچ دبلیو بوش نے 1991 میں ’’نیا عالمی نظام‘‘ کے نعرے کے ساتھ عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی۔ پھر بوش پسر نے بھی فوج کشی اور جنگ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کو بدلنے کی کوشش کی۔ آج بھی ٹرمپ اور نتانیاہو کی باتیں دایان اور بوش کے بیانات سے مختلف نہیں ہیں۔

جنگ رمضان میں استکبار کا دلدل

اس جنگ میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ اس کا نتیجہ صرف ایک فوجی شکست تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس کے ساتھ امریکہ کی تقدیر بھی وابستہ ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے عملاً دکھایا کہ اس کی پہلی ترجیح جعلی اسرائیلی ریاست کی بقا ہے اور اس مقصد کے لیے اس نے امریکہ اور اپنے علاقائی اتحادیوں کی تمام طاقتیں استعمال کی ہیں۔ نتانیاہو نے واضح کہا ہے کہ اسرائیل کی بقا مشرقِ وسطیٰ کی تبدیلی سے وابستہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موجودہ مشرقِ وسطیٰ اسرائیل کی ممکنہ تباہی کی علامت ہے۔ اسی لیے امریکہ نے اسرائیل کے حق میں ایران کے خلاف جنگ میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور اس طرح اس جنگ کا نتیجہ امریکہ کے مستقبل کو بھی متاثر کرے گا۔

جنگ میں کامیابی

ہر جنگ کے دو فریق ہوتے ہیں اور کامیابی یا ناکامی دونوں کے لیے ممکن ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر ٹرمپ اور نتانیاہو اپنی تمام طاقت ایک ایسے جوا میں لگا چکے ہیں جس کا ایک نتیجہ امریکہ اور اسرائیل کی شکست بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ایران اپنی حکمتِ عملی کو یقینی کامیابی کے اصول پر ترتیب دے رہا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن گزشتہ جنگوں میں شکست کھا چکا ہے جبکہ ایران ان مقابلوں میں کامیاب رہا ہے۔

ایران خود کو نہ تو عسکری شکست کے خطرے میں دیکھتا ہے اور نہ ہی ٹوٹنے یا تقسیم ہونے کے امکان میں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک طرف وہ جنگ میں مضبوطی کے ساتھ موجود ہے، دوسری طرف اپنی سرحدوں کو مضبوطی سے کنٹرول کر رہا ہے اور ملک کے اندر عوامی اجتماعات کے ذریعے دشمن کے فتنوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ جتنا امریکہ اور اسرائیل قیاس و گمان کی بنیاد پر اپنا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں، اسی قدر اسلامی جمہوریہ ایران الٰہی مدد اور اپنی کامیابی کے پختہ یقین کے ساتھ جنگی میدان کو نہایت اطمینان کے ساتھ سنبھال رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. کالم، روزنامه کیهان، کالم نگار: سعدالله زارعی

مآخذ